تجسس کے پردے میں لپٹی‘ قتل کی ایک بے حد اُلجھی ہوئی واردات‘ جب مقتول نے قاتل پکڑوا دیا
محمد اقبال قریشی ۔ اگست ۲۰۰۹ء
’’ڈاکٹرصاحب. ڈاکٹر صاحب اُٹھیے‘ غضب ہو گیا۔‘‘ کسی نے میرا کندھا زور زور سے ہلا کر شدید گھبرائے ہوئے انداز میں کہا‘ تو میں ہڑبڑا کر جاگ اُٹھا۔ ’’کیا بات ہے؟‘‘ خود پر جھکے ہوئے کنڈیکٹر جیمز کاسُتا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
’’ڈاکٹر میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘ کنڈیکٹر جیمز خوفزدہ لہجے میں بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ پیٹر کو کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے‘ اسے شاید تمہاری ضرورت ہے۔‘‘
میں اب پوری طرح اپنے حواسوں میں آ چکا تھا۔ میں نے ٹٹول کر اپنا بیگ تلاش کیا اور ننگے پیر ہی کنڈیکٹر جیمز کی رہنمائی میں ٹرین کے پچھلے حصے کی طرف چل پڑا۔ چند لمحے بعد ہم پیٹر کے ڈبے کے سامنے موجود تھے۔ اس ڈبے کو زیادہ تر اُسی وقت استعمال کیا جاتا تھا جب ریلوے ملازمین کی تنخواہیں ایک سے دوسرے شہر یا کسی دوردراز گاؤں بھیجنی مقصود ہوتیں۔ میں نے ڈبے کے بند دروازے کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور جیمز کی طرف دیکھنے لگا۔ گاڑی کے مدہم بلب کی روشنی میں جیمز کا چہرہ سفید ہو رہا تھا‘ اس نے مجھے اشارے سے کھڑکی میں جھانکنے کے لیے کہا۔ میں نے اپنی نگاہیں جیمز کے چہرے سے ہٹا کر کھڑکی میں جما دیں اور پھر اپنی جگہ بُت بن گیا۔ حیرت سے میری آنکھیں پھیل گئی تھیں۔ بات تھی بھی حیرت والی‘ پیٹر فرش پر منہ کے بل پڑا تھا‘ اس کے جسم کے چاروں طرف تھوڑا تھوڑا خون بھی پھیلا نظر آ رہا تھا۔ اس کے جسم سے ہٹ کر میری نظریں فوراً تجوری کی طرف گئیں جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور مجھے یقین تھا کہ وہ خالی ہو چکی ہو گی۔ ’’ہم اندر کیسے پہنچیں گے؟‘‘ میں نے بند دروازے کو دھکا دے کر کھولنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ’’دروازہ توڑے بغیر اندر پہنچنا مشکل ہے۔‘‘ جیمز نے جواب دیا۔ ’’میری چابی کام نہیں کرتی۔ اس نے اندر سے چٹخنی لگائی ہوئی ہے۔‘‘
’’کیا یہ کھڑکی کھلتی نہیں؟‘‘ میں نے کھڑکی کے شیشے کو انگلی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ ’’یہ صرف اندر سے کھلتی ہے۔‘‘ جیمز نے بتایا۔ اس میں اسپرنگ والا خودکار قفل لگا ہے۔ جب اسے بند کیا جاتا ہے تو قفل خودبخود لگ جاتا ہے۔‘‘
میں نے دروازے کے فریم کے چاروں طرف دیکھا مگر کہیں ذرا سی جھری بھی نہیں تھی۔ میں نے گھٹنوں کے بل جھک کر دروازے کے نیچے سے جھانکا مگر وہاں بھی کوئی درز وغیرہ نہیں تھی۔ ’’ہمیں کسی نہ کسی طرح اندر پہنچنا ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’ممکن ہے پیٹر ابھی زندہ ہو۔ کیا چھت میں ہوا دان وغیرہ بھی نہیں ہے۔‘‘
’’ضرور ہے‘ لیکن آپ یہیں سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اندر سے بند ہے۔‘‘ ’’اچھا اُس دروازے کے بارے میں کیا خیال ہے جو عقبی جانب سے کھلتا ہے۔ کیا تم ڈبے کی چھت پر چڑھ کر دوسری طرف جا کر اُسے دیکھ سکتے ہو کہ بند ہے یا کھلا ہوا؟‘‘
’’میں کوشش کرتا ہوں۔‘‘ جیمز یہ کہہ کر عقبی حصے میں چلا گیا‘ تھوڑی دیر بعد میں چھت پر اُس کے قدموں کی آوازیں سن رہا تھا۔
میں نے کھڑکی سے جھانک کر عقبی دروازے کو دیکھا۔ وہ بھی اندر سے بند تھا لیکن اس میں لگی ہوئی کھڑکی خاصی بڑی تھی اور آہنی سلاخیں بھی ذرا فاصلے سے لگی ہوئی تھیں۔ جیمز نے دوسری طرف اُتر کر کھڑکی کا شیشہ توڑ دیا اور سلاخوں کے اندر سے ہاتھ ڈال کر چٹخنی نیچے گرا دی اور اندر پہنچ گیا۔ اس نے جھک کر بے سُدھ پڑے پیٹر کو دیکھا۔ میں نے اپنی طرف والے دروازے کی کھڑکی پر دستک دی تاکہ وہ اس طرف کا دروزاہ بھی کھول دے۔ جیمز نے جلدی سے اُٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ ’’میرا خیال ہے ہمیں دیر ہو چکی ہے۔‘‘ وہ افسردگی سے بولا۔
میں نے آگے بڑھ کر پیٹر کو دیکھا‘ اس کا دایاں ہاتھ آگے کی جانب پھیلا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اُس نے دم آخر اپنے خون سے کچھ لکھنے کی کوشش کی تھی اور یہ صرف ایک نامکمل لفظ تھا ’زول‘۔ ’’یہ مر چکا ہے۔‘‘ میں نے تصدیق کرتے ہوئے اس کے جسم کو ذرا سا اُٹھایا۔ ’’سینے پر زخم ہے‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی چاقو یا خنجر وغیرہ سے اُسے قتل کیا گیا ہے۔‘‘
’’لیکن یہاں کوئی چاقو وغیرہ نظر نہیں آ رہا؟‘‘ جیمز نے تجسس سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’آخر چاقو کہاں گیا؟‘‘ ’’ظاہر ہے قاتل اسے اپنے ساتھ لے گیا۔‘‘ میں نے جواب دیا اور اس کے ساتھ ہی گلوریا کارٹر کے تمام زیورات اور ہیرے وغیرہ بھی۔‘‘
’’لیکن ہم نے اس ڈبے کوجدید انداز میں بنایا ہے۔ حفاظت کے ہر پہلو کو مدنظر رکھ کر‘ آخر کوئی اندر کیسے داخل ہوا ہو گا؟‘‘ جیمز نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔ ’’ممکن ہے پیٹر نے خود اُسے اندر بلایا ہو۔ مجھے سردست اس سوال سے زیادہ دلچسپی ہے کہ وہ باہر کیسے نکلا ہوگا۔‘‘ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ’’اور پیٹر نے یہ نامکمل لفظ لکھ کر کس کی طرف اشارہ کیا ہے؟‘‘
میں اس بھاری دروازے کے پاس پہنچا جس سے میں اندر داخل ہوا تھا اور چھوٹی کھڑکی کا کھٹکا ہٹا کر اسے کھولا‘ پھر جب میں نے شیشہ بند کیا تو ایک ہلکی سی آواز آئی اور شیشہ خودبخود بند ہو گیا۔ میرے اندازے کے مطابق یہ کھڑکی تقریباً آٹھ انچ لمبی اور چھ انچ چوڑی تھی۔
’’اس چھوٹے سے سوراخ سے تو کوئی بچہ بھی اندر داخل نہیں ہو سکتا؟‘‘ جیمز نے میرے خیالات بھانپ کر کہا۔
’’ٹھیک کہتے ہو‘ لیکن ممکن ہے کہ ’زول‘ ایسا کر سکتا ہو۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے کہا۔
’’کیا؟‘‘ جیمز نے حیرت سے کہا اور پیٹر کے مردہ جسم کو دیکھنے لگا۔ اس کی نگاہیں بھی لفظ ’زول‘ پر جم کر رہ گئی تھیں۔
