ملکی صورت حال کے پُرخطر زیروبم۔ دسمبر ۲۰۰۹ء
پاکستان میں امریکی عزائم کیا ہیں‘ ان کے بارے میں عسکری قیادت کی
سوچ کیا ہے‘ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد کیا حکمت عملی اختیار کی جائے‘ قومی
یک جہتی اور قومی سلامتی کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے کن کن عوامل کو
بروئے کار لانا ضروری ہے اور بھارت کی درفطینوں کا موثر جواب کیا ہے‘ ان قومی اہمیت
کے ایشوز کے بارے میں اہل فکر و دانش کے تجزیے اور سفارشات
روداد کی تلخیص: الطاف حسن قریشی
پائنا قومی سلامتی اور قومی یک جہتی کے سلگتے ہوئے مسائل پر تواتر کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل کا اہتمام کر رہا ہے چنانچہ ۱۷/ نومبر کی شام جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد کی حکمت عملی پر ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے فرمائی اور میجر جنرل ﴿ر﴾ خواجہ راحت لطیف نے قومی سلامتی کے حوالے سے امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے فوجی اور سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ ہمارے ممتاز دانش ور جناب سجاد میر نے اپنے تیکھے انداز میں اشرافیہ کی کرشمہ سازیوں کے پردے کے سحر پر کاری ضرب لگائی جبکہ عزیزم اعجاز الحق نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں فاٹا کے جملہ معاملات کی اندرونی کہانی بیان کی‘ امریکہ اور بھارت کے عزائم بے نقاب کیے اور دہشت گردی کے ان امور پر بحث کی جو ہماری قومی بقا کے لیے بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ اس کے بعد سیکرٹری جنرل پائنا یعنی راقم الحروف نے راؤنڈ ٹیبل کے شرکائ سے اپنا نقطہ نظر اور سفارشات پیش کرنے کی دعوت دی جس پر بریگیڈئر ﴿ر﴾ یعسوب علی ڈوگر‘ پروفیسر ڈاکٹر رضائ الحق‘ بریگیڈئر ﴿ر﴾ فاروق حمید خان‘ سینئر ایڈیٹر جناب جمیل اطہر‘ کرنل ﴿ر﴾ زیڈ اے فرخ‘ دفاعی تجزیہ نگار جناب ایرج زکریا اور کالم نگار جناب سلمان عابد نے بیش قیمت خیالات کا اظہار کیا۔
راقم الحروف نے ملکی حالات کی سنگینی کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے اپنی قومی زندگی کا یہ پہلو اجاگر کیا کہ ہمارے داخلی معاملات میں امریکی اثرونفوذ خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے اور امریکی صحافی سیموئیل ہرش کی نیویارکر میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ہمارے ایٹمی اثاثے امریکی سیکیورٹی ایجنسیوں کی زد میں ہیں۔ ان تصورات (Perceptions) میں کس قدر حقیقت اور کس قدر افسانہ ہے‘ اس کا تعین آپ جیسے صاحبان فکرودانش ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے حالات کے اس تضاد پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا کہ ہماری فوج تو حالت جنگ میں ہے‘ جبکہ ہماری اشرافیہ لہوولعب کے غیرشائستہ کلچر کی پرورش کر رہی ہے اور ہمارے حکمرانوں سے کرپشن کی ناقابل برداشت بدبو پھوٹ رہی ہے۔ آپ اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے ہمارے قومی مرض کا علاج تشخیص فرمائیں۔
عسکری تجزیہ نگار میجر جنرل ﴿ر﴾ راحت لطیف
میرے خیال میں امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی مشترکہ کوشش یہ ہے کہ کسی طریقے سے اس کے جوہری اثاثے رول بیک ہو جائیں۔ امریکیوں کو بڑی حد تک یقین ہو گیا ہے کہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر سسٹم کا اس وقت تک کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب تک آئی ایس آئی اور فوج کو ملکی دفاع میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان دونوں اداروں میں شکست و ریخت کو پروان چڑھانے کے لیے وہ ڈیل کے ذریعے پاکستان میں ان حاکموں کو لے کر آئے جو ان کے اس ایجنڈے کی تکمیل کر سکیں۔ ان کی پالیسی یہی ہے کہ وہ بندے خرید لیتے یا انہیں ختم کر دیتے ہیں۔ افغانستان میں انہوں نے شمالی اتحاد کو اپنے ساتھ ملایا اور پاکستان میں ایک ایسی فوجی حکومت کی سرپرستی فرمائی جس کا سربراہ چیف آف دی آرمی سٹاف بھی تھا اور صدر مملکت بھی۔ جنرل پرویز مشرف ان کے آلۂ کار بنے رہے اور جب ان کی ضرورت اور افادیت ختم ہو گئی‘ تو وہ ایک دوسرے آدمی کو منصب صدارت پر لے آئے۔ ان صاحب نے امریکی ایجنڈے کے عین مطابق سب سے پہلے آئی ایس آئی کو وزیر داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن اس وقت جاری کیا جب وزیراعظم پہلی بار امریکہ جا رہے تھے‘ تاہم عسکری قیادت کی طرف سے شدید ردعمل پر اسی رات وہ حکم نامہ واپس لینا پڑا۔ اس ناکامی کے بعد فوج کو ضعف پہنچانے کے منصوبے پر تیزی کے ساتھ عمل شروع ہو گیا۔ پہلا امریکی منصوبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کی راہ تیار کرنا تھا مگر انہیں جلد احساس ہو گیا کہ اس صورت میں پاکستان کی پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہو جائے گی اور اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے فوج کو عوام کے ساتھ لڑا دینے کا منصوبہ تیار کیا اور اس کے لیے فاٹا کا انتخاب عمل میں آیا جہاں سے افغانستان میں امریکی غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت کار جا رہے تھے۔ اب سب سے بڑا مسئلہ جنرل پرویز مشرف کو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے لیے باہمی طور پر تیار کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے کا منصوبہ بنایا اور خودکش حملے شروع ہو گئے اور قوم کو یہ باور کرایا جانے لگا کہ جتنے بھی بم دھماکے اور خودکش حملے ہو رہے ہیں‘ یہ القاعدہ اور طالبان کرا رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے کور کمانڈر کراچی کے قافلے پر حملہ کرایا جس کا مقصد اسے ختم کر دینے کے بجائے محض خوفزدہ کرنا تھا۔ یہی نسخہ جنرل مشرف پر آزمایا گیا۔ انہیں بلٹ پروف گاڑی فراہم کی اور اس کے ساتھ ایک اور گاڑی لگائی جس کے اندر وہ تمام آلات لگے ہوئے تھے جن کی موجودگی میں دو کلومیٹر کے اندر اندر کوئی ریموٹ کام نہیں کر سکتا تھا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ۲۰۰۳ئ کے آخر میں ان پر ایک پل پر سے گزرتے ہوئے حملہ ہوا تھا جس کا مقصد انہیں ڈرانا اور اس امر کا یقین دلانا تھا کہ اس حملے کے تمام کردار فاٹا سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر وہاں پر القاعدہ کے خلاف فوری کارروائی نہ کی‘ تو وہ یہ آپ کو ختم کر دیں گے‘ مگر جب وہ اس طرف نہیں آئے تو بارھویں روز ان پر ایک اور قاتلانہ حملہ ہوا اور انہیں یہ باور کرایا گیا کہ اس حملے میں استعمال ہونے والا مواد جنوبی وزیرستان سے آیا تھا۔ اس کے بعد پرویز مشرف نے ساڑھے سات ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک بریگیڈ وہاں بھجوا دیا اور تب سے اس علاقے میں فوج کے پھیلاؤ کا عمل آگے بڑھتا گیا۔
اس کامیابی کے نتیجے میں امریکیوں نے سکیورٹی ایجنسیوں کے علاوہ نرم ٹارگٹ تلاش کرنا شروع کر دیے اور سب سے پہلے باجوڑ کے ایک گاؤں پر ڈرون حملہ ہوا جس میں بیالیس بچے ہلاک ہوئے۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے اور امریکی صدر بش کے ساتھ ان کی ایک سرکاری ملاقات طے تھی۔ یہ دونوں صدور جب پریس کانفرنس کر رہے تھے‘ اسی دوران ایک صحافی کے سوال پر صدر بش نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان میں بھی پیچھا کریں گے‘ تو صدر بش نے جواب دیا کہ ہم نے اس کے لیے ایک فارمولا تیار کر لیا ہے۔ فارمولا یہ تھا کہ پاکستان میں کارروائی ہم کریں گے اور ذمے داری پاکستان قبول کرے گا‘ چنانچہ باجوڑ میں جو ڈرون حملہ ہوا‘ اس کی ذمے داری پاکستان نے قبول کی تھی‘ مگر اس جھوٹ کا پول پاکستان میں صحافیوں کی جرأتِ اظہار سے کھل گیا تھا۔ اس کے بعد ڈرون حملوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا‘ اور امریکی دباؤ پر اس وقت وہاں تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوج تعینات ہے۔ مشرقی سرحد سے اتنی بڑی تعداد میں فوج اس بارڈر پر لے آنا جو ہمیشہ سے ہمارا دوست بارڈر رہا ہے‘ ہماری قومی سلامتی کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اس دوران صوبہ سرحد کے گورنرجنرل اورکزئی امریکہ طلب کیے گئے کہ وہ صدر بش کو بتا ئیں کہ اس علاقے کی ترقی کے لیے کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔ گورنر اورکزئی نے کہا کہ میں خود اورکزئی ہوں اور میرے علاقے میں ایسی کوئی بات نہیں‘ لیکن صدر بش کو مطمئن کرنا بہت مشکل تھا۔ امریکیوں نے گورنر اورکزئی سے کہا کہ وہاں بہت بلوے ہو رہے ہیں‘ لہٰذا آپ مزید فوج ضرور بھیجیں۔ وہ اس مطالبے کے سامنے ڈٹ گئے‘ تب انہیں گورنری سے فارغ کر دیا گیا۔ ۲۰۰۹ئ میں ہماری خوش قسمتی یہ ہوئی کہ امریکی توقعات کے برعکس سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں فوج کامیاب ہو گئی اور اس کامیابی پر ایک دنیا حیرت زدہ رہ گئی۔ اس پر امریکہ نے یہ کہنا شروع کیا کہ عسکریت پسند وہاں سے بھاگ کر وزیرستان چلے گئے ہیں‘ اس لیے ان کا قلع قمع کرنے کے لیے وہاں آپریشن بے حد ضروری ہو گیا ہے۔
جولائی ۲۰۰۹ئ میں تیس ہزار کے لگ بھگ فوج جنوبی وزیرستان بھیج دی گئی اور آپریشن سے کئی ہفتے پہلے وزیرداخلہ اور وزیراعظم نے فوجی طاقت کے استعمال کا اعلان کر دیا اور یوں فوجی قیادت ’’سرپرائز‘‘ کے عنصر سے محروم رہ گئی۔ جنوبی وزیرستان کے راستے انتہائی دشوار گزار ہیں پھر بھی فوج نے یہ راستے سیل کر دیے۔ جبکہ نیٹو افواج نے پاک افغان سرحد پر اپنی آٹھ چیک پوسٹیں ختم کر دیں اور عسکریت پسندوں کے لیے افغانستان سے فاٹا میں آنا بہت آسان ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپریشن کے دوران افغانستان سے ایک بڑا ہیلی کاپٹر اُڑا اور جنوبی وزیرستان سے پندرہ بیس جنگجو لے کر چلا گیا۔ جن میں حکیم اللہ محسود بھی شامل تھا۔ دراصل بیت اللہ محسود بھی امریکیوں کا آدمی تھا اور پاکستان کی فوج نے اُنہیں کئی مرتبہ بتایا کہ اس وقت بیت اللہ محسود کہاں ہے اور فائر کر کے اسے ختم کیا جا سکتا ہے‘ مگر انہوں نے اس وقت کارروائی کی جب انہیں یہ خبر ملی کہ وہاں پر کچھ عسکریت پسند جمع ہیں‘ ان میں بیت اللہ محسود بھی موجود تھا جو غلط فہمی میں مارا گیا۔ انہوں نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں پہلے کہا کہ وہ مر چکا ہے پھر بتایا کہ زخمی ہو گیا ہے اور آخر میں کہا کہ وہ پکڑا گیا ہے۔ دراصل امریکی اسے اوراس کے ساتھیوں کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔ اب ہماری سرزمین پر جوخودکش حملے ہو رہے ہیں‘ ان میں اضافہ اس وقت سے ہوا ہے جب جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن امریکی اصرار پر شروع ہوا تھا۔ حالات دن بدن مغربی سرحد پر گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔
ادھر بھارت نے دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں اور اس کے آرمی چیف نے محدود ایٹمی جنگ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ہماری مشرقی سرحد پر ان کے جتنے ایئربیس تھے‘ وہاں لڑاکا طیارے بھیج دیے گئے ہیں اور وہ اپنی آرمڈ فورسز مقبوضہ کشمیر کے اندر لے آئے ہیں۔ عین اس وقت سری نگر جا کر بھارتی وزیرداخلہ نے یہ بیان داغ دیا ہے کہ اگر پاکستان نے وہی کام پھر دہرایا جو اس نے ممبئی میں کیا تھا‘ تو ہم اس کا جواب پوری قوت سے دیں گے۔ یہ ایک انتہائی تشویش کی بات ہے‘ جبکہ امریکی ہمیں بدستور طفل تسلیاں دے رہے ہیں کہ بھارت سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ اسی اثنا میں کیری لوگربل کا ڈراما سامنے آ گیا جس کی سخت اور کڑی شرائط کا ہمارے میڈیا نے فوری نوٹس لیا۔ جب امریکیوں نے دیکھا کہ جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کامیابی حاصل کر رہی ہے تو اس دوران ہیلری کلنٹن کا یہ بیان آ گیا کہ جنوبی وزیرستان سے عسکریت پسند بھاگ کر شمالی وزیرستان چلے گئے ہیں‘ اس لیے وہاں فوجی آپریشن ناگزیر ہو گیا ہے۔ جنرل مولن افغانستان آئے‘ تو انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں طالبان سے کوئی خطرہ نہیں‘ البتہ القاعدہ سے خطرہ ہے جس کے لوگ پاکستان چلے گئے ہیںاور دہشت گردوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ پھر اوباما کا ایک خط صدر زرداری کے نام آیا جس میں کہا گیا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میرے تجزیے کے مطابق یہ سب کچھ ہماری حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے جو وہ بڑی سادگی سے پوچھتی ہے کہ ہم کس سے بات کریں۔ مذاکرات تو آپ وزیر قبیلے سے کر سکتے ہیں جو فوج کا ساتھ دے رہا ہے اور محسود قبائل کو آرمی چیف نے خود ایک خط لکھا ہے کہ ہم آپ کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ دراصل امریکی نہیں چاہتے کہ پاکستان قبائلیوں سے بات کرے‘ کیونکہ ان کے پیش نظر ہمیں کمزور کرنا اور ہماری فوجی طاقت کو ضعف پہنچانا ہے۔ لڑائی جنوبی وزیرستان میں جاری ہے اور سردیوں کا موسم سر پر آن پہنچا ہے۔ ہمارا قومی مفاد اسی میں ہے کہ آپریشن محدود کر دیا جائے اور فوج کسی قیمت پر شمالی وزیرستان نہ بھیجی جائے۔ امریکی کہتے ہیں کہ ملاعمر کوئٹہ میں ہے جبکہ ان کا ترجمان اعلان کرتا ہے کہ میں تو افغانستان میں بیٹھا ہوں اور ہم پاکستان سے لڑنا نہیں چاہتے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکیوں نے ہمارے چاروں طرف ایک جال سا پھیلا دیا ہے اور ان کے خفیہ ادارے جو پاکستان کے اندر ہی کام کر رہے ہیں‘ ہماری سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ وہ سارا بوجھ فاٹا پر ڈال کر افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ امریکی مزید چالیس ہزار فوج افغانستان میں بھیجنے کا جائزہ لے رہے ہیں‘ لیکن ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گا‘ کیونکہ پورے امریکہ اور یورپ میں شدید مزاحمت پائی جاتی ہے۔
میری رائے میں ہماری حکومت ناکام ہوتی جا رہی ہے اور اسے جمہوری طریقے سے دوسروں کو آگے آنے کا موقع دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ہم دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں‘ اس میں سے نکلنا مشکل ہوتا جائے گا۔ اب ہمارے وزیرخزانہ شوکت ترین بیچ میں آ گئے ہیں جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری سے بجلی کی قیمت میں ساڑھے بارہ فیصد اضافہ کر دیا جائے گا۔ پھر دو ماہ بعد قیمت مزید ۶/ فیصد بڑھا دی جائے گی۔ اندازہ لگائیے کہ عوام کو کس طرح مشکلات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ایک طرف ہماری فوج لڑ رہی ہے اور دوسری طرف امریکیوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر کسی نہ کسی طرح قبضہ کر کے اسے دفاعی اعتبار سے غیرمستحکم کر دیا جائے۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس خطرناک کھیل سے پورے خطے کا مستقبل کس قدر مخدوش ہو جائے گا۔
اب رہا یہ سوال کہ موجودہ صورت حال میں ہماری فوجی اور سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے‘ میرا جواب یہ ہے کہ بگاڑ کا علاج فوج کے بجائے حکومت کے پاس ہے۔ فوج تو آئین کے مطابق سول حکومت کے احکام بجا لا رہی ہے۔ اگر آپ اسے شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کی روایت کا حکم دیں گے‘ تو وہ اس پر عمل کرے گی۔ اس نے تو معجزے کر کے دکھا دیے ہیں‘ مگر سرجیکل آپریشن پورے آپریشن کا محض ایک حصہ ہوتا ہے۔ ہمارے وزیر داخلہ فرما رہے ہیں کہ یہ جنگ آخری دموں پر ہے اور عسکریت پسند بھاگ رہے ہیں۔ وزیراعظم کا ارشاد ہے کہ ہم تو ایسے جلادوں سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔ میں یہ عرض کروں گا کہ اگر اپنے ملک کو بچانے میں دلچسپی ہے تو جن ارباب حکومت کی دولت اور مفادات ملک سے باہر ہیں وہ اسے پاکستان لے آئیں۔ امریکہ نے ایران کامنجمد کیا ہوا پیسہ آج تک واپس نہیں دیا‘ اسی طرح ان کے اثاثے بھی منجمد کیے جا سکتے ہیں۔ فاٹا میں سات ایجنسیاں ہیں۔ اگر ماردھاڑ کا سلسلہ بڑھتا گیا‘ تو آگے چل کر ہماری مشکلات میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ وہاں کے عوامی نمائندوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا۔ دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ موجودہ حکومت مشرف کی پالیسی ہی کو آگے بڑھا رہی ہے۔
اس پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے عوام کو باہر نکل آنا چاہیے۔ اگر اس وقت باہر نہ آئے‘ تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ زرداری صاحب نے بار بار کہا تھا کہ چیف جسٹس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ لیکن جب عوام لانگ مارچ میں شامل ہوئے‘ اور ابھی وہ شاہدرہ تک نہیں پہنچے تھے کہ ان کا فیصلہ تبدیل ہو گیا تھا۔ حکومت اگر کچھ نہیں کرتی‘ اپوزیشن بھی تماشائی بنی رہتی ہے اور پارلیمنٹ بھی بے دست و پا نظر آتی ہے‘ تو ایسی صورت میں قوم کو باہر نکلنا ہو گا۔ اس کے سوا مجھے دوسرا راستہ دکھائی نہیں آتا۔لوگ بدعنوانی اور بدانتظامی‘ دہشت گردی اور امریکی اثرونفوذ کے خلاف ڈٹ جائیں گے اور جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی حمایت میں نکل کھڑے ہوں گے تو قومی اور ملکی معاملات میں ضرور بہتری آئے گی اور سول ملٹری تعلقات میں توازن پیدا ہو گا۔
