سحر پیدا ہونے کے آثار
پاکستان نے ہمیں ایک وجود اور تشخص عطا کیا ہے
غلامی کی شبِ ظلمات سے نکال کر اُمید کے اُفق کشادہ کیے ہیں ۔ اگست ۲۰۰۹ء

چودہ /اگست ۱۹۴۷ئ اور ۱۴/اگست ۲۰۰۹ئ میں باسٹھ برسوں کا فاصلہ ہے‘ لیکن کچھ مناظر ایسے ہیں جن سے ہمیں وحشت بھی ہو رہی ہے اور انہی سے زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی مل رہا ہے۔ ۱۴/اگست ۴۷ئ کی رات پاکستان قائم ہوا‘ تو پورے شمالی ہند میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک چکی تھی اور مسلمانوں کا قتل عام ہونے لگا تھا‘ عورتوں کی عصمتیں لوٹی جا رہی تھیں اور خوںآشام بھیڑیے بچوں کو نیزوں میں پرو کر محوِ رقص تھے۔ ایک قیامت برپا تھی اور تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت معرض وجود میں آ رہی تھی۔ نوے لاکھ سے زائد مسلمان آگ اور خون کا دریا عبور کر کے اس پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور تھے جس کا کوئی انتظامی ڈھانچہ تھا نہ کروڑوں انسانوں کا بار اُٹھانے کے لیے وسائل ۔ بھارتی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والی رقوم روک لی تھیں اور اس کی فوج کا بڑا حصہ برما‘ ملایا اور سنگاپور کے محاذوں پر بکھرا ہوا تھا۔ اس وقت کی دلخراش یادوں سے آج اس لیے ٹیسیں اُٹھ رہی ہیں کہ ۱۴/اگست ۱۹۴۷ئ کی ہجرت بھارت سے پاکستان کی طرف ہوئی تھی اور آج یہ ہجرت وطن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقوں کی طرف جاری ہے اور نیم بغاوت کی کیفیت ریاست کے بعض علاقوں کے اندر پائی جاتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے فوج استعمال کی جا رہی ہے۔ ہم نے باسٹھ سال پہلے جو ایک محفوظ وطن حاصل کیا تھا‘ وہ اپنے ہی لوگوں کے لیے وقتی طور پر غیرمحفوظ ہو گیا ہے۔ آج یہ دردناک منظر ہماری روح کی گہرائیوں میں اُترنے لگا ہے اور ہمارے قومی شعور سے ایک بنیادی سوال پوچھ رہا ہے کہ یہ خطۂ ارضی جن اعلیٰ مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا‘ وہ کیا ہوئے اور ان سے بے وفائی کرنے والے کب احتساب کی گرفت میں آئیں گے۔

ہم باسٹھ برسوں کے دوران جس ’’ترقیٔ معکوس‘‘ کی طرف چل نکلے ہیں‘ وہ ایک بے لاگ تجزیے کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں پوری دیانت داری اور عرق ریزی سے اس امر کا کھوج لگانا چاہیے کہ آیا ہماری تعمیر ہی میں کوئی خرابی کی صورت مضمر تھی یا بدنصیبی سے ہمیں ایسے ناخدا میسر آتے رہے جن کی نیت میںکوئی فتور تھا یا ہم نے آغاز ہی غیرمعمولی حالات میں کیا تھا جن کے اثرات ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کرتے گئے تھے۔ نئی نسل ہم سے پوچھتی ہے کہ بھارت بھی ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا‘ وہاں ایک نظام بھی چل رہا ہے‘ ادارے بھی قدرے بہتر انداز میں کام کر رہے ہیں‘ اس کی سیاست اور معیشت میں ایک استحکام نظر آتا ہے اور اب امریکہ اسے عالمی طاقت کا مقام دلانے میں پوری طرح سرگرم ہے۔ وہاں کی فوج کو مارشل لا لگانے کا ایک بار بھی حوصلہ نہیں ہوا اور آج اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہمارے نوجوان پوچھتے ہیں کہ ملائیشیا اور چین ہمارے بعد آزاد ہوئے‘ جو ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں‘ جبکہ پاکستان ان کے سامنے ایک پس ماندہ‘ ایک دہشت زدہ اور ایک غیرمحفوظ ملک دکھائی دیتا ہے‘ آخر ایسا کیوں ہے؟ آج کی اُبھرتی ہوئی گھمبیر صورت حال میں ان بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرنا اس لیے بہت ضروری ہو گیا ہے کہ شہریوں کے اندر اپنے وطن کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی پیدا ہو چکی ہے۔ ٭٭

چودہ /اگست ۱۹۴۷ئ اور ۱۴/اگست ۲۰۰۹ئ کے بعض مناظر میں تکلیف دہ مماثلت اور کچھ امور میں روح فرسا زوال کے باوجود یہ ایمان افروز حقیقت قدم قدم پر حوصلہ دیتی ہے کہ ہماری قوم کے اندر آزمائشوں سے نبردآزما ہونے کی غیرمعمولی صلاحیت اور ہمت ہے۔ پاکستان جن حالات میں بنا اور اس پر آغاز ہی میں آلام و مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹے‘ ان میں اس کا قائم رہنا ایک معجزے سے کسی طرح کم نہیں۔ قائداعظم(رح) جن کی بے مثال قیادت اور عظمتِ کردار سے برصغیر کے مسلمان دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے‘ وہ صرف تیرہ ماہ زندہ رہے اور قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان اکتوبر ۱۵/میں شہید کر دیے گئے۔ ان عظیم ہستیوں کے اُٹھ جانے سے قومی قیادت کا بہت بڑا خلا پیدا ہوا‘ مگر قوم کا عزم و ایثار‘ اس کی استعدادکار اور بلند مقاصد کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی طوفانوں کے رُخ موڑتے رہے‘ مگر کانگرسی قیادت ہندوستان کے بٹوارے اور قیام پاکستان کے سخت خلاف تھی اور حالات کے تیز بہاؤ سے مجبور ہو کر اس ’’یقین‘‘ کے ساتھ تقسیم ہند کا فیصلہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان چند ماہ کے اندر اندر ﴿خاکم بدہن﴾ بلبلے کی طرح بیٹھ جائے گا اور دوبارہ بھارت میں شامل ہو جانے پر مجبور ہو گا‘ لیکن طرح طرح کی ریشہ دوانیوں‘ سیاسی طوفانوں اور معاشی بحرانوں کے باوجود وہ بفضل خدا قائم دائم بھی رہا اور ترقی کی راہ پر اس کے قدم آگے کی طرف بڑھتے بھی گئے اور صرف چند برسوں ہی میں پاکستان کی اقتصادی حالت اس قدر مستحکم ہو گئی کہ بھارت کی کرنسی قدروقیمت میں بہت پیچھے رہ گئی اور اس نے پاکستان کو الٹی میٹم دیا کہ اگر اس نے اپنے روپے کی قدر کم نہ کی‘ تو اس کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے گا‘ لیکن حکومت پاکستان نے اس کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ہم نے ۱۴/اگست ۴۷ئ سے جس قومی سفر کا آغاز کیا اور باسٹھ برس کے دوران اپنی شاہراہ پر جو سنگ میل تعمیر کیے‘ وہ اس عظیم حقیقت کی شہادت دیتے ہیں کہ ایک سنجیدہ کوشش کے ذریعے آج کے بپھرے ہوئے حالات پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے اور مستقبل کے زلف و رخسار تابدار بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ ہم جب کچھ بھی نہیں تھے تو خدا ہمارے ساتھ تھا اور اس نے ہمیں کڑی آزمائشوں سے گزرنے کا عزم اور حوصلہ عطا کیا‘ نازک مرحلوں میں اپنی طرف سے وافر وسائل فراہم کیے اور نعمتوں کی بارش جاری رکھی۔ یہ اسی کی کرم فرمائی تھی کہ بھارت کی ہر یلغار کے بعد پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہوتا گیا۔ اس نے مئی ۱۹۹۸ئ میں پانچ ایٹمی دھماکے اس نیت سے کیے تھے کہ شدید ترین دباؤ میں آنے سے پاکستان کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے اور آزاد کشمیر پر چڑھائی بائیں ہاتھ کا کھیل ثابت ہو گی‘ لیکن پاکستانی قیادت نے سات ایٹمی دھماکے کر کے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا اور دونوں ملکوں کے روایتی دفاع میں جو خطرناک عدم توازن پیدا ہو چکا تھا‘ اس میں توازن کا ایک توانا عنصر داخل ہو گیا جس کی بدولت بھارت کو جنگی مہم جوئی کی جرأت نہیں ہوئی اور اس کا سرپُرِغرور خوفناک نتائج کے اندیشوں سے ٹکراتا چلا آ رہا ہے۔ گزشتہ باسٹھ برسوں میں ناکامیوں اور کامیابیوں کی میزان سے گزرتے ہوئے ہم یقینا اپنے وطن کا تحفظ کرنے اور سرکش لہروں پر قابو پانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے پُرامید ہیں کہ نازک ترین مرحلوں میں وہ ہماری اعانت فرمائے گا اور ملک کے بعض حصوں میں جو شورش برپا ہے‘ وہ آگے چل کر نئے امکانات کا سرچشمہ ثابت ہوگی۔