میں گلوریا کارٹر کے خاندانی وکیل آرتھر کے متعلق سوچنے لگا جس سے میری ملاقات چند گھنٹے قبل اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں ہوئی تھی۔ اُس وقت بھی اس کے چہرے سے پریشانی کے آثار ہویدا تھے۔ اس کے آنے سے قبل اسٹیشن ماسٹر نے مجھے بتایا کہ اس گاڑی سے گلوریا کارٹر نامی ایک امیر خاتون کے قیمتی زیورات گرین ویلی بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہاں ان کی نمائش اور بعد میں انہیں نیلام کے ذریعے فروخت کیا جاسکے اور ان زیورات کو ان کا خاندانی وکیل اپنی نگرانی میں لے جا رہا ہے۔ پھر میں اسٹیشن ماسٹر کی استدعا پر اس ڈبے تک آیا تھا تاکہ اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو گواہی دے سکوں کہ آرتھر نے کتنے زیورات اور ہیرے وغیرہ تجوری میں رکھوائے تھے۔ میں نے گھوم پھر کر اس چھوٹے سے ڈبے کا اچھی طرح جائزہ لیا تھا اور اسے ہر طرح محفوظ پایا تھا۔ ڈبے میں موجود تجوری بھی جدید انداز کی تھی اور مخصوص نمبروں سے کھلتی تھی۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ آرتھر کا چہرہ ڈبے کا جائزہ لینے کے بعد پرسکون ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت کمرے میں میرے اور آرتھر کے علاوہ کنڈیکٹر جیمز اور کنڈیکٹر پیٹر بھی موجود تھا۔ پھر آرتھر نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکال کر مجھے دیا۔ اس کاغذ پر ان تمام زیورات اور ہیروں کی تفصیل درج تھی جو آرتھر اپنے ساتھ لیے جا رہا تھا۔ پھر اس نے میرے اور جیمز کے سامنے تمام زیورات اور نایاب ہیرے ایک ایک کر کے اس تجوری میں رکھ دیے تھے۔ ان زیورات اور ہیروں کو دیکھ کر کم از کم میرے تو چودہ طبق روشن ہو گئے تھے۔ وہ کسی ملکہ کے زیورات معلوم ہو رہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ میرے اندازے کے مطابق ان سب کی قیمت کا اندازہ کم سے کم اندازہ سات یا آٹھ لاکھ ڈالر تھا۔ فہرست کے مطابق تمام زیورات موجود تھے۔ آرتھر نے زیورات تجوری میں رکھ کر سکون کی سانس لی تھی۔ پیٹر نے ہمارے سامنے تجوری کا دروازہ زور سے بند کر کے اسے مخصوص انداز میں خفیہ عددی ملاپ کے ذریعے بند کر دیا تھا۔ تجوری کا بھاری بھر کم دروازہ مضبوطی سے بند ہو چکا تھا۔ ان زیورات اور ہیروں کی حفاظت کے لیے پیٹر کی ڈیوٹی اسی ڈبے میں تھی۔ ہم اپنے ڈبے کی طرف بڑھنے لگے تو میں نے خاص طور پر یہ محسوس کیا تھا کہ پیٹر نے ہمارے نکلتے ہی دروازہ بند کر لیا ہے۔ جیمز کچھ خاموش سا تھا اور مجھے بتائے بغیر پیچھے رہ گیا تھا۔ اپنے ڈبے میں داخل ہو کر میں نے گردوپیش پر ایک سرسری نظر ڈالی‘ ڈبے میں زیادہ افراد نہیں تھے۔ آرتھر کو پانچ نمبر کی نشست ملی تھی اور مجھے نو نمبر کی‘ میری نشست کے سامنے والی نشست پر ایک سنہرے بالوں والی لڑکی دراز تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک فلمی رسالہ تھا۔ دوسری طرف کی نشست پر ایک گنجے سر والا آدمی خراٹے لے رہا تھا۔
٭٭

’’کیا ہوا‘ کیا ہوا؟‘‘ میرے خیالات کاتسلسل آرتھرکی گھبرائی ہوئی آواز سے ٹوٹ گیا جو اس دوران وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں نے مڑ کر آرتھر کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں اور آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔ ’’ڈاکٹر‘ سب خیریت تو ہے‘ میرے زیورات؟‘‘ آرتھر اکیلا نہیں آیا تھا۔ اس کے ساتھ سنہرے بالوں والی لڑکی بھی تھی۔ میں نے اس لڑکی کو ہاتھ کے اشارے سے روکا۔ ’’بہتر ہو گا کہ تم اندر نہ جاؤ‘ یہ کوئی خوش گوار منظر نہیں ہے؟‘‘ میں بولا۔ ’’تم واپس اپنی نشست پر جا کر سونے کی کوشش کرو۔‘‘
’’کیا یہاں کسی کو قتل کر دیا گیا ہے؟‘‘ وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔
’’ہاں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’اب یہ مناسب ہو گا کہ تم اپنی نشست پر واپس چلی جاؤ‘ شاباش۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ بولی۔ ’’میں یہیں رکوں گی‘ مجھے وہاں اکیلے ڈر لگے گا۔‘‘
میں کندھے اُچکا کر رہ گیا اور آرتھر کی طرف متوجہ ہو گیا جو خالی تجوری کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک کر یوں اندر جھانک رہا تھا جیسے اُسے ابھی تک زیورات چوری ہونے کا یقین نہ آیا ہو۔ ’’زیورات اور ہیرے میری ذمہ داری تھے۔‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ ’’ان کی چوری میرا مستقبل تباہ کر دے گی‘ میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔‘‘
’’ہم دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں تمہاری کیا مدد کی جا سکتی ہے۔‘‘ میں نے اُسے دلاسا دیتے ہوئے کہا۔
آرتھر نے امید بھرے انداز سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر مایوسی سے سر کو نفی کے انداز میں ہلا دیا۔ میں جیمز کی طرف متوجہ ہو گیا۔
’’کیا تمہیں یقین ہے کہ پچھلے اسٹیشن سے روانہ ہونے کے بعد ریل گاڑی اب تک کسی جگہ نہیں رکی؟‘‘ میں نے اپنے ذہن میں ابھرنے والے ایک نئے خیال کے تحت جیمز سے پوچھا۔
’’جی ہاں۔‘‘ اس نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’پہلی منزل ’بلیولیک‘ ہے جو تقریباً دس منٹ بعد آنے والی ہے۔‘‘
گاڑی اپنی پوری رفتار سے شور مچاتی ہوئی ’بلیولیک‘ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا چند لمحے تک میں اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے دیکھتا رہا‘ وہ ایک چٹیل میدان تھا جہاں پتھروں کے ڈھیر ہیولوں کی صورت میں نظر آ رہے تھے۔ میں نے ایک لمبا سانس لیا اور گردن اندر کر لی۔ میں جیمز کی طرف مڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ’’اور اس دوران گاڑی ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی رہی ہے؟‘‘
’’بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔‘‘ جیمز اعتماد سے بولا۔ ’’صرف اس علاقے میں آ کر رات کے وقت رفتار کچھ کم کر دی جاتی ہے۔‘‘
’’کیا تمہارے خیال میں کوئی شخص اس رفتار سے چلتی گاڑی سے کود سکتا ہے؟‘‘ میں نے ایک امکانی سوال مدنظر رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ناممکن۔‘‘ جیمز بولا۔ ’’اس علاقے میں پٹری کے دونوں طرف پتھریلی زمین ہے۔ اگر کسی نے ایسی احمقانہ کوشش کی ہوگی تو اس کا زندہ بچنا ناممکن ہے۔‘‘
’’چنانچہ ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ قاتل ابھی تک گاڑی میں موجود ہے‘ بہتر ہو گا کہ تم ڈرائیور کو بتا دو کہ ہم ’بلیولیک‘ پر اس واردات کی پولیس کو اطلاع دیں گے اس لیے روانگی میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔‘‘
’’مجھے یہی ڈر تھا کہ میں اپنے پسندیدہ مقام پر ایسے وقت نہیں پہنچ سکوں گی۔‘‘ سنہرے بالوں والی لڑکی نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔ ’’کہ سورج طلوع ہونے کے منظر کی تصویر کشی کر سکوں۔‘‘ میں سرسری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔ ’’میرا خیال ہے تم نے ابھی تک اپنا تعارف نہیں کرایا۔ ویسے مجھے ڈاکٹر کہتے ہیں‘ ڈاکٹر مارک۔‘‘
