 |
ریٹائرڈ چیف جسٹس میاں اﷲ نواز ۔ اگست ۲۰۰۸
لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس میاں اﷲ نواز نے اپنے اس فاضلانہ مقالے میں اس آئینی پیکج کا دقتِ نطر سے شق وار جائزہ لیا ہے‘ جو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور جس کے ذریعے آئین کی متعدد دفعات میں ترمیم کی جائے گی۔ انہوں نے ملک کی آئین سازی کی تاریخ کا بھی مختصراً جائزہ لیا ہے‘ جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس مشکل راہ میں ہماری قوم کے رہنمائوں نے کہاں کہاں ٹھوکریں کھائیں اور ملک کو سر زمین بے آئین بنانے میں کہاں منفی کردار ادا کیا۔ ﴿ادارہ﴾
۱. جمہوری اور آمرانہ قوتوں کے درمیان خشمناک تصادم کی تاریخ بھی بنی نوع انسان کی تاریخ جتنی ہی قدیم ہے۔ ایک فلسفی نے کہا تھا کہ اپنی کوتاہیوں‘ خامیوں اور کمزوریوں پر اکتفا کرنے کے بجائے وہ خدا کی طرح طاقتور اور قوی بن جانے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ کہاوت بڑے خوبصورت انداز میں انسانی فطرت کی عکاس ہے اور ہمارے ملک کے اندر آئین پسند اور غیر آئینی قوتوں کے درمیان جدوجہد پر بھی اس کا اطلاق بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ میں نسلِ انسانی کا یہ وصف بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور اپنی توجہ آج کے اہم ترین موضوع یعنی ’’آئینی پیکج‘‘ پر مرکوز کرنا چاہتا ہوں‘ جسے پاکستان کے قانون‘ انصاف‘ پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کے وزیر نے پاکستان کی سب سے بڑی قومی جماعت’’پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ کے چیئرپرسن کی رہنمائی میں تیار کیا ہے۔
۲. میں مجوزہ آئینی پیکج کا تنقیدی جائزہ لینے اور چھٹے شیڈول میں کی گئی ترامیم ﴿آرٹیکل ۰۷۲ اے اے اے کے تحت﴾ سمیت اس پیکج میں شامل ۸۷ شقوں کا تجزیہ اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے پہلے مناسب اور قرینِ مصلحت سمجھتا ہوں کہ ان واقعات کو بڑے اختصار کے ساتھ بیان کرتا چلوں جو ملک کو آئین کی پٹری سے اتارنے پر منتج ہوئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ میں وہ انتہائی بدقسمت اور سیاہ ترین دن تھا جب ۸۲/اکتوبر ۴۵۹۱ئ کو اس دور کے گورنر جنرل غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی تحلیل کر دی اور جابرانہ ریاستی اختیارات اور پولیس کے ذریعے آئین ساز اسمبلی کے ارکان کو ایوان کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اسی اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی آئین پاکستان کے مسودے کی منظوری دینے والے تھے۔ اس مسودے پر آئین ساز اسمبلی کے ارکان سیرحاصل بحث کرچکے تھے۔ اسی افسوسناک دن بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی مسودہَ آئین اور ترامیم پر تیسری خواندگی کے دوران ووٹنگ ہونا تھی۔ عوامی خواہشات کی مظہر مذکورہ بالا کوشش ملت اسلامیہ کی تاریخ میں اس قدر حیرت انگیز اور ضوفشاں تھی کہ حریف اور مخالف غیر ملکی میڈیا بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ ٹائمز نے لکھا :
’’دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک پاکستان کی آئین ساز اسمبلی آج کے دن وہ راستہ متشکل کر رہی ہے‘ جسے تغیر پذیر مسلمان دنیا آئندہ چند عشروں کے لیے اپنی سیاسی راہ کے طور پر اپنا لے گی۔ مغرب کے شائستہ اور معتبر پارلیمانی طریق عمل کی فضا میں متعدد مرد اور ۲ خواتین ۷/اکتوبر سے ﴿مسلسل﴾ کام کر رہے ہیں تاکہ وہ جون تک ایک عدد آئین مرتب کر سکیں۔ آئین کا مسودہ ۶۱ حصوں پر مشتمل رپورٹ ہے جس میں ۰۵۳ مجوزہ ترامیم اور شقوں کے لیے استعمال کی جانے والی تراکیب اور اسالیبِ بیان شامل ہیں۔ ان سب پر مباحث کے وقت محسوس ہونے والی تکان کی راہ میں ان لوگوں کا عزم صمیم مزاحم ہو جاتا ہے جو اس تفویض کردہ فرض کی ادائیگی کے لیے ﴿دن رات﴾ کام کر رہے ہیں۔ ۵۵۲ شقوں میں سے ۰۰۱ سے زائد تحریر کی جاچکی ہیں اور قانون ساز پھر بھی تازہ دم لگتے ہیں۔
