 |
ایک منفرد شکاری داستان جس میں شکاریوں کو حیوانوں کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت طاقتوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنا پڑے
رسالدار شیر علی خان/محمد اقبال قریشی ۔ جولائی ۲۰۰۹ء
جس زمانے کا یہ واقعہ ہے‘ تب ہندوستان میں جنگل زیادہ اور انسانی آبادیاں کم کم ہوا کرتی تھیں۔ کئی دیہات جنگلوں کے بیچ واقع تھے اور ان کے مابین فاصلہ بھی خاصا زیادہ تھا۔ بجلی نہ ہونے کے باعث اکثر گزرگاہیں سرِشام ہی ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ ایسے میں اگر کوئی درندہ آدم خور ہو جاتا تو اسے زیر کرنا بڑا دقت طلب کام ہوتا۔ یہ کام اس وقت مزید دقت طلب ہو جاتا جب آدم خور کسی ایسے علاقے میں پیدا ہوتا جہاں اکثریت ہندو آبادی کی ہوتی۔ سب جانتے ہیں کہ ہندو ایک توہم پرست قوم ہے اور ان کے مذہب کی بنیاد ہی توہم پرستی پر ہے۔ اسی باعث وہ آدم خور کی وارداتوں کو کسی مافوق الفطرت قوت سے منسوب کر دیتے اور آدم خور سے متعلق طرح طرح کے من گھڑت قصے گھڑ لیتے۔ یہ قصے مقامی باشندوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ شکاری کی راہ میں روڑے اٹکانے کا باعث بھی بنتے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک مقامی آبادی کا تعاون حاصل نہ ہو‘ ماہر سے ماہر شکاری بھی اپنی مہم بخوبی سرانجام نہیں دے سکتا۔

اس عجیب و غریب داستان کا آغاز جون ۱۹۲۰ئ کی ایک شام کو ہوا جب میں سروہی کے جنوب میں کوہ ارون کے دامن میں پہنچا۔ مجھے انگریز شکاری مسٹر ہڈسن سے ملاقات کرنا تھی۔ اس وقت کیمپ میں مسٹر ہڈسن موجود نہیں تھے۔ کچھ دیر بعد وہ آئے تو میں نے ان سے کہا کہ میں کوہ ابون سے آیا ہوں‘ میرا نام شیرخاں ہے اور میں سیکنڈ رائل لانسر میں رسالدار ہوں۔ مجھے ایجنٹ برائے گورنر جنرل راجپوتانہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے۔ مسٹر ہڈسن نے کہا ’’اس وقت میں تھکا ہوا ہوں‘ آپ کھانا کھا کر سو جائیں صبح شکارگاہ میں چل کر آپ کو تمام واقعات سناؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر مسٹر ہڈسن اپنے خیمے میں چلے گئے۔ میں نے کھانا کھایا اور چاندنی رات میں پہاڑی مناظر دیکھنے لگا۔ مسٹر ہڈسن کا شکاری کیمپ کوہ ارون کی بلندوبالا چوٹی کے نیچے ایک خوفناک مقام پر تھا۔ کیمپ کے سامنے تاریک جنگل تھا۔ پہاڑ کو چیرتی ہوئی نشیب میں ایک ندی بہ رہی تھی‘ وہاں کی زمین سیاہ اور چکنی تھی۔ کچھ دیر بعد جب چاند چھپ گیا تو ملازموں نے کیمپ میں آگ کے الاؤ روشن کیے اور بندوقوں سے مسلح ہو کر باری باری پہرہ دینا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد میں سو گیا۔ صبح اٹھا تو ملازموں نے مجھے اکیس مرے ہوئے سانپ دکھائے جو انہوں نے رات کو کیمپ کے آس پاس ہلاک کیے تھے۔
اتنے میں مسٹر ہڈسن آ گئے۔ ہم نے کھانا کھایا پھر انہوں نے قریب کے خیمے سے امر سنگھ کو بلایا اور مجھے اور امر سنگھ کو ساتھ لے کر ایک پہاڑی درے میں پہنچے۔ درے کے سامنے گھنے درختوں کا ایک جھنڈ تھا جس میں ایک چشمہ تھا۔ چشمے کے کنارے ایک بہت گہرا غار تھا۔ غار کے سامنے ایک اونچے درخت کے نیچے پہاڑی چٹان پر ایک پتھر رکھا تھا۔ امر سنگھ نے پتھر ہٹایا‘ اُس کے نیچے چٹان خشک خون میں لتھڑی ہوئی تھی.
مسٹر ہڈسن بولے ’’شیر خان یہ میرے دوست مسٹر تھامسن کا خون ہے۔ جب تک میں تھامسن کے قاتل سے انتقام نہیں لے لیتا مجھے سکون نصیب نہیں ہو گا۔ دوماہ ہوئے میں اور تھامسن سیروشکار کی غرض سے کوہ ارون آئے۔ یہاں ایک آدم خور کی خونخواری کا بہت چرچا تھا۔ امر سنگھ کا بھائی مان سنگھ بھی ہمارے ساتھ تھا۔ ہم نے اس چٹان کے قریب واقع درخت پر مچان بندھوایا۔ رات کو میں مچان پر تھا جب تھامسن اور مان سنگھ میرے لیے کھانا لے کر آئے۔ تھامسن آگے اور مان سنگھ پیچھے تھا۔ اچانک آدم خور نے تھامسن کو اس چٹان پر دبوچ لیا‘ مان سنگھ چلایا۔ میں نے سامنے بندھے ہوئے بھینسے کی طرف دیکھا مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ میں مچان سے نیچے اُترا‘ سامنے کا منظر میرے ہوش اُڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ چاندنی میں ایک چیتا چٹان پر بیٹھا تھامسن کی گردن دبوچے ہوئے تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں بیسیوں درندے شکار کیے ہیں مگر میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے زیادہ عجیب و غریب اور حسین درندہ میں نے آج تک اپنی زندگی میں دوبارہ نہیں دیکھا۔ اُس چیتے کا حلیہ بڑا ہی عجیب و غریب تھا‘ منقش کمربند‘ منقش کلائی بند اور سر پر چمڑے کی جڑاؤ ٹوپی اُسے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ظاہر کر رہی تھی۔ چند ثانیے کے لیے میں دم بخود کھڑا اُس حیوان کو دیکھتا رہا۔
معاً چیتے نے تھامسن کو چھوڑ کر مان سنگھ پر جست لگائی اور اُسے دبوچ لیا۔ مان سنگھ گرانڈیل جوان اور پیشہ ور شکاری تھا لیکن آدم خور کے بوجھ تلے گر پڑا۔ میں نے چیتے پر تلوار کا وار کیا جو خالی گیا اور تلوار چٹان سے ٹکرا کر ٹوٹ گئی۔ چیتے نے مان سنگھ کو جبڑوں میں دبایا اور اس غار میں گھس گیا۔ میں جوشِ انتقام میں بندوق لیے ٹارچ روشن کر کے اُس کے تعاقب میں غار میں داخل ہو گیا۔ آگے غار اتنا تنگ تھا کہ اس میں چیتے کا داخل ہونا ناممکن تھا۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا‘ ’’یہ چیتا تھا یا آسیب؟‘‘
’’میں بُری طرح ڈر گیا۔ چیتا مان سنگھ کو لے کر میری آنکھوں کے سامنے غار میں گھسا تھا۔ غار کے دہانے پر مان سنگھ کا تازہ لہو پڑا تھا۔ اسی لمحہ مجھے مسٹر تھامسن کا خیال آیا۔ میں چٹان پر پہنچا‘ تو تھامسن مر چکاتھا۔ چیتے کے تیز دانتوں نے اس کی گردن اور سر کا کچومر بنا دیا تھا۔ بڑا وحشت ناک منظر تھا۔ دن نکلا تو مسٹر تھامسن کی لاش لے کر میں کوہ ابون پہنچا اور پھر چوتھے دن امر سنگھ کو ساتھ لے کر واپس یہاں آ گیا۔ مجھے تھامسن کی موت کا جس قدر غم تھا اس سے زیادہ امر سنگھ کو اپنے بھائی مان سنگھ کے مرنے کا رنج تھا۔ ہم دونوں انتقام کی آگ میں بُری طرح جھُلس رہے تھے۔