ممتاز دانش ور جناب سجاد میر
جنرل راحت لطیف نے جو پس منظر پیش کیا ہے‘ اس میں طالبان‘ خودکش حملوں اور ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں امریکی عزائم کی حقیت ایک مربوط کہانی کی شکل میں سامنے آ گئی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آج سے پانچ سال قبل جب نوازشریف جدہ میں تھے تو ان سے ملاقات ہوئی۔ کھانے سے فراغت کے بعد جب میں باہر نکل رہا تھا‘ تو انہوں نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرف‘ نوازشریف یا بے نظیر اب سرے سے قومی ایشو نہیں‘ آپ اس وقت اپنے ایٹمی اثاثوں کی فکر کریں۔ حیرانی مجھے ان کی سنجیدگی اور صداقت پر ہوئی کہ وہ جلاوطنی میں اپنے وطن کے بارے میں سوچتے رہتے اور بات کرتے ہیں۔ پاکستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کے حوالے سے ہمارے ہاں دو یا تین فکری نقطہ نگاہ پائے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ جس کی نمائندگی جنرل صاحب نے کی ہے کہ امریکہ ہی خودکش حملے کرا رہا ہے اور ہمارے ایٹمی اثاثوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا مکتب فکر یہ ہے کہ دہشت گردی میں اپنے ہی لوگ ملوث ہیں‘ انہی کے باعث ایک افراتفری پھیلی ہوئی ہے‘ ایسے میں امریکہ اور بھارت ضرور فائدہ اُٹھائیں گے۔ ایک فکری زاویہ یہ بھی ہے کہ امریکہ ہمیں غیرمستحکم نہیں صرف کمزور کرنا چاہتا ہے۔ میرے خیال میں امریکہ ہمارے مفادات کا پاس لحاظ نہیں کرتا اور آپ نے دیکھا جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی نیٹو اور امریکی افواج نے پاک افغان سرحد پر اپنی چوکیاں ختم کر دیں‘ تاکہ افغانستان سے بڑی تعداد میں عسکریت پسند فاٹا میں آ سکیں اور پاک فوج کی مزاحمت کریں۔ افغانستان اور پورے خطے میں امریکیوں کی ایک طویل المیعاد حکمت عملی ہے جہاں سے وہ وسطی ایشیا‘ روس اورچین پر نگاہ اور ایران کو قابو میں رکھیں گے جبکہ بھارت کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے۔ ممکن ہے کہ دکھاوے کے لیے وہ افغانستان سے چلے جائیں‘ لیکن ایک ایسی طاقت کے طور پر احساس دلاتے رہیں گے کہ ان کا اس علاقے میں ایک مضبوط ’’بیس‘‘ ہے۔
امریکہ ہمارے ایٹمی اثاثے بھی حاصل کرنا چاہے گا۔ الطاف حسن قریشی نے ایک بڑا اہم سوال پوچھا ہے کہ اس اُبھرتی ہوئی صورت حال کا حل کیا ہے۔ جنرل صاحب نے تو سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔ ان کی بات ایک حد تک درست ہے‘ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض کام فوج ہم سے کراتی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں آج اس کے رول پر غور کرنا ہو گا۔ عسکری قیادت نے کیری لوگر بل کی برملا مخالفت کرتے ہوئے قومی سلامتی کے ایشوز پر کھل کر بات کی ہے۔ عسکری قیادت کے اس طرز عمل سے کہیں کہیں یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ سیاست پر اثرانداز ہونا چاہیں گے‘ مگر فوج کا آنا بھی بہت سے لوگوں کو اس لیے منظور نہیں کہ جمہوریت پٹڑی سے اُتر جائے گی اور مشرقی پاکستان جیسا المیہ پیدا ہو سکتا ہے۔
جنرل راحت لطیف اگر عوام سے باہر نکلنے کا کہہ رہے ہیں‘ تو اس کے اس خیال کا اس پہلو سے خیرمقدم کیا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ صرف پاکستانی عوام سے ڈرتا ہے جس کا عملی مظاہرہ ۵۱/ مارچ کو ہوا۔ امریکیوں کا خیال تھا کہ لاہور جم خانہ آئیں گے‘ شراب پئیں گے‘ ایک سحر طاری ہو جائے گا اور پاکستان کی ایلیٹ سرتسلیم خم کر دے گی‘ فرانسیسی دانش ور فلائیر نے انہیں بورژدا کا نام دے کر قابل قتل قرار دیا تھا۔ پاکستان میں ایلیٹ کلاس جو کلچر پروان چڑھا رہا ہے‘ میں اسے ’’کنجرکلچر‘‘ کہتا ہوں۔ عوام پوری قوت کے ساتھ امریکی کلچر اور اس کے پھیلتے ہوئے اثرونفوذ کی سخت مزاحمت کریں گے۔ طالبان جن کو آپ کوئی نام بھی دے لیجیے‘ وہ مزاحمت کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ انہیں امریکہ ہی نے کھڑا کیا تھا‘ تب اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس قدر طاقت ور ہو جائیں گے۔ آج طالبان ہمارے خلاف بھی مزاحمت کر رہے ہیں اور امریکہ کے خلاف بھی۔ لاہور کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے پڑھے لکھے نوجوان افغانستان میں جاکر لڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر متوسط طبقے میں مزاحمت کا شعور پیدا ہو گیا ہے۔ بلیک واٹر کے قصے لوگوں کے اندر ہیجان کے ساتھ ساتھ ایک عزم بھی پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ کے خلاف جذبات منظم ہوتے جا رہے ہیں۔ مختلف امریکی ایجنسیوں کے بارے میں خبریں‘ میرے خیال میں‘ فوج کے ادارے لیک آؤٹ کر رہے ہیں تاکہ قوم پوری طرح بیدار اور متحد ہو جائے۔
سیاسی رہنما جناب اعجازالحق
میں نے جون ۲۰۰۹ئ میں ایک مضمون روزنامہ ’’دی نیشن‘‘ میں لکھا تھا جو افغانستان اور ہماری صورت حال کے بارے میں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کی جنگ جان بوجھ کر پاکستان کے اندر اس لیے منتقل کی گئی ہے کہ امریکہ پر دباؤ کم ہو جائے۔ اس مہم میں بھارت اور اسرائیل کی لابی سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ بھارت جو لابنگ پر ئ۹۴۔۱۹۹۳ میں چالیس ملین ڈالر خرچ کرتا تھا‘ اب ۹۰ ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ اسرائیل کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر اگر کوئی مضبوط لابی واشنگٹن میں ہے‘ تو وہ بھارت کی ہے۔ اس نے ہمارے لوگ بھی اپنے پے رول پر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعے ہمارے عدم استحکام کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے فاٹا کا کوئی فوجی حل نہیں۔ وادیٔ سوات میں ہماری فوج نے ایک کامیاب آپریشن ضرور کیا ہے‘ لیکن دہشت گردوں کی لیڈرشپ ہاتھ نہیں آ سکی‘ تاہم اس نے سیاسی حکومت کے لیے ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عمل درآمد کا موقع فراہم کر دیا ہے جس کا پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا۔