جس گول ایوان میں بیٹھ کر وہ لوگ یہ کام کر رہے ہیں‘ وہاں دیگر مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والے مشاہدین کے علاوہ غیر ملکی سفارت کار اور نمائندے بھی آتے رہتے ہیں جو ان تبدیلیوں اور پیش رفتوں پر غوروخوض کرتے ہیں۔ قانون سازوں کی بیویاں اپنی مخصوص نشستوں پر بیٹھی بڑے تفاخر کے ساتھ اول الذکر کا مشاہدہ کرتی ہیں۔ پریس سے متعلقہ پاکستانی شہری بھی جوش اور بے چینی کی ملی جلی کیفیات کے زیر اثر مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے ۳۴ اور انگریزی کے ۳ اخبارات کے لیے رپورٹیں مرتب کرتے ہیں۔ حال ہی میں کابینہ کے جو واحد رکن غیر حاضر رہے وہ وزیراعظم محمد علی تھے۔ علالت طبع کے باعث وہ ۲ ہفتوں کی رخصت پر ہیں‘ لیکن ریڈیو اور اپنے ان ساتھیوں اور معاونین کے توسط سے وہ ﴿آئینی مسودے کو ضبط تحریر میں لانے والوں کے لیے﴾ اکثروبیشتر ہدایات بھیجتے رہتے ہیں جو کم و بیش ہر وقت ان کے پاس آتے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ ’’پاکستانی جمہوریت کی تباہی‘‘ (The Destruction of Pakistan Democracy) نام کی کتاب کے مصنف ایلن میک گراتھ نے بھی بانیان پاکستان کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے وقت لفظوں کو چبانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بانیان پاکستان جنہیں یکے بعد دیگرے دشواریوں اور متنوع مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ اس کے باوجود وہ اس قابل
ہوگئے کہ انہوں نے پاکستان کو ایک عدد آئینی ڈھانچہ فراہم کر دیا۔ میک گراتھ لکھتا ہے ’’۴۵۹۱ئ کے آئین کے بڑے اور اہم اجزائے ترکیبی کچھ اس طرح تھے: ﴿۱﴾ قرار داد مقاصد کو اس کی تمہید کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ﴿۲﴾ بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ ‘ (Basic Principles Committee Report) کی صورت میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۵۳۹۱ئ کے تسلسل کو برقرار رکھا گیا۔ ﴿۳﴾ اسلامی دھڑوں کو دی جانے والی مراعات۔ ﴿۴﴾ محمد علی فارمولا۔ اس کے اندر اندر یقینی بنیادی حقوق پر مشتمل ایک نیا باب بھی شامل کیا گیا ۔ یہ دستاویز وضاحت کرتی ہے کہ اسے عوامی نمائندگان پر مشتمل آزاد او ر اقتدار اعلیٰ کی مالک پاکستانی ریاست کی آئین ساز اسمبلی نے تیار کیا۔ یہ ریاست ایک ’’جمہوریہ‘‘ بن جائے گی۔ حتمی اقتدار اعلیٰ اﷲ رب العزت کے پاس ہے۔ اس نے پاکستانی عوام کے توسط سے کچھ اختیارات پاکستانی ریاست کو تفویض کیے ہیں جنہیں پاکستانی ریاست ان حدود اﷲ میں رہتے ہوئے استعمال کرے گی جو اس کی مقدس کتاب میں درج ہیں۔ اس امر کا ادراک مفید رہے گا کہ قرارداد پاکستان کی طرح اس آئین میں بھی اقتدار اعلیٰ کے محلِ وقوع کی نشاندہی غیر حتمی اور غیر پابند ہے۔ زیرِ بحث آئین میں محمد علی جناح کے حوالے سے ایک اضافہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ کہا تھا ’’آئین میں لکھا جائے گا کہ پاکستان سماجی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری ریاست ہوگی۔‘‘
دو ایوانوں پر مشتمل ایک نئی مقننہ‘ جسے پارلیمنٹ کہا جائے گا‘ آئین ساز اسمبلی کی جگہ لے گی‘ لیکن یہ نیا ادارہ برطانوی پارلیمنٹ کے برعکس ریاستی اقتدار اعلیٰ کی طاقت کا حامل نہیں ہو گا۔ امریکہ کی طرح بھی پارلیمنٹ نہیں‘ بلکہ آئین ہی پاکستان کا اعلیٰ وارفع ترین قانون ہوگا اور تمام مقننائیں‘ عدالتیں ‘ حکام اور افراد اس کے پابند رہیں گے۔
قومی یا صوبائی کسی بھی مقننہ کے پاس اختیار نہیں ہو گا کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جو قرآن و سنت نبویö سے متصادم ہو، البتہ چند مخصوس مالی معاملات اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے اور آئین کی ہر خلاف ورزی کو عدالتِ عظمیٰ ﴿وفاقی عدالت کی جانشین﴾ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔ عدالتوں کو ’’عدالتی نظرثانی‘‘ کا اختیار دے دیا گیا‘ یعنی عدالتیں آئین سے متصادم ہر قانون سازی کو غیر موثر اور ناقابل نفاذ قرار دے سکیں گی۔ آئین میں جن بنیادی حقوق کی ضمانت مہیا کی گئی ہو‘ ان سے متعلقہ شقیں‘ وسیع البنیاد اور جامع ہوں گی اور عدالت عظمیٰ حکومت کے خلاف بھی انہیں نافذ کرسکے گی۔