’’میرا نام جینیفر وکٹر ہے۔‘‘ وہ ایک ادائے ناز سے مسکراتے ہوئے بولی۔ ’’میرا تعلق پیرس سے ہے اور میں مصورہ ہوں‘ لوگ کہتے ہیں ’گرین ویلی‘ کی صبحیں بہت حسین ہوا کرتی ہیں اور سورج نکلنے کا منظر بہت دلکش ہوتا ہے میں اس منظر کی تصویر کشی کرنے جا رہی ہوں۔‘‘
میں نے ایک ہنکارا بھرا۔ ’’کیا تم یہ بتا سکتی ہو کہ گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران تم نے کوئی غیرمعمولی آواز تو نہیں سنی؟‘‘
’’جی نہیں!‘‘ جینیفر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔ ’’جب آپ ڈبے میں داخل ہوئے تھے اس وقت میں جاگ رہی تھی‘ تھوڑی دیر بعد میں گہری نیند سو گئی تھی اور اس شخص کے شور مچانے پر میری آنکھ کھلی تھی۔‘‘ اس نے آرتھر کی طرف اشارہ کیا۔
آرتھر اب تجوری چھوڑ کر پیٹر کی لاش کو گھور رہا تھا۔ وہ پیٹر کی لاش کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے سکتہ ہو گیا ہو‘ مجھے آرتھر کی ذہنی کیفیت کا اندازہ تھا۔ ڈاکٹر ہونے کے ناتے اسے میری ضرورت تھی۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔ اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ’’آرتھر تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔‘‘ میں نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ ’’میں یہاں موجود ہوں اور جو کچھ مجھ سے بن پڑے گا میں کروں گا۔‘‘
’’اگر یہ کمرہ اندر سے مقفل تھا تو قاتل کس طرح اندر آیا؟‘‘ وہ میری بات نظرانداز کرتے ہوئے بولا۔ ’’اور پیٹر کو قتل کر کے تمام زیورات سمیت کس طرح باہر نکلا؟‘‘
’’کئی الجھی ہوئی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔‘‘ میں نے تسلیم کیا۔ ’’اگرچہ بظاہر یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے۔‘‘
’’مگر عملاً ایسا ہو چکا ہے۔‘‘ جیمز نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ ’’یہ درست ہے۔ چور انتہائی شاطر معلوم ہوتا ہے؟‘‘
میں نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔ ’’اچھا تم مجھے یہ بتاؤ کہ گاڑی میں ایسے کتنے افراد ہیں جنہیں تجوری کے قفل کے نمبر معلوم تھے؟‘‘
’’صرف مجھے اور پیٹر کو۔‘‘ جیمز نے جواب دیا۔ ’’لیکن وہ تمام کنڈیکٹر جو ماضی میں اس ٹرین میں سفر کر چکے ہیں اس بات سے ضرور واقف ہوں گے۔‘‘
’’چنانچہ سوائے اس صورت کے کہ کسی مسافر نے کسی اور ذریعے سے قفل کا نمبر معلوم کر لیا ہو یہی کہا جا سکتا ہے کہ تجوری کو تم نے کھولا ہو گا یا پھر پیٹر نے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ جیمز کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ جلد ہی وہ اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولا۔ ’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو ڈاکٹر؟ یقین کرو میں نے تجوری کا دروازہ نہیں کھولا۔‘‘ پھر وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔ ’’اگر ایک لمحے کے لیے یہ تصور کر لیا جائے کہ یہ سب کچھ میں نے کیا ہے تو ڈاکٹر مجھے بتاؤ کہ میں بند کمرے میں کس طرح داخل ہوا اور پھر باہر کیسے آیا؟‘‘
’’پیٹر خود تمہارے لیے دروازہ کھول سکتا تھا۔‘‘ میں نے ہوا میں خیالی تیر چلاتے ہوئے کہا۔
’’لیکن وہ آرتھر کے لیے بھی ایسا کر سکتا تھا؟‘‘ جیمز نے بے بسی کے انداز میں اس طرح کہا جیسے کوئی ڈوبنے والا تنکوں کا سہارا لیتا ہے۔ ’’یہی نہیں بلکہ پیٹر اس کے کہنے سے تجوری بھی کھول سکتا تھا آخر وہ اس کے زیورات تھے۔‘‘
’’تمہاری اتنی ہمت۔‘‘ آرتھر یہ سن کر اچھل پڑا اور غصے میں جیمز سے اُلجھ گیا۔ ’’تم مجھے موردِ الزام ٹھہرانا چاہتے ہو۔
میں اپنی ہی حفاظت میں لے جائے جانے والے زیورات چوری کروں گا۔ چور. قاتل‘ تم ہو۔‘‘
’’ختم کرو یہ جھگڑا۔‘‘ میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا اور ان دونوں کو الگ کر دیا۔‘‘ ہم آپس میں لڑ کر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ پیٹر مر چکا ہے اور قاتل ابھی تک گاڑی میں ہے۔ چند منٹ بعد ہم ’بلیولیک‘‘ پہنچنے والے ہیں۔ ہمیں وہاں کے شیرف کے سوالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس لیے یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ ہم پہلے اپنے طور پر صورت حال سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘ ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ آرتھر نے ایک جھٹکے سے کہا۔ ’’مجھے صرف اپنے زیورات واپس چاہیں۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ تمہیں اس شخص کی زیادہ فکر ہونا چاہیے جو تمہارے زیورات بچانے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔‘‘ جینیفر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ’’کم سے کم اس کی لاش پر کوئی چادر وغیرہ ہی ڈال دو۔‘‘
میں نے جینیفر کی طرف دیکھا اور سر کو اثبات میں ہلاتے ہوئے پیٹر کے بستر سے کمبل اٹھا کر اس کی لاش پر ڈال دیا‘ کمبل ڈالتے ہوئے اچانک میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔ ’’یہ کنڈیکٹر کی وردی جو اس نے پہن رکھی ہے؟‘‘ میں نے جیمز سے سوال کیا۔ ’’کیا یہ وہی ہے جو پہلے پہنے ہوئے تھا۔ میرا مطلب ہے جب ہم اس سے آخری بار ملے تھے۔‘‘ ’’بالکل وہی ہے۔ ہم اپنے ساتھ رات کے سفر کے لیے دو وردیاں نہیں رکھتے۔‘‘ جیمز بولا۔ ’’کل صبح تک ہم اپنے گھر واپس پہنچ چکے ہوں گے۔‘‘
’’اور گاڑی میں کتنے مسافر ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ڈاکٹر صاحب یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ یہ مسافرگاڑی کم اور مال گاڑی زیادہ ہے۔‘‘ جیمز تفصیل بتاتے ہوئے بولا ’’اس ٹرین میں مسافروں کے لیے صرف دو ڈبے لگائے جاتے ہیں۔‘‘ ’’مجھے یہ سب معلوم ہے۔‘‘ میں نے جھنجھلا کر کہا۔ ’’مجھے‘ صرف یہ بتاؤ کہ گاڑی میں کل کتنے مسافر سوار ہیں۔‘‘
’’وہی بتا رہا ہوں ڈاکٹر۔‘‘ جیمز بولا۔ ’’یہ اتفاق کی بات ہے کہ آج رات بہت کم مسافر ہیں۔ دوسرے الفاظ میں صرف اتنے ہی ہیں جتنے اس وقت یہاں موجود ہیں۔ تم لوگوں کے علاوہ ایک صاحب اور ہیں‘ والٹ ڈرینر۔‘‘
’’مسافر ڈبے کے ساتھ جو ڈبّا لگا ہے اس میں کون ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’وہ خالی ہے۔‘‘ جیمز جلدی سے بولا۔ ’’ اور اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتا دوں کہ گاڑی کے عملے میں ایک انجینئر اور ایک فائرمین بھی ہے نیز ’بلیولیک‘ سے مال اتارنے اور چڑھانے کے لیے ایک آدمی گاڑی میں سوار ہو گا۔‘‘
’’اچھا آؤ پہلے والٹ صاحب سے ملاقات کر لیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’ہو سکتا ہے وہ اس معاملے میں ہماری کوئی مدد کر سکیں۔‘‘
