 |
غزہ کے جان نثاروں کو سلام ۔ فروری ۲۰۰۹ء
چشم فلک نے ایک طرف بائیس روز تک غزہ پر اسرائیل کی طرف سے گولیوں اور بموں کی ہلاکت خیز بارش اور دوسری طرف فلسطینیوں کے بے مثال جذبہ حریت اور قابل رشک نظم و ضبط اور استقامت کا مشاہدہ کیا ہے۔ غزہ کی پٹی صرف ۶/ میل چوڑی اور ۲۴ میل لمبی ہے اور اس میں پندرہ لاکھ فلسطینی آباد ہیں جو ناقابل تصور آزمائشوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس پٹی کے زمینی‘ فضائی اور بحری راستے اسرائیل کے قبضے میں ہیں اور صرف ایک راستہ مصر کی طرف کھلتا ہے جس کے ذریعے خوراک‘ ادویات اور زندگی کی دوسری ضروریات آتی ہیں۔ اسرائیل نے جب غزہ پر دھاوا بولا‘ تو اس نے مکانوں‘ ہسپتالوں‘ اسکولوں‘ مسجدوں اور اقوام متحدہ کے مہاجرین کیمپوں پر فاسفورس بموں کی بارش کر دی اور توپ خانے سے اندھادھند گولے برسائے۔ ادھر سے مصر نے خشکی کا راستہ بند کر دیا۔ تین ہفتوں کے دوران ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ بچے‘ خواتین اور شہری ہلاک اور آٹھ ہزار زخمی ہوئے‘ مگر اہل عزیمت یہ سارا عذاب کمال ہمت اور نظم و ضبط کے ساتھ برداشت کر گئے۔ کوئی ہنگامہ ہوا نہ اشیائے خورونوش کی قلت کے باعث لوٹ مار شروع ہوئی۔ ہزاروں کی تعداد میں رضاکار خدمت خلق کے لیے نکل آئے اور اسرائیل کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ عالمی ضمیر تماشائی بنا رہا‘ امریکہ اسرائیل کی حمایت پر قائم رہا اور عالم عرب نے اس خونین محاصرے پر ایک جاندار اور بلاخیز ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اب تک ترک وزیراعظم جناب طیب اردگان نے ڈیوس کانفرنس میں اسرائیلی صدر سے ٹکر لے کر اور اسے قاتل قرار دیتے ہوئے کانفرنس سے واک آؤٹ کر کے تاریخ میں اپنا نام پیدا کر لیا ہے اور اسلامی و سیاسی بیداری کی لہر دوڑا دی۔ یہ بلند رتبہ پاکستان کے نصیب میں بھی آسکتا تھا‘ مگر ہم ابھی امریکہ کے حلقۂِ اثر میں ہونے کے سبب ایک یتیم جان طرزعمل اختیار کیے ہوئے ہیں‘ مگر پاکستان کے عوام غزہ کے جان نثاروں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ ہیں۔ انہیں کامل یقین ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو کے رہے گی اور اسرائیل کو اس کی خون آشامی کی سزا ضرور ملے گی۔
|
|
|