’’محمد علی فارمولا‘‘ کے تحت ’’نمائندگانہ تقرر‘‘ کے مطابق چھ نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کر دی گئیں جبکہ ہندوئوں اور مشرقی بنگال میں بسنے والی دیگر اقلیتوں کے لیے جو حتمی نشستیں پہلے مخصوص ہوا کرتی تھیں‘ انہیں برقرار رکھا گیا۔ سربراہ ریاست کے اس حق سمیت کہ وہ ہنگامی صورت حال کا حکم جاری کر سکتا ہے‘ ایمر جنسی کے نفاذ کے وسیع تر اختیارات حکومت کے پاس ہوں گے۔ اس قسم کے احکامات کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا‘ لیکن ایمرجنسی کے نفاذ سے ۶ ہفتے بعد ان احکامات کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ٹھہرادیا گیا۔ گورنرجنرل کے عہدے پر صدر آگیا جس کا مسلمان ہونا ضروری قرار دیا گیا۔ اسے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب اور ملتوی کرنے کے اختیارات دے دیے گئے اور اگر وہ سمجھے کہ کابینہ کو پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل نہیں رہا تو وہ اسے تحلیل بھی کر سکے گا۔ ایک عدد وزیراعظم کے لیے گنجائش پیدا کی گئی جو کابینہ میں دیگر وزرائ کا تقرر کرے گا اور کابینہ کو اجتماعی طور پر پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل رہے گا۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے وفاقی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے نئے آئین کے ایک شیڈول میں قومی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات اور ان اختیارات کا تعین کیاگیا جنہیں استعمال کرنے کے لیے باہمی اتفاق رائے درکار تھا۔
سیاسی اعتبار سے نئے آئین کا اہم ترین پہلو سابق گورنر جنرل یا نئے صدر کے اختیارات تھے۔ پڑھتے وقت وہ اختیارات جس قدر بھی زیادہ لگیں صدر کو درحقیقت بے اختیار اور برائے نام سربراہ ریاست بنا دیا گیا۔ ان محدود صورت ہائے احوال کے سوا جہاں آئین صدر کو صوابدیدی اختیارات دیتا ہے‘ جس کے پاس ریاست کے انتظامی اختیارات تھے‘ اسے صرف اپنے وزرائ کے مشوروں پر چلنا تھا۔
۳. گورنر جنرل آف پاکستان غلام محمد نے ۸۲ اکتوبر۴۵۹۱ئ کو جس المیے کا اعلان کیا‘ وہ ہمیں ایک قابل احترام امریکی آئین پسند کی یاد دلاتا ہے جس نے کہا تھا:
’’جب کسی آئین کو ایک بار منسوخ کر دیا جاتا ہے تو اس کی جگہ لینے والا دوسرا آئین جس کا مسودہ جتنی کامیابی سے بھی لکھا گیا ہو‘ صحیح معنوں میں قابلِ قبول نہیں ہوتا‘ جو روایت نئے ﴿سیاسی﴾ رہنمائوں کے لیے پرانی دستاویزات کی جگہ‘ نئی اور ان کے نزدیک قابلِ ترجیح دستاویزات کو لانا ممکن بناتی ہے‘ وہ صرف ’’آئنیت‘‘ کا انکار ہی نہیں کرتی ‘ بلکہ انہیں جعلی اور نقلی بھی بنا ڈالتی ہے۔‘‘ قومی سیاست میں ابھی اس بات کا اندازہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آ جانے کے بعد ابتدائی چند سالوں کے دوران جو واقعات رونما ہوئے‘ وہ مذکورہ بالا پیش گوئی کو کسی حد تک متعلقہ ثابت کرتے ہیں۔
متذکرہ بالا اعلان ان ۳ حکمران ٹولوں کا تیار کردہ ایک مہلک ہتھیار تھا‘ جن کے سلسلہ مدارج میں مکار افسرشاہی‘ فوج اور ہمہ وقت تعاون پر آمادہ عدلیہ شامل تھی‘ افسر شاہی کے سربراہ غلام محمدتھے‘ صبح آزادی دیکھنے کے بعد پاکستان کے پہلے سیکرٹری دفاع میجر جنرل سکندر مرزا نے فوج کو منظم کیا۔ اُس وقت عدلیہ مسٹر جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں کام کر رہی تھی۔ معاشرے کے ان تینوں مراعات یافتہ اور انتہائی طاقتور حلقوں کے لیے میں زیرِ نظر مضمون میں ’’کمبائن‘‘ کا لفظ استعمال کروں گا۔ اس ’’کمبائن‘‘ کو مغربی پاکستان کے جاگیردار سیاست دانوں کی حمایت حاصل تھی‘ جن کی شان و شوکت اور قوت کا انحصار اور دارومدار ریاستی طاقت پر تھا۔ یہ تھی وہ فضا اور وہ ماحول ‘ جس کے اندر جسٹس محمد منیر اور ان کے ساتھیوں نے ۴۵۹۱ئ کے اعلان کو ’’عدالتی تقدس‘‘ بخش دیا. ﴿جسٹس کارنیلس واحد استثنیٰ تھے﴾ اور مقدمہ بعنوان ’’تمیز الدین خان بنام وفاق پاکستان اور ۱۱ دیگر مدعا علیہان‘‘ میں سندھ ہائی کورٹ کے فل بنچ کے شاندار اور درخشاں فیصلے کو رد کر دیا ﴿پی ایل ڈی ۵۵۹۱ئ سندھ ۶۹﴾ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ اس تکنیکی اعتراض پر رد کیا گیا کہ مجلس قانون ساز کے منظور کردہ جس قانون کے تحت رٹ کی سماعت کا اختیار عدالتوں کو دیا گیا‘ اسے گورنر جنرل آف پاکستان کی منظوری حاصل نہیں تھی اور پاکستان کی آئین ساز اسمبلی بنفسہٰ ایک ڈومینین اسمبلی تھی اور جب تک گورنر جنرل منظوری نہ دے‘ اس کا منظور کردہ کوئی بھی قانون موَثر نہیں ہو سکتا تھا۔ نتیجتاً نہ صرف ملک کو ایک عدد مستقل آئین دینے کی کاوشیں رائیگاں گئیں‘ بلکہ ایک روایت متشکل ہوگئی کہ ’’کمبائن‘‘ بآسانی اور بغیر کسی خوف سزا کے عوام کی کسی بھی مقبول خواہش کا گلا دبا کر بے لگام اور بے بہا طاقت کے ذریعے ملک پر حکومت کر سکتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ۴۵۹۱ئ کا اعلان پاکستانی عوام کی ’’دانشورانہ غلامی‘‘ کا میثاق تھا۔ اس ’’کمبائن‘‘ نے ۶۵۹۱ئ کے آئین کی دھجیاں اُڑا دیں مارشل لائ لگا دیا گیا اور ایک جعلی ریفرنڈم کے ذریعے پاکستانی عوام کی مرضی و منشائ کے خلاف ۲۶۹۱ئ کا آئین بے باکی سے نافذ کر دیا گیا۔ مختصراً یہ کہ مندرجہ بالا واقعات ان خوابوں کے انہدام کا باعث بن گئے‘ جو ہندوستان کے مسلمانوں نے دیکھے تھے۔ ’’کمبائن‘‘ نے اختیارات کو غصب کرنے کے لیے جو حکمت عملی وضع کی‘ اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کے عوام نے دونوں صوبوں کے باسیوں کی مرضی و منشائ کی برتری دیکھنے کے لیے بے خوف ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھی‘ لیکن وہ جدوجہد ثمر بار نہ ہو سکی اور بالآخر ۴۵۹۱ئ کا اعلان فاتح ٹھہرا اور دنیا کی عظیم ترین مسلمان ریاست کی ’’زندہ جسم تراشی‘‘ کرتے ہوئے اسے ۲ آزد ملکوں ‘ یعنی بنگلا دیش اور پاکستان میں بدل دیا گیا۔ یہ تھے بے لگام طاقت کی اس ہوس کے ثمرات جو مذکورہ بالا غیر مقدس اتحاد کے اندر موجود تھے۔ جن حکمرانوں کا بالائی سطور میں ذکر کیا گیا ہے‘ ان میں سے کسی ایک نے بھی تاریخ کے ان واقعات و حوادث سے ذرہ برابر سبق نہ سیکھا۔ ۲۶۹۱ئ کا آئین جو افسرشاہی‘ کو تاہ اندیش رہنمائوں ‘ فوج اور جاگیردارانہ اشرافیہ کی ذہنی اختراع تھا‘ وہ بھی کسی اور کے نہیں‘ اس کے مقرر کردہ جنرل محمدیحییٰ خان کے ہاتھوں قتل ہوا۔
جنرل یحییٰ خان نے ’’لیگل فریم ورک آرڈر‘‘ ﴿ایل ایف او﴾ کو نافذ کرنے کے بعد اعلیٰ ترین عدلیہ کے ججوں کو مجبور کیا کہ وہ ’’عبوری آئینی حکم‘‘ ﴿پی سی او﴾ کے تحت حلف اٹھائیں اور ستم ظریفی ملا حظہ ہو کہ ازیمنڈیس کی طرح اس طاقت ور ترین شخص کو بھی اُسی مقدر کا سامنا کرنا پڑا اور اسی روز ۱۷۹۱ئ کے آخری ماہ کی ۶۱ تاریخ تھی‘ جب پاکستان کو مشرقی پاکستان میں بدترین شکست اٹھانا پڑی اور پاکستانی فوجیوں کی بڑی تعداد کو قیدی بنا لیا گیا۔ گہرے اندھیروں کے شکار اس ماحول میں ۰۲ دسمبر کو ’’کمبائن‘‘ کے پاس اور کوئی متبادل باقی نہ رہا اور اسے بچے کھچے پاکستان کے عوامی رہنما کو دعوت دینا پڑی کہ وہ آئیں اور چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر اور صدر کا عہدہ سنبھال کر ﴿قیادت کے﴾ خلائ کو پُر کریں۔ یہ اس طاقتور اور قومی ’’کمبائن‘‘ کی مصلحت آمیز پسپائی تھی جسے فوج ‘ بیورو کریسی اور مغربی پاکستان کی بے کیف سیاسی قیادت کو توہین آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ جب باقی ماندہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان اُمرائ شاہی پر مشتمل مذکورہ بالا ’’کمبائن‘‘ کی زیر قیادت اس بچے کھچے پاکستان کے مستقبل کے لیے آئین پر بحث مباحثے کے لیے اکٹھے ہوئے‘ تو معاشرے کے مذکورہ حلقوں کی پیدا کردہ رکاوٹوں کے باوجود ۲۱/اپریل ۳۷۹۱ئ کے روز ذولفقار علی بھٹو کی متحرک قیادت میں پاکستان کا آئین منظور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