’’مسافر ڈبے میں داخل ہو کر میں نے ایک طائرانہ نظر ڈبے پر ڈالی۔ میری نگاہیں دو سوٹ کیسوں پر جم گئیں جو چوبی تختوں کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ میں چند لمحے تک انہیں دیکھتا رہا پھر میں والٹ کی طرف متوجہ ہو گیا جو شاید گہری نیند سو رہا تھا۔ جیمز نے اسے نیند سے بیدار کیا تو وہ غصے سے بے قابو ہو گیا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے آنکھیں مَلتے ہوئے پوچھا۔ ’’چلے جاؤ یہاں سے۔‘‘
’’ذرا نشست سے باہر نکل کر بات کرو تو بتایا جائے۔‘‘ میں بولا ’’معاملہ ہی کچھ ایسا ہے کہ آپ کو اس وقت ناحق تکلیف دینا پڑی۔‘‘
جب وہ نشست سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ وہ ایک گنجے سر والا دراز قامت شخص ہے۔
میرے ذہن میں یہ خیال در آیا تھا کہ یہ چوری کسی چھوٹے قد والے آدمی نے نہ کی ہو‘ میں اپنے اس پہلو پر توجہ سے غور کر رہا تھا اور ’زول‘ کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا۔ ’’ہاں اب بتاؤ آخر مجھے آدھی رات کوجگانے سے تمہاراکیا مقصد ہے؟‘‘ اس نے غصے میں پوچھا۔ اس کے تیور بتا رہے تھے کہ اگر اسے کوئی معقول جواب نہ ملا تو وہ لڑ پڑے گا۔ ’’گاڑی میں ایک قتل ہو گیا ہے‘ والٹ صاحب۔‘‘ میں نے بغیر کسی تمہید کے کہنا شروع کیا ’’ہمیں تفتیش کے سلسلے میں ہر مسافر کے تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘ ’’قق.قتل؟‘‘ والٹ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’ہاں۔‘‘ میں بغور اسے دیکھتے ہوئے بولا ’’تجوری والے چھوٹے کمرے میں۔‘‘
’’میرے خدا‘ آج کل کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔‘‘ والٹ سراسیمہ لہجے میں بولا۔
اس سے آگے میں نے اُس سے کوئی بات نہ کی کیونکہ گاڑی کی رفتار آہستہ ہونے لگی تھی یہاں تک کہ وہ بالکل رُک گئی۔ اس وقت دو بج کر پچیس منٹ ہوئے تھے اور گاڑی ’’سبزجنت‘‘ کے اسٹیشن میں داخل ہو چکی تھی۔ گاڑی رکنے کے آدھ گھنٹے بعد ہی ’بلیولیک‘ کا شیرف ایڈگر اپنے ماتحتوں کے ساتھ ہمارے ڈبے میں داخل ہو گیا۔ اس نے ایک نگاہِ غلط ہم سب پر ڈالی اور تجوری والے کمرے میں گھس گیا۔ اس نے لاش دیکھی‘ کچھ بڑبڑایا اور اپنے ماتحتوں کو ہدایات دینے لگا۔ اس نے کچھ ماتحتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ چوری شدہ زیورات کے لیے گاڑی کی تلاشی لیں۔ ’’زیورات اور ہیرے پندرہ ڈبوں میں بند تھے۔‘‘ آرتھر نے اسے بتایا۔ ’’اور سب سے بڑے ڈبے کی لمبائی دس انچ اورچوڑائی آٹھ انچ تھی۔‘‘
’’بشرطیکہ زیورات اب بھی اپنے ڈبوں میں ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ آرتھر حیرت سے بولا۔
’’چور زیورات کے ڈبے چلتی ٹرین سے کہیں بھی پھینک سکتا ہے اور زیورات اس سے کہیں زیادہ چھوٹی جگہ چھپا سکتا ہے۔‘‘
’’اگر وہ ابھی تک گاڑی پر ہیں تب ہم انہیں تلاش کر لیں گے۔ یہاں تک کہ مسافروں کے سامان کی تلاشی بھی لیں گے۔‘‘ شیرف نے کہا مگر مجھے اُمید نہیں تھی کہ شیرف یا اس کے ماتحت زیورات اور ہیرے پانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور وہ ہوئے بھی نہیں۔ ایک ایسا ہوشیار قاتل جو بند کمرے میں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے‘ زیورات کو بھی ایسی جگہ چھپا سکتا ہے جہاں انہیں تلاش نہ کیا جا سکے۔
’’وہ زیورات بہت قیمتی تھے۔‘‘ آرتھر نے شیرف کی ناکامی کے بعد اس سے کہا۔ ’’تمہیں بہر صورت انہیں برآمد کرنا ہے۔‘‘
’’ریلوے کا وقت بہت قیمتی ہے۔‘‘ جیمز نے ناگواری سے کہا۔ ’’ہم زیادہ دیر یہاں نہیں رُک سکتے۔‘‘
میں نے محسوس کیا کہ ان دونوں کے درمیان ایک بار پھر جھگڑا ہونے لگا ہے‘ تو میں نے درمیان میں مداخلت کی۔
’’ممکن ہے میں کچھ مدد کر سکوں۔‘‘ میں پرسکون لہجے میں بولا۔ ’’ہم یہ بھولے جا رہے ہیں کہ مقتول نے ہمارے لیے ایک پیغام چھوڑا تھا‘ ایسا پیغام جس سے اس کے قاتل کا اشارہ ملتا ہے‘ بدقسمتی سے وہ نامکمل رہا‘ موت نے اُسے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اسے مکمل کر سکتا۔ اگر اس لفظ کو مکمل کر لیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہم قاتل تک باآسانی پہنچ جائیں گے۔‘‘
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں سناٹے کو توڑتے ہوئے بولا۔ ’’میرا ایک خیال یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے یہ چوری کسی چھوٹے قد والے آدمی نے کی ہو اور یہ اشارہ اُسی کی طرف ہو۔‘‘
’’چھوٹے قد والا آدمی۔‘‘ جیمز نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘
’’کیا اس گاڑی سے متعلق اب یا کبھی پہلے کوئی چھوٹے قد والا آدمی رہ چکا ہے۔‘‘ میں نے سوال کیا۔ ’’یا گاڑی کے عملے میں یا مسافر کی حیثیت سے؟‘‘
جیمز نے نفی میں سر ہلایا۔ شیرف بہت مضطرب نظر آ رہا تھا۔ ’’یہ چھوٹے قد والا آدمی درمیان میں کہاں سے آ گیا؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’پیٹر کو ایک بند کمرے میں مقتول پایا گیا۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔ ’’لیکن میں تمہیں ایک ایسا راستہ دکھا سکتا ہوں جس کے ذریعے ایک چھوٹے قد والا آدمی یہ واردات کر سکتا تھا۔‘‘
ہم لوگ تجوری والے ڈبے میں واپس گئے تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ والٹ فرش پر خون کے نشانات دیکھ رہا تھا۔ پیٹر کی لاش اسپتال بھجوا دی گئی تھی۔ وہ ہمیں دیکھ کر چونک پڑا۔
مجھے اس کی یہاں موجودگی کا خیال تک نہیں آیا تھا۔ شیرف پہلے ہی اس سے سوالات کر چکا تھا جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ وہ ایک سفری سیلز مین ہے اور اکثر رات کو گاڑی سے سفر کرتا ہے۔ والٹ نے یہ بات بھی جتا دی تھی کہ اُسے مقتول کنڈیکٹر‘ چوری شدہ ہیروں اور قیمتی زیورات سے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘
’’ویسے یہ واردات انتہائی خوفناک ہے۔‘‘ اس نے پژمردہ لہجے میں کہا اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ قاتل بند کمرے سے کس طرح نکل گیا۔ کیا وہ کوئی چھلاوا تھا؟
’’والٹ صاحب‘ قاتل انتہائی ہوشیار آدمی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’مجھے یقین ہے کہ اگر یہ گتھی سلجھ جائے تو قاتل ہماری گرفت میں ہو گا۔‘‘
تم ہمیں یہاں یہ دکھانے لائے تھے کہ کس طرح ایک چھوٹے قد والا آدمی کنڈیکٹر پیٹر کو قتل کر کے یہاں سے فرار ہو سکتا ہے؟‘‘ شیرف ایڈگر‘ والٹ کو گھورتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا۔
’’پہلی بات تو یہ کہ چھوٹے قد کے آدمی کے لیے یہاں چھپنے کی بڑی گنجائش ہے۔ تجوری کے پیچھے بھی کافی جگہ ہے یا پھر وہ ان ڈبوں کے پیچھے پوشیدہ رہ سکتا ہے جو کمرے میں رکھے ہیں۔ ان مقامات پر ایک عام آدمی چھپنے میں دقت محسوس کر سکتا ہے‘ لیکن ایک پستہ قد آدمی کے لیے یہ کام بہت آسان ہے۔‘‘
