 |
سرخ آندھی کے آثار۔ دسمبر ۲۰۰۸ء
نومبر ۲۶ کی رات دس دہشت گردوں نے ممبئی میں جو خونیں کھیل شروع کیا اور ساٹھ گھنٹوں تک جاری رکھا اس نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے۔ بھارتی قیادت نے دہشت گردی کے اس غیرمعمولی واقعے کو امریکی نائن الیون سے تشبیہ دی ہے اور اس کی برہمی‘ اشتعال اور غرّانے کا کم و بیش وہی عالم ہے جو اُس وقت بش انتظامیہ کا تھا۔ پاکستان نے اس ہلاکت خیز ڈرامے کی شدید ترین الفاظ میں سب سے پہلے مذمت کی ہے اور ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی جو بھارت کے دورے پر تھے‘ انہوں نے میڈیا کا پورے اعتماد کے ساتھ سامنا بھی کیا اور ہرممکن تعاون کا یقین بھی دلایا‘ مگر بھارت کے معاشی‘ کاروباری اور فلم سازی کے دارالحکومت پر ضرب اس قدر کاری لگی ہے کہ خواص و عوام ابھی تک سکتے کی حالت میں ہیں اور میڈیا غالباً عوامی غصے کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان کو موردِالزام ٹھہرا رہا ہے۔ وزیرخارجہ جناب پرناب مکھر جی نے بھی پاکستانی عناصر کا نام لیا ہے اور وزیراعظم جناب من موہن سنگھ نے اپنے قومی خطاب میں ہمسایہ ممالک سے دھمکی آمیز لہجے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی روک تھام نہیں کی تو انہیں قیمت چکانا پڑے گی۔ بھارت کے نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نے غیرمبہم الفاظ میں کہا ہے کہ تمام حملہ آور پاکستانی تھے جنہیں ایک جزیرے پر تربیت دی گئی تھی۔ دہشت گردوں میں زندہ بچنے والے اجمل کساب اور ہوٹلوں میں لگے ہوئے کیمروں کے فوٹیج سے خون آشام واقعات کی جوں جوں تفصیلات منظرعام پر آئیں گی‘ توں توں اشتعال پھیلتا اور پاکستان سے فوری انتقام لینے کا عوامی مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے اور سرخ آندھی کے آثار گہرے ہوتے جائیں گے جن پر بروقت قابو پا لینا عالمی امن کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔
پاکستان کو حالات کی سنگینی اور گھمبیرتا کا بھرپور احساس کرتے ہوئے ایسے باوقار اور معنیٰ خیز اشارے دینے چاہئیں جو زخم خوردہ بھارت کو حقیقی غمگساری کا احساس دلا سکیں۔ پاکستان نے کبھی اپنے کسی بھی پڑوسی کو غیرمستحکم کرنے اور عوام کو تکلیف پہنچانے کی درپردہ یا اعلانیہ کوشش نہیں کی اور بھارت کی طرف ہمیشہ دوستی اور خیرسگالی کا ہاتھ بڑھایا۔ اسی لیے اسے دہشت گردی کے سدباب میں پورا پورا تعاون کرنا چاہیے جو پوری انسانیت کی سب سے خطرناک دشمن ہے۔ ایک بامقصد تعاون کے لیے ہماری حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینا اور اہداف کا واضح تعین کرنا ہو گا۔ بھارت نے تو اپنی ایئرفورس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے جس سے جنگ کی سی کیفیت پیدا ہوتی جا رہی ہے‘ لیکن پاکستان کو ہیجان انگیز اقدامات کے بجائے عملی فراست‘ سیاسی بصیرت اور ذکاوت سے کام لینا ہو گا۔ سیاسی اور فوجی قیادت کے مابین کامل ہم آہنگی اور قومی اداروں کی درستگی پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اہم اخباری رپورٹوں سے یہ تصویر اُبھر رہی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے بھارتی وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزارائس کے فون پر آرمی چیف سے مشورہ کیے بغیر ڈی جی آئی ایس آئی کو فوری طور پر دہلی روانہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے خلاف ملک میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور دوسری طرف بھارت نے اسے ’’بدعہدی‘‘ کا نام دے کر عوامی جذبات کو ہوا دی۔ پاکستان کے ممتاز صحافی جناب انصارعباسی جو بڑی محنت اور فرض شناسی سے حکمرانوں کے وہ راز افشاں کر رہے ہیں جن کا قانون کی بالادستی اور اچھی حکمرانی سے گہرا تعلق ہے‘ انہوں نے ہمارے پی سی او چیف جسٹس جناب عبدالحمید ڈوگر کی صاحبزادی کے نمبروں میں اضافے کی جو ناقابل یقین کہانیاں شائع کی ہیں‘ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں محترم چیف جسٹس کے علاوہ وزیراعظم کے پریس سیکرٹری جناب زاہد بشیر بھی شامل ہیں جو وزیراعظم اور غالباً صدر مملکت کی اجازت کے بغیر اس کارِخیر میں شریک نہیں ہو سکتے۔ یہ خبریں بھی چھن چھن کر باہر آ رہی ہیں کہ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیراعظم کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر ان کا تقرر ہو رہا ہے جو میرٹ پر پورے نہیں اُترتے۔ عدالتی نظام کی شکست و ریخت کے بعد عوام اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں جن کو زندگی کے ہر شعبے میں طاقت ور مافیا کا سامنا ہے۔ حالتِ جنگ ہو یا حالت امن اس میں بنیادی حیثیت آزاد اور بے خوف عدلیہ کو ہی حاصل ہے۔ بھارت کی طرف سے اُمنڈتے ہوئے خطرات کا مقابلہ اسی صورت میں پورے اعتماد کے ساتھ کیا جا سکے گا جب عدالتیں آزادی سے کام کر رہی ہوں اور معاشرہ انصاف کی بنیاد پر تشکیل پارہا ہو۔ ہماری حکومت کو فوری طور پر اعلیٰ عدالتوں کے اندر ایک تازہ روح پھونکنی ہو گی اور چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کو پوری عزت واحترام کے ساتھ ان کے منصب پر فائز کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ اصولی فیصلہ بھی کرنا ہو گا کہ آئندہ فیصلے ٹیلی فون کے بجائے ادارتی سطح پر کیے جائیں گے۔ یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ ہماری اعلیٰ سیاسی قیادت لمبے لمبے بیرونی دوروں پر جانے کے بجائے ملک ہی میں قیام کرے اور ذاتی مثالوں سے قوم کے اندر ایثار‘ یک جہتی اور نظم و ضبط کا گہرا شعور اُجاگر کریں۔ اے پی سی کے ذریعے سیاسی مفاہمت کی فضا پیدا ہو گی اور قوم آنے والی سرخ آندھی کا بڑی پامردی سے مقابلہ کر سکے گی۔ سیاسی قائدین کو غیرمعمولی بصیرت اور احتیاط سے کام لینا ہو گا۔
ممبئی میں خون کی ہولی کھیلی گئی ہے‘ اس کی چند باتیں بڑے اچنبھے کی ہیں۔ ایک یہ کہ دس کی تعداد میں دہشت گرد اپنے کندھوں پر گرنیڈ اور چھوٹے ہتھیاروں سے بھرے تھیلے اٹھائے اس طرح گھومتے پھرتے رہے جیسے پکنک پر آئے ہوں۔ وہ ممبئی کے پنچ اور سات ستارہ ہوٹلوں میں کسی رکاوٹ اور چیکنگ کے بغیر داخل ہوئے اور ساٹھ گھنٹوں تک بھارت کی بہترین کمانڈو فورس بلیک کیٹ کا مقابلہ کرتے اور غیر ملکیوں کو یرغمال بناتے رہے۔ دوسری حیرت انگیز بات ان کی غیرمعمولی ’’مہارت‘‘‘ غیرمعمولی منصوبہ بندی اور فداکاری کا غیرمعمولی جذبہ تھا۔ وہ بیک وقت ساتھ آٹھ اہداف پر حملہ آور ہوئے اور کہیں پکڑے نہیں گئے۔ ان کی عمریں بیس پچیس سال کے درمیان تھیں اور وہ جینز اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ اہداف کے انتخاب میں ایک خاص ذہن کام کر رہا تھا۔ انہوں نے تاج محل اور اوبرائے ہوٹل کا انتخاب کیا جہاں بڑے لوگ اور غیرملکی مہمان قیام کرتے ہیں۔ ان میں بڑے آسانی سے داخل ہو کر انہوں نے دہشت پھیلانے کے لیے چند لوگ مار ڈالے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں‘ مگر انہوں نے زیادہ تر یرغمالی انہیں بنایا جن کے پاسپورٹ امریکی اور برطانوی تھے۔ صرف تاج محل ہوٹل میں ننانوے افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ دہشت گردی کے لیے اس ریستوران کا انتخاب کیا گیا جہاں بیشتر غیرملکی آتے اور بیئر پیتے تھے۔ ان کا ایک اور ہدف نریمان ہاؤس تھا جس میں اسرائیلی قیام پذیر تھے۔ مصروف ترین ریلوے سٹیشن پر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے فائرنگ کی گئی جس میں کئی مسافر جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے تین روز تک بھارت کے معاشی دارالحکومت کو تہ و بالا کیے رکھا اور یہ ثابت کر دیا کہ بھارت اور خاص طور پر ممبئی کے سیکیورٹی انتظامات انتہائی ناقص اور غیرمؤثر ہیں اور حکومت کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ وہ دہشت گردی کا پوری قوت سے مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کا ’’دیش‘‘ بہت محفوظ ہے۔
