 |
پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی بٹ۔ مقبوضہ کشمیر کی دھماکہ خیز صورتحال کے بارے میں ممتاز کشمیری رہنما کے اہم انکشافات

پچھلے دنوں میرپور آزاد کشمیرسے چودھری عبدالعزیز ایڈووکیٹ کا فون آیا کہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی بٹ پاکستان آئے ہوئے ہیں اور اپنے بھائی عبدالرشید کے ہاں قیام پذیر ہیں۔ ایڈووکیٹ صاحب سے فکری رشتہ بہت پرانا ہے‘ تاہم ملاقاتوں کا سلسلہ آٹھ دس سال پہلے شروع ہوا ہے۔ ان سے مسئلہ کشمیر پر ایک سٹڈی گروپ قائم کرنے اور اس کے ذریعے غوروفکر کا عمل آگے بڑھانے پر بات ہوتی رہتی ہے۔ جب انہوں نے پروفیسر عبدالغنی بٹ کا تذکرہ کیا‘ تو مجھے دہلی کی وہ شام یاد آ گئی جس میں انہوں نے پاکستانی صحافیوں سے خطا ب کیا تھا اور ایک سیاسی دانشورانہ انداز میں اہل کشمیر کی بکتا سنائی تھی اور اس گہرے اضطراب کا ذکر کیا تھا جو مقبوضہ کشمیر کی فضا میں پھیلا ہوا ہے۔ صحافیوں کا ایک قافلہ آگرہ مذاکرات کی روداد قلم بند کرنے دہلی آیا تھا جہاں کشمیری قیادت سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی تھی اور بہت سی کام کی باتیں سننے اور سمجھنے کو ملی تھیں۔
چودھری صاحب کے دیے ہوئے موبائل نمبر پر میری منظور احمد بٹ صاحب سے بات ہوئی اور انہوں نے جناب پروفیسر عبدالغنی بٹ سے ہمکلام ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ان سے انٹرویو کے لیے استدعا کی جسے انہوں نے قبولیت کا شرف عطا کیا۔ طے پایا کہ وہ۱۹/ نومبر کی شام کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں اُردوڈائجسٹ کے لیے انٹرویو دیں گے۔ میں اپنے پوتے افنان حسن کے ساتھ ۱۸/ نومبر کی نیم شب اسلام آباد پہنچ گیا اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا جو یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر انوار حسین صدیقی کی کوششوں سے مارگلہ کے دامن میں ایک پرفضا اور اہل تحقیق کے لیے نہایت آرام دہ رہائش گاہ بن گیا ہے۔ آپ یہاں پورے سکون کے ساتھ تخلیقی اور تحقیقی کام کر سکتے ہیں اور چھوٹے سے کچن میں اپنی چائے بھی بنا سکتے ہیں۔ یہاں سوڈان سے آئے ہوئے سکالرز ٹھہرے ہوئے تھے اور ڈاکٹر مختار احمد بھی جو امریکی دانش گاہوں اور سپاہ دانش سے سالہا سال فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔
اسلام آباد میں اردوڈائجسٹ کے عزیزی کلیم چودھری کی رہنمائی میں ہم کشمیر ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے سبب ہمیں انجانے موڑ کاٹنے پڑے۔ سیدھے راستے بھی پرپیچ ہوتے گئے۔ خیال آیا پہلے اسلام آباد آ کر ایک ترتیب اور قرینے کا احساس ہوتا تھا اور فضائیں تازگی سے معمور اور لبریز رہتی تھیں‘ اب تو قدم قدم پر سیاد گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ اصولوں اور ضابطوں کے سودے ہو رہے ہیں۔ صلائے عام ہے ..؟؟ حرص و ہوس کی رونقیں بڑھتی جا رہی ہیں‘ مگر دل ہے کہ بیٹھتا جا رہا ہے۔ آنکھوں میں حیا ہے نہ مروت‘ بس بھیڑیے کی خونخواری اور دہشت ہے جسے سیاسی ’’ماہ رخوں‘‘ نے ناز و ادا کا نام دے دیا ہے۔ پابہ جولاں راستوں پر چلتے ہوئے مجھے اپنے عزیز دوست شعیب بن عزیز کا تازہ شعر بے اختیار یاد آیا ...؟؟
دلِ مرحوم یاد آتا ہے
کتنی رونق لگائے رکھتا تھا
ہم سیکیورٹی انتظامات کی غلام گردشوں سے گزرتے ہوئے قدرے تاخیر سے کشمیر ہاؤس میں کمرہ نمبر ۸۲/ تک پہنچے جہاں پروفیسر صاحب ہمارا انتظار فرما رہے تھے۔ داخل ہوئے تو کشمیر کے عظیم رہنما نے کھلے بانہوں سے ہمارا استقبا ل کیا۔ کمرے میں چھ اصحاب اور بھی تھے۔ چودھری عبدالعزیز بطور خاص میرپور سے آئے تھے۔
ان کے برابر حاجی بشیر نوشاہی بیٹھے تھے جو انگلستان میں ٹیلی فیکس کشمیر سنٹر کے صدر ہیں۔ جناب نثار احمد اور محمد یونس مقبوضہ کشمیر سے تشریف لائے تھے۔ منظور احمد بٹ کا تعلق بھی مقبوضہ کشمیر سے ہے اور آج کل پاکستان میں حریت کانفرنس میں بڑے فعال ہیں۔ وہاں سید عبدالوحید بھی موجود تھے جو وزیراعظم آزادجموں وکشمیر کے مشیر برائے دامور مقبوضہ کشمیر ہیں۔ ان کی موجودگی میں پروفیسر صاحب سے انٹرویو کا سلسلہ ہوا جو ڈیڑھ گھنٹے پر محیط رہا۔ میں نے کسی تمہید کے بغیر تازہ ترین صورت حال کے بارے میں پوچھا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر جو ایک نئے انداز کی زبردست عوامی تحریک اُٹھی ہے‘ اس کے پس پردہ محرکات کیا ہیںاور کشمیر کے مستقبل پر کس طرح کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جناب پروفیسر صاحب نے کسی تامل کے بغیر اپنے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ بیان کرنا شروع کر دیا:
’’میں اس ضمن میں آپ کی توجہ ایک خاص چیز کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا‘ وہ یہ کہ کشمیریوں کی اجتماعی سیاسی نفسیات کے مضمرات کو سمجھنا ہو گا۔ اُن کی اجتماعی سیاسی نفسیات میں جو چیز مجھے دکھائی دیتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ وہ کسی پر سوار ہونا چاہتے ہیں نہ کسی کو اپنے اوپر سوار ہونے دیں گے۔ نفسیاتی حقیقت اگر تسلیم کر لی جائے‘ تو کشمیر پر غیروں کا تسلط ختم ہو جائے گا‘ لیکن بدنصیبی ہماری یہ ہے کہ اس خاص نکتے کو یا کشمیر کے مسئلے کے اس خاص پہلو کو سمجھنے کی ابھی تک سرے سے کوشش نہیں کی گئی۔ دوسری بات جو آپ کے سوال کے جواب میں عرض کرنا مقصود ہے‘ وہ یہ کہ کشمیر کے مسئلے کا سیاسی اور تاریخی پہلو بھی خاصا اہم ہے۔ سیاسی تاریخی پہلو کو میں ایک ساتھ ملا کے دیکھنا چاہتا ہوں اور وہ اس لیے کہ سیاست کا تاریخ اور تاریخ کا سیاست سے کشمیر کے مسئلے پر بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ میری رائے میں کشمیر میں ڈوگرا تسلط کے خلاف جو تحریک چلی وہ دراصل ۱۹۴۷ئ ہی سے چلی ہے۔ اس لیے ہم تحریک کی تاریخ کو ۱۹۴۷ئ ہی سے لیتے ہیں۔ کشمیری اجتماعی ضمیر اور اجتماعی شعور نے غیروں کا تسلط کبھی قبول نہیں کیا۔ اب اسے کشمیریوں کی خوش نصیبی کہیے یا بدنصیبی کہ وہ جب کبھی ٹکرائے تو اپنے سے کہیں زیادہ طاقت ور حریف سے نبردآزما ہوئے‘ کمال یہ کیا کہ کسی کے آگے سر جھکایا بھی نہیں اور سر کو بڑی حد تک محفوظ بھی رکھا۔ ہماری اس منفرد حکمت عملی کا سب سے بڑی فائدہ یہ ہوا کہ جو طاقت ہم پر مسلط ہوئی وہ یہی سمجھتی رہی کہ شاید کشمیری اب تھک گئے ہیں‘ خاموش ہو گئے ہیں اور غالباً اب سمجھوتے کے لیے تیار ہو گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ ۱۹۴۷ئ میں کس طرح ہندوستان نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا‘ جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن جب انہوں نے اپنے خیال میں تسلط جما لیا تو یہ بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ کشمیریوں کے اجتماعی شعور نے ہمارے تسلط کو قبول کیا ہے یا اس بغاوت کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جہاں اجتماعی شعور کسی کے تسلط کو قبول نہ کرے‘ وہاں تسلط قائم نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری اپنے حقوق کے لیے اُٹھتے رہے ہیں۔ پھر پروفیسر صاحب کے اچھوتے اور حکیمانہ خیالات نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا اور میں نے کشمیری شعور کے رخ پر اپنا زی سفر شروع کر دیا‘ مگر ان کی حکایت سوز وردی ..؟؟ سے جو سوال میرے ذہن میں اُبھرا‘ وہ ان سے بلاتکلف پوچھ لیا کہ شیخ عبداللہ جنہوں نے بھارت کا تسلط قائم کرنے میں کشمیر دشمن کردار ادا کیا‘ انہیں آپ کیا مقام دیتے ہیں۔ پروفیسر عبدالغنی بٹ نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔
سوال: اس ضمن میں شیخ عبداللہ صاحب کا جو کردار رہا‘ کیا آپ اس پر روشنی ڈالنا پسند فرمائیں گے؟
’’شیخ عبداللہ کا کردار بھی آپ کے سامنے ہے کہ وہ خود اس تسلط کے خلاف اُٹھا۔ ۱۹۵۳ئ میں انہوں نے علمِ بغاوت بلند کیا اور حکومت نے اُسے پابند سلاسل کیا۔ شیخ صاحب کی حکومت پانچ سال قائم رہی جس میں انہیں چار بار فریب کھانے پڑے۔ اس حکومت کے بارے میں شیخ صاحب کے دوراندیش اور مدبر ساتھی مرزا افضل بیگ نے کہا تھا کہ پھر ہمیں صحرا نور دی سے کام لینا پڑا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ۱۹۵۳ئ میں شیخ صاحب نے علم بغاوت بلند کیوں کیا۔ میرے خیال میں شیخ صاحب پر یہ حقیقت منکشف ہو چکی تھی کہ کشمیری شعور نے ہندوستانی تسلط تسلیم نہیں کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ شیخ صاحب نے دہلی کے ساتھ جو سیاسی تعلق قائم کیا تھا‘ اس کی بنیادیں انہوں نے خود ہلتی محسوس کیں اور انہیں اندازہ ہو گیا کہ جو عمارت وہ ان بنیادوں پر کھڑی کرنا چاہتے ہیں‘ وہ کھڑی نہ ہو پائے گی۔ وہ خودمختار کشمیر کی عمارت تھی جس میں بھارت کو دسترس حاصل ہوتی‘ تو وہ اس علاقے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا۔ میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا مزاج ایسا نہیں کہ تاریخ میں غلطیاں کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناؤں۔ شیخ صاحب نے اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قابل رشک اور تاریخی اہمیت کا کردار ادا کیا تھا۔ ‘‘
میں نے ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک دیکھی اور ان کا دایاں ہاتھ خودبخود حرکت میں آ گیا۔ وہ کہہ رہے تھے: ’’دیکھیے ۱۹۵۳ئ سے ۱۹۷۵ئ تک بائیس برسوں میں شیخ صاحب کی مربوط کوششوں سے محاذ رائے شماری منظم کیا گیا اس کا جھنڈا تیار ہوا اور اس کا منشور سامنے آیا۔ اس محاذ کا بنیادی مقصد کشمیری عوام سے یہ رائے طلب کرناتھی کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ بائیس برس تک شیخ عبداللہ کے نائب افضل بیگ کی صدارت میں محاذ رائے شماری کام کرتی رہی‘ لوگ جیل جاتے اور یہ نعرہ بلند کرتے رہے کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ہم کریں گے۔ اب اس تسلسل کو آپ ترتیب کے ساتھ دیکھیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ شخص جس نے ہندوستان کے ساتھ کشمیر کا الحاق کو تسلیم کیا تھا‘ اس نے بھی بالآخر علم بغاوت بلند کر دیا۔ محاذ کا منشور لے کر شیخ صاحب لوگوں کے پاس جاتے تھے۔ اس دوران شیخ صاحب کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے رائے شماری کے علاوہ بھی کئی تجاویز زیرغور آئیں۔ ان میں ایک تجویز یہ تھی کہ خطہ کشمیر کو آزاد چھوڑا جائے اور اس کی آزادی کے حوالے سے ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے کہ کشمیری ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات استوار کر سکیں‘ وہ تعلقات تجارتی‘ سفارتی قسم کے ہوں‘ لیکن اس تجویز پر عمل نہ ہو سکا۔ جب شیخ صاحب جیل سے رہا کیے گئے‘ تو وہ ہندوستان‘ الجیریا اور چین گئے جہاں انہوں نے چواین لائی سے ملاقات کی‘ مصر میں جمال عبدالناصر سے ..؟؟ ملاقات کی اور بعدازاں حج کے لیے بھی تشریف لے گئے‘ اور اس تجویز پر تبادلہ خیال جاری رکھا۔

پروفیسر صاحب آہستہ آہستہ تاریخ کے اندر اترتے جا رہے تھے اور کشمیری شعور کے واضح ثبوت پیش کر رہے تھے۔ میں نے دوران گفتگو سوال کیا کہ شیخ صاحب کو خودمختار کشمیر کی تجویز کس نے دی تھی جسے عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ طویل عرصے تک سرگرم رہے۔ انہوں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا:
’’یہ تجویز دراصل محاذِ رائے شماری کی طرف سے آئی جس میں راستہ کھولنے‘ کشمیر کو خودمختاری دینے اور ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بات تھی۔ جب شیخ صاحب بیرونی دورے سے لوٹے تو وہ گرفتار کر لیے گئے اور جب رہا ہوئے‘ تو بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ کہ بنگلہ دیش وجود میں آ چکا تھا۔ اس کے بعد شیخ صاحب اور بھارتی قیادت کے درمیان دوبارہ مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں وہ پھر اقتدار میں آ گئے‘ مگر یہ عظیم فرق رونما ہو چکا تھا کہ پہلے وہ وزیراعظم تھے اور اب وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس بار بھی انہوں نے ہندوستان کی سرداری قبول کرتے ہوئے اقتدار قبول کر لیا تھا۔ اور جب ۱۹۸۴ئ میں ان کا انتقال ہوا تو ان کے صاحبزادے فاروق عبداللہ وزیراعلیٰ بنے‘ مگر ۱۹۸۷ئ میں کشمیریوں کی سوچ اور سیاسی رویوں میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ وہ یہ کہ انہوں نے فرد کی قیادت کے بجائے اجتماعی قیادت کا تصور قبول کر لیا اس کی بنیاد پر ۱۹۸۶ئ میں ’’مسلم متحدہ محاذ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم وجود میں آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب مجھے ملازمت سے برخاست کیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ میں ریاست کی سلامتی کے لیے ایک خطرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہوں وہ میری زندگی کی ایک بہت بڑی آزمائش تھی جو بعد میں ایک عظیم خوش نصیبی میں تبدیل ہو گئی۔
پروفیسرص احب کا چہرہ داخلی کیفیت سے کھل اُٹھا تھا اور وہ بار بار آنکھیں جھپکا رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کڑی آزمائش ایک عظیم خوش نصیبی میں کیسے تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے ایک ایک لفظ ناپ تول کر ادا کرتے ہوئے کہا:
’’مسلم کانفرنس جس نے کشمیریوں کے اندر اپنے حقوق کے تحفظ اور ڈوگرا راج سے نجات حاصل کرنے کی تحریک اٹھائی تھی اور جسے بھارت سے جلاوطن کر کے پاکستان بھیج دیا گیا تھا میں نے ۸۷ئ میں زندہ کیا۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا اور میں آج اس کا صدر ہوں اور یہ جماعت ایک اہم سیاسی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس حوالے سے مجھے بعد میں کل جماعتی حریت کانفرنس ..؟؟ کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔‘‘
پروفیسر صاحب بڑے سادہ انداز میں ایک اٹھتے ہوئے عوامی طوفان کا حال بیان کر رہے تھے۔ ان کے لہجے میں ایک سر خوشی اور ایک ..؟؟ تھا اور وہ کشمیریوں کی نفسیات کے مختلف پہلو اُجاگر کیے جا رہے تھے۔ میں نے سوال کیا کہ اجتماعی قیادت کا جو تصور اُبھرا تھا اس کے آگے چل کر کیسے اثرات مرتب ہوئے اور حالات کی صورت گری میں اس نے کس نوعیت کا کردار ادا کیا۔ پروفیسر صاحب نے تحریک آزادی کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا:
