رول ماڈل اُٹھتے جاتے ہیں ۔ جولائی ۲۰۰۹ء
جماعت اسلامی کے مطلوب مردِ مومن جناب طفیل محمد‘ قمری حساب سے ایک صدی گزار کر ۲۵ جون ۲۰۰۹ئ کی شب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ خدا ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے‘ ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے﴿آمین﴾‘ ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہ اگرچہ عمر بھر ایک ہی جماعت سے وابستہ رہے‘ مگر انہوں نے اپنی دینی اور سیاسی زندگی کے اڑسٹھ برسوں میں جن قائدانہ صلاحیتوں کا ایک گلزارِ کہکشاں چھوڑا ہے‘ وہ ہماری قوم کے لیے ایک متاع بے بہا سے کم نہیں جو قیادت کے فقدان کی وجہ سے ہزار آزمائشوں میں گھری ہوئی ہے۔ میاں صاحب کی زندگی اس اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کہ ان کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے تھا اور انہوں نے مسلسل محنت‘ بے مثال قناعت‘ لازوال قوتِ ارادی اور مقاصد جلیل کے ساتھ ایک ناقابل شکست وابستگی سے وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ قدرت نے انہیں قیادت کے لیے تیار کیا تھا اور سید ابوالاعلیٰ مودودی(رح) جس بلند پایہ سیرت و کردار کے افراد میدان عمل میں لانا چاہتے تھے‘ میاں صاحب ان کی ایک نہایت عمدہ تصویر تھے۔
وہ مشرقی پنجاب میں واقع کپور تھلہ ریاست میں میاں برکت علی کے ہاں پیدا ہوئے جو ایک گاؤں میں اسکول ٹیچر تھے۔ مفلسی میں میاں طفیل محمد نے اپنے والدین کی ذاتی مثالوں سے اپنے اندر محنت و مشقت‘ توکّل و قناعت اور خدا کی ذات کے بھروسے پر اپنا راستہ خود بنانے کی صفات پیدا کیں۔ وہ تعلیم کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور تک پہنچ گئے۔ وہاں سے ریاضی اور فزکس میں بی ایس سی کیا اور یونیورسٹی لائ کالج سے قانون کی ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی۔ وہ کھلے ذہن کے ایک روشن خیال نوجوان تھے اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے کوئی بڑا تعمیری کام کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مارچ ۱۹۴۰ئ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے منٹوپارک لاہور کے تاریخی اجتماع میں شرکت کی اور دلکشا مناظر قریب سے دیکھے جن سے اُن کے اندر علامہ اقبال(رح) کے تصور ریاست کو عملی جامہ پہنانے کا شوق پیدا ہوا جس میں سیاست دین کے تابع ہے۔ حسنِ اتفاق سے کپور تھلہ شہر کی ایک تنظیم نے اپریل ۱۹۴۱ئ میں سید ابو الاعلیٰ مودودی(رح) کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی جہاں انہوں نے ’’سلامتی کا راستہ‘‘ کے عنوان سے ایک فکرانگیز خطاب فرمایا۔ اس موقع پر میاں صاحب کو ان سے ملنے اور تبادلۂ خیال کا موقع ملا جس نے ان کی سوچ پر صحت مند اثرات مرتب کیے۔
میاں صاحب انگریزی لباس کے بڑے دلدادہ ہونے کے باوجود انگریزوں کی ملازمت کے سخت مخالف اور اپنی آزاد روش کے مطابق ایک انقلاب آفریں تصور کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ یہی اضطراب انہیں ہندوستان کے سحرکار خطیب سید عطائ اللہ شاہ بخاری(رح) کی تقریر سننے سلطان پور لودھی لے آیا۔ تقریر کے بعد انہوں نے اپنی بے کلی کا اظہار کرتے ہوئے شاہ صاحب سے پوچھا کیا آپ ایک ایسی شخصیت کی نشان دہی کر سکتے ہیں جو اسلام کو ایک عظیم انقلابی تصور اور ایک عالمگیر نظام کے طور پر جدید اسلوب میں پیش کر رہی ہو۔ انہوں نے سیدابوالاعلیٰ مودودی(رح) کا نام لیا اور زور دے کر کہا کہ ہمت ہو تو اُن کے ساتھ مل کر کام کرو۔ یہ بات اُن کے دل میں اُتر گئی اور وہ اُن سے ملنے لاہور آئے اور ۲۶/ اگست ۴۱ئ کو جب جماعت اسلامی قائم ہوئی‘ تو اس کے ۷۵تاسیسی ارکان میں انگریزی لباس اور ہیٹ پہنے نوجوان وکیل میاں طفیل محمد بھی شامل تھے۔ اُن کے انگریزی لباس اور ہیٹ پر بعض حاضرین معترض ہوئے‘ مگر مولانا مودودی(رح) نے چھ ماہ کی آزمائشی مہلت دے کر حکمت کے ساتھ اُن کے لیے اصلاح کا دروازہ کھول دیا۔
