ھوس درگا کا آدم خور جوڑا ۔ اپریل ۲۰۰۹ء
کیتھ اینڈرسن کی شکاریانہ زندگی کا ایک پر تجسس باب
محمد اقبال قریشی

وہآواز بہت دور سے سنائی دی تھی مگر میری سماعت نے اُسے خوب پہچان لیا‘ وہ شیرنی کی غراہٹ تھی۔ لٹل وڈ نے بھی یقینا اسے سن لیا تھا اور مجھ سے پہلے ہی دیوانہ وار باہر کی جانب لپکا۔ میں آندھی اور طوفان کی طرح اس کے پیچھے پیچھے باغ میں پہنچا جہاں لیموں کے ایک خاصے پھیلے ہوئے پودے کے پاس خاصی مقدار میں خون جمع تھا اور شیرنی کے خون آلود پنجوں کے نشانات باہر کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ دور کیاریاں تھیں جن کے گرد بانس کی بظاہر خاصی مضبوط باڑ تھی۔ شیرنی باڑ توڑتی ہوئی اپنے شکار سمیت وہاں سے فرار ہوئی تھی۔ ہم دونوں تمام تر احتیاطی تدابیر بالائے طاق رکھتے ہوئے باڑ پار کر گئے۔ لٹل وڈ کا بنگلہ برلبِ جنگل واقع تھا اور ایک پختہ روش بنگلے کی پشت سے جنگل کی طرف جاتی تھی۔ ہم اس روش پر خون کے دھبوں کی راہنمائی میں پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے آگے بڑھنے لگے۔ ایک بات کا مجھے رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا کہ شیرنی لٹل وڈ کی بیوی کو میری موجودگی میں اٹھا کر لے گئی تھی اور ہم اسے بچانے کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے تھے۔ بیگم لٹل وڈ کی تلاش میں ہمیں زیادہ دور نہ جانا پڑا‘ وہ ایک خاردار جھاڑی میں اس حالت میں پڑی تھی کہ ان کی گردن غیرفطری انداز میں مڑی ہوئی تھی اور داہنا کاندھا بری طرح چبایا گیا تھا۔ شیرنی نے اس کے علاوہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچایا تھا۔ لٹل وڈ تو بیوی کی لاش دیکھ کر جیسے پاگل ہی ہو گیا اور دیوانوں کی طرح اپنے بال نوچتا ہوا اس سے لپٹ گیا۔ میں نے بڑی مشکل سے اُسے لاش سے الگ کیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ شیرنی نے لاش وہاں یونہی نہیں چھوڑی بلکہ وہ لاش کے ذریعے ہم دونوں کو شکار کرنا چاہتی تھی۔ کسی درندے سے یسی مکاری کی توقع کم ہی کی جاتی ہے لیکن وہ بہرحال ایک آدم خور شیر کی ’رفیقۂ حیات‘ رہ چکی تھی اور مجھے یقین تھا کہ وہ ہم سے اپنے نر کی موت کا انتقام لے رہی ہے۔ میرا اندازہ کچھ ایسا غلط بھی ثابت نہ ہوا‘ چند ہی ثانیے بعد عقبی جھاڑیوں سے شیرنی کی غصیلی غراہٹ اُبھری اور میں سرعت کے ساتھ رائفل تیار حالت میں تھامے اُس جانب پلٹ گیا۔ ایک ثانیے کے لیے مجھے شیرنی کی آبگینوں کے مانند دمکتی ہوئی آنکھیں نظر آئیں اور اگلے ہی لمحے وہاں جیسے کچھ بھی نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد جنگل کے وسط سے شیرنی کی غراہٹیں سنائی دیں۔
وہ ایک عجیب لمحہ تھا۔ شیرنی میرے عزیز ترین دوست کی بیوی کی لاش میرے سامنے چھوڑ کر فاتحانہ انداز میں غراتی ہوئی جنگل میں روپوش ہو گئی تھی۔ دل مجھے شیرنی کے تعاقب میں جانے پر اکسا رہا تھا جبکہ دماغ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ دوسری طرف میرے ساتھی لٹل وڈ کی حالت اس قدر خراب تھی کہ میں اسے ساتھ لے کر آگے جا سکتا نہ ہی پیچھے چھوڑ سکتا تھا۔ لہٰذا اس وقت میں نے وہی کیا جو ہم دونوں کے حق میں بہتر تھا۔
بیگم لٹل وڈ کی تدفین کے دو ہفتے بعد لٹل وڈ کی حالت کسی حد تک سنبھلی تو اس نے مجھے شیرنی کے تعاقب میں جانے پر تیار کیا۔ میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس آدم خور کو ٹھکانے لگا دوں مگر کوئی نادیدہ قوت مجھے اس کے تعاقب میں جانے سے روک رہی تھی۔ دوسری طرف بیگم لٹل وڈ کے بعد شیرنی نے کسی اور کو شکار بھی نہ کیا تھا۔ عین اُسی روز شام کو موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ اس وقت میں اور لٹل وڈ باورچی خانے میں کھانے کی میز پر بیٹھے تھے اور ہمارا موضوعِ گفتگو وہی آدم خور شیرنی تھی۔ لٹل وڈ کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ وہ کیسے اپنے غم و غصے کا اظہار کرے جبکہ میں چاہتے ہوئے بھی بیگم لٹل وڈ کی یادوں کو ذہن سے محو نہیں کر پا رہا تھا۔ لٹل وڈ کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی جس سے وہ بار بار گھونٹ بھر رہا تھا‘ بات بات پر وہ اپنی مرحوم بیوی کو آوازیں دینے لگتا‘ مجھ سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ جا رہی تھی لیکن میں اس کا غم ہلکا کرنے کے لیے کچھ بھی تو نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ کثرتِ شراب نوشی کے باعث حواس نہ کھو بیٹھے اور پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد لٹل وڈ نے شراب کی بوتل سامنے والی دیوار پر دے ماری اور باورچی خانے کی دراز سے ریوالور نکال کر ادھ کھلے دروازے سے باہر جھانکنے لگا۔
’’آج میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ وہ گلا پھاڑ کر یوں چیخا جیسے شیرنی اس کی آواز سن رہی ہو۔
میں نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریوالور لے لیا اور اُسے واپس لا کر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا ’’فکرنہ کرو میرے دوست کل ہم ہر حال میں اس منحوس آدم خور کا قصہ پاک کر دیں گے۔‘‘ اس نے میری بات کاکوئی جواب نہ دیا اور میری گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