٭٭

پاکستان کی تخلیق دراصل ۱۸۵۷ئ میں جنگ آزادی کی تکمیل کی طرف ایک مثبت قدم‘ سرسیداحمدخاں کی تحریک علی گڑھ کامنطقی ارتقا اور اسلام کی ایک جدید ترین تجربہ گاہ تھا۔ اس کی تعمیر میں ارفع مقاصد اور اعلیٰ آدرش کارفرما تھے‘ لیکن اس کے وجود کو غیرمعمولی حالات ڈستے رہے۔ انڈین کانگریس کی قیادت جس کے برطانوی حکومت کے ساتھ ذاتی روابط قائم تھے‘ اس نے تقسیم ہند کے لیے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد ناکام بنانے کے لیے ہر نوع کے حربے استعمال کیے۔ مسلم لیگ کے زعمائ نے جب یہ دیکھا کہ ہندو اور برطانوی قیادت آئینی جدوجہد کے راستے بند کرتی چلی جا رہی ہے‘ تو انہوں نے ۱۶/اگست ۱۹۴۶ئ کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے منانے کا اعلان کیا۔ اس روز بنگال کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے کلکتے میں لاکھوں کے مجمع سے ولولہ انگیز خطاب کیا اور عام تعطیل کا سرکاری اعلان بھی کر دیا۔ جس پر کانگرسی حلقے بہت سیخ پا ہوئے اور جب حاضرین جلسہ گاہ سے اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے‘ تو اُن پر مسلح ہندوؤں نے گلی کوچوں میں قاتلانہ حملے شروع کر دیے۔ پورے شہر میں ایک قیامت صغریٰ برپا ہو گئی‘ جس میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔ وائسرائے لارڈ ویول نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے جب کلکتے کا دورہ کیا تو اس کی فوجی نگاہ فوراً بھانپ گئی کہ یہاں سول وار ہوئی ہے اور اگر مسلمانوں کے حقوق پامال کیے جاتے رہے‘ تو پورا برصغیر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اس نتیجے پر پہنچتے ہی اس نے مسلم لیگ کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی براہ راست دعوت دے دی اور یوں انگریزوں کے سائے تلے ہندوستان پر اکیلے راج کرنے کا کانگرسی منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ کیبنٹ مشن کی سفارش پر جو عبوری حکومت قائم ہوئی تھی‘ اس میں کانگرس ۲/ستمبر ۱۹۴۶ئ اور مسلم لیگ ۱۵/اکتوبر ۱۹۴۶ئ کو انڈین کانگرس کی مرضی کے خلاف شامل ہوئی۔ عبوری حکومت کے تجربے نے آگے چل کر ثابت کر دیا کہ یہ دو قومیں اب اکٹھے نہیں چل سکتیں۔

عبوری حکومت چودہ ارکان پر مشتمل تھی۔ چھ کانگرسی‘ پانچ مسلم لیگی‘ ایک سکھ ‘ ایک عیسائی اور ایک پارسی۔ پنڈت نہرو کے پاس کامن ویلتھ کے محکمے تھے‘ داخلہ اور اطلاعات سردار پٹیل اور دفاع سردار بلدیو سنگھ کے پاس تھا۔ وزارت خزانہ کا قلم دان نوابزادہ لیاقت علی خان کے حصے میں آیا جس نے سیاست کی پوری بساط ہی الٹ ڈالی۔ کانگرس نے تو انہیں یہ محکمہ اس لیے دیا تھا کہ وہ مالی معاملات چلانے میں بُری طرح ناکام ہو جائیں گے اور مسلم لیگ کو عبوری حکومت سے نکالنے کا ایک موقع ہاتھ آ جائے گا‘ لیکن انہوں نے چیلنج کو ایسی خوش اسلوبی سے قبول کیا کہ اس کی اُمیدوں پر اوس پڑ گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے سبب ضروریات زندگی مہنگی ہو گئی تھیں‘ بلیک مارکیٹنگ عروج پر تھی اور دولت گنتی کے چند ہندو منافع خوروں‘ بڑے بڑے صنعت کاروں اور تاجروں کے اندر مرکوز ہو چکی تھی۔ اپنی بجٹ تقریر میں خان لیاقت علی خاں نے اعلان کیا کہ وہ قرآن حکیم کے اس عظیم فلسفے پر ایمان رکھتے ہیں جو دولت کو محض امیروں کے درمیان گردش کرنے سے روکتا ہے اور اسے پورے معاشرے کے اندر پھیلا دیتا ہے چنانچہ سماجی انصاف کے حوالے سے انہوں نے چند بجٹ تجاویز پیش کیں۔ ایک تجویز میں کہا گیا تھا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن قائم کیا جائے گا جو یہ تحقیقات کرے گا کہ کن کن لوگوں نے ٹیکس ادا کیے بغیر دولت سمیٹی ہے۔ دوسری تجویز کے مطابق ایک لاکھ سے زائد تجارتی منافع پر ۲۵/فی صد اسپیشل انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ بجٹ کا اعلان ہوتے ہی ہندوسرمایہ داروں میں سراسیمگی پھیل گئی اور انہوں نے کانگریس لیڈروں کو آڑے ہاتھوں لیا جنہیں وہ بڑی بڑی رقوم فراہم کرتے تھے۔ سردار پٹیل نے کابینہ میں الزام عائد کیا کہ یہ بجٹ غریبوں کو ریلیف دینے کے بجائے ہندو سرمایہ داروں کو زک پہنچانے اور کانگرس کو مشکل میں ڈالنے کی نیت سے بنایا گیا ہے۔ خان لیاقت علی خاں ہر اعتراض کا مسکت جواب دیتے رہے اور انہوں نے بجٹ میں ردوبدل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ پاکستان کی مخالفت سب سے زیادہ سردار پٹیل کرتے آ رہے تھے‘ لیکن عبوری حکومت کے تجربے نے ان کی سوچ یکسر بدل ڈالی اور وہ اس حقیقت کے قائل ہو گئے کہ ہندوستان کی حکومت میں اگر مسلمانوں کا ذرا بھی عمل دخل رہا‘ تو سماجی انصاف‘ اور انسانی مساوات کے نام پر ان کے مفادات پر ضرب پڑتی رہے گی جس کا سیاسی حل ہندوستان کا بٹوارا ہے۔