’’۱۹۸۷ئ میں مسلم متحدہ محاذ نے انتخابی عمل کی طرف رُخ کیا۔ انتخابات لوگوں تک پہنچنے اور اپنی بات ذہنوں میں بٹھانے کے لیے بڑے ہی موزوں تھے۔ چنانچہ مسلم متحدہ محاذ کیل کانٹے سے لیس انتخابات کے
میدان میں اتر آئی۔ انہیں لوگو ں کی ہمہ گیر مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی اس مقبولیت سے نیشنل کانفرنس والے گھبرا اُٹھے اور انہوں نے ہندوستان سے مل کر دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ اس کشمکش کے نتیجے میں نئی قیادت اور مجھے جیل بھیج دیا گیا‘ نو ماہ بعد ہمیں جیل سے رہائی نصیب ہوئی۔ ہماری اسیری کے زمانے میں کشمیر کے نوجوانوں نے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔
جناب پروفیسر عبدالغنی بٹ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے اور میری طرف غور سے دیکھنے لگے۔ میں نے ان کی روشن آنکھوں سے تابشِ بصیرت مستعار لیتے ہوئے پوچھا کہ اس مسلح جدوجہد کی قیادت کون کر رہا تھا۔
انہوں نے رواں لہجے میں جواب دیا: ’’یہ وہ نوجوان تھے جو خود سے اٹھے تھے کیونکہ پوری قیادت اُس وقت جیل میں تھی۔ جدوجہد میں ان کے قائدانہ کردار سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ یہاں یہ بات بڑی اہم ہے کہ تحریک کشمیر کی حقیقت اور اس کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے اسے ایک ترتیب کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ترتیب اس میں یہ ہے کہ بعض اوقات کشمیری خاموش ہو جاتے‘ لیکن اس خاموشی کو تھکاوٹ سمجھا جائے اسے کسی سمجھوتے پر آمادگی سے ..؟؟ کیا جائے۔ اس کے برعکس اس بنیادی نکتے کو اہمیت دی جائے کہ کشمیریوں کو زندہ بھی رہنا ہے اور تحریک بھی چلانی ہے۔ زندہ رہنے کے لیے کبھی کبھی خاموشی اختیار کرنا ضروری ہوتی ہے لیکن تاریخ کے اتار چڑھاؤ پر نگاہ رکھنے والے اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ جب خاموشی ٹوٹتی ہے تو ایک جاندار تحریک آگے بڑھتی ہے۔ جب مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو ہم پر طرح طرح کے الزمات لگائے جانے لگے‘ حتیٰ کہ ہمیں دہشت گرد بھی کہا جانے لگا۔ کشمیریوں نے پچھلے دنوں ان الزمات کا بڑے مؤثر انداز میں جواب دیا ہے اور کشمیریوں کی تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ یہ رخ قطعی طور پر سیاسی ہے اور اس میں بندوق کی گھن گرج بالکل شامل نہیں تھی۔ عوامی طاقت کا سیاسی اظہار ایک ایسے بانکپن ..؟؟ سے ہوا ہے کہ اس سے عالمی رائے عامہ بڑی متاثر ہوئی اور بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ پرامن مظاہرین پر گولی نہ چلائے اور مسئلے کو بات چیت سے حل کرے۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
جناب پروفیسر عبدالغنی بٹ کہ ایک جوئے آب کی مانند رواں دواں تھے کہ میں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے سوال کیا کہ اس عوامی تحریک سے کس نوع کی تبدیلیاں آتی دیکھ رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھارت کا طرز عمل تبدیل و گیا اور عالمی رائے عامہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا ساتھ دے گی۔ مشین کی طرح کام کرتے ہوئے ان کے ذہین دماغ نے جواب میں کہا:
اس تحریک سے بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ کشمیریوں نے بھرپور طریقے سے یہ دکھا دیا کہ یہ تحریک خانہ زاد ہے اور کہیں سے درآمد نہیں ہوئی۔ دوسری یہ کہ یہ تحریک بندوق اور تشدد کے بجائے کہ کشمیریوں کے بیش بہا جذبات اور ان کی سیاسی نفسیات کے زور پر چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس امر کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کشمیریوں کا جذبۂ حریت زندہ ہے اور اسے طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا۔ اس ضمن میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جن بچوں نے بندوقوں کی گھن گرج میں آنکھ کھولی تھی‘ وہ اس بار تحریک میں پیش پیش ہیں۔ یوں تحریک مزاحمت کا جذبہ بزرگوں سے نوجوانوں میں منتقل ہو گیا ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی محسوس کر لیا ہے کہ یہ تحریک ایک منطقی انجام کی طرف آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ گرم گرم چائے کا مرعہ ..؟؟ لینے کے لیے رکے‘ تو میں نے ان سے عالم تجسس میں پوچھا کہ بھارتی رائے عامہ پر کیسے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور حکومت کے تیور کیا ہیں۔ گاہے گاہے ہمیں بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے کشمیری بھائی ایک سخت آزمائش سے دوچار ہیں اور ان کے لیے آزادی کی جنگ لڑنا محال ہوتا جا رہا ہے جناب عبدالغنی بٹ میری بات بڑی توجہ کے ساتھ سننے کے بعد گویا ہو گئے:
’’دراصل کشمیری بیک وقت دو مخالف صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی سیاسی بالادستی قبول نہیں کرتا‘ لیکن وہ اس حقیقت سے بھی خوب آشنا ہے کہ وہ ہندوستان میں رہتا ہے۔ اس گہرے شعور کی بدولت وہ حالات کے ساتھ مطابقت پیدا کر لیتا ہے۔ اس مطابقت کو ہندوستان میں ’’معمول کے حالات‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ کشمیری عوام نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے‘ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے جو چند ماہ کے دوران ہندوستان پر منکشف ہو گئی ہے۔ حالیہ عوامی تحریک سے ایک بڑا تغیر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جموں و کشمیر میں ایک لکیر کھنچ گئی‘ جو سیاسی بھی ہے‘ معاشی بھی اور دینی بھی۔ یہ ہندوستان کی سیاست پر ایک ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے جو اس نے خود لگائی ہے جس کا اب وہ مداوا چاہتا ہے۔ خبر نہیں اب اس کا مداوا ہو بھی سکے گا یا نہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس کا مداوا ہونا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک اور اہم حقیقت کو سمجھے جانے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی جمہوری مملکتیں ہیں اور ان کے کشمیر جیسے مسئلے میں الجھ جانے کے نتائج بہت بھیانک ہو سکتے ہیں‘ اس لیے اس مسئلے کو بہر صورت حل کرنا پڑے گا۔ عالمگیریت کے تصور نے اس مسئلے کو ایک اور اہم جہت دی ہے۔ معاشی عالمگیریت تقاضا یہ ہے کہ آپ کے ارض وطن اور آپ کے گھر میں امن و استحکام قائم ہو اور امن قائم ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک مسائل کا منصفانہ حل اور پُرامن حل تلاش نہ کیا جائے۔ یہ پہلو بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ہندوستان عالمی منڈی پر چھانا چاہتا ہے جس کے لیے گھر میں قیام امن ناگزیر ہو گا۔ اس کے علاوہ اس کی طرف سے سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننے کے سلسلے میں جو کوششیں کی جا رہی ہیں اس کا بھی یہی تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر جلد حل کیا جائے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے کا مستقبل مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے۔ اگر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا ایک قابل عمل حل تلاش کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا تو اُمڈتے ہوئے خطرات کسی بھی وقت اس خطے کا امن بھسم کر سکتے ہیں۔‘‘