وزیرستان میں اب جو آپریشن چل رہا ہے‘ اس میں قدرے محدود مزاحمت ہو رہی ہے‘ کیونکہ عسکریت پسند وہاں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور غالباً افغانستان چلے گئے ہیں۔ پاکستان کی تیس سے چالیس ہزار فوج جنوبی وزیرستان میں ہے اور اسے آپریشن کلین اپ کرنے کے بعد وہاں مسلسل چوکیاں رکھنا پڑیں گی۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنے ہی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کرے۔ جو مختلف عناصر پر مشتمل ہیں۔ کچھ طالبان کے نام سے ہیں اور کچھ دوسرے تنظیمی ناموں سے جن میں جرائم پیشہ عناصر گھس آئے ہیں اور فساد برپا کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کا بیس کیمپ تلاش کرنا ہو گا۔ ان میں ۲۰/ فیصد لوگ امریکہ کے خلاف آخری وقت تک مزاحمت کریں گے اور ہماری فوج کا ایک حصہ ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ جب مقبوضہ کشمیر کے اندر جہاد کامیابی سے چل رہا تھا‘ تو ایک بیس کیمپ پاکستان میں تھا۔ موجودہ صورت حال میں ضرورت سے زیادہ قونصل خانے افغانستان میں کھلے ہیں۔ وہ بھارت جو ۹۰/ ملین ڈالر اپنی لابنگ کے لیے امریکہ میں خرچ سکتا ہے‘ تو وہ ۵۰/ ملین ڈالر کیوں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے خرچ نہیں کرے گا؟ اس نے پاکستان کا پانی بند کر رکھا ہے اور آپ مہر بلب ہیں اور کشمیر کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کر رہے۔ آج تو بات کشمیر کے بجائے جی ایچ کیو بچانے کی ہوتی ہے۔ آئی جی سرحد نے بیان دیا ہے کہ یہ جو مینابازار میں دھماکا ہوا‘ اس کا سٹائل ۸۰ئ کے اندر ہونے والے دھماکوں جیسا تھا۔ تب کے جی بی اور موساد ہمارے حریف تھے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ساری دنیا کی نظریں ہمارے اوپر جمی ہوئی ہیں۔ سیاسی طور پر حکومت کی اپنی کوئی سوچ نہیں‘ رات ایک یا دو بجے حقانی صاحب کا فون آتا ہے جو بتاتے ہیں کہ اب جان کیری یا ہیلری کلنٹن نے یہ پیغام دیا ہے جس پر اگلے روز عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے اور حکمران سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن نے تھپکی دے دی ہے اور اب ہمیں کوئی ہلانے والا نہیں۔ ملک میں اس وقت بدترین قسم کی بدعنوانی‘ بدنظمی اور عوام کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔
مجھے اپنی وزارت کے زمانے میں کابل جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے میں نے جنرل مشرف سے کہا کہ میں ایئرپورٹ پر اُترا‘ چھ سات ڈرائیور آئے‘ ان سے بات چیت ہوئی۔ میں نے کھانے پر مامور ویٹر کے احوال معلوم کیے‘ صرف ایک دو لوگوں کے سوا ایک بھی پختون ڈرائیوروں کی فوج میں گارڈ آف آنر دینے والوں اور ویٹروں میں شامل نہیں تھا‘ چنانچہ پختون اس حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ملاعمر پاکستانی طالبان سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور شہریوں کے خلاف مت لڑو اور انہیں مت مارو‘ میرے مشاہدے کے مطابق طالبان کے زمانے میں افغانستان بڑا پرامن تھا۔ انہوں نے منشیات کی پیداوار صفر کر دی تھی۔ یہ افغانستان پر امریکی حملے سے ایک ہفتے قبل کی بات ہے کہ جیسی جیکسن سے میری کانفرنس کال ہوئی۔ اس نے کہا کہ یہ جو سات خواتین پکڑی گئی ہیں‘ ان کو رہا کرانا ہے اور میں اس کام کے لیے افغانستان جانا چاہتا ہوں‘ تو پہلے طالبان سے بات کرلو۔ یہ شام کا وقت تھا‘ میں رات ساڑھے دس بجے سفیر ملاضعیف سے ملنے گیا اور ان سے کہا کہ یہ تمہارے لیے ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو گا۔ اس نے سیٹلائٹ فون کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی‘ لیکن بات نہ ہو سکی اور بات کل پر چلی گئی۔ اگلے روز صبح مجھے افغان سفیر کا فون آیا اور میں دوبارہ ملنے گیا تو اس نے کہا کہ میری بات ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ آ جائیں۔ جونہی آپ جیکی جیکسن کو لے کر آئیں گے‘ ہم خواتین کو رہا کر دیں گے‘ لیکن اسے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی‘ کیونکہ امریکہ نے افغانستان پر حملے کا پورا منصوبہ پہلے سے بنا رکھا تھا۔ آج امریکہ پاکستانی فوج کو اپنی جنگ میں ملوث کیے ہوئے ہے اور وہ بتانا چاہتا ہے آج پاکستان کا جی ایچ کیو اور ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں۔
اسرائیل‘ بھارت اور امریکہ آپس میں ملے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ وزیرستان کے اندر فوجی آپریشن کے بعد آئی ایس پی آر نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ وہاں اسلحہ اور دوائیاں بھارت کی ہیں‘ لیکن وزارت خارجہ‘ حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی نے بھارت سے احتجاج نہیں کیا۔ ہمارے ہاں ایک جمہوری سسٹم ضرور ہونا چاہیے جس میں فوج کی مداخلت ناممکن ہو‘ مگر موجودہ سسٹم جو اس حال میں چل رہا ہے‘ میں نہیں سمجھتا کہ زیادہ دیر چل سکے گا۔ معاشرے کا تین فی صد بالائی طبقہ سارے ملکی وسائل پر قابض ہے اور عوام غربت‘ جہالت‘ بیروزگاری اور ہوشربا مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دشمن ہماری فوج اور آئی ایس آئی پر پے در پے وار کر رہا ہے۔
