 |
مستقبل کا روڈمیپ ۔ فروری ۲۰۰۹ء
مستقبل کی تعمیر میں ہمارا ماضی اور ہمارا حال ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ہم اس حوالے سے خوش نصیبی اور بدقسمتی کے درمیان سفر کرتے آئے ہیں۔ ہمارے ہاں معجزے بھی تخلیق ہوئے ہیں اور بڑے بڑے سانحات بھی ہماری تاریخ کا حصہ بنے ہیں۔ آج کے حالات جو ہر پہلو سے تکلیف دہ اور ہوشربا ہیں‘ وہ ہماری ماضی کی غلطیوں اور حال کی بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں اپنے معاشرتی‘ سیاسی اور اخلاقی رویوں کا تنقیدی جائزہ لے کر مستقبل کا ایک قابل عمل روڈمیپ تیار کرنا ہو گا جو قوم کو ذہنی اور فکری زوال سے باہر لا سکے اور اس کی صلاحیتوں اور آرزوؤں کو تعمیروطن میں لگا سکے۔ گزشتہ ساٹھ باسٹھ برسوں میں ہمارے قومی وجود کے اندر شکست و ریخت کا جو عمل جاری رہا ہے‘ اس کے باعث ہمیں چند مہلک بیماریوں نے آ لیا ہے اور ان کے مؤثر تدارک اور علاج کے بغیر ہمارے لیے سنگین چیلنجوں کا مقابلہ دشوار تر ہو جائے گا۔ ہم یہاں روڈمیپ کے چند بنیادی خطوط تجویز کرتے ہیں۔
۔ ایک محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لیے ہمیں سب سے پہلے جمہوری اور سیاسی کلچر کو فروغ دینا ہو گا جو مسائل اور تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے اور نظم حکومت عوام کی رائے کے مطابق چلانے کی تربیت دیتا ہے۔ جمہوری مزاج میں شائستگی‘ رواداری اور تحمل و برداشت کے اوصاف گندھے ہوتے ہیں جو معاشرے میں توازن قائم رکھنے اور اجتماعی معاملات کی عمدہ انجام دہی میں بہت مددگار بنتے ہیں۔ جمہوری ذہن کی تشکیل کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں اس امر کا بطورِ خاص اہتمام کرنا ہو گا کہ طلبہ اور طالبات میں اختلاف رائے کا احترام پیدا ہو اور انہیں مشورے کے ساتھ اجتماعی امور طے کرنے کی عملی تربیت ملتی رہے۔ یہی تہذیبی رویہ ہماری سیاسی‘ سماجی اور دینی جماعتوں میں رائج ہونا چاہیے تاکہ جمہوری نظام کی بنیادیں مضبوط ہوں اور معاشرہ تباہ کن محاذ آرائی اور تنگ نظری سے محفوظ رہے۔
۔ ہمیں اپنے ماضی کے ہولناک اثرات سے چھٹکارا پانے کے لیے فوری طور پر چند عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سیاسی کلچر کی جڑیں کمزور ہونے کے باعث فوجی قیادت کو اقتدار پر قابض ہونے کے بار بار مواقع ملتے رہے جن سے ہمارا پورا ریاستی ڈھانچہ درہم برہم ہو کے رہ گیا‘ قومی ادارے مفلوج ہوئے اور عوام پس منظر میں چلے گئے۔ اب ہمیں جنرل پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر انہیں آئین کے مطابق عبرت ناک سزا دینے کا عمل تیزی سے شروع کر دینا چاہیے۔ ماضی میں فوجی آمر بندوق کی طاقت سے آئین توڑنے اور ملکی وقار اور عوامی حاکمیت کو روندنے کی روایت آنے والوں کو منتقل کرتے رہے۔ فوج ان کی خواہشات کا آلۂ کار بنی رہی اور عوام کے اندر غیرمقبول ہوتی گئی۔ اس خطرناک رجحان کے مؤثر اور یقینی روک تھام کے لیے فوج کو اس اعلیٰ سطحی قیادت سے الگ کر کے مارشل لا نافذ کرنے والے ٹولے کا بہت کڑا احتساب کرنا ہو گا۔ جنرل پرویز مشرف نے دوبار آئین پر کاری ضرب لگائی‘ پاکستان کو امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا اور ڈالروں کے لالچ میں اسے دہشت گردی کی آماجگاہ بنا دیا۔ انہیں کراموویل کی طرح عبرت کا نشان بنا دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی طالع آزما جرنیل کو زمامِ اقتدار سنبھالنے کا خیال ہی نہ آئے۔
۔ ماضی کی دوسری بڑی لعنت سیاسی اقتدار کی اذیت ناک جنگ ہے جس کا خاتمہ ایک مستحکم مستقبل کے لیے ازبس ضروری ہے۔ اس جنگ میں سب سے بڑا کردار سول اور ملٹری بیوروکریسی نے ادا کیا اور سیاسی لیڈروں کی جاہ طلبی نے اسے ایندھن فراہم کیا۔ پاکستان مسلم لیگ جو آل انڈیا مسلم لیگ کی وارث بنی‘ وہ اعلیٰ درجے کی سیاسی اور اخلاقی تربیت سے محروم ہونے کے باعث حکومت میں آنے کے ابتدائی مہینوں ہی میں دھڑوں میں تقسیم ہو گئی اور اس کے اندر سے راتوںرات ایک سیاسی جماعت قائم ہو گئی‘ جو شاطر بیوروکریسی کے اشاروں پر رقص کرتی رہی۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ قیادت ایک فطری ارتقا کے طور پر آگے آنے کے بجائے حادثاتی طور پر مسلط ہوتی رہی۔ بدقسمتی سے سیاسی کارکن ہر مرحلے پر نظرانداز کیے جاتے رہے اور خوشامدی ٹولے خاندانی قیادتوں کے گرد منڈلاتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی جماعتوں کا عوام سے رشتہ کمزور پڑتا گیا اور وہ بنیادی مسائل حل کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہیں۔ جنرل ضیائ الحق کی حکومت کے خاتمے پر ملک میں دو سیاسی جماعتیں اُبھر کر سامنے آئیں‘ مگر وہ ایک دوسرے کا احترام کرنے کے بجائے اقتدار کی ہوس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئیں اور قوم کے دس سال خطرناک سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہو گئے اور ملک پر ایک بار پھر فوجی آمر نے قبضہ کر لیا۔ اس دردناک انجام سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے سبق سیکھتے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مئی ۶۰۰۲ئ میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور یہ طے پایا کہ وہ آئندہ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں گے اور ایک باوقار اور صحت مند اپوزیشن کی طرح ڈالیں گے۔ ایک مضبوط مستقبل کے لیے میثاق جمہوریت کے الفاظ و معانی پر عمل درآمد انتہائی ناگزیر ہے۔ پیپلز پارٹی‘ جو اس وقت حکومت میں ہے‘ اس کی قیادت پر لازم ہے کہ وہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی خواہشات پر قابو رکھے اور عوامی جذبات کو سب سے زیادہ اہمیت دے۔ ہم آج ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں مخلصانہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے اعلیٰ روایات کی ایک نئی دنیا تعمیر کی جا سکتی ہے‘ مگر عام تاثر یہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے آپ کو بعض ایسی مجبوریوں کے شکنجے میں کس لیا ہے یا کوشش ناتمام کے ایک ایسے سحر میں گرفتار ہو چکے ہیں کہ قومی زندگی میں طوفان اور بحران اُمڈے چلے آ رہے ہیں جو خاکم بدہن پاکستان کو ایک ناکام ریاست کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