’’تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب پیٹر نے اس کمرے کا دروازہ بند کیا تو وہ آدمی پہلے سے یہاں چھپا ہوا تھا۔‘‘ شیرف میری بات کا مطلب سمجھتے ہوئے بولا۔
’’ہاں‘‘ میں پریقین لہجے میں بولا۔
’’اور وہ اس وقت بھی یہاں چھپا ہوا تھا جب تم لوگ اس کمرے کا عقبی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں بولا۔ ’’یہ ممکن نہیں تھا۔ اگر وہ کہیں چھپا ہوا ہوتا تو جیمز عقبی دروازے سے داخل ہوتے اُسے ضرور دیکھ لیتا۔ کیونکہ وہاں سے اُسے تجوری کے یا ان ڈبوں کے پیچھے دیکھنا ممکن تھا۔‘‘ ’’تب پھر وہ پستہ قدآدمی بند کمرے سے باہر کس طرح نکلا؟‘‘ شیرف میری طرف طنز بھری نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
میں کمرے کے بیرونی درازے کی طرف بڑھا جس میں چھوٹی کھڑکی لگی تھی۔ ’’اس کھڑکی کو دیکھ رہے ہو۔‘‘ میں کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’یہ کھڑکی دوسری کھڑکیوں کے برعکس اندر سے کھول کر باہر سے بھی بند کی جا سکتی ہے اور اتنی چھوٹی ہے کہ ایک اوسط آدمی تو اس میں سے باہر نہیں نکل سکتا‘ لیکن ایک چھوٹے قد والے آدمی کے لیے اس کھڑکی سے نکلنا کچھ زیادہ مشکل ثابت نہیں ہو گا۔ وہ اندر سے کھڑکی کھول کر باہر نکلا اورکھڑکی کا شیشہ اپنی جانب کھینچ کر اُسے بند کر دیا پھر کھڑکی کا دروازہ اندر سے خودبخود بند ہو جاتا ہے۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے قاتل بند کمرے سے فرار ہو سکتا تھا۔‘‘ میں نے محسوس کیا کہ والٹ مجھے تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ جب میں نے بات ختم کی تو وہ فوراً بولا۔
’’بہت خوب ڈاکٹر‘ تمہیں ڈاکٹر کے بجائے سراغ رساں ہونا چاہیے تھا‘ کیا نکتہ لائے ہو‘ بہت شاندار۔‘‘
’’ڈاکٹر۔‘‘ شیرف نے اُکھڑے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ اُسے والٹ کا مجھے اس طرح سراہنا شاید برا لگا تھا۔ ’’اس چھوٹے آدمی نے پیٹر کو تجوری کھولنے پر کس طرح مجبور کیا ہو گا؟‘‘
’’یہ میں نہیں جانتا۔‘‘ میں نے کندھے اُچکا کر کہا۔
’’کیا اُسے چاقو سے دھمکا کر؟‘‘ شیرف نے خود ہی جواب دینے کی کوشش کی۔
’’ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو۔‘‘ میرا لہجہ اعتماد سے عاری تھا۔
’’تمہیں شاید ابھی تک خود اپنے نظریے پر یقین نہیں ہے۔‘‘ شیرف پُراعتماد لہجے میں بولا۔
’’درست ہے۔ کیونکہ ابھی تک اس واردات کے بعد سے ہم کسی ایسے آدمی سے دوچار نہیں ہوئے ہیں جس کا قد چھوٹا ہو۔ یہ صرف میرا خیال ہے جس پر میں غور کر رہا ہوں۔‘‘ شیرف میری بات سن کر شرلاک ہومز کے سے انداز میں کچھ سوچنے لگا اور میں آرتھر کے اشارے پر اس کی جانب بڑھ گیا۔
’’کیا آپ اپنے اس احمقانہ خیال پر سچ مچ یقین رکھتے ہیں۔‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا۔‘‘ میں صرف تھوڑا سا وقت حاصل کرنے کے لیے یہ سب کر رہا ہوں۔‘‘ میں ایک لمحے کے لیے رک کر دوبارہ بولا۔ ’’اطمینان رکھو آرتھر‘ میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں کہ تمہیں تمہارے تمام زیورات اور ہیرے واپس مل جائیں۔‘‘
’’میرا خیال ہے کنڈیکٹر جیمز مجرم ہے؟‘‘ آرتھر پُریقین لہجے میں بولا۔ ’’اُسے تجوری کے قفل کا نمبر بھی معلوم تھا اور پیٹر کسی اندیشے کے بغیر اپنے ساتھی کو دیکھ کر دروازہ بھی کھول سکتا تھا پھر بعد میں جب اس نے پیٹر کو قتل کر کے تمام زیورات اور ہیرے نکال لیے تو اس ڈبے کے عقبی دروازے سے رخصت ہو گیا‘ پھر مال ٹھکانے لگا کر وہ منصوبے کے تحت آپ کے پاس پہنچا تاکہ آپ اس کی نیک نامی کی گواہی دے سکیں۔ پھر جب آپ نے اسے عقبی دروازے کی طرف بھیجا تو اس نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ دروازہ بند ہو۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ’’میں نے خود اپنی آنکھوں سے اُسے اس دروازے کی چٹخنی‘ جو اندر سے لگی تھی‘ کھولتے دیکھا تھا۔‘‘
’’تب پھر اس صورت میں اس واردات کا سراغ ناممکن ہو جاتا ہے۔‘‘ آرتھر نے افسردگی سے کہا۔
’’ممکن ہے اور نہیں بھی۔‘‘ میں نے ایک طویل سانس لے کر کہا اور مڑ کر شیرف کی طرف دیکھنے لگا۔
جیمز اور ٹرین کا انجینئر‘ شیرف سے گاڑی چلانے کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔
’’ہمیں پہلے ہی ایک گھنٹہ دیر ہو چکی ہے۔‘‘ جیمز کہہ رہا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ شیرف ان کی بات مانتے ہوئے بولا۔ لیکن میں تمہارے ساتھ اگلے اسٹیشن تک جاؤں گا۔ وہ علاقہ بھی میری عملداری میں آتا ہے۔‘‘
سنہرے بالوں والی جینیفر خراماں خراماں چلتی ہوئی میرے پاس آئی‘ وہ دلکش خط وخال کی اور متناسب جسم کی پرکشش لڑکی تھی۔ میں نے پہلی بار اس کا بغور جائزہ لیا‘ اس کے دلکش چہرے پر عجیب سی معصومیت اور بھولپن تھا۔ وہ اگر مصورہ بننے کے بجائے ماڈل یا فلموں وغیرہ میں اداکاری کا پیشہ اختیار کرتی تو خوب دولت اور شہرت کماتی۔
’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے سورج طلوع ہونے کا منظر کینوس پر اتارنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔‘‘ وہ میرے بے حد قریب پہنچ کر سرگوشی میں بولی۔ ’’لیکن میں سوچ رہی ہوں کہ اس کے بجائے شیرف ایڈگر کی ایک قدِ آدم تصویر کیوں نہ بنا لوں‘ جب وہ شرلاک ہومز کے انداز میں سوچتا ہے تو بہت شاندار لگتا ہے۔‘‘
میں اس کی بات پر مسکرا کر رہ گیا‘ اسی اثنا میں گاڑی نے آہستہ آہستہ رینگنا شروع کر دیا. باقی سفر کے دوران کسی کے سونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہم سب ڈبے میں بیٹھے کافی پیتے رہے اور اس واردات کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ میرا ذہن ابھی تک اس گتھی کو سلجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ کوئی ایسی بات تھی جو اب تک میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی۔ جوں جوں اگلا سٹیشن قریب آ رہا تھا‘ خون میری کنپٹیوں پر ٹھوکریں مارنے لگا۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہو رہا تھا کہ اگر میں اگلی منزل تک یہ معاملہ سلجھانہ سکا تو قاتل میرے ہاتھ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
میں نے اپنے پاؤں دراز کر لیے اور سر ڈبے کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ میں ڈبے میں ہونے والی بحث کو بڑے غور سے سننے کے علاوہ اس خونی واردات پر شروع سے غور کرنے لگا۔
