غیرمعمولی اہمیت کی حامل راؤنڈٹیبل
سیاسی طوفانوں اور قومی کامرانیوں کے تناظرمیں
’’میثاقِ جمہوریت سے قومی استحکام تک‘‘
ایک تاریخی دستاویز
الطاف حسن قریشی کے قلم سے
اپریل ۲۰۰۹ء

چودہ مئی ۲۰۰۶ئ کا دن ہماری سیاسی زندگی پر ایک ان مٹ نشان ثبت کر گیا ہے۔ اس روز پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے قائد جناب نواز شریف نے ماضی کی تمام رنجشیں اور اختلافات ختم کر کے فروغِ جمہوریت کے لیے لندن میں ایک تاریخ ساز دستاویزِ مفاہمت پر دستخط کیے جسے ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس میں انقلابی تبدیلیوں اور مثبت رویوں کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ ہم نے گزشتہ ماہ اردو ڈائجسٹ میں میثاقِ جمہوریت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس میں پائے جانے والے بعض نقائص کی نشان دہی کی تھی اور اس

امید کا اظہار کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی جمہوری قوتیں اصولوں کی سیاست کو فروغ دیں گی اورباہمی احترام‘ اشتراکِ عمل اور بردباری سے کام لیںگی۔
قومی دھارے کی دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادتیں جنرل پرویز مشرف کے عہدِ اقتدار کی شروعات ہی میں ملک بدر ہو گئی تھیں اور انہوں نے جلاوطنی کے دوران داخلی احتساب کے بعد میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے اور یہ عہد کیا تھا کہ وہ فوجی حکومت میں شامل ہوں گی نہ حکومت سازی کے لیے فوجی حمایت کی طلب گار ہوں گی۔ یہ ایک انتہائی خوش آئند اور انقلاب آفریں اعلان تھا جس نے سیاسی کارکنوں کو بڑا حوصلہ دیا اور فوجی آمریت کو ایک چیلنج سے دوچار کر ڈالا۔ فاضل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری گم شدہ شہریوں کی داد رسی اور عظیم قومی مفادات کی نگہبانی میں کمال جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کر نے لگے تھے۔ ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے پاک سٹیل کی نج کاری روک دی‘ اسے قانونی تقاضوں کے خلاف قرار دیا اور اس میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا ذمے دار وزیرِ اعظم کو ٹھہرایا۔ اس فیصلے سے اربابِ حکومت پر سکتہ طاری ہو گیا۔ ستمبر ۲۰۰۶ئ میں اردوڈائجسٹ نے کور سٹوری شائع کی جس میں بدنیتی‘ دھوکا دہی‘ جعل سازی اور قومی مفادات سے غداری کے ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر لائے گئے تھے۔ اس تاریخی فیصلے سے ایک طرف عوام کا عدالتوں پر اعتماد بحال ہوا تو دوسری طرف جج صاحبان میں قدم آگے بڑھانے کی مزید ہمت پیدا ہوئی۔ جنرل پرویز مشرف کے لیے یہ صورتِ حال سنگین خطرات سے پُر ہوتی جا رہی تھی جو طویل عرصے تک اقتدار پر قابض رہنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے چار جرنیلوں کی موجودگی میں صدارتی کیمپ راولپنڈی میں پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری کو مستعفی ہونے کا حکم دیا جسے انہوں نے کمالِ بے نیازی اور مردانگی سے ٹھکرا دیا۔ ان کے ایک ’’حرفِ انکار‘‘ اور آزاد میڈیا کی ’’شہادتِ حق‘‘ نے قوم کی خوابیدہ حمیت بیدار کر دی اور وکلائ کی قیادت میں ایک عظیم الشان تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اردو ڈائجسٹ اپنی استطاعت سے بڑھ کر عوامی جذبوں کا ساتھ دیتا اور فکری راہنمائی فراہم کرتا رہا۔
  
عدلیہ کا قتلِ عام
۳ نومبر ۲۰۰۷ئ کی سہ پہر جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے نام پر دوسری بار مارشل لائ نافذ کیا‘ تو اُردوڈائجسٹ کے شانہ بہ شانہ پائنا بھی عملی اور فکری محاذ پر پوری قوت سے سر گرم ہو گیا۔ ماورائے آئین اقدامات کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے ساٹھ فاضل جج معزول اور قید کر دیے گئے‘ میڈیا پر غیر قانونی پابندیاں لگا دی گئیں اور آئین پاکستان میں شگاف ڈال دیے گئے۔ پائنا نے ۵۲ قومی شخصیات کے دستخطوں سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں غیر آئینی اقدامات کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا اور قومی یک جہتی اور ملکی سا لمیت پر مرتب ہونے والے تباہ کن اثرات صراحت سے بیان کیے گئے تھے۔ اس میں اہلِ وطن سے عدلیہ کی آزادی‘ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے پورے شعور کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے اپیل کی گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف طاقت کے گھمنڈ میں ٹس سے مس نہ ہوئے‘ مگر آزاد عدلیہ اور آئین کی بالا دستی کے حق میں رائے عامہ کا جو طوفان اٹھا‘ اس نے فروری ۲۰۰۸ئ کے انتخابات میں انہیں سیاسی طور پر چت کر دیا۔ داخلی اور خارجی دباؤ کے تحت وردی وہ پہلے ہی اتارچکے تھے اور ان کے بال و پر وقت کے ساتھ ساتھ کٹتے جا رہے تھے۔ ان کی طے شدہ سیاسی حکمتِ عملی یہ تھی کہ انتخابات سے پہلے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین واپس نہ آنے پائیں۔ اپنے صدارتی انتخاب کی ’’عصمت‘‘ بچانے کے لیے انہوں نے محترمہ بے نظیر کے ساتھ خفیہ معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں این آر او جاری ہوا۔ اس آرڈیننس کے درپردہ سیاسی مقاصد میں بنیادی اہمیت اس امر کو حاصل تھی کہ آئندہ جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی اقتدار میں شریک ہوں گے‘ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
میاں نواز شریف‘ جنہیں اپنے پورے خاندان سمیت بندوق کی نالی پر دسمبر ۲۰۰۰ئ میں جلاوطن کر دیا گیا تھا‘ ان کی طرف سے عدالتِ عظمیٰ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی کہ ایک شہری کی حیثیت سے انہیں اپنے وطن واپس آنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس کے تحفظ کی خاطر انتظامیہ کو ضروری احکام جاری کیے جائیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو پاکستان آنے سے نہیں روکا جا سکتا‘ کیونکہ وہ پاکستان کے شہری ہیں اور وہ اپنے وطن میں رہنے کا ناقابلِ تنسیخ حق رکھتے ہیں۔ اس فیصلے کی روشنی میں جناب نواز شریف نے ستمبر ۲۰۰۷ئ کے پہلے عشرے میں لندن سے اسلام آباد آنے کا اعلان کیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق‘ اس اعلان سے پہلے سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداﷲ نے صدر جنرل پرویز مشرف سے بے نظیر بھٹو کی واپسی کے بارے میں دریافت کیا‘ تو انہیں بتایا گیا کہ وہ انتخابات کے بعد آئیں گی۔ اس یقین دہانی کے بعد سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ شہزادہ مقرن‘ لبنان کے مقتول وزیر اعظم رفیق الحریری کے صاحبزادے کے ہمراہ اسلام آباد آئے اور پریس کانفرنس میں وہ معاہدہ لہراتے رہے جو سعودی عرب سے طے پایا تھا۔ نواز شریف میڈیا کی ٹیم اور غلام مصطفی کھر کے ساتھ راولپنڈی ائیرپورٹ پر ایک ایسے ماحول میں پی آئی اے کی پرواز سے اترے کہ پورا علاقہ پیرا ملٹری فورس کے نرغے میں تھا اور انہیں سنگینوں کی چھاؤں میں ایک دوسرے طیارے کے ذریعے جدہ روانہ کر دیا گیا‘ مگر اس بے بسی کے بطن سے ایک نیا عہد طلوع ہونے والا تھا۔
قدرت کے نرالے کام
این آر او جس کی نوک پلک سنوارنے میں امریکی وزیرِ خارجہ کنڈولیزا رائس نے آخری وقت میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ اس کے جاری ہونے اور مقدمات کی واپسی کا سلسلہ تیز تر ہو جانے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے ۱۸/اکتوبر ۲۰۰۷ئ کی صبح کراچی آنے کا پروگرام بنا لیا۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں خطرات کا احساس دلایا اور جناب رحمان ملک نے پیغام بھیجا کہ ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور انہیں پاکستان ہر گز نہیں جانا چاہیے۔ جنرل پرویز مشرف کے قریبی کارندوں نے بھی انہیں روکنے کی بڑی تدبیریں اختیار کیں‘ مگر وہ اپنے ارادے پر قائم رہیں اور مقررہ پروگرام کے مطابق کراچی پہنچ گئیں جہاں لاکھوں شیدائیوں نے ان کی راہ میں آنکھیں بچھا دیں۔ یہ منظر نامہ جمہوری قوتوں کے لیے روح پرور اور جبر کے ابلیسوں کے لیے موت کا پیغام تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے منصوبوں کے عین مطابق رات کے بارہ بجے ان کے استقبالیہ جلوس پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں سینکڑوں کارکن شہید ہوئے اور محترمہ بال بال بچیں۔ انہیں وارننگ دے گی گئی تھی کہ انہیں مقتدر طاقتوں سے تعاون کرنا ہو گا۔ حُسنِ اتفاق سے اس پیغام نے بے نظیر صاحبہ کی قوتِ مزاحمت کے لیے مہمیز کا کام کیا اور انہوں نے سرنگوں ہونے کے بجائے سیاسی سرکشی کا راستہ اپنا لیا۔ انہیں پاکستان آنے کے بعد اندازہ ہو گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت انہیں بہت مہنگی پڑی ہے‘ کیونکہ عوام کے اندر ان کا امیج خراب ہو رہا تھا۔ جب ملک میں تین نومبر کی ایمر جنسی نافذ ہوئی‘ وہ اس وقت دبئی میں تھیں اور پاکستان آنے کے لیے طیارے میں سوار ہو رہی تھیں۔ وہ دوبارہ لاؤنج میں آئیں‘ پاکستان کی تازہ ترین صورتِ حال معتبر ذرائع سے معلوم کی اور اہم امریکی عہدے داروں سے بھی رابطہ قائم کیا۔ وہ ایمر جنسی کے نفاذ پر سخت پریشان اور مضطرب تھیں اور ان کے اندر کا آتش فشاںکھولنے لگا تھا۔