۵. لہٰذا امرائ شاہی کی حکمرانی کی موت کے ساتھ ہی ایک انتہائی کرشماتی قیادت تلے آئینی سفر کا آغاز ہو گیا‘ مگر غیر جمہوری قوتوں نے نئے دور کی صبح کو قبول نہ کیا۔ وہ ۷۷۹۱ئ کے ساتویں مہینے کا ۵ واں دن تھا‘ جب بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیائ الحق نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک میں مارشل لائ کے نفاذ کا اعلان کر دیا‘ آئین معطل کر دیا گیا‘وزیراعظم تمام وفاقی وزرائ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز‘ سینٹ کے چئیر مین ‘ صوبائی گورنر‘ صوبائی وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائ کو معزول کر دیا گیا۔ ان اعلانات کے بعد ’’قانونی حکم ۹۷۹۱ئ ‘‘ کا اجرائ عمل میں آیا‘ لہٰذا تقریباً ۶ سال بعد ۴۵۹۱ئ کے اعلان کا بھوت ایک مرتبہ پھر منظرعام پر آگیا اور اُمرائ شاہی کی انہی پرانی قوتوں نے پاکستان کے اندر سیاسی اختیارات کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ چیف آف آرمی سٹاف کے مذکورہ بالا اقدامات کو مرحوم وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی اہلیہ مسماۃ نصرت بھٹو نے پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اس بنا پر چیلنج کر دیا کہ وہ آئین سے متصادم تھے‘ لیکن ۴۵۹۱ئ میں عدالتِ عظمیٰ نے صدارتی ریفرنس میں ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت جو فیصلہ دیا تھا اسے کسوٹی بنا لیا گیا اور مذکورہ چیلنج کامیاب نہ ہو سکا‘ لہٰذا عدالت عظمیٰ نے اسی اصول کی بنیاد پر ﴿سی ایم ایل اے کے﴾ اقدامات سے درگزر کیا۔ جو احکامات جاری ہو چکے تھے‘ انہیں بحال اور چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر سمیت تمام حکومتی عمال کے اقدامات پر اعلیٰ عدلیہ کی نظر ثانی کا اختیار برقرار کھا۔
یہاں یہ بتا دینا بے محل نہ ہوگا کہ نصرت بھٹو کیس تمیز الدین اور ریفرنس کیس جیسے آئینی مقدمات سے آگے نکل گیا اور چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر کو آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا گیا۔ پاکستان کے اندر آئین کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ اس امر کی نشان دہی غیر ضروری ہوگی کہ آئین کسی بھی ملک یا قوم کے بدن کا استخوانی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ یہ عوامی خواہشات ﴿ترجیحات﴾ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وہ مستقل قانون ہے‘ جسے بنیاد مان کر وفاق اور صوبے قانون سازی کرتے اور اپنی حاکمیت کو قواعد و ضوابط اور اصولوں کے تحت استعمال میں لاتے ہیں۔ ۳۷۹۱ئ کے آئین نے جامع انداز میںاختیارات کو طاقت کی ساخت فراہم کی ۔ وفاق اور صوبوں کی حاکمیت کی حدود و قیود کے تعین کے علاوہ ایک مضبوط‘ طاقتور اور آزاد عدلیہ بھی مہیا کی۔ وفاقی اکائیوں کے مذکورہ بالا نظام کو اتھل پتھل کر دیا گیا اور آئین کو چیف آف آرمی سٹاف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا کہ جو اس کا جی چاہے‘ کرے۔ اس طرح عدالت عظمیٰ نے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن روایت قائم کر دی حالانکہ آئین میں ترمیم کا اختیار خود سپریم کورٹ کے پاس بھی نہیں تھا۔
خود نصرت بھٹو کیس کے خدوخال میں سے بہترین یہ تھا کہ فاضل بینچ نے نظر ثانی کا اختیار عدلیہ کے پاس برقرار رکھنے کی کوشش کی ‘ حتیٰ کہ عدالت کے پاس موجود اس منحنی سے اختیار کو بھی ان اختیارات کو ادارتی شکل دینے کے لیے استعمال کیا گیا‘ جو انہوں نے غصب کر رکھے تھے۔ ’’چوروں کی حکومت‘ چوروں کے ذریعے اور چوروں کے لیے‘ یہ تھی ان کے اختیارات کی کسوٹی۔ عدلیہ کو ’’عدیم الوجود کر دینے کی حد تک بے اثر کرنے کے لیے چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر نے ۴۲ مارچ ۱۸۹۱ئ کو ایک ’’عبوری آئینی حکم‘‘ (Provisional Constitutional Order.) PCO جاری کر دیا‘ جس کے ذریعے ججوں پر لازم ٹھہرایا گیا کہ وہ نئے قانونی نظام کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھائیں یا پھر عہدہ چھوڑ دیں۔ ۰۳ دسمبر ۵۸۹۱ئ تک اس ملک پر مذکورہ بالا قانونی ڈھانچے کے تحت حکومت کی جاتی رہی۔ یہی وہ سال تھا جب مارشل لائ اٹھا لیا گیا۔
