آئیے‘ ہم سب آزادی کی حفاظت کریں ۔ اگست ۲۰۰۸
۔ ہمیں آزاد ہوئے ۱۶/ سال ہو چکے ہیں‘ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو خطرات حصول آزادی کے وقت منڈلا رہے تھے‘ ان کی نوعیت بڑی حد تک تبدیل ہو گئی ہے اور شدت میں کئی گنا اضافہ محسوس ہو چکا ہے۔ آزاد قومیں جاںگسل مراحل سے گزرتی ہی رہتی ہیں۔ خود امریکہ جو اس وقت دنیا کی واحد سپرپاور ہے‘ اسے فیڈریشن کے قیام اور استحکام کے لیے تباہ کن خانہ جنگیوں سے گزرنا اور غلاموں کی تجارت کے خاتمے کے لیے میدان کارزار میں اُترنا پڑا تھا۔ ہم نے تاریخ میں انہی ممالک اور اقوام کو ترقی کرتے اور عزت کا مقام پاتے دیکھا ہے جو اپنے اندر چیلنجوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ان سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ یہ درست کہ آج ہمارا داخلی استحکام اور ہمارا نظریاتی وجود آزمائشوں سے دوچار ہے اور ہماری مغربی سرحدیں کسی قدر غیرمحفوظ نظر آتی ہیں‘ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم ان آزمائشوں میں سرخرو ہو کر اس خطے کی ایک اہم طاقت کے طور پر اُبھرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ عوام کے اندر اپنے حالات بدلنے کا جذبہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بیدار ہو چکا ہے اور قانون کی حکمرانی کا غلغلہ شہر شہر اور قریے قریے سنائی دیتا ہے۔ اس عظیم الشان عوامی تحریک نے آزادی کے تحفظ کا شعور کچھ اس طرح اُجاگر کر دیا ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں پاکستان میں عوام کی حاکمیت‘ جمہوریت کے استحکام اور اچھی حکمرانی کے موضوعات میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں اور بنیادی اہمیت عامۃ الناس کو دی جا رہی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک ایسی عظیم تبدیلی ہے جسے ہم ایک روشن اور تابناک مستقبل سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ مغربی میڈیا میں گزشتہ چند مہینوں سے اس نوع کی گمراہ کن رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں کہ امریکہ پاکستان کی جغرافیائی تقسیم کے منصوبے وضع کر چکا ہے اور کسی بھی لمحے وہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ان ہیبت ناک رپورٹوں کی اشاعت سے اہلِ پاکستان میں تشویش کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے‘ مگر جو اہل بینش بین الاقوامی واقعات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں‘ انہیں پورا یقین ہے کہ امریکہ پاکستان پر حملہ آور ہو گا نہ اسے جغرافیائی طور پر تقسیم کر سکے گا۔ دراصل یہ نفسیاتی حربے پاکستانی قوم کی قوت ارادی کو ضعف پہنچانے کے لیے بعض استعماری عناصر استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ‘ جو توانائی کے سرچشموں پر قبضہ حاصل کرنے کی حکمت عملی ایک مدت سے اپنائے ہوئے ہے‘ وہ اپنے ہی کوتاہ نظر فیصلوں کے گرداب میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ صدر بش نے عراق پر حملہ آور ہونے سے چند روز پہلے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے ایک انتہائی اہم ملاقات کی تھی جس کے بنیادی نکات وزیراعظم ٹونی بلیئر کے سیکرٹری نے ریکارڈ کیے تھے۔ ان کے مطابق صدر بش کا منصوبہ یہ تھا کہ عراق سے فارغ ہو کر ایران‘ شمالی کوریا اور پاکستان کی سرکش ریاستوں سے نمٹا جائے گا۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق چند ہفتوں کے اندر اندر بغداد میں ایک امریکہ نواز حکومت قائم ہو جائے گی‘ تیل کے چشموں پر مکمل امریکی غلبہ ہو جائے گا‘ لیکن وہاں مزاحمت کی تحریک اس قدر طاقت ور ثابت ہوئی کہ امریکی فوجوں کو لینے کے دینے پڑ گئے اور پانچ سال گزرنے کے باوجود حالات قابو میں نہیں آ رہے۔ عراق میں امریکہ ہفتہ وار ایک ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے اور جانی نقصان اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ صدر بش کا عہد صدارت سٹریٹجک ناکامیوں اور سیاسی لغزشوں میں گزر گیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں فوکس ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں افغانستان سے پہلے پاکستان کا مسئلہ حل کرنا پڑے گا‘ مگر اب ان کی باتوں کی حیثیت گیڈربھبکیوں سے کچھ زیادہ نہیں۔ ان کے اقتدار کا چراغ گل ہونے والا ہے اور اب تک امریکی سوچ میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے جو پاکستان کی خودمختاری‘ سلامتی اور عوام کی خوشحالی اور جمہوری نظام کے استحکام کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔

صدر بش کی سب سے بڑی غلطی جس کا پاکستان کو بہت فائدہ پہنچا‘ یہ تھی کہ وہ افغانستان میں کلیدی معاملات کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر عراق پر حملہ آور ہو گئے‘ اور دونوں ہی ملکوں میں انہیں غیرمعمولی مزاحمت اور طویل حالتِ جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ کہاں یہ خواب کہ چند مہینوں میں پورے شرق اوسط کا جغرافیائی نقشہ تبدیل کر دیں گے اور کہاں یہ ڈراؤنے خواب کہ شکست ان کا مقدر بن چکی ہے! اس کے علاوہ آٹھ سال کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہولناک نتائج نے امریکی منصوبہ سازوں کو اپنی فاش غلطیوں کا احساس دلایا ہے کہ طاقت کے غیرضروری استعمال سے دہشت گردی کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے اور افغانستان کے بعد پاکستان کا شمالی علاقہ بھی اس کی زد میں آتا جا رہا ہے۔ فاٹا جو ایک پرامن خطہ تھا‘ وہ اب میدان جنگ کا نہایت خوفناک نقشہ پیش کرنے لگا ہے اور بندوبست علاقوں میں بھی طالبان کے اثرات حیرت انگیز تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جب سے اسی ہزار پاکستانی فوج آئی ہے اور امریکی جاسوس طیاروں نے بستیوں پر میزائل کی بارش کی ہے‘ اس وقت سے انسانی خون بہت ارزاں ہو گیا ہے اور اس پورے خطے میں امریکہ سے نفرت کے شعلے چارسو بھڑک اُٹھے ہیں۔ امریکہ کی سیاسی اور عسکری قیادت جو افغانستان کی تاریخ سے غالباً بے خبر ہے‘ وہ اس راستے پر چل نکلی ہے جو مکمل تباہی اور ذلت آمیزشکست کی طرف جاتا ہے۔ انگریزوں نے اپنے دورِ عروج میں افغانستان سے تین جنگیں لڑیں اور آخری جنگ میں صرف ایک شخص زندہ بچا جس نے تباہی کے چشم دید واقعات بیان کیے۔ سویت یونین کو دس سالہ خونریزی کے بعد ذلت آمیز شکست کے زخم چاٹنے پڑے اور اس جنگ کے نتیجے میں اس کا شیرازہ بکھر کے رہ گیا اور سویت یونین کا حصار دیکھتے ہی دیکھتے شیشے کی طرح چکناچور ہو گیا۔ پاکستان نے اس تاریخی جدوجہد میں دو لاکھ افغانیوں اور ستر ہزار سے زائد عرب مجاہدین کو تربیت دی تھی اور جب سویت یونین کی فوجیں افغانستان سے نکل گئیں‘ تو امریکہ فتح کے نشے میں چور افغانستان اور پاکستان کو ان گنت مسائل میں جلنے کے لیے تنہا چھوڑ گیا اور وہ عرب اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے مجاہدین جنہوں نے روسی فوجوں کا مقابلہ کیا تھا‘ وہ قبائلی علاقوں میں آئے اور پاکستان آج تک تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ امریکی بے اعتنائی سے افغانستان میں جو خلا پیدا ہوا‘ اس میں طالبان کو اقتدار میں لانے کا موقع ملا جنہوں نے خانہ جنگی پر قابو پا کر پورے ملک میں مثالی امن قائم کر دیا تھا۔ اس بار امریکی اور نیٹو افواج دلدل میں کچھ اس طرح پھنس گئی ہیں کہ انہیں واپسی کا راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ طالبان جن پر اکتوبر۱۰۰۲ئ میں بم اور میزائل برسائے گئے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے گئے‘ وہ ایک ناقابل شکست طاقت بن کے اُبھرے ہیں۔ پچاس ہزار سے زائد غاصب فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی قوم کا زوال اس کے عاقبت نااندیش حکمرانوں کے ہاتھوں شروع ہو چکا ہے اور بیس پچیس برسوں میں وہ اپنی منطقی انجام تک پہنچ جائے گا جس کی جگہ عوامی جمہوریہ چین اور طاقت کے دیگر مراکز لے سکتے ہیں۔