بے نظیر سے شکست کھانے کے بعد جنرل پرویز مشرف میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاںشہبازشریف کو پاکستان آنے سے روکنے کے لیے سعودی عرب گئے‘ مگر شاہ عبداﷲ نے جواب میں کہا کہ محترمہ بے نظیر کی واپسی کے بعد میرے پاس مقبول سیاسی قیادت کو عوام کی راہنمائی سے روکنے کا کوئی جواز نہیں جبکہ انتخابات کا مرحلہ قریب آن پہنچا ہے۔ جنرل پرویز مشرف اپنا سا منہ لے کے واپس آ گئے جبکہ دونوں بھائی سعودی عرب کی فراہم کردہ بلٹ پروف گاڑی کے ساتھ فاتحانہ انداز میں لاہور ائیر پورٹ پر جلوہ گر ہوئے۔ میثاقِ جمہوریت نے دو بڑی جماعتوں کے قائدین کو مفاہمت کے جس رشتے میں پرو دیا تھا‘ اس کے صحت مند اثرات پاکستان کی سیاست میں ظاہر ہونے لگے تھے۔ نواز شریف معقول وجوہات کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے سے گریزاں تھے۔ انہیں ڈرایا جا رہا تھا کہ غیر آئینی انتخابات صدر جنرل پرویز مشرف کے زیرِ اہتمام ہو رہے ہیں اور پہلے ہی سے یہ طے ہو چکا ہے کہ کس جماعت کو کتنی نشستیں دی جائیں گی‘ اس لیے ’’چند ٹکڑے‘‘ بھیک میں لینے کے بجائے ایک زبردست قومی مزاحمت کے ذریعے پہلے صدر مشرف سے نجات حاصل کی جائے اور اس کے بعد ایک نئے غیر جانب دار الیکشن کمیشن کے ذریعے شفاف اور آزادانہ انتخابات کروائے جائیں۔ اس نقطۂ نظر کے برعکس بے نظیر کے دلائل زیادہ مستحکم اور عملی فراست کے حامل تھے‘ چنانچہ نواز شریف نے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ قاتلانہ حملے کے بعد جب ۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ئ کی شام بے نظیر صاحبہ ہسپتال لائی گئیں‘ تو عیادت کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والے سیاسی قائد جناب نواز شریف تھے جو سیاسی کارکنوں سے تعزیت کرتے اور انہیں بڑی دیر تک دلاسا دیتے رہے۔ دونوں راہنماؤں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی قدر کرتے ہیں اور مفاہمت کے حقیقی جذبے سے سرشار ہیں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد جناب آصف علی زرداری نے بھی قومی مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے بلا شبہ کچھ اچھے اقدامات کیے۔ میثاقِ جمہوریت کے سفر کی ابتدا
میثاقِ جمہوریت کے نکات میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ دونوں جماعتیں انتخابات میں ملنے والے عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں گی‘ چنانچہ اس کارفرما جذبے کے تحت مرکز میں پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہوئے مسلم لیگ ﴿ن﴾ نے کسی تامل کے بغیر اپنے پارلیمانی تعاون کا یقین دلایا اور پنجاب میں مسلم لیگ ﴿ن﴾ کا مینڈیٹ پیپلز پارٹی نے بے چون و چرا تسلیم کر لیا‘ حالانکہ ان دونوںجماعتوں کی سادہ اکثریت نہیں تھی اور انہیں ایوان میں فقط سب سے بڑی جماعت ہونے کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ اسی اصول کے تحت صوبہ سرحد میں اے این پی کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی‘ البتہ بلوچستان میں مسلم لیگ ﴿ق﴾ کے مینڈیٹ کا احترام شاید اس لیے نہیں ہو سکا کہ اس کے بیشتر ارکان پیپلزپارٹی سے جا ملے تھے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کی تشکیل بھی میثاقِ جمہوریت میں طے شدہ اصول کے مطابق کی گئی اور قومی اسمبلی میں سب سے اہم کمیٹی‘ یعنی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی حزبِ اختلاف کے حصے میں آئی‘ تاہم ججوں کی بحالی کا معاملہ جس پر مسلم لیگ ﴿ن﴾ نے انتخابات لڑے تھے اور ۹ مارچ ۲۰۰۸ئ کی سہ پہر بھوربن میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے قائد محمد نواز شریف کے درمیان جو معاہدہ طے پایا تھا‘ وہ آگے چل کر ایک شدید تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کی زیادہ تر ذمے داری صدر آصف زرداری کے قانونی اور سیاسی مشیروں پر عائد ہوتی ہے۔ وہ یہ فرماتے رہے کہ ایگزیکٹو آرڈر اور پارلیمانی قرارداد کے ذریعے جج بحال نہیں ہو سکتے اور انہیں دوبارہ حلف لینا ہو گا۔ جب سمجھانے اور انہیں راہِ راست پر لانے کے تمام سیاسی طریقے ناکام ہو گئے تو مسلم لیگ ﴿ن﴾ وفاقی حکومت سے باہر آ گئی اور اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے لگی۔ وکلائ قیادت نے ۱۲ مارچ سے لانگ مارچ کرنے اور دھرنا دینے کا اعلان کیا تو جماعت اسلامی اور تحریکِ انصاف نے ان کی آواز پر لبیک کہا‘ جبکہ نواز شریف معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ رابطے میں رہے اور انہوں نے عوام میں ایک تحریک پیدا کرنے کے بعد لانگ مارچ میں بھرپور شمولیت کا اعلان کر دیا۔ پنجاب میں عوام کی مزاحمتی تحریک تو اسی وقت شروع ہو گئی جب جناب نواز شریف کے بقول صدر آصف زرداری کے ’’فرمان‘‘ پر شریف برادران سپریم کورٹ سے نا اہل قرار دیے گئے اور ۲۵فروری۲۰۰۹ئ کی شام پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔
۔ ۲۵ فروری سے ۱۴ مارچ تک عوامی رائے عامہ بیدار اور منظم کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ دونوں بھائیوں کا شعلۂ خطابت لہو گرماتا اور عام لوگوں کے اندر آئین‘ عدلیہ اور اچھی حکمرانی کا شعور اُجاگر کرتا رہا۔ سیاسی کارکنوں کے جذبے قابلِ دید تھے۔ خواتین‘ بچے اور بوڑھے ججوں کی بحالی کے لیے اٹھنے والی قومی تحریک میں ذہنی اور عملی طور پر شریک ہوتے جا رہے تھے۔ نواز اور شہباز شریف نے بار بار الزام لگایا کہ صدر آصف زرداری ہماری ’’اہلیت‘‘ کے ایشو پر ہم سے ڈیل کرنا اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی مدتِ ملازمت میں توسیع کرانا چاہتے ہیں اور یہ پیش کش انہوں نے مسترد کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ان کی پشت میں خنجر گھونپتے اور قرآن پر کیے ہوئے وعدے سے انحراف کرتے رہے ہیں‘ اس لیے ہمیں ان کی کسی بات پر اعتبار نہیں۔ وہ پنجاب میں جہاں جہاں گئے‘ ان کے جلسوں میں ٹھٹھ کے ٹھٹھ دکھائی دیے۔ ایبٹ آباد میں جناب محمد نواز شریف کے جلسے میں پورا شہر اُمڈ آیا تھا۔ عام شہریوں نے محسوس کیا کہ دونوں بھائیوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی طرزِ فغاں چرا لی ہے اور ان کی عوامی خطابت میں دریا کی سی روانی آ گئی ہے۔ ایک عظیم انقلاب کے آثار بڑے نمایاں تھے۔ اردوڈائجسٹ نے اپنے گزشتہ شمارے میں پہلے ہی سے اُبھرنے والے مناظر کی اپنے سرورق پر منظر کشی کر دی تھی اور اداریے میں یہ حقیقت واضح کی گئی تھی کہ جناب نواز شریف قومی قیادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو چکے ہیں‘ جبکہ اعلیٰ حضرت آصف زرداری اخلاقی ساکھ اور عوامی مقبولیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور عوام ایک عظیم تبدیلی برپا کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
کشاکشِ شام و سحر
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ۲۱ مارچ سے شروع ہونے والی لانگ مارچ ناکام بنانے کے لیے جو حکمتِ عملی اختیار کی‘ وہ قومی وحدت کو شدید ضعف پہنچانے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر مبنی تھی۔ کراچی میں وکلائ پر جو بہیمانہ تشدد کیا گیا اور انہیں بے رحم ریاستی طاقت سے ٹال پلازہ پر روکا گیا‘ ان کے شرمناک مناظر پورے پاکستان میں دیکھے گئے جن کے باعث عوام کے اندر اربابِ حکومت کے خلاف شدید نفرت اور اعلیٰ مقاصد کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کی عزیمت پیدا ہوئی۔ سندھ حکومت نے جس وقت جناب علی احمد کرد کی قیادت میں بلوچستان سے آنے والے کاروانِ مزاحمت کو جیکب آباد کے مقام پر آگے جانے سے روک دیا اور انہیں رات بھر اسی مقام پر دھرنا دینا پڑا‘ تو صوبوں کے درمیان وحدت کی زنجیر ٹوٹتی نظر آئی۔ بلوچستان حکومت نے مرکزی حکومت کی ہدایت پر دفعہ ۱۴۴ لگانے سے انکار کر دیا تھا جبکہ سرحد حکومت نے احکام کی تعمیل کی۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود بہت بڑی تعداد میں لوگ راولپنڈی اور اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ محترم قاضی حسین احمد نے اسلام آباد سے ٹی وی چینلز پر اپنے اس عزم کا اعلان کیا تھا کہ وہ ستر سال کی عمر تک پہنچنے اور دل کے مریض ہونے کے باوجود اس وقت تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے جب تک جج صاحبان ۲ نومبر ۲۰۰۷ئ کی پوزیشن پر بحال نہیں ہو جاتے۔ جناب عمران خان نے بے پایاں جذبے سے یہ بیان دیا تھا کہ ہم لاکھوں شہریوں کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہوں گے اور شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے۔ ہمارے مشیرِ داخلہ نے رینجرز کے علاوہ فوجی دستے بھی طلب کر لیے تھے اور ایوانِ صدر کے چاروں طرف ٹینک اور توپیں نصب کرا دی تھیں اور تمام داخلی راستے کنٹینروں سے بند کر دیے تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں کنٹینر قافلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیے گئے کہ بندرگاہوں پر جہاز کئی روز کھڑے رہے اور سامان اتارنے اور لادنے کا عمل ہفتوں رکا رہا۔ حکومت اپنی ہی معیشت کی تباہی‘ اشیائے صرف کی قلت اور انتظامی افراتفری اور پاکستان کی جگ ہنسائی کا سامان کرتی جا رہی تھی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق شہریانِ لاہور کو جی پی او چوک میں جمع ہو کر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کرنا تھا۔ پنجاب حکومت نے وہاں بسیں لا کھڑی کی تھیں اور پولیس کی بہت بھاری نفری تعینات کر دی تھی۔ نواز اور شہباز شریف اپنے اراکین اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ رات بھر ماڈل ٹاؤن میں قیام پذیر رہے۔ وہ سرِ شام ہی اعلان کر چکے تھے کہ سرکاری افسروں اور اہل کاروں کو غیر قانونی احکام پر عمل کرنے سے انکار کر دینا چاہیے۔ غالباً ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ انہیں نظر بندی کے احکام دیے گیے اور ایک حکم کے ذریعے بیرسٹر اعتزاز احسن بھی نظر بند کر دیے گئے۔ نواز شریف نے پُر عزم اور قائدانہ لہجے میں کہا کہ نظر بندی کے احکام غیرقانونی اور غیر اخلاقی ہیں اور میں ان کی تعمیل کا پابند نہیں۔ یہ کہہ کر وہ گھر سے باہر نکل آئے اور اپنے باہمت اور پُرجوش ساتھیوں کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن سے ہوتے ہوئے کلمہ چوک پہنچ گئے۔ یہ وہ کڑا وقت تھا جب جی پی او چوک میں جماعت اسلامی اور تحریکِ انصاف کے کارکن اور سول سوسائٹی کے جواں ہمت نمائندے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ہراول دستے پولیس کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بننے کے باوجود استقامت کی چٹان بنے ہوئے تھے۔ جب ٹی وی چینلز نے جناب نواز شریف کی حیرت انگیز پیش قدمی کے مناظر پیش کیے‘ تو بیرسٹر اعتزاز احسن بھی پابندیوں کی زنجیریں توڑ کر ہائی کورٹ پہنچ گئے اور ان کی آمد سے وکلائ میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوا جو قطار در قطار جی پی او چوک کی طرف مارچ کررہے تھے۔ پولیس فورس کو احساس ہونے لگا کہ وہ چاروں طرف سے گھیرے میں آ گئی ہے‘ چنانچہ اس نے پسپا ہونا شروع کر دیا اور یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ ڈی سی او لاہور نے حکامِ بالا کے غیر قانونی احکام پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ہے ۔ ایک رات پہلے گوجرانوالہ کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بھی غیر قانونی احکام کی تعمیل سے معذوری کا اظہار کیا تھا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات محترمہ شیری رحمان میڈیا کو ہراساں کرنے پر مستعفی ہو گئیں اور آنکھوں کا تارا بن گئی تھیں۔ جناب رضا ربانی بھی وزارت اور ایوانِ بالا کی قیادت سے مستعفی ہو گئے تھے‘ ان کا ججوں کی بحالی کے مسئلے پر اپنی قیادت سے کھلا اختلاف تھا۔ اسی دوران شریف برادران کے قافلے میں لوگ جوق در جوق شامل ہوتے گئے‘ ہماری تاریخ نے یہ منظر پہلی بار دیکھا کہ ہزاروں خواتین اپنے بچوں سمیت لانگ مارچ کا حصہ بنیں اور عوامی قوت کا بہت بڑا سرچشمہ ثابت ہوئیں۔ داتادربار کے علاقے میں لاکھوں افراد سربکف نکل آئے اور ایسا لگتا تھا کہ اسلام آباد پہنچنے تک یہ دریا سمندر میں اُتر جائے گا۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے جب اعلیٰ حکام کو دھماکا خیز صورتِ حال سے مطلع کیا تو اقتدار کی ایوان میں ایک ہلچل مچ گئی اور حساس ملکی اور غیر ملکی ادارے اور با اختیار بین الاقوامی شخصیتیں حرکت میں آ گئیں۔
  
طلوعِ سحر
فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی گزشتہ ہفتے بار بار صدرِ مملکت اور وزیر اعظم سے ملتے اور انہیں مذاکرات کے ذریعے معاملات سلجھانے کا مشورہ دیتے رہے۔ جب ان سے امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج بھیجنے کی بات ہوئی‘ تو انہوں نے اسلام آباد اور لاہور سمیت دس شہروں میں فورس تعینات کرنے سے انکار کر دیا‘ تاہم وہ ملک میں اُبھرتی ہوئی تازہ ترین صورتِ حال کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کرتے رہے۔ ۱۵ مارچ کا پورا دن عوامی جذبوں اور امنگوں سے معمور تھا اور عوامی طاقت کا منظم اظہار عروج پر تھا۔ سیکورٹی کے ذمے دار حکام نے عوامی سیلاب کو دریائے چناب پر روک دینے کے لیے ہیبت ناک منصوبے تیار کر رکھے تھے‘ مگر جنرل اشفاق پرویز کیانی جو تدبر اور تحمل کے قالب میں ڈھلے ہوئے تھے‘ انہوں نے اعلیٰ ترین منصب داروں کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیا۔ وہ ۱۵ مارچ کی رات عوامی مطالبہ منظور کرانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتے اور جمہوری ڈھانچے کو سہارا دیتے رہے۔ لانگ مارچ کا سیلابِ بلاخیز گوجرانوالہ پہنچا تو دوستوں نے وہاں رکنے کا سگنل دیا اور یہ اشارہ بھی کہ اعلیٰ ترین سطح پر مسئلے کا حل نکالا جا رہا ہے۔ رات کے بارہ بجے صدر آصف زرداری کو امریکی وزیرِخارجہ ہیلری کلنٹن کا فون آیا جس نے تنبیہ کے انداز میں کہا کہ ہم ایسی حکومت کو امداد نہیں دے سکتے جس کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس نے یہ مشورہ بھی دیا کہ ججوں کی بحالی کے اعلان اور نوٹیفیکیشن کے اجرائ میں تاخیر بہت مہنگی پڑے گی۔ اس سے قبل برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھی یہ واضح عندیہ دے چکے تھے کہ برطانیہ ایک مستحکم اور جمہوری پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے اور نواز شریف کو ججوں کے ایشو پر عوام کی جو بھر پور حمایت حاصل ہے اس کی روشنی میں قانون کی بالا دستی اور آزاد عدلیہ کی مکمل تائید کرتا ہے۔ زرداری صاحب نے اُمڈتے ہوئے طوفان اور بپھرے ہوئے امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ اور جنرل پرویز کیانی کی مشفقانہ پندو نصیحت اور بعض بہی خواہوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد ہیلری صاحبہ نے وزیراعظم سے فون پر گفتگو کی اور جلد سے جلد ججوں کی بحالی کا اعلان کرنے اور اپنی آئینی حیثیت کو بھر پور انداز میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ حکومت کی اعلیٰ شخصیات سے فیصلہ کن مذاکرات کرنے کے بعد اس نے محمد نواز شریف کو فون پر بتایا کہ آپ کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے اور وزیراعظم جلدی اس کا اعلان کرنے والے ہیں‘ اس لیے اعلان ہوتے ہی لانگ مارچ فوری طور پر ختم کر دینے کا اعلان امن و سلامتی کا پیغام ثابت ہو گا۔
۱۶ مارچ صبح تقریباً چھ بجے وزیر اعظم ٹی وی پر آئے اور انہوں نے صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کو خفت سے بچانے کے لیے اپنی انتہائی مختصر اور جامع تقریر میں ایک انتہائی خوبصورت کہانی تخلیق کی اور اس کی جمالیاتی فضا میں تمام غیر فعال ججوں کی بحالی اور نوٹیفیکیشن کے اجرائ کا اعلان کر دیا۔ اس پر اہلِ وطن خوشی سے جھوم اُٹھے اور مسرت و شادمانی کے چشمے ابلنے لگے۔ ایک عظیم اور پر جوش تحریکِ مزاحمت نے عوام کو طویل مدت کے بعد اپنی طاقت اور اصولوں کی عظمت کا احساس دلایا اور پاکستان کے افق پر ایک پُر امن تبدیلی کی سحرضوفشاں ہوئی۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ایک بالغ نظر سیاست دان اور میاں نواز شریف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر کے طور پر اُبھرتے چلے گئے۔
راؤنڈ ٹیبل کی غیرمعمولی اہمیت