’’میں تو کہتا ہوں کہ یہ ریل گاڑی میں چوریاں کرنے والے کسی عادی چور کا کام ہے۔‘‘ والٹ بڑے جوش سے بول رہا تھا۔ ’’وہ ریل کی پٹری کے کنارے لگے ہوئے کسی درخت کی شاخ سے لٹک کر گاڑی کی چھت پر کود گیا اور ہوادان کے ذریعے اس کمرے میں گھس آیا۔‘‘
’’لیکن سوال یہ ہے کہ اس وقت تک پیٹر کیا کرتا رہا۔ کیا اس نے اُسے ہوا دان سے اندر آتے نہیں دیکھا ہو گا؟‘‘ شیرف نے اعتراض کیا۔
’’میرا خیال ہے کہ ڈاکو جب تک اندر نہیں آ گیا اسے پتا ہی نہیں چلا‘‘ والٹ اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے بولا۔ ’’قاتل نے اُسے دھمکا کر تجوری کھلوائی اور پھر اُسے قتل کر کے ہوا دان کو بند کر دیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ مجرم ہم میں سے سے کوئی ہے۔ یہ بات تو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان لوگوں کو چٹخنیاں بند کرنے کی ترکیبیں معلوم ہوتی ہیں۔‘‘
’’لیکن والٹ تم نے شاید اس ڈبے کا بغور معائنہ نہیں کیا۔‘‘ شیرف بڑے سکون سے بولا۔ ’’یہ کوئی عام ڈبا نہیں ہے اور نہ ہی اس کی چٹخنیاں عام دروازوں کی طرح ہیں۔ ذرا اس کے دروازوں کو غور سے دیکھو۔ کوئی ایسی جھری تک نہیں جس میں کوئی ڈوری یا تار ڈال کر چٹخنی بند کی جا سکے۔‘‘
’’کیا چٹخنی کسی چھڑی وغیرہ سے بند نہیں کی جا سکتی؟‘‘ والٹ اصرار کرتے ہوئے بولا۔ ’’میرا مطلب ہے کھڑکی میں ہاتھ ڈال کر۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ شیرف نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’اس چٹخنی کو بند کرنا خاصا مشکل ہے۔ تم خود کوشش کر کے دیکھ لو۔ پھر ایک آدمی کا ہاتھ کھڑکی سے عقبی دروازے کی چٹخنی تک نہیں پہنچ سکتا‘ چاہے اس کے ہاتھ میں چھڑی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ اگر چھڑی وغیرہ استعمال کی گئی ہوتی تو وہ یقینا دروازے پر کسی قسم کے نشانات چھوڑ جاتی جبکہ وہاں ایسا کوئی نشان نہیں ہے۔ مزید برآں یہ کافی وقت طلب کام ہے۔ قاتل کو اس بارے میں دردِ سرمول لینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ دروازہ اگر کھلا بھی ہوتا تب بھی کسی خاص شخص پر شبہ کرنا ممکن نہیں تھا۔‘‘
آرتھر جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا شیرف اور والٹ کی گفتگو سن رہا تھا‘ اچانک اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی۔
’’میرا خیال ہے کہ میں نے اس گتھی کو سلجھا لیا ہے۔‘‘ وہ دبے دبے جوش کے ساتھ بولا۔ ’’ہوا یہ ہو گا کہ چاقو کے زخم سے پیٹر فوری طور پر نہیں مرا اور یہ بات اس سے ثابت ہے کہ اسے بہرحال اپنا آخری پیغام چھوڑنے کی مہلت مل گئی۔ فرض کیا جائے کہ چور نے اُسے قتل کیا اور فرار ہو گیا۔ پیٹر لڑکھڑاتا ہوا دروازے کے پاس آیا اور اس کی چٹخنی لگائی اور پھر فرش پر گر پڑا۔‘‘ ’’نہیں آرتھر۔‘‘ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’یہاں بھی وہی اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ یہ تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ اس ڈبے کی چٹخنی بالکل مختلف ہے اور آسانی سے نہیں لگتی اور پھر پیٹر کو ایسا کرنے کی ضرورت کیا تھی جبکہ وہ چاقو سے زخمی ہو چکا تھا۔ اسے تو اس وقت مدد کے لیے پکارنا چاہیے تھا۔ آخر ہم لوگ برابر کے ڈبے میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ دروازہ چٹخنی سے بند نہیں تھا وہ مقفل بھی تھا۔ اسے پہلے چٹخنی لگانا پڑتی‘ پھر جیب سے چابی نکال کر دروازہ مقفل کرنا پڑتا‘ پھر چابی واپس اپنی جیب میں رکھنا پڑتی اور اگر وہ یہ تمام کام کرنے کے لیے زندہ رہا تب وہ بہت ہی غیرمعمولی آدمی تھا۔ پھر یہ بھی غور طلب بات ہے کہ دروازے کے پاس خون کے صرف چند قطرے گرے ہیں۔ اگر پیٹر کو چٹخنی لگانے اور تالا بند کرنے کے لیے رکنا پڑتا تو اس سے کہیں زیادہ خون یہاں موجود ہوتا۔‘‘ ’’تب میں یہ کہوں گا کہ یہ واردات عملاً ناممکن ہے۔‘‘ آرتھر نے اپنی پہلی رائے کا دوبارہ اظہار کیا۔
’’ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پیٹر کو چڑیلوں یا بھوتوں نے قتل کیا ہے۔‘‘ شیرف نے کہا۔
میں نے ان لوگوں کو تجوری والے ڈبے میں چھوڑا اور خود مسافر گاڑی میں آ گیا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک منزل پر ٹھہر کر آگے روانہ ہو گئی۔ چار بج چکے تھے اور ابھی ہمیں ’گرین ویلی‘ پہنچنے کے لیے نصف گھنٹہ درکار تھا۔
اس اسٹیشن کے بعد گاڑی ابھی کچھ ہی دور گئی تھی کہ میں نے دو ڈبوں کے درمیان پلیٹ فارم کی جانب سے ایک چیخ کی آواز سنی‘ آواز جینیفر کی معلوم ہوتی تھی۔ شاید وہ کسی مصیبت میں گرفتار تھی۔ میں نے باہر نکل کر دیکھا کہ جینیفر اپنی نشست پر منہ کے بل گری ہوئی تھی اور بری طرح چیخ رہی تھی۔ جیسے ہی میں نے قریب جا کر اُس کا کندھا چھوا‘ وہ دہشت زدہ انداز میں پلٹ کرمجھے گھورنے لگی۔ اُس لمحے مجھے اُس پر کسی خوفزدہ ہرنی کا گمان گزر رہا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’وہ۔ وہ۔ مجھے مارنا چاہتا تھا۔‘‘ وہ خوفزدہ لہجے میں کسی نادیدہ شے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
’’کون؟‘‘ میں نے اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا۔ اس وقت ہم دونوں کے علاوہ وہاں کوئی بھی نہ تھا۔
’’وہ ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا۔‘‘ اب وہ قدرے سنبھل چکی تھی۔ ’’اس کے ہاتھ میں چاقو تھا اور وہ مجھے کھینچ کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔‘‘ میں ایک طویل سانس خارج کر کے رہ گیا‘ بالآخر میری شہادت کی تصدیق ہو گئی۔ جینیفر اس سے زیادہ کچھ نہ بتا سکی کہ اُس چھوٹے آدمی کے خدوخال بندروں سے ملتے جلتے تھے اور وہ اچانک کہیں سے نمودار ہو کر اُس پر حملہ آور ہوا تھا۔ اگر وہ چیخ کر مدد کے لیے مجھے نہ بلا لیتی تو خدا جانے کیا ہو جاتا۔ ہم نے فوراً اس واقعے کی اطلاع شیرف کو دی تو اُس نے اپنے دو ماتحت پراسرار چور کی تلاش میں دوڑا دیے۔ بہرحال جینیفر کا خوف کسی بھی طور کم نہ ہو رہا تھا۔ وہ اس امر پر زیادہ پریشان تھی کہ اب ’گرین ویلی‘ میں اپنی تصویر کیسے مکمل کرے گی۔
’’فکر مت کرو‘ میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔‘‘ میں نے سینہ تان کر جواب دیا۔
ہمارے گاڑی سے اترنے سے قبل شیرف نے ایک بار پھر ہمارے سامان کی تلاشی لی۔ میں نے اسے اپنا دواؤں کا ڈبا کھول کر دکھایا اور جینیفر نے اپنا رنگوں کا ڈبا کھولا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آیا یہ واردات اتنی آسان اور اتنی سادہ ہو سکتی ہے‘ کیا حقیقت میں اس کا حل اتنا ہی آسان تھا جتنا اس وقت میرے ذہن میں آیا تھا۔