اگلی صبح ہم دونوں کیل کانٹے سے لیس ہو کر جنگل کے وسط میں واقع اس تالاب تک گئے جہاں ہم نے آدم خور شیر ہلاک کیا تھا۔ تالاب کے کنارے بہت سے جانوروں کے پنجوں کے نشانات تھے جن میں مجھے شیرنی کے پنجوں کے تازہ نشانات بھی دکھائی دیے۔ جب میں شیرنی کے پنجوں کے نشانات دیکھ رہا تھا تو مجھے اچانک خطرے کا احساس ہوا۔ بارہا خطرات کا مقابلہ کرتے رہنے اور اراداتاً حواس کو جلا دینے کے بعد چند انسانوں میں خطرے کی بو سونگھ لینے کی قدرتی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کئی شکاری مہمات سر کر لینے کے بعد میرے اندر بھی ایسی ہی پوشیدہ حس بیدار ہو گئی تھی جو خطرات کے موقع پر مجھے پیشگی خبردار کر دیا کرتی تھی۔ خطرے کا احساس ہوتے ہی میں نے لٹل وڈ کو ہوشیار رہنے کا اشارہ کیا اور رائفل تیار حالت میں تھامتے ہوئے چاروں طرف نظریں دوڑانے لگا۔ کچھ دور جھاڑیوں کا ایک خاصا طویل سلسلہ تھا۔ میری نگاہیں بار بار ان جھاڑیوں کی طرف اُٹھ رہی تھیں حتیٰ کہ میں ہزار کوشش کے باوجود اپنی نگاہیں ان پر سے ہٹا نہیں پا رہا تھا۔ میں نے لٹل وڈ کو عقب میں رہنے کی ہدایت کی اور دبے قدموں جھاڑیوں کے قریب پہنچ کر رک گیا۔ میرے قدموں کے قریب ہی کچی مٹی میں شیرنی کے پنجوں کے تازہ اور واضح نشان نمایاں تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ میری چھٹی حس کی نشان دہی غلط نہ تھی۔ میں نے فوراً لٹل وڈ کو خبردار کیا۔ شیرنی کے پنجوں کے نشانات دیکھ کر اُس کی حالت یک دم اُس بچے کی سی ہونے لگی جسے اس کا من پسند کھلونا ہاتھ آ گیا ہو۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ جھاڑیوں میں گھس کر شیرنی سے دو دو ہاتھ کر لے۔ میں نے بڑی مشکل سے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔ ان تازہ نشانات اور خطرے کے احساس کے پیش نظر مجھے یقین ہو گیا کہ شیرنی کہیں قریب ہی گھات لگائے بیٹھی ہے۔ اس صورت میں اندھا دھند آگے بڑھنا بلاشبہ خطرناک تھا۔ میں نے لٹل وڈ کو آمادہ کر لیا کہ وہ ایک قریبی درخت پر چڑھ جائے اور اوپر سے میری نگرانی کرے ساتھ ہی میں نے اسے یہ بھی بتا دیا کہ اگر شیرنی مجھ پر حملہ آور ہو تو وہ میری پروا کیے بغیر بلاجھجک گولی چلا دے۔ اس نے تھوڑی دیر تک سوچتے رہنے کے بعد سر کو اثبات میں جنبش دی اور ایک قریبی درخت پر چڑھ گیا۔
میں خاصی دیر تک جھاڑیوں کے باہر کسی بھی قسم کی آواز سننے کا منتظر رہا مگر چرند پرند کی ہلکی پھلکی آوازوں کے علاوہ کوئی آواز میری سماعت سے نہ ٹکرائی۔ میں نے لٹل وڈ کو اشارے سے پوچھا کہ کیا اسے شیرنی نظر آئی مگر اس کا جواب نفی میں تھا۔ اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ شیرنی ہماری بو پا کر وہاں سے رخصت ہو چکی تھی۔ میں نے لٹل وڈ کو درخت سے اُترنے کا اشارہ کیا اور اس کے ہمراہ شیرنی کے پنجوں کے نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے جھاڑیاں پار کر گیا۔ ہمارے سامنے وسیع و عریض جنگل تھا مگر دوردور تک شیرنی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ وہ لمحہ ایسا تھا کہ میں چاہتے ہوئے بھی واپس نہیں پلٹ سکتا تھا۔ ہم دونوں کو بہر صورت شیرنی کے تعاقب میں جانا تھا۔
لٹل وڈ کا بھی یہی خیال تھا۔ ہم جنگل کے وسط میں پہنچے تھے کہ ایک جھنڈ میں سے ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دی پھر اچانک مجھے دا ہنی طرف ایک سایہ اپنی سمت حرکت کرتا نظر آیا‘ وہ بلاشبہ شیرنی تھی۔ وہ بڑا نازک لمحہ تھا‘ شکار بالکل ہمارے سامنے تھا اور ذرا سی بے احتیاطی سارا کھیل بگاڑ سکتی تھی۔ پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا‘ اس سے پہلے کہ میں لٹل وڈ کو روک پاتا اس نے جوش میں آ کر آگے کی سمت جھکتے ہوئے شیرنی پر گولی چلا دی۔ گولی شیرنی کے بائیں کاندھے میں لگی اور وہ دھاڑتی ہوئی جنگل میں غائب ہو گئی۔ یہ دیکھ کر لٹل وڈ کی مایوسی کی انتہا نہ رہی‘ ہم دونوں خون کے دھبوں کی راہنمائی میں شیرنی کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔ آگے چل کر گھنی خاردار جھاڑیوں کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا‘ خون کے دھبوں سے ہم نے اندازہ لگایا کہ شیرنی نے وہ جھاڑیاں کسی نہ کسی طرح پار کر لی تھیں بہرحال ان میں سے ہمارا گزرنا ممکن نہ تھا۔ شیرنی کے تعاقب میں جانے کا کوئی دوسرا راستہ اس وقت ہمیں نظر نہ آیا لہٰذا ہم ہاتھ ملتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔
لٹل وڈ کا خیال تھا کہ ہمیں شیرنی کو اُس کے ٹھکانے سے نکالنے کے لیے ہانکے کا اہتمام کرانا چاہیے جبکہ میں اس کے حق میں بالکل نہ تھا۔ اس کی دو وجوہات تھیں‘ پہلی تو یہ کہ میرے اندازے کے مطابق شیرنی آدم خور نہ تھی بلکہ صرف انتقام میں اندھی ہو کر اس نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ بعدازاں لٹل وڈ کے بنگلے کے آس پاس کے علاقے کا جائزہ لینے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ بیگم لٹل وڈ پر حملہ کرنے سے پہلے شیرنی کئی روز تک بنگلے کا چکر لگاتی رہی تھی‘ گویا وہ ہم سے انتقام لینے کے لیے موقع کی تلاش میں تھی۔ دوسری طرف میں اس کی مکاری کی داد دیے بغیر بھی نہ رہ سکا کہ اس نے کسی دوسرے انسان کو نقصان پہنچانے کے بجائے سیدھا ہمارے ہی بنگلے کا انتخاب کیا۔ میرا اندازہ تھا کہ اس نے اپنے نر کی موت کے بعد شاید ہمارا تعاقب بھی کیا ہو۔