اس عظیم تبدیلی کے مثبت اور دور رس مضمرات پر غور کرنے کے لیے پائنا کے سٹڈی گروپ نے ۱۹ مارچ کی شام ایک راؤنڈ ٹیبل کا اہتمام کیا۔ دو بڑے سوال جواب طلب تھے۔ ایک یہ کہ ججوں کی بحالی کے بعد اعلیٰ عدالتوں کا وقار اور ساکھ بحال کرنے اور نچلی سطح تک انصاف کی فراہمی کے لیے کیا مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ دوسرا یہ کہ وسیع تر قومی مفاہمت کی تشکیل میں میثاقِ جمہوریت کی حقیقی اہمیت کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کا میکانزم کس طرح ہونا چاہیے۔راؤنڈ ٹیبل کی صدارت کے لیے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب جسٹس ﴿ر﴾ محمد شاہد صدیقی کو دعوت دی گئی جن کا تعلق اس قبیلے سے ہے جو عدل و انصاف کے تقاضے اچھی طرح سمجھتے اور اصولوں پر قائم رہنے اور ان کے لیے ایثار سے کام لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ ایک علمی اور دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں اور بہاول پور کی سرزمین میں ان کی آبیاری ہوئی ہے۔ تین نومبر کی سہ پہر جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے تحت ساٹھ جج صاحبان معزول اور گھروں میں قید کر دیے گئے تھے۔ جسٹس محمد شاہد صدیقی بھی ان ’’شہیدوں‘‘ کے قافلے میں شامل تھے۔ ان کی حق گوئی‘ بے باکی اور جرأت مندی کے باعث انتظامیہ انہیں مختلف آزمائشوں سے دوچار کرتی رہی اور ان سے سرکاری رہائش گاہ زبردستی خالی کرا لی گئی۔ وہ بڑے وقار اور پوری مردانگی سے تمام سختیاں جھیلتے اور اپنے اصولی موقف پر ثابت قدم رہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے کے بعد انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑا اور وکلائ برادری نے انہیں بھاری اکثریت سے بار کا صدر منتخب کر لیا۔ انہوں نے ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کی تحریک میں دیوانہ وار حصہ لیا اور یہ تحریک اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتح و کامرانی سے ہمکنار ہوئی۔ وہ ایڈوکیٹ مدثر فیضی کے ہمراہ پائنا کانفرنس ہال میں تشریف لائے جہاں دانش وروں‘ تجزیہ نگاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ان کا تشکر آمیز جذبات کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ حُسنِ اتفاق سے اس محفل میں ان کے استاد مکرم سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میاں اﷲ نوازموجود تھے جبکہ مثالی جج جناب جسٹس ﴿ر﴾ کے ایم اے صمدانی بھی تشریف رکھتے تھے۔ بے پایاں مسرت و شادمانی کے لمحات پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھے۔
سیکرٹری جنرل پائنا
اردو ڈائجسٹ کے مدیر اور پائنا کے سیکرٹری جنرل الطاف حسن قریشی نے قوم کو ’’فتح مبین‘‘ پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلائ برادری‘ سول سوسائٹی‘ آزاد میڈیا اور سیاسی قیادتوں کی پُر عزم اور پُر جوش تحریک نے ہماری تاریخ میں ایک معجزہ تخلیق کیا ہے جس پر ہمیں ربِ ذوالجلال کا شکر بجا لانے کے ساتھ ساتھ آنے والے حالات پر گہرائی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ۳ نومبر ۲۰۰۷ئ سے لے کر ۱۶ مارچ ۲۰۰۹ئ تک قوم کو بڑے بڑے جاں گسل مراحل پیش آئے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کی ہیئت ِترکیبی یکسر بدل چکی ہے۔ وہ آئینی ایشوز جو فوری اور ایک پائیدار حل کے متقاضی تھے‘ ان سے صرف نظر کرنے کے نتیجے میں ہمارا آئینی اور عدالتی ڈھانچہ غیر متوازن اور غیر مستحکم ہو گیا ہے۔ اب غور طلب امر یہ ہے کہ آیا عدلیہ کی آزادی کے فوراً بعد اعلیٰ عدالتوں پر مقدمات کی یلغار کر دینا ایک دانش مندانہ اقدام ہو گا یا عالی ظرفی اور تحمل اور رواداری سے کام لیتے ہوئے پہلے عدلیہ کو اپنے داخلی تضادات پر قابو پانے کا موقع دیا جائے اور وسیع تر قومی مفاہمت کے ذریعے تمام اُبھرنے والے تنازعات حل کر لیے جائیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ میثاقِ جمہوریت کا اس زاویۂ نگاہ سے جائزہ لیا جائے کہ وہ ہمارے بنیادی اہمیت کے دستوری اور سیاسی مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت اس تاریخی دستاویز کے ساتھ وابستگی اور اس پر عمل درآمد یہ یقین دہانی دلاتی آئی ہے۔ یہ دستاویز اگر آج بھی افادیت اور اہمیت کی حامل ہے‘ تو ہمیں اس امر کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس پر دستخط کر نے کے لیے کیونکر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے درمیان جناب افتخار الحق موجود ہیں جو پیپلز پارٹی کی اس کمیٹی کے اہم رکن تھے جس نے انتخابی منشور تیار کیا تھا۔ وہ آپ کے سامنے میثاقِ جمہوریت کے نمایاں نکات پیش کریں گے اور وسیع تر قومی مفاہمت کے حوالے سے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے۔
جناب افتخار الحق
اس مفاہمتی دستاویز کے بنیادی نکات بیان کرنے سے پہلے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس پر دستخط کرنے والی ایک عظیم شخصیت اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے اور یہ وقت ہی بتائے گا کہ اس کے سیاسی وارث اسے اب کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ دوسری قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ میثاق ایک خاص ذہنی اور سیاسی آب و ہوا میں زبردست کاوشوں کے بعد تیار ہوا ہے۔ مئی ۲۰۰۶ئ تک دونوں سیاسی راہنماؤں کو چند تلخ حقائق اور گنجلک سیاسی مسائل کا شدید احساس ہو چکا تھا اور وہ خلوص کے ساتھ ان کا حل دریافت کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا احساسِ زیاں یہ تھا کہ ان کی باہمی چپقلش سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچا ہے‘ فوجی قیادت کو مداخلت کی جرأت ہوتی رہی ہے جس نے پورے معاشرے میں گہرے اثر و نفوذ کے قلعے تعمیر کر لیے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جمہوری عمل اور سیاسی نظام کے استحکام کی خاطر حکومت اور اپوزیشن کو نظمِ مملکت کے بنیادی اصول طے کرنا اور ان پر کاربند رہنا ہو گا۔ تیسرا یہ کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کے فول پروف انتظامات کے ساتھ ساتھ انتخابی نتائج قبول کرنا اور سب سے بڑی جماعت کو پانچ سال حکومت کرنے کا حق دینا ہو گا۔ چوتھا یہ کہ عدالتی نظام سے پی سی او جج ہمیشہ کے لیے خارج کر دینا ہوں گے کہ وہی فوجی حکمرانوں کے شب خون کو آئینی جواز فراہم کرتے رہے ہیں۔ پانچواں یہ کہ اپوزیشن کو اس کا جائز حق دینا اور اسے مشاورت میں شامل کرنا ہو گا۔ چھٹا یہ کہ ججوں کے تقرر کا ایک ایسا نظام وضع کرنا لازم ہو گا جس میں پی سی او ججوں کا سرے سے کوئی عمل دخل نہ ہو اور پارلیمانی کمیٹی کو حتمی منظوری کا حق دیا جائے جو پبلک ہیرنگ کا طریقِ کار اختیار کرے‘ ساتوں یہ کہ دستور کو ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۹ئ کی پوزیشن پر واپس لانا‘ وزیر اعظم کو با اختیار اور پارلیمان کو خود مختار بنانا لازم ہے۔ آٹھواں یہ کہ فوج کے اثرات سیاسی اور معاشی زندگی سے ختم کیے بغیر جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی اس لیے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو مضبوط اور وزارتِ دفاع کو مستحکم بنانا ضروری ہے۔ اپنی اس رائے کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میثاقِ جمہوریت میں بہتری کی بھی گنجائش موجود ہے اور اس کی بنیاد پرابھی قانون سازی میں بڑی احتیاط درکار ہے۔
میثاقِ جمہوریت کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:
آرٹیکل نمبر ۱ میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۹ئ کی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا‘ سترہویں ترمیم اور ایل ایف او ختم کر دیے جائیں گے اور صرف مخلوط انتخابات‘ پارٹی لسٹ پر اقلیتوں اور خواتین کی پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں‘ ووٹر کی عمر میں کمی اور پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافے پر مشتمل ترامیم برقرار رکھی جائیں گی۔
آرٹیکل نمبر ۲ کی رُو سے گورنروں‘ مسلح افواج کے سربراہوں اور جائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا تقرر ۳۷۱۹ئ کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کرے گا جو آئین میں چیف ایگزیکٹو کی حیثیت کا مالک ہے۔ آرٹیکل نمبر ۳ متعدد شقوں پر مشتمل ہے جس میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے تقرر اور برطرفی کا طریق کار تجویز کیا گیا ہے جس میں ایک کمیشن ناموں کی سفارش کرے گا جس کے چیئرمین ایسے چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے جنہوں نے پہلے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھایا ہو۔ اس کمیشن کے ارکان میں وہ صوبائی چیف جسٹس شامل ہوں گے جنہوں نے پی سی او پر حلف نہ اٹھایا ہو۔ بصورتِ دیگر پی سی او پر حلف نہ اٹھانے والے سینئر ترین جج صاحبان اس کے ممبر ہوں گے‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر‘ اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون و انصاف بھی اس کے ارکان میں شامل ہوں گے۔ ہائی کورٹس کے لیے اپنے اپنے صوبوں کے حوالے سے کراچی‘ لاہور‘ پشاور اور کوئٹہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور اس کا حصہ بنیں گے۔