اُن کا منطقی استدلال ذہن کو اس ایک نقطے پر مرکز کرتا جا رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے کا وقت قریب آ پہنچا ہے اور عالمی اور علاقائی حالات ایک پائیدار امن کی تلاش میں ہیں۔ ان کی سوچ بڑی حقیقت پسندانہ ہونے کے ساتھ ساتھ انقلاب آفریں بھی تھی جس میں حال اور مستقبل کی صورت گری کی صلاحیت بڑی نمایاں تھی میں نے پوچھا کہ آپ نے جموں اور کشمیر کے درمیان لکیر کھینچ جائے گی جو بات کی ہے‘ اس کے اسباب اور اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے جواب میں کہا: ’’ جموں اور کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اُن کے درمیان لکیر کھینچ گئی ہے۔ ہوا یہ کہ کشمیر میں محکمہ اوقاف کی طرح ہندو بھائیوں کا ایک شرائن بورڈ قائم ہے۔ جس کا ہندوستان سے زائرین ہر سال کشمیر آتے ہیں اور امرناتھ جاتے ہیں۔ وہاں وہ شیو کی پوجا وغیرہ کرتے ہیں۔ یہ سفر بڑا طویل ہے جسے وہ گھوڑوں پر یا پیدل طے کرتے ہیں۔ اس سفر کے دوران وہ چند روز کے لیے بالتر نامی جگہ پر قیام کرتے ہیں۔ یہ جگہ جموں سے تین چار سو کلومیٹر جنوب میں ہے۔ اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہاں جنگلات کی تقریباً آٹھ سو کنال زمین شرائن کورٹ کو منتقل کی جائے تاکہ وہاں عارضی مکانات تعمیر کیے جائیں جن میں زائرین قیام کر سکیں۔ اس ضمن میں کشمیر کی حکومت نے ایک حکم نامہ بھی جاری کر دیا جس پر بعدازاں تنازع اُٹھ کھڑا ہوا۔ یہ جھگڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے دور رس نتائج کا حامل ایک منصوبہ تھا اور اللہ تعالیٰ بہترین منصوبہ ساز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ منصوبے فرش پر جبکہ کچھ عرش پر ترتیب پاتے ہیں اور عرش پر ترتیب پانے والے منصوبے بڑے ہی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ اس بار کشمیر میں شورش یا مظاہروں کا جو سلسلہ سامنے آیا‘ اس کا آغاز ہندنوار تنظیموں نے کیا۔ شیخ صاحب نیشنل کانفرنس‘ مکتی صاحب کی پارٹی پی جی پی‘ مکتی اور انڈین کانگریس اس شورش کا حصہ بنیں۔ پی جی پی نے اس حکم نامے کو واپس لینے کا مطالبہ کر دیا‘ شیخ صاحب کی نیشنل کانفرنس کا اس امر پر زور تھا کہ زمین منتقل نہ کی جائے۔ کانگریس نے عملاً اس کی حمایت یوں کی کہ انہوں نے کیبنٹ میٹنگ میں یہ حکم نامہ واپس لے لیا۔‘‘
میری زبان پر یہ بات بے اختیار آ گئی کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے بہترین منصوبہ بندی کی تھی اور بھارت نواز تنظیموں کو مسلم کاز کے لیے سرگرم ہونے پر مجبور کر دیا اور یوں مقبوضہ کشمیر کے اندر ایک حیرت انگیز انقلاب رونما ہو چکا ہے۔ میں نے پروفیسر صاحب سے واقعات کی تفصیل بیان کرنے کے لیے درخواست کی‘ تو انہوں نے ہوشربا ..؟؟ کی ..؟؟ کھولتے ہوئے کہا:
’’کشمیر کے لوگوں نے بھرپور انداز میں حکم نامے کی بھرپور مخالفت کی کیونکہ وہ محسوس کر رہے تھے کہ اس بار ہند نواز تنظیموں نے ایک طرح سے ہندوستان کے خلاف آواز اٹھائی ہے جس کا ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لوگ اتنی قوت سے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ حکومت کو یہ حکم نامہ واپس لینا پڑا۔ جس پرشادیانے بجائے گئے اور غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ یہ آواز بلند ہوئی کہ ہم نے جنگ جیت لی ہے۔ اس کے ردعمل میں جموں کے لوگوں نے اس حکم نامے کی واپسی کے خلاف بھرپور انداز میں جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے کشمیر کے خلاف اقتصادی ناکا بندی کا اعلان کر دیا۔ اسی کے ساتھ ان ٹرک ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جو ہمارے لیے سامان لاتے تھے۔ غالباً ایک شخص مارا بھی گیا۔ یہ ٹرک ہندوستان کے مختلف شہروں خصوصاً دہلی سے آتے تھے۔ کشمیر میں اس کا ردِ عمل بڑا شدید ہوا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے جموں میں اٹھنے والی اس تحریک کے خلاف صف بندی شروع کر دی اور پانچ نکاتی منشور ترتیب دیا۔ اس کا ایک نکتہ یہ تھا کہ اگر جموں کی ڈھائی ضلعوں پر مشتمل ہندو آبادی اپنی الگ ریاست بنانا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں‘ بلکہ ہمارے نقطۂِ نظر سے جموں ہندو ہی نہیں مسلم بھی ہے‘ لیکن جب وہ تحریک چلا رہے تھے تو ایسا تاثر ملتا تھا جیسے پوری کی پوری ریاست ہندو ہو۔ یہ بات واضح کرنے کے لیے ہم نے ان سے کہا کہ آپ صرف ڈھائی ضلعوں تک محدود رہیں اور باقی چھ ضلعوں پر اپنا حق نہ جتائیں۔ دوسری شق اس منشور کی یہ تھی کہ چونکہ انہوں نے اقتصادی ناکابندی شروع کر رکھی ہے اور کشمیر بہت پریشان حالت میں ہے‘ تو ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم متبادل راستے تلاش کریں۔ متبادل راستے کا آغاز مظفرآباد چلنے کے نعرے سے ہوا۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ ہماری منڈی کون سی ہو گی۔ اس کے جواب میں نعرہ بلند ہوا کہ ’’ہماری منڈی راولپنڈی‘‘۔ یہ دونوں ہی انقلابی نعرے تھے جن سے ہندوستان کے سیاست کار سخت پریشان ہو گئے۔ جب لوگ مظفر آباد چلو کی آواز پر ہزاروں کی تعداد میں نکل کھڑے ہوئے تو ایک نئی صورت حال پیدا ہو گئی اور کل جماعتی کمیٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک ممبر جناب عبدالعزیز شیخ راستے ہی میں شہید کر دیے گئے۔ اس نے عوام کے جذبات میں ایک آگ سی لگا دی جس کے نتیجے میں حکومت ہند نے اس کمیٹی کے اراکین سے جموں میں بات چیت شروع کرنا پڑی۔ اس دوران کشمیر میں تحریک زور پکڑتی چلی گئی‘ جس کے مختلف نعرے تھے‘ مثلاً عیدگاہ چلو‘ سری نگر چلو‘ لال چوک چلو وغیرہ وغیرہ۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیوانہ وار نکل کھڑے ہوئے۔ جموں والوں نے جب یہ دیکھا‘ تو انہوں نے حکومت سے معاہدہ کر کے اپنی تحریک واپس لے لی۔ اس دوران جو لکیر کھینچ گئی‘ وہ تقسیم کی لکیر ہے‘ اور میری دانست کے مطابق تاریخ میں یہ لکیر پہلی بار کھنچی ہے۔ اس وقت اس لکیر کو مٹا دینے کے لیے ہندوستان کی طرف سے سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ میرے خیال میں اس کا انتظار کیا جانا چاہیے کہ لکیر مٹتی ہے یا مستقل طور پر ..؟؟ رہتی ہے۔‘‘
پروفیسر صاحب نے ایک عظیم تبدیلی کے واقعات اور آئندہ کے احکامات کوزے میں بند کر دیے تھے اور بڑے مؤثر انداز میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کشمیر اس وقت ایک نئی تاریخ میں داخل ہو چکا ہے اور مسئلے کا حل تلاش کرنا بڑی حد تک ناگزیر ہو گیا ہے۔ میں نے اُن سے آل حریت کانفرنس کے سیاسی کردار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے علمی اور سیاسی انداز میں کہا:
’’کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیریوں کے اندازِ سیاست کی ایک اجتماعی علامت ہے اور جو تنظیم اجتماعی نظم اور اتحاد کی علامت کے طور پر ابھرے اور شہیدوں کے خون کی ترجمانی کرے‘ تو اس کا کردار بہت واضح اور بڑا عظیم ہوتا ہے۔ اب ان کا فرض یہ بنتا ہے کہ خون کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کی تلاش بھی جاری رکھیں اور اس کا حل تلاش کرنے میں ہندوستان اور پاکستان سے مذاکراتی عمل میں شریک بھی رہیں۔ ماضی میں جب کبھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا‘ تو کشمیریوں نے تکونی شکل میں ہندوستانیوں کے ساتھ علیحدہ اور پاکستانیوں کے ساتھ علیحدہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت کی۔ اب مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کے لیے حریت کانفرنس کی قیادت لوگوں کا زیادہ سے زیادہ اعتماد حاصل کرنے میں شبانہ روز کوششیں کر رہی ہے۔‘‘
پروفیسر صاحب ایک تجربے کار استاد کی طرح بڑے بڑے سوالوں کے نہایت بلیغ جواب دے رہے تھے اور کشمیر کی داخلی صورت حال کا ایک جامع نقشہ پیش کرتے جا رہے تھے۔ میں نے اس مرحلے میں ان سے پوچھا کہ وہ مسلم کانفرنس اب کس حال میں ہے جس کا آپ نے بارہ برس پہلے احیا کیا تھا۔ وہ چائے کا آخری گھونٹ پیتے ہوئے کہنے لگے:
’’فروری ۱۹۸۶ئ میں مجھے ملازمت سے یہ کہہ کر برخاست کر دیا گیا کہ میں ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہوں۔ اس کے بعد میری سیاسی زندگی کا آغاز ایک اجتماعی نظم سے ہوا۔ میری سیاسی زندگی اجتماعی اور اتحادی سیاست کاری سے عبارت ہے اور میں اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی تنگ نظری کا شکار نہیں ہوا۔ میں سیاست میں ایک ذہنی وسعت کے ساتھ داخل ہوا۔ تعلیمی اداروں سے نکل کر سیاسی اور عوامی اداروں تک کا سفر میرے لیے ہیجان انگیز بھی تھا اور پرسکون بھی۔ جب مسلم متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی گئی‘ اس میں میرا بھی ایک اہم کردار تھا‘ اور میں اس اجتماعی نظم میں ترجمان اعلیٰ کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ ہم نے مارچ ۱۹۸۷ئ میں انتخابی عمل میں ایک خاص منصوبے کے تحت شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ اگر ہم انتخابات جیت گئے‘ تو اسمبلی میں ہندوستان کو چیلنج کریں گے اور یہ کہیں گے کہ تنازع کشمیر حل کیا جائے‘ اور اگر ہم اسمبلی تک نہ پہنچ سکے‘ تو ہمارا کوئی نقصان اس لیے نہیں ہو گا کہ ہمارا پیغام تو گھر گھر پہنچ جائے گا۔ ۱۹۸۷ئ میں جب ہم جیل بھیج دیے گئے‘ اور نو ماہ بعد رہا ہو کر آئے‘ تو متحدہ مسلم محاذ کو توڑنے کی سازشیں ہو رہی تھیں اور جون کے مہینے میں وہ ٹوٹ گیا۔ جو لوگ اس میں شامل تھے‘ وہ اپنی اپنی تنظیموں میں واپس چلے گئے۔ اس موقع پر میرے چند احباب نے کہا کہ ہماری کوئی تنظیم ہی نہیں‘ تو ہم کہاں جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ہماری تنظیم مسلم کانفرنس ہے جو کشمیریوں کی پہلی تنظیم ہے جو ۲۳۔۱۳۹۱ئ میں وجود میں آئی تھی۔ یوں مسلم کانفرنس کا احیا عمل میں آیا اور مجھے اس کا صدر مقرر کیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے تعلیمی محاذ سے سیاسی محاذ میں اسی لیے لے آیا کہ مسلم کانفرنس کو زندہ کیا جائے۔ جس نے ڈوگرا شاہی کو سب سے پہلے للکارا تھا۔ ہمارا مرکزی دفتر‘ منشور اور سیاسی لائحہ عمل ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے‘ ایک ایسا حل جس میں ہندوستان پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمارا
بھی بھلا ہو جائے۔‘‘
کشمیر کے ..؟؟ اور آبادی کے خدوخال سمجھنے کے لیے ..؟؟ نے پروفیسر صاحب سے تفصیلات پوچھیں‘ تو انہوں نے حقائق اور اعدادوشمار اس پیرائے میں بیان کیے کہ ..؟؟ ذہن میں اترتی گئی۔ انہوں نے بتایا:
’’جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ تناسب کے بارے میں قطعیت سے تو میں کچھ نہیں کہتا‘ لیکن یہ ۴۰/۶۰ کا ہے۔ ۶۰/ فیصد مسلمان ہیں اور چالیس فیصد غیرمسلم۔ کشمیر کے تین ڈویژن جموں‘ کشمیر اور لداخ ہیں۔ یہ جغرافیائی تقسیم بھی ہے۔ جموں میں ۶۵ فی صد ہندو ہیں اور ۳۵ فی صدمسلمان ہیں۔ لذاخ میں ۵۱ فی صد بدھ اور ۴۹ فیصد مسلمان ہیں‘ جبکہ کشمیر میں ۹۵ فی صد مسلمان اور پانچ فیصد ہندو ہیں۔ اس اندازے میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ پورے کشمیر کی آبادی ۶۰/ لاکھ ہے۔ سب سے زیادہ آبادی وادی کشمیر کی ہے‘ اس کے بعد لداخ اور پھر جموں کا نمبر آتا ہے۔‘‘
ان اعدادوشمار کی روشنی میں میرے ذہن کے اندر یہ سوال پیدا ہوا کہ ان ..؟؟ کے درمیان مواصلات کا نظام کیا ہے اور ان کے باہمی رشتے کس نوعیت کے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اس بنیادی اہمیت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:
’’سڑکیں ہیں‘ گاڑیاں چل رہی ہیں‘ ان کے درمیان مواصلاتی رابطے موجود ہیں‘ اور فضائی‘ زمینی اور دریائی تینوں راستے استعمال ہو رہے ہیں۔ جموں کی زبان ڈوگری کہلاتی ہے اور وہاں پہاڑی اور گوجری بھی بولی جاتی ہے‘ گویا جموں میں تین زبانی رائج ہیں۔ لداخ میں بدھوں کی زبان ہے جو غالباً لداخی کہلاتی ہے۔ کارگل اور زنسکار میں مسلمان ہیں۔ کارگل لداخ کا حصہ ہے۔ وہاں شعیہ سنی دونوں آباد ہیں جن کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں اور وہ بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔‘‘
پروفیسر صاحب نے جچے تلے الفاظ میں جغرافیائی‘ لسانی اور مذہبی کیفیتوں کی تصویر کشی کی‘ تو میں نے ان سے چناب فارمولے کے بارے میں پوچھا جس کا ایک زمانے میں بڑا چرچا رہا ہے۔ انہوں نے ایک منجھے ہوئے ڈپلومیٹ ..؟؟ کی طرح حقائق بیان کرنا شروع کر دیے:
’’ڈکسن نامی ایک شخص نے ۱۹۵۰ئ کی دہائی کے اوائل میں ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس میں یہ کہا گیا کہ جموں ہندوستان کا حصہ ہے جبکہ آزاد کشمیر پاکستان سے منسلک ہے‘ اس لیے ان میں رائے شماری کرانے کی ضرورت نہیں ہے‘ البتہ کشمیر میں رائے شماری کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس پر یہ سوال اٹھا کہ کشمیر کی حدود کیا ہیں‘ تو انہوں نے کہا کہ دریائے چناب کے اِس پار کشمیر اور اُس پار جموں ہے۔ اس تقسیم کے حوالے سے دیکھیں تو وادی کشمیر کی وسعتیں بڑھ جاتیں ہیں اور جموں کی قدرے کم ہو جاتی ہیں۔‘‘
میرا اس سے متعلق اگلا سوال یہ تھا کہ آپ لوگوں نے اس تجویز پر کسی باقاعدہ طور پر غر کیا۔ انہوں نے کمال خوبصورتی سے اس کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا:
’’ہاں‘ لیکن اس کے علاوہ ایک اور منصوبہ زیر غور ہے کہ کشمیر کے مختلف خطوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جائے کہ کون سا خطہ کس خطے سے ملا کر ایک نیا نظم قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جنرل ﴿ر﴾ پرویز مشرف نے ایک خاکہ پیش کیا تھا جس میں چار چیزیں شامل تھیں۔ پہلی یہ کہ کشمیریوں کی سرداری قبول کی جائے‘ اور انہیں خود حکمرانی کا حق دیا جائے‘ دوسری یہ کہ فوجی انخلا ہو‘ تیسری یہ کہ راستیں کھول دیے جائیں اور لائن آف کنٹرول غیرمتعلق ہو جائے۔ چوتھی بات یہ کہ ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے جو مشترکہ امور کی نگرانی کرے پانی‘ سیاحت‘ دفاع جیسے مشترکہ امور کی نگرانی کرے۔ خدا معلوم ان تجاویز پر عمل ہوتا ہے یا نہیں‘ لیکن اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ راستہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کھلا‘ اور رابطوں کے بڑھنے کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا۔ اب جو تجارت کا سلسلہ شروع ہوا ہے‘ وہ زرداری صاحب کے دورِحکومت سے وابستہ ہے۔ اس ..؟؟ میں ایک شق یہ بھی ہے کہ سات سال بعد کشمیریوں سے پوچھا جائے گا کہ یہ جو ہم نے خاکہ پیش کیا اور بعدازاں اس پر عمل بھی ہوا‘ کیا آپ اس سے مطمئن ہیں۔‘‘