٭٭

لارڈویول حالات کے حقیقت پسندانہ تجزیے کے بعد اس امر کے قائل ہو چکے تھے کہ ہندوستان پر برطانیہ کے لیے مزید حکومت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے‘ چنانچہ انہوں نے برٹش حکومت سے اقتدار جلد سے جلد مقامی لوگوں کو منتقل کر دینے کی پرزور سفارش کر دی۔ اس پر وزیراعظم اٹیلی نے ۲۰/فروری ۴۷ئ کو ایک تاریخی اعلان کیا کہ ۱۵/جون ۴۸ئ تک برطانیہ ہندوستان کے اقتدار سے دست بردار ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی لارڈ ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے مقرر کر دیے گئے۔ کانگرس نے اس اعلان کو اپنی کامیابی پر محمول کیا‘ کیونکہ وہ لیبر پارٹی میں وائسرائے ویول کے خلاف کچھ عرصے سے لابنگ کر رہی تھی‘ اس لیے نئے وائسرائے نے اپنی کامیابی کے لیے کانگرس کی خوشنودی کا حصول اپنے فرائض منصبی میں شامل کر لیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد تھا۔ شہرت اور ذاتی پبلسٹی کا بہت رسیا تھا۔ اس نے منصب سنبھالتے ہی مختلف سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات شروع کر دیے اور اس امر کی پوری پوری کوشش کی کہ کسی نہ کسی صورت میں ہندوستان متحد رہے‘ لیکن حالات بڑی تیزی سے قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے اور تقسیم ہند کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا اور پاکستان کا قیام ناگزیر ہوتا جارہاتھا۔

اب پاکستان کی منزل جوںجوں قریب آتی گئی‘ توںتوں اس کے لیے غیرمعمولی حالات پیدا کرنے کی علانیہ سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگرس میں ایسی گاڑھی چھن رہی تھی کہ بعض ہندو اسے لاڈ سے پنڈت ماؤنٹ بیٹن کہنے لگے تھے۔ وزیراعظم اٹیلی نے تو پندرہ ماہ تک اقتدار منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا‘ مگر کانگرس کی ملی بھگت سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس مدت کو مختصر کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا تاکہ مسلم لیگ کی قیادت کو تشکیل پاکستان کے جملہ انتظامات کو آخری شکل دینے کی مہلت ہی نہ ملے اور عمارت کھڑی ہوتے ہی زمین بوس ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے جلد بازی میں تقسیم ہند کا ایک ایسا منصوبہ تیار کیا گیا جس کے ذریعے بیک وقت کانگرس اور برطانوی حکومت کے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے۔ دہلی کے مقام پر مئی ۱۹۴۶ئ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی اور صوبائی انتخابات میں کامیاب ہونے والے قانون سازوں کے کنونشن میں قائداعظم(رح) کی زیرصدارت قرارداد لاہور میں ’’آزادریاستوں‘‘ ﴿Independent States﴾ میں ترمیم کرکے ایک ’’آزاد ریاست پاکستان‘‘ (Independent State of Pakistan) کے الفاظ شامل کیے گئے جو مغرب میں پنجاب‘ سندھ‘ شمالی مغربی سرحدی صوبے‘ برٹش بلوچستان اور مشرق میں بنگال اور آسام پر مشتمل ہوگی۔ برطانوی حکومت اور کانگرسی قیادت ہندوستان کا اتنا بڑا علاقہ مسلمانوں کو دینے کے لیے کسی طور تیار نہیں تھے۔ آخری مرحلے میں پنڈت نہرو نے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن کو خفیہ پیش کش کی کہ پنجاب اور بنگال اگر تقسیم کر دیے جائیں اور انتقال اقتدار کا عرصہ پندرہ ماہ کے بجائے پانچ ماہ کر دیا جائے‘ تو بھارت دولت مشترکہ کا رکن بنا دے گا جو برطانوی حکومت کی بہت بڑی خواہش تھی‘ چنانچہ ۳/جون ۱۹۴۷ئ کو جس ’’پارٹیشن پلان‘‘ کا اعلان ہوا اور جسے قائداعظم کو بہ امر مجبوری قبول کرنا پڑا‘

اس میں ان دونوں صوبوں کو تقسیم کر دینے کا اعلان ہوا تھا اور تقسیم کے جملہ معاملات ایک باؤنڈری کمیشن کے سپرد کر دیے گئے جس نے پاکستان کی سرحدوں کے تعین میں صریحاً بددیانتی سے کام لیا اور فیروزپور اور گرداس پور اضلاع کے بھارت میں شامل کر کے پاکستان کو ایک طرف فیروز پور ہیڈورکس سے محروم اور بھارت کو کشمیر تک پہنچنے کا زمینی راستہ فراہم کر دیا۔

٭٭

پاکستان کے اُبھرتے ہوئے وجود پر کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ کانگرسی قیادت نے آل انڈیا مسلم لیگ کے خلاف ایک خطرناک نفسیاتی محاذ کھول دیا۔ پارٹیشن پلان قبول کر لینے کے باوجود کانگرسی لیڈر بالعموم سردار پٹیل اور اس کے حواری یہ زہریلا پروپیگنڈا کرنے لگے کہ مسلمانوں کو ایک لنگڑا لولا اور کٹا پھٹا پاکستان دیا جا رہا ہے جو دوچار ماہ سے زائد زندہ رہنے کی توانائی اور اہلیت نہیں رکھتا۔ اس انتہائی منظم اور خطرناک مہم نے مسلم قیادت کے مورال پر منفی اثرات مرتب کیے اور ذہنوں میں یہ سوال اُبھرنے لگا کہ اس قسم کا کٹا پھٹا پاکستان قابل قبول ہے بھی یا نہیں۔ قائداعظم(رح) کی عزیمت اور بے پناہ قوت ارادی نے مسلمانوں کو اس مخمصے سے اس وقت نجات دلائی جب انہوں نے پورے عزم کے ساتھ اعلان کیا کہ اگر پاکستان کے نام پر ایک انچ زمین بھی دی گئی‘ تو ہم اسے قبول کر کے قومی وحدت اور آزادی کا سفر آگے کی طرف جاری رکھیں گے۔ اس دو ٹوک اعلان سے وسوسوں اور واہموں کا سحر ٹوٹ گیا اور مسلمان پوری طرح یکسو ہو گئے‘ لیکن کانگرس اپنی مکاریوں اور چال بازیوں سے باز نہ آئی اور اس نے پارٹیشن پلان قبول کرنے کے دو ہفتے بعد یعنی ۴۱/جون کو اپنی ورکنگ کمیٹی میں جو قرارداد منظور کی‘ اس میں تقسیم ہند کے ’’سانحے‘‘ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے یہ ’’مژدہ‘‘ سنایا گیا تھا کہ ’’ہندوستان کی شکل و صورت اور اس کی جغرافیائی حدود اس کے پہاڑوں اور سمندروں نے وضع کی ہے۔ کوئی انسانی تدبیر اس صورت کو بدل سکتی ہے نہ اس کے حقیقی مقدر کو ٹال سکتی ہے۔ معاشیاتی حالات اور بین الاقوامی امور کے شدید تقاضوں کے پیشِ نظر ہندوستان کی وحدت اور بھی زیادہ ضروری ہے۔‘‘

ہندو مہاسبھا نے لگی لپٹی رکھے بغیر دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ’’ہندوستان ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے‘ اور جب تک الگ کیے ہوئے علاقے انڈین یونین میں واپس لاکر انہیں اس کا مکمل حصہ نہیں بنایا جاتا‘ اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘‘

قیام پاکستان کے خلاف یہ ایک جارحانہ اور کھلا الٹی میٹم تھا اور انتقال اقتدار کی مدت مختصر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان ایک نئی مملکت کا آغاز نہایت بے سروسامانی اور سراسیمگی کی حالت میں کرے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ ’’ہم انتظامی طور پر نئی مملکت کو اپنا بار اُٹھانے کے لیے کوئی تعمیر شدہ عمارت نہ ٹین کی چھت دے سکتے ہیں‘ بس اسے صرف ایک خیمہ ہی دیا جا سکتا ہے۔‘‘

پاکستان کا شروع ہی سے گلا گھوٹنے کے لیے کانگرسی قیادت ایک سے زیادہ چالیں چلتی رہی۔ شمال مغربی سرحدی صوبے میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی تھی‘ جبکہ ہندوؤں کی ملی بھگت سے وہاں ڈاکٹر خان صاحب نے حکومت کانگرس کی قائم کر رکھی تھی۔ پارٹیشن پلان میں طے پایا تھا کہ وہاں ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ گاندھی جی اس قبول شدہ منصوبے کے برعکس اس امر کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے کہ ریفرنڈم کے بجائے صوبائی حکومت کو شمولیت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔ مقصد بالکل واضح تھا کہ ڈاکٹر خان بھارت میں شامل ہونے کا اعلان کر دیں گے اور یوں کٹی پھٹی نئی مملکت شمال مغربی سرحدی صوبے سے محروم ہو جائے گی اور وہ پوری طرح بھارت کے گھیرے میں آ جائے گی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنی تمام تر نیاز مندیوں کے باوجود کانگرس کی اس احمقانہ اور غیراصولی تجویز کی حمایت نہ کر سکا اور ریفرنڈم کا اہتمام کرنا پڑا جس میں ووٹ خریدنے کے لیے ہندو سرمایہ داروں نے پیسہ پانی کی طرح بہا دیا‘ مگر وہ غیور مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے اور یہ صوبہ ریفرنڈم کے نتیجے میں پاکستان کا حصہ بنا۔

کانگرس نے آخری چال یہ چلی کہ دونوں آزاد مملکتوں کا ایک ہی مشترکہ گورنر جنرل ہونا چاہیے۔ پنڈت نہرو نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے یہ وعدہ کر لیا تھا کہ انتقال اقتدار کے بعد وہ آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل ہوں گے۔ وہ ایک ایسی ہی پیش کش کی پاکستان کی طرف سے اُمید لگائے بیٹھے تھے‘ لیکن قائداعظم نے اپنی دوراندیشی اور بے مثال ذکاوت کی بدولت اس دام ہم رنگ زمیں میں پھنسنے سے انکار کر دیا اور یہ منصب انہوں نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر خود سنبھالنے کا واضح عندیہ دیا جس سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی انا کو زبردست ٹھیس پہنچی اور اس نے پاکستان سے قدم قدم پر انتہائی خوفناک انتقام لیا۔ اس نے ریڈکلف ایوارڈ میں ایسی ایسی تبدیلیاں کیں جن سے پاکستان بعض سٹریٹجک علاقوں سے محروم ہو گیا‘ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ اگر ماؤنٹ بیٹن دونوں مملکتوں کا مشترکہ گورنر جنرل بن جاتا تو وہ ذاتی وابستگی اور مزاج کے باعث پاکستان کو بھارت کا حاشیہ بردار بنانے کی ہرممکن کوشش کرتا اور خدانخواستہ اس کے وجود کا نقش قائم ہی نہ ہونے دیتا۔

٭٭

پورے ہندوستان کی حکومت کا مرکزِ اعصاب دہلی تھا جہاں سے ریلوں‘ بندرگاہوں اور پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کا نظامِ کار کنٹرول ہوتا تھا۔ صنعتی مراکز اور ریسرچ کے ادارے بھارتی علاقوں اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے ہیڈکوارٹر دہلی میں تھے۔ سولہ کی سولہ آرڈیننس فیکٹریاں اور فوجی سامان کے تمام ڈپو بھارت کی تحویل میں تھے۔ اس کے علاوہ برطانوی راج کا رفیع الشان اور دیدہ زیب شخصیت کا مالک لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی بھارت ہی کے حصے میں آیا تھا جو پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے شمشیر بکف تھا اور اس نے اپنی انا کی تسکین کے لیے تمام برطانوی روایات پس پشت ڈال دی تھیں اور اسے گھٹیا سے گھٹیا کام سرانجام دینے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تھی۔

تقسیم کے وقت حکومت ہند کے پاس چار ارب روپے کا کیش بیلنس تھا جس میں سے بڑے مول تول کے بعد پاکستان کو پچہتر کروڑ روپے دینا طے پایا تھے۔ بیس کروڑ کی پہلی قسط ادا کرنے کے بعد بھارت نے ہاتھ روک لیا اور ۱۴/اگست ۱۹۴۷ئ کے وقت پاکستان کا کل یہی اثاثہ تھا‘ جب کہ سنگین مسائل کا انبار لگا ہوا تھا۔ ۱۵/ اگست ۱۹۴۷ئ سے ۱۵/جنوری ۱۹۴۸ئ کے درمیان مالی اعتبار سے اس کے لیے سب سے خطرناک مرحلہ تھا۔ بھارتی حکومت کی بدعہدی کے خلاف گاندھی جی نے ’’مرن بھرت‘‘ رکھا جس سے گھبرا کر کیش بیلنس کی باقی قسط بادلِ نخواستہ ادا کی گئی تھی۔

باہمی رضامندی سے فوجی سامان کا ایک تہائی حصہ پاکستان کو دیا جانا تھا۔ وہ ادارہ جس کے ذمے مسلح افواج اور فوجی سازوسامان کی تقسیم کا فریضہ سونپا گیا تھا‘ اس کے فیلڈ مارشل آکیلک سپریم کمانڈر تھے۔ انہوں نے جیسے ہی کوشش کی کہ پاکستان کو اس کا حصہ ملنا شروع ہو جائے‘ کانگرس نے آسمان سر پر اُٹھا لیا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ریشہ دوانیوں کے باعث مستعفی ہونا پڑا‘ چنانچہ آج تک پاکستان کو اپنا حصہ وصول نہیں ہوا۔

کلکتہ‘ بہار اور یوپی میں خونین فسادات کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے اور ہزاروں خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں۔ چشم فلک نے ایسے ایسے خون آشام اور ہلاکت خیز مناظر دیکھے کہ وہ پتھرا گئی‘ اور انسانیت بے لباس ہو کے رہ گئی۔ جان کونیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب ۱۵/اگست کو بھارت پر آزادی کی دیوی کا نزول ہوا‘ تو اس روز امرتسر شہر میں سکھوں کے ایک ہجوم نے مسلمان عورتوں کو ننگا کر کے انہیں ایک جلوس کی صورت میں گلی کوچوں میں گھمایا اور پھر پورے جلوس کی عصمت دری کی اور ان میں سے اکثر کرپانوں سے ذبح کر دی گئیں اور باقی زندہ جلا دی گئی تھیں۔ شمالی اور مشرقی بھارت کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں خوںچکاں مناظر میں یہ ایک انسانیت سوز اور دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے قافلے امان حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی طرف بڑھ رہے تھے جن پر غیرمسلم مسلح غنڈے حملہ آور ہو کر ’’جشنِ آزادی‘‘ منا رہے تھے اور ٹرینوں پر بلوائی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے جو پاکستان کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔

٭٭

ان تاریخی حقائق سے کانگرسی قیادت اور برطانوی حکومت کے پاکستان کے بارے میں ناپاک عزائم پوری طرح بے نقاب ہو جاتے ہیں اور یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کی تخلیق بڑے ہی نامساعد حالات میں ہوئی تھی اور اسے سالہا سال تک غیرمعمولی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے کہ ان مخدوش حالات میں عوام اور اس وقت کی سیاسی قیادت نے غیرمعمولی قوت ارادی اور جذبۂِ ایثار کا ثبوت دیا اور غیروں کے مذموم ارادے ناکام بنا دیے‘ لیکن سچ یہ ہے کہ ابتدائی چند برسوں میں ان امور پر کماحقہ‘ توجہ نہیں دی گئی جو ریاست اور معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور جمہوری روایات کے مطابق اپنے شہریوں کی تربیت کر سکے نہ اداروں کو استحکام سے ہم کنار کر سکے۔ دراصل ہماری آزادی کا سفر کٹھن راستوں اور شدید آزمائشوں میں شروع ہوا تھا اور بہت سارا وقت مہاجرین کی بحالی اور نظم و نسق کا ڈھانچہ تیار کرنے پر صرف ہو گیا۔ بھارت کی ریشہ دوانیوں نے معاملات انتہائی پیچیدہ اور دشوارتر بنا دیے‘ مگر سب سے زیادہ نقصان اس تلخ تجربے سے پہنچا کہ جس عظیم سیاسی جماعت نے قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا تھا‘ وہ ابتدائی زمانے ہی میں شکست و ریخت کا شکار ہو گئی‘ اور سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت کش رویوں کا منبع ثابت ہوئی۔

اس افسوس ناک صورت حال کی پرورش میں بعض تاریخی‘ سماجی اور جغرافیائی عوامل کارفرما تھے۔ انڈین کانگرس کے مقابلے میں آل انڈیا مسلم لیگ کو عوام کے اندر کام کرنے کا بہت کم وقت ملا تھا۔ کانگرس انیسویں صدی کی آخری دہائی سے پہلے ہی قائم ہو چکی تھی اور اس نے اپنی طویل سیاسی اور عوامی زندگی میں ہر سطح پر قیادت کی بہت بڑی کھیپ تیار کر لی تھی جس میں چوٹی کے وکیل‘ ڈاکٹر‘ سماجی شخصیات اقتصادی ماہرین کے علاوہ مڈل کلاس کے سرگرم لوگ شامل تھے۔ گاندھی جی نے عجب عجب سیاسی پنتیرے بدلنے کے باوجود اس جماعت کو سادگی اور ڈسپلن کا خوگر بنا دیا تھا۔ کمال سادگی کے اس آہنی فریم کے اندر آج کی بھارتی قیادت ڈھلی ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر مڈل کلاس کی شرکت سے جمہوریت اور جمہوری رویے پروان چڑھے اور تمام تر خرابیوں کی موجودگی میں سیاسی عمل کو بالادستی حاصل رہی۔ اس کے مقابلے میں آل انڈیا مسلم لیگ ۱۹۳۷ئ میں عوامی اُفق پر نمودار ہوئی اور وہ چند برسوں ہی میں ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ مارچ ۰۴۹۱ئ میں قرارداد لاہور منظور ہوئی اور اس کی قیادت کو ایک جداگانہ وطن کے حصول کی خاطر انگریزوں‘ ہندوؤں اور مسلم قوم پرستوں سے چومکھی لڑنا پڑی۔ ۴۶۔۱۹۴۵ئ میں مرکزی اور صوبائی انتخابات کا ایک فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کو برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کا ثبوت دینا تھا۔ اس نازک موڑ پر دو بڑے حادثے پیش آئے۔ مولوی فضل الحق جنہوں نے ۱۹۴۰ئ میں قرارداد لاہور پیش کی تھی‘ وہ مسلم لیگ سے الگ ہو گئے اور یہی حادثہ سندھ میں جی ایم سید کے ہاتھوں پیش آیا جنہوں نے آخری وقت پر مسلم لیگ اور قائداعظم سے بغاوت کر دی تھی۔ مسلم لیگ کو یہ انتخابات ہر قیمت پر جیتنا تھے کہ انہی پر آگے چل کر قیام پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہونا تھا‘ چنانچہ قیادت کو کھوٹے سکے بھی قبول کرنا پڑے اور یہی کھوٹے سکے‘ ہماری جڑوں میں بیٹھتے چلے گئے۔

٭٭

علی گڑھ یونیورسٹی‘ اسلامیہ کالج لاہور اور اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ نے پنجاب‘ سندھ کے انتخابی معرکے میں زبردست کردار ادا کیا اور رائے دہندگان نے قائداعظم(رح) کی قیادت پر بے پناہ اعتماد کرتے ہوئے ’’کھوٹے سکوں‘‘ کو بھی کامیابی سے سرفراز کیا اور یوں مسلم لیگ ۹۸ فی صد مسلم نشستیں جیت لینے میں کامیاب رہی۔ جس کے بعد کانگرس کی ریشہ دوانیوں میں ہولناک اضافہ ہوتا گیا‘ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس کڑی آزمائش میں قائداعظم(رح) نے مسلم لیگ کے جملہ معاملات باہمی مشوروں اور جمہوری طریقوں سے چلائے اور اختلاف کی ہر آواز کا احترام کیا۔ وہ جمہوریت پر کامل یقین رکھتے تھے اور انہوں نے پاکستان کی بنیادیں جمہوری اصولوں ہی پر اٹھائی تھیں‘ مگر انہیں زندگی نے جماعت کے کارکنوں اور عہدے داروں کی اخلاقی اور سیاسی تربیت کی مہلت نہیں دی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب میں جو علاقے پاکستان کا حصہ بنے‘ وہاں نمایاں حیثیت سرداروں‘ زمین داروں اور وڈیروں اور انگریزوں کے مراعات یافتہ جاگیرداروں کو حاصل تھی جو پاکستان کے قیام سے کچھ ہی عرصہ پہلے مسلم لیگ میں شامل ہو گئے تھے اور اقتدار کا حصہ بنے تھے۔

نواب اور جاگیردار مشرقی بنگال میں بھی تھے‘ مگر ان کی زمینیں محدود اور ان کے طورواطوار بڑی حد تک شائستہ اور جمہوری تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آل انڈیا مسلم لیگ ۱۹۰۶ئ میں نواب محسن الملک کی صدارت میں قائم ہوئی تھی اور ان کی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں جداگانہ انتخابات کا مرحلہ طے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے تیرہ ماہ بعد قائداعظم تپ دق کے موذی مرض کے ہاتھوں جان ہار بیٹھے جس میں وہ کئی سال سے مبتلا تھے‘ مگر اس کی انہوں نے کانوں کان خبر نہ ہونے دی تھی اور جواں عزم کے ساتھ پاکستان کی جنگ لڑتے اور دشمنوں کو شکست دیتے رہے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کفِ افسوس ملتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مجھے مسٹر جناح کی بیماری کے بارے میں پہلے علم ہو جاتا تو میں انتقال اقتدار کی مدت میں اس قدر توسیع کر دیتا کہ پاکستان بننے کی نوبت ہی نہ آتی۔ قائداعظم(رح) کو اپنی زندگی میں اس حادثے کا سامنا بھی کرنا پڑاکہ پنجاب میں جناب افتخار حسین ممدوٹ اور جناب ممتاز دولتانہ کے درمیان ٹھن گئی اور سندھ میں جناب ایوب کھوڑو ’’کھوٹے سکے‘‘ ثابت ہوئے۔ شمال مغربی سرحدی صوبے میں خان عبدالقیوم خاں کی حکومت اور سرخ پوشوں کے درمیان خونریز معرکے ہوئے۔ ان تمام غیرمعمولی واقعات کے باوجود قائداعظم سیاسی راست بازی‘ قانون سے وابستگی اور اچھی حکمرانی کی راہ پر گامزن رہے‘ البتہ ضرورت کے وقت گاہے گاہے رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ یہ انہی کا عظیم کارنامہ تھا کہ دستور ساز اسمبلی کے ضابطۂ کار میں ان کی زیرصدارت اتفاق رائے سے ترمیم ہو گی اور قانونی طور پر یہ طے پایا کہ دستور ساز اسمبلی جو بھی دستوری بل منظور کرے گی‘ وہ اس کے صدر کے دستخطوں سے آئینی ایکٹ بن جائے گا اور اس کی منظوری میں تاج برطانیہ کے نمائندے یعنی گورنر جنرل کا آیندہ کوئی کردار نہیں ہو گا۔ اس ایک ترمیم سے دستور ساز اسمبلی ایک خودمختار اور آزاد ادارے کی حیثیت اختیار کر گئی تھی جسے ۱۴/اگست ۱۹۴۷ئ کو آدھی شب اقتدار منتقل ہوا تھا۔

