 |
صحت مند تبدیلی کا آغاز۔ دسمبر ۲۰۰۹ء
پاکستان میں جب سے عسکریت پسندی کا ہولناک سلسلہ شروع ہوا ہے‘ اس وقت سے امن و امان اور دل کا سکون درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں‘ جو یہ تاثر دے رہی ہیں کہ امریکی سیکیورٹی ایجنسیوں نے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور بہت جلد ایک معرکہ بپا ہونے والا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں حکومت کی تبدیلی کے افسانے آئے دن سننے میں آ رہے ہیں اور غریب عوام ایک ڈیڑھ سال سے زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں‘ لوٹ مار کا بازار گرم ہے‘ ایک اچھے نظم و نسق اور گڈ گورننس کا نقش قائم ہی نہیں ہو پا رہا۔
قدرت کا یہ عجب کرشمہ ہے کہ اس یاس انگیز منظرنامے کی شاخوں سے امید کے غنچے پھوٹ رہے ہیں۔ ہماری افواج نے دہشت گردوں کے مقابلے میں جو عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ ان سے بڑی طاقتوں کو بھرپور احساس ہو گیا ہے کہ وہ پورے عالم انسانیت کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اوباما نے پاکستان کے ساتھ فوجی اور اقتصادی تعاون میں زبردست اضافے کی پیشکش کی ہے اور پاک بھارت معاملات کو سدھارنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے جو یقینا ایک اہم پیش رفت ہے۔ مشاورت کے لیے عالمی رہنما اسلام آباد چلے آ رہے ہیں اور یہ راز سمجھتے جا رہے ہیں کہ پاکستانی عوام کی معاشرتی اور سیاسی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ داخلی سطح پر یہ امر بہت خوش آئند ہے کہ ہماری عسکری قیادت آئین اور سول اتھارٹی کے تحت اپنی ذمے داریاں ادا کر رہی ہے اور اقتدار سے الگ تھلگ رہنا چاہتی ہے۔ اسی طرح ہماری سیاست کا یہ پہلو بہت حوصلہ افزا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے جمہوری نظام کا تسلسل قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ میں پوری طرح مستعد ہیں۔
ہمارے قومی حالات اور بھی زیادہ تابدار ہوتے اگر آصف زرداری اپنے قول کا پاس رکھتے۔ ان کا یہ کارنامہ ہماری تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو چکا ہے کہ انہوں نے بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کو نسلی اور لسانی خلفشار سے بچا لیا تھا‘ مگر وہ بعض ’’خصوصیات‘‘ کے باعث غلط مشیروں میں گھر گئے اور غلطی پر غلطی کرتے چلے گئے‘ چنانچہ ۱۵/ مارچ ۲۰۰۹ئ کو بہت بڑی سیاسی شکست سے دوچار ہوئے اور رہی سہی کسر ۲/نومبر کی رات این آر او پر پسپائی نے پوری کر دی۔ کیری لوگر بل سے یہ حقیقت بے نقاب ہوئی کہ عسکری قیادت آصف زرداری کی حکومت سے قومی سلامتی کے امور پر شدید اختلاف رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ایوان صدر سے جناب پارٹی کے شریک چیئرمین نے جو تقریر فرمائی‘ اس نے صحت مند تبدیلی کا عمل تیز تر کر دیا۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مقتدر طاقتوں نے سیاسی جماعتوں کے تعاون سے بڑے بڑے فیصلے کر لیے ہیں۔
نومبر ۲۸ کی شام جب این آر او آرڈیننس کی میعاد ختم ہوئی تو صدر زرداری نے ۲۸/کے لگ بھگ آرڈیننس دوبارہ جاری کیے‘ جن میں ایک آرڈیننس نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق ہے۔ اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی گئی ہے‘ وہ یہ کہ آئندہ اس اتھارٹی کے چیئرمین صدر مملکت کے بجائے وزیراعظم ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام جو پہلے عملاً صدارتی تھا‘ اب پارلیمانی طرز حکومت کی طرف لوٹ رہا ہے اور صدر ایک بہت بڑے اختیار سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ اس ترمیم سے ایک صحت مند تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سترہویں ترمیم اور ۲/۵۸ب کا خاتمہ بھی دسمبر کے اندر اندر ہو جائے گا اور ایگزیکٹو کے جملہ اختیارات وزیراعظم کو منتقل ہو جائیں گے‘جو بنیادی مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی سیاسی لچک رکھتے ہیں۔ صدر زرداری کے لیے اب ہمارا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی سربراہی سے بھی دست بردار ہو جائیں اور پارلیمانی نظام کو پوری طرح ’’خاص‘‘ بنانے میں خوش دلی سے اپنا کردار ادا کریں۔ وہ منتخب ہو کر آئے ہیں اور انہیں معروف طریقوں سے منصب پر فائز رہنا چاہیے۔ اس طرح پاکستان بہت سے خطرات سے محفوظ بھی رہے گا اور صحت مند تبدیلیوں کا گہوارہ بھی بن جائے گا۔اس طرح وہ پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہو جائے گی جو نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں زرداری حکومت کے خاتمے کی حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ہمیں غیر ملکی جرائد کی تحریروں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی فہم و فراست کے ساتھ معاملات میں سدھار پیدا کرنا اور ہر کام اور فیصلے میں اعتدال سے کام لینا ہو گا کیونکہ فیصلے کا لمحہ بہت قریب آن پہنچا ہے۔
|
|
|