عزم ہی میرا سہارا ہے ۔ جولائی ۲۰۰۹ء
ایک معذور کم وسیلہ طالبہ
کے جذبۂ حصولِ علم کی ایقان افروز رُوداد
ابنِ صوفی

مانسہرہ کے علاقے لوہار بانڈے کی بل کھاتی گلیوں سے گزرتے ہوئے میں ایک عمودی سڑک پر نکل آیا، گاڑی اونچائی پر چڑھنا شروع ہوئی‘ لیکن چند لمحوں بعد اس نے رکنا شروع کردیا‘ میں نے ہینڈ بریک کھینچی‘ ٹائروں کے نیچے پتھر رکھے اور خود پیدل چلتا ہوا اس چھوٹی سی پہاڑی پر واقع مطلوبہ گھر تک پہنچ گیا۔ سبز رنگ کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے میرا سانس پھول گیا تھا۔ چند قدموں کی اس مسافت نے مجھ پر ربیعہ حمید کے جذبہ حصول علم کی بلندی واضح کردی تھی۔
مجھے دروازے پر دستک دینے سے پہلے ہی اس سوال کا جواب مل چکا تھا کہ ایک ٹانگ سے معذور لڑکی روزانہ گھر سے نکل کر کس کے سہارے اس ڈھلوان راستے پر آتی جاتی ہوگی‘ یہ سہارا اس کے عزمِ صمیم کا ہے۔ میری دستک پر ایک باریش شخص نے دروازہ کھولا۔ اسلامی اقدار اور عجز و انکساری کے پیکر حمید اللہ نے مجھے اندر آنے کی دعوت دی۔ سامنے ان کی شریک حیات اور بیٹی بیٹھی تھیں۔ ربیعہ حمید ایک بہن کا سہارا لیتے ہوئے سلام کے لیے آگے بڑھی تو مجھے ایک بار پھر اس حیرت نے گھیر لیا کہ جو لڑکی بغیر سہارے کے چند قدم نہیں چل سکتی وہ کس طرح ہر روز اپنے گھر سے نکل کر کئی فٹ نیچے جاتی ہوگی۔ ویگنوں پر سفر کرتے ہوئے کالج جاتی ہوگی اور اس کا کالج بھی ایک پہاڑی پر واقع ہے نیز اس شہر کی سڑکیں بھی ہموار نہیں ہیں۔
میں سب سے پہلے ربیعہ حمید کے والدین کی تربیت میں چھپا وہ راز جاننا چاہتا تھا جس نے معذور طالبہ کے اندر آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا عزمِ بے کراں بھردیا تھا۔ میرے سوال پر حمید اللہ کی آنکھیں بھر آئیں‘ چند لمحوں بعد انہوں نے گفتگو شروع کی تو ان کی آواز سے اللہ کے شکر کا احساس چھلک رہا تھا۔
میرا تعلق بالاکوٹ کے نواح میں نو کلومیٹر پر واقع ایک پسماندہ پہاڑی گائوں بھمبر سے ہے۔ میرے والد ایک غریب کاشت کار تھے‘ اُن کی تھوڑی سی زمین تھی۔ ہمارے گائوں میں کوئی اسکول نہیں تھا۔ میرے والد نے اس دور میں مجھے جامعہ اشرفیہ لاہور سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا‘ میں تعلیم سے فارغ ہوکر واپس آگیا تو انہوں نے میری شادی کردی۔ میں نے مانسہرہ کے نواح میں ایک پہاڑی کے دامن میں مسجد کی امامت کے فرائض سر انجام دینا شروع کردیے۔
  
۱۹۶۴ئ میں مجھے سرکاری اسکول میں ملازمت مل گئی‘ صبح اسکول میں پڑھاتا اور باقی اوقات مسجد میں خطابت اور امامت کی خدمات سرانجام دیتا‘ یوں میں گزشتہ پچاس سال سے مکتب اور مسجد سے منسلک ہوں۔ میری ان خدمات کا مجھے یہ صلہ ملا کہ اللہ نے میرا بھرم رکھا اور ہر مشکل وقت پر میری مدد کی نیز میری اولاد خصوصاََ بیٹیوں میں علم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ اللہ نے مجھے پانچ بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ بڑا بیٹا بیماری کی وجہ سے کچھ زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرسکا‘ اس نے انجینئرنگ کا ڈپلومہ حاصل کیا ہے اور وہ ملازمت کررہا ہے۔ دوسرے بیٹے نے بی اے کیا ہے جبکہ تیسرے نے بہن ربیعہ کو اسکول کالج لانے لے جانے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ وہ میٹرک سے آگے تعلیم حاصل نہیں کرسکا۔
ربیعہ حمید پر پولیو کے حملے کے حوالے سے انہوں نے بتایا۔