۔ ماضی کا ایک اور غلط معاشرتی رویہ جو اب ہلاکت خیز بن چکا ہے‘ وہ ہمارے رہن سہن میں آسائشوں کی حد سے بڑھی ہوئی طلب ہے۔ سادہ زندگی اور درمیانے درجے کی بودوباش کے بجائے ہم اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کے خوگر ہو چکے ہیں۔ یہ رجحان حکومت کے اندر اور ہر سماجی سطح پر نظر آتا ہے۔ ہم اپنے معیارِزندگی کا مقابلہ اپنے سے اوپر کی سطح سے کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وسائل پر قابض ہونے کی نہ ختم ہونے والی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ اس خطرناک رجحان کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ قومی وسائل کا بڑا حصہ نمودونمائش اور کرپشن میں ضائع ہو رہا ہے اور حکمران طبقہ بیرونی قرضوں سے اللّے تللّے کرتا ہے۔ لوگ غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں اور ’’وی آئی پیز‘‘ کے لیے نئے نئے طیارے خریدے جا رہے ہیں۔ خبر آئی ہے کہ ہم ایک طرف آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر ڈیفالٹ ہونے سے بال بال بچے ہیں اور دوسری طرف گورنر سرحد کے لیے ۰۵/ کروڑ کی لاگت سے نیا طیارہ خریدا گیا ہے۔ معاشرہ طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک طبقہ جو آبادی کا چالیس فی صد ہے‘ وہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور دوسری طرف پانچ فی صد مراعات یافتہ طبقہ نوے فی صد قومی وسائل پر قابض ہے۔ ہمیں غیروں کی اقتصادی اور معاشی غلامی سے نکلنے کے لیے سادگی‘ کفایت شعاری اور خودانحصاری کی روش اختیار کرنا ہو گی اور قومی سطح پر اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر شاہ خرچیوں کے بجائے وسائل کے اندر گزر اوقات کی حکمت عملی پر سختی سے عمل کریں گے۔ اس حوالے سے اقتدار کے تمام ایوانوں میں اخراجات میں فوری طور پر پچاس فی صد کمی اور کم از کم ایک سال کے لیے وزیروں‘ سرکاری افسروں اور پارلیمانی وفود کے بیرونی دوروں پر پابندی عائد کر دی جائے اور قومی وسائل کا ستر فی صد حصہ پس ماندہ علاقوں اور پسے ہوئے طبقات کی طرف منتقل کرنے کا عمل کسی تاخیر کے بغیر شروع کیا جائے۔ معاشرے میں جو سماجی افراتفری پائی جاتی ہے‘ اس میں غربت‘ پس ماندگی اور ناانصافی کا حصہ سب سے بڑا ہے اور وی آئی پی کلچر نے ہماری قومی ساخت کو یکسر بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔
۔ ماضی کا سب سے بڑا المیہ اجتماعی معاہدوں اور قومی اداروں کے ساتھ حکمرانوں کا بہیمانہ طرزعمل ہے۔ پہلے ہمارے ہاں دستور سازی میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی اور جب دستور نافذ ہو گیا‘ تو اس پر آرے چلنا شروع ہو گئے۔ فوجی قیادتوں نے اسے منسوخ کرنے اور اپنی مرضی کا دستور نافذ کرنے کی انتہائی شرمناک اور وطن دشمن واردات کی۔ بار بار کی منسوخی اور ترامیم سے دستور‘ جو ایک عمرانی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے‘ عملی زندگی سے بڑی حد تک خارج ہو گیا۔ ۱۹۷۳ئ کا آئین جو مسٹر بھٹو کا ایک شاندار کارنامہ تھا‘ اس میں تمام اختیارات وزیراعظم‘ پارلیمان اور کابینہ کو سونپے گئے تھے اور صدر مملکت کے دستخطوں کی توثیق بھی وزیراعظم کرتا تھا۔ اب انہی کی جماعت پیپلز پارٹی حکومت میں ہے جو جنرل پرویز مشرف کی سترہویں ترمیم ختم کر کے آئین کو ۱۹۷۳ئ کی اصل شکل میں لانے کا پارلیمان میں تو اعلان کر چکی ہے‘ مگر اس نے جو آئینی پیکج دیا ہے‘ وہ صدر مملکت کو مزید اختیارات سے لیس کرتا ہے۔ پارلیمانی حکومت میں صدر مملکت کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ وہ کسی جماعت کے بجائے وفاق کی علامت ہوتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آئین کی رو سے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ہیں جبکہ تمام بڑے فیصلے ایوان صدر میں ہو رہے ہیں اور انہیں فوج کے سربراہ قوت عطا کر رہے ہیں۔ اس کنفیوژن سے نظم مملکت بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور بیرونی دنیا اس مخمصے کا شکار ہے کہ پاکستان میں اختیارات کا اصل مالک کون ہے اور کس کی بات کو اہمیت دی جائے۔ اس آئینی اور سیاسی انتشار سے ہمارا حال ہمارے ماضی سے زیادہ مخدوش ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بالغ نظر قومی اکابرین اس امر پر اصرار کر ہے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مشاورت اور مفاہمت سے ایسی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لینی چاہئیں جو آئین کو بڑی حد تک اس کی اصلی صورت میں لے آئیں‘ پارلیمان اور وزیراعظم اختیارات کے حقیقی مالک قرار پائیں‘ صوبائی خودمختاری کے مسائل بھی طے پاجائیں اور ضلعی حکومتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بھی جدید تقاضوں کے مطابق اختیارات کی تقسیم عمل میں آجائے۔ یہ کام اوّلین اہمیت کا ہے اور اس کی تکمیل سے حکمرانی کے معاملات بہ حسن و خوبی سرانجام دیے جا سکیں گے اور مستقبل کی صورت گری بھی سائنسی بنیادوں پر کی جا سکے گی۔
۔ دستور کی قلمرو سے تمام بڑی تجاوزات ختم کرنے کے بعد ہمیں اس کے تحت قائم شدہ اداروں کی مضبوطی‘ استحکام اور فعالیت پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ پارلیمان جو عوام کے نمائندوں کی خواہشات کی آئینہ دار ہوتی ہے‘ اسے قومی اور ملکی معاملات پر سنجیدہ بحث و تمحیص کا مرکز بنانا اور اس میں پیدا ہونے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ گزشتہ چند مہینوں میں قومی سکیورٹی مسائل زیر بحث آئے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قبائلی علاقوں کے حالات پر اِن کیمرہ سیشن منعقد ہوئے۔ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آل پارٹیز پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے فاٹا میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرنے‘ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی راہ نکالنے اور اقتصادی ترقی کا عمل تیز کرنے کی سفارش کی‘ مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس پر سرے سے کوئی عمل نہیں ہوا۔ اسی طرح جب ممبئی واقعات کی بنیاد پر بھارت نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا‘ تو تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور جارحانہ سفارت کاری کا مشورہ دیا‘ لیکن اربابِ حکومت نے اس حوالے سے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی جس سے عوام کو یہ تاثر ملا کہ فیصلہ سازی میں عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ یہ تاثر جمہوری اور سیاسی نظام کے لیے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے جسے جلد سے جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واضح طور پر نظر آنا چاہیے کہ کابینہ میں بڑے غوروخوض کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں‘ عوامی احساسات اور قومی مفادات کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور وزیراعظم امورِمملکت چلانے میں پوری طرح بااختیارہیں۔