٭٭

پاکستان جو ایک تاریخ ساز سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے قائم ہوا تھا‘ اس پر مغربی پاکستان کے وڈیرے اور طالع آزما بیوروکریٹ قابض ہو گئے اور ایک ایسے کلچر کو فروغ دینے میں کوشاں رہے جس میں عزت نفس‘ قانون کی عملداری اور سماجی انصاف کی سرے سے کوئی اہمیت نہیں تھی۔ پاکستان کا دارالحکومت بری‘ بحری اور فضائی ہیڈکوارٹرز اور زیادہ تر صنعتی ادارے مغربی پاکستان میں تھے جس میں پنجاب اور سندھ کا حصہ سب سے زیادہ تھا‘ بساطِ سیاست پر بھی صوبے چھائے رہے اور ایک عرصے تک مشرقی پاکستان اور بلوچستان نظرانداز ہوتے گئے اور وفاق ان کے جمہوری حقوق پامال کرتا رہا۔ کمزور اور غیرمنظم سیاسی اداروں کے باعث عسکری قیادت اور بیوروکریسی باربار عنان حکومت سنبھالتے رہے اور سیاسی عمل کے رک جانے سے پاکستان کے بڑے اور حساس علاقے قومی دھارے سے خارج ہوتے گئے۔ بھارت کی جارحانہ پالیسی نے پاکستان کے اندر ’’مضبوط مرکز‘‘ کا تصور گہرا کیا اور اسے ایک سکیورٹی اسٹیٹ بنا دیا جس میں مختلف قوانین کی حوصلہ افزائی ہوئی اور شہری آزادی اور سول حقوق نظام حکومت میں ایک بلند مقام حاصل نہ کر سکے جس کے نتیجے میں تحریکیں بھی اُٹھیں اور سیاسی اتحاد بھی قائم ہوئے اور صوبوں کے اندر اپنے وسائل کی ملکیت کی تحریک طاقت پکڑتی گئی اور آئین کا دامن گاہے بہ گاہے تارتار کیا جاتارہا۔ ایک طرف پاکستان کو اپنا وجود قائم رکھنے کا چیلنج درپیش تھا اور دوسری طرف وہ مخلص اور تجربے کار قیادت سے محروم ہوتا جا رہا تھا۔ اس مملکت خداداد کے مشرقی اور مغربی بازو جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے تھے جو لسانی‘ معاشرتی اور ثقافتی اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ ہمارا مشرقی حصہ آبادی کے لحاظ سے بڑا‘ مگر وسائل کے اعتبار سے کم تر تھا۔ وہاں عوام و خواص کی زبان اور زندگی کا معیار ایک تھا۔ وہاں کے لوگ سیاسی طور پر باشعور اور اپنے حقوق کے بارے میں بڑے حساس تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے مغربی بازو کے ارباب اقتدار جو بڑے بڑے جاگیرداروں‘ سرداروں‘ فرعون صفت بیورو کریٹس اور موقع پرست سیاست دانوں پر مشتمل تھے‘ اُنھوں نے مغربی بنگال کو اپنی کالونی سمجھا اور وہاں کے عوام کو برابر کا شہری قرار دینے کے بجائے انہیں عزت نفس اور جائز حقوق سے محروم کیے رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۵۴ئ کے انتخابات میں خوفناک سیاسی بغاوت ہوئی اور وہ مسلم لیگ جو دونوں بازوؤں کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتی تھی‘ انتہائی عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئی جس کے بعد حالات بگڑتے ہی گئے اور آخرکار فوجی مداخلتیں اور استعماری ہتھکنڈے سقوط مشرقی پاکستان پر منتج ہوئے۔

٭٭

پنڈت نہرو کو اس امر کا پورا یقین تھا کہ پاکستان اپنے آپ کو معاشی طور پر سنبھال نہیں سکے گا اور ﴿خاکم بدہن﴾ اپنے آپ کو بھارت کے حوالے کر دے گا‘ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حب الوطنی کے عظیم جذبوں کی بدولت وزیرخزانہ جناب غلام محمد نے پہلا ہی فاضل بجٹ پیش کیا۔ کچھ ہی عرصے بعد کوریا کی جنگ شروع ہو گئی اور پاکستان نے کپاس کے ذریعے بیش قیمت زرمبادلہ کمایا۔ اور اس کے روپے کی قدر میں زبردست اضافہ ہوتا گیا۔ یہ امر بھی قابل تحسین ہے کہ آبائے قوم نے شبانہ روز محنت اور اعلیٰ منصوبہ بندی کے ذریعے ایک ڈیڑھ کروڑ سے زائد مہاجرین کا بار بھی اٹھا لیا اور انہیں آباد بھی کر لیا۔ یہ کارنامہ کسی طور ایک معجزے سے کم نہ تھا‘ دراصل اس میں عوام کے تعاون اور ایثار نے کلیدی کردار ادا کیا اور ابتدائی دنوں میں سرکاری عمال بھی حددرجہ فرض شناس‘ مستعد اور ایثار کیش تھے۔ انہوں نے عدم سے وجود کی طرف سفر کا آغاز کیا اور اسے پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے چودھری محمدعلی نے فسادات زدہ نظم و نسق کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے باؤنڈری کمیشن میں بھی ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دی تھیں اور پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منصب پر فائز کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

ہماری آزادی کے ساٹھ برسوں میں ناقابل یقین معجزے بھی ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام بھی لامحدود اور بے حساب رہے ہیں‘ لیکن بعض ایسی خرابیاں در آئی ہیں جنہوں نے ہمارا حقیقی چہرہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے اور شاندار مستقبل کے اندر شگاف ڈال دیے ہیں۔ ہماری قیادت نے بلاشبہ شروع کی انتہائی کٹھن آزمائشوں پر بڑی حد تک قابو پا لیا تھا اور بھارتی لیڈروں کے عزائم ناکام بنا دیے تھے‘ مگر غیرمعمولی حالات اور ہمارے معاشرتی رویوں کے خوفناک تضادات اور اختیار و اقتدار کے غیرجمہوری سانچے ہماری تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑ گئے ہیں جو ہمیں ایک بھیانک انجام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان کی اصل قوت کا منبع اس کے عوام اور اسلام کے ہمہ گیر اور آفاقی تصورات اور اخلاقی تعلیمات تھیں۔ بدقسمتی سے انہی کے ارتقا اور استحکام پر کامل یک سوئی سے توجہ نہیں دی گئی۔ قرارداد مقاصد میں انہی دو نکات کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل تھی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ طے پایا تھا کہ اقتدار جو ایک مقدس امانت ہے‘ اسے عوام کے منتخب نمائندے خدا کی دی ہوئی حدود کے اندر استعمال کریں گے۔ یہ ایک اسلامی اور جمہوری منشور تھا‘ مگر اس پر سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی زندگی میں عمل درآمد نہیں ہوا۔