’’ایک سال کی عمر میں اسے سخت بخار ہوگیا تھا جو کئی دن تک رہا۔ ہم نے مختلف ڈاکٹروں سے علاج کروایا مگر آرام نہ آیا پھر ہم نے ایک ماہر سے معاینہ کروایا تو اس نے بتایا کہ اس پر پولیو کا حملہ ہوا ہے جس سے اس کے جسم کا دایاں حصہ متاثر ہوگیا ہے۔
ہم دونوں میاں بیوی بے حد پریشان ہوئے۔ میں ایک غریب آدمی ہوں‘ میرے ذرائع آمدن اس وقت بھی بہت محدود تھے۔ اس کے علاج کے لیے میرے پاس وسائل نہیں تھے‘ دوسری پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ اگر بیٹی معذور ہوگئی تو یہ زندگی کیسے گزارے گی۔ ہم نے ہر ممکن علاج کروایا جس سے اس کا دایاں بازو اور جسم کا کچھ حصہ کسی حد تک ٹھیک ہوگئے ہیں مگر ٹانگ ٹھیک نہیں ہوئی۔
جب اس کی عمر چار سال تھی تو ہم نے اسے ایک قریبی نجی اسکول سید احمد میں داخل کروا دیا۔ اسکول میں لڑکیاں اُسے تنگ کرتی تھیں جس سے یہ پریشان ہوجاتی۔ ہم نے اس کی چھوٹی بہن سمیعہ کو بھی اسکول میں داخل کروادیا تاکہ وہ اس کا خیال رکھ سکے یوں پہلی جماعت سے ایف ایس سی تک دونوں بہنوں نے اکٹھے تعلیم حاصل کی ہے۔‘‘
’’آپ کو اسکول کے دنوں میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اس سوال کے جواب میں عزم کی پیکر اس لڑکی نے پُراعتماد لہجے میں گفتگو کا آغاز کیا۔ ’’میری سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ میں خود اپنے کام نہیں کرسکتی تھی۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں خود کینٹین جائوں‘ بیت الخلا خود جاسکوں اس کے علاوہ وقفے کے دوران باقی بچوں کے ساتھ کھیل سکوں، مجھے کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ بچے کرکٹ کھیل رہے تھے‘ میں قریب جاکر بیٹھ گئی تاکہ انہیں کھیلتا دیکھ سکوں کہ ایک دم سے گیند میری طرف آئی‘ میں اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی تھی۔ گیند پوری شدت سے مجھے لگی اور میں زخمی ہوگئی۔ اس واقعے سے میں اس قدر خوفزدہ ہوگئی کہ پھر پوری زندگی میں نے کسی کو قریب سے کھیلتے نہیں دیکھا۔ میرا بھائی مجھے گھر سے اٹھا کر لے جاتا اور جس جگہ بٹھاتا میں سارا وقت وہیں بیٹھی رہتی۔ میری چھوٹی بہن مجھے کینٹین سے کوئی چیز لادیتی کیونکہ وہ مجھ سے چھوٹی تھی لہٰذا وہ مجھے اٹھا کر ایک سے دوسری جگہ نہیں لے جاسکتی تھی۔ جب میں تیسری جماعت میں تھی تو ہمارا اسکول بند ہوگیا پھر ہمیں ایک دوسرے اسکول میں داخل کروادیا گیا۔ اب میں بڑی ہوگئی اور سہارے کے ساتھ خود چل سکتی تھی۔ میرا بھائی محمد قاسم میرا بستہ اٹھالیتا اور مجھے سہارا دیتے ہوئے اسکول چھوڑ آتا اور پھر چھٹی کے وقت گھر لے آتا۔
اگر میرا بھائی میرا ساتھ نہ دیتا تو میں پڑھ نہیں سکتی تھی میں آج بھی کسی فرد کے سہارے کے بغیر نہیں چل سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچپن ہی میں یہ شعور دے دیا تھا کہ مجھ میں کوئی معذوری نہیں‘ میں تندرست ہوں اور آگے بڑھ سکتی ہوں۔ گارڈن پبلک اسکول کے پرنسپل منیر صاحب میری ہمت بڑھاتے رہتے۔ انہوں نے میری آدھی فیس معاف کردی تھی۔ وہ مجھے اکثر کہتے کہ تم میڈیکل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اس لیے میٹرک ہی میں میں نے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔
میں نے میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کیا، میرے نمبر اسکول میں سب سے زیادہ تھے۔ میرا بہت اچھا نتیجہ آیا تھا۔ میں ایف ایس سی کسی اچھے تعلیمی ادارے سے کرنا چاہتی تھی‘ لیکن میرے والد کے پاس کتب خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ میری تمام سہیلیوں نے نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ لے لیا جہاں پڑھائی کا اعلیٰ انتظام تھا۔ میں بھی ایف ایس سی کسی معیاری ادارے سے کرنا چاہتی تھی تاکہ میرے نمبر زیادہ آئیں اور ایم بی بی ایس میں داخلہ لینے کے قابل ہو سکوں۔ اللہ نے اس موقع پر میری مدد کی اور مانسہرہ کے ایک اچھے تعلیمی ادارے حیدر پبلک کالج کے پرنسپل راجہ نعیم نے مجھے اپنے ادارے میں بلا معاوضہ تعلیم کا موقع دیا۔ اس ادارے کے پرنسپل اور اساتذہ نے میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ ایف ایس سی میں بھی میرے بہت اچھے نمبر آئے۔ ان دنوں یہ بات مشہور تھی کہ اکیڈمی میں تیاری کے بغیر میڈیکل کالج کے انٹری ٹیسٹ میں پاس نہیں ہوا جاسکتا۔ انٹری ٹیسٹ کی تیاری ایبٹ آباد میں ہوتی تھی اور وہاں اکیڈمیوں کی فیس بہت زیادہ ہے۔ میرے والد کے پاس وسائل تھے نہ ہی مانسہرہ سے روزانہ ایبٹ آباد آنے جانے کا کوئی ذریعہ تھا اور وہاں میرے والد کا کوئی واقف کار بھی نہیں تھا جو فیس میں رعایت دے دیتا۔
’’میں زندگی میں پہلی بار اپنے حالات کی وجہ سے سخت مایوسی کا شکار ہوئی اور میں نے انٹری ٹیسٹ بھی نہ دیا۔ مجھے ہر وقت میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملنے کا ملال رہتا۔ میں سخت پریشان رہتی تھی۔ ان کرب ناک دنوں میں میرے اہل خانہ نے میری ہمت بندھائی۔ والد صاحب چھپ چھپ کر آنسو بہاتے رہتے۔ وہ اپنی معاشی حالت پر افسردہ تھے‘ انہیں یہ دکھ تھا کہ وہ مجھے انٹری ٹیسٹ کی تیاری نہ کرواسکے اور میرا داخلہ میڈیکل کالج میں نہ ہوسکا۔ بہن بھائیوں نے مجھے بی ایس سی کرنے کے لیے قائل کیا اور میں نے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہاں مجھے معذوروں کی بحالی کے لیے قائم ادارے ہیلپنگ ہینڈ (Helping Hand) کا پتا چلا تو میں وہاں ٹانگ کی مشق کے لیے جانے لگی۔ ایک سال بعد دوبارہ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا اعلان ہوا۔ میری ڈاکٹر بننے کی خواہش پھر سے تازہ ہوگئی۔ میں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے حوالے سے سوچ بچار کررہی تھی کہ ایک نجی ادارے وومن میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں داخلے کا اشتہار شائع ہوا۔ ہم نے وہاں فیس کا پتا کیا تو ایم بی بی ایس کی سالانہ فیس پانچ لاکھ سے زیادہ تھی‘ اس کے علاوہ داخلے بھی چند روز میں مکمل ہونے تھے البتہ بی ایس سی فزیوتھراپی میں داخلہ ہوسکتا تھا۔ معذور افراد کی بحالی کے لیے ایک فزیوتھراپیسٹ کیا کردار ادا کرتا ہے اس سے میں بخوبی آگاہ تھی لہٰذا میں نے فزیوتھراپی میں داخلے کا فیصلہ کیا مگر اس کورس کی سالانہ فیس پچپن ہزار (55,000) ہے۔ میں نے کالج کی انتظامیہ کو اپنے حالات سے آگاہ کیا اور فیس میں رعایت کی درخواست دی مگر انہوں نے رعایت دینے سے انکار کر دیا۔ انہی دنوں مجھے ایک لڑکی نے کاروان علم فائونڈیشن کا بتایا۔ میں نے خط میں اپنے حالات اور تعلیمی ادارے کی فیس، کرایہ آمدورفت اور کتب کے اخراجات تحریر کرکے بھیجے۔ مجھے چند روز بعد ہی خط موصول ہوگیا جس میں اعلی تعلیم کے لیے ہر ممکن مدد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ہمارا سارا گھرانہ سجدہ شکر بجا لانے لگا۔ ہم اس بات پر حیران تھے کہ اس دور میں کوئی ایسا ادارہ بھی ہے جو ایک خط اور چند دستاویزات پر اعتبار کرتے ہوئے ایک غریب گھرانے کی معذور لڑکی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