۔ پارلیمان کی خودمختاری قائم ہونے سے یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں ایک سیاسی ہائی کمان موجود ہے جو آئین کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کر رہی ہے۔ ایگزیکٹو کو اپنے حدود کا پابند رکھنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ دینے اور انہیں بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے ایک آزاد عدلیہ کا وجود بے حد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہماری اعلیٰ عدالتوں میں کئی بار سرجیکل آپریشن ہوئے اور فوجی آمر طاقت کے بل بوتے پر اپنے حق میں فیصلے حاصل کرتے اور آئین توڑنے کی سزائے موت سے بچتے رہے۔ سیاسی حکومتوں میں اپنی پسند کے جج مقرر کرنے کے مضحکہ خیز تجربے ہوتے رہے۔ اس کوئے ملامت میں جنرل پرویز مشرف بہت آگے نکل گئے اور انہوں نے جس آپریشن کا آغاز ۹/ مارچ ۲۰۰۷ئ سے کیا تھا‘ وہ ۳/ نومبر کو ایک انتہائی خطرناک شکل اختیار کر گیا۔ ایک غیرآئینی اعلان کے ذریعے۶۰/ فاضل جج برطرف اور قید کر دیے گئے اور بقیہ جج صاحبان سے اپنی وفاداری کا حلف لیا اور ان سے فوجی وردی میں صدر مملکت کے لیے انتخاب لڑنے کی اہلیت کا جواز حاصل کیا۔ انتخابات کے بعد ۹/ مارچ ۲۰۰۸ئ کو معاہدہ بھوربن پر جناب آصف زرداری اور میاںمحمدنوازشریف نے دستخط کیے جس میں طے پایا کہ پارلیمان کی قرارداد کے ذریعے تمام برطرف شدہ جج بحال کر دیے جائیں گے‘ مگر ایک ماہ گزرنے کے بعد جناب آصف زرداری یہ کہہ کر تحریری عہدنامے سے مکر گئے کہ معاہدہ قرآن و حدیث کی طرح مقدس نہیں ہوتا۔ اپنی نوعیت کے اس بدترین انحراف سے جہاں ایک طرف مخلوط حکومت کی بنیادیں ہل گئیں‘ وہاں وکلابرادری میں شدیدردعمل پیدا ہوا اور اس تاثر کو بڑی تقویت ملی کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے گرد ایسے قانونی مشیر جمع ہو گئے ہیں جو اپنے مخصوص تصورات اور مفادات کے تحت فاضل ججوں کی بحالی کے خلاف ہیں اور اس خوف اور اندیشے میں گرفتار ہیں کہ آزاد عدلیہ این آراو کو خلافِ آئین قرار دے گی اور ان کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ حال ہی میں وفاقی وزیر قانون نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے جج بحال کیے ہیں نہ آئندہ ایسا کریں گے اور جو جج صاحبان واپس آئے ہیں‘ ان کا نیا تقرر عمل میں آیا ہے۔ ہمیں اگر اپنی داخلی مشکلات پر قابو پانا اور ایک تابندہ مستقبل کی مضبوط بنیادیں اٹھانی ہیں‘ تو آزادعدلیہ کے قیام کو غیرمعمولی اہمیت دینا ہو گی‘ ورنہ سول سوسائٹی کے تعاون سے وکلا برادری جو تحریک چلا رہی ہے‘ اس میں اہل اقتدار آخرکار خس و خاشاک کی طرح بہ جائیں گے اور ایک ہیبت ناک طوائف المکوکی پھیل جائے گی۔ یہ ممکن ہے کہ تحریک اپنا بنیادی مقصد فوری طور پر حاصل نہ کر سکے‘ مگر اس کے ذریعے جو حرارت پیدا ہوگی‘ وہ ارباب حکومت کے نخوت و غرور کا آشیانہ خاکستر کر ڈالے گی اور سماجی انصاف کا عظیم الشان مشن پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے رفقائ کی بحالی بنیادی حیثیت کی حامل ہے کہ وہ اب آزاد عدلیہ کی علامت بن گئے ہیں‘ اور عوام کے اندر یہ احساس راسخ ہو چکا ہے کہ وہ آئیں گے‘ تو انہیں انصاف ملے گا اور ایگزیکٹو کی خرمستیاں اور شاہ خرچیاں بند ہوں گی اور ہزاروں لاپتہ شہری بازیاب ہوں گے۔
۔ پاکستان اس وقت شدید بیرونی دباؤ سے دوچار ہے جس کا مؤثر سدباب داخلی استحکام اور اعلیٰ قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا عزم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر درست رکھنے پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔ ہمارے اندرونی حالات بڑے ناگفتہ بہ ہیں جن کے باعث باہر کی طاقتیں ہمیں ڈکٹیشن دینے لگی ہیں اور جاسوس طیارے آئے دن ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے اور ہمارے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ بھارت بھی ہمیں انہی داخلی کمزوریوں کے سبب آنکھیں دکھا رہا ہے۔ فوجی آمروں اور سیاسی مغبچوں نے ہمارا پورا حکومتی ڈھانچہ تہ و بالا کر دیا ہے۔ ہمارے سول ادارے کرپٹ‘ نا اہل اور سفارتی اہل کاروں اور افسروں کے ہاتھوں اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ ریاست کا نظام حسن و خوبی سے چلا سکیں اور عوام کو کسی طرح کا ریلیف دے سکیں۔ یہ اکیسویں صدی جس میں گڈگورننس اور اعلیٰ نظم و نسق کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے‘ وہ ہمارے ہاں بڑی حد تک ناپید ہے۔ بیوروکریسی جو ایک زمانے میں ہماری سول انتظامیہ کا فولادی فریم سمجھی جاتی تھی‘ قابل رشک حد تک غیرجانب دار تھی اور اسے آئینی تحفظ بھی حاصل تھا‘ وہ بری طرح زوال پذیر ہے۔ قابل افراد حکمرانوں کی چیرہ دستیوں‘ بدحواسیوں اور بے لگام خواہشات کے ہاتھوں تنگ آ کر ملک سے باہر جا رہے ہیں اور تقرریوں اور تبادلوں میں شاذونادر ہی میرٹ کا خیال رکھا جاتا ہے اور ہر آنے والی حکومت ان اعلیٰ افسروں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھتی ہے جو پچھلی حکومت میں اپنی ذمے داریاں ادا کر رہے تھے۔ دیانت دار اور فرض شناس بیوروکریٹ اپنی صلاحیتیں کامل آزادی اور دیانت داری سے بروئے کار لانے سے گریزاں ہیں‘ اسی لیے ہمارا انتظامی ڈھانچہ بیٹھتا جا رہا ہے۔ مستقبل کی طرف مثبت پیش قدمی کے لیے میرٹ اور صرف میرٹ پر کاربند رہنا اور زندگی کے ہر شعبے میں حق اور انصاف کو فروغ دینا ہو گا۔
۔ ہماری سول انتظامیہ کے مختلف شعبوں اور اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے اور کوئی کام وقت پر سلیقے سے انجام نہیں پاتا۔ انگریز اپنے پیچھے نظم و نسق کا جو ایک مضبوط نظام چھوڑ گیا تھا‘ اس میں بعض خرابیوں کے باوجود عوام کے مسائل بروقت حل کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت اور استعداد پائی جاتی تھی۔ پولیس‘ مجسٹریٹ کے ماتحت ہونے کے باعث طاقت کے استعمال میں بڑی محتاط واقع ہوتی تھی۔ ہم نے پولیس آرڈیننس ۲۰۰۲ئ کے ذریعے اسے ایک خودمختار فورس بنا دیا جو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا عہدہ ختم ہو چکا ہے اور پبلک سیفٹی کمیشن قائم ہی نہیں ہوئے‘ چنانچہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس بہت منہ زور اور عدالتیں بڑی کمزور ہیں‘ چنانچہ شہریوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاںشہبازشریف آئے دن تھانہ کلچر تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں‘ مگر ہمہ گیر بگاڑ کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں ہمارا امیج یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی ناپید ہے‘ عدالتوں میں کوئی شنوائی نہیں اور پولیس کے جبروتشدد سے بچانے والا کوئی آزاد اور طاقت ور ادارہ نہیں۔ ہمیں پولیس اصلاحات پر خاطرخواہ توجہ دینا اور پولیس فورس کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گی‘ ضلعی حکومتوں کے نیم پختہ اور سیاست زدہ نظام نے ہمارے داخلی بگاڑ اور ضعف میں ناقابل تصور اضافہ کر دیا ہے۔ کرپشن اور کمیشن ہماری مقامی حکومتوں کی پہچان بن گئے ہیں جن سے ہمارا گھر بدنظمی کا شکار ہے۔ جناب میاں شہباز شریف کی سرتوڑ کوششوں کے نتیجے میں ایک اچھی خبر پڑھنے میں آئی ہے کہ غیرقانونی طور پر ایک کنسٹرکشن کمپنی کے دفتر میں گھس جانے اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنانے اور نقدی ساتھ لے جانے کے جرم میں غالب مارکیٹ پولیس اسٹیشن کا ایس ایچ او اور ایک کانسٹیبل گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
۔ کرپشن‘ سیاسی سفارش اور طاقت ور مافیا نے ہمارے ماضی اور حال کے تارپود بکھیر ڈالے ہیں۔ اب رشوت کے ذریعے بڑے سے بڑا ناجائز کام کرایا جا سکتا ہے اور آپ قتل کر کے صاف بچ سکتے ہیں۔ دوسروں کی جائداد‘ مکان اور اثاثے ہڑپ کر سکتے اور ضرورت پڑنے پر جج بھی خرید سکتے ہیں۔ اگر آپ کے اہم سیاسی لوگوں سے رابطے ہیں‘ تو اعلیٰ سے اعلیٰ منصب حاصل کرنا آپ کے بائیں ہاتھ کا کام ہو گا۔ سنا ہے کہ وزیراعظم اور صدرمملکت کے نام بھی ان ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ایک زمانے میں کار چوری میں بڑی ’’شہرت‘‘ رکھتے تھے۔ ان دنوں ’’جیل کے ساتھی‘‘ حکومت کے اندر مورچہ زن ہیں اور سیاسی واردات کر رہے ہیں۔ لینڈ مافیا نے بھی ایک اندھیر مچا رکھا ہے اور اس کے اعلیٰ ترین شخصیات سے براہِ راست ذاتی روابط ہیں اور پولیس اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتی۔ ہر بڑے ٹھیکے دار کی پشت پر ایک بریگیڈئر یا جرنیل کھڑا ہے اور غیرملکی سودوں میں بڑے بڑے کمیشن لیے جا رہے ہیں۔ غیرقانونی طریقوں سے اربوں ڈالر ملک سے باہر بھیجے جارہے ہیں اور لوٹ مار کی دولت غیرملکی بنکوں میں جمع کرا دی جاتی ہے۔ انڈرورلڈ‘ پاکستان میں بڑی تیزی سے منظم ہو رہا ہے اور اس قدر طاقت ور ہے کہ ریاستی ادارے اس سے خوف محسوس کرنے لگے ہیں۔ اپنا مستقبل تابناک بنانے کے لیے ہمیں ان خوفناک عوارض کا علاج کرنا اور داخلی معاملات میں ایک انقلابی تبدیلی لانا ہو گی۔ معاشرے میں اخلاقی روح پھونکے بغیر نفسیاتی خواہشات پر قابو نہیں پایا جا سکے گا اور ہم بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے پر جھپٹنے لگیںگے۔
۔ ہمارا ایک بہت بڑا داخلی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم دولت کی منصفانہ تقسیم کا ایک قابل اعتماد نظام قائم نہ کر سکے۔ ہمارے حکمرانوں نے پس ماندہ علاقوں کی سماجی‘ معاشرتی اور اقتصادی ترقی پر کماحقہ توجہ نہیں دی‘ شہریوں کو سماجی انصاف اور معاشرتی عدل فراہم نہیں کیا اور جب کبھی بے انصافیوں کے خلاف آواز اُٹھی‘ تو اسے طاقت کے ذریعے دبانے کی وحشیانہ کوشش کی گئی۔ اس ظالمانہ پالیسی کے بڑے خوفناک نتائج برآمد ہوئے اور پس ماندہ علاقے اور طبقے ابھی تک قومی دھارے میں شامل نہیں ہو سکے اور آج قومی یک جہتی کو نت نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بلوچستان‘ قبائلی علاقے اور شمالی علاقہ جات شدید احساس محرومی کا شکار ہیں اور بیرونی عناصر نیم بغاوت اور خونین فرقہ وارانہ فسادات کے شعلے بھڑکانے میں بڑے سرگرم ہیں۔ ہمیں اپنے سیاسی اور اقتصادی نظام کے اندر بنیادی تبدیلیاں لاکر ان پس ماندہ اور شورش زدہ علاقوں کو اپنے اندر جذب کر لینے کی مخلصانہ اور حکیمانہ کوشش کرنی چاہیے۔ بلوچستان کے شعلہ بداماں حالات پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے بڑی توجہ دی تھی اور جناب آصف علی زرداری نے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ انہوں نے ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگی ہے اور ایک عمدہ پیکج کا اعلان کیا ہے‘ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں اور قومی وسائل میں ان کا حصہ متعین کر دیا جائے۔ انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ پاکستان کے اقتدارواختیار میں پوری طرح شریک ہیں۔ قبائلی علاقوں کا بھی اصل مسئلہ وہاں کی پس ماندگی اور
سیاسی عمل سے یکسر علحٰدگی ہے۔ ان کے ساتھ کیے ہوئے معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں اور وہاں کے منتخب نمائندوں اور تجربے کار اور ماہر منتظمین کی مشاورت سے ایک دیرپا حکمت عملی ترتیب دی جائے جس میں سماجی‘ اقتصادی اور تعلیمی ترقی اور مقامی روایات کے احترام کی ضمانت موجود ہو۔
۔ قبائلی علاقوں اور سوات میں جو تشویش ناک حالات پیدا ہو چکے ہیں‘ وہ زیادہ تر عاقبت نااندیش امریکی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ اتحادی فوجوں کے افغانستان پر غاصبانہ قبضے سے دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا اور امریکی مزاحمت کے خلاف تمام قبائلی علاقے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عسکریت پسندی فروغ پاتی گئی۔ سوات اور دیر جب اپنا الگ ریاستی وجود رکھتی تھیں‘ تو ان میں شریعت کا نظام نافذ تھا اور وہاں کے عوام پُرامن زندگی بسر کر رہے تھے۔ قاضی چند ہفتوں میں بڑے سے بڑے مقدمے کا فیصلہ کر دیتے تھے۔ ۱۹۶۹ئ میں یہ ریاستیں پاکستان میں ضم کر دی گئیں اور جنرل ضیائ الحق کے دور میں وہاں قاضی عدالتیں ازسرنو قائم ہوئیں۔ اگر وہاں کے عوام کا مطالبہ خندہ پیشانی سے قبول کر لیا جاتا اور خود ریاست کی مشینری شریعت کا ایک جدید نظام قائم کر دیتی‘ تو ایک چھوٹے سے انتہاپسند گروہ کو قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع نہ ملتا۔ سوات میں لڑکیوں کے اسکول اور کالج مسمار کیے جا رہے ہیں اور انسان جس بے دردی سے ذبح کرتے دکھائے جاتے ہیں‘ اس غیرانسانی اور غیراسلامی عمل کے خلاف پورے پاکستان میں ایک شدید ردعمل پیدا ہو رہا ہے اور تمام دینی زعمائ ان ظالمانہ حرکات کی مذمت کر رہے ہیں۔ محترم قاضی حسین احمد نے کھل کر شدید تنقید کی ہے اور بے پناہ کرب اور اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنی پسند کی شریعت نافذ کرنے کے خلاف رائے عامہ منظم ہو رہی ہے جسے ایک عوامی طاقت کی شکل دی جا سکتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں طالبان کے نام پر مختلف مذہبی گروہ سرگرم عمل ہیں‘ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جنہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام علمائے حق کے ذریعے سرانجام پا سکتا ہے جن کو قدرتی طور پر میڈیا‘ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گی۔ معاملات چونکہ بہت آگے جا چکے ہیں‘ اس لیے اس مشن میں فوج کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہو گا۔ یہ تمام عناصر مل کر حالات قابو میں لا سکتے ہیں بشرطیکہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملے بند ہو جائیں اور صدر اوباما افغانستان پالیسی پر فوری نظرثانی کرنے کا ایک واضح عندیہ دیں۔ عالمی سطح پر اب یہ حقیقت سیاسی اور عسکری زعمائ تسلیم کر رہے ہیں کہ محض طاقت سے دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا اور سیاسی اپروچ اختیار کرنا ہو گی۔ پاکستانی قیادت اب کھل کر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ہمیں دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے لیے وسائل اور کیل کانٹے سے لیس کیا جائے اور قبائلی علاقوں پر فضائی حملے بند کیے جائیں۔ جناب صدر آصف زرداری نے غیرمبہم الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے اگر پاکستانی مفادات کی حفاظت نہ کی‘ تو پوری دنیا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے ڈیوس کانفرنس سے واپس آ کر ایک پالیسی بیان دیا ہے کہ وہ سوات سے اپنے آبائی شہر ملتان کی طرح محبت کرتے ہیں‘ وہ ادھر جائیں گے‘ وہاں کے سرکردہ لوگوں سے بات کریں گے اور مذاکرات کے ذریعے خانہ جنگی پر قابو پائیں گے۔ ہمارے فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی قبائلی علاقوں میں دو مرتبہ جا چکے ہیں اور ہماری سیاسی اور دینی شخصیتوں کو بھی حوصلہ کر کے عوام تک پہنچنا چاہیے۔ اس انتہائی حساس مسئلے پر قومی اتفاق رائے کا اظہار ازبس ضروری ہے۔
۔ بھارت نے ممبئی واقعات پر جو شورِ قیامت بپا کیا تھا‘ خدا کے فضل و کرم سے پاکستان اس عرصۂ امتحان سے سرخرو نکلا ہے اور بھارت اپنے ہی بچھائے ہوئے دام فریب میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ صدر آصف زرداری اور ہماری سیاسی اور سفارتی قیادت مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بڑی کامیابی سے بھارت کے تمام حملے پسپا کر دیے ہیں اور عالمی حمایت حاصل کرنے میں بڑے کامیاب رہے ہیں۔ ایک عالم گواہی دے رہا ہے کہ بھارت نے ایسے ٹھوس اور واضح ثبوت پیش نہیں کیے جن سے دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے کا سراغ ملتا ہو۔ باہر سے جو بھی عالمی قائدین آ رہے ہیں‘ وہ پاکستان کے موقف کی تائید کر رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان دہشت گردی کے واقعات کی مشترکہ تحقیقات کرائیں اور دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ ممبئی کے المیے کے اندر سے پاکستان کے لیے سب سے زیادہ حوصلہ افزا یہ امر واقع ہوا ہے کہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کا شدید احساس پیدا ہوا ہے۔ اوباما کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں دو ٹوک بیان سے یہ امید بندھی ہے کہ سفارتی سرگرمیاں تیز تر ہوں گی۔ امریکی عسکری قیادت کے سربراہ ایڈمرل مولن نے غیرمبہم الفاظ میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اس خطے میں استحکام پیدا نہیں ہو گا۔ برطانوی وزیرخارجہ نے بھی یہی بات سرِعام کہی ہے۔ ممبئی واقعات کا دوسرا پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ بھارت کی ’’عظمت‘‘ کا محل زمین بوس ہو گیا ہے اور ایک عالم پر یہ حقیقت آشکارا ہو گئی ہے کہ اس کی وسیع و عریض سکیورٹی فورس اور جدید ترین انٹیلی جنس اپریٹس محض آٹھ دس دہشت گردوں کے سامنے سرنگوں ہو گئے اور اس کا معاشی دارالحکومت کئی روز تک مفلوج رہا۔ میڈیا میں جو رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں اور ٹی وی پر جو پروگرام دکھائے جا رہے ہیں‘ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایک واقعے نے حکومت اور عوام کو شدید خوف و ہراس اور بھارتی وزیراعظم کو دل کے مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ ممبئی میں دہشت گردی کے بعد بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جس عیاری‘ مکاری اور زورآوری کا مظاہرہ کیا ہے‘ اس نے جناب آصف زرداری کے اس نظریے کی تردید کر دی ہے کہ ہمیں بھارت کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں جبکہ بھارتی وزیرخارجہ رات گئے انہیں حملے کی دھمکی دے رہے تھے۔ یہ درست ہے کہ ہمیں جنگی بخار میں مبتلا ہو کر اسلحے کے ڈھیر نہیں لگانے چاہیں‘ مگر جوہری ہتھیاروں کو صقیل رکھنے کی اشد ضررت ہے کہ اب وہی امن کی ضمانت ہیں‘ تاہم سب سے کارگر اور مؤثر ہتھیار ہماری قومی وحدت اور سیاسی مفاہمت ہے جن کا مستقل بنیادوں پر اہتمام کیا جانا چاہیے جو ہمیں طاقتِ پرواز عطا کر سکتی ہیں۔
۔ وائٹ ہاؤس میں اوباما کی عہدساز شخصیت کی جگوہ گری سے ایک عہدآفریں تبدیلی رونما ہوئی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے گا اور عالم اسلام کے ساتھ ’’باہمی احترام‘‘ اور ’’باہمی مفادات‘‘ کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں عیسائیوں کے بعد مسلمانوں کا ذکر کیا ہے جس نے یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ میں مسلمان دوسری بڑی کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار اپنی انتظامیہ میں ایک مسلمان کو اہم عہدہ دیا ہے اور شرق اوسط اور افغانستان و پاکستان کے معاملات میں بہتری لانے کے لیے اپنے دو خصوصی ایلچی بھی مقرر کر دیے ہیں۔ یہ زبردست علامتی اقدامات ہیں جو ایک بہتر مستقبل کی نوید سنا سکتے ہیں۔ اس امر کا قوی امکان ہے کہ وہ جنگ باز صدر کے بجائے انسان دوست انقلابی لیڈر ثابت ہوں گے۔ ہم اگر ہنرمندی اور بالغ نظری سے پبلک ڈپلومیسی کو فروغ دے سکیں اور امریکی تحقیقی اداروں‘ دانش گاہوں اور سیاسی طاقت کے مراکز تک پہنچنے کا عمل سائنٹیفک انداز میں آگے بڑھاتے جائیں‘ تو امریکی بااثر طبقات کو یہ بات سمجھا ئی جا سکتی ہے کہ طالبان سے مذاکرات سے معاملات طے کرنے کے بعد افغانستان کا قبضہ چھوڑ دینے میں اس کا اور پورے عالم انسانیت کا بہت بڑا فائدہ ہے۔ تاہم اس وقت بظاہر یہ ایک ناممکن مشن دکھائی دیتا ہے‘ مگر امریکہ کے اقتصادی اور سیاسی حالات اسے ایک نئی سوچ اختیار کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ ہماری قیادت کو نیازمندی کے بجائے خوداعتمادی سے کام لینا اور نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ آبرومندی سے بات چیت کے لیے بہت ہوم ورک کرنا ہو گا۔ ٹھوس حقائق اور منطقی دلائل اگر سلیقے سے پیش کیے جائیں‘ تو ان کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوں گے۔ ہمارے صدر اور وزیراعظم اب کسی قدر جرأت مندانہ لہجے میں بات کرنے لگے ہیں جس کے باعث انہیں بیشتر سیاسی جماعتوں اور دانش وروں کی حمایت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔
۔ ہماری اعلیٰ سیاسی اور حکومتی شخصیات کو اپنے منصب اور عہدے کے آداب ملحوظ خاطر رکھنا ہوں گے اور اس تاثر کی نفی کرنا ہو گی کہ امریکہ اور یورپ سے آئے ہوئے ہر چھوٹے بڑے عہدے دار کی راہ میں وہ آنکھیں بچھا دیتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو قومی خود داری اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سفارتی زبان میں امریکی انتظامیہ کو یہ پیغام دینے کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کو گھڑے کی مچھلی نہ سمجھا جائے کیونکہ اسے اپنے مفادات کی حفاظت اور اپنے فیصلے خود کرنے کا ہنر خوب آتا ہے اور اس کے اندر قوت ارادی کا جوہر موجود ہے۔ رچرڈ باؤچر عہدے میں زیادہ سے زیادہ ہماری وزارت خارجہ کے سیکرٹری کے برابر ہیں‘ لیکن انہیں پروٹوکول سربراہ مملکت کے برابر دیا جاتا ہے۔ ان سے ہمارے صدر‘ وزیراعظم کے علاوہ فوج کے سربراہ بھی ملتے ہیں‘ آخر ایسا کیوں؟ قوم نے ہمارے صدر صاحب کی اس عطائے خسروانہ پر بھی حیرت اور برہمی کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے ایک ہفتے کے دوران دو امریکی عہدے داروں پر پاکستان کے اعلیٰ ترین قومی اعزازات نچھاور کر ڈالے۔ شاید اس اقدام کا جواز تلاش بھی کیا جا سکتا ہو‘ مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے سبک سری کی بو آ رہی تھی اور ہماری قوم کا قد کچھ گھٹ گیا تھا۔ پچھلے دنوں خبر آئی کہ مسٹر ہال بروک افغانستان اور پاکستان کے لیے صدر اوباما کی طرف سے خصوصی نمائندے مقرر ہوئے ہیں۔ یہ صاحب سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے ماتحت کام کریں گے اور اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے پاکستان آئیں گے‘ مگر ہمارے وسیع الظرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پہلے ان کے تقرر کا خیرمقدم کیا اور پھر انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ اس دعوت سے بھی خوئے غلامی ٹپک رہی ہے کہ وزیراعظم‘ تو اپنے ہم منصب ہی کو دورے کی دعوت دیا کرتے ہیں۔
۔ خارجہ پالیسی کے خدوخال پارلیمان طے کرتی ہے‘ لیکن اسے سفارتی پیراہن وزارت خارجہ پہناتی ہے جس میں اعلیٰ پائے کے دماغ کام کرتے ہیں جو سفارتی باریکیوں‘ نزاکتوں اور تقاضوں سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے فوجی آمر براہ راست خارجہ پالیسی چلاتے رہے اور ایک طویل عرصے تک ہماری وزارت خارجہ بڑی حد تک غیرمؤثر اور غیرفعال رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں بھی امریکی بالادستی قبول کرنے کا رجحان غالب آ گیا۔ ہمیں دفترخارجہ کے اس بیان پر دکھ ہوا جس میں خصوصی ایلچی کے تقرر کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔ خصوصی ایلچی کے تقرر کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے معاملات سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بجائے خصوصی ایلچی کے ذریعے نمٹائے جائیں گے جس کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے داخلی اور خارجی معاملات کو معمول کی سطح پر رکھنے کے لیے ہمیں اپنے دفتر خارجہ کو مستحکم کرنا اور اسے حکومت کا ترجمان بنانا ہو گا۔ داخلی سلامتی کے مشیر میجر جنرل ریٹائرڈ محمود درانی اس لیے برطرف کیے گئے کہ انہوں نے دفتر خارجہ کے بجائے ازخود ایک انٹرویو بھارتی ٹی وی پر دیا اور یہ اعتراف کر لیا کہ دہشت گرد اجمل کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ہماری اعلیٰ قیادت کو کسی دو طرفہ بین الاقوامی ایشو پر بات کرنے سے پہلے دفترخارجہ سے مشاورت کے بعد اسی کے ذریعے حکومت کا موقف پیش کرنا چاہیے۔ اس طرح کسی بھی حساس مسئلے پر کنفیوژن پیدا ہو گا نہ حکومت کو کسی مرحلے پر سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مستقبل کی صورت گری میں خارجہ پالیسی ایک اہم اور بعض اوقات انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے‘ اس لیے سیاسی دماغوں کو ماہرین کی قابلیت اور تجربے کی گہرائی سے فائدہ اٹھانا اور اپنے آپشن کھلے رکھنا ہوں گے۔
۔ ہماری معاشی زبوں حالی آج کا سب سے زیادہ گمبھیر مسئلہ ہے۔ صدر اوباما نے اختیارات سنبھالتے ہی اقتصادی بدحالی پر بات کی ہے اور توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے احکام جاری کر دیے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہماری کم نگاہی اور غفلت شعاری کا یہ عالم ہے کہ زراعت جو ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے‘ اس کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی گئی ہے نہ کسانوں کی حالت بہتر بنانے اور انہیں کاشت کاری کے جدید طریقے سکھانے پر خاطر خواہ سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیں گندم درآمد کرنا پڑی ہے۔ ہم تحقیق کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں زبردست اضافہ اور پانی کے استعمال میں بڑی کمی لا سکتے تھے‘ مگر یہ اس لیے نہیں ہوا کہ یہ امور ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔ لائل پور زرعی یونیورسٹی جس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات مشرقی پنجاب میں ایک زبردست زرعی انقلاب لے آئے ہیں۔ اب اس کا نام فیصل آباد زرعی یونیورسٹی ہے یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تحقیق کی جدید سہولتیں اس لیے دستیاب نہیں کہ اسی شہر میں ایوب ایگریکلچرر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کام کر رہا ہے اور ان دونوں اداروں کے درمیان کوئی رشتہ قائم نہیں۔ یہ مذاق تین چار عشروں سے جاری ہے اور وسائل اور صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔ پانی‘ بیج اور کھاد کی فراہمی اور صحت مند بیج پر تحقیق کے ذریعے ہم اگر دوچار اچھی فصلیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں‘ تو ہماری معیشت میں جان پڑ سکتی ہے۔ اب تو عالمی مارکیٹ میں سب سے زیادہ مانگ ان زرعی اجناس کی ہے جن کی تیاری میں کیمیاوی کھاد استعمال نہ کی جاتی ہو۔ مستقبل میں ایک خوشحال قوم کی حیثیت سے داخل ہونے کے لیے ہمیں بڑی تعداد میں زرعی سائنس دان تیار کرنا اور کاشت کاروں کا معیار معلومات اور معیارزندگی بلند کرنے کی خاطر ایک انقلاب آفریں منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ ہم قدم قدم پر بدانتظامی اور نااہلی کا شکار ہیں اور وقت پر کاشت کاروں کو کھاد فراہم نہ کر سکے اور چاول کی فصلیں ٹھیک طور پر سنبھال نہیں سکے جس کی فروخت سے بڑی مقدار میں زرِمبادلہ کمایا جا سکتا تھا۔ ہم ہدفِ زراعت کو ایک ترجیحی مقام دے کر اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر کے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