شیرنی کے زخمی ہونے کے ایک ہی روز بعد لٹل وڈ کو شدید بخار نے آ لیا۔ اس کی تیمارداری کی غرض سے میں بنگلے میں اس کے پاس ہی موجود رہا۔ اس دوران ہمیں گاؤں کی اطلاعات ملتی رہیں۔ ہمارے گاؤں اور آس پاس کے تمام دیہہ میں سکون رہا جس کا واضح مطلب تھا کہ یا تو شیرنی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے یا پھر اس علاقے سے کہیں دور چلی گئی ہے۔
ٹھیک تین ماہ بعد ہمارے گاؤں سے سات میل دور واقع ایک گاؤں میں ایک شیرنی تواتر سے دکھائی دینے لگی۔ اتفاق سے جن دنوں اس نے پہلی واردات کی میں ضروری کام سے اس گاؤں کے نمبردار سے ملنے گیا ہوا تھا۔ وہ شام کا وقت تھا جب ایک پجاری دوڑتا ہوا چوپال میں آیا اور شیرنی کے حملے کی اندوہناک خبر ہمیں سنائی۔ اس گاؤں کی حدود سے باہر برلبِ جنگل ایک پرانا مندر تھا جس میں کبھی کبھی پجاری آیا کرتے تھے۔ اس روز چار پجاری پوجا کے بعد اپنے گھر لوٹ رہے تھے جن میں راجو نام کا لڑکا بھی شامل تھا۔ گاؤں سے کچھ دور راجو رفع حاجت کی غرض سے پیچھے رہ گیا۔ جب خاصی دیر تک وہ نہ لوٹا تو اس کے ساتھی اس کی خبر لینے کے لیے اس مقام تک گئے جہاں انہوں نے اسے چھوڑا تھا مگر وہاں راجو کی خون آلود دھوتی اور خون کے بڑے بڑے دھبوں کے سوا انہیں کچھ نہ ملا۔ یہ دیکھتے ہی وہ بھاگ کر گاؤں پہنچے اور نمبردار کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ میں اس وقت نمبردار کے پاس ہی موجود تھا مگر بدقسمتی سے میرے پاس رائفل اور دوسرا ضروری سامان موجود نہیں تھا۔ بہرحال میں نمبردار اور اس کے ساتھیوں کے ہمراہ جائے وقوعہ کا معاینہ کرنے گیا تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ واردات کسی اور نے نہیں بلکہ ہماری پرانی شناسا اُسی شیرنی کی تھی جس نے لٹل وڈ کی بیوی کو اپنا شکار بنایا تھا۔ میں نے گاؤں والوں کو شیرنی کا پس منظر بتانا ضروری نہ سمجھا اور نمبردار کے ایک آدمی کے ہاتھ اپنے گاؤں سے اپنی رائفل اور دوسرا سامان منگوا لیا۔ بدقسمتی سے لٹل وڈ اپنی بیوی کی وفات کے بعد غم زدہ رہنے لگا تھا اور ہندوستان میں اس کا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا لہٰذا وہ کچھ ہی عرصہ قبل انگلستان واپس لوٹ گیا تھا۔ اگر وہ ہندوستان میں ہوتا تو مجھے اسے اپنی مہم میں شریک کر کے بے پناہ مسرت ہوتی مگر اب مجھے اپنے دوست کی بیوی کا انتقام اکیلے ہی لینا تھا۔
تھوڑے ہی عرصے میں شیرنی کی وارداتوں میں تیزی آ گئی۔ اُس نے تقریباً ساٹھ ستر مربع میل کے علاقے کو اپنی شکارگاہ بنا لیا تھا۔ میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ میں اکیلا تھا اور شیرنی حددرجہ مکار تھی۔ وہ اپنے شکار پر لوٹ کر نہ آتی تھی‘ جہاں ایک واردات کرتی دوسری واردات اس سے بہت دور کسی گاؤں میں کرتی گویا میرے لیے یہ اندازہ لگانا ممکن ہی نہ تھا کہ شیرنی کی اگلی منزل کہاں ہو گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ میں ایک ماہ تک اس کے تعاقب میں پاگلوں کی طرح سرگرداں رہا تو غلط نہ ہو گا۔
خاصی تگ و دو کے بعد میں دریا کے کنارے اس مقام کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گیا جہاں شیرنی وقتاً فوقتاً اپنی پیاس بجھانے آیا کرتی تھی۔ اپنے دوست نمبردار کے مشورے سے میں نے تین بیلوں کا انتظام کیا اور انہیں اس مقام پر بندھوایا جہاں سے شیرنی گزر کر دریا تک آتی تھی۔ یہاں میں یہ تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ لٹل وڈ کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد میں نے شیرنی کے پنجوں کے نشانات میں پلاسٹر آف پیرس بھروا کے اپنے پاس محفوظ کر لیا تھا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ شیرنی کے تعاقب میں آسانی رہے۔ اب اس آدم خور کی شناخت میں پلاسٹر آف پیرس کے انہی سانچوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ بیلوں کو باندھ کر اور ان کے چارے وغیرہ کا بندوبست کر کے میں اگلے دو دن رائفل لیے اس امید پر جنگل میں ہر سمت پھرتا رہا کہ شاید کہیں شیرنی کے پنجوں کے تازہ نشان مل جائیں یا شیرنی سے ہی آمناسامنا ہو جائے۔
دوسرے دن صبح ہی صبح میں نے گند لام دریا میں ریت پر شیرنی کے تازہ نشانات دیکھے وہ رات کے وقت آئی تھی اور دریا میں سے گزر کر بیل کے قریب تھوڑی دیر رک کر آگے نکل گئی تھی اور وہاں سے ہوتی ہوئی ساتھ والی پہاڑی عبور کر کے موضع آچسٹی کی سمت چلی گئی تھی۔ آگے چل کر زمین سخت ہو گی تھی جس کے باعث اس کے پنجوں کے نشان نظر نہیں آئے۔
تیسری صبح میں پھر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تین چار گھنٹے آوارہ گردی کے بعد میں واپس آیا اور گرم پانی سے غسل کرنے کی تیاری کر رہا تھا کہ آچسٹی کے نمبردار کی قیادت میں دیہاتیوں کا ایک گروہ میرے پاس آیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آچسٹی سے بمشکل ایک میل کے فاصلے پر یک چھوٹے سے گاؤں میں آج صبح شیرنی نے ایک آدمی ہلاک کر دیا ہے۔ وہ شخص مویشیوں والی حویلی میں سویا ہوا تھا۔ علی الصباح کچھ آوازیں سنائی دیں۔ وہ تجسس کے تحت باہر نکلا مگر پھر واپس نہیں آیا۔ بعد میں اس کا بھائی اور بیٹا اس کی عدم موجودگی کی وجہ معلوم کرنے باہر گئے اور انہیں حویلی سے کچھ فاصلے پر اس کا کمبل پڑا ملا اور سخت زمین میں شیرنی کے پنجوں کے دھندلے نشان بھی نظر آئے۔ وہ خوف زدہ ہو کر گاؤں کی جانب بھاگے اور وہاں سے کچھ اور آدمیوں اور نمبردار کو لے کر میرے پاس آئے تھے۔ میں نے غسل کیا اور جلدی سے کھانا کھا کر ان لوگوں کے ہمراہ پہلے آچسٹی اور وہاں سے اس گاؤں پہنچ گیا۔ وہ مقام جہاں شیرنی نے اپنے شکار پر حملہ کیا تھا اور بدقسمت انسان نے آواز تک نہ نکالی تھی‘ سخت اور پتھریلا تھا جس کے باعث شیرنی کے پنجوں کے نشانات واضح نہ تھے۔ یہاں آس پاس کی کانٹے دار جھاڑیوں نے ہماری مدد کی کیونکہ جب شیرنی اپنے شکار کو اٹھائے واپس جنگل میں جا رہی تھی تو اس بدقسمت شخص کا لباس جھاڑیوں میں پھنس کر تارتار ہو گیا تھا اور اس کے چیتھڑے کانٹوں میں الجھے ہوئے تھے۔