۶. نتیجتاً ’’۳۷۹۱ئ کے آئین کی تجدید کے حکم مجریہ ۵۸۹۱ئ‘‘ ﴿۵۸۹۱ئ کے صدارتی حکم﴾ کے تحت آئین میں دفعہ ۰۷۲ متعارف کرائی گئی۔ اس میں ’’دوسرے ترمیمی حکم مجریہ ۵۸۹۱ئ کے تحت ترمیم کی گئی اور پھر ﴿بدنام زمانہ﴾ ۸ویں ترمیم کو آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کی گئی۔ پھر یہ ممکن ہوا۔ ۸ویں ترمیم کو ۵ جولائی ۷۷۹۱ئ سے نافذ العمل خیال کیا گیا۔ اس بدنام زمانہ ترمیم کے تحت ۵/جولائی ۷۷۹۱ئ اور ۵جولائی ۵۸۹۱ئ کے درمیانی عرصے میں جتنی قانون سازی کی گئی۔ اسے ۰۷۲ اے کے آرٹیکل نمبر ۱ کے تحت آئینی تحفظ فراہم کر دیا گیا۔ اس خوف کے پیش نظر کہ مارشل لائ کے ذریعے اسمبلی تحلیل نہ کر دی جائے‘ قومی اسمبلی نے صدر کا یہ صوابدیدی اختیار منظور کر لیا کہ وہ جب چاہیں اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔ آرٹیکل ۸۵﴿۲﴾بی کے علاوہ صدر کو صوابدیدی اختیار دے دیا گیا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر ﴿آرٹیکل ۵۱۲﴾ چیئرمین پبلک سروس کمشن ﴿آرٹیکل ۸۴۲﴿۱﴾﴿اے﴾‘ چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ﴿آرٹیکل ۳۴۲﴿۲۔ای﴾ اور وزیراعظم کے ساتھ مشورے کے بعد صوبائی گورنر کا تقرر کر سکتے ہیں۔ مزید برآں صدر کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ کسی بھی اہم قومی مسئلے پر آرٹیکل ۸۴﴿۶﴾ کے تحت ریفرنڈم کا اہتمام کر سکیں گے۔ آرٹیکل ۶۴ کے تحت وزیراعظم کو پابند کر دیا گیا کہ وہ کابینہ کے تمام فیصلوں ‘ تجاویز‘ قانون سازی اور کابینہ کی تمام تر کارروائی سے صدر کو مطلع رکھیں گے۔
۷. یہ واقعات کا کتنا عجب اتفاق ہے ‘ مرحوم جنرل ضیاالحق نے ’نامبارک‘ ۸ویں ترمیم کی بدولت جملہ اختیارات صدر کی ذات میں سمو دیے اور آمرانہ اور مطلق العنان طاقتوں کی میکانیات کا شکار ہوگئے۔ اپنے
وستوں اور فوجی ساتھیوں کے بہکانے اور اکسانے پر وہ تقریباً مجبور ہوگئے اور محمد خان جونیجو کی سربراہی میں کام کرنے والے باقی ماندہ پارلیمانی اداروں پر دوسری مرتبہ ہلہ بول دیا اور ۹۲ مئی ۸۸۹۱ئ کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ بعد ازاں ابھی وہ انتخابات کے انعقاد کا اہتمام نہیں کر پائے تھے کہ ۷۱ اگست ۸۸۹۱ئ کو مذکورہ بالا ’’کمبائن‘‘ کی سازش کے نتیجے میں اپنے ساتھی جرنیلوں اور دیگر فوجی و سول افسران کے ہمراہ طیارے کے ایک حادثے میں لقمہ اجل بن گئے۔ اس دوران ۹۲ مئی ۵۸۹۱ئ کے اعلان کو لاہور کی عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جا چکا تھا۔ بعدازاں اسی سلسلے میں ایک کیس عدالتِ عظمیٰ میں بھی دائر کر دیا گیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ صدر پاکستان نے دفعہ ۸۵﴿۲بی﴾ کے تحت حاصل شدہ اپنے اختیارات سے تجاو ز کیا تھا، لہٰذا عدالت صدارتی اقدام کو غیرقانونی اور اختیارات سے تجاویز قرار دے۔ دونوں عدالتوں نے ایک مرتبہ پھر ’’نظریہ ضرورت‘‘ سے مدد لی ﴿پی ایل ڈی ۹۸۹۱ئ ایس سی ۶۶۱﴾ اور غصب کردہ اختیارات کے تحت کئے گئے اقدامات کو تحفظ فراہم کر دیا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ امکانی طور پر اسی قابل نفرین ’’کمبائن‘‘ کے دبائو تلے آکر عدالتوں نے اس موقع پر بھی تحلیل شدہ پارلیمنٹ اور غیر قانونی طور پر معزول کئے جانے والے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی بحالی کی صورت میں ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔
۸.بالائی سطور میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے‘ اس کے نتائج کے طور پر انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا اور شہیدبینظیربھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بن گئیں۔ تاہم ۸ویں ترمیم کا آسیب سیاسی اور منتخب انتظامیہ پر سایہ فگن رہا۔ ۶ اگست ۰۹۹۱ئ کو بیورو کریٹ سیاستدان صدر غلام اسحاق خان نے ۸ویں ترمیم کے تحت حاصل کردہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے محترمہ کی سربراہی میں کام کرنے والے پارلیمانی ادارے منہدم کر دیے۔ اس مرتبہ مذکورہ اقدام کو خواجہ طارق رحیم نے لاہور کی عدالت عالیہ اور پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا‘ لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ یہی داستان چلتی رہی اور ۸ویں ترمیم سمیت آئین کی مختلف دفعات اور شقوں کے تحت انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا۔ میاں محمد نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی‘ لیکن نئی منتخب شدہ پارلیمنٹ بھی زیادہ وقت نہ گزار سکی۔ ۸۲/اپریل ۳۹۹۱ئ کو اسی صدر نے اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کر دی‘ لیکن عدالت عظمیٰ میں اس مرتبہ منظر بدل گیا۔ معزول وزیراعظم نے صدر کے اقدام کو آئین کی دفعہ ۴۸۱﴿۲﴾ کے تحت عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا۔ مدعی کامیاب رہا اور ججوں کی اکثریت نے گزشتہ فیصلے سے برعکس فیصلہ دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کی دفعہ ۸۵﴿۲بی﴾ کا غلط استعمال کیا گیا‘ صدر کے پاس ایسا مواد موجود نہیں تھا‘ جس کی بنا پر اس نوعیت کا انتہائی قدم اٹھایا جاتا۔ عدالت نے صدر کے اس اقدام کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ ۶۲ مئی ۳۹۹۱ئ کو سنایا گیا۔ ﴿پی ایل ڈی ۳۹۹۱ئ ایس سی ۳۷۴﴾۔
