قومی بقا کا اصل راز ۔ اگست ۲۰۰۹ء

یہ ایقان افروز سیاسی عقیدہ یقینا قابل قدر ہے کہ پاکستان کی تخلیق ایک بہت بڑا معجزہ تھا اور وہ سدا قائم رہنے کے لیے بنا ہے‘ مگر ہم نے اسے دسمبر ۱۹۷۱ئ میں ٹوٹتے دیکھا ہے۔ قوموں کا عروج و زوال اور استحکام قوانین فطرت کے مطابق عمل میں آتا ہے اور اگر ان کی پابندی نہ کی جائے تو ہزار تمناؤں کے باوجود شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اپنے آپ کو دریافت نہیں کیا اور بیرونی سہاروں کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور ہمارے نظام حکومت کی بنیادیں منافقت‘ بدنیتی‘ جھوٹ اور فریب پر قائم ہیں۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں کی قدر نہیں کی اور اس کی بہترین مخلوق. انسان کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی۔ دولت کی حرص اور قانون کی پامالی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور سماجی انصاف کے فقدان سے ہماری سوسائٹی میں ایک شدید قسم کی بے چینی اور افراتفری پھیل رہی ہے۔ ہماری بقا کا راز راست بازی اور جمہوریت سے حقیقی وابستگی میں پنہاں ہے۔ جمہوری اداروں کا ظاہری استحکام بہت ضروری ہے‘ مگر ان کی اصل روح جمہوری سوچ جمہوری رویوں اور شرفِ انسانیت کے عملی مظاہروں سے تروتازہ ہے۔ ہم اپنے گھروں‘ اپنی مجلسی نشستوں اور کاروبار زندگی میں اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے اور مخالف آواز کو دبانے کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس تشددآمیز طرزعمل کے باعث ہم ایک آزاد اور مہذب فضا میں سانس لینے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام جس نے اپنے اجتماعی معاملات مشاورت سے چلانے کا حکم دیا ہے‘ اور ایک فرد کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے‘ کچھ گمراہ عناصر اس کے نام پر اپنے مخالفین کو گردنوں سے ذبح کر رہے ہیں اور شریعت کو ڈارھیوں اور ٹخنوں تک کی ناپ تول تک محدود کر چکے ہیں۔ ایک اور ناسور کرپشن کا ہے جو ہماری متاع بے بہا نگلتا جا رہا ہے۔ اسلام کے آقائی تصورات ایک مکمل جمہوری طرزعمل‘ اعلیٰ درجے کے سماجی انصاف اور کڑے نظام احتساب کے ذریعے ہماری قومی بقا کو دوام حاصل ہو سکتا ہے۔ آئیے ہم یوم آزادی کے موقع پر اپنے ربِ کریم سے عہد کریں کہ پوری قوت سے غربت‘ منافقت اور ہر نوع کی آمریت اور تشدد کے خلاف جہاد کریں گے اور وی آئی پی کلچر کو دفن کر کے دم لیں گے اور خدا کی رضا خدمتِ خلق میں تلاش کریں گے۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