بش گیلانی ملاقات اور مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار اور اس کے شہریوں اور فوجیوں کی قربانیوں کا ذکر اچھے الفاظ میں ہوا ہے اور سٹریٹجک تعلقات میں وسعت اور گہرائی پیدا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ صدر بش نے کہا کہ ہم پاکستان کی خودمختاری‘ آزادی اور قومی سلامتی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور عوام کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی کے لیے تعاون کا دائرہ وسیع کرتے رہیں گے۔ ان کے لب و لہجے میں شکایت کے بجائے تحسین و تعریف اور باہمی اشتراک و تعاون کا عنصر اس لیے غالب تھا کہ زمینی حقائق خاصی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں اور امریکہ میں سوچنے کے انداز بدل گئے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پاکستان کا موقف بڑی سادگی سے بیان کرنے اور اعلیٰ امریکی حکام پر یہ واضح کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا احساس کرنا اور خوراک‘ توانائی‘ تجارت اور مالیاتی خسارے اور جمہوری حکمرانی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر تعاون کی راہیں کشادہ کرنا ہوں گی۔ وزیراعظم کے امریکی دورے کے بارے میں یہ عمومی تاثر قائم ہوا ہے کہ اس کا وقت مناسب نہیں تھا اور اعلیٰ درجے کا ہوم ورک بھی نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی کے بارے میں ایک عاجلانہ اور احمقانہ فیصلے سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سیاسی قوت کو سخت دھچکا لگا۔ اس کے باوجود انہوں نے مذاکرات میں توازن قائم رکھنے کی قابل ستائش کاوش کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے انتخاب میں بھی پوری طرح آزاد نہیں تھے۔ حیرت کی بات یہ کہ ان کے وفد میں وزیر خزانہ جناب نوید قمر اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی شامل نہیں تھے‘ جبکہ پارلیمان سے ماورا بعض شخصیتوں کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ ان میں بعض افراد ایسے بھی تھے جو پاکستان کے مقابلے میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے زیادہ قریب خیال کیے جاتے ہیں۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہر مرحلے پر اپنے بے تکلف انداز گفتگو اور اپنی کھری سیاسی سوچ کے ذریعے امریکی عہدے داروں اور میڈیا کے نمائندوں پر یہ واضح کرنے میں خاصے کامیاب نظر آئے کہ جمہوری حکومت انسداد دہشت گردی میں زیادہ موثر اور دیرپا کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے اور وہ طاقت کے بے جا استعمال کے بجائے مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔

امریکہ طاقت کے گھمنڈ میں کمزور قوموں پر حملہ آور ہوتا آیا ہے‘ مگر تاریخی اعتبار سے اس نے پاکستان کے دفاعی اوراقتصادی فروغ کے لیے قابل قدر کام بھی کیے ہیں۔ اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ بعض اوقات جلدبازی میں ایسے اقدام کر بیٹھتا ہے جو اس کی اخلاقی ساکھ پر بڑے بڑے سوالیہ نشانات لگا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ۸۲/ جولائی کو صدربش پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے سرعام یہ کہہ رہے تھے کہ ہم پاکستان کی خودمختاری اور عوام کی آزادی اور سلامتی کا احترام کرتے ہیں تو تقریباً اسی وقت امریکی جاسوس طیارے نے قبائلی علاقے میں میزائل داغ کر چھ شہری ہلاک اور درجن کے قریب زخمی کر ڈالے‘ اور غالباً اسی روز سنٹرل کمان کے ڈپٹی کمانڈر سیاسی قیادت کو بائی پاس کر کے پاکستان کی عسکری قیادت سے مذاکرات کرنے چلے آئے تھے۔ اس نوع کی ناہمواریوں سے پاک امریکی تعلقات میں زیروبم آتے رہے ہیں اور یہ حقیقت حد درجہ ہوشربا اور خوفناک ہے کہ ری پبلکن صدور نے پاکستان میں فوجی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی اور فوجی حکومتوں پر ڈالروں کی بارش کی ہے۔ یہ عجیب اتفاق رہا ہے کہ جب وائٹ ہاؤس میں ری پبلکن صدر سیاہ و سفید کا مالک رہا ہے‘ تو پاکستان کے ایوان صدر میں ایک فوجی آمر اختیارات کا مالک رہا ہے۔ آئزن آور انتظامیہ کے زمانے میں بھی یہی کچھ ہوا پھر نکلسن اور صدر ریگن کے عہد میں بھی یہی منظر دیکھنے میں آیا اور اب غیرآئینی صدر جناب پرویز مشرف قوم کی طرف سے ٹھکرا دیے جانے کے باوجود صدر بش کی حمایت سے منصب صدارت پر فائز ہیں اور جمہوری حکومت کی بنیادیں ہلا دینے اور ایک بحران کے بعد دوسرا بحران پیدا کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ری پبلکن کی اس غیرجمہوری اور غیرعوامی پالیسی اور فوجی طاقت کے بے محابا استعمال کے نتیجے میں پاکستان کے اندر امریکہ مخالف جذبات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف امریکہ عراق اور افغانستان میں شکست پر شکست کھانے کی وجہ سے اپنا تمام غصہ پاکستان پر اُتار رہا ہے اور آنکھیں بھی دکھا رہا ہے۔ ان ناموافق حالات میں وزیراعظم گیلانی واشنگٹن کے دورے پر غالباً اس لیے گئے کہ وہ بش انتظامیہ کے اندر پائی جانے والی غلط فہمیاں بھی دور کریں‘ آنے والے سیاسی قیادت کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال ہو جائے اور کانگریس کو بھی اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ غیرفوجی امداد کے علاوہ پاکستان کی افواج کو انٹیلی جنس اور پہاڑی علاقوں میں کامیاب آپریشن کے لیے جدید ہتھیار کی فراہمی میں تعاون کرے‘ خوش قسمتی سے جناب وزیراعظم ان سٹریٹجک مقاصد کے حصول میں کامیاب رہے ہیں۔

امریکہ کے مقتدر حلقوں میں یہ احساس جڑیں پکڑتا جا رہا ہے کہ صرف طاقت کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو نہیں پایا جا سکتا اور پاکستان کو فوجی امداد سے زیادہ اقتصادی تعاون درکار ہے۔ نامور سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ قبائلی علاقوں کی سماجی اور اقتصادی زندگی میں خوشگوار تبدیلی لائے بغیر وہاں امن قائم نہیں ہو سکتا اور دہشت گردی کے رجحانات ختم نہیں کیے جا سکتے۔ امریکی تھینک ٹینک رینڈ ﴿Rand﴾ کی تازہ ترین رپورٹ میں انہی نکات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس سے عوام کے معاشی اور معاشرتی حالات میں تبدیلی آئے گی اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے‘ تو معتدل طاقتیں زیادہ اتحاد اور قوت کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکیں گی۔ صدارت کے دونوں امیدواروں نے وزیراعظم گیلانی کو یقین دلایا ہے کہ وہ غیرفوجی امداد کی منظوری میں پورا پورا تعاون کریں گے۔ اس دبی ہوئی فضا میں کانگریس کی تعلقات خارجہ کی کمیٹی نے ۵۱/ارب ڈالر کی غیرفوجی امداد کا بل منظور کر کے سینٹ کے حوالے کر دیا جس کی منظوری میں کچھ وقت بھی لگے گا اوربعض شرائط بھی عائد کی جائیں گی‘ مگر یہ امر اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ عوام کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی‘ عدلِ اجتماعی‘ مذاکرات کے کلچر اور عوام کی حاکمیت قائم کیے بغیر دہشت گردی کے سرچشمے بند نہیں کیے جا سکتے۔ امریکی دانش وروں اور منصوبہ سازوں کے اندر یہ خیال بھی تقویت حاصل کر رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ’’جنگ‘‘ کا لفظ تبدیل کر دیا جائے کہ اس سے ظلم و جور کی بو آتی ہے۔