یہ کمیشن ہر آسامی کے لیے وزیر اعظم کو تین نام ارسال کرے گا۔ وہ ان میں سے ایک نام آگے جائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دے گا جو شفاف طریقے سے عوام کی رائے معلوم کرنے کے بعد اس کی توثیق کرے گی۔ اس جائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں پچاس فی صد حکومت اور پچاس فی صد حزبِ اختلاف کے ارکان شامل ہوں گے۔
کوئی جج پی سی اور پر یا کوئی دوسرا ایسا حلف نہیں اٹھائے گا جو آئین میں دی ہوئی عبارت سے متصادم ہو۔ ججوں کے ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد اور ان کی بدانتظامی کی روک تھام کے لیے ایک انتظامی مشینری قائم کی جائے گی۔ جج کی برطرفی کے لیے کوئی بھی شہری اس کمیشن سے رجوع کر سکے گا جسے تقرر کا اختیار حاصل ہے۔ نیب اور انسدادِ دہشت گردی جیسی تمام خصوصی عدالتیں ختم کر دی جائیں گی اور مقدمات عام عدالتوں میں منتقل کر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ججوں کو مقدمات تفویض کرنے اور انہیں مختلف بینچوں میں بھیج دینے کے خود مختارانہ اختیارات آئندہ چیف جسٹس اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے دو سینئر ترین جج استعمال کر سکیں گے۔
آرٹیکل نمبر ۴ کی رو سے چھ سال کی مدت کے لیے وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جس میں تمام وفاقی وحدتوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی۔ اس عدالت کے ججوں کا تقرر وہی کمیشن کرے گا جو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا تقرر کرنے کے لیے قائم کیا جائے گا۔ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ صرف دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کیا کریں گی۔
آرٹیکل نمبر ۵ میں کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور نئے مالیاتی ایوارڈ کے اجرائ کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
آرٹیکل نمبر ۷ میں سینٹ کی نشستیں بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
  
آرٹیکل نمبر ۸ میں فاٹا کو صوبہ سرحد میں شامل کرنے اور آرٹیکل نمبر ۹ میں شمالی علاقہ جات کی لیجسلیٹو کونسل (Legislative Council) کو بااختیار بنانے اور وہاں کے شہریوں کو انصاف اور انسانی حقوق تک رسائی کی خوشخبری دی گئی ہے۔
آرٹیکل ۱۰ کے مطابق مقامی اداروں کے انتخابات سیاسی بنیادوں اور صوبائی الیکشن کمیشن کے ذریعے کرائے جائیں گے اور انہیں متعلقہ اسمبلیوں اور عدالتوں کے ذریعے عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔ ان کی آزادانہ حیثیت قائم رکھنے کے لیے آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
فوجی امور پر وزیر اعظم کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے آرٹیکل نمبر ۱۱ میں تجویز کیا گیا ہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا سربراہ وزیر اعظم ہو گا اور اس کمیٹی کا ایک مستقل سیکرٹریٹ بھی ہو گا‘ جبکہ قومی سلامتی کونسل ختم کر دی جائے گی۔ وزیر اعظم کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس رپورٹوں کی چھان پھٹک اور جائزے کے لیے وفاقی سیکورٹی ایڈوائزر مقرر کر سکتا ہے۔
آرٹیکل نمبر ۱۲ میں اس پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جو تیسری بار وزیر اعظم کے انتخاب پر عائد ہے۔
آرٹیکل نمبر ۱۳ میں سچ اور مصالحت کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ کمیشن ۱۹۹۹ئ کے بعد ہونے والے فوجی انقلاب اور سول حکومتوں کی برطرفی کے اسباب و محرکات کا بھی جائزہ لے گا اور اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ ﴿ یہ کمیشن جنوبی افریقہ کے طرز پر قائم کیا جائے گا جس میں حکمرانوں اور حکام نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور قوم سے معافی کے طلب گار ہوئے تھے اور انہیں مظلوموں نے کھلے دل سے معاف کر دیا تھا۔ میثاقِ جمہورت میں جو کمیشن تجویز کیا گیا ہے اس میں یہ پہلو تشنہ ہے﴾۔
اسی آرٹیکل میں نیب کی جگہ ایک آزاد احتساب کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے چیئرمین کا نام وزیر اعظم قائد حزبِ اختلاف کے مشورے سے جائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گا جس میں پچاس فی صد حکومت اور پچاس فی صد حزبِ اختلاف کے ارکان ہوں گے اور نام کی توثیق جج صاحبان کے ناموں کی طرز پر پبلک ہیئرنگ (public hearing) کے ذریعے کی جائے گی۔
آرٹیکل نمبر ۱۴ میں عہد کیا گیا ہے کہ پریس اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنا کام کرنے کی آزادی حاصل ہو گی اور اطلاعات تک رسائی کا قانون پارلیمنٹ میں آزادانہ بحث و تمحیص اور عوامی جائزے کے بعد نافذ کیا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر ۱۵ میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پبلک اوکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا تقرر قائد حزبِ اختلاف کریں گے۔
آرٹیکل ۱۹ میں اچھی حکمرانی کا مژدہ سنایا گیا ہے اس عہد کے ساتھ کہ شہریوں کو معیاری سوشل سروسز‘ جن میں تعلیم‘ صحت اور روزگار کے مواقع شامل ہیں‘ فراہم کی جائیں گی۔ دونوں راہنماؤں نے فوجی اور سول اداروں میں شاہانہ اخراجات میں تخفیف‘ سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کا مصمم ارادہ ظاہر کیا ہے۔
میثاقِ جمہورت کے آرٹیکل نمبر ۲۱ اور ۲۲ اس کی روح کی حیثیت رکھتے ہیں جن میں پختہ عہد کیا گیا ہے کہ ہم انتخابی نمائندہ حکومت کے انتخابی مینڈیٹ کا احترام کریں گے‘ حزبِ اختلاف کو اس کا جائز مقام دیں گے اور حکومت گرانے کے لیے ماورائے آئین ذرائع ہر گز استعمال میں نہیں لائیں گے۔ انہوں نے یہ تاریخی اعلان بھی کیا کہ ہم فوجی حکومت یا فوج کے ذریعے قائم شدہ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے اور ان میں سے کوئی پارٹی اقتدار میں آنے اور جمہوری حکومت ختم کرنے کے لیے فوج کی حمایت حاصل نہیں کرے گی۔
آرٹیکل نمبر ۲۳ میں کرپشن اور فلور کراسنگ کی روک تھام کے لیے سینیٹ کی بلاواسطہ تمام اور بالواسطہ نشستوں کے لیے ووٹنگ اوپن بیلٹ سے ہو گی۔ وہ ارکان جو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے‘ پارلیمانی لیڈر کے ایک خط سے جو سپیکر یا چیئرمین کو ارسال کیا جائے گا‘ نااہل قرار پائیں گے۔ اس خط کی ایک نقل الیکشن کمیشن کو نوٹیفیکیشن کے لیے ارسال کی جائے گی جو خط وصول ہونے کے چودہ ایام کے اندر نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا پابند ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ قرار پائے گا کہ نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے۔
انتظامی مشینری میں شفافیت لانے کے لیے آرٹیکل نمبر ۲۴ میں تمام فوجی اور عدالتی افسروں کو ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنے اثاثوں اور آمدنیوں کا سالانہ ڈیکلریشن دینا ہوگا۔
آرٹیکل نمبر ۲۵ میں ایک قومی جمہوری کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے ذریعے جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے گا اور سیاسی جماعتوں کو پارلیمان میں نشستوں کی بنیاد پر صلاحیت کار میں شفاف طریقوں سے اضافے کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔
آرٹیکل نمبر ۲۴ میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہوئے اس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ یہ فوجی آمریت سے نشو و نما پاتی ہیں اور جمہوریت کی نفی سے طاقت پکڑتی ہیں۔ ان کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا۔
آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے ایک آزاد‘ غیر جانبدار اور با وسائل الیکشن کمیشن پر بہت اصرار کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمشنر‘ ارکان کمیشن اورسیکرٹری کے لیے جائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو تین نام ارسال کرے گا جو ججوں کے تقرر کی طرز پر تشکیل دی جائے گی اور وہ شفاف پبلک ہیرنگ کا راستہ اختیار کرے گی۔ عدم اتفاقِ رائے کی صورت میں وزیر اعظم اور قائد حزبِ اختلاف اپنے اپنے ناموں کی الگ الگ فہرست بھیجیں گے۔ صوبائی الیکشن کمیشن کا انتخاب بھی اسی طرز پر صوبائی اسمبلیوں سے عمل میں آئے گا۔
آرٹیکل نمبر ۲۸ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے دروازے تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کے لیے کھلے ہوں گے اور گریجویشن کی شرط ختم کر دی جائے گی۔ آرٹیکل ۲۹ کے مطابق مقامی اداروں کے انتخابات عام انتخابات کے بعد تین ماہ کے اندر کرائے جائیں گے۔
  
آرٹیکل نمبر ۳۱ کی رو سے شفاف عام انتخابات کے لیے ایک غیر جانبدار نگران حکومت قائم کی جائے گی اور اس حکومت کے قریبی رشتے دار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس کے علاوہ عام انتخابات کا اعلان ہوتے ہی متعلقہ الیکشن اتھارٹی مقامی اداروں کے تمام ایڈمنسٹریٹرز معطل کر کے غیر جانب دار افراد کا تقرر کرے گی۔