۹. مذکورہ بالا الائنس نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے اس فیصلے کو قبول نہ کیا اور اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ اس طرح غلام اسحاق خان اور محمد نواز شریف ‘ یعنی صدر اور وزیراعظم دونوں کو گھر جانا پڑا ‘ وہ دونوں اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہو گئے۔ نتیجتاً آئین کی دفعہ ۸۵﴿۲﴾بی کے تحت پھر انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا۔ انتخابی نتائج نے شہید محترمہ کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر بٹھا دیا اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے فاروق احمد لغاری کو صدر چن لیا‘ لیکن وفادار فاروق لغاری بھی اپنے پیش روئوں سے مختلف ثابت نہ ہوئے‘ نہ ہی انہوں نے آخر الذکر سے بہتر طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بھی قومی اسمبلی کو تحلیل اور محترمہ کی پارلیمانی انتظامیہ کو معزول کر دیا۔ محترمہ نے بھی صدارتی اقدام کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا۔ اس مقدمے کی تفصیلات اور فیصلے کی رپورٹ پی ایل ڈی ۸۹۹۱ئ ایس سی ۸۸۳ میں موجود ہے۔ زمینی حقائق کی ان تبدیلیوں کے دوران میاں نواز شریف دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ہمراہ قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ انہوں نے دو تہائی اکثریت سے استفادہ کرتے ہوئے ۳۱ویں ترمیم منظور کرالی‘ جو ۸ویں ترمیم کی قاتل بن گئی۔ پارلیمنٹ نے ۰۱ منٹ کے اندر اندر ۳۱ویں ترمیم منظور کر لی۔ لیکن پارلیمنٹ کی یہ آئینی فتح بھی رائیگاں گئی۔ ۲۱/اکتوبر ۹۹۹۱ئ کو جنرل پرویز مشرف‘ جن کا بطور چیف آف آرمی سٹاف تقرر دو سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا گیا تھا‘ نے پارلیمانی ادارے تحلیل اور منتخب وزیراعظم کو معزول کر دیا۔ ۲۱/اکتوبر ہی کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی پارلیمانی ادارے بھی منہدم ہوگئے اور جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ظفر علی شاہ نے اس اقدام کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کر دیا۔ ظفر علی شاہ اور بعض دیگر افراد نے آئین کی دفعہ ۴۸۱ کے تحت سپریم کورٹ میں درخواستیں پیش کردیں‘ لیکن بدنصیباں اکیلی نہیں بلکہ بٹالین کی شکل میں آتی ہیں۔ آئین کی دفعہ ۴۸۱ کے تحت دی گئی آئینی درخواستوں کو عدالتِ عظمیٰ نے ایک بار پھر ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت مسترد کر دیا۔ اس طرح ۷۷۹۱ئ میں عدالتِ عظمیٰ نے جو فیصلہ دیا تھا‘ اس کے بھوت نے ملک کے اندر ’’قانون کی حاکمیت‘‘ کی شکل اختیار کر لی۔
۱۱. بد قسمتی سے اس ملک کے مصائب اور زبوں حالی کی تاریخ ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی تھی۔ چیف ایگزیکٹو بھی اپنے پیش روئوں کے تقش قدم پر چلے۔ ایک انچ بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے انہوں نے ۳۹۹۱ئ کے آئین کی تحریف کا آغاز کر دیا ۸ویں ترمیم اور عبوری آئینی احکام کے جملہ خدوخال کی تجدید کر ڈالی۔ججوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ تازہ ترین پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں ۔ مطلق العنان گورنس کا یہ کھیل ۹ مارچ ۷۰۰۲ئ تک بے جوش و خاموش ہموار اور بغیر کسی مزاحمت کے چلتا رہا۔ ۹ مارچ ۷۰۰۲ئ کو چیف جسٹس آف پاکستان کو آرمی ہائوس بلا کر ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا لیکن تاریخ میں یہ حقیقت سنہری حروف میں لکھی جانی چاہیے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بندوق کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ۔ یہ انکار ’’حتمی طاقت‘‘ کو حد درجہ مشتعل کر گیا اور سربراہ مملکت نے آئین کی دفعہ ۹۰۲﴿۵﴾ کے تحت سپریم جوڈیشنل کونسل میں چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ایک عدد ریفرنس دائر کر دیا۔