اس وقت ہمیں داخلی استحکام اور قومی یک جہتی کا مسئلہ درپیش ہے اور اسی مسئلے کے بطن سے نیم بغاوت کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ اس کا انسداد خوئے آزادی اپنا کر اور اس میں پختگی پیدا کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی قومی ریاست کی زندگی صرف اکسٹھ سال ہے‘ مگر اس کی نظریاتی جڑیں ہزار سالہ تاریخ کے اندر پیوست ہیں۔ خوئے آزادی کا اولین تقاضا یہ ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق امورِ مملکت چلائے جائیں اور فوج کو سول حکومت کے تحت رکھا جائے۔ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم وہ شخصیت ہیں جسے پورے ایوان کی طرف سے اعتماد کا ووٹ دیا گیا تھا۔ انہیں وہ تمام اختیارات استعمال کرنے چاہئیں جو دستور سے انہیں ملے ہیں۔ جمہوری اور پارلیمانی نظام کی مضبوطی اور استحکام کے لیے انہیںمشیرداخلہ جناب رحمن ملک صاحب کو فارغ کرنا پڑے گا اور ایک بار پراسرار انداز میں ضمنی انتخابات ملتوی کرانے اور ایک بار آئی ایس آئی کو اپنی وزارت کےتحت لانے کے بحران پیدا کر چکے ہیں۔ اسی طرح وفاقی وزیرقانون کی وزارت بھی تبدیل کرنا ہو گی جو معزز جج صاحبان کی بحالی کا سلسلہ اس طرح اُلجھاتے چلے جا رہے ہیں کہ سیاسی اور عدالتی نظام کے اندر بے یقینی در آئی ہے اور حکمران اتحاد کے ٹوٹ جانے کا حقیقی خطرہ پیدا ہوا چاہتا ہے۔ جناب آصف زرداری جو اندیشہ ہائے دوردراز میں گرفتار ہیں‘ انہیں وزیراعظم کو آزادی کے ساتھ ذمے داریاں ادا کرنے کا موقع فراہم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ سیاسی حلقوں میں یہ مجموعی تاثر پایا جاتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی مختلف وزارتوں کی سربراہی کے علاوہ قومی اسمبلی کی سپیکر شپ کا بھی تجربہ رکھتے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ناراضگی مول لے کر اٹک جیل سے اپوزیشن لیڈر کو اسمبلی میں پیش کرنے کے احکام جاری کیے تھے۔ اگر ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کی جائے تو وہ داخلی اور خارجی مسائل سے پارلیمان اور کابینہ کے ذریعے پورے اعتماد کے ساتھ نمٹ سکتے ہیں۔

جناب شوکت عزیز چار سال وزیراعظم رہے اور فوجی حکمرانی کے شکنجے میں کسے رہنے کے باوجود اختیارات استعمال کرتے رہے۔ ان کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مراسم دوستانہ رہے اور وہ پبلک لائف میں فعال دکھائی دیتے تھے۔ قاتلانہ حملے میں بال بال بچنے کے بعد وہ پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر محو سفر رہے اور آخری وقت میں بھی ان کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ ان کے زمانے میں ایک بار بھی ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جو وزیراعظم گیلانی کے دورہ امریکہ میں اور اس سے قبل بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب آصف زرداری کے قریبی دوست ہیں جو ایئر لائن کے انتظامی امور بالکل نہیں سمجھتے۔ وزارت اور ہر محکمے میں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر نااہل افراد تعینات کر دیے گئے ہیں جو ایک دوسرے سے دست وگریبان ہیں۔ خوئے آزادی کا دوسرا اہم تقاضا یہ ہے کہ جو شخص کام جانتا ہے‘ اسی کو ذمے داری سونپی جائے۔ آئین میں ہر اعلیٰ اور دستوری منصب کے فرائض اور اختیارات صراحت سے درج ہیں اور پارلیمانی طرزِحکومت میں وزیراعظم کا مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب یہ سوال جو بار بار اُٹھایا جا رہا ہے کہ ریاست کے جہاز کا کپتان کون ہے اور فیصلے کہاں ہو رہے ہیں‘ اس کا سبب یہی ہے کہ بعض غیرپارلیمانی عناصر اقتدار پر قابض ہو گئے ہیں۔