کوئی دو سو گز کا فاصلہ طے کر کے شیرنی نے اپنا شکار ایک گھنے سایہ دار درخت کے نیچے گرا دیا تھا‘ تھوڑی دیر سستانے کے بعد وہ اُسے اٹھا کر جنوب کی سمت دریائے کاوری کی طرف چل پڑی جو وہاں سے تقریباً تیس میل کے فاصلے پر تھا۔
اس کے بعد کھوج کا کام آسان ہو گیا کیونکہ اب خون کے دھبے جھاڑیوں کے پتوں پر جابجا نظر آنے لگے تھے۔ مزید سوگز چلنے پر ہمیں اس شخص کی قمیص نظر آئی جو ایک جھاڑی میں الجھی ہوئی تھی۔ چلتے چلتے ہم ایک خشک نالے تک پہنچ گئے جہاں شیرنی کے پنجوں کے نشان بالکل واضح طور پر ثبت تھے اور ایک طرف لاش گھسیٹے جانے کی لکیر تھی۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ شیرنی نے آدمی کو پشت سے پکڑ رکھا تھا اور آدمی کا پاؤں زمین سے رگڑ کھا رہا تھا۔
ساتھیوں کو وہیں کھڑا رہنے کی تلقین کر کے میں اکیلا ہی پھونک پھونک کر قدم اُٹھاتا آگے بڑھنے لگا۔ میری آگے بڑھنے کی رفتار بڑی مدہم تھی کیونکہ میں بڑی احتیاط سے پہاڑیوں میں سے راستہ بنا رہا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ شیرنی کسی تعاقب کرنے والے کا خاتمہ کرنے کی خاطر آس پاس چھپی بیٹھی ہو۔ نالے کے دوموڑ مڑنے پر مجھے ایک چٹان نظر آئی جو نالے کے اوپر سایہ فگن تھی۔ حتی الامکان چٹان کی مخالف سمت رہتے ہوئے میں نے آگے بڑھنے کی رفتار تیز کر دی‘ غور سے دیکھنے پر مجھے چٹان کی دوسری سمت اس بدقسمت انسان کا جسم پڑا نظر آیا۔
شیرنی پیٹ بھر کر وہاں سے رخصت ہو چکی تھی۔ اس نے اپنا شکار نصف سے زیادہ کھا لیا تھا۔ یہ یقین کر کے شیرنی گردونواح میں موجود نہیں ہے میں دیہاتیوں کی طرف لوٹ آیا۔ شیرنی نے جس انداز میں اپنا شکار جھاڑیوں سے ڈھانپ دیا تھا اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ اس کی فطرت آہستہ آہستہ آدم خوروں کی طرز پر بدل رہی ہے۔ مجھے قوی امید تھی کہ اب کی بار وہ اپنے شکار پر لوٹ کر ضرور آئے گی۔ مجھے شروع میں یہ بھی شک گزرا کہ مبادا یہ کوئی دوسری شیرنی ہو لیکن پنجوں کے نشانات کا اپنے پاس موجود سانچوں سے موازنہ کرنے کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی شیرنی تھی۔ اس امر کا قوی امکان تھا کہ ابتدا میں انتقاماً کارروائیاں کرنے والی وہ شیرنی لٹل وڈ کی گولی سے زخمی ہونے کے بعد دوسرے جانوروں کا شکار کرنے کے قابل نہ رہی اور اس نے باقاعدہ آدم خوری اختیار کر لی تھی۔ دیہاتیوں کو ساتھ لے کر میں اسی جگہ واپس آیا اور ہم نے مل کر اس کے قریب ہی ایک چھوٹی سی مچان تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے یقین تھا کہ شیرنی اپنا بچا کھچا شکار کھانے کے لیے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ضرور آئے گی۔ مچان تیار کرنے کے لیے اس سے زیادہ غیرموزوں جگہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آس پاس کوئی درخت نہ تھا جس پر مچان تیار کی جا سکتی یا جس میں چھپ کر میں بیٹھ سکتا۔ فقط دو صورتیں تھیں۔ پہلی تو یہ تھی کہ میں نالے کی دوسری سمت بیٹھ جاتا جہاں سے ادھ کھائی لاش صاف دکھائی دیتی تھی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ نالے پر سایہ فگن چٹان کے بالائی حصے میں ایک چھجا سا بنا ہوا تھا۔ میں اس میں چھپ کر بیٹھ جاتا اس چھجے سے چار فٹ اوپر تک چٹان چلی گئی تھی جس کے باعث وہ چھجا ایک کمین گاہ بن گیا تھا۔ پہلی تجویز میں نے رد کر دی کیونکہ آدم خور کے سلسلے میں ایسا خطرہ مول لینا جان سے کھیلنے کے مترادف تھا۔ دوسری صورت مجھے معقول نظر آئی میں اپنے سامنے پھیلے ہوئے نالے کی دائیں اور بائیں جانب بخوبی دیکھ سکتا تھا بائیں جانب تقریباً تیس گز تک‘ پھر وہ ایک دم دا ہنی سمت کو مڑ جاتا تھا۔ بڑی خاموشی اور احتیاط سے میں نے دیہاتیوں کی مدد سے خاردار جھاڑیوں کی کچھ شاخیں کاٹیں۔ یہ شاخیں ان جھاڑیوں سے مشابہ تھیں جو چٹان کے گردونواح میں اگی ہوئی تھیں‘ مقصد یہ تھا کہ شیرنی کو کسی قسم کا شبہ نہ ہو۔ یہ شاخیں ہم نے بڑی ہوشیاری سے چٹانی چھجے کے نیچے رکھ دیں تاکہ میں نالے کی سمت سے نظر نہ آ سکوں۔ خوش قسمتی سے میں اپنے ہمراہ کمبل اور پانی کی بوتل لے آیا تھا۔ چاند رات کے باعث مجھے ٹارچ کی ضرورت نہ تھی۔ سہ پہر کے تین بجے میں چٹان کے اوپر سے اتر کر چھجے میں چھپ کر بیٹھ گیا اور دیہاتیوں سے کہا کہ وہ چلے جائیں۔ اب میری ہدایات کے مطابق انہوں نے اگلی صبح میرے لیے کھانا لے کر آنا تھا۔
دن آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا۔ ننگی چٹان پر سورج کی شعاعیں سیدھی پڑ رہی تھیں۔ اور میں پسینے میں شرابور تھا۔ میری نگاہیں نالے کے دونوں جانب لگی ہوئی تھیں۔ تپتی زمین سے ٹکرا کر لوٹنے والی شعاعوں کی تپش میں کوئی شے حائل نہ تھی۔