امریکہ میں پینٹاگان کا سول حکومت کی پالیسی سازی پر گہرا اثر ہے‘ چنانچہ ہمیں جی ایچ کیو کے رول پر بہت شورغوغا نہیں کرنا چاہیے۔خوش قسمتی سے اب عدلیہ متحرک ہوئی ہے اور ہمارا میڈیا اور سول سوسائٹی بڑی حد تک آزاد اور فعال ہیں۔ آج دوردراز گاؤں کا آدمی بھی امریکہ کی بات کرتا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ ہمارے عوام بیدار ہوتے جا رہے ہیں اور اسی بیداری میں ہمارے بہت سارے سوالات کے جواب دستیاب ہیں۔
مدیراُردوڈائجسٹ الطاف حسن قریشی
معزز حضرات! آپ نے وزیرستان میں آپریشن کے بعد کی حکمت عملی کے حوالے سے ہمارے قابل قدر مقررین کی پرمغز گفتگو سنی جس کا ماحصل یہ ہے کہ امریکہ ہمارے معاملات پر غالب آ گیا ہے اور وہ اپنے مفادات کے لیے پاکستان کی سرزمین اس کے سیاست دانوں‘ اس کی فوج اور اس کی انٹیلی جنس اداروں کو استعمال کر رہا ہے۔ آپ اس تاثر کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بھی پیش کر سکتے ہیں اور حالات میں بہتری لانے کے لیے تجاویز بھی دے سکتے ہیں۔ میں سیاست کا طالب علم ہوں اور صحافت کے شعبے میں کام کرتے ہوئے نصف صدی ہونے کو آئی ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ امریکی قوم ایک عظیم قوم ہے اور اس نے قانون کی حکمرانی‘ فرد کی آزادی‘ بے پناہ محنت اور وقت کی پابندی سے عالمی برادری میں امامت کا مقام حاصل کیا ہے‘ اس لیے ہمیں امریکی قوم اور امریکی حکومت کے مابین جو بنیادی فرق ہے‘ اسے پوری طرح ملحوظ رکھنا چاہیے۔
میں دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے بڑے قریب رہے ہیں جبکہ بھارت سویت یونین کے حلقۂ اثر میں تھا جس کے خلاف ’’آزاد دنیا‘‘ صف آرا تھی‘ ہمیں اس امر کا سراغ لگانا ہو گا کہ آج بیشتر تجزیہ نگاروں کے مطابق‘ امریکی مفادات پاکستانی مفادات سے متصادم دکھائی دیتے ہیں‘ اس میں ہماری سفارت کاری کا حصہ کتنا ہے۔ ہمارا جغرافیائی محل وقوع سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے اور ہماری فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے اور ہمارے ذہین اور جفاکش عوام ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں‘ تو امریکہ جو دہشت گردی کے شدید خوف میں مبتلا ہے اور اسے افغانستان میں ایک عبرت ناک شکست کا سامنا ہے‘ تو وہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کیسے مول لے سکتا ہے؟ اس امر پر بھی گہرائی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم امریکی قیادت کو پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے یہ باور نہیں کرا سکتے کہ ایک مستحکم اور مضبوط پاکستان اس کے اور عالمی امن کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
میں آپ کی توجہ اس بنیادی نکتے کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دینے سے کوئی بڑی تبدیلی آ سکے گی‘ یا ہم جذباتی نعروں کی نذر ہو جائیں گے۔ قدرت نے ہمیں جو مواقع فراہم کیے ہیں‘ ہم ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ایک ایسے راستے پر چل نکلے ہیں جو ہمارے وطن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت ہمارے اندر پرورش پانے والے دہشت گردی کے رجحانات سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے جسے امریکی قیادت گلوبل پاور کے طور پر آگے لا رہی ہے۔ ہم عسکریت پسندوں کے خلاف شاندار کامیابیوں کی بنیاد پر امریکی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیںڈال کر بات کر سکتے اور وہاں کی رائے عامہ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر ہم بالغ نظری اور فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے دونوں ممالک کے مفادات میں ایک گو نہ مطابقت پیدا کرنے کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنا گھر درست کرتے چلے جاتے ہیں تو غیروں سے ڈکٹیشن لینے کا مرحلہ کبھی بھی نہیں آئے گا۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کو خودمختار اور موثر بنانا اور حکمرانوں کو ضبط نفس سے کام لینا ہو گا۔
میرے نزدیک یہ امر بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کہ ہماری فوج تو حالت جنگ میں ہے جبکہ ہمارے بیشتر سول ادارے اور عوامی تنظیمیں حالت جنگ میں نظر نہیں آتیں۔ ہم نے سارا بوجھ فوج‘ پیراملٹری اور پولیس فورس پر ڈال دیا ہے اور ہمارے شب و روز قومی سوچ اور مثبت فکر سے تہی داماں دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی قیادت اس پختگی اور بلند خیالی سے بڑی حد تک عاری ہے جو روزافزوں پیچیدہ تر ہونے والے حالات کی چارہ گری کے لیے ضروری ہیں۔ آپ کچھ ایسی تجاویز دیجیے جن کی بنیاد پر قوم کی سیرت سازی کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کے خلاف افکار کی جنگ جیتی جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر سید رضائ الحق
میرے خیال میں سب سے اہم ضرورت اذہان تبدیل کرنے کی ہے۔ پہلے بگاڑ آپ کی فکر میں پیدا ہو جاتا ہے جو مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔ دراصل ہمارا معاشرہ ایک مدت سے عدل و انصاف کی فرمانروائی سے محروم چلا آ رہا ہے جن کے باعث دو بڑے طبقات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک بہت امیر اور ایک انتہائی غریب اور درمیانی طبقہ اس قدر سکڑ چکا ہے کہ اصولوں اور اخلاقی ضابطوں کے محافظ دستیاب نہیں۔ ہمارے ہاں جو طالبان کا منظرنامہ سامنے آیا ہے‘ اس کی تشکیل میں سب سے زیادہ حصہ غربت اور جہالت کا ہے۔ اسی جہالت نے اسلامی تعلیمات کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ طاقت کے استعمال میں احتیاط سے کام لینے اور بھٹکے ہوئے افراد کو راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ امریکہ تو ’’معتدل طالبان‘‘ کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے‘ لیکن ہمارے حکمران بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ ہم شدت پسندوں سے بات نہیں کریں گے۔ یہ ایک غیردانش مندانہ سوچ ہے۔