میاں طفیل محمد نے یہ پل صراط غیرمعمولی قوتِ ارادی سے پار کیا اور وہ اپنے امیر اور ساتھیوں کی نگاہ میں بڑے معتبر ٹھہرے۔ اس کے بعد ان کی آزمائشوں اور ایثار کیشیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ ہر مشکل مقام پر سرخرو ہوئے۔ ۱۹۴۴ئ میں وہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل چُن لیے گئے تو انہیں وکالت کے پیشے کو خیرباد کہنا پڑا۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی جماعت اسلامی کے لیے ایک دورِابتلا شروع ہو گیا اور میاں صاحب اپنے اکابرین کے ہمراہ حوالۂ زنداں کر دیے گئے۔ وہ جیل میں سید ابو الاعلیٰ مودودی(رح) اور مولانا امین احسن اصلاحی(رح) سے قرآن و حدیث پڑھتے رہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے جماعت میں گہرا نظم و ضبط قائم رکھا اور بیت المال کے معاملات امانت و دیانت کے اعلیٰ معیار کے مطابق چلائے۔ عہدِ آشوب میں وہ سادگی‘ کفایت شعاری اور وقار کے پیکر تھے‘ ان کی شرافت اور وضع داری کا یہ عالم تھا کہ مالک مکان کے مطالبے پر کسی حجت کے بغیر مکان خالی کر دیتے‘ صرف اچھرے کی بستی میں انہوں نے تیرہ مکان تبدیل کیے اور کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔ یوں وہ شائستگی اور حسن معاملگی کا قابل تقلید نمونہ بنے۔
ملک میں شہری آزادیوں سے لے کر بحالی جمہوریت اور اسلامی دستور کی تدوین تک جتنی تحریکیں چلی ہیں‘ ان میں سیکرٹری جنرل اور بعد میں امیر کی حیثیت سے انہوں نے سرگرم حصہ لیا اور اصولوں کی خاطر ہر آزمائش کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ وسائل میں تنگی ہو یا فراخی‘ وہ قائدانہ شان کے ساتھ راہِ اعتدال پر چلتے رہے۔ دلیل کے ساتھ گفتگو کرتے اور دلیل کے آگے سرتسلیم ختم کر دیتے‘ مگر جاہ و منصب کے اعتبار سے بڑی سے بڑی شخصیت سے ہرگز مرعوب نہ ہوتے۔ مولانا کی رفاقت میں انہوں نے زندگی کا ہر لمحہ اپنے رب کی بندگی میں گزارنے‘ مسلمانوں کی اخلاقی‘ دینی اور سیاسی تربیت کرنے اور اقامت دین کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کا نسخہ کیمیا حاصل کر لیا تھا۔
وہ پندرہ سال جماعت اسلامی کی امارت پر فائز رہے اور جب سبکدوش ہوئے تو اپنے آپ کو اس طرح سمیٹ لیا کہ کبھی کوئی بیان دیا نہ اندر کی بات باہر آنے دی۔ اگر کسی نے مشورہ طلب کیا‘ تو خاموشی سے اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ ذمے داری اُٹھاتے وقت وہ جس قدر محتاط اور نظم و ضبط کے پابند تھے‘ اسی قدر ذمے داریوں سے فارغ ہونے کے بعد جماعت کے مجموعی مفادات کا خیال رکھتے رہے۔ وہ بلا کی قوتِ فیصلہ کے مالک تھے۔ ان کے دورِامارت میں کبھی کبھی ایسے نازک لمحات بھی آئے جب جمعیت طلبہ کی خودسری سے جماعت کی مسلمہ نظریاتی حیثیت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو چلا تھا۔ ان آزمائشی لمحات میں وہ عزم کے ساتھ ایک ہی بات کہتے کہ میں نوجوانوں کی بے لگام اُمنگوں پر جماعت کے وجود اور مستقبل کو داؤ پر نہیں لگا سکتا جو پوری اُمتِ مسلمہ کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس آشیانے کی چمن بندی میں خدا کے لاکھوں نیک بندوں نے خونِ جگر دیا ہے اور اپنے ایمان کی فولادی قوت سے طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کیا ہے۔
میاں طفیل محمد کی اسلام کی عالمگیر تحریک سے غیر متزلزل وابستگی‘ بے ریا فقرو درویشی اور ان کی بے لاگ اور کھری کھری باتیں آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوں گی۔ قوم کو آخرکار انہی کے معیارِ قیادت کو تسلیم کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہو گا کہ عوام لغاریوں‘ مخدوم زادوں‘ سرداروں اور فرعون صفت وڈیروں اور خانزادوں کی بے اصول اور بدعنوان قیادت سے تنگ آ چکے ہیں۔ ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے تھے‘ دینی اور عصری علوم کے ماہر اور اسلامی حمیّت کی دولت سے مالامال۔ وہ اپنی بے نفسی‘ اعتدال پسندی اور بے پایاں عجزوانکسار سے مسلمانوں میں اتحاد اور یک جہتی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے والد بزرگوار مفتی محمد حسین نعیمی ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف ایک مضبوط چٹان ثابت ہوئے تھے اور اتحاد بین المسلمین کے زبردست حامی رہے۔ انہی کا رول ماڈل ان کے قابل فخر فرزند ارجمند کے سامنے تھا اور وہ بھی اسی عظمتِ کردار کا پیکر بن گئے تھے۔ انہوں نے خودکش حملوں کو اسلام کی رو سے حرام قرار دیا اور وہ رائے عامہ ہموار کرنے میں بہت سرگرم اور پیش پیش تھے۔ اُن کی مومنانہ جرأت شدت پسندوں کے آشیانے پر بجلی بن کر گری‘ وہ ان کی جان کے دشمن ہو گئے لیکن وہ شہید ہو کر بھی اپنی قوم کو بقا کا پیغام دے گئے ہیں اور ایک رول ماڈل کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحمتوں کی بارش کرتا رہے اور اُن کے ورثائ اور پوری قوم کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا رہے ﴿آمین!﴾۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