یہ دہشت گرد کون تھے‘ ان کی شناخت جلد یا بدیر ہو جائے گی لیکن بھارتی حکام جلدبازی سے کام لیتے ہوئے پاکستان پر الزامات کے تیر چلا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ان کا یہی وطیرہ رہا ہے اور ہر واقعے اور حادثے کی ذمے داری آئی ایس آئی‘ لشکر طیبہ اور جیش محمد پر ڈال دیتے ہیں۔ اس غلط روش کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت اندر کی طرف دیکھنے کے بجائے باہر کی طرف دیکھنے اور مجرموں کی نشان دہی کا عادی ہو گیا ہے اور اسے یہ اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ اصل مجرم اس کے معاشرے ہی میں پرورش پا رہے ہیں اور علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیمیں بڑی تیزی سے اپنی گرفت مضبوط کیے جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ رقابتیں اور انتخابی ضرورتیں ایک ہولناک شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کا واقعہ ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگانے کی کارروائی یا ممبئی میں پے در پے دھماکے ہوں ان کے پیچھے انتہائی بے رحم انتخابی سیاست کارفرما تھی جس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر چند ووٹ حاصل کرنا تھے۔ دہشت گردوں کے مقاصد کیا تھے اور ان کا فوری تعین شاید سہل نہ ہو‘ مگر ان کی بہیمانہ کارروائی سے بی جے پی کو انتخابی فوائد پہنچنے کے امکانات زیادہ قوی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں شائع ہوا ہے کہ دہشت گرد ہندی بول رہے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بی جے پی کے زیراثر تھے اور انہوں نے مطالبات بھی وہ کیے جو مسلم کاز سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت پر ہوا جب دہلی میں انتخابات ہو رہے تھے اور چار صوبوں میں جلد ہونے والے ہیں۔ قومی انتخابات بھی زیادہ دور نہیں۔ ایک اور مضبوط شہادت یہ ہے کہ جو اعلیٰ فوجی افسر کراکرے اور ان کے قابل ساتھی سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات کر رہے تھے‘ وہ ان حقائق تک پہنچ گئے تھے کہ اس ٹرین کو آگ لگانے اور میگاؤں میں بار بار بم دھماکوں میں ایک حاضرکرنل ملوث تھا جس نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اس کا ایک دہشت گرد ہندو تنظیم سے تعلق ہے اور وہ دہشت گردوں کو تربیت دیتا رہا ہے۔ جب یہ حقائق سامنے آئے تو بی جے پی کی قیادت نے بہت احتجاج کیا تھا اور کرنل کو ایک قومی ہیرو کی حیثیت دی تھی۔ ممبئی میں جو دہشت گردی کے ہولناک واقعات ہوئے ہیں‘ ان میں وہ اعلیٰ پولیس افسر اور اس کے ساتھی مار دیے گئے ہیں جو کرنل کے بارے میں مزید تحقیقات کر رہے تھے۔
اس عجیب و غریب پہلو کے سامنے آنے سے پاکستان میں یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ دہشت گردی کا یہ حادثہ بھی کہیں گنگا طیارے کے اغوا کی طرح ایک سازش نہ ہو جس کے ذریعے بعض جہادی تنظیموں کے خلاف آپریشن کا جواز تراش لیا جائے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ بھارت کی جمہوری حکومت اس نازک موقع پر اپنی عالمی ذمے داریوں کا احساس کرے گی اور توسیع پسندی کا خواب دیکھنا بند کر دے گی۔ یہ اب کوئی راز کی بات نہیں کہ ہندوستان جو ایک وسیع وعریض ملک ہے‘ اس کے ایک چوتھائی صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور اقلیتوں میں عدم تحفظ اور مستقبل سے مایوسی کے احساسات عروج پر ہیں۔ ممبئی کی ۳۸/ فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے‘ مگر اسے مرکزی دھارے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ کچھ یہی حال عیسائیوں اور ہریجنوں کا ہے جو معاشرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بھارت آتش فشاں کے دہانے پرکھڑا ہے اور اگر اس نے تعصبات سے چھٹکارا حاصل نہ کیا ‘ تو وہ عالمی طاقت بن جانے کے بجائے خانہ جنگی اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ بھلائی اسی میں ہے کہ پاکستان سے مل کر ان خطرات کا مقابلہ کیا جائے جو ہمارے معاشروں کو لاحق چلے آ رہے ہیں۔
|
|
|