بریگیڈئیر﴿ر﴾ یعسوب علی ڈوگر
ہمارے حکمران جو تاریخی شعور ے بڑی حد تک نابلد ہیں‘ وہ اپنی تہذیبی اور سیاسی اقدار کو اہمیت دینے کے بجائے مغرب پر تکیہ کرتے اور رہنمائی کے لیے امریکی قیادت کی طرف دیکھتے ہیں۔ میں اس خیال سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں بلاوجہ اپنے دشمن پیدا نہیں کر لینے چاہئیں اور امریکہ سے الجھنا ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہو گا‘ لیکن ہمارے معاشرتی اور حکومتی اداروں کو بڑھتے ہوئے امریکی اثرونفوذ کی روک تھام کرنا ہو گی اور جہاں تک فاٹا میں شورش کا تعلق ہے‘ تو میری تجویز یہ ہے کہ قبائلی علاقے‘ سیاسی‘ معاشرتی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے قومی دھارے میں لائے جائیں اور ان کے رسوم و رواج اور معاشرتی روایات کا خیال رکھا جائے۔ دینی تعلیمات کے فروغ اور انسانی رویوں کی تشکیل سے بھی اذہان تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے دانش وروں کو قومی سوچ کی تعمیر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ میڈیا پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کے اندر صالح جذبوں کی نشوونما کا اہتمام کرے۔
جناب ایرج زکریا
زکریا صاحب جو فوج میں میجر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد صحافت کے میدان میں فعال کردار ادا رہے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ ٹھوس اور معتبر ثبوت کے بغیر امریکہ پر یہ الزام لگانا درست نہیں کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لینا چاہتا ہے۔ چند اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ سی آئی اے ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے درپے ہے اور ٹرینگ کے بہانے امریکی کمانڈو کہوٹہ کے قریب پہنچ گئے ہیں‘ کوئی قرین قیاس بات نہیں۔ امریکی قیادت کو اتنا اندازہ یقینا ہو گا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں پر قبضہ کرنے سے عوام امریکی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے جو اس پورے خطے میں امریکی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوں گے خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب امریکی قیادت کو افغانستان میں شکست نوشتہ دیوار کی طرح صاف دکھائی دے رہی ہے۔ ہمیں اپنے قومی مقاصد کی نگہبانی کرتے ہوئے کسی کو اپنی قومی خودمختاری کو ضعف پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے‘ مگر ’’امریکی فوبیا‘‘ میں شب و روز مبتلا رہنا ہمیں نفسیاتی مریض بنا دے گا۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ پاکستانی اور امریکی مفادات میں زیادہ سے زیادہ مطابقت پیدا کرتے ہوئے جمہوریت اور معیشت کو فروغ دیا جائے۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ پاک امریکہ روابط پر گہرائی کے ساتھ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے‘ کیونکہ سمجھ دار قومیں چیلنجوں کو اچھے مواقعوں میں تبدیل کرنے کے لیے ذہنی اور فکری کاوشیں کرتی رہتی ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان کے لیے امکانات کا ایک وسیع میدان موجود ہے۔
بریگیڈئیر ﴿ر﴾ فاروق حمید خاں
پاکستان کو اس وقت بڑے بڑے داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہے‘ اس لیے سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین فکری اور عملی یک جہتی ضروری ہے۔ بلیک واٹر جو ڈک چینی کے زیر سایہ پرورش پاتی رہی ہے‘ اس نے عراق میں بڑے ظلم ڈھائے ہیں اور اب یہ سکیورٹی ایجنسی ایک تبدیل شدہ نام سے پاکستان میں اپنا جال بچھا رہی ہے اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے نت نئے خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کو اس کی روک تھام پر پوری توجہ دینا ہو گی۔ اس ضمن میں میری تجویز یہ ہے کہ ڈی سی سی ﴿کینٹ ڈیفنس کمیٹی﴾ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور فعال بنایا جائے۔ کئی مہینوں سے اس اہم کمیٹی کا اجلاس ہی نہیں ہوا حالانکہ کیری لوگر بل میڈیا میں موضوع گفتگو بنا رہا اور فوجی قیادت کو اپنا نقطہ نگاہ پریس ریلیز کے ذریعے سامنے لانا پڑا۔
میں اپنے اس احساس کا اظہار بھی کرنا چاہتا ہوں کہ فوجی آپریشن سے پہلے فاٹا کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ بلاشبہ فوج نے غیرمعمولی شجاعت اور عزیمت کا ثبوت دیا ہے‘ لیکن اب اسے اپنا دائرہ عمل محدود کر دینا چاہیے۔ دفاعی اعتبار سے ہماری افواج کے لیے شمالی وزیرستان میں آپریشن ملکی مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہو گا۔ امریکی قیادت ہماری عسکری طاقت کو وسیع علاقے میں پھیلا دینا چاہتی ہے اور فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں برسرپیکار دیکھنا چاہتی ہے۔ ہماری حکومت کو امریکی خواہش کی تکمیل کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہماری مشرقی سرحدوں پر زبردست جنگی تیاریوں میں شب و روز مصروف ہے اور یہ سمجھ لیناکہ ہمیں اس کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں‘ ہماری طرف سے بہت بڑی حماقت کا مظاہرہ ہو گا۔