’’چند روز بعد مجھے سالانہ فیس پچپن ہزار روپے موصول ہوگئی۔ میں نے کالج میں داخلہ لے لیا اس کے علاوہ فائونڈیشن نے مجھے نصاب کے لیے بھی رقم فراہم کی۔ مجھے مانسہرہ سے ایبٹ آباد آنے جانے میں بہت مشکل پیش آتی تھی۔ میں نے گھر سے کالج تک لانے لے جانے کے لیے ایک ویگن لگوالی جس کا ماہوار کرایہ بھی فائونڈیشن ادا کررہی ہے۔
’’مجھے کاروان علم فائونڈیشن نے جو ذہنی سکون اور اطمینان دیا ہے اُسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ میرے والد ہر وقت اس ادارے کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ میں آج مطمئن ہوں کہ اللہ تعالی نے میری مدد کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جو میری ہر ضرورت کو ایسے پوری کرتا ہے جیسے والدین اپنی اولاد کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
’’کیا آپ کو کسی ادارے کی طرف سے ٹانگ کے آپریشن یا علاج سے سہارے کے بغیر چلنے کے قابل بنانے کی پیش کش ہوئی؟‘‘ اس سوال کے جواب میں ربیعہ حمید نے کہا۔
’’مجھے ایک معذور لڑکی نے لاہور کے ایک ڈاکٹر کا کارڈ دیا تھا جو پولیو کے مریضوں کا علاج کرتا ہے اور انہیں چلنے پھرنے کے قابل بناتا ہے لیکن ہم غریب لوگ ہیں‘ لاہور میں ہمارا کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے لہٰذا ہم نے علاج کروانے کا نہیں سوچا۔ میں آج بھی بغیر سہارے کے نہیں چل سکتی۔ میرے بھائی نے اپنی تعلیم اور ملازمت کی قربانی دی اور مجھے لانے لے جانے کی ذمہ داری نبھائی۔ میری شدید خواہش ہے کہ میں خود چلنے پھرنے کے قابل ہوجائوں اور وہ روزگار کے قابل ہو سکے لیکن فی الحال مجھے ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔‘‘
’’آپ کا گھر اتنی بلندی پر ہے‘ آپ کیسے کالج آتی جاتی ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب پر اس نے کہا ’’یہ ہمارا اپنا گھر نہیں ہے۔ میرے ابو امام مسجد ہیں اور مسجد انتظامیہ نے ہمیں کرائے پر گھر لے کردیا ہوا ہے۔ پہلے ہمارا گھر نیچے تھا اس وقت زیادہ مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ پھر ہمیں وہ گھر خالی کرنا پڑا۔ پچھلے ایک سال سے ہم اس گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ روز صبح نکلتے ہوئے مجھے گرنے کا خوف رہتا ہے لیکن گھر تبدیل کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح میرا کالج بھی اونچائی پر واقع ہے لہٰذا وہاں بھی مجھے مشکل پیش آتی ہے لیکن میں اپنی ہمت کم نہیں ہونے دیتی۔‘‘
مستقبل کے عزائم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس باہمت لڑکی نے بتایا۔
’’میں فزیوتھراپسٹ بن کر معذوروں کی بحالی کے لیے کام کروں گی۔‘‘
ربیعہ حمید کی داستانِ جُہد مکمل ہوگئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’آپ امتحانات سے فارغ ہوجائیں تو کاروان علم فائونڈیشن لاہور میں آپ کی ٹانگ کے آپریشن کا اہتمام کردے گی۔ آپ پُر امید رہیں اللہ نے پہلے بھی ہر موقع پر آپ کا ساتھ دیا‘ آیندہ بھی دے گا۔‘‘
میری بات سن کر اس کے معصوم چہرے پر گلاب کھلنے لگے اور اس کی آنکھوں میں چراغِ امید روشن ہوگئے‘ ساتھ بیٹھی ہوئی اس کی بہنوں کے چہروں سے خوشی عیاں تھی‘ بوڑھے باپ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تیر رہے تھے۔ ربیعہ حمید کے گھر سے نکل کر ڈھلوان راستے سے اترنا اتنا ہی مشکل تھا جتنا اوپر جانا اور میرا ذہن اس نکتے پر مرکوز تھا کہ اللہ جب چاہتا ہے سفر کی ہر رکاوٹ آسان بنادیتا ہے۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