اگر انہوں نے اس ..؟؟ کے حق میں ووٹ دیے‘ تو اُن سے پوچھا جائے گا کہ آپ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ‘ یا خودمختار رہنا چاہتے ہیں۔‘‘
میں نے پوچھا کیا آپ کو یہ خاکہ منظور ہے۔ تو کشمیری رہنما نے اپنا اصولی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا۔
’’ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سازگار ماحول اعتماد سازی کے اقدامات ہی سے وجود میں آ سکتا ہے۔ اگر اخلاص کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے‘ تو مجھے یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر کا ایک پائیدار حل نکل آئے گا۔‘‘
پروفیسر صاحب کی آواز میں امید کی کھنک بڑی نمایاں تھی اور ان کی پیشانی سے ذوق یقین سے دمک رہی تھی۔ میں نے سوال کیا‘ کیا ہندوستان بھی اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار آسانی سے دے گا۔ آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنے والے کشمیری دانا نے اپنے دائیں بازو کو گردش میں لاتے ہوئے کہا:
’’مجھے پوری امید ہے کہ وہ ..؟؟ اس پر آمادہ ہو جائے گا‘ کیونکہ عالمی حالات کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور مجھے طلوع سحر کا بے تابی سے انتظار ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں کشمیری عوام نے جس عزم و ہمت کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے اس کے تاریخی قوتوں کو متحرک اور سرگرم کر دیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر اس خطے میں کوئی بڑا حادثہ رونما نہیں ہو جاتا‘ تو مسئلہ کشمیر کو زیادہ دیر تک التوا میں نہیں رکھا جا سکے گا۔‘‘
تنازع کشمیر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد میں نے پروفیسر صاحب کے حالات معلوم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ پہلے ..؟؟ سے کام لیتے رہے کہ میرے حالات زندگی میں آپ کے قارئین کو کیا دلچسپی ہو گی اور سیاسی کارکن کی زندگی میں جدوجہد کے سوا اور کیا ہوتا ہے؟ تب میں نے اصرار کیا کہ آپ کی داستان حریت سے قریے قریے میں آزادی کے چراغ روشن ہوں گے اور جب نوجوان یہ پڑھیں گے کہ گاؤں اور دیہات سے بھی قیادت اُبھر سکتی ہے‘ تو ان کے اندر سوزعمل پیدا ہو گا۔ اس پر انہوں نے کتابِ زندگی کے اوراق ..؟؟ شروع کیے:
’’میرے گاؤں کا نام بولی ٹینگو ہے‘ اصل میں ہم اپنی زبان میں بھائیوں کو بول کہتے ہیں اور یہ بھائیوں کا گاؤں کہلاتا ہے کہ یہاں بھائی چارہ بہت زیادہ اور مثالی ہے۔ مقامی زبان میں اس کا مطلب ایک ایسے ٹیلے کا ہے جس پر بھائی رہتے ہیں۔ جس علاقے میں یہ واقع ہے‘ وہ زینیگر کہلاتا ہے جو زین العابدین نامی بادشاہ کے نام سے منسوب ہے۔ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایشیا کی سب سے بڑی جھیل اودر کے کنارے آباد ہے۔ اس کے پہلو میں ایک صحت افزا مقام بھی ہے جس کی بدولت یہ خاصا مشہور ہے جو آج کل فوج کے قبضے میں ہے۔ گاؤں میں بہت سی ذاتیں آباد ہیں مگر اکثریت ’’بٹوں‘‘ کی ہے۔ یہاں یہ بات بتانا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے نام کے ساتھ بھی بٹ کا لاحقہ ہے‘ مگر لاعلمی میں لوگوں نے اسے بھٹ بنا دیا ہے۔ دراصل بھٹ ہندوؤں کی ذات ہے۔ ہم جب ہندو سے مسلمان ہوئے‘ تو ہم نے اپنے نام سے ’’ھ‘‘ ہٹا کر اسے بٹ بنا لیا مگر بدقسمتی سے اکثر بھٹ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ یہ سارا علاقہ سوپور میں ہے جو تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بڑا مشہور متحرک اور فعال قصبہ ہے۔‘‘
’’میری پرائمری تعلیم اپنے گاؤں میں ہوئی اور ہندو استاد نے بڑی دیانت داری اور انہماک سے ہم سب کو پڑھایا۔ سوپور سے میٹرک کیا‘ اور انہی دنوں وہا
ں کالج بھی قائم ہو چکا تھا۔ میں نے کالج کی تعلیم حاصل کی اور وہاں سے سری نگر آ گیا۔ سری نگر میں ایس پی کالج سے بی اے کرنے کے بعد میں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے فارسی میں ایم اے اور ایل ایل بی کیا۔ کچھ عرصے وکالت بھی کی مگر میری طبیعت کو وہ راس نہ آئی اور کالج میں پڑھانے لگا۔ بائیس برسوں تک مختلف کالجوں میں تدریس کے فرائض ادا کرتا رہا‘ پھر مجھے ریاست کے لیے خطرہ قرار دے کر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ اب مجھے بائیس سال بعد صدر آزاد کشمیر نے وزیٹنگ پروفیسر نامزد کیا ہے اور اسی سال انہوں نے مجھے اعزازی ڈاکٹر آف لیٹرز کی ڈگری بھی دی ہے۔‘‘
مجھے احساس ہوا کہ جو سیاسی قیادت علم و تحقیق اور تعلیم و تدریس کے مراحل طے کر کے آگے آتی ہے‘ اس کا اسلوب ..؟؟ بہت مختلف اور اس کے ..؟؟ میں بڑی وسعت ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات یا برادری کے خول میں بند رہنے کے بجائے آزادی کے ساتھ سوچتی اور وسیع تناظر میں حالات و واقعات کا تجریہ کرتی ہے۔ میں نے بٹ صاحب سے کہا کہ جہاں ..؟؟ کام کرتا ہے ۱۹۸۷ئ کے لگ بھگ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر میدان سیاست میں اترے تھے اور تحریک آزادی میں جان ڈال دی تھی۔ آپ ان کے بارے میں کچھ بتائیں گے۔ انہوں نے برجستہ جواب دیا:
’’۱۹۸۶ئ میں کشمیر کے اندر ایک تحریک چلی جو بابری مسجد کی شہادت کے خلاف تھی۔ اس کے باعث کشمیر میں پہلی بار فرقہ وارانہ فسادات کی بو آنے لگی‘ مگر خوش قسمتی ہے کہ فسادات نہیں ہوئے‘ سیاسی نظم بنتے گئے جو بعدازاں مسلم متحدہ محاذ کی شکل میں یکجا ہو گئے۔ مجھے برخاست کرنے کے بعد دو اور پروفیسر برخاست کیے گئے جن کے نام غلام رسول اور محمد اشرف تھے۔ میرے ساتھ نو اشخاص نکالے گئے۔ جن میں سات اساتذہ تھے‘ ایک انجینئر اور ایک سٹاف اسسٹنٹ تھا۔ ان برخاستگیوں کے بطن سے ایک سیاسی تحریک نے جنم لیا جو آہستہ آہستہ آزادی کی ایک زبردست اور بھرپور تحریک ڈھلتی چلی گئی۔‘‘
جناب عبدالغنی بٹ جس مضبوط گرفت کے ساتھ اُبھرتی ہوئی تحریک آزادی کا احوال بیان کر رہے تھے‘ اس نے تحریک آزادی کے ایک عظیم رہنما جناب سید گیلانی کی یاد تازہ کر دی اور میں نے بے اختیار ان کے بارے
میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں بیش قیمت معلومات کا ایک ..؟؟ کھول دیا:
’’جناب سید علی گیلانی جماعت اسلامی کے ممتاز رہنما ہیں۔ وہ مسلم متحدہ محاذ میں بھی بڑے سرگرم رہے اور اس کے پلیٹ فارم سے انہوں نے انتخاب جیتا اور اسمبلی میں رہے۔ جماعت کے ٹکٹ پر بھی انتخاب لڑا تھا‘ لیکن اُنہیں ۸۹ میں استعفیٰ دینا پڑا۔ اس کے بعد وہ پوری قیادت کے ساتھ جیل بھی گئے۔ اس وقت کشمیر میں پانچ لوگوں کو ’’پنج پیارے‘‘ کہتے تھے۔ ان میں عبدالغنی لون‘ رانا عباس انصاری‘ سید علی شاہ گیلانی‘ شبیر علی شاہ اور یہ خاکسار تھے۔ آہستہ آہستہ یہ پنج پیارے ایک نئے اجتماعی نظم میں شامل ہو گئے جو کُل جماعتی حریت کانفرنس کی صورت میں ایک اہم سیاسی کردار ادا کر رہی ہے۔‘‘