۲۱. بعد ازاں صدارتی حکم نمبر ۷۲﴿۰۷۹۱﴾ کی روشنی میں صدر نے ۵۱ مارچ ۷۰۰۲ئ کو ایک حکم جاری کیا‘ جس کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔ اسی روز سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک حکم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کو سپریم کورٹ کے جج اور چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا‘ اسی روز نئے چیف جسٹس کا تقرر عمل میں آیا۔ اس چیلنج کو دلیری سے قبول کرتے ہوئے چیف جسٹس نے آئینی پٹیشن دائر کر دی ﴿آئینی پٹیشن نمبر ۱۲ آف ۷۰۰۲ئ﴾۔ مسٹر جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں ۳۱ ججوں نے ۵۱ مئی سے ۰۲ جولائی تک اس درخواست کی سماعت کی اور ۳ کے مقابلے میں ۰۱ ججوں نے ایک مختصر سا حکم لکھا۔ ﴿۰۲ جولائی ۶۰۰۲ئ﴾ اس حکم کا فعال حصہ درج ذیل ہے:
۳ کے مقابلے میں ۰۱ کی اکثریت سے ﴿ فقیر محمد کھوکھر‘ ایم جاوید بٹر اور سید سعید اشہد۔ ان ججوں نے جاری کردہ حکم سے اختلاف کیا﴾ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دائر کردہ آئینی پٹیشن نمبر ۱۲ آف ۷۰۰۲ئ کو منظور کیا اور اس منظوری کے نتیجے کے طور پر مذکورہ بالا ریفرنس جو صدر نے ۹ مارچ ۷۰۰۲ئ کو دائر کیا اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس حکم کے مزید نتیجے کے مطابق کہا گیا کہ درخواست گزار چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کے عہدے پر فائز سمجھا جائے اور وہ اس عہدے پر فائز رہیں گے۔
اس سے متعلقہ دیگر آئینی درخواستیں معمولی اور قانون کے مطابق مناسب اور موزوں بنچوں کو ارسال کر دی جائیں گی۔ ﴿پی ایل ڈی ۷۰۰۲ئ ایس سی ۸۷۵﴾
۳۱. فعال ریاستی حرکیات کی بدترین ستم ظریفی یہ ہے کہ ان ججوں کو ریاست کے جابرانہ مراکز نے اتنی مہلت بھی نہیں دی کہ وہ اپنے اس مختصر سے حکم کے حق میں دلائل اور وجوہ ہی ریکارڈ کراسکیں اور یوں مذکورہ بالا قابل نظرین الائنس کی بے رحم طاقت نے انہیں عدالت عظمیٰ سے باہر دھکیل دیا۔ پہلے کی طرح ان قوتوں نے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے محولہ بالا حکم کو بھی قبول نہ کیا اور بحال شدہ چیف جسٹس بدستور آمرانہ قوتوں کے معتوب رہے۔ اپنی ہٹ دھرمی کی متشدد جبلت کے باعث وہ الائنس خوشبو کی اس لہر کو سونگھ تک نہ سکا۔ جو خوشبودار ہوا صرف ۵۰۱ دن چل سکی۔ وہی موذی و مفسد کمبائن جو ارتقا کے عمل کو روکنے کا تہیہ کیے بیٹھا تھا‘ اس نے ۳ نومبر ۷۰۰۲ئ کے نوٹیفکیشن کی صورت میں پوری قوت سے ایک اور ضرب لگائی ۔ ۴۵۹۱ئ کے اعلان کے ساتھ اس سارے عمل کی مماثلت کتنی حیران کن ہے؟ ۴۵۹۱ئ کے مناظر کا بڑی صحت سے اعادہ ہوا۔ انتظامیہ اور جابرانہ نظم و ضبط کے جملہ ارکان نے خالص غلامانہ انداز میں آمریت اور لاقانونیت کی حکمرانی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ خوش قسمتی سے سول معاشرے کا ضمیر اور اس کی بیداری ۷۰۰۲ئ میں ۴۵۹۱ئ سے یکسر مختلف تھی۔ عدلیہ کے دلیرانہ فیصلے اور وکلائ اور غریب ترین لوگوں کی قوت مزحمت دیدنی تھی۔ انہیں دیکھ کر سول معاشرہ بھی اس نحیف و نزار ادارے کی مدد کو پہنچ گیا۔ وہ قانون کی حکمرانی کے عقب میں بے مثل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔ ان مزاحم عناصر کا تعلق چاروں صوبوں سے تھا اور انہوں نے ایک آزاد عدلیہ کی ’’کاز‘‘ کی بیانگ دہل حمایت کی۔ ان غریب وکلائ نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بڑی بڑی ریلیاں منظم کیں اور انہیں صرف سول سوسائٹی کے ارکان نے ہی نہیں‘ میڈیا نے بھی خوش آمدید کہا۔ ایک دلیر اور آزاد عدلیہ کے لیے یہ ایک نیا آمیزہ یا مرکب تھا۔ اگر وکلائ برادری اور سول معاشرہ اسی طرح ۴۵۹۱ئ کے المیے کی راہ میں مزاحمت کرتا تو ہمارا انتہائی پیارا وطن دو لخت نہ ہوتا۔
|
|
|