وقت گزرتا گیا اور آخر سورج کا دہکتا گولا دور گھنے درختوں سے گھری پہاڑیوں کے پیچھے چھپ گیا۔ ڈوبتے دن کو الوداع کہنے کے لیے ہر سمت سے پرندوں کی تازہ آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی جنگل میں سے موروں کی کوک بھی سنائی دینے لگی تھی۔ میں نے اس آواز کو خوش آمدید کہا کیونکہ میں جانتا تھا کہ مور سے بڑھ کر جنگل میں کوئی اور جانور چوکنا نہیں ہوتا اور اگر اس نے شیرنی کو دیکھ لیا تو وہ مجھے فوراً اس کی آمد سے مطلع کر دے گا۔ اب شیرنی کی آمد متوقع تھی۔ میں خبردار ہو کر بیٹھ گیا اور اس کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ نہ آئی۔ خاصی دیر بعد موروں کی آواز آنا بھی بند ہو گئی‘ شاید وہ اڑ کر دور چلے گئے تھے۔
سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی چاند نکل آیا‘ میں اس کی روشنی میں دن کے اجالے کی طرح گردوپیش کا نظارہ کر سکتا تھا۔ دن کے پرندے آرام کرنے چلے گئے تھے اور ان کی جگہ طائران شب نے لے لی تھی۔ ہر طرف موت کا سا سکوت چھا گیا۔ میری نگاہ انسانی لاش پر جا پڑی۔ خوش قسمتی سے اس کا سر دوسری سمت تھا جس کے باعث میں اس کے چہرے کے مسخ خدوخال نہ دیکھ سکتا تھا جنہیں میں اس سے پہلے سہ پہر کو دیکھ چکا تھا۔ یکایک ایک ہرن کی آواز نے سکوت شب کی چادر تارتار کردی۔ اس کے ساتھ ہی کسی خوفزدہ سانبھر کی آواز تقریباً نصف میل کے فاصلے سے سنائی دے رہی تھی۔ اتنے میں نالے کے اندر سے بھی کوئی پرندہ زور زور سے چلانے لگا۔ میں نے اطمینان کی سانس لی اور اپنے پٹھوں اور نسوں کو آخری اقدام سے پہلے مل مل کر بیدار کرنے لگا۔ میرے دوست حیوان بڑی ذمہ داری سے اپنا فرض انجام دے رہے تھے۔ میں جان گیا تھا کہ انہوں نے شیرنی کو اس طرف آتے دیکھ لیا ہے۔
آخر پرندوں اور حیوانوں کی آوازیں بتدریج سکوت میں ڈھل گئیں۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ شیرنی ان کی حدود سے گزر کر بالکل قریب پہنچ گئی ہے۔ میں آنکھوں پر زور دے کر نالے کے موڑ کی سمت دیکھنے لگا جہاں سے شیرنی کسی وقت بھی نمودار ہو سکتی تھی۔ اسی کیفیت میں پچاس منٹ گزر گئے‘ چاندنی میں میری گھڑی کی سوئیاں اور حروف صاف دکھائی دے رہے تھے۔ عجیب بات تھی‘ شیرنی کو اب تک یہاں پہنچ جانا چاہیے تھا اور نصف میل کا فاصلہ طے کرنے میں اُسے اتنی دیر نہ لگنی چاہیے تھی۔ تب یکایک ایک فوری خطرے کے احساس نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ مبہم چھٹی حس جو ہم سب کے اندر ہوتی تو ہے مگر جس کی نشوونما بہت کم لوگ کرتے ہیں اچانک ہی میرے اندر بیدار ہو گئی تھی۔ مجھے کوئی شبہ نہ رہا کہ میری تمام حفاظتی تدابیر کے باوجود شیرنی کو میری موجودگی کا احساس ہو گیا ہے اور اب وہ چھپ کر مجھ پر حملہ کرنے والی ہے۔
جو لوگ جنگل سے واقف ہوں‘ خطرے کے وقت بڑی تیزی سے سوچتے ہیں۔ اس وقت میری جو حالت تھی اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس کا کبھی ایسی صورت حال سے پالا پڑا ہو۔ میرا جسم پسینے کے ٹھنڈے قطروں سے بھیگا ہوا تھا۔ میں جانتا تھا کہ شیرنی نہ تو نالے کی سمت ہے اور نہ ہی میرے نیچے ورنہ اب تک میں اسے دیکھ چکا ہوتا۔ شاید وہ نالے کے دوسرے کنارے گھنی جھاڑیوں میں چھپی میری نقل و حرکت کا جائزہ لے رہی تھی‘ لیکن اگر وہ اس قدر دور ہوتی تو میرے خطرے کی حس مجھے یک دم پریشان نہ کرتی۔ یا تو وہ میرے اوپر تھی یامیرے نیچے۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میرے عقب میں چار فٹ اونچی چٹان کی دیوار میرے مڑ کر دیکھنے میں مانع ہے۔ اس سے اوپر جھانکنے کی فقط یہی صورت تھی کہ میں تھوڑا سا اوپر اٹھتا اگرچہ اس حالت میں صحیح نشانہ لے کر گولی نہ چلائی جا سکتی تھی۔ پیش بینی کی اس خامی پر میں نے وقتی طور پر خود کو ملامت کیا۔ میں اسی تذبذب میں گرفتار تھا کہ اگلے لمحے چند پتھر چٹان کی چوٹی سے سرک کر نیچے آئے جو شاید شیرنی کے پاؤں سے اکھڑ گئے تھے۔ بلاشبہ اب شیرنی میرے بہت قریب تھی اور مجھ پر حملہ کرنے کے لیے اپنا جسم تول رہی تھی۔
میں نے مزید دیر نہ کی اور اپنی سوئی ہوئی ٹانگوں پر زور دے کر اکڑوں حالت میں اوپر اٹھا‘ رائفل کی نالی اپنے چہرے کے متوازی لے آیا‘ تب میں نے خود کو تھوڑا اوپر اٹھایا حتیٰ کہ میری آنکھیں اور رائفل کی نالی ایک ساتھ چٹان سے اوپر ہوئیں۔
میری زندگی کا سب سے خوفناک منظر میرا منتظر تھا۔ شیرنی مجھ سے بمشکل آٹھ فٹ کے فاصلے پر پیٹ کے بل چٹان کے اوپر رینگتی ہوئی میری سمت آ رہی تھی۔ لمحہ بھر ہم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر تقریباً ایک ساتھ حرکت میں آ گئے۔ شیرنی دل دہلا دینے والی بھرپور دھاڑ کے ساتھ مجھ پر حملہ آور ہوئی اور اسی لمحے میں نے رائفل کا گھوڑا دبا دیا۔ میرے کان سے فقط چند انچ کے فاصلے پر رائفل کی گرج اور اس میں ملی ہوئی شیرنی کی خوفناک دھاڑ‘ دونوں نے ایک ایسی آواز پیدا کی جوآج تک میرے خوابوں میں عود کر آتی ہے تو میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہوں اور میرا سارا جسم خوف سے کانپنے لگتا ہے۔