۔ تعلیم‘ جو انسانی ترقی کا سب سے قابل اعتماد وسیلہ ہے‘ ہم اسے ماضی میں نظرانداز کرتے آئے ہیں جس کے مہلک اثرات پورے معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے مقابلے میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور اعلیٰ معیاری تعلیم کا دائرہ اور بھی محدود ہے۔ ہمارا جوہرِقابل ضائع ہوتا آیا ہے جس کے باعث زندگی کے ہر شعبے میں قیادت کا بھیانک خلا موجود ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف فروغ تعلیم اور جوہرقابل کی حوصلہ افزائی کے لیے کوشاں ہیں اور ذہین طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو جلا دینے کے منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے پر خاطرخواہ توجہ دی جائے گی۔ ہم آج انسانی ارتقا کے جس مرحلے میں ہیں‘ اس کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہماری تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہو کہ نوجوانوں کو آنے والے علمی‘ سائنسی اور اقتصادی چیلنجوں کے لیے تیار کیا جائے اور وہ مسابقت کی دوڑ میں دوسری قوموں سے آگے نکل سکیں۔ ان میں اسلامی اوصاف پیدا کیے جائیں اور انہیں ایجادات اور انکشافات کے لیے سازگار ماحول بھی فراہم کیا جائے۔ عام آبادی کی ذہنی سطح بلند کرنے کے پہلو بہ پہلو سائنس دانوں‘ انجینئروں اور فنی ماہرین کا ایک ایسا کور تشکیل دیا جائے جو ہمہ وقت ملکی وسائل میں اضافے کے لیے کام کرتا رہے۔ وہ ارزاں شمسی توانائی کا حصول آسان اور یقینی بنائے‘ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے جلد سے جلد پایۂِ تکمیل تک پہنچائے‘ آبی ذخائر کی تعمیر میں راہنمائی فراہم کرے اور پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کے قابل عمل طریقے ایجاد کرے۔ اس کور کو واضح اہداف دیے جائیں جن سے نئے نئے ملکی وسائل پیدا کیے جا سکیں جو ہمیں غیر ملکی وسائل سے بے نیاز کرتے چلے جائیں۔ ہمارے ہاں اعلیٰ درجے کی تنظیمیں بھی ہیں اور اعلیٰ دماغ سائنس دان بھی‘ مگر قومی سطح پر ان کی بہت کم قدر کی گئی ہے۔ قوم نے اپنے سائنس دانوں کو جوہری طاقت کے حصول کا ٹارگٹ دیا تھا‘ وہ انہوں نے بڑے کم عرصے میں اور انتہائی محدود وسائل میں حاصل کر لیا۔ بین الاقوامی ماہرین اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل سسٹم بھارت کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اب اگر ہمارے زرعی ماہرین اور سائنس دانوں‘ انجینئروں اور اقتصادی دماغوں کو ایک واضح ٹاسک دے دیا جائے‘ تو وہ بہت جلد ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے اور بے پایاں ملکی وسائل کو محیر العقول ترقی دے سکتے ہیں۔ اس قومی کام کے لیے ہمیں پیٹ کاٹ کر خاطرخواہ وسائل مہیا کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ تعلیم کے لیے وقف کرنا ہو گا اور اساتذہ کو اچھے مشاہرے دینا ہوںگے۔
۔ مختلف سیاسی‘ نفسیاتی اور معاشرتی عوامل کی بدولت ہماری سوسائٹی میں جی لگا کر محنت کیے بغیر زندگی کی خوب سے خوب تر سہولتیں حاصل کرنے کا ایک خطرناک رجحان پرورش پا رہا ہے جس کے باعث حرارت اور توانائی کے سرچشمے خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ صحت مند مسابقت کے جذبے سے آگے بڑھنے کی اُمنگ اور لگن مرجھانے لگی ہے اور معاشرے میں بے عملی اور بے حسی قدم قدم پر آپ کو زندگی میں یبوست اور پژمردگی کا احساس دلاتی ہے۔ اس کیفیت کی پرورش میں ایک سے زیادہ عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے بڑا یہ کہ محنت کا صلہ اور حق دار کو اس کا حق نہیں ملتا۔ نوجوان جب دیکھتے ہیں کہ ان کا سب سے نااہل ساتھی سفارش یا رشوت کے ذریعے ایک اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے‘ تو اُن کی تخلیقی صلاحیتیں سکڑ جاتی ہیں اور ان میں جی لگا کر کام کرنے کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو سرکاری محکموں میں بھرتی کرانے اور برسوں بعد انہیں بحال کرانے کی جو حکمتِ عملی اپنائی ہے‘ اس کے سبب نوجوان بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کے انتظار میں رہنے لگے ہیں اور خوش گپیوں اور مجرمانہ حرکتوں میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ ملک اور قوم روزبروز اس لیے زوال پذیر ہیں کہ اس کی حقیقی دولت زنگ آلود ہے اور نوجوان نسل کی بے پناہ توانائیاں ضائع جا رہی ہیں۔ ہماری سیاسی قیادتوں اور اربابِ حکومت کو اس نسل میں دن رات محنت کی جوت جگانے اور اس کے لیے ایک عظیم الشان سماجی تحریک اٹھانے کا سامان کرنا ہو گا۔ پوری قوم کے اندر اپنے وطن کو ایک مثالی مسلم معاشرہ بنانے اور اسے ترقی یافتہ اقوام کے برابر لانے کے لیے ایک جذبہ‘ ایک ولولہ اور ہر لحظہ ایک تڑپ ہونی چاہیے۔
۔ مستقبل کے خاکے میں رنگ سیاسی قیادتیں اور سیاسی دماغ بھرتے ہیں‘ جبکہ ہمارے ہاں سیاسی کلچر صحیح معنوں میں نشونما نہیں پا سکا۔ بدقسمتی سے فوجی اقتدار نے سیاسی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور بار بار کے تعطل سے سیاسی ارتقا رک رک جاتا رہا ہے۔ جب حکومت کی پوری مشینری طاقت کے ذریعے کسی سیاسی جماعت کو بیخ و بن سے اکھاڑنے پر تلی ہو‘ تو ذہین اور باصلاحیت افراد سیاست کا رُخ نہیں کرتے اور جو پہلے سے موجود ہوتے ہیں‘ وہ بھی بہانے بہانے سے راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے‘ تو اس کی ٹیم ان افراد پر مشتمل نظر آتی ہے جو یا تو تھک چکے ہوتے ہیں یا پھر اپنے انجام سے خوف کھاتے رہتے ہیں۔ اس ذہنی افلاس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مخلص کارکنوں کی خاطرخواہ حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ مار وہ کھاتے ہیں اور ٹکٹ بااثر خاندانوں کے چشم و چراغ لے جاتے ہیں۔ بیشتر سیاسی جماعتوں میں باقاعدہ انتخابات ہی نہیں ہوتے اور وہ ایک فرد یا خاندان کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے
اُبھری ہے جس کے آج سے چالیس سال پہلے مسٹر زیڈ اے بھٹو چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ ان کے بعد کوئی باقاعدہ انتخاب نہیں ہوا اور آصف زرداری محترمہ بے نظیر کی وصیت کے نتیجے میں پارٹی کے سربراہ نامزد ہوئے ہیں۔ کچھ یہی حال دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ﴿ن﴾ کا ہے۔ وہ بھی ایک ہی خاندان کے گرد گھوم رہی ہے۔ مسلم لیگ ﴿ف﴾ پیر صاحب کی پگاڑا کی زیرسرپرستی اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ مسلم لیگ ﴿ق﴾ چودھری برادران کی کوششوں سے وجود میں آئی تھی اور اب وہی اس کے ناخُدا ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت بھی موروثی ہے اور یہی عالم جمعیت علمائے اسلام کا ہے جس کی قیادت سالہاسال سے ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہے۔ ایم کیو ایم درمیانی طبقے کی جماعت ہونے کے باوجود الطاف بھائی کی جیب میں ہے۔ صرف جماعت اسلامی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے جس میں ہر پانچ سال بعد امیر کا انتخاب ہوتا ہے اور قاضی صاحب ماشائ اللہ بیس سال بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔
۔ اب قابل غور بات یہ ہے کہ جب ہم حکومت چلانے کا حق صرف سیاسی جماعتوں کو دیتے ہیں‘ تو ان سے بجا طور پر یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ ان میں نظمِ حکومت چلانے کی بھرپور صلاحیت اور اہلیت بھی ہونی چاہیے‘ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیدار مغز لوگ ان میں سرگرم ہوں گے‘ ان کے اپنے تھنک ٹینک بھی ہوں گے جو مسائل کا گہرائی سے تجزیہ کرنے اور اُن کے حل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مختلف ادوار میں جو سیاسی جماعتیں برسراقتدار آئیں‘ وہ بیشتر وقت اپوزیشن جماعت سے نبردآزما رہیں اور جو وقت بچا‘ وہ گزشتہ حکومتوں کے چھوٹے بڑے کارنامے کھرچنے میں گزر گیا۔ میثاق جمہوریت سے یہ امید بندھی تھی کہ آئندہ اقتدار کی جنگ نہیں ہو گی اور طے شدہ اصولوں کے مطابق حکومتی معاملات چلائے جائیں گے‘ مگر یہ خواب جو تین سال پہلے دیکھا گیا تھا‘ چکناچور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ میاں نواز شریف میثاق جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو پارلیمانی حمایت فراہم کر رہے ہیں حالانکہ ان کی جماعت مخلوط حکومت سے نکل کر اپوزیشن جماعت کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے سیاسی اور جمہوری طرزعمل کے مقابلے میں جناب آصف زرداری تحریری معاہدوں سے بھی صاف مکر گئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کھینچاتانی سے ایک ایسی کیفیت پیدا ہو رہی ہے جو سیاسی استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بڑی جماعت کی قیادت نے تاریخ سے کچھ زیادہ سبق نہیں سیکھا جبکہ ایک سال کے اندر ہی عوام سیاسی قلابازیوں سے بیزار دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورت حال کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ تازہ خون کی مسلسل کمی سے پیپلز پارٹی بوڑھی نظر آتی ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں اسی سے زائد سے زیادہ وزرائے کرام اور مشیر عظام شامل ہیں‘ مگر چند اصحاب کے سوا سبھی محض نقش برآب ہیں۔ بلوچستان کے چالیس پینتالیس وزرائ کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت اپنی عمل داری قائم رکھنے کی جنگ لڑ رہی ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ جہاں دیدہ ہونے کے باوجود اپنا کوئی گہرا نقش قائم نہیں کر سکے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ بہت فعال اور متحرک ہیں‘ مگر ان کی کابینہ میں بھی باصلاحیت افراد کی شدید کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جوں جوں ہماری معاشی حالت پتلی ہوتی جا رہی ہے‘ توں توں کابینہ اور سول اور فوجی انتظامیہ کا حجم اور مشاہرے بڑھتے جا رہے ہیں اور بڑی بڑی کاروں کے حصول کی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ کروڑوں اور اربوں میں کھیلنے والے سرکاری مراعات پر جان دے رہے ہیں اور عوام کی توقعات کا خون کرنے میں بڑے مشاق ہیں۔
۔ تمام سیاسی قیادتوں کو اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی بنجر زمین کو زرخیز کیسے بنایا جائے۔ یہ بات درست ہے کہ کارکن اور قائدین سیاسی تربیت عوام سے حاصل کرتے ہیں اور منتخب ادارے ان کے لیے بہت عمدہ تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں‘ مگر اب امورِمملکت جس قدر پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل ہو گئی ہے‘ اس میں سیاست دانوں کے لیے اعلیٰ درجے کی تربیت کا اہتمام ضروری ہے۔ فوجی کمان اور افسروں کی تربیت کے ایک سے زائد تربیتی ادارے ہیں‘ سول بیورو کریسی کے لیے بھی ایک سے زائد اعلیٰ معیار کے تربیتی ادارے قائم ہیں‘ مگر سیاسی کارکنوں‘ قانون سازوں اور عوامی نمائندوں کے لیے ایک بھی ایسا ادارہ موجود نہیں جو حکومت چلانے اور سائنسی انداز میں فیصلہ سازی کی تربیت دیتا اور گڈگورننس کے دنیا بھر میں جو تجربات ہو رہے ہیں‘ ان کی روشنی میں پاکستان کا ایجنڈا تیارکرنے میں کارآمد ثابت ہو سکے۔ ہماری اس ضمن میں تجویز یہ ہے کہ عوامی نمائندے بھی ان اداروں میں تربیت حاصل کر سکیں جو سول اور ملٹری بیورو کریسی کے لیے تربیتی کورس تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے سٹڈی سرکل قائم کرنے چاہئیں تاکہ ایشوز کا صحیح ادراک پیدا ہو اور عوامی رجحانات کے ساتھ بھی ایک حقیقی تعلق پروان چڑھتا رہے۔ اس کے علاوہ نیا خون سیاسی عمل میں شامل کرنے کے لیے عملی تدابیر اختیار کی جائیں اور عوامی نمائندوں میں کام کرنے کا جذبہ ابھارنے کے لیے یہ پالیسی اختیار کی جائے کہ اسمبلی میں بحث کے دوران جو افراد اپنی صلاحیت کے جوہر دکھاتے ہوں‘ انہیں کمیٹیوں میں شامل کیا جائے اور پارلیمانی سیکرٹری کا عہدہ بھی ان کی کارکردگی کے حساب سے دیا جائے۔ اسی طرح کابینہ میں وہی افراد شامل کیے جائیںجنہوں نے مختلف ایشوز میں خصوصی مہارت حاصل کر لی ہو اور ان کے اندر تجزیے اور تفکر کی پختگی پیدا ہو چکی ہو۔ سیاسی جماعتوں کو مستقبل کی تعمیر اور نئے نئے ملکی وسائل پیدا کرنے کے لیے اپنا کلچر یکسر تبدیل کرنا ہو گا اور مینجمنٹ اور گڈگورننس میں اختصاص پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو اپنے فیصلوں میں بنیادی اہمیت دینا ہو گی اور درمیانے طبقے کو آگے لانا اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ جاگیردارانہ ذہنیت نے ہمارے معاشرے کو بانجھ کر دیا ہے اور جاہلانہ رسم و رواج نے تہذیبی شعور کو جکڑ رکھا ہے۔ اس کا خاتمہ اسی وقت ہو گا جب اسمبلیوں میں غریب اور متوسط خاندانوں کے نمائندے آئیں گے اور سیاسی جماعتوں میں تازہ خون رواں دواں رہے گا۔
|
|
|