سول ملٹری تعلقات میں توازن اور فوج کے اثر و نفوذ پر کنٹرول کے لیے آرٹیکل نمبر ۳۲ میں آئی ایس آئی‘ ایم آئی اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاںسول حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی سفارش کی گئی جو انہیں وزیر اعظم سیکرٹریٹ‘ وزارتِ دفاع اور کیبنٹ ڈویژن کے ماتحت کام کریں گی۔ ان کا بجٹ کابینہ کی دفاعی کمیٹی منظور کرے گی۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تمام پولیٹیکل ونگ ختم کر دیے جائیں گے۔ ملکی سیکورٹی اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مسلح افواج میں ضیاع روکنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ان ایجنسیوں میں اعلیٰ مناصب کی تقرریاں وزارت کی سفارش پر حکومت کی منظوری سے کی جائیں گی۔
یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ آئین میں فوجی حکومتوں نے اپنے لیے جو معافیوں اور تحفظات کی جو شقیں داخل کی ہیں‘ ان سب کا جائزہ لیا جائے گا۔ آرٹیکل ۳۴ کی رُو سے دفاعی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا‘ اس پر بحث ہو گی اور وہ باقاعدہ طور پر منظور کیا جائے گا۔ آرٹیکل ۳۵ میں یہ انقلابی اعلان ہوا ہے کہ فوجی زمینوں کی الاٹ منٹ اور چھاؤنیوں کا دائرہ اختیار وزارتِ دفاع کے تحت ہو گا اور ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۹ئ کے بعد جو زرعی اور شہری زمینیں الاٹ کی گئیں ہیں‘ ان کی چھان پھٹک ہو گی اور جو لوگ بے ضابطگیوں‘ اقرباپروریوں میں ملوث پائے گئے ان سے پوری پوری باز پرس ہو گی۔
آرٹیکل نمبر ۳۶ کی رو سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے رولز آف بزنس میں تبدیلیاں کر کے انہیں پارلیمانی نظامِ حکومت کے مطابق بنایا جائے گا۔
سابق چیف جسٹس میاں اﷲ نواز
میرے مشاہدے کے مطابق پاکستان میں آزاد عدلیہ کی تحریک مختلف وقتوں اور مختلف شکلوں میں چلتی رہی ہے اور اس بار فی الواقع بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ دراصل ۴۵۱۹ئ میں دستور ساز اسمبلی پر جو شب خون مارا گیا‘ اس میں فوج کے علاوہ عدلیہ کے مقتدر عناصر اور سیاست دانوں کی ایک اچھی خاصی کھیپ بھی شامل تھی۔ اس وقت سے عدلیہ کا سرجیکل آپریشن جاری ہے اور بندوق کی نالی جج صاحبان کو پی سی او پر حلف لینے پر مجبور کرتی رہی ہے۔ میں نے بھی طوعاً و کرہاً پی سی او پر حلف لیا تھا جسے آئین میں تحفظ مل چکا ہے‘ جبکہ ۳ نومبر ۲۰۰۷ئ کی شام پی سی او پر حلف لینے والے جج صاحبان کو دستور میں تحفظ اور معافی نہیں دی گئی ہے‘ اس لیے ان کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے اور یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
میثاقِ جمہوریت میں ججوں کے تقرر کا جو نظامِ کار تجویز کیا گیا ہے‘ وہ میرے نزدیک ناقابلِ عمل اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔ جب ججوں کے نام کی توثیق کا معاملہ جائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں آئے گا‘ تو وہ بڑی حد تک سیاسی رنگ اختیار کر جائے گا اور بڑی خرابیاں سسٹم کے اندر داخل ہو جائیں گی۔ میں آپ کے سامنے تقرر کا ایک متبادل طریقِ کار پیش کرتا ہوں جو انڈیا میں رائج ہے۔ وہ یہ کہ ججوں کے ناموں کا رسمی آغاز ایک پینل کرتا ہے جس میں چیف جسٹس کے علاوہ چار جج بھی شامل ہوتے ہیں۔میری تجویز یہ ہے کہ پینل کے فاضل اراکین اپنے مجوزہ نام تحریری طور پر قوم کے سامنے لائیں تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ جو لوگ جج کے منصب پر فائز ہونے والے ہیں‘ ان کے معاملات اور صلاحیتیں کس درجے کی ہیں۔ اس کے بعد مجوزہ اشخاص کو جرح کے لیے ٹی وی پر لایا جائے اور لوگ ان سے براہِ راست سوال جواب کر سکیں۔ اس طرح ہم طویل ’’اندھیری رات‘‘ سے نکل کر اعتبار کی روشنی میں آ جائیں گے اور در پردہ سمجھوتوں کا سلسلہ یکسر ختم ہو جائے گا۔ میری یہ تجویز بھی ہے کہ مشاورت کے عمل سے گورنر کو خارج کر دیا جائے۔ جج کی برطرفی کے ضمن میں میری تجویز یہ ہے کہ اگر کسی شہری کو کسی فاضل جج کے طرزِ عمل یا اس کی دیانت اور اہلیت کے بارے میں شکایت پیدا ہو‘ تو وہ ایوانِ بالا یعنی سینیٹ سے رجوع کرے جسے ٹرائل کا اختیار حاصل ہو کیونکہ وہ چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی کرتی ہے۔ سینیٹ اس جج کا پبلک ہیرنگ (public hearing) کے ذریعے ٹرائل کرے اور جرم ثابت ہونے پر اسے دو تہائی اکثریت سے برطرف کیا جا سکے۔ امریکہ میں اس طریقِ کار کے ذریعے اب تک پندرہ جج برطرف کیے جا چکے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ سائنس (LUMS) میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جو علومِ سیاست کا بھی گہرا ادراک رکھتے ہیں‘ انہوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
میں پہلی بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں وکلائ اور سول سوسائٹی کی جو تحریک چلی ہے‘ وہ مثالی ہے۔ یہ کسی بھی طور ایک سماجی انقلاب سے کم نہیں۔ اگر صدر زرداری اور ان کے قانونی مشیر عدلیہ کو بحال نہ کرتے تو حکومتِ پنجاب کے ساتھ وفاقی حکومت بھی مفلوج ہو جاتی۔ دنیا میں گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں‘ وہ اسی طرح آئے کہ عوام شہر کے اندر جمع ہوگئے اور حکومت کی تبدیلی تک وہاں سے رخصت نہیں ہوئے۔ اس تحریک سے پاکستان کا امیج غیر معمولی طور پر بہتر ہوا ہے۔ مغرب‘ جو ہمیں صرف طالبان کے حوالے سے دیکھ رہا تھا‘ یہ دیکھ کر حیراں ہو گیا کہ یہاں دو سال تک عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالا دستی کے حق میں ایک عظیم الشان تحریک چلتی رہی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔ ہمیں مغربی دانش وروں کو یہ سمجھانے میں بڑی دشواری پیش آ رہی تھی کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی اسلامی تہذیب کا سب سے بیش قیمت ورثہ ہے جو مغربی دنیا نے اپنا لیا ہے۔
اس تحریکِ مزاحمت کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ یہ کسی حکومت کو گرانے کے بجائے ایک اصول کی بنیاد پر اُٹھی تھی اور اس کا بنیادی مقصد عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی تھا۔ یہ تمام عرصے پُر امن رہی اور اس نے عوامی طاقت کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کا بہت بڑا ہدف حاصل کر لیا۔ آگے چل کر ہمارے سیاسی نظام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے جو بنیادی تبدیلیوں کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا وقت بھی قریب آتا جا رہا ہے۔ عوام کے اندر جب اپنی طاقت کا شعور پیدا ہو جائے‘ تو ان کے آگے آمرانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت کے گھروندے ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں۔
مجھے اس موقع پر یہ بھی کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ کے ساتھ ساتھ عوام کے اندر یہ زبردست خواہش بھی اُبھر رہی ہے کہ پورے عدالتی نظام کو کرپشن اور بد انتظامی سے پاک کیا جائے۔ عام شہری کا زیادہ تر واسطہ اعلیٰ عدالتوں کے بجائے نچلی عدالتوں سے پڑتا ہے جہاں رشوت عام ہے اور مقدمات سالہا سال تک لٹکے رہتے ہیں‘ اس لیے وسیع تر عدالتی اصلاحات وقت کا ایک اہم ترین تقاضا ہے۔
جناب چیف جسٹس نے ججوں کے تقرر کی جو تجاویز دی ہیں‘ میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ انہوں نے سینیٹ کو ججوں کی برطرفی کا اختیار دیا ہے اور اسے صوبوں کی مساوی نمائندگی کا ادارہ قرار دیا ہے‘ مگر میں یہ کہوں گا کہ ہمارے زیادہ تر سینیٹرز صوبوں کے بجائے پارٹی لیڈر کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی نامزدگی کا مروجہ طریقِ کار ہے ۔ انہیں عام طور پر بڑی بڑی رقوم کے عوض نامزد کیا جاتا ہے‘ جبکہ امریکی سینیٹ کی حیثیت یکسر مختلف ہے۔ وہاں نامزدگی مقامی انتخابی حلقے کے ووٹر کرتے ہیں۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی سینیٹ کا انتخاب براہِ راست ہوتا ہے اور اس میں اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک اور قومی سطح کی معروف شخصیتیں منتخب ہوتی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں بھی سینیٹ کا براہِ راست انتخاب کا طریقِ کار رائج ہو جائے تو اسے جج کے ٹرائل کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔
میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ پوری دنیا میں ایگزیکٹو ہی کو ججوں کے تقرر کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔ امریکہ میں جج کی نامزدگی ایگزیکٹو کرتی ہے اور اس کی توثیق سینیٹ سے ہوتی ہے۔ میثاقِ جمہوریت میں ایک ایسا فارمولا دیا گیا ہے جس میں ایگزیکٹو بھی شامل ہے‘ مقننہ بھی اور وکلائ برادری کے نمائندے بھی۔ یہ اگرچہ ایک پیچیدہ عمل دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اندر چند خوبیاں بھی ہیں‘ اس لیے ہمیں اس سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں تمام اختیارات اور ذمے داریاں چیف جسٹس کی ذات میں مرتکز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
میثاقِ جمہوریت میں ایک آزاد عدلیہ کے فروغ اور استحکام کے لیے اصول طے کیے گئے ہیں جو ہماری بقا اور خوشحالی اور سول اداروں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے‘ کیونکہ محکوم عدلیہ نے تو فوجی آمروں کے اقدامات پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے اور پاکستان کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ میں جسٹس صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ فوج کو اقتدار میں لانے میں سیاست دانوں کا بھی عمل دخل رہا ہے‘ بلکہ پاکستان کا پورا مراعات یافتہ طبقہ اس میں شامل ہے۔ ان تمام خرابیوں کے باوجود ہمارے سیاسی نظام کی یہ خوبی قابلِ ذکر ہے کہ فوجی حکومتوں میں بھی کچھ نہ کچھ جمہوریت کے خدوخال نظر آرہے ہیں‘ جبکہ سیاسی حکومتوں میں آمریت کے آثار دکھائی دیے ہیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ایک بھی فوجی حکومت افریقہ اور لاطینی امریکہ کی فوجی حکومتوں جیسی نہیں تھی۔ہمارے فوجی حکمران‘ سیاست دانوں‘ عدلیہ اور آئین کے سہارے چلتے اور دستور میں اپنی آسانیوں کے لیے ترامیم کرتے رہے ہیں۔ میثاقِ جمہوریت میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے کہ ہم حقیقی جمہوریت لانا‘ فوج کو سول اداروں کے تحت کرنا اور فوجی آمریت کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ آمریت کا راستہ آزاد عدلیہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
میں آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آئین کے ساتھ ساتھ میثاقِ جمہوریت مفاہمت کے وہ اصول مہیا کرتا ہے جن کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کیا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک انتہائی اہم دستاویز ہے اور ہمیں اس پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے اپنے ۱۶ مارچ کے قومی خطاب میں تمام جماعتوں کو دعوت دی ہے کہ وہ مل جل کر میثاقِ جمہوریت کے عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور وسیع تر قومی مفاہمت کو فروغ دینے میں اورپارلیمنٹ کو ایک ناقابلِ شکست قوت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف نے اس کا مثبت جواب دیا ہے اور اس امر کا یقین دلایا ہے کہ اگر حکومت سترہویں ترمیم ختم کر کے پارلیمنٹ کو خود مختار اور وزیراعظم بااختیار بناتی ہے‘ تو وہ پورا پورا تعاون کریں گے۔ میں اس جذبے کو پاکستان کے لیے نیک شگون تصور کرتا ہوں۔
جناب قیوم نظامی
پاکستان کی داخلی اور خارجی سیاست پر متعدد کتابوں کے مصنف اور معروف کالم نگار نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
میثاقِ جمہوریت کے مختلف پہلوؤں پر یہاں قابلِ قدر گفتگو ہوئی ہے۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ اس کی تیاری میں بیرسٹر اعتزاز احسن‘ رضا ربانی‘ سینیٹر اسحاق ڈار اور جناب احسن اقبال نے بڑی ریاضت اور جانفشانی سے کام لیا اور یوں ایک عمدہ دستاویز ہمارے سامنے ہے۔ خوش قسمتی سے اس کی بعض شقوں پر عمل درآمد بھی ہو چکا ہے اور اسے آئینی شکل دینے سے پہلے بھی مفاہمت کے جذبے سے بہت سارے مفید عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر رولز آف بزنس تبدیل کر کے انہیں پارلیمانی نظام کے قالب میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جرنیلوں اور ججوں کو اراکین اسمبلی کی طرح سالانہ گوشوارے جمع کرانے کا پابند کیا جا سکتا ہے۔ میثاقِ جمہوریت میں جو یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے سادگی اختیار کرے گی‘ اس پر کسی تاخیر کے بغیر عمل شروع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ حکومت میثاقِ جمہوریت کے مطابق سچائی کمیشن قائم کر کے حقیقی مفاہمت کا راستہ ہموار کر سکتی ہے اور چھپے ہوئے حقائق جس میں معرکۂ کارگل بھی شامل ہے‘ قوم کے سامنے لا سکتی ہے۔ اسی طرح جمہوری کلچر کو فروغ دینے والے کمیشن کے قیام میں کوئی تاخیر مناسب نہیں ہو گی۔ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ حکومت نے حال ہی میں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر اپوزیشن کی مشاورت کے بغیر کیا ہے جو میثاقِ جمہوریت کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
میں یہ تجویز بھی دینا چاہتا ہوں کہ میثاقِ جمہوریت کا دائرہ دوسری جماعتوں تک بھی وسیع کیا جائے اور ان سے مشاورت کے بعد مناسب تبدیلیاں بھی لائی جا سکتی ہیں۔ ایک بہت بڑا کام ہو چکا ہے جس کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچانے اور سیاسی عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ احتساب کا ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارہ قائم کیا جائے جو ان افراد پر مشتمل ہو جن کی دیانت‘ امانت اور صداقت معتبر ہو اور وہ معاشرے سے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جہاد کے جذبے سے کام کریں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پارٹی قیادت نے عوامی مطالبے کے سامنے سرنگوں ہو کر جج بحال کر دیے ہیں اور وسیع تر سیاسی مفاہمت کا راستہ کھول دیا ہے۔ اسے تحریری معاہدے کے مطابق یہ کارنامہ پہلے ہی انجام دے دینا چاہیے تھا۔ اس عظیم الشان کامیابی پر ہم قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ عوامی انقلاب ہمیں جلد سماجی انصاف کی نوید سنائے گا۔ مجھے جناب پروفیسر رسول بخش رئیس کے اس تجزیے سے مکمل اتفاق ہے کہ نچلی عدالتوں میں بھی وسیع عدالتی اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ عدالتی نظام کا بنیادی مقصد ہی عام آدمی کو انصاف اور سماجی ریلیف پہنچانا ہے۔
  
جناب جاوید نواز
مسقط میں پاکستانی کمیونٹی کی سرگرم شخصیت اور قومی اور بین الاقوامی حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے دانش ور نے کہا:
پاکستان میں آزاد عدلیہ کے قیام سے پورے عالمِ عرب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور تمام اہم دارالحکومتوں میں اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ہمارا ملک جو ایک سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا تھا‘ اﷲ تعالیٰ نے اس پر خاص کرم فرمایا اور قوم ایک عظیم الشان فتح سے شادکام ہوئی ہے۔ اگر ایک ایسی ہی تحریک اس وقت برپا ہو جاتی جب ۴۵۱۹ئ میں دستور ساز اسمبلی پر شب خون مارا گیا تھا اور گورنر جنرل نے ایمرجنسی نافذ کر کے ملک میں ایک دہشت پھیلا دی تھی‘ تو ہماری تاریخ یکسر مختلف ہوتی۔ ہم ان تمام قوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی استقامت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا اور عوام کے اندر زبردست بیداری پیدا کی جس کے نتیجے میں اصولوں پر مبنی سیاست کے امکانات بہت روشن ہو گئے ہیں۔
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے تمام نزاعی مسائل میثاقِ جمہوریت پر اخلاص کے ساتھ عمل درآمد سے حل ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ اس میں وہ تمام بنیادی مسائل زیرِ بحث آئے ہیں جو ماضی میں تصادم اور شدید محاذ آرائی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اس دستاویز کی اصل روح یہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں نے انتخابی نتائج تسلیم اور انتخابی مینڈیٹ کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ہم اقتدار کے لیے فوج کی طرف دیکھنے کے بجائے فقط عوام سے رجوع کریں گے۔ ہمیں میرٹ کی بنیاد پر ججوں کی تقرری کو بنیادی اہمیت دینا ہو گی اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایک قابلِ عمل اور ایک قابلِ اعتماد نظام وضع کرنا ہو گا۔ آج کی راؤنڈٹیبل میں اس پر سیر حاصل بحث ہوئی ہے اور سوچ کے دریچے کھلے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ماضی میں جج سیاسی بنیادوں پر مقرر کیے جاتے رہے ہیں اور اس عمل کو فاضل چیف جسٹس میاں اﷲ نواز نے ’’اندھیری رات‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام کو پی سی او ججوں سے پاک کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں فاضل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اس زمرے میں نہیں آتے‘ کیونکہ ۳ نومبر ۲۰۰۷ئ کے پی سی او کے خلاف انہوں نے اور ان کے چھ ساتھیوں نے علمِ بغاوت بلند کیا تھا اور جرنیلوں کے سامنے انہی کے ’’حرفِ انکار‘‘ نے ہماری تاریخ کا دھارا بدلا تھا۔ ہمارے اربابِ سیاست کو اتنی عظیم فتح یابی کے بعد بڑے تحمل کے ساتھ عدالتی مراحل طے کرنا ہوں گے۔
