عوام کی منظم طاقت کا اعجاز ۔ اپریل ۲۰۰۹ء
عدلیہ کی آزادی کا جو سیلِ بلا خیز آج سے دو سال پہلے اُٹھا تھا ، وہ اپنے ساتھ نمرودوں اور فرعونوں کو بہا کر لے گیا ہے اور اس نے ناممکن کو ممکن بنا ڈالا ہے۔ وہ جو اپنے آپ کو مختارِ کل سمجھتے تھے اور ۱۵ مارچ کی شام سات بجے تک یہ پیغام رسانی کر رہے تھے کہ معزول جج ہماری لاشوں ہی پر بحال ہوں گے ، انہیں اﷲ تعالیٰ نے سخت پکڑ میں لے لیا اور لوگ ٹڈی دل کی طرح سڑکوں پر نکل آئے جس کے سبب اقتدار کے متوالوں کے ہوش اڑنے لگے۔ پانچ گھنٹوں کے اندر اندر ساری بساط اُلٹ چکی تھی اور جناب وزیر اعظم کو طلوعِ سحر کے وقت یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہم شہید بے نظیر بھٹو کی زبردست خواہش اور ان کے وژن کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے رفقائ کو بحال کرتے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ قومی مفاہمت کے جذبے سے میثاقِ جمہوریت کی روشنی میں ان سنگین چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے آئیں جو ہماری قوم کو درپیش ہیں۔ ہم اﷲ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے قوم کو عزت و افتخار سے سرفراز کیا اور ایک درخشندہ مستقبل کے دریچے وا کر دیے ہیں۔ ہم اپنی عظیم قوم کی خدمت میںچیف جسٹس آف پاکستان اور ان کے رفقائ کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی پر ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ اب نظر یہ آتا ہے کہ عوام جنہیں اپنی طاقت کا بھر پور احساس ہو گیا ہے ، وہ آئندہ ظلم و زیادتی ، بے انصافی ، بد انتظامی اور بدعنوانی کے ہر شیطانی حربے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ان راہنماؤں کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز نہیں کریں گے جو رہزن بنے ہوئے ہیں۔ اب عوامی احتساب کا جذبۂ بے داغ اُمنڈ آیا ہے اور جنرل پرویز مشرف اور آئین کو بوٹوں اور نظریۂ ضرورت کے بل ڈوزر تلے روندنے والے تمام اعلیٰ فوجی اور عدالتی افسر عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور انہیں کہیں جائے اماں نہ ملے گی۔
ہم اس امر پر بھی ربِ ذوالجلال کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کی تحریک میں جو قانونی ، سیاسی ، دینی ، سماجی قائدین پیش پیش رہے اور جن کی شبانہ روز کوششوں سے ایک بہت بڑا معجزہ تخلیق ہوا ، ان میں سے ایک شخصیت بھی غیر معمولی کامیابی پر غرورِ نفس کا شکار نہیں ہوئی۔ سب سے بڑا کردار بلا شبہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیانے ادا کیا جس نے عام شہریوں کو چھپے ہوئے حقائق سے متواتر پوری گہرائی کے ساتھ آگاہ رکھا اور ان کے اندر اعلیٰ مقاصد کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کا ولولہ پیدا کیا۔ اس قدر عظیم کارنامہ سر انجام دینے کے باوجود ذرائع ابلاغ کے ناخدا عجز و انکسار کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور زبردست ذہنی اور معاشرتی انقلاب لانے پر کمر بستہ ہیں۔ کچھ یہی کیفیت شریف برادران کی ہے جو علی برادران کی طرح قوم کے ہیرو بن چکے ہیں ، وہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی حرص و ہوس سے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور پورے عزم کے ساتھ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اب کسی شخص کے لیے خدا کے لہجے میں بات کرنا حد درجہ دشوار بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ صدر اوبامہ نے پچھلے دنوں نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کے عوام سے یک جہتی کا غالباً رسمی فریضہ بھی سر انجام دیا ہے۔ وہ بلا شبہ صدر بش کے مقابلے میں قدرے ایک متوازن شخصیت کے مالک ہیں ، مگر انہوں نے پاکستان کے لیے بڑی سخت زبان استعمال کی ہے اور اسے میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے جو ایک پُر عزم اور بیدار قوم کے لیے بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ انسانیت کے لیے تباہ کن پالیسیوں کے باعث یہ پورا خطہ امریکہ سے شدید نفرت کرتا ہے اور بلوچستان اسمبلی نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک طاقت ور قرارداد منظور کی ہے جس کا اوبامہ انتظامیہ کو احترام کرنا پڑے گا۔ امریکی معیشت حددرجہ دگرگوں ہے اور سرمایہ دارانہ نظام دم توڑ رہا ہے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغانستان سے دامن چھڑانے اور تاریخ کے عبرت ناک انجام سے بچنے کے لیے امریکہ بہادر کو قدم قدم پر پاکستان کا تعاون درکار ہو گا۔
صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پنجاب سے گورنر راج اُٹھانے کی سفارش کی ہے اور مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے امیدوار کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ وہ اپنا امیج بہتر بنانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ، مگر ان کا ہر قدم پاؤں کی زنجیر بنتا جا رہا ہے۔ ان کے لیے عوام کی بے پناہ طاقت کے سامنے کھڑے رہنا محال سے محال تر ہوتا جائے گا اور جب تک وہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے دست بردار نہیں ہوتے ، ہمارا نظامِ حکومت تضادات میں اُلجھا رہے گا۔ انہیں بہت جلد خلقِ خدا کے سامنے سرنگوں ہونا پڑے گا اور یہی ان کی عظمت کا تابندہ نشان ہو گا۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