مجھے یقین تھا کہ شیرنی نے اس چھجے کا اندازہ نہ کیا تھا جس کے پیچھے میں پناہ گزیں تھا۔ گولی کی آواز‘ شعلے کی چمک اور اپنا وار خطا جانے سے وہ کچھ ڈر سی گئی اور اس نے راہ فرار اختیار کی۔ نتیجتاً اس نے میرے سر کے اوپر سے چھلانگ لگائی۔ ایسا کرتے وقت اس کی ایک پچھلی ٹانگ میری رائفل کی نال سے ٹکرائی جس کے باعث رائفل میرے ہاتھ سے گر کر دور نرم ریت پر جا پڑی جہاں ادھ کھائی لاش پڑی ہوئی تھی۔ گولی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ شیرنی نالے تک پہنچ گئی اور وہاں سے دو ہی چھلانگوں میں دھاڑتی ہوئی مخالف کنارے کی گھنی جھاڑیوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ صدمے کی شدت سے تھوڑی دیر تک تو مجھے پتا نہ چلا کہ مجھ پر کیا بیت گئی ہے۔ جب میں اس کیفیت سے نکلا تو مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں غیرمسلح اور بے مدد ہوں اور اگر شیرنی لوٹ آئے تو میں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دوسرا امکان یہ بھی تھا کہ اگر شیرنی زخمی ہو کر سامنے والے کنارے کی جھاڑیوں میں چھپی ہوتی تو میرا چھجے سے اتر کر رائفل پکڑنے جانا بلاشبہ خطرے سے خالی نہ تھا۔ لیکن تذبذب کی حالت میں گرفتار رہنے سے کچھ کر گزرنا بہتر تھا‘ میں بجلی کی تیزی سے اپنی کمین گاہ سے نکلا اور رائفل تک جا پہنچا۔ ہر لمحہ مجھے یہی خطرہ لگا تھا کہ ابھی شیرنی کی دہشت ناک گرج سنائی دے گی اور وہ میرے اوپر ہو گی لیکن جتنا عرصہ مجھے یہ کیفیت بیان کرنے میں لگا ہے‘ میں اس سے بہت کم مدت میں رائفل اٹھا کر دوبارہ اپنی جگہ آ چکا تھا۔ رائفل کا فوری معاینہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا۔ اب میں سوچ رہاتھا کہ کیا شیرنی کو گولی لگی تھی یا اس قدر نزدیک سے بھی میرا نشانہ خطا گیا تھا۔ تب مجھے اپنے پیچھے تقریباً دو فٹ کے فاصلے پر چٹان کی دیوار پر کوئی کالی اور سفیدچیز پڑی نظر آئی۔ میں نے اسے اٹھا کر دیکھا تو وہ شیرنی کی کھال کا ایک ٹکڑا تھا جو گولی لگنے سے الگ ہو گیا تھا۔ وہ ابھی تک گرم تھا اور زیادہ تر بالوں اور جلد پر مشتمل تھا۔ شاید اسی باعث اس کے کناروں سے خون نہ نکلا تھا۔
اگر یہ کہا جائے کہ وہ میری شکاریانہ زندگی کا سب سے مایوس کن لمحہ تھا تو غلط نہ ہو گا۔ میں شیرنی کو ہلاک تو کجا ٹھیک طور پر زخمی بھی نہ کر سکا تھا۔ گولی چھو کر گزر جانے سے اس کا کچھ نہ بگڑا تھا۔ چند روز کی تکلیف کے بعد وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ اب وہ کبھی اپنے شکار کے پاس دوبارہ نہ آئے۔ اب وہ زیادہ چالاک‘ خطرناک اور تخریبی ہو جائے گی کیونکہ اب وہ اپنا شکار فوراً کھا لیا کرے گی اور بھوک لگنے پر دوبارہ نئے شکار کی تلاش میں نکل کھڑی ہوا کرے گی۔ یوں اس کی ہلاکت خیز سرگرمیوں میں اضافے کا بھی اندیشہ تھا۔ جس سے اس کی وارداتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ ممکن ہے اب وہ اپنی سرگرمیوں کا دائرہ بھی بدل لے اور ملک کے کسی دوسرے حصے میں چلی جائے جہاں لوگ اس کی آمد سے بے خبر ہوں اور آسانی سے اس کا لقمہ بن جائیں۔ میں ساری رات خود کو کوستا رہا اور امید کے خلاف صبح شیرنی کی دوبارہ آمد کی آس لگائے بیٹھا رہا۔ صبح کے وقت جب دیہاتی آئے تو انہوں نے مجھے سردی سے اکڑا پایا۔ میری مایوسی ناقابل بیان تھی۔ گرم چائے اور ٹوسٹ کے بعد پائپ کے چند کشوں نے میرے حواس درست کیے اور میں نے ذرا ٹھنڈے دل سے صورت حال کا جائزہ لیا۔ اگر میری چھٹی حس نے ساتھ نہ دیا ہوتا تو اس وقت میں بھی پہلی لاش کے پہلو بہ پہلو مسخ حالت میں پڑا ملتا۔ ہم خون کے دھبے دیکھنے اس مقام تک گئے جہاں شیرنی چھلانگ لگانے کے بعد گری تھی مگر وہاں چند قطروں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کے زخم زیادہ کاری نہ تھے۔ وہاں سے ہم نالا عبور کر کے ان جھاڑیوں میں گئے جہاں شیرنی چھپ گئی تھی۔ وہاں بھی جھاڑیوں کے پتوں پر خون کا اکادکا قطرہ نظر آیا۔ تھوڑی دور تک خون کے نشانات دکھائی دیتے رہے اور پھر معدوم ہو گئے۔ اس طرح مایوس انسانوں کی وہ جماعت واپس لوٹ آئی۔
میں مزید دس دن دریائے کاوری کے علاقے میں رہا اور جگہ جگہ بچھڑے باندھ کر شیرنی کو ترغیب دیتا رہا۔ خود مجھے کامیابی کی بہت کم امید تھی۔ میں صبح اور سہ پہر کا وقت شیرنی کے پنجوں کے کھوج میں گنوا دیتا اور رات رات بھر چشموں اور دریا کے کنارے شیرنی کے انتظار میں بیٹھا رہتا لیکن میری سب جدوجہد اکارت گئی۔ دن کی روشنی میں دیہاتیوں کے گروہ ہر سمت شیرنی کی تازہ واردات کی خبر حاصل کرنے جاتے مگر ناکام لوٹتے۔ بظاہر شیرنی نے انسانی شکار کا سلسلہ ترک کر دیا تھا اور کسی دوسرے علاقے کی طرف چلی گئی تھی۔ گیارہویں دن میں نے کاوری کو خیرآباد کہا اور وہاں سے آچسٹی اور آچسٹی سے دھنک کوٹ چلا آیا وہاں سے میں ہوسر آیا جہاں میرا ایک دوست سب کلکٹر رہتا تھا اسے ساری کہانی سنانے کے بعد میں نے اس سے وعدہ لیا کہ جونہی شیرنی کی کسی تازہ واردات کی خبر اس تک پہنچے وہ مجھے فوراً خط لکھ کر بلالے کیونکہ شیر سے اس علاقے کے عوام کا بچاؤ اب میں اپنا فرض سمجھتا تھا۔ وہاں سے میں اپنے گھر بنگلور چلا آیا۔ پانچ ماہ گزر گئے۔ اس دوران میرے دوست سب کلکٹر نے مجھے تین خط لکھے جس میں کسی شیر نے دور کے اضلاع میں تین انسانوں کو ہلاک کیا تھا۔ دو دریائے کاوری کے اس پار اور ایک ریاست میسور کی سرحد پر۔ تب اچانک ایک دن مجھے ایک بری خبر ملی۔ ہوس دُرگا میں پھر ایک آدم خور شیر آ گیا تھا اور اس نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا اور دوسری شام سیتارام نامی گاؤں کے مندر کے دروازے پر سے بوڑھے برہمن کو اٹھا لے گیا تھا جو اس مندر میں چالیس برس سے رہ رہا تھا۔ خط میں مجھے جلد پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی۔