میری تجویز یہ بھی ہے کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ایک قومی حکومت قائم کی جائے جسے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل ہو۔ مجھے قومی حکومت کے آئینی پہلوؤں کا صحیح اندازہ نہیں‘ لیکن ایک ایسے شہری کی حیثیت سے جس نے فوج میں اپنی زندگی کا ایک حصہ گزارا ہے اور امریکی سفارت خانے میں بھی کام کیا ہے‘ میں اپنے وطن پر منڈلاتے ہوئے خطرات کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنی مستحکم انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی اور مضبوط دفاعی ادارے فوج کو زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ بدلے ہوئے حالات میں مادروطن کا موثر تحفظ اور امریکی اثرونفوذ کے آگے بند باندھ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قوم کے اندر اعتماد پیدا کرنے کی خاطر کرپشن کی روک تھام کے لیے احتساب کا ایک شفاف نظام قائم کرنا ہو گا۔
سینئر تجزیہ نگار جناب سلمان عابد
میرے مشاہدے کے مطابق عوام کے اندر سیاسی حکومت اور فوجی قیادت کے بارے میں اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔ حکومت کی کارکردگی حددرجہ غیرتسلی بخش ہے اور اس نے فاٹا میں فوجی آپریشن کا فیصلہ وہاں کے منتخب نمائندوں‘ مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوج اور پولیس کی عظیم قربانیوں کے باوجود شدت پسندی میں خاطر خواہ کمی نہیں آ رہی۔ دوسرا بڑا مسئلہ لوگوں کی معلومات تک عدم رسائی ہے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کیے جا رہے ہیں‘ ان پر عوام کی اکثریت عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔ وادیٔ سوات اور مالاکنڈ میں جو آپریشن ہوا اور تیس لاکھ کے لگ بھگ شہری گھر بدر کیے گئے‘ ان کے مسائل پر سول ادارے توجہ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ان حالات کے پیش نظر میری سفارش یہ ہے کہ فوجی آپریشن فوری طور پر محدود کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور پس ماندہ علاقوں کی سیاسی‘ معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے لیے عملی اقدامات پر فوری توجہ دی جائے۔ یہ امر ہمارے لیے خوش آئند ہے کہ ہماری فوجی قیادت سیاسی اقتدار میں چنداں دلچسپی نہیں رکھتی اور وہ سول اتھارٹی کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگار کرنل ﴿ر﴾ زیڈ آئی فرخ
اس میں کوئی شک نہیں کہ بلیک واٹر پاکستان میں انٹر رسک اور کچھ دوسرے ناموں سے بہت فعال ہے اور ہمارے حساس علاقوں تک پہنچنے کے لیے سرگرم ہے۔ملک میں امریکی ایجنسیوں کی پراسرار سرگرمیوں سے قومی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جس کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری قومی خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آئے اور دہشت گردی کا جلد سے جلد خاتمہ ہو‘ مگر اس مقصد کا حصول کچھ سہل نہیں۔ دہشت گردی کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ اس کی بیخ کنی کے لیے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ دہشت گردوں کا ایک چھوٹا سا گروہ فوج کی پوری بٹالین کے لیے سخت پریشانی کا باعث بن سکتا ہے‘ اس لیے ہمیں بے صبری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے نئے حالات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے۔ فوج‘ پیراملٹری اور پولیس فورس کو گوریلا جنگ کی تربیت دینا اور مقامی کمیونٹی کو منظم اور فعال بنانا ہو گا۔ اس کے علاوہ فوج کو بہت زیادہ پھیلنے سے بچانا اور مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے متحد رکھنا ضروری ہے۔
میں اپنا یہ تجزیہ بھی پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جنوبی پنجاب دفاعی اعتبار سے غیر معمول یاہمیت اختیار کر جائے گا‘ اس لیے اس علاقے کی سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کرنا بے حد ضروری ہے۔ فاٹا اور بلوچستان کے اپنے مسائل میں جو ہماری غفلت اور عاقبت نااندیشی سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا فوجی حل بھی تلاش کرنا ہے اور سیاسی بھی‘ لیکن جنوبی پنجاب میں جو رجحانات پرورش پا رہے ہیں اور وہاں کے عوام جس ذہنی اور اقتصادی پس ماندگی کا شکار ہیں‘ وہ ہمارے قومی وجود کے لیے بہت بڑاخطرہ بن سکتے ہیں۔ میرا یہی خیال ہے کہ ابھی دہشت گردوں سے مذاکرات کا وقت نہیں آیا‘ جب ان کی طاقت ٹوٹ جائے گی‘ تو مذاکرات کا عمل سودمند ثابت ہوگا۔ ہمیں اپنی فوج کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اس نے وہ کام چند مہینوں میں کر دکھایا جس کا عشرِعشیر امریکی اور نیٹو افواج سات آٹھ برسوں میں انجام نہیں دے سکیں۔
ایڈیٹر روزنامہ جرأت جناب جمیل اطہر
میری سب سے بڑی سفارش یہ ہے کہ پائنا کے زیراہتمام جو فکری نشستیں منعقد ہو رہی ہیں‘ ان کا دائرہ دوسرے شہروں تک وسیع کیا جائے۔ میں راؤنڈ ٹیبل سے نئی سوچ لے کر جاتا ہوں اور میری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ الطاف حسن قریشی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایک جنگ میدان میں لڑی جا رہی ہے اور ایک دوسری جنگ ذہنوں میں ہے۔ ذہنوں میں لڑی جانے والی جنگ آخرکار فیصلہ کن ثابت ہو گی۔ میری دوسری سفارش یہ ہے کہ پائنا کالم نگاروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا ایک پینل تشکیل دے جو قومی سلامتی اور قومی یک جہتی کو درپیش چلنجوں کے بارے میں عام فہم انداز میں مضامین قلم بند کریں اور اشاعت کے لیے انہیں اخبارات میں شائع کرایا جائے۔ اس طرح شہریوں کی ذہنی تربیت کا سلسلہ وسیع ہو گا اور قوم کے اندر دہشت گردی کے خلاف مزاحمت ایک قوت بن کے اُبھرے گی۔
|