’’سورج طلوع ہونے والا ہے۔‘‘ جینیفر نے کہا۔ ’’ہو سکتا ہے کہ آخرکار مجھے اس کی منظرکشی کرنے کا موقع مل جائے۔ کیا آپ میرے ساتھ چلیں گے ڈاکٹر؟‘‘
’’ضرور کیوں نہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’میرا شفاخانہ کھُلنے میں ابھی دو گھنٹے باقی ہیں۔ میں بس ایک لمحے میں ابھی آیا‘ پھر تمہارے ساتھ چلوں گا۔‘‘
شیرف کے پاس آ کر میں نے اپنے بیگ سے نسخہ لکھنے کا کاغذ نکالا اور اس پر چند سطور لکھ کر شیرف کو دے دیا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ شیرف نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’صرف ایک نظریہ۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’ممکن ہے کہ یہ اس واردات کو حل کرنے میں یہ تمہاری مدد کر سکے۔‘‘ جیمز گاڑی پر چڑھ گیا اور گاڑی کے انجینئر کو ہری جھنڈی دکھائی‘ دوسرے لمحہ ٹرین ’گرین ویلی‘ کے اسٹیشن سے باہر نکل کر نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ ’’تم یہاں کیوں اتر گئے۔‘‘ شیرف نے آرتھر سے پوچھا۔ ’’تم تو کہیں اور جا رہے تھے۔‘‘
’’زیورات اور ہیروں کے بغیر میں وہاں کیا منہ لے کر جاؤں گا۔ وہ میری نگرانی میں تھے اس لیے تمام تر ذمہ داری مجھ پر آتی ہے۔‘‘ آرتھر رونی صورت بناتے ہوئے بولا۔ ’’اگر زیورات نہ ملے تو‘ تو میں.!‘‘ آرتھر ایک رات کے اندر کئی برسوں کا بیمار نظر آنے لگا تھا اس کے چہرے پر موت جیسی زردی چھائی ہوئی تھی۔ اس کی نگاہیں دور اُفق پر جمی ہوئی تھیں۔ ’’آؤ۔‘‘ میں نے بڑے اعتماد سے جینیفر سے کہا۔ ’’جلدی کرو‘ کوئی مناسب جگہ تلاش کر لو۔ ورنہ تم سورج طلوع ہونے کی تصویر کشی نہ کر سکو گی۔‘‘ ’’کیا آپ واپس آئیں گے؟‘‘ آرتھر نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بے چینی سے پوچھا۔
’’ہاں‘‘ میں نے اس کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا ’’کچھ دیر بعد۔‘‘
جینیفر نے ایک ہاتھ سے اپنا ایزل اور دوسرے ہاتھ میں رنگوں کا ڈبا اٹھایا ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنا بیگ ایک ہاتھ سے پکڑتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں اس کا رنگوں کا ڈبا لے لیا۔ ہم اسٹیشن سے قریب ہی تالاب کی جانب چل دیے یہ مقام اسٹیشن سے نظر نہیں آتا تھا اور عین ممکن تھا کہ ہم دونوں کے علاوہ اس جگہ کوئی اور نہ ہو۔
’’کیا آپ اکثر ’گرین ویلی‘ آتے رہتے ہیں۔‘‘ جینیفر نے پوچھا۔ وہ اب بڑی ہشاش بشاش نظر آ رہی تھی اس نے تالاب کے کنارے پہنچ کر اپنا ایزل اس طرح رکھ دیا کہ اس کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ ’’نہیں‘ میں پہلی مرتبہ اپنے ایک دوست ڈاکٹر کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے آیا ہوں۔ میں لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے بولا ’’اور تم‘ کیا تم یہاں پہلے بھی آتی رہی ہو۔‘‘ جینیفر نے رنگوں کا ڈبا کھول کر آئل پینٹ کی ایک نلکی نکالی۔ وہ سرخ رنگ تھا اور اس کی سرخی دیکھ کر مجھے تجوری والے ڈبے میں پیٹر کا بہتا ہوا خون یاد آ گیا۔ ’’میں پہلے آئی تو ہوں‘ مگر زیادہ نہیں۔‘‘ جینیفر نے کہا۔ ’’خاص طور سے رات کی گاڑی سے سفر کرنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔‘‘
میں نے سوچا کہ اس وقت ایک تیر اندھیرے میں چھوڑنے کا موقع ہے۔ میں چند لمحے تک گھاس پر ٹہلتا رہا پھر ایک دم رُک کر بولا۔
’’میرا خیال ہے کہ مجھے پیٹر کے اصل قاتل کا سراغ مل گیا ہے؟‘‘
جینیفر کا ہاتھ فضا میں معلق ہو گیا۔ اس کے برش میں سرخ رنگ لگا ہوا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ سرد آواز میں بولی۔
’’بہت سی پراسرار وارداتوں کی طرح یہ واردات بھی اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ قاتل کون ہے۔ بجائے اس کے کہ قتل کیسے ہوا اور اب تک جو ہم سمجھنے میں ناکام رہے اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہم نے یہ اہم نکتہ نظرانداز کر دیا تھا۔ ہم صرف اس بات پر غور کرتے رہے کہ بند کمرے میں کوئی شخص کس طرح پیٹر کو قتل کر کے فرار ہو سکتا ہے جبکہ بنیادی طور پر ہمیں پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ آخر ہم سب مسافروں میں سے قاتل کون ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم اسے حل نہیں کر پا رہے تھے چنانچہ اہم سوال یہ نہیں تھا کہ قتل کس طرح ہوا اور قاتل کیسے فرار ہوا بلکہ یہ ہے کہ کس نے تجوری کھولی اور زیورات چرائے اگر ہم اس سوال کا جواب دے سکیں تو باقی باتوں کی وضاحت خودبخود ہو جائے گی۔‘‘ میں یہ سب باتیں ایک ہی سانس میں کہہ گیا تھا اور اپنی باتوں کا ردعمل جینیفر کے چہرے پر تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’’اور آپ کا خیال ہے کہ آپ اس کا جواب جانتے ہیں۔‘‘ جینیفر بے پروائی سے بولی۔
میں نے مشرق کی طرف دیکھا۔ سورج طلوع ہو رہا تھا اور اس کی کرنیں میرے منہ پر پڑ رہی تھیں۔
’’ایک لمحے کے لیے ہم پیٹر کے قتل کو نظرانداز کر دیں تو اس کا جواب بآسانی مل سکتا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’وہ ایک مقفل کمرے میں بالکل اکیلا تھا اور ان آدمیوں میں سے ایک تھا جسے تجوری کے قفل کے نمبر معلوم تھے۔ تجوری کھولی گئی زیورات اور ہیرے نکالے گئے۔ اب تم اس سوال کا جواب سمجھ گئیں؟ اگر نہیں تو واضح الفا ظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ چور پیٹر کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ صرف وہی تجوری کھول کر زیورات نکال سکتا تھا اور اسی نے نکالے بھی تھے۔‘‘
’’ڈاکٹر تم کیوں خوامخواہ کی دردِ سری میں پڑے ہو۔ یہ پولیس کا کام ہے۔ وہ جلد ہی اصل حقائق کا پتا لگا لے گی۔ اور جہاں تک مجرم کا سوال ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ریلوے کے کسی پرانے ملازم کا شاخسانہ ہے۔‘‘ جینیفر بولی’’ اگر موت پیٹر کو تھوڑی اور مہلت دے دیتی اور وہ ادھورے نام کو مکمل کر دیتا تو اب تک تمام معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔ جینیفر ایک لمحے کے لیے رک کر دوبارہ بولی۔ ’’اگر تمہاری بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ چاقو کہاں گیا جس سے پیٹر کو ہلاک کیا گیا ہے اور زیورات اور وہ ہیرے کہاں گئے؟‘‘
میری نگاہیں کینوس پر جمی ہوئی تھیں۔ جینیفر نے برش سے ایک خط کھینچا۔ ایک سرخ خط جو اس رنگ سے بہت گہرا تھا جو اس وقت آسمان کا نظر آ رہا تھا۔