سیتارام پہنچ کر خوش قسمتی سے مجھے پجاریوں کے ایک ایسے گروہ سے بات کرنے کا موقع مل گیا جنہوں نے مندر کے بوڑھے برہمن کو اپنی آنکھوں سے موت کا نوالہ بنتے دیکھا تھا۔ وہ پوجا کی خاطر مندر کی سمت جا رہے تھے کہ انہیں مندر سے تیس گز کے فاصلے پر ایک بڑے سے پیپل کے درخت کے نیچے غراہٹ کی ہلکی سی آواز سنائی دی اور پھر ایک شیر بھاگ کر جنگل میں چھپ گیا وہ بے حد خوفزدہ ہوئے اور مندر کے اندر گھس کر دروازہ بند کر لیا۔ مندر کو خالی دیکھ کر وہ بڑے پریشان ہوئے اور جب ان کی نظر پیپل کے درخت کے نیچے بوڑھے برہمن کی لاش پر پڑی تو وہ خوف و ہراس سے کانپنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک گروہ کی شکل میں باہر نکلے اور صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ شیر نے بوڑھے برہمن پر مندر کے بالکل قریب حملہ کیا تھا اورپھر اسے کھانے کی خاطر پیپل کے درخت کے نیچے لے گیا تھا۔ شیر لاش کا کچھ حصہ کھا چکا تھا کہ پجاریوں کا گروہ مخل ہوگیا۔
میں نے ان پجاریوں سے خاص طور پر یہ دریافت کیا کہ کیا شیر لنگڑا تھا یا نہیں مگر وہ تو انتہائی خوفزدہ تھے‘ شیر میں اس قسم کی کوئی خامی تلاش کرنے کی ہمت انہیں کہاں تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اُس علاقے کے مکینوں کو غلط فہمی ہوئی ہے اور وہ شیر نہیں بلکہ وہی شیرنی ہے جس کی ایک عرصے سے مجھے تلاش تھی۔ بعدازاں پنجوں کے نشانات کا اپنے پاس موجود سانچوں سے موازنہ کرنے کے بعد میرے خیالات درست ثابت ہوئے۔
میں تین آدمیوں کے ہمراہ تیزی سے سیتارام مندر کی طرف روانہ ہوا اور شام کے قریب وہاں پہنچا۔ سفر کے آخری دو میل بڑے بے آرامی میں گزرے۔ ایک تو راستہ ڈھلوان تھا اور دوسرا وہاں بانس کے درخت کثرت سے اُگے ہوئے تھے جو قدم قدم پر ہمارا راستہ روک لیتے۔ راستے میں ہمیں کوئی حادثہ پیش نہ آیا۔
منزل پر پہنچ کر میں رائفل لیے کھڑا رہا اور میرے تینوں ساتھی لکڑیاں جمع کرتے رہے جن سے ہمیں الاؤ روشن کرنا تھا۔ وہ اندھیری راتیں تھیں اور ایسے میں آدم خور کے انتظار میں بیٹھنا بے حد خطرناک تھا۔ تھوڑی دیر بعد مندر کے سامنے ایک الاؤ دہک رہا تھا۔ چند قدم پر گھنا جنگل تھا جس میں آدم خور بڑی آسانی سے چھپ کر ہماری ہرنقل و حرکت کا جائزہ لے سکتی تھی اور ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ کبھی کبھی کسی ہرن کی آواز سنائی دیتی مگر ایک ساتھ متواتر سنائی نہ دیتی جیسا کہ جنگلی جانور یا پرندے اپنا کوئی دشمن دیکھ لینے کی صورت میں کرتے ہیں۔ نصف شب کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ دو دو کے گروہ میں بٹ کر باقی رات گزاری جائے۔ پہلے میں اور میرے ایک ساتھی نے پہرہ دینا تھا۔ دوسرے دو آدمی سو گئے۔ جتنی دیر ہم جاگتے رہے کوئی غیرمعمولی واقعہ پیش نہ آیا۔ کبھی کبھی کوئی بھٹکا ہوا جانور ادھر آ نکلتا اور آگ دیکھ کر دم دبا کر بھاگ جاتا۔ تین بجے ہم نے سوئے ہوئے ساتھیوں کو جگا دیا اور خودسو گئے۔ رات کا باقی حصہ میں گہری نیند سویا صبح جب میری آنکھ کھلی تو جنگلی مرغ کی تازہ آواز کہیں قریب سے آ رہی تھی۔
ہم نے وہیں چائے تیار کی اور ساتھ لایا ہوا کھانا کھایا جس سے ہمارے اندر تقویت کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد میں پیپل کے درخت کے نیچے گیا اور بوڑھے برہمن کی بچی کھچی لاش کا جائزہ لیا‘ دن کے وقت گِدھوں اور رات کو گیدڑوں نے اُس پر خوب ہاتھ صاف کیے تھے کیونکہ اب وہاں بوڑھے کی صرف ہڈیاں رہ گئی تھیں۔ اگلا گھنٹہ ہم شیرنی کے پنجوں کے نشانات کی تلاش میں اس امید پر پھرتے رہے کہ شاید اس تک پہنچ سکیں۔ شام پانچ بجے ہم واپس گاؤں پہنچ گئے۔ یہاں پہنچتے ہی میں نے آدم خور کے متعلق اطلاعات حاصل کرنا شروع کر دیں۔ صحیح اطلاعات مجھے ایک گڈریے سے ملیں جو اپنے مویشیوں کو اس دریا سے پانی پلایا کرتا تھا جہاں میں نے پہلی مرتبہ شیرنی کو ترغیب دینے کی خاطر ایک بیل باندھا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اور اس کے ایک ساتھی دریا کے قریب مویشی چرا رہے تھے۔ اتنے میں اسے رفع حاجت محسوس ہوئی اور وہ ساتھ والی جھاڑیوں میں چلا گیا۔ ابھی وہ زمین پر بیٹھا ہی تھا کہ ایک ملحقہ جھاڑی سے شیرنی کا سر نظر آیا اور پھر اس کا دھاری دار جسم۔ شیرنی کا ایک کاندھا غیر فطرتی انداز میں ابھرا ہوا تھا۔ اس کے دیکھتے ہی دیکھتے شیرنی وہاں سے ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ میری پرانی حریف شیرنی تھی جو آخرکار پھر سے اپنی پرانی شکارگاہ میں لوٹ آئی تھی اور پہلے سے زیادہ مکار ہو گئی تھی۔ اس کی اس مکاری کا ذمہ دار ایک حد تک لٹل وڈ بھی تھا کیونکہ اُس نے عجلت میں اسے زخمی کر کے آدم خور بنا ڈالا تھا۔
ہر جگہ میں نے یہی سنا تھا کہ اس درندے نے کسی گائے یا بھینس کو کبھی چھوا تک نہیں۔ لہٰذا میں نے پہلے کی طرح بیل وغیرہ باندھ کر اسے ترغیب دینے میں وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ میں اگلے دو روز تک جنگل میں اس امید پر پھرتا رہا کہ شاید کہیں آدم خور سے سامنا ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے یہ بھی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ وہ اچانک مجھ پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ اس کے پنجوں کے نشان اکثر نظر آتے خصوصاً دریائے کاوری کی نرم ریت پر۔