٭٭

مہاجرین کا تبادلہ جس پر تقسیم ہند سے پہلے کانگرس‘ مسلم لیگی رہنماؤں اور انگریز حکمرانوں نے سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا تھا‘ اس نے پاکستان میں غیرمعمولی نوعیت کے مسائل پیدا کیے۔ سید ابواعلیٰ مودودی(رح) نے ۱۹۳۸ئ میں ایک تجویز پیش کی تھی کہ مہاجرین کے تبادلے کا ایک طویل المیعاد منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ ہر مرحلہ خیروخوبی سے طے پا جائے‘ مگر خطرناک سیاسی کشمکش کے دوران اس اہم نکتے پر توجہ دینے کی سیاسی زعمائ کو غالباً مہلت ہی نہیں ملی اور انسان آگ و خون کے دریا میں ڈوبتا اور اُبھرتا رہا اور پورا برصغیر تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا۔ پاکستان کو سب سے بڑا نقصان کلیمز کے اخلاق سوز کاروبار سے ہوا‘ اس منحوس کاروبار سے ہماری آبادی کا بہت بڑا حصہ متاثر ہوا اور مکانات‘ زمینوں کے بڑے بڑے قطعات‘ باغات اور مال و منال زندگی کا مقصد قرار پائے۔ ان کے لیے جھوٹے کلیم داخل کرائے گئے‘ جھوٹی قسمیں کھائی گئیں اور قدم قدم پر ایمان بیچا گیا۔ غیرمسلموں کی متروکہ املاک سے مہاجروں اور مقامی لوگوں نے یکساں فائدہ اٹھایا اور اس عظیم حقیقت کے باوجود کہ ہمارے ہاں ایسے پاک طینت لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی جس نے بہتی گنگا میں اشنان کرنے سے پوری طرح اجتناب کیا لیکن بہت بھاری اکثریت کے اخلاق تباہ وبرباد ہوئے اور قومی سیاست اور معاشرت پر دولت مند اور رشوت خور طبقے حاوی ہوتے گئے۔

اس موذی مرض کا آج یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ہر شخص دولت کا پجاری ہے اور امانت میں خیانت فن کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ روپے پیسوں کے معاملے میں اب آپ کسی پر اعتماد نہیں کر سکتے‘ اور جن کے ہاتھ میں زمامِ کار ہے اور جو قومی خزانے کے امین بنائے گئے ہیں‘ وہ بے دھڑک قومی وسائل لوٹ رہے ہیں اور محکموں اور اداروں میں کروڑوں اور اربوں کے گھپلے آئے دن اخبارات اور میڈیا کی زینت بنتے جا رہے ہیں۔ یہ راز تو ویب سائٹ پر منکشف ہو چکا ہے کہ ہمارے بعض سیاسی قائدین کے بیرونی بینکوں میں اربوں ڈالر جمع ہیں اور اعلیٰ سرکاری افسروں اور صنعتی اور کاروباری افراد کے گوشوارے ان کے سوا ہیں۔ امانت میں کھلی خیانت کا یہ عالم ہے کہ پچھلے دنوں یہ خبر شائع ہوئی کہ صدر آصف زرداری اپنی سالگرہ نوڈیرو میں منائیں گے ‘ چنانچہ پورے سندھ سے چار ہزار پولیس اہلکار وہاں تعینات کر دیے گئے۔ صدر آصف زرداری نے تو سالگرہ کا کیک بلاول ہاؤس کراچی میں کاٹا‘ تاہم ان کی اولاد خصوصی طیارے کے ذریعے نوڈیرو پہنچی۔ ایک ذمے دار جمہوری ملک میں اس نوعیت کا واقعہ پیش نہیں آ سکتا‘ مگر یہاں داخلی احتساب کا کوئی موثر نظام کارفرما نہیں اور عوام بے چارگی اور بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے جو کلچر فروغ پاتا ہے‘ وہ اس کلچر سے یکسر مختلف ہوتا ہے جو مفت میں دستیاب لامحدود آمدنی سے پرورش پاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ مسلم سوسائٹی میں صاحب علم اور صاحب کردار شخص کی تعظیم و تکریم ہوتی تھی اور دولت کے بجائے شرافت اور نجابت کو بلند ترین مقام حاصل تھا۔ مالِ غنیمت اور کرپشن کی ریل پیل سے ہر شخص میں ایک مصنوعی معیار زندگی قائم رکھنے کا جنون انتہا کو چھو رہا ہے۔ بھارت کے عظیم دانش ور اور سیاسی خانوادے کے ایک معززفردڈاکٹرذاکرحسین۰۵ئ کی دہائی میں پاکستان آئے اور کراچی کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی گئے۔ چند روزہ قیام کے بعد انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست سے کہا کہ میں پاکستان میں آسائشوں کی جو فراوانی دیکھ رہا ہوں مجھے ان سے خوف آ رہا ہے اور خدشہ ہے کہ آگے چل کر معاشرے پر حریص‘ بدقماش اور اسمگلر قابض ہو جائیں گے اور غریب اور امیر کے درمیان فرق بڑھتا جائے گا جو اخلاقی اور سماجی بگاڑ میں ہولناک اضافے کا باعث ہو گا۔

٭٭

غریب اور امیر کے درمیان وسیع تر ہوتی ہوئی خلیج عجب عجب رنگ دکھا رہی ہے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان جب شہید کیے گئے تو وہ شیروانی زیب تن کیے ہوئے تھے۔ وہ اُتاری گئی‘ تو نیچے پھٹی ہوئی قمیص نکلی تھی۔ اس وقت بے لوث قومی قیادت کا یہ معیار تھا اور آج ہمارے وزرائے کرام ایک روز میں کئی کئی سوٹ تبدیل کر کے ٹی وی چینلز پر جلوہ گر ہوتے ہیں اور طبقاتی تصادم کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ لوگ جن کی آنکھوں پر دولت کی پٹی بندھی ہے‘ انہیں یہ احساس نہیں کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں اور ایک خونین انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ دولت مند اور عیاش لوگ ایک ایک لنچ اور ایک ایک ڈنر پر پچاس ساٹھ ہزار روپے اُڑا دیتے ہیں جبکہ ان کی کاروں کے ڈرائیوروں کی تنخواہ مشکل سے پانچ سات ہزار ماہانہ ہوتی ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی چھ ماہ کی تنخواہ ان کے عیاش اور فضول خرچ مالک کے ایک ڈنر پر اُٹھ گئی ہے‘ تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور وہ طالبان کا روپ دھارنے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ امیر اور مراعات یافتہ اشرافیہ نے اپنی وسیع و عریض شاندار بستیاں‘ خوبصورت بنگلے‘ مہنگے تعلیمی ادارے‘ جدید ترین سہولتوں سے آراستہ شفاخانے‘ عالی شان کاروباری سلطنتیں قائم کر لی ہیں جن میں عام لوگوں کا داخلہ محال ہوتا جا رہا ہے۔ اقتدار کے محافظین کے تفریح خانے‘ کلب اور یارانے بھی بالکل جدا ہیں۔ انہوں نے تمام اداروں اور محکموں میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور مفادات کا شرمناک اور اخلاق سوز کاروبار جاری ہے جس کے باعث وفاق اور صوبوں کے درمیان بھی کشمکش تیز ہوتی جا رہی ہے اور محروم اور پس ماندہ علاقوں میں بغاوت کی کیفیت اُبھرتی جا رہی ہے۔