خوشی کے اس موقع پر مجھے ایک ناخوشگوار واقع پر شدید رنج پہنچا ہے کہ جب معاشرے کے تمام طبقے لانگ مارچ میں جوش و خروش سے حصہ لے رہے تھے اور تمام صوبوں سے وکیلوں کے قافلے اسلام آباد کی طرف مارچ آنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان بہت گراں گزرا کہ اس تحریک میں صرف پنجاب شامل ہے۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ وہ الٹی میٹم تھا جو ایم کیو ایم کی قیادت نے سندھ حکومت کو دیا تھا کہ اگر وہ صوبہ سندھ کو گالیاں دینے والے عناصر کی فوری سرکوبی کرنے میں ناکام رہتی ہے‘ تو وہ حکومت کو خیر باد کہہ دے گی۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ پیر مظہر الحق بھی اس مرثیے میں شامل تھے۔ ہم نے لانگ مارچ کے دوران سندھ کے خلاف کوئی نعرہ نہیں سنا‘ اس لیے ہمیں ان عناصر کی مذمت کرنی چاہیے جنہوں نے صوبائی عصبیت کو ہوا دینے کی مذموم کوشش کی ہے۔

میرے تجربے کے مطابق اس وقت نظامِ حکومت میں جو عدم توازن اور عدم استحکام پایا جاتا ہے‘ اس کا ایک بڑا سبب صدر مملکت اور گورنروں کی سیاسی وابستگی ہے۔ پارلیمانی نظام کے فلسفے اور اس کی روح کے تقاضوں کے مطابق جناب صدر زرداری کو سیاسی منصب خیر باد کہہ دینا چاہیے۔ میں اس خیال کی بھی تائید کروں گا کہ عدالتی اصلاحات کا دائرہ نچلی عدالتوں تک وسیع کیا جائے۔ پروفیسر توقیر احمد شیخ
میرے نزدیک ان سیاست دانوں کا انتہائی کڑا احتساب ضروری ہے جو عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں سے پھر جاتے ہیں اور سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ میں ان عناصر کی سخت مذمت کرتا ہوں جنہوں نے ہماری تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر صوبوں کے درمیان نفاق پیدا کرنے اور فساد پھیلانے کی سازش کی۔ میں اس خیال کی تائید کرتا ہوں کہ صدر مملکت اور گورنروں کو سیاسی وابستگیوں سے الگ تھلگ رہنا چاہیے۔ میرا سول سوسائٹی کی سرگرم قوتوں کے لیے مشورہ یہ ہو گا کہ وہ مفاہمت کے جذبے کو فروغ دیں اور اعلیٰ عدالتوں کو مستحکم ہونے کے لیے مناسب وقت فراہم کریں۔ اب جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہو گی۔
کرنل ﴿ر﴾ زیڈ آئی فرخ
پائنا سٹڈی گروپ کے مستقل اور بیدار مغز رکن نے رائے زنی کرتے ہوئے کہا:
ہم سب ججوں کی بحالی اور عوام کی بیداری پر مسرت کے بے پایاں جذبات سے سرشار ہیں۔ ہمارے عوام اس فتح پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میثاقِ جمہوریت میں بڑے بڑے آئینی اور سیاسی مسائل کا حل دریافت کیا گیا ہے اور اس کی دو بنیاد ی شقیں ہیں جن میں بڑی جماعتوں کے سیاسی راہنماؤں نے انتخابی مینڈیٹ کے احترام اور مفاہمت کے ساتھ امورِ حکومت چلانے کا عہد کیا ہے۔ میں اس مرحلے پر یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف جانے سے پہلے معروضی حالات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کو سول حکومت کے تحت کر دینے سے کچھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کے اس احساس میں پوری طرح شریک ہوں کہ عام آدمی کی دہلیز تک انصاف چاہنے کے لیے ہمیں اعلیٰ عدالتوں کے پہلو بہ پہلو نچلی عدالتوں میں ہمہ پہلو اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔ جسٹس ﴿ر﴾ محمد شاہد صدیقی کا صدارتی خطبہ
سب سے پہلے میں آپ تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میرے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں نے ایک جج کی حیثیت سے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔ ۳نومبر ۲۰۰۷ئ کے وہ اقدامات جن کو جنرل پرویز مشرف نے خود غیر آئینی قرار دیا تھا جس میں پی سی او بھی شامل تھا‘ میں اس پر کیونکر حلف لے سکتا تھا؟ عمر بھر ضمیر کی ملامت کے بجائے چند مراعات سے محرومی میرے لیے کہیں زیادہ بہتر تھی۔ میں اپنے ربِ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس ذلت سے بچا لیا جس کا سامنا ان جج صاحبان کو ہے جنہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور جو فردِ واحد کے سامنے جھک گئے۔ میرے لیے یہی اعزاز بہت ہے کہ وکلائ نے مجھے گھر سے بلا کر منصبِ صدارت پر بٹھا دیا ہے۔
الطاف حسن قریشی صاحب نے اپنے تعارفی کلمات میں یہ نکتہ اٹھا یاہے کہ ججوں کی بحالی کے بعد عدلیہ کے معاملات کس حکمتِ عملی کے تحت نمٹائے جائیں ۔ اس وقت اعلیٰ عدالتوں میں تین قسم کے جج موجود ہیں ایک وہ جنہوں نے ۳ نومبر کو پی سی او پر حلف اٹھایا‘ دوسرے وہ جو پی سی او ججوں کی سفارش پر مقرر کیے گئے ہیں اور تیسرے وہ جن کا نیا تقرر ہوا اور انہوں نے آئین پاکستان پر حلف اٹھایا۔ اس عمل میں حکومت کی مکاری شامل تھی۔ بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ پی سی او ججوں کی برطرفی تک ہمارا مشن نامکمل رہے گا۔ میری سوچ یہ ہے کہ جو کام وکلائ کو سر انجام دینا تھا‘ وہ انہوں نے کمالِ استقامت اور پامردی سے سر انجام دے دیا۔ اب یہ بحال شدہ عدلیہ کا کام ہے کہ وہ ان ججوں کے معاملات کس طریقے سے حل کرتی ہے۔ پی سی او ججوں کے پاس اپنے عہدے پر قائم رہنے کا کوئی آئینی اور اخلاقی جواز نہیں‘ کیونکہ انہوں نے ایک تو آئین کی خلاف ورزی کی اور دوسرے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ۳ نومبر کی سہ پہر پی سی او کے خلاف جو حکمِ امتناعی جاری کیا تھا اور تمام ججوں کو پی سی اوپر حلف لینے سے روکا تھا‘ اس سے کھلا انحراف کیا ہے۔ انہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ از خود عزت سے مستعفی ہو جائیں۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس بار ان کا محاسبہ بہت کڑا ہو گا۔
میرا عوام کو مشورہ یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں الجھنے کے بجائے عدلیہ کو آزادی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے دیں‘ کیونکہ اب ایک طاقتور عدلیہ بحال ہو چکی ہے اور حکمت کے ساتھ الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے کے لیے وقت درکار ہو گا۔ جہاں تک میثاقِ جمہورت میں ججوں کے تقرر سے وابستہ تجاویز کا تعلق ہے‘ ان سے فوری طور پر مسئلے کو حل کرنے میں کوئی راہنمائی نہیں ملتی۔ میرا خیال ہے کہ ججوں کے تقرر کا جو نظام ہمارے دستور میں درج ہے‘ اس میں کوئی خرابی نہیں۔ اگر چیف جسٹس صاحبان کا مل ذمے داری اور فرض شناسی سے کام لیں‘ تو کوئی غلط نام تجویز ہو سکتا ہے نہ اس کی توثیق ممکن ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایگزیکٹو کو ججوں کے تقرر کا اختیار حاصل ہے جسے ججز کیس میں بڑی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔
میں آخری بات یہ کہوں گا کہ ہمیں جوش کے ساتھ ساتھ ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ ہم نے اپنے مثالی جج جناب جسٹس کے ایم اے صمدانی سے یہی سیکھا ہے کہ جج کا ذہن آزاد اور اس میں سچ تک پہنچنے کی ایک لا متناہی تڑپ ہونی چاہیے۔
راؤنڈ ٹیبل کا عمومی اتفاق رائے
٭. جج صاحبان کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی عوام کی بہت بڑی فتح ہے جو ہمارے مستقبل کے لیے ایک امید افزا پیغام ہے۔
٭. عوام کی بیداری میں وکلائ اور سیاسی قائدین کے علاوہ آزاد اور بے باک میڈیا نے ایک زبردست کردار ادا کیا ہے جو قوم کی طرف سے خراج تحسین کا مستحق ہے۔
٭. اصولوں کی کارفرمائی کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین مفاہمت کے جذبے کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
٭. وسیع تر قومی مفاہمت میں میثاق جمہوریت پر مخلصانہ عمل درآمد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
٭. میثاق جمہوریت میں تمام سیاسی جماعتیں شامل کی جائیں اور ان کے مشورے سے اسے قانونی اور آئینی حیثیت دی جائے۔
٭. پارلیمانی نظام حکومت میں استحکام لانے اور توازن پیدا کرنے کے لیے صدر مملکت جناب آصف زرداری کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
٭. وہ عناصر جنہوں نے زندگی کے ایک اہم ترین موڑ پر صوبائی عصبیت کو ہوا دینے کی مذموم کوشش کی‘ وہ قابل مذمت ہیں۔
٭. پی سی او ججوں کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔
٭. عوام کو بروقت انصاف مہیا کرنے کے لیے عدالتی اصلاحات کا دائرہ نچلی عدالتوں تک پھیلایا جائے ان میں مقدمات کو شفاف طریقے سے نمٹانے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔
٭. آزاد عدلیہ کو اپنے داخلی معاملات سلجھانے کے لیے وقت دینے اور جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت بڑھ چکی ہے۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