خوئے آزادی کا تیسرا وصف یہ ہے کہ معاشرے میں اجتماعی عدل اور معاشی انصاف کو غیرمعمولی اہمیت دی جاتی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ ایک ایسا نظام وضع کرتے ہیں جس میں پس ماندہ اور محروم طبقات اور افراد قومی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں اور ان کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر ہم نے ایک آزاد قوم کے طور پر دولت کی منصفانہ تقسیم کا اہتمام کیا ہوتا اور صوبوں اور قبائلی علاقوں کو بنیادی حقوق دیے جاتے اور مالی وسائل فراہم کیے جاتے تو بلوچستان اور فاٹا میں غربت اور افلاس کی یہ حالت نہ ہوتی جس کے بطن سے تشدد اور محاذآرائی کی تحریکیں اُبھر رہی ہیں۔ وہاں کے باشندے علم اور ہنر کے زیور سے آراستہ ہوتے اور وہ قومی دھارے میں کبھی کے شامل ہو گئے ہوتے۔ آزاد قومیں اپنے شہریوں کی کھال اتارنے اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم کرنے کے بجائے ان کی معاشرتی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمہ وقت منصوبے تیار کرتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں معاملہ اس لیے اُلٹ ہے کہ پارلیمان بے دست و پا رہی‘ میڈیا پر پہرے بٹھا دیے گئے جس کے باعث حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کا کڑا احتساب نہ ہو سکا اور اعلیٰ عدالتیں بھی ایگزیکٹو کے زیراثر کام کرتی رہیں۔ اب اگر پارلیمنٹ کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا اور قومی اتفاق رائے سے پالیسیاں وضع کی جائیں‘ کابینہ میں آزاد بحث و تمحیص کے بعد فیصلے کیے جائیں او ر وزیراعظم قوم کی قیادت کریں‘ تو حالات میں ایک ٹھہراؤ اور ارتقائ پیدا ہو گا اور سیاسی نظام پر ایک دنیا اعتماد کرنے لگے گی۔

جناب وزیراعظم کو کامل یکسوئی کے ساتھ غیرفعال ججوں کی بحالی اور صدر مشرف کی رخصتی کے مسائل پر سب سے زیادہ توجہ دینا ہو گی۔ ۸۱/ فروری کا مینڈیٹ ان مسائل کے گہرے سایوں میں غیرموثر دکھائی دیتا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ﴿ن﴾ کی اجتماعی قوت کے ذریعے مایوسی کے بادل بھی چھٹ سکتے تھے اور معاشی حالات کو سنبھالا بھی دیا جا سکتا تھا۔ بعض دوستوں کی نادانی سے قومی وحدت کا شیرازہ بکھر سا گیا ہے اور یوسف بے کارواں کے مناظر روزافزوں ہیں۔ وفاقی وزیرقانون جناب فاروق نائیک نے آئینی پیکج کے پردے میں ایک دام ہم رنگ زمیں بچھا رکھا ہے جس میں آزادی کی روح پھڑپھڑا رہی ہے۔ جناب وزیراعظم کو جرأت کر کے اس بت کو پاش پاش کر دینا چاہیے۔ انہیں نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ بیٹھ کر اس پتھر کو راستے سے ہٹا دینا ہو گا جو حقیقی مفاہمت کے عمل میں حائل ہے اور حکومت کا نظام مفلوج نظر آتا ہے۔ اتحاد کی چاروں جماعتیں مل کر سیاسی معجزے تخلیق کر سکتی ہیں‘ لیکن بعض عاقبت نااندیش افراد نے عوام کی حاکمیت پر شبخون مارا ہے جس کے نتیجے میں بے یقینی اور بے ہمتی کا سفر قوم کو مضحمل کیے دے رہا ہے۔

آئی ایس آئی کے معاملات آج کے حالات میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو حدِاعتدال میں لایا جائے۔ گذشتہ چند برسوں سے پے در پے یہ شکایات آ رہی تھیں کہ وہ غیرقانونی طور پر شہریوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں اور امریکی ایجنسیوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ اس کے بارے میں ایک زمانے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ حکومتوں کے گرانے اور بنانے میں گاہے خفیہ اور گاہے اعلانیہ کردار ادا کرتی آئی ہے۔ اس کا حل رات کی تاریکی میں حملہ آور ہونے کے بجائے اس بات میں پنہاں ہے کہ ایجنسیوں کے کردار اور اختیارات پر پارلیمان میں بحث کی جائے اور اس کی روشنی میں قانون عمل میں آئے۔ ہمارے خیال میں پولیٹیکل مینجمنٹ سیل کے نام سے جو شعبہ وزیراعظم ذوالفقار کے ایگزیکٹو حکم سے قائم گیا تھا‘ وہ فوری طور پر بند کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ سینٹ اور کابینہ میں انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم کی جائیں جو خفیہ ایجنسیوں کے آپریشنز کو مانیٹر بھی کر سکیں اور کارکردگی میں خاطر خواہ اضافے کے لیے راہنما اصول بھی فراہم کریں۔ اسی طرح آئین میں آئین کو توڑنے اور مسخ کرنے کی جو سزا تجویز کی گئی ہے‘ اس کے تحت فوری طور پر واضح قانون سازی کی جائے اور پارلیمنٹ دو بار آئین کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے فوجی آمر کو وہ سزا نافذ بھی کرے۔ آزادی کے تحفظ کا یہ سب سے مؤثر طریقہ ثابت ہو گا۔

ہمارے حکمرانوں اور وزارت خارجہ کے نمائندوں کو اس بنیادی حقیقت کی طرف لوٹ جانا ہو گا کہ پاکستان کا حقیقی دوست عوامی جمہوریہ چین ہے۔ ہمارے ہاں ایک مدت سے یہ روایت چلی آ رہی تھی کہ ہر نیا حکمران سب سے پہلے عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کرتا اور اس کی قیادت سے تمام اہم دوطرفہ‘ علاقائی اور عالمی مسائل پر تفصیلی مذاکرات کیے جاتے تھے۔ ہمارے وزیراعظم کا دورہ چین مئی ۸۰۰۲ئ میں طے پایا تھا ‘ مگر وہ ادھر جانے کی بجائے واشنگٹن چلے گئے اور بیجنگ میں اگست میں اولمپک کھیل ہو رہے ہیں جن میں اسی سے زائد سربراہ حکومت حصہ لے رہے ہیں‘ مگر پاکستان کے وزیراعظم اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس تاریخی موقع پر وزیراعظم پاکستان کی غیرحاضری سے یہ پیغام جائے گا کہ ان دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں کمی آ رہی ہے اور پاکستان امریکہ اور بھارت کی طرف کھچاؤ رکھتا ہے۔ یہ پیغام ایک ایسے وقت پر ہمارے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جب ہماری مغربی اور مشرقی سرحدیں حالت جنگ میں ہیں‘ ہمیں امریکہ سے دوستانہ روابط قائم رکھنے کی آبرو مندانہ کوششیں ضرور کرنی چاہیں‘ مگر آنے والے مستقبل کا پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو چین‘ روس‘ ایران اور سعودی عرب سے قریبی تعلقات کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی اور اس سے ہماری خارجہ پالیسی میں ایک توازن اور ایک اعتماد پیدا ہو گا پاکستانی قوم کو اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے کاہلی‘ منافقت‘جذباتیت اور پدرم سلطان بود کے خوابوں سے باہر آنا اور ایک عزم کے ساتھ دیانت‘ پابندی وقت‘ محنت اور عوام کی خدمت کو اپنی زندگی کا شعار بنانا ہو گا۔ آج آزادی کی سب سے اچھی حفاظت اسی طرح کی جا سکتی ہے کہ جمہوری نظام کو قوت فراہم کی جائے‘ وزیراعظم کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں‘ آزاد عدلیہ اور ججوں کی بحالی کی جو تحریک چل رہی ہے اس میں جوق در جوق حصہ لیا جائے‘ صدر پرویز مشرف کا مؤاخذہ کیا جائے اور قبائلی علاقوں کی تہذیبی روایات اور صوبوں کے حقوق پر تحفظ میں پُرعزم کردار ادا کیا جائے اور سب سے ضروری یہ ہے کہ قوم کو معیاری تعلیم اور معاشرتی انصاف کا ایک پائیدار نظام قائم کرنے کے لیے اجتماعی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے اور دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے وسائل پر انحصار کیا جائے۔ اس وقت جو شخص اور جو طبقہ قومی وسائل ضائع کرتا اور اپنی نمودونمائش پر قومی دولت لٹاتا ہے‘ وہ ہماری آزادی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