کلیمز کے بعد پاکستانی معاشرے کو سب سے زیادہ نقصان فوجی حکومتوں نے پہنچایا جن کے بڑے بڑے جرائم اور ناجائز تجاوزات میں آئین و قانون سے غداری اور پامالی‘ نظام حکومت سے سیاست کی بے دخلی‘ اداروں کی تباہی‘ گملوں میں نمائشی اور جعلی قیادت کی تیاری‘ امور حکومت سے عوام کی بے دخلی‘ بدنیتی پر مبنی نئے نئے تجربات کی آنکھ مچولی‘ امریکہ کو غلامی اور قوم کے اوپر بیرونی قرضوں کا ناقابل برداشت انبار شامل ہیں۔ فوجی آمر باربار دستور پر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے سب سے پہلے قانون ساز اداروں کا تیاپانچا کیا‘ ایگزیکٹو پر غاصبانہ قبضہ جما لیا‘ اعلیٰ عدالتوں اور جج صاحبان کو ذلیل و خوار کیا‘ قدآور سیاسی قائدین کے خلاف بغاوت کے مقدمات چلائے اور انہیں جلاوطن ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ ان آمروں نے فوجی طاقت سے اپنی مرضی کے انتخابی نتائج حاصل کیے اور ایسی اسمبلیاں اور اسی طرح کی حکومتیں قائم کیں جو ڈکٹیٹر کے اشاروں پر ناچتی ہیں۔ اس عالم حبس میں لوگ لُو کی دعا مانگنے پر مجبور تھے کہ دم گھٹنے لگا تھا۔

٭٭

جب طاقت‘ فرعونیت اور منافقت اپنی انتہا کو پہنچنے لگی‘ تو قدرت کو ہماری بدحالی پر ترس آ گیا اور ۹مارچ ۲۰۰۷ئ کا دن ہماری گھٹاٹوپ اندھیرے میں اُمید کی پہلی کرن ثابت ہوا۔ فاضل چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری نے اپنے حرف انکار سے پوری عسکری قیادت کو چیلنج کیا اور ان کی معزولی اور گرفتاری نے قوم کو جھنجوڑ ڈالا۔ وہ عدلیہ جسے چیف جسٹس محمد منیر نے ایگزیکٹو کا غلام بنا دیا تھا‘ وہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تاریخ ساز جدوجہد سے ہر نوع کے دباؤ سے آزاد ہو چکی ہے اور ۱۶/مارچ کی صبح ہماری تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے بعد وہ عمل شروع ہو چکا ہے جس کے بعد مستقبل میں ’’فوجی مداخلت‘‘ کا راستہ یکسر بند ہو جائے گا۔ پہلی بار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو عدالت میں پیشی کے نوٹس جاری ہوئے ہیں اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ آئین سے کھیلنے والے اور قومی آزادی اور خودمختاری کو گروی رکھنے والے اقتدار کے حواری احتساب کے شکنجے میں کس دیے جائیں گے۔ قابل ستائش امر یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھا رہی ہے اور موجودہ نظام حکومت کو غیرمستحکم اور متزلزل کیے بغیر معمولی اہمیت کے آئینی نکات زیربحث لا رہی ہے۔ ہمارا وجدان کہتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو خدا بننے کی سزا ضرور ملے گی۔اگر ایسا ہو گیا تو شبستانِ وجود لرز اُٹھے گا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فوج کو اندرونی طور پر یہ احساس ہو گیا ہے کہ اس کی قیادت کی غیر آئینی‘ غیراخلاقی اور غیرجمہوری اقدامات سے اس کے امیج کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ عوام کی محبت اور حمایت سے بڑی حد تک محروم ہو چکی ہے‘ چنانچہ موجودہ عسکری قیادت ماضی کا کفارہ ادا کرنے کی خاطر بہت سرگرم ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ وہ سویلین اتھارٹی کے تحت کام کر رہے ہیں اور سیاسی حکومت کی دی ہوئی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کی شخصیت میں کوئی کروفر ہے نہ رعونت‘ ان کا مضبوط کردار اور ان کا صاف ذہن قومی وقار اور قوت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ وہ امریکی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور ڈرون حملوں کے خلاف سب سے پہلے انہی نے آواز اُٹھائی تھی۔ انہیں شدید احساس ہے کہ عوامی حمایت کے بغیر وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت نہیں سکتے اور ان کا تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ میڈیا سے تبادلہ خیال کرتے اور حقائق سے پردہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ بعض بیرونی اور ملکی اخبارات نے اس طرح کے اشارے دیے ہیں کہ امریکی قیادت پاکستان کی عسکری قیادت کو آگے لانا چاہتی ہے‘ مگر عدالت عظمیٰ نے جو فضا پیدا کر دی ہے اور میڈیا جس دانائی اور بے خوفی سے عوام کو بیدار رکھنے کا جو ایک عظیم کردار ادا کر رہا ہے‘ اس تناظر میں فوجی قیادت اب کسی مہم جوئی کا خطرہ مول نہیں لے گی۔

آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی آزادی کی جو تحریک ان دنوں طاقت پکڑتی جا رہی ہے‘ اس کا ’’۱۶/ مارچ‘‘ قریب آتا جا رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں ترمیم کچھ اس انداز اور کچھ اس آن بان سے منظور ہو گی کہ آئین اپنی اصل شکل میں پارلیمانی روایات کے ساتھ بحال ہو گا اور پارلیمنٹ عوام کے حقوق اور مفادات کی نہایت مضبوط محافظ ثابت ہو گی‘ وزیراعظم اور اس کی کابینہ ضابطوں کے مطابق میرٹ پر نظام حکومت چلائیں گے اور آنے والوں کے لیے قابل تقلید مثالیں قائم کریں گے۔

ظلمتِ شب ڈھلتی جا رہی ہے اور سیاہ کاروں کا نامہ اعمال چاک ہو رہا ہے۔ آزاد میڈیا نے پورا معاشرتی اور سیاسی منظرنامہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ سمگلروں‘ مافیاؤں اور جی حضوریوں کے وہ تمام ہتھکنڈے سرِبازار زیربحث آ رہے ہیں جو غیرسیاسی اور غیرجمہوری طریقوں سے ایوان اقتدار میں سرنگ لگاتے رہتے ہیں۔ کرپشن کی وارداتیں پورے ثبوت کے ساتھ گردش کر رہی ہیں اور اب پردوں میں چھپ کر شبخون مارنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ ذہنوں کے اندر جو خلجان ہے وہ باہر آ رہا ہے اور حکمرانوں کے ہاتھ پاؤں ان کی گرم بازاری کی شہادت دے رہے ہیں۔ ارکان اسمبلی جو اپنے آپ کو ہر احتساب سے ماورا سمجھتے آئے ہیں‘ میڈیا نے ان میں سے بعض ممبران کا کچا چٹھّا بیان کر دیا ہے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ وہ طبقات جنہوں نے مفادات کی خاطر ایک ناپاک اتحاد کر رکھا تھا‘ وہ عوام کے غیظ و غضب سے لرزہ براندام ہیں۔ تطہیر کا ایک عمل جاری ہے اور محروم طبقات اپنی تقدیر کے خود مالک بننا چاہتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں انتقام اور نفرتوں کے جو انگارے سلگ رہے ہیں‘ انہیں جمہوریت کی آب حیات سے ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے اور ہمیں جو تبدیلی ذہنوں میں اُمڈتی نظر آ رہی ہے‘ وہ انشائ اللہ سماجی انصاف‘ انسانی مساوات اور اخلاقی انقلاب کا پیامبر ثابت ہو گی۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