’’جینیفر‘ یہ واقعی ایک دلچسپ سوال ہے۔‘‘ میں مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’اس واردات میں اس کا ایک ساتھی بھی تھا۔ مقتول پیٹر نے ہم سے کہا تھا کہ وہ لیٹنے کا ارادہ کر رہا ہے لیکن جب ہم نے اسے مقتول پایا تو اس نے اپنی پوری وردی پہنی ہوئی تھی اس کا مطلب ہے کہ اسے کسی کے آنے کی توقع تھی۔ کوئی عام مسافر نہیں جسے یہ بھی علم نہیں تھا کہ زیورات گاڑی پر رکھے جا چکے ہیں۔ بلکہ کوئی ایسا فرد جسے پیٹر نے پہلے سے زیورات اور ہیروں کے متعلق بتا دیا تھا۔ تقریباً اسی وقت جب آرتھر نے ریلوے حکام کو اطلاع بھیجی ہو گی کہ وہ اس گاڑی کے تجوری والے ڈبے میں زیورات رکھوانا چاہتا ہے۔‘‘
’’لیکن آپ یہ سب اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’اس لیے کہ وہ فرد جو اس چوری میں پیٹرکی مدد کر رہا تھا۔‘‘ میں ایک لمحے رک کر جینیفر کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا۔ ’’وہ. تم تھیں‘ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ ایک بار ہم یہ طے کر لیں کہ چور پیٹر تھا اور اس نے زیورات تجوری سے نکال کر اپنے ساتھی کو دینے کا منصوبہ بنایا تھا تو مقفل ڈبے میں قتل کا معاملہ خودبخود واضح ہو جاتا ہے۔ اس نے تجوری سے زیورات نکالے اور دروازے میں موجود چھوٹی کھڑکی کے ذریعے تمہیں دے دیے۔ تم پہلے سے وہاں انتظار کر رہی تھیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ زیورات کی چوری کے بارے میں تم دونوں نے پولیس کو مطمئن کرنے کے لیے کون سی فرضی داستان سوچ رکھی تھی لیکن پیٹر کو یہ داستان سنانے کا موقع نہیں مل سکا کیونکہ اس دوران تم یہ فیصلہ کر چکی تھیں کہ اس مال غنیمت میں پیٹر کو حصہ دار نہیں بناؤ گی۔‘‘ میں ایک لمحے کے لیے رکا۔ جینیفر غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی چمک خطرناک ہوتی جا رہی تھی۔
’’اور جیسے ہی زیورات تمہارے قبضے میں آ گئے تم نے زہر آلود چاقو نکال کر کھلی کھڑکی کے ذریعے اسے پیٹر کے سینے میں اتار دیا۔ جو اس وقت ٹھیک کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ وہ زخم کھا کر لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہٹا اور تجوری کے سامنے فرش پر گر پڑا۔ تم نے چاقو مار کر اس کے سینے میں نہیں چھوڑ دیا تھا بلکہ زخم لگانے کے ساتھ ہی اسے جس طرح پکڑے ہوئے تھیں اسی طرح کھڑکی سے باہر نکال لیا۔ اس کے بعد تم نے بڑی آسانی سے کھڑکی کا شیشہ بند کر دیا اور وہ خود کار قفل کی وجہ سے اپنے آپ بند ہو گیا چنانچہ تم نے دیکھا کہ معاملہ یہ نہیں تھا کہ قاتل بنڈ ڈبے سے کس طرح فرار ہوا‘ کیونکہ اس نے کسی بھی وقت اس کے اندر قدم رکھا ہی نہیں تھا۔‘‘
’’بہت خوب ڈاکٹر۔‘‘ جینیفر ایک قہقہہ لگا کے بولی۔ ’’گویا آپ کے خیال میں قتل میں نے کیا ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘ میں بڑے اعتماد سے بولا۔ ’’اور خود پیٹر نے اپنے آخری پیغام میں تمہاری جانب اشارہ کیا ہے۔‘‘
’’کیا اس کے خیال میں میرا نام زول تھا۔‘‘ جینیفر بولی‘ وہ بڑی پرسکون نظر آ رہی تھی۔
’’نہیں یہ ایک ادھورا نام ہے۔ اور اگر یہ پورا نام ہوتا تب بھی بات صاف نہیں ہوتی۔‘‘ میں نے بتایا۔ ’’اس سوال کا جواب میری سمجھ میں اس وقت آیا جب تم نے خود پر حملے کا ڈراما کیا‘ اُس وقت تو میں نے تمہاری کہانی پر یقین کر لیا مگر بعدازاں میرے ذہن نے تمہاری گھڑی ہوئی کہانی کو سچ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اگر ایسا کوئی پراسرار شخص گاڑی پر موجود ہوتا تو تم پر حملہ کرنے کے بجائے ہیروں سمیت فرار ہونے کو ترجیح دیتا۔ پھر اُسے تم پر حملہ کرنے کی کوئی ایسی ضرورت بھی نہ تھی۔ بہرحال مقتول پیٹر نے تمہارا نام لکھنے کے بجائے وہ طریقہ اختیار کیا جو مناسب ترین تھا۔ اس نے اپنے خون سے تمہاری نشست کا نمبر لکھ دیا۔ وہ لفظ ’زولف‘ لکھنا چاہتا تھا لیکن موت نے اسے مہلت نہ دی‘ اور زولف جرمن زبان میں بارہ کے مترادف ہے۔ اس نے زول کا لفظ لکھ کر تمہاری جانب اشارہ کیا تھا کیونکہ ٹرین میں یہی تمہاری نشست کا نمبر ہے۔‘‘
اب جینیفر کی آنکھوں میں سختی نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے چہرے کے تیور خطرناک ہو گئے تھے۔
’’اور زیورات کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ اس نے بھاری آواز میں پوچھا۔ ’’اگر میں قاتل ہوں تو زیورات اور ہیرے بھی میرے پاس ہونا چاہیے تھے اور پولیس کو تلاشی کے دوران یقینا مل جاتے۔‘‘ ’’جب سے تم نے اپنی مصوری شروع کی ہے ایک ہی رنگ استعمال کر رہی ہو اور وہ بھی غلط ہے۔‘‘ میں اس کے قریب پہنچ کر بولا۔ ’’بہت زیادہ گہرا سرخ ہے۔ غالباً اس لیے کہ رنگوں کی یہ تمام نالیاں اپنے اندر وہ چیز نہیں رکھتیں جو ان میں ہونی چاہیں۔‘‘
میں نے دو نالیاں اٹھا لیں اور انہیں دبا کر دیکھا اور اندر سے بے حد سخت محسوس ہو رہی تھیں۔
’’یہ سب نالیاں رنگوں سے خالی ہیں۔‘‘ میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’ان کا پچھلا حصہ کھول کر دوبارہ بند کیا گیا ہے۔ یہ ہیرے چھپانے کی بہت ہی بہترین جگہ ہے۔ شیرف کا کوئی ماتحت یہ شبہ تک نہیں کر سکتا تھا کہ ان میں رنگ کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے۔ زیورات کے ڈبے اور ایسے بڑے زیورات اور ہیرے جن کی قیمت کم تھی گاڑی سے پھینک دیے گئے۔ باقی تمام قیمتی زیورات اور ہیرے ان رنگوں کی نالیوں میں پوشیدہ ہیں۔ ہیرے زیادہ بڑے نہیں تھے اس لیے بآسانی ان نالیوں میں سما گئے۔ جو زیور اور ہیرے گرا دیے گئے ہیں انہیں بھی گاڑی کی پٹری کے آس پاس تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘‘
ٹھیک اسی لمحے جینیفر اپنا چاقو نکال کر مجھ پر حملہ آور ہو گئی۔ جینیفر نے بڑا نپا تُلا وارکیا تھا لیکن میں پھرتی سے ایک طرف گھوم گیا۔
جینیفر باوجود کوشش کے مجھے کوئی زخم تو کجا خراش تک نہیں پہنچا سکی۔ وہ پیغام جو چلتے وقت میں نے شیرف کو دیا تھا یہی تھا کہ وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ میرا تعاقب کرے‘ شاید میں اس کا مجرم اس کے حوالے کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔ وہ تیار کھڑا تھا۔ جیسے ہی جینیفر مجھ پر حملہ آور ہوئی اس سے پیشتر کہ وہ مجھے نقصان پہنچا سکتی۔ شیرف اور اس کے ماتحتوں نے اسے پکڑ لیا۔ شیرف مجھے ستائشی نظروں سے گھور رہا تھا۔ پیٹر نے مرتے مرتے اس بات کی بھی نشاندہی کر دی تھی کہ وہ تمام قیمتی زیورات رنگوں کی نلکیوں میں ہیں کیونکہ اس نے بارہ کا ہندسہ لکھنے کے بجائے جرمن زبان میں ’زول‘ لکھا ہی اس مقصد کے تحت تھا کیونکہ ان تمام رنگوں کی نلکیوں پر ’جرمنی ساختہ‘ لکھا تھا اور یہ نام میں نے اس وقت دیکھا تھا جب میں رنگوں کی نلکیوں کو دبا کر دیکھ رہا تھا۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