’’ایک روز آدم خور نے گراہٹی قبائل کے سردار کا اکلوتا بیٹا ہلاک کر کے اس کا خون پیا اورپھر لاش کو گھسیٹتا ہوا ندی کی طرف پہاڑوں میں لے گیا۔ دوسرے دن اس لڑکے کی بے لباس لاش ندی میں بہتی دیکھی گئی۔ قبائلی میرے پاس آ کر زاروقطار رونے لگے۔ میں نے پہلے انہیں تسلی دی اور پھر آدم خور کے متعلق تفصیلات معلوم کیں تو ان میں سے ایک شخص نے بید کی طرح کانپتے ہوئے کہا۔ ’’صاحب! ہمارے قبیلے صدیوں سے ان پہاڑوں میں آباد ہیں۔ خونخوار درندوں کو پکڑنا ہمارے لیے معمولی بات ہے لیکن یہ آدم خور‘ شیر یا چیتا نہیں کوئی جن یا مافوق الفطرت چیز ہے۔ یہ آسیب ہے مگر درندے کے روپ میں۔ یہ چھ ماہ میں ہمارے پچاس افراد ہلاک کر چکا ہے۔ یہ بلا انسان کی گردن کا لہو پی کر ایک حسین و جمیل عورت کا روپ دھارتی ہے اور انسان کی برہنہ لاش کے سینے پر بیٹھ کر نہاتی ہے‘ پھر لاش کو ندی میں بہا دیتی ہے۔ یہ تمام پہاڑ اور غاریں آسیب زدہ ہیں۔ آسیب کا علاج بندوق سے نہیں ہو سکتا۔ صاحب! آپ کسی روحانی عامل کو تلاش کریں‘ ہم آپ کی جان و مال کو دعائیں دیں گے۔‘‘
اتنا کہہ کر مسٹر ہڈسن خاموش ہو گیا اور پائپ سلگا کر ہلکے ہلکے کش لینے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ میرے چہرے پر نظریں گاڑ کر گویا ہوا۔
’’شیر خان! آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ داستان پُراسرار اور سنسنی خیز ہے لیکن میں توہم پرست نہیں بلکہ ایک تجربے کار فوجی افسر ہوں۔ میں نے اور امر سنگھ نے ان پہاڑوں اور جنگلوں کا چپہ چپہ چھان مارا‘ لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور جس وقت میں نے اپنی آنکھوں سے ایک برہنہ لاش کو ندی میں بہتے دیکھا تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ امر سنگھ‘ مان سنگھ جیسا بہادر اور نامور شکاری نہیں ہے اس لیے میں نے ایجنٹ برائے گورنرجنرل راجپوتانہ کو لکھا کہ میری مدد کے لیے کوئی تجربہ کار فوجی شکاری بھیج دیجیے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ تشریف لے آئے۔ میرا دماغ ماؤف ہو چکا ہے۔ اب آپ جو چاہیں کریں۔‘‘
مسٹر ہڈسن کی زبانی یہ غیرمعمولی روداد سن کر میں سوچ میں پڑ گیا کیونکہ میں آسیب بھوت اور چڑیلوں کا قائل نہیں ہوں مگر یہ سنسنی خیز واقعات سن کر میرا بھی ذہن ڈول گیا۔ ہم واپس کیمپ میں آئے تو شام کے سائے پھیلنے لگے تھے۔ ہم نے باہمی مشاورت سے اگلی صبح آدم خور کی تلاش کا پروگرام بنایا اور پھر اپنے اپنے خیمے میں جا کر سو گئے۔
رات دو بجے اچانک ایک پہرے دار کی دلدوز چیخ سنائی دی۔ میں خیمے سے نکلا۔ آگ کے الاؤ پر کیمپ کے لوگ جمع تھے۔ اس جگہ ایک پہرے دار بُری طرح تڑپ رہا تھا‘ اس کے قریب ہی چھ فٹ لمبا ایک سیاہ رنگ کا سانپ مرا پڑا تھا۔ مسٹر ہڈسن نے بتایا کہ چاند چھپ گیا تھا‘ اس دوران پہرے داروں کی غفلت سے الاؤ کی آگ بھی بجھ گئی۔ گھپ اندھیرے میں اس بدقسمت پہرے دار کا پاؤں ناگ پر پڑا اور ناگ نے اِسے ڈس لیا۔ اسی دم ٹارچ کی روشنی میں میرے ملازم محبوب خان نے دم پکڑ کر سانپ کو زمین سے اٹھایا اور پھر جھٹکا دے کر اُس کی کمر بیچ سے توڑ دی۔ ناگ خاصی دیر تک زمین پر پڑا تڑپتا رہا۔ اب میرے آنے کے بعد محبوب خاں نے سانپ کا سر کچل کر اسے ہلاک کیا ہے۔ محبوب خاں سانپوں کا بہترین شکاری ہے اور ناگ کے ڈسے کا ماہر طبیب بھی۔ محبوب خاں نے خون کا دوران روکنے کے لیے پہرے دار کے پاؤں میں کپڑا باندھا اور پھر آگ کے دہکتے ہوئے انگارے سے ڈسی ہوئی جگہ کو جلا دیا۔ اب زخم میں دوا بھر کر پٹی باندھ دی گئی ہے۔ شیرخاں! ہمیں بہت محتاط رہنا ہو گا‘ یہ علاقہ سانپوں کا گڑھ ہے۔‘‘
مسٹرہڈسن کے یہ الفاظ سن کر میں خوف سے لرز گیا۔ واقعی محبوب خاں کا کیا ہوا علاج کامیاب ثابت ہوا۔ پہرے دار پر زہر کا کوئی اثر نہیں تھا‘ وہ صرف جلے ہوئے پاؤں کی تکلیف کا رونا رو رہا تھا۔ محبوب خاں نے اسے اور دوا پلائی اور زخم پر مرہم لگا کر پٹی باندھ دی‘ جب اسے سکون ہو گیا تو ہم نے کھانا کھایا۔ اس قدر دہشت ناک واقعے کے بعد نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور ہو گئی‘ باقی لوگوں کا بھی یہی حال تھا۔ ہم سب الاؤ کے اردگرد نیم دائرے کی شکل میں بیٹھ گئے‘ ہمارا موضوع گفتگو کوہِ ارون کا آدم خور تھا۔مسٹر ہڈسن اور اس کے ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پچاس کے قریب افراد آدم خور کا نوالہ بن چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آدم خور صرف توانا نوجوانوں اور خوبصورت جوان لڑکیوں کو ہی شکار کرتا ہے۔ اس نے آج تک کسی بچے‘ بوڑھے یا معذور دیہاتی کو اپنا نوالہ نہیں بنایا۔ مزید یہ کہ اس نے آج تک اپنے کسی شکار کا گوشت نہیں کھایا بلکہ وہ صرف اس کا خون پیتا ہے جس کے بعد اس کے شکار کی لاش ندی کے پانی میں بہتی ہوئی ملتی ہے۔
میں نے مسٹر ہڈسن اور اس کے ساتھیوں سے گزارش کی کہ آدم خور کے کامیاب شکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ مجھے اس کی چیدہ چیدہ وارداتوں کا احوال سنائیں۔ اس سے میرا ایک مقصد تو آدم خور کی نفسیات سے واقفیت حاصل کرنا تھا‘ دوسرے میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا یہ وارداتیں واقعی کسی حیوان کی ہیں یا پھر ان کے پیچھے کوئی مافوق الفطرت طاقت کارفرما ہے۔
آدم خور کا پہلا شکار آج سے تین ماہ قبل بھیل قبیلے کی ایک خوبصورت جوان لڑکی شکنتلا تھی۔ وہ بدنصیب لڑکی صبح صبح کھیتوں میں حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے گئی کہ آدم خور کا نوالہ بن گئی۔ جب وہ خاصی دیر تک گھر نہ لوٹی تو اس کے بھائی بھالوں اور لاٹھیوں سے مسلح دیہاتیوں کے ہمراہ اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ایک مقام پر انہیں کھیتوں میں خاصی مقدار میں انسانی خون پڑا نظر آیا جس کے قریب ہی جھاڑیوں میں شکنتلا کی ساڑھی کی دھجیاں اٹکی ہوئی تھیں۔ خاصی تلاش بسیار کے باوجود شکنتلا کی لاش نہ ملی تو گاؤں بھر میں یہ بات مشہور کر دی گئی کہ اس جنگل میں آسیب آ گیا ہے۔ ایک ہفتہ سکون سے گزرنے کے بعد دوپہر کے وقت اُسی مقام سے گزرنے والا ایک نوجوان دیہاتی شکنتلا سے ملتے جلتے انجام سے دوچار ہوا تو گاؤں والوں نے وہ مقام استعمال کرنا ترک کر دیا۔ کچھ عرصہ گاؤں میں سکون رہاپھر اچانک وارداتیں گاؤں کے اندر ہونے لگیں۔ یہ بات البتہ حیرت میں ڈال دینے والی تھی کہ آدم خور ہمیشہ چاندنی راتوں میں ہی شکار پر نکلتا تھا اور اب تو جائے واردات سے کچھ دور شکار کے کپڑے اُتار کر پھینک جاتا اور خالی شکار اٹھا کر لے جاتا۔ یہ بات گاؤں والوں کے لیے تو کیا وہاں موجود انگریز شکاری مسٹر ہڈسن کے لیے بھی اچنبے کا باعث بنی حتیٰ کہ ماہر شکاری ہونے کے باوجود میرے علم میں بھی آج تک کوئی ایسا آدم خور نہیں آیا جو اپنے شکار کو کھانے سے پہلے اس کے کپڑے اتار دیتا ہے۔