تیسرے دن دوپہر کے قریب جولگری سے دیہاتیوں کا ایک گروہ تیس میل کا فاصلہ طے کر کے مجھے یہ بتانے آیا کہ شیرنی نے ایک اور آدمی ہلاک کر دیا ہے۔ اب کے جولاگری کے محکمہ جنگلات کے بنگلے کا ملازم لقمہ بنا تھا۔ شیرنی کل دوپہر اسے کھا کر باقی ماندہ لاش بنگلے سے سو گز کے فاصلے پر ہی چھوڑ گئی تھی۔
میرا خیال تھا کہ اب شیرنی سیتارام کی سمت جائے گی کیونکہ جس جگہ وہ شکار کرتی تھی دوسرے دن وہاں ہرگز نہ ٹھہرتی تھی۔ میں تیزی سے سیتارام کی سمت روانہ ہوا۔ میرے ہمراہ پہلے ہی تین دیہاتی تھے اب جولاگری سے آئے ہوئے آٹھ افراد بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گئے۔ وہ پہلے ہی تیس میل طے کر چکے تھے مگر انہوں نے واپس جانے کے بجائے ہمارے ساتھ سیتارام جانے اور مزید فاصلہ طے کرنے کو ترجیح دی۔ دن کا شعلہ بجھ رہا تھا کہ ہم سیتارام کے مندر میں پھر سے پہنچ گئے چونکہ راتیں اب بھی اندھیری تھیں لہٰذا ہم نے مندر کے صحن میں الاؤ روشن کر دیا۔ اب ہماری پارٹی بارہ آدمیوں پر مشتمل تھی اور ہم خود کو قدرے محفوظ تصور کر رہے تھے۔
اس دفعہ پہلے کی طرح ہم نے رات آرام سے نہیں گزاری۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ہمیں ایک شیر کی گرج سنائی دی جو تقریباً نصف میل کے فاصلے سے آ رہی تھی۔ یہی آواز ایک گھنٹے کے بعد پھر سنائی دی مگر ذرا قریب سے‘ اس آواز سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ شیرنی اپنے نر کو بلا رہی ہے۔ دوسری طرف میں نے یہ اندازہ بھی لگایا کہ شیرنی نے الاؤ دیکھ لیا تھا اور انسانی وجود سے باخبر ہو چکی تھی۔ شکار کی تلاش میں اس نے دو دفعہ مندر کے گرد چکر بھی لگایا۔
جسم سن ہو گئے بہرحال ہم خاصے محتاط تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ وہ بلند آواز میں باتیں کریں اور آگ زیادہ تیز نہ کریں۔ مجھے امید تھی کہ انسانی شکار کی توقع میں شیرنی صبح تک ہمارے آس پاس ہی رہے گی اور حسب معمول کسی دوسرے گاؤں کا رخ نہیں کرے گی۔
صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے شیرنی پھر دھاڑی جس سے میں مطمئن سا ہو گیا۔ میں صبح کی ہلکی روشنی میں مندر سے نکلا اور وہاں سے دو فرلانگ کے فاصلے پر اس درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا جہاں شیرنی نے کچھ عرصہ قبل ایک پجاری کو شکار بنایا تھا۔ وہ درخت میرے لیے ایک بہترین مچان تھا۔
میں زمین سے بارہ فٹ کے فاصلے پر درخت میں ایک ایسی جگہ آرام سے بیٹھا ہوا تھا جہاں سے دائیں بائیں کا منظر بڑا صاف نظر آتا تھا۔ تب میں نے اپنا ایک پرانا حربہ آزماتے ہوئے اپنے پھیپھڑے پھُلا کر شیر جیسی آواز نکالی۔ میری آواز کا جواب خاموشی میں ڈھل گیا۔ میں سوچنے لگا کہ کہیں شیرنی صبح کے وقت کہیں دور تو نہیں نکل گئی۔ ایک نئے تفکر نے مجھے گھیر لیا‘ شاید وہ مندر کے قریب چھپی بیٹھی ہو اور کسی شخص کے باہر نکلنے کی منتظر ہو۔
مندر چھوڑنے سے پہلے میں نے اپنے ساتھیوں کو تاکید کی تھی کہ وہ کسی قیمت پر بھی مندر سے باہر نہ نکلیں۔ اب مجھے خدشہ ہو گیا کہ شاید ان میں سے کوئی میری حکم عدولی کر دے اور رفع حاجت کی خاطر یا مندر کے قریب چشمے سے پانی لینے باہر نکل آئے۔
آخر میں نے دوسری دفعہ شیر جیسی آواز نکالی‘ اب کی بار بھی کوئی جواب نہ آیا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے بھرپور انداز میں آواز نکالی۔ اس دفعہ میں کامیاب ہو گیا۔ میری آواز گھنے جنگل میں گونجتی ہوئی شیرنی تک پہنچ گئی اور اس نے مندر کی سمت سے فوراً میری آواز کا جواب دیا۔ میرا اندازہ درست نکلا تھا‘ شیرنی شکار کی خاطر وہاں گھات لگائے بیٹھی تھی۔
تھوڑی دیر بعد میں پھر ’غرایا‘ جس کا جواب شیرنی نے اسی وقت نسبتاً قریب سے دیا۔ مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ وہ اپنے ’نر‘ کی تلاش میں میری سمت آ رہی تھی۔
میں نے دو مرتبہ پھر آواز دی‘ اب کی بار میری آواز کا جواب بمشکل سو گز سے دیا گیا۔ میں نے رائفل سیدھی کرتے ہوئے تقریباً پچیس گز کے فاصلے پر نظریں جما دیں‘ میرا اندازہ تھا کہ یہاں پہنچنے میں وہ پندرہ سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لے گی۔ میں نے گننا شروع کر دیا ابھی دس تک پہنچا تھا کہ شیرنی ادھر ادھر دیکھتی ہوئی میرے بالکل سامنے آ گئی۔ اس کا بایاں کاندھا چلتے وقت غیر فطری انداز میں اٹھ رہا تھا۔ میری طویل جدوجہد کے بعد اب وہ بالکل میرے اختیار میں تھی‘ اسے روکنے کے لیے میں شیر کی سی مدہم آواز میں غرانے لگا۔ وہ اچانک رک گئی اور حیرت سے اوپر کی طرف دیکھا۔ دوسرے لمحے میری گولی اس کے ماتھے میں پیوست ہو چکی تھی۔ وہ تیورا کر زمین پر گری۔ میری دوسری گولی اس کے سر میں لگی حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی۔
ہوس درگا سے اپنی انتقامی وارداتوں کا آغاز کرنے والی خوفناک بلا اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ چکی تھی‘ ایسا انجام جو اس کے شایانِ شان نہیں تھا۔ اگرچہ وہ ایک بے رحم قاتلہ تھی جس نے میرے جگری دوست کی رفیقۂ حیات اُس سے چھین لی تھی‘ لیکن جس اوچھے انداز میں‘ میں نے اس کا خاتمہ کیا‘ اس پر بعد میں میرا ضمیر مجھے خاصا عرصہ ملامت کرتارہا۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