میں نے شوق جستجو میں پوچھ لیا کہ یہ پنج پیارے کیوں کہلائے اور ان کی حیثیت کیا تھی۔ پروفیسر صاحب نے اپنا بایاں بازو اوپر اٹھاتے ہوئے جواب دیا:
’’یہ اپنی اپنی جگہ اپنی تنظیموں کے لیڈرز تھے۔ عبدالغنی لون تو وزیر بھی رہے ہیں۔ گیلانی صاحب جماعت اسلامی کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ میں نے مسلم کانفرنس کا احیا کیا تھا۔ عباس انصاری کی تنظیم کا نام اتحاد المسلمین تھا۔ یہ مسلمہ سیاسی تنظیمیں تھیں جن سے کل جماعتی حریت کانفرنس تشکیل پائی تھی۔‘‘
میں نے انہیں تاریخ میں پیچھے کی طرف لے جاتے ہوئے ایک بڑا نازک سوال کہہ ڈالا کہ ۵۶ئ میں کشمیر کے اندر جو زبردست ہلچل پیدا ہوئی تھی جو سترہ روزہ جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی‘ آپ نے اس پورے منظر نامے کو کس نگاہ سے دیکھا ہے۔ پروفیسر بٹ بڑے تحمل سے میری بات سن لینے کے بعد گویا ہوئے:
’’کشمیر کی تحریک میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا ہر اتار اتار نہیں اور ہر چڑھاؤ‘ چڑھاؤ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی جو اتار نظر آتا ہے‘ وہ چڑھاؤ ہوتا ہے اور جو چڑھاؤ نظر آتا ہے وہ اتار ہوتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ۱۹۶۴ء میں شیخ محمد عبداللہ پاکستان آئے تھے اور ایک نئے دور کا آغاز ہونے ہی والا تھا۔ اس وقت پنڈت نہرو ہندوستان کے وزیراعظم تھے۔ فالج کے حملے کے بعد نہرو وہ مسئلے کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ ہو گئے تھے۔ میں نے ان کی تقریریں سنی ہیں جن میں وہ تواتر سے کہہ رہے کہ مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالنا ہو گا۔ انہوں نے شیخ صاحب کو اس لیے پاکستان بھیجا کہ کشمیر کے حوالے سے مفاہمت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ پاکستان میں شیخ صاحب کا زبردست استقبال ہوا اور وہ ابھی پاکستان ہی میں تھے کہ جواہر لال نہرو چل بسے اور ہندوستان میں قیادت بدل گئی۔ نئی قیادت میں سیاسی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت نہیں تھی اور اُمید کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ ایسے میں پاکستان سے کچھ لوگ کشمیر آئے اور وہاں کے لوگوں سے مل کر ایک مسلح بغاوت کا آغاز کر دیا۔ یوں ہندوستان پاکستان کی جنگ سے پہلے ۱۹۶۵ء میں کشمیر میں جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ لڑائی فوج اور کشمیری مجاہدین کے درمیان تھی۔‘‘
علم پرورش کشمیری رہنما نے ۵۶ئ کی جنگ کے محرکات کی جو تعبیر پیش کی‘ وہ ان تصورات سے قدرے مختلف تھی جو پاکستان کے پیشتر حلقوں میں پائے جاتے ہیں‘ اس لیے میں نے ان سے پوچھا کہ مجاہدین آزاد کشمیر سے آئے تھے یا پاکستان سے انہوںڈ نے کسی ..؟؟ کے بغیر کہا:
’’ہاں وہ کشمیری تھے اور گلگت وغیرہ سے تھے جنہیں لوگ غلطی سے پاکستانی کہتے ہیں۔ وہ کشمیریوں کی تحریک تھی جسے کشمیری چلا رہے تھے۔ اب اگر آپ گلگت کو پاکستان کہیں گے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ راولا کوٹ‘ پلندری کے باشندے پاکستانی نہیں‘ کشمیری ہیں۔ کشمیر کی مسلح جدوجہد کچلنے کے لیے ہندوستان نے ایک منصوبہ ترتیب دیا اور پاکستان پر ۱۹۶۵ئ میں حملہ کر دیا۔ اٹھارہ انیس دنوں کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا اور کشمیر کے مسئلے پر بات چیت شروع ہو گئی۔ ان مذاکرات کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اب یہ سلسلہ ایک خاص رفتار سے جاری ہے اور ۲۰۰۸ئ تک اس کے مختلف مراحل ہمارے سامنے ہیں۔
اب ہم بتدریج مشکل مقام کی طرف بڑھ رہے تھے اور میں ان سے یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ آزادکشمیر جسے جنگ آزادی کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے اس نے اپنے مظلوم بھائیوں کے جذبات اور ان کی توقعات کا کس قدر خیال رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گردش میں لاتے ہوئے جواب دیا:
’’توقعات تو وہی ہیں جو ایک بھائی دوسرے بھائی سے وابستہ رکھتا ہے۔ بھائی یہی چاہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ رہے‘ میرے ساتھ اٹھے بیٹھے اور مرنا بھی ہو تو میرے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے۔ یہی توقعات مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی آزادکشمیر کے ساتھ ہیں۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نے ہر موقع پر ان توقعات کو پورا ہوتے دیکھا ہے اور ہم ان کا صلہ نہیں نہیں دے سکتے۔‘‘
پروفیسر عبدالغنی بٹ کی مثبت سوچ سے مجھے بے پایاں خوشی حاصل ہوئی اور یوں لگا کہ ایک صاحب نظر ..؟؟ کو جمع کرنے کا مقدس فریضہ ادا کر رہا ہوں۔ اس خوشگوار احساس کے ساتھ ساتھ ..؟؟ صحافتی بھی اپنا کام کرتی رہی۔ میں نے بٹ صاحب سے پوچھا کہ کن کن شعبوں میں توقعات پوری ہوئی ہیں اور دست گیری کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ انہوں نے ایک قابل استاد کی مانند برجستہ جواب دیا:
’’پہلی بات یہ کہ بھائی اور بھائی کے درمیان کوئی لکیر تو نہیں کھینچی جا سکتی۔ دوسری بات یہ کہ ایک ہی ریاست کے لوگوں کے درمیان لکیر اس لیے بھی نہیں کھینچی جا سکتی جب وہ دینی‘ ذہنی اور سیاسی حوالوں اور اُمنگوںکے اعتبار سے بھی ایک ہوں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ سیاست ایک‘ قیادت ایک‘ اور ..؟؟ ریاست بھی ایک‘ چنانچہ میرے لیے لکیر کھینچنا ممکن ہی نہیں۔ میں تین چار بار پاکستان آیا ہوں اور اس دفعہ میں نے آزاد کشمیر کو خاصے قریب سے
دیکھا ہے۔ مظفر آباد سے لے کر دیر کوٹ‘ چمیٹی‘ راولا کوٹ‘ پلندری اور چک سواری اور سیرپور سب علاقے دیکھے اور چندباتیں خاص طور سے محسوس کی ہیں۔ پہلی یہ کہ پہاڑ اور درخت بڑے پرکشش ہیں اور سڑکوں کا جال بھی محسورکن اور قابل تعریف ہے۔ سڑکیں کشادہ کرنے کا جو عمل تیزی سے جاری ہو رہا ہے‘ وہ اور بھی قابل تحسین ہے۔ تیسری بات یہ کہ لوگوں سے زیادہ مجھے مکانات خوبصورت لگے ہیں۔ لوگ خوشحال ہیں اور مسکراہٹیں ان کے ہونٹوں پر رقصاں ہیں۔ شہریوں کے دل وسیع ہیں اور مفلسوں کے لیے ان کے دل کشادہ ہیں۔‘‘
اُن کی باطنی سرشاری ان کے میرے سے عیاں تھی اور ان کا کشمیری ضمیر ان کے مشاہدات اور محرکات میں نمایاں تھا۔ لائبہ و گل ان کی آنکھوں میں ..؟؟ میں نے پوچھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی معاشرتی اور معاشی ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے چند لمحے آنکھیں بند کر لینے کے بعد کہنا شروع کیا:
’’میں ان لوگوں میں سے نہیں جو مصلحتاً غلط بات کہتے ہیں۔ کام ہمارے ہاں بھی ہو رہا ہے‘ لیکن جواب دہی کا فقدان ہے۔ رشوت ستانی بھی کچھ زیادہ ہے۔ بے اعتدالی بھی عروج پر ہے‘ تاہم زندگی کی بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ لیکن یہاں کے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جدوجہد میں مصروف ہیں‘ ماردھاڑ ہو رہی ہے‘ مکانات جل رہے ہیں اور بے گناہوں کا خون بہہ رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کشمیر کے دونوں حصوں میں پایا جائنے والا جوہری فرق چند جملوں میں بیان کر دیا اور آزادی اور ..؟؟ کے اندر پرورش پانے والی انسانی نفسیات کی مختلف صورتوں کا نقشہ کھینچ دیا۔ میں نے ڈی میں ڈاخل ہوتے ہوئے سوال کیا کہ دریائے چناب کا پانی بند کر دینے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان محاذ آرائی کا جو رنگ جمتا جا رہا ہے‘ کیا اس کے باعث کشمیر پر مذاکراتی عمل متاثر نہیں ہو گا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی نذر ہو جائیں گے۔ انہوں نے ایک زیرک سیاست دان کی زبان میں جواب دیا:
’’ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ نہایت پیچیدہ رہی ہے۔ شاید یہ کہنا درست ہو گا کہ محمد بن قاسم کے ہندوستان پر قدم رکھنے کے بعد سے ہندوؤں اور مسلمانوں کی تاریخ اچھی نہیں رہی جس کی بنیادی وجہ تہذیبوں کا ٹکراؤ ہے۔ میرے خیال میں ہندوؤں کے اجتماعی شعور نے پاکستان کا وجود دل سے قبول نہیں کیا ہے۔ کانگرس کا یہ موقف تھا کہ ملک تقسیم نہیں چاہیے۔ گاندھی اس حد تک چلے گئے تھے کہ کیا گاؤماتا کے دو حصے نہیں کیے جا سکتے۔ بالآخر راج گوپال اچاری نے کہا کہ ہمیں ایک تاریخی حقیقت ہے کو تسلیم کر لینا چاہیے اور یوں پاکستان وجود میں آیا۔ اس کے قیام کے ساتھ ہی کشمیر کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا جو مجھے کچھ زیادہ ہی عجیب و غریب لگتا ہے۔ کشمیر کو روز اول ہی سے پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا‘ مگر ہوا یہ کہ مہاراجہ نے ۱۴ ۔ ۱۵ اگست کی شب ملک کو الحاق کے حوالے
سے کوئی فیصلہ نہیں کیا‘ اور بھارت سے ایک معاہدہ کیا جسے جوں کا توں معاہدے نا نام دیا گیا۔ وہ معاہدہ یہ تھا کہ میرے تعلقات دونوں ممالک سے دوستانہ رہیں گے‘ مگر میرے تعلقات مواصلاتی رابطوں کے حوالے سے پاکستان سے ہیں جو ہمارا ایک روایتی اور تاریخی راستہ ہے اور وہ مظفر آباد راولپنڈی تک جاتا ہے۔ پھر اکتوبر میں پلندری اور راولا کوٹ سے کشمیری آئے اور ان حکمرانوں سے لڑائی شروع ہو گئی جس نے آگے چل کر ایک بین الاقوامی شکل اختیار کر لی۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے‘ میں اس کے حوالے سے یہ کہنا چاہوں گا‘ کہ ہندو اور مسلمان کے درمیان جو خلیج پائی جاتی تھی‘ اس نے جو نقوش چھوڑے تھے وہ کچھ خوش آئندہ نقوش نہیں تھے۔ آپ ایک فریق کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ اس ضمن میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو تین جنگیں ہوئیں ان کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا۔ ان تمام چیزوں کے پیش نظر اگر ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات سُدھارنے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے‘ تو وہ قابل فہم ہے‘ لیکن کوئی ایسا ہچکولا جس کے نتیجے میں موت واقع ہو جائے اسے میں قبول نہیں کر سکوں گا۔ اب جہاں تک دریاؤں کے پانی کا تعلق ہے‘ دریا کشمیر سے نکلتے ہیں اور ہندوستان سے گزرتے ہوئے پاکستان پہنچتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سندھ طاس معاہدہ ہوا جس میں پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی گئی ہے کہ اب پانی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور بڑے بڑے ڈیم بن رہے ہیں جن میں پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اب میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہندوستان سندھ طاس معاہدہ کیسے توڑ سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہندوستان پانی بند کرے گا تو یہ ایکٹ آف وار ہو گا جس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ عالمگیر سطح پر جو معاشی نظام چل نکلا ہے‘ اس میں ایک دوسرے پر انحصار کرنے کا عنصر شامل ہے۔ اگر آپ کسی کو پانی‘ گیس یا کھانے سے محروم کر دیں گے‘ تو معاملات حسن و خوبی سے چلائے نہیں جا سکیں گے۔‘‘
’’جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو اس کا استحکام ہمارے لیے بہت ضروری ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کی بقا کی ضمانت ہے۔ جہاں تک خود مختار کشمیر کا تعلق ہے‘ یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو قابل قبول نہیں ہو گا چین سے پوچھا جائے تو غالباً وہ بھی اس کے خلاف بات کرے گا۔ جغرافیائی لحاظ سے کشمیر تضادات کا مجموعہ ہے۔ جموں‘ لداخ اور ہندوستانی کشمیر۔ جموں والا کہتا ہے کہ میں پورے کا پورا ہندوستانی ہوں۔ اگر مسلم اکثریت کا حامل کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں بن سکتا تو ہندو اکثریت کا جموں پاکستان کا حصہ کیسے بن سکتا ہے۔ اسی طرح لداخ چاہتا ہے کہ اسے Union Territory بنا دیا جائے اور اس کے لیے دہلی سے حکم نامے جاری ہوں۔ زبان‘ موسم اور دوسرے اعتبار سے بھی تینوں ’’ضلع‘‘ مختلف ہیں۔ اب ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے‘ لیکن یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس سوچ میں بھی تضاد ہے۔ِ
’’میری اپنی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا حل نکل آئے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہو‘ اور چاہے اس کی شکل خودمختار کشمیر کی ہو‘ تو بھی ہم اسے قبول کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ چین نے ہانگ کانگ ۵۲۱ سال بعد حاصل کیا۔ وہ انتظار کرتا رہا اور آخرکار ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہانگ کانگ چین بن گیا۔ اب ایک ہی ملک میں دو نظام چل رہے ہیں۔ ہانگ کانگ ایک جمہوریہ ہے اور چین ہانگ کانگ کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ کہ چین نے تائیوان کے اردگرد میزائل نصب کر دیے تھے مگر آج وہ چین میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس نے اپنا رویہ یکسر تبدیل کر لیا ہے۔ اگر آپ تبدیلیوں کی زبان سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں‘ تو ان کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ میاں نواز شریف کے زمانے میں واجپائی خود پاکستان آئے۔ اور ایک بڑی ذہنی تبدیلی کا مظاہرہ کر گئے‘ اگر تبدیلیاں نہیں آئیں گی تو دونوں ملک نیست و نابود ہو جائیں گے۔ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو آس پاس کے ممالک بھی تباہی کے شکار ہوں گے۔ اس لیے جنگ نہیں ہو گی اور آنے والے زمانوں میں یہ سب کچھ مذاکرات کی میز پر طے ہو گا۔‘‘

ہم نے ڈیڑھ گھنٹے کشمیر کے حوالے سے ایک عظیم شخصیت کے ساتھ کھل کر باتیں کیں جن میں آنے والے حالات کی پرچھائیاں بھی شامل تھیں۔ ان کے خلوص‘ ان کی سیاسی بصیرت اور ان کی سادگیٔ اظہار نے بڑا متاثر کیا مجھے کئی بار اس امر کااحساس ہوا کہ کشمیری قیادت نے پاکستانی قیادت کے مقابلے میں بڑی ذہین‘ حقیقت پسند اور مسقتبل شناس ہے۔ بٹ صاحب ہم سے دیر تک پاکستان کے معاملات کے معاملات پر سوال کرتے رہے جن میں وہ گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے خوشحال اور توانا دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ ہم دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا ہوئے اور پروفیسر صاحب اپنی رخصت خیال کا ایک گہرا نقش چھوڑ گئے۔
|
|
|