’’کیا گاؤں والوں نے ان واقعات کی تفتیش میں آپ کی مدد نہیں کی؟‘‘ میں نے مسٹر ہڈسن سے سوال کیا تو انہوں نے پائپ کی راکھ جھاڑتے ہوئے پرخیال انداز میں جواب دیا ’’ساتھ انہوں نے کیا دینا تھا‘ وہ تو روز میری منتیں کرتے رہتے کہ خدارا آپ یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ ان کے خیال میں میری موجودگی کے باعث وہ چڑیل اور زیادہ متحرک ہو گئی ہے۔ میں جب کبھی آدم خور کے شکار کی نیت کرتا ہوں گاؤں والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مجھے میرے عزائم سے باز رکھا جائے۔ چونکہ میں فوجی افسر بھی ہوں اس لیے وہ مجھے گاؤں سے تو نہیں نکال سکتے لیکن وہ میرے ساتھ تعاون بھی نہیں کرتے جس کے باعث میں تاحال آدم خور کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوا نہ ہی اس اسرار پر سے پردہ اٹھانے میں۔‘‘
’’آپ کا کیا خیال ہے‘ اس سلسلے میں میں آپ کی کیا مدد کر پاؤں گا؟‘‘ میں نے تھوڑی دیر بعد پوچھا تو مسٹر ہڈسن نے جواب دیا ’’میں نے آپ کی خاصی شہرت سن رکھی ہے۔ یہ بھی کہ آپ اب تک بیسیوں آدم خور درندوں کا شکار کر چکے ہیں اور یہ کارنامے آپ نے انہی جنگلوں میں اپنی فوجی ملازمت کے دوران سرانجام دیے ہیں۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے ایک ایسے آدم خور کو بھی شکار کیا تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ دراصل چڑیل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ نے ہماری رہنمائی کی تو ہم بہت جلد کوہ ارون کے آدم خور کو بھی کیفرکردار تک پہنچا دیں گے۔‘‘
’’ابھی آپ نے کہا تھا کہ آدم خور کا شکار ہونے والے اکثر افراد کی لاشیں ندی میں بہتی ہوئی ملتی ہیں‘ کیا آپ اس سلسلے میں مجھے مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ ندی کوہ ارون کی پہاڑیوں سے چشمے کی صورت میں نکلتی ہے اور پہاڑوں میں سے ہوتی ہوئی گاؤں میں داخل ہوتی ہے‘ اس کا منبع کوہ ارون کی پہاڑیوں میں ہے اور آج تک بہت کم لوگ اس مقام تک گئے ہیں۔‘‘
’’مجھے یقین ہے مسٹر ہڈسن کہ آپ کا آدم خور کہیں اور نہیں بلکہ کوہ ارون کی بلندوبالا پہاڑیوں کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے۔ بلاشبہ اس آدم خور کی وارداتیں اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ وارداتیں کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت پراسرار بنا دی گئی ہیں۔ ان وارداتوں کے پیچھے آدم خور کے ساتھ ساتھ کوئی دوسرا خفیہ ہاتھ بھی کارفرما ہے۔ اگر وہ ہاتھ کسی انسان کا ہے تو بہت جلد ہم اسے بھی جہنم واصل کر دیں گے اور اگر آدم خور کسی شیطانی طاقت کا آلہ کار بن گیا ہے تو بھی میری کوشش ہو گی کہ کم از کم آدم خور کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔‘‘
اگلی صبح ناشتے سے فارغ ہو کر ہم نے باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ آدم خور کا پتا چلانے کے لیے ہمیں کوہ ارون کی بلندوبالا پہاڑیوں تک جانا ہو گا جہاں سے ہم بآسانی نہر کے منبع تک پہنچ سکتے تھے۔ ہم نے ضروری سازوسامان گھوڑوں پر لادا اور علی الصباح روانہ ہو گئے۔ تقریباً دو میل کا فاصلہ طے کر کے ہم کوہ ارون کے پہاڑی سلسلے تک پہنچ گئے۔ ہم آگے پیچھے چل رہے تھے۔ راستہ پتھریلا ہونے کے باعث گھوڑوں کی رفتار آہستہ تھی اور راستہ بھی پہاڑیوں کے درمیان بل کھاتا چلا گیا تھا۔ دائیں بائیں اونچی پہاڑیاں اور گہری کھائیاں تھیں۔ ہم ندی کے کنارے کنارے یہ سفر کر رہے تھے ذرا آگے گئے تو بڑی پہاڑیوں کے درمیان ہمیں کھلی جگہ نظر آئی جہاں ندی بڑے زوروشور سے رواں تھی اور ہم راستے سے ہٹ کر اس طرف چل پڑے۔ اس میدان کے پار ہمیں درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان چند غاروں کے دہانے نظر آئے۔ پہاڑیوں کے درمیان واقع اس مقام کی ہیئت خاصی عجیب تھی۔ ہر طرف پہاڑیاں‘ چٹانیں اور درخت تھے۔ جونہی ہم غاروں کے قریب پہنچے ہمارے گھوڑے مضطرب ہو گئے حتیٰ کہ ایک مقام ایسا آیا جب گھوڑوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ لگاموں کو جھٹکے دینے کے باوجود وہ وحشیانہ ہنہناٹیں بلند کرتے اُلٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ بے زبان جانور کسی ایسی شے کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے ہیں جسے ہماری آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔ گھوڑوں کی حالت دیکھ کر امر سنگھ کی حالت بھی متغیر ہونے لگی۔
’’صاحب! واپس چلیں مجھے لگتا ہے اس جگہ کوئی آسیب ہے۔‘‘ امر سنگھ کی لرزتی ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی تو میں نے ایک نظر مسٹر ہڈسن کے چہرے پر ڈالی۔ مسٹر ہڈسن بھی شدید خوفزدہ نظر آ رہا تھا‘ اس نے ایک ہاتھ سے گھوڑے کی لگامیں تھام رکھی تھیں تو دوسرے ہاتھ میں رائفل۔ میں آن واحد میں اپنے گھوڑے سے اُتر آیا اور ان دونوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تلقین کی۔ جونہی ہم گھوڑوں سے اُترے گھوڑے پرسکون ہو گئے البتہ اب بھی ان کے نتھنوں سے سانس یوں نکل رہا تھا جیسے دھونکنی سے ہوا نکلتی ہے۔
’’یہاں ضرور کوئی ایسی چیز ہے جسے ہم محسوس نہیں کر سکتے لیکن گھوڑے اپنی حیوانی جبلّت کے بل پر اس سے آگاہ ہو چکے ہیں۔‘‘ میں نے رائفل کا سیفٹی کیچ ہٹاتے ہوئے چہار اطراف نظریں دوڑائیں اور کہا ’’یہ کوئی آسیب بھی ہو سکتا ہے اور آدم خور درندہ بھی‘ بہرحال ہمیں محتاط رہنا ہو گا‘ شاید ہماری منزل ہمیں مل گئی ہے۔‘‘ ابھی میرے مُنہ سے یہ الفاظ ادا ہی ہوئے تھے کہ ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو آج بھی یاد آئے تو سردیوں کے موسم میں بھی میرے ہر مسام جاں سے پسینہ پھوٹ پڑتا ہے۔ پہلے پہل تو مجھے یوں لگا جیسے کوئی انسان اپنی پوری طاقت کے ساتھ چیخا ہے لیکن پھر وہ آواز کسی درندے کی غراہٹ میں بدلتی چلی گئی۔ اس سے قبل کہ ہم اندازہ لگا پاتے کہ اس آواز کا ماخد کیا شے تھی‘ ایک سیاہ ہیولا ہماری آنکھوں کے سامنے سے ایک غار سے نکل کر دوسرے غار میں داخل ہو گیا۔ وہ کیا شے تھی شاید میں یقین سے نہ بتا سکوں بہرحال وہ نہ انسان تھا نہ درندہ شاید وہ ان دونوں کا ملغوبا تھا یا پھر الف لیلوی داستان کے اوراق سے کوئی پراسرار مخلوق نکل کر ہماری نظروں کے سامنے آ گئی تھی۔
’’کیا تم لوگوں نے بھی وہی دیکھا جو میں نے دیکھا؟‘‘ خاصی دیر بعد جب میری قوت گویائی بحال ہوئی تو میں نے مسٹر ہڈسن اور امر سنگھ کی طرف رخ کر کے پوچھا‘ ان دونوں کے چہرے تو جیسے دھواں دھواں ہو گئے تھے اور قوت گویائی سلب ہو گئی تھی۔
’’ہمیں اس شے کے تعاقب میں جانا ہو گا ورنہ اس اسرار پر سے کبھی پردہ نہ اُٹھ سکے گا۔‘‘ میں نے ان دونوں کو خاموش پا کر اس غار کی جانب بڑھتے ہوئے کہا جہاں وہ مخلوق ہماری نظروں سے اوجھل ہوئی تھی۔
’’ہمیں اس شے کے تعاقب میں جانا ہو گا ورنہ اس اسرار پر سے کبھی پردہ نہ اُٹھ سکے گا۔‘‘ میں نے ان دونوں کو خاموش پا کر اس غار کی جانب بڑھتے ہوئے کہا جہاں وہ مخلوق ہماری نظروں سے اوجھل ہوئی تھی۔
’’رُک جاؤ‘ شیرخان! تم اپنی موت کی طرف قدم بڑھا رہے ہو۔‘‘ مسٹر ہڈسن کی مرتعش آواز میری سماعت سے ٹکرائی تو میرے قدم یک بیک رک گئے۔
’’اگر میری موت اس بلا کے ہاتھوں لکھی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں ٹال سکتی۔‘‘ میں نے پرعزم انداز میں کہا ’’میں اس اسرار پر سے پردہ اٹھائے بغیر یہاں سے واپس نہ لوٹوں گا۔ اگر تم دونوں نہیں آنا چاہتے تو یہیں رُک کر میرا انتظار کرو‘ اگر رات کے سائے گہرے ہونے سے پہلے میں واپس نہ لوٹا تو گاؤں جا کر میری غائبانہ نمازِجنازہ ادا کروا دینا۔‘‘ یہ کہہ کر میں غار کی جانب بڑھ گیا۔ غار کے دہانے تک پہنچ کر میں نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ دونوں اپنی اپنی جگہ بت بنے کھڑے تھے‘ میں نے ان دونوں پر الوداعی نظر ڈالی اور غار میں داخل ہو گیا۔
میں نے ایک ہاتھ میں رائفل اور دوسرے ہاتھ میں روشن ٹارچ تھام رکھی تھی۔ جوں جوں میں آگے بڑھتا گیا غار تنگ ہوتا گیا حتیٰ کہ مجھے جھک کر آگے بڑھنا پڑا۔ تھوڑی دیر بعد میرے سامنے ایک ایسا مقام آ گیا جہاں دائیں بائیں دو راستے جاتے تھے۔ میں نے ٹارچ سے غار کے فرش کا معاینہ کیا تو مجھے چیتے کے پنجوں کے نشان دائیں جانب جانے والے راستے پر جاتے نظر آئے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پنجوں کے نشانات کے ساتھ وہاں انسانی قدموں کے نشانات بھی تھے۔ میں اُسی راستے پر ہو لیا۔ میری انگلی لبلبی پر تھی اور میں کسی بھی لمحے گولی چلانے کے لیے بالکل تیار تھا۔
میں چند قدم آگے بڑھا ہوں گا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے آگے راستہ بند ہو گیا ہے۔ میں نے ٹارچ کی روشنی اس مقام پر پھینکی تو مجھے اپنے سامنے پتھر کی دیوار نظر آئی۔ غار کے اندھیرے اور گھٹن سے میرا دل پہلے ہی ڈوب رہا تھا‘ اب راہ مسدود دیکھ کر میری حالت مزید بگڑنے لگی۔ میں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا اب بھی فرش پر پنجوں اور قدموں کے نشان موجود ہیں ٹارچ کی روشنی غار کے فرش پر پھینکی تو مجھے دیوار اور فرش کے سنگم پر ایک شگاف نظر آیا۔ وہ شگاف اتنا بڑا تھا کہ اس میں سے خاصی تگ و دو کے بعد ہی گزرا جا سکتا تھا۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ اس شگاف کے اُس پار کوئی راستہ ہے یا نہیں میں نے جھک کر شگاف کو سونگھا تو مجھے تازہ ہوا کی خنکی اپنے نتھنوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی۔ اگلے ہی لمحے میں نے شگاف میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا‘ شگاف کے پار غار کی چھت اتنی اونچی تھی کہ میں سیدھا کھڑا ہو سکتا تھا۔ جس جگہ میں نکلا تھا وہاں سے کچھ دور غار کا دوسرا دہانہ تھا۔ میں بے اختیار دہانے میں سے باہر نکل آیا۔ باہر کا منظر مجھے حیران کر دینے کے لیے کافی تھا کیونکہ میرے سامنے ایک وسیع و عریض میدان تھا جس میں جابجا لکڑی اور گھاس پھونس سے بنی ہوئی جھونپڑیاں تھیں۔ میں نے ایک ایک کر کے تمام جھونپڑیاں دیکھ ڈالیں لیکن وہاں کسی ذی روح کی موجودگی کے آثار نہ تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی ناگہانی آفت کے نزول کی خبر پا کر گاؤں والے اپنا گھربار چھوڑ کر کہیں دور جا چکے ہیں۔ یہ امر میرے لیے خاصا حیران کن تھا۔ اب میرے مزید آگے بڑھنے کا کوئی جواز نہ تھا لہٰذا میں جس راستے سے آیا تھا اُسی راستے سے واپس مسٹر ہڈسن اور امر سنگھ تک پہنچ گیا۔ وہ دونوں میری باتیں سن کر خاصے حیران ہوئے اور طے یہ پایا کہ ہم اپنے گھوڑے وہیں چھوڑ کر اس ویران بستی تک جائیں گے۔
بستی پہنچ کر امر سنگھ اور مسٹر ہڈسن دونوں کی حیرت دیدنی تھی۔ ’’آخر بستی والے یوں اپنا گھربار چھوڑ کر گئے کہاں؟‘‘ امر سنگھ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’یہ مقام ان سے آدم خور کی ہیبت نے خالی کرایا ہے۔‘‘ میں نے چٹانوں میں سے گزرتی ہوئی ندی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ ندی یقینا آدم خور کے مسکن سے یہاں تک آ رہی ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ دونوں دہشت زدہ انداز میں ندی کو دیکھنے لگے۔
’’آپ لوگ یقینا آدم خور کی تلاش میں یہاں آئے ہیں!‘‘
ایک مترنم نسوانی آواز ہماری سماعت سے ٹکرائی اور ہم یوں سرعت سے پیچھے پلٹے جیسے وہ کسی عورت کے بجائے آسیب کی آواز ہو۔
وہ تھی بھی اتنی ہی خوبصورت کہ اس پر انسان کے بجائے کسی ماورائی مخلوق کا گمان گزرتا تھا۔ اس کے لمبے سیاہ کھلے بال اس کی شخصیت کی سحرانگیزی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔
’’تم کون ہو؟‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔ میرے ساتھیوں کی تو اُس حسینہ کو دیکھتے ہی جیسے قوت گویائی سلب ہو گئی تھی۔
’’میں اسی بستی کی رہائشی ہوں۔‘‘ اس نے قریب آ کر کہا۔ ’’چند ماہ قبل ہماری بستی پر ایک آدم خور نے حملے کرنے شروع کر دیے تو بستی کے سردار نے فیصلہ کیا کہ ہم یہاں سے کہیں اور ہجرت کر جائیں۔‘‘
’’اب تم کہاں رہتی ہو اور اس وقت تنہا یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘
میرے اس سوال کے جواب میں اس نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کچھ اس انداز سے قہقہہ بلند کیا کہ ایک لمحے کے لیے مجھے اس کی ذہنی حالت پر شک گزرنے لگا۔ جب اُس کے قہقہے کی گونج تھمی تو وہ گویا ہوئی۔ ’’اس بستی میں آدم خور کا آخری شکار میرا اکلوتا بھائی تھا۔‘‘ اس نے قطعی بدلے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ’’مجھے اپنے بھائی سے بے پناہ محبت تھی‘ اس کی ناگہانی موت کے بعد بستی والوں نے یہ جگہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور پہاڑوں کے دامن میں ایک نئی بستی آباد کر لی۔ میں بھی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ وہیں رہنے لگی مگر جب کبھی کبھی بھائی کی یاد حد سے زیادہ ستاتی ہے تو میں یہاں چلی آتی ہوں۔ یہاں آکر میری بے چین روح کو چین مل جاتا ہے۔ ‘‘
ہم تینوں بت بنے اُسے دیکھتے رہے تھوڑی دیر بعد میں نے اُس سے اُس کا نام پوچھا اور گزارش کی کہ وہ اپنی بستی تک ہماری رہنمائی کرے۔ وہ فوراً تیار ہو گئی۔ امر سنگھ نے ہمیں مشورہ دیا کہ چونکہ وہ لڑکی ان پہاڑی دروں سے بخوبی واقف معلوم ہوتی ہے اس لیے ہم اس کی مدد سے پہاڑوں کا چکر کاٹ کر اپنے گھوڑوں تک پہنچ جائیں اور انہیں لے کر اس کی بستی میں جائیں۔ اس لڑکی نے اپنا نام پریتی بتایا تھا۔ ہم اس کی مدد سے تقریباً دو گھنٹوں کی مسافت کے بعد اس کی بستی پہنچ گئے۔ جب ہم بستی میں داخل ہونے لگے تو پریتی ہم سے تقریباً الگ ہو کر خاصی پیچھے رہ گئی۔ میں نے اسے قریب بلانے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک لمحے کے لیے مجھے اپنی نظروں پر یقین نہ آیا کیونکہ چند ثانیے قبل جہاں پریتی کھڑی تھی اب وہاں کسی ذی روح کا نام و نشان نہ تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈالی تو انہیں بھی پریشان پایا۔
’’اے میرے خدا یہ کیا چکر ہے؟‘‘ مسٹر ہڈسن نے اُس لڑکی سے ملاقات کے بعد پہلی بار لب کشائی کی۔ ’’کہیں ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔‘‘
’’نہیں ایسا نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے بستی پر ایک نظر ڈال کر کہا ’’ہم بالکل صحیح جگہ پہنچے ہیں‘ اس بستی سے ہمیں کوئی ایسی معلومات ضرور ملیں گی جن سے ان تمام پراسرار واقعات کا پردہ چاک کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘
آگے ندی کے گھاٹوں میں گراہٹی اور بھیل قبائل کی جھونپڑیاں تھیں۔ ہم ان جھونپڑیوں میں پہنچے تو ایک بھیل سردار نے ہمارا استقبال کیا۔ تعارف کے بعد اُس نے کہا کہ آپ لوگ پہاڑ کی سمت ندی کے منبع پر نہ جائیں کیونکہ وہ بھوتوں اور چڑیلوں کا مسکن ہے۔ وہاں سے نکلنے والی ایک خوبرو چڑیل چیتے کا روپ دھار کر انسان کو ہلاک کرتی ہے‘ پھر اس کی برہنہ لاش پر بیٹھ کر غسل کرتی ہے اور پھر لاش ندی میں بہا دیتی ہے۔ اگر آپ لوگ اس چڑیل کی خونخواریاں دیکھنے کے خواہشمند ہیں تو دو چار دن ہماری جھونپڑیوں میں قیام کریں۔‘‘ ہم نے آپس میں صلح مشورہ کر کے اس کی بات مان لی۔ جب ہم نے اُس سے پوچھا کہ آیا اُس کے گاؤں میں پریتی نام کی لڑکی رہتی ہے تو اُس نے بتایا ’’آخری بار آدم خور چڑیل نے ہماری بستی کی جس نوجوان لڑکی کو ہلاک کیا تھا وہ پریتی ہی تھی‘‘ اس کی آواز مجھے کہیں دور سے آتی سنائی دی۔ ’’پریتی کی ہلاکت کے بعد ہم نے وہ بستی چھوڑ کر یہاں نئی بستی آباد کر لی۔‘‘
ہمیں حیران پریشان دیکھ کر وہ تھوڑی دیر بعد بولا ’’آپ اُس لڑکی کی روح سے ملاقات کرنے والے پہلے انسان نہیں ہیں‘ بستی والوں نے کئی بار پریتی کی روح کو متروک بستی میں پھرتے دیکھا ہے۔ البتہ آپ پہلے لوگ ہیں جن سے پریتی نے بات بھی کی ہے۔‘‘
بھیل سردار کے پاس ہمارے قیام کو چھ روز گزر گئے لیکن ان دنوں کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہ آیا۔ ساتویں دن بھیل سردار بولا کہ ہماری جھونپڑیوں سے ایک میل دور گراہٹی قبائل کی جھونپڑیاں ہیں۔ خبر آئی ہے کہ آج صبح ان جھونپڑیوں سے چڑیل ایک نوجوان عورت کو ہلاک کر کے گھسیٹتی ہوئی اپنی قیام گاہ کی طرف لے گئی ہے۔ آج شام کو چڑیل اس عورت کی لاش پر بیٹھ کر نہائے گی اور پھر لاش کو ندی میں بہا دے گی۔
میں نے کہا ’’ہم ندی میں بہتی ہوئی لاش دیکھنے کا اشتیاق نہیں رکھتے۔ ہمیں تو اس چڑیل کی قیام گاہ کا بتائیں تاکہ لاش پر نہانے سے پہلے ہم اس سے دو دو ہاتھ کریں۔‘‘
یہ سن کر بھیل سردار کا چہرہ اُتر گیا اور اس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے اسے ڈرپوک اور بزدل کا طعنہ دیا اور جب ہم ناراض ہو کر چلنے لگے تو بھیل سردار کے بھائی چندا نے ہمارے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا ’’صاحب! ہم بزدل نہیں ہیں۔ شیر کو نیزے سے ہلاک کرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن یہ درندہ نہیں بلکہ کوئی بلا ہے۔ اگر آپ لوگوں کا یہ ارادہ ہے کہ ہم تباہ و برباد ہوں تو چلیے میں اس چڑیل کی قیام گاہ کا پتا آپ کو بتاتا ہوں۔‘‘
اندھے کو کیا چاہیے‘ دو آنکھیں‘ ہم اُسی لمحے چندا کو ساتھ لے کر پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے‘ سامنے ہزاروں فٹ اونچے پہاڑ پر سے ایک ندی بڑے زورشور سے بہ رہی تھی۔
چندا وہیں رک گیا۔ اس نے اشارے سے بتایا کہ سامنے جو غار نظر آ رہا ہے وہی چڑیل کا مسکن ہے۔ اس کے بعد چندا اپنی جھونپڑیوں کی طرف لوٹ گیا۔ ہم ندی کے ساتھ ساتھ اور آگے بڑھے۔ میں نے دوربین لگا کر غار کو دیکھا تو میرا سانس رک گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے جو غار تھا وہ اس غار سے مشابہ تھا جس غار میں چیتا مان سنگھ کو لے کر داخل ہوا تھا۔ پھر دوربین سے مسٹر ہڈسن اور امر نے غار کو دیکھا۔ حیرانی کے عالم میں ان کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ مسٹر ہڈسن بولے ’’عجیب طلسم خانہ ہے‘ یہ تو وہی غار ہے جس غار میں آدم خور مان سنگھ کو لے کر غائب ہوا تھا مگر وہ مقام تو یہاں سے بہت دور ہے۔‘‘
ہم اس غار کی طرف چل پڑے۔ جب غار تھوڑی دور رہ گیا تو ہم ایک درخت کے نیچے چھپ کر اس طرف دیکھنے لگے۔ اُف میں وہ خوفناک منظر کبھی نہ بھولوں گا۔ غار سے ایک لحیم شحیم شخص نکلا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اُسے کیا نام دوں‘ وہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی عجیب الخلقت انسان تھا جسے ہم نے کوہ ارون کے غار میں غائب ہوتا دیکھا تھا۔ اس کا حلیہ اس قدر عجیب و غریب تھا کہ بیان سے باہر ہے‘ مختلف جنگلی جانوروں کی کھالوں‘ ہڈیوں اور سینگوں پر مشتمل لباس میں ملبوس وہ انسان سے زیادہ خونخوار جنگلی درندہ نظر آتا تھا۔ اس کے سر پر ایک عورت کی برہنہ لاش تھی۔ اس نے لاش کو ندی کے کنارے رکھ دیا۔ ہم دیکھتے رہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ رائفلوں پر ہماری گرفت البتہ مضبوط تھی۔ جب سورج پہاڑ کی اوٹ میں غروب ہونے لگا تو غار سے ایک خوبصورت عورت نمودار ہوئی‘ تھوڑی دیر بعد وہ نوجوان حسینہ‘ لاش پر بیٹھ کر نہانے لگے۔ مجھے اپنے ساتھیوں کی حالت کا تو پتا نہیں لیکن یہ وحشت ناک منظر دیکھ کر میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ ’’کیا واقعی دنیا میں چڑیل کا وجود ہے؟‘‘ میں نے اپنے آپ سے کہا۔ لیکن پھر جلد ہی میں نے خود پر قابو پا لیا اور کانپتے ہاتھوں سے بندوق سیدھی کر کے اس چڑیل سے چند گز اوپر فضا میں فائر کر دیا۔ پہاڑیوں کے بیچ سے گولی چلنے سے توپ کا سا دھماکا ہوا۔ چڑیل لرز گئی اور لاش کو چھوڑ کر پاگلوں کی طرح ہماری طرف دیکھنے لگی‘ پھر بھاگ کر غار میں چھپ گئی۔دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی آس پاس کے درختوں پر لنگور وغیرہ کان پھاڑ دینے والی چیخیں نکالتے ہوئے اُچھل کود کرنے لگے۔ مسٹر ہڈسن کے چہرے سے تحیر اور فکرمندی ہویدا تھی۔ ابھی میں اس طلسمی ماحول کے سحر سے نکل بھی نہ پایا تھا کہ ایک تیر سنسناتا ہوا آیا اور مسٹر ہڈسن کے بازو میں پیوست ہو گیا۔ اسی دم مسٹر ہڈسن نے فائر کیا جس کے ساتھ ہی تیر چلانے والا وہ دیو زمین پر گرا اور پھر اسی وقت اُٹھ کھڑا ہوا۔ بجلی کی سی سرعت سے اُس نے اپنی کمان سے ایک اور تیر چلایا جو سنسناتا ہوا میرے قریب سے گزر کر ہمارے پیچھے موجود درخت میں پیوست ہو گیا۔ وہ دوبارہ کمان پر تیر چڑھا رہا تھا کہ معاً ہم نے ایک ساتھ گولیاں داغ کر اُسے زمین پر گرا دیا۔ ہم نے کئی منٹ انتظار کیا لیکن اس نے کوئی حرکت نہ کی۔
میں نے ہڈسن کے بازو سے تیر نکالا اور کَس کر پٹی باندھ دی۔ اب ہم لاش کے قریب گئے۔ وہ لحیم شحیم شخص اسی طرح بے حس و حرکت پڑا رہا۔ ہم ڈرتے ڈرتے اُس کے قریب پہنچے۔ مسٹر ہڈسن نے اسے ٹھوکر ماری۔ میں نے جھنجھوڑ کر دیکھا تو اُسے مردہ پایا‘ اس کا گاڑھا گاڑھا خون بہ کر ندی کی طرف جا رہا تھا۔ بہتے ہوئے لہو کے پاس ہی گراہٹی قبیلے کی ایک عورت کی برہنہ لاش پڑی تھی جس کی گردن پر تیز دانتوں کے نشان تھے۔ گردن سیاہ ہو رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ اس کا لہو پی لیا گیا تھا۔
انہیں وہیں چھوڑ کر ہم چڑیل کے تعاقب میں غار میں داخل ہوئے۔ غار میں گھپ اندھیرا تھا۔ ہم نے ٹارچ روشن کر کے دیکھا۔ اس غار میں شیروں اور چیتوں کی کھالیں بچھی ہوئی تھیں اور ان کھالوں کے فرش پر مرے ہوئے کچھوے‘ سانپوں کی کینچلی اور سوکھی ہوئی کئی انسانی کھوپڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ’’یہ مان سنگھ کے کپڑے پڑے ہیں۔‘‘ امر سنگھ چلایا پھر وہ مان سنگھ کی پگڑی اور انگرکھے کو دیکھ کر رو پڑا۔ ایک بھائی کی محبت دیکھ کر میں اور مسٹرہڈسن بھی آبدیدہ ہو گئے اور پھر ایک انجانے خوف سے ہم کانپ اُٹھے۔ اسی جگہ سہمی ہوئی وہ چڑیل کھڑی تھی۔ ہم اسے غار سے باہر لے آئے۔ وہ خوفزدہ ہرنی کی طرح ہمیں دیکھ رہی تھی۔
وہ نازک اندام اور بے حد حسین عورت تھی۔ اس کے حسن کو خوفناک پہاڑوں اور ہیبت ناک غاروں کی زندگی بھی پامال نہ کر سکی تھی۔ میں نے بندوق کی نالی اس کے سینے پر رکھ کر اُسے بہت ڈرایا دھمکایا کہ بتاؤ تم کون ہو اور اس خوفناک کہانی کا پس منظر کیا ہے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ پاگلوں کی طرح پلکیں جھپکائے بغیر ہمیں دیکھتی رہی۔ اس کے حسین چہرے پر ایسی معصومیت تھی کہ ہمیں اس پر ترس آنے لگا اور ہم اس درندہ صفت عورت کی بھولی صورت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اسے زیادہ تکلیف اور ایذا دینا ہمارے بس سے باہر تھا۔ وہ حسرت ویاس کا مجسمہ بنی ہمارے سامنے کھڑی تھی۔ اتنے میں امر سنگھ غار سے ایک ڈائری لے کر نکلا۔ ڈائری خاصی بوسیدہ اور پرانی تھی۔ مختلف اوراق پر درج تحریروں سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ اندراج مختلف اوقات میں شدید عجلت میں کیا گیا تھا۔ البتہ ابتدائی چند ماہ کا احوال خاصی صاف ستھرے انداز میں کیا گیا تھا۔ ڈائری میں جو کچھ درج تھا اُسے پڑھ کر مجھ جیسے شخص کے بھی رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔ میں کبھی حیرت سے ڈائری کو دیکھتا تو کبھی اُس حسینہ کو جسے چڑیل ماننے پر دل و دماغ دونوں ہی تیار نہ تھے۔ ڈائری میں درج کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔
’’میں ایک کروڑ پتی سیٹھ کی اکلوتی بیٹی اور بمبئی کی رہنے والی ہوں۔ میرے پتی دیوچتر سنگھ کا دیس جودھپور ہے۔ میرا پتی دیو بہت سندر ہے لیکن اس کا من سیاہ ہے۔ وہ بڑا دھوکے باز اور بے وفا ہے۔ جادوگر نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم نے چالیس انسانی لاشوں پر بیٹھ کر اشنان کر لیا تو پھر تمہارا پتی دیو اپنی محبوبہ طوائف کو چھوڑ کر تمہارے چرنوں میں آ گرے گا اور پھرتمہارے ایک چاند سا بیٹا پیدا ہو گا۔ جادوگر کے پاس ایک پالتو چیتا ہے جو سدھایا ہوا ہے۔ یہ چیتا‘ ہرن‘ سانبھر اور انسان کو شکار کر کے لے آتا ہے اور میں اس آدمی کی لاش پر بیٹھ کر اشنان کرتی ہوں اور پھر چلہ کشی میں مصروف ہو جاتی ہوں۔ جادوگر مجھ سے بہت پریم کرتا ہے لیکن مجھے اس کی خوفناک صورت سے نفرت ہے۔ میرے پتی کی بے اعتنائی اور اس جادوگر کی قربت نے مجھے انسان سے درندہ بنا دیا ہے۔ کبھی کبھی میں انسانی خون پینے کے ساتھ ساتھ شکار کا گوشت بھی کھاتی ہوں۔‘‘
امر سنگھ کی زبانی ڈائری کا مضمون سن کر مسٹر ہڈسن کے آنسو نکل آئے۔ انہوں نے کہا ’’میرے دوست تھامسن اور مان سنگھ کا قاتل‘ اس جادوگر کا تربیت یافتہ چیتا ہے۔ یہ پری چہرہ عورت خاوند کی محبت کی ماری ہوئی نفسیاتی مریضہ ہے۔ اسے محبت کی آگ نے انتہاپسند بنا دیا ہے۔ اب یہ بالکل پاگل ہے‘ ظالم جادوگر نے اپنے جال میں پھنسا کر اس معصوم عورت کی انسانیت مسخ کر دی ہے۔ میراخیال ہے یہ جادوگر بھی توہم پرست اور دیوانہ تھا اور بالکل درندہ۔ وہ اس پاگل عورت کی دیوانگی سے فائدہ اٹھاتا رہا۔‘‘
ہم اس عورت کو جادوگر کی لاش پر لے گئے۔ وہ پاگلوں کی طرح لاش سے چمٹ کر رونے لگی۔ مسٹر ہڈسن نے اسے جادوگر کی لاش پر سے اٹھایا۔ اس کی پیشانی پر بکھری ہوئی خشک اور سیاہ زلفیں اور اس کا خوبصورت چہرہ جادوگر کے خون سے بھر گیا‘ بڑا کربناک منظر تھا۔ تھوڑی دیر بعد امرسنگھ نے کہا ’’آؤ آدم خور چیتے کو تلاش کریں۔ اس بھتنی سے بعد میں نمٹیں گے۔‘‘ ہم پہاڑ پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھنے لگے‘ امرسنگھ اچانک چلایا ’’دیکھیے صاحب! وہ عورت جادوگر کی لاش کو ندی میں ڈال رہی ہے۔‘‘ پہاڑ سے اُتر کر ہم ندی کی طرف دوڑے اسی لمحے جادوگر کی لاش کے ساتھ وہ عورت ندی میں کود گئی۔ ایک دفعہ وہ پانی کی لہروں میں اُبھری اور پھر تیز بہتے ہوئے پانی کی ایک طوفانی موج اُسے اور جادوگر کی لاش کو پہاڑ سے نشیب کی طرف بہا لے گئی۔ مسٹر ہڈسن کو بڑا صدمہ ہوا کہ ہماری غفلت سے اس وحشت ناک کہانی کا اصلی کردار ختم ہو گیا۔ وہ مہ جبیں زندہ رہتی تو بہت سے پراسرار واقعات کا انکشاف ہوتا۔ چیتے کی تلا ش میں ہم پھر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ خاصی تلاش بسیار کے باوجود جب چیتے کا نام و نشان نہ ملا تو ہم بستی میں واپس آ گئے۔ بستی کے حکیم نے مسٹر ہڈسن کے زخم پر مرہم پٹی کر دی تھی اور اب ان کی حالت خاصی سنبھل گئی تھی۔ بستی والے ہماری بیتی سن کر خاصے حیران ہوئے۔
اگلے روز شام کو کھانا کھا کر ہم چیتے کی تلاش میں نکلے تو اچانک بھیلوں کی جھونپڑیوں کی طرف گیڈروں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ میں نے کہا ’’ہمیں چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہیے کہیں مسٹر تھامسن اور مان سنگھ کی طرح چیتا ہمیں بھی اپنا لقمہ نہ بنا لے کیونکہ گیدڑوں کی یہ تیکھی آواز بے معنی نہیں ہے۔‘‘ ہم پہاڑی جھاڑیوں سے نکل کر غار کے پاس آ گئے۔ غار کے قریب آہٹ سی ہوئی‘ گھپ اندھیرا تھا کیونکہ اس وقت تک چاند نہیں نکلا تھا۔ پھر غار کے پاس چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی‘ میں نے بندوق پر نصب ٹارچ روشن کی تو بڑا لرزہ خیز منظر نظر آیا۔ بالکل شیر سے مشابہ ایک چیتا ایک آدمی کی گردن دبوچے اُس کا خون پی رہا تھا۔ ہماری موجودگی محسوس کر کے اس آدمی کو چھوڑ کر چیتے نے ہماری طرف دیکھا۔ اس کی چمکدار آنکھوں سے چنگاریاں سی اُڑنے لگیں۔ اگلے ہی لمحے میری بندوق سے شعلہ نکلا‘ چیتا اُچھلا‘ زمین پر گرا اور پھر اُٹھ کر جو جست لگائی تو میری بندوق پر اس زور کا پنجہ مار کر بندوق ہاتھ سے گر پڑی۔ میں نے اندھیرے میں زور سے ہاتھ چلایا جو چیتے کے جسم پر لگا اور اسی وقت امرسنگھ نے اپنا چاقو اس کے جسم میں گھونپ دیا۔ چیتا گھبرا کر بھاگ پڑا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ ہم میں سے کوئی ٹارچ روشن نہ کر سکا۔ خدا کا فضل شامل حال تھا جو ایک خونخوار درندے سے دوبدو مقابلے میں ہماری نکسیر تک نہ پھوٹی۔ میں نے بندوق اٹھائی اور پھر ہم غار کے پاس چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں میں پڑی لاش کے پاس گئے۔ وہ بدقسمت آدمی مر چکا تھا۔ میں نے ٹارچ روشن کر کے چہرہ دیکھا۔ اس کا منہ دیکھتے ہی میرا دل دھڑکنے لگا اور پھر میرا سانس رُک گیا۔ وہ بھیل سردار کا بھائی چندا تھا۔ چندا کی لاش دیکھ کر ہم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ بڑا بھیانک منظر تھا۔ کیا واقعی ندی میں کودنے والی حسینہ چڑیل تھی اور اس نے چیتے کا روپ دھار کر غار کا پتا دینے والے چندا کو ہلاک کر کے اس کا خون پی لیا تھا؟ نہ جانے مجھ میں کہاں سے ہمت آئی کہ میں اپنے ساتھیوں کے منع کرنے کے باوجود بھیلوں کی جھونپڑیوں کی طرف چل دیا۔
میں ہر لحاظ سے چوکنا تھا۔ جھاڑی کا پتا بھی ہلتا تو میں فائر کرنے کے لیے بندوق کی لبلبی پر ہاتھ لے جاتا تھا۔ میں جھونپڑیوں میں پہنچا تو وہاں کہرام مچ رہا تھا۔ بھیل سردار مجھے دیکھتے ہی چیخ مار کر رو پڑا۔ میں نے اُسے تسلی دی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے بہت سر پٹخا کہ آپ لوگ ہم سے مدد نہ لیں اور چڑیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ ترک کر دیں لیکن میرے بھائی کو آپ لوگوں نے مروا دیا۔ چیتے کے رُوپ میں چڑیل اُسے چارپائی سے اٹھا کر لے گئی۔
میں نے سردار سے کہا کہ یہ اتفاق ہے جو چیتے نے تمہارے بھائی کو ہلاک کیا ورنہ ہم نے چڑیل اور اس جادوگر کو ہلاک کر کے ندی میں ڈبو دیا ہے اور جادوگر کے سدھائے ہوئے چیتے کو زخمی کر کے ہم نے اس سے چندا کی لاش کو چھڑا لیا ہے۔ یہ سن کر بھیل سردار چند بھیلوں کو لے کر میرے ہمراہ غار پر پہنچا اور پھر چندا کی لاش سے چمٹ کر زاروقطار رونے لگا۔ مسٹر ہڈسن نے اسے تسلی دی کہ رونے سے کچھ نہیں بنتا اب تم ہمارے ساتھ چلو تاکہ آدم خور کو تلاش کر کے اس سے انتقام لیں۔ بھیل سردار نے چندا کی لاش کو جھونپڑیوں میں بھیج دیا اور خود چیتے کے خون کے نشان کے ساتھ ساتھ ہمیں اس غار کے دہانے پر لے گیا جس غار میں چیتا مان سنگھ کو لے کر داخل ہوا تھا۔
چاند چھپ گیا اور دن نکل آیا۔ اس غار میں تازہ خون کا نشان موجود تھا۔ لیکن وہاں چیتا نہیں تھا۔ امر سنگھ نے منہ بنا کر کہا۔ ’’مانو نہ مانو‘ وہ چڑیل اور یہ چیتا ایک ہی چیز ہے۔ چڑیل ندی میں کود کر پھر چیتے کی جون میں چندا کو شکار کر کے ہمارے پاس آئی اور پھر ہم تین تجربہ کار شکاریوں کو جُل دے کر خون کا نشان چھوڑتی ہوئی ہمیں اس غار پر لے آئی جہاں اُس نے تھامسن کو ہلاک اور میرے بھائی مان سنگھ کی لاش کو پراسرار طور پر غائب کر دیا تھا۔‘‘
جادوگر کی موت‘ پہاڑی غار میں ڈائری کا ملنا‘ ڈائری کی انوکھی تحریر‘ چڑیل کا پاگل بن جانا اور پھر ہمیں اُلو بنا کر جادوگر کی لاش سمیت ندی میں کود جانا‘ یہ سب ایک عجیب و غریب طلسم خانے کی کڑیاں ہیں۔ یہ ضرور کوئی بلا ہے۔ موقع محل کی رو سے امر سنگھ کی باتیں معقول تھیں۔ اس کی یہ گفتگو سن کر میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے درود شریف پڑھا‘ تو میرے قلب میں غیرمعمولی قوت عود کر آئی۔ میں نے امر سنگھ سے کہا ’’میں مسلمان ہوں۔ میں ان بے معنی باتوں کو نہیں مانتا۔ جب تک میری جان میں جان ہے میں چیتے کی تلاش جاری رکھوں گا۔‘‘ مسٹر ہڈسن نے میری تائید کی۔
میں نے پھر غار کا بغور جائزہ لیا۔ خدا نے مدد کی اور معمہ حل ہو گیا‘ غار کی چھت میں ایک بہت بڑا سوراخ تھا۔ وہ سوراخ پہاڑی جھاڑیوں اور لمبی لمبی گھاس میں چھپا ہوا تھا۔ گھاس پر کہیں کہیں تازہ خون کا نشان یہ ظاہر کر رہا تھا کہ رات کو زخمی چیتا اس سوراخ کے ذریعے غار کی چھت پر پہنچا ہے۔ ہم چھت پر پہنچے تو سوراخ کے قریب غار کی چھت پر پرانے خون کے جمے ہوئے بڑے بڑے داغ نظر آئے۔ غور کرنے سے ثابت ہوا کہ چیتا اپنے شکار کو ہلاک کر کے لاش کو غار کے اس سوراخ کے راستے جادوگر کی غار میں لے جانے کا عادی ہے۔ ہم آگے بڑھے تو زخمی چیتے کے لہو کا تازہ نشان پہاڑی درے کے سامنے اونچے اور گھنے درختوں کے جھنڈ میں جا کر ختم ہو گیا۔ جھنڈ میں اندھیرا تھا۔ ہم ٹارچ روشن کر کے اندر داخل ہوئے۔ اُس وقت میں اپنے ساتھیوں سے چند قدم آگے تھا کہ عین اُسی لمحے گھاس میں آہٹ ہوئی۔ اس سے قبل کہ میں صورت حال کا درست اندازہ لگا پاتا‘ عقب سے چیتے کی غصیلی غراہٹ اُبھری اور میں قطعی غیرارادی طور پر اُس جانب پلٹ گیا۔ افسوس میری یہ پھرتی کسی کام نہ آ سکی کیونکہ اُس وقت تک چیتا ایک قریبی درخت کے خاصے موٹے تنے پر سے مجھ پر جست لگا چکا تھا۔ اس کی انگارہ آنکھیں‘ کھلے پنجے اور خونخوار دہانہ لمحہ بہ لمحہ میرے قریب آ رہے تھے۔ خدا جانے اُس لمحے مجھے کیا ہوا کہ میں ہاتھوں میں تھمی ہوئی رائفل بھی استعمال میں نہ لا سکا اور چیتے کا جسم اتنی قوت سے میرے بدن کے ساتھ ٹکرایا کہ میں مکمل طور پر اس کے وجود تلے دب گیا۔ آن واحد میں درندہ مجھ سے لپٹ گیا‘ کسی خونخوار درندے سے مڈبھیڑ کا یہ میرا پہلا موقع تھا اور مجھے قطعی طور پر اندازہ نہ تھا کہ اب میرا انجام کیا ہو گا۔ چیتا میرا شانہ خونخوار انداز میں بھنبھوڑ رہا تھا‘ عین اُسی لمحے میری دونوں رانیں اُس کے پچھے پنجوں کی زد پر تھیں۔ میں نے اپنے حواس مجتمع رکھتے ہوئے اپنا نچلا دھڑ پوری قوت سے اُٹھانے کی کوشش کی اور چیتے کو اپنے وزن تلے دبانے لگا‘ میری یہ کوشش تھوڑی ہی دیر میں کارگر ثابت ہوئی اور میرا نچلا دھڑ چیتے کے بوجھ سے آزاد ہو گیا۔ عین اُسی لمحے میری سماعت سے امر سنگھ کی آواز ٹکرائی‘ وہ کہہ رہا تھا ’’صاحب جی! میں گولی چلانے والا ہوں آپ زمین سے لگے رہیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس حالت میں بھی اُس کے فقرے کا مفہوم میری سمجھ میں آ گیا اور میں نے اپنا وجود یک دم ڈھیلا چھوڑ دیا‘ اب صورت حال یہ تھی کہ چیتا میرے اوپر تھا اور میری کمر مکمل طور پر زمین سے لگی ہوئی تھی جیسے ہی چیتے نے اپنا خونخوار دہانہ میری گردن کی طرف بڑھایا یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے اور میرا وجود چیتے کے گرم گرم خون میں نہا گیا۔ میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کمربند سے پستول کھینچا اور چیتے کے پیٹ میں یکے بعد دیگرے چھ گولیاں اُتار دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے چیتے کا وجود ٹھنڈا پڑ گیا اور میں نے اُسے خود پر سے دور اُچھال دیا۔ جس وقت مسٹر ہڈسن اور امر سنگھ میری مدد کو آئے طلسمی چیتا مکمل طور پر ہلاک ہو چکا تھا۔ ان لوگوں نے مجھے بڑی داد دی۔
ہم نے دیکھا کہ وہ چیتا بالکل مثل شیر تھا۔ اس کا تمام جسم گہرے پیلے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا اور اس کے بدن پر جابجا بل کھاتی ہوئی کالے رنگ کی دھاریاں تھیں۔ وہ قد کاٹھ میں چیتوں سے بڑا اور دیکھنے میں شیر معلوم ہوتا تھا۔ بہت ممکن ہے‘ اس کی ماں گلدار اور باپ شیر ہو‘ چیتے کے انتخاب میں ہم جادوگر کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ میری پہلی گولی نے اس کا سینہ پھاڑ دیا تھا۔ امرسنگھ کے چاقو کا زخم اس کے سر میں تھا۔ اس کے باوجود اس سخت جان درندے نے ہمیں اس قدر تنگ کیا۔
ہم چڑیل کی ڈائری اور جادوگر کا تمام سامان اور چیتے کی لاش لے کر کوہ ارون پہنچے۔ ایجنٹ برائے گورنر جنرل راجپوتانہ نے جادوگر کا سامان اور چیتے کی لاش دیکھی۔ پھر ہندی میں لکھا ہوا ڈائری کا مضمون سنا اور جب مسٹر ہڈسن نے انہیں چڑیل کی پراسرار داستان سنائی تو وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے فوراً تحقیقات کے لیے ایک پولیس افسر کو جودھپور بھیجا۔ تیسرے دن وہ پولیس آفیسر چتر سنگھ کو ساتھ لے کر کوہ ارون آیا۔
چتر سنگھ بڑا سجیلا اور وجیہہ جوان تھا۔ چتر سنگھ نے ایجنٹ برائے گورنر جنرل کو آبدیدہ ہو کر یہ روداد سنائی:
’’میں نے بمبئی میں ایک سیٹھ کی لڑکی سے سول میرج کر لی تھی۔ وہ تعلیم یافتہ لڑکی میری ہم مذہب تو تھی لیکن ہماری ذات کی بھی نہ تھی۔ میں راٹھورخاندان سے ہوں۔ راٹھوروں نے میری شادی کے خلاف سخت احتجاج کیا مگر میں نے کوئی پروا نہ کی۔ بدقسمتی سے میری دھرم پتنی کے کوئی بچہ نہ ہوا۔ میر خاندان کے لوگ پہلے ہی اس سے نفرت کرتے تھے پھر انہوں نے بچہ نہ ہونے کا بہانہ تراش کر مجھے تنگ کرنا شروع کیا کہ اس لڑکی کو طلاق دو اور اپنی ذات میں دوسری شادی کرو۔ میں دوسری شادی پر آمادہ نہ ہوا کیونکہ مجھے اس لڑکی سے اور اس لڑکی کو مجھ سے والہانہ محبت تھی۔ پھر میرے خاندان کی عورتوں نے طعنہ زنی سے میری بیوی کو تنگ کرنا شروع کیا اور اسے یہ یقین دلایا کہ چترسنگھ دوسری شادی اس لیے نہیں کرتا کہ وہ جے پور کی ایک طوائف کی محبت میں گرفتار ہے۔ چونکہ میری بیوی مجھ سے غیرمعمولی محبت کرتی تھی اس لیے رقابت کے خیال سے اس کا دل ٹوٹ گیا اور وہ پاگل ہو گئی‘ میں نے بہت علاج کرایا لیکن وہ اصلی حالت پر نہ آئی اور ایک روز رات کو گھر سے غائب ہو گئی۔ میں نے ملک کا کونہ کونہ چھان مارا۔ مجھے صرف اتنا پتا چلا کہ تارا گڈھ پر ایک جادوگر کے پاس اس شکل کی لڑکی کو دیکھا گیا اور وہ جادوگر چیتوں کے بچے پالتا ہے۔ میں تارا گڈھ پہنچا مگر وہ پراسرار شخص میری حسین بیوی کو لے کر وہاں سے فرار ہو چکا تھا۔ میں نے پہاڑوں اور جنگلوں کا چپہ چپہ چھان مارا‘ لیکن مجھے میری بیوی اور وہ سادھو نہیں ملا۔‘‘
میری زبانی اپنی بیوی کی خونی اور ڈرامائی داستان سن کر چترسنگھ رو پڑا۔ ہم نے اُسے تسلی دی۔ وہ غم زدہ ہو کر چلا گیا۔ اسی وقت ایجنٹ گورنر جنرل نے مجھے چھ سو روپے اور مسٹرہڈسن اور امر سنگھ کو چار چار سو روپے انعام دیا۔
یہ پُراسرار واقعہ یہیں تمام نہیں ہو جاتا۔ چیتے کے شکار کے کچھ عرصے بعد میں اپنی یونٹ میں واپس آیا تو مجھے شدید بخار نے آن لیا۔ ڈاکٹروں نے بہتیرا علاج کیا لیکن بخار کی کوئی وجہ ان کی سمجھ میں نہ آ سکی۔ مجھے فوجی ہسپتال میں داخل کر لیا گیا مگر میری صحت روز بروز گرتی چلی گئی حتیٰ کہ میں اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا۔ میری تمام عمر فوجی اور شکاری مہمات سر کرنے میں گزری تھی اور میرے تجربات اس قدر سنسنی خیز تھے کہ اُنہیں آنے والی نسلوں تک نہ پہنچا کر میں ایک طرح سے زیادتی کا مرتکب ہوتا لہٰذا میں نے بستر علالت پر اپنی یادداشتیں لکھوانا شروع کیں۔ طلسمی چیتے کا واقعہ میری زندگی کا آخری شکاری واقعہ ثابت ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ مجھے بخار بھی اسی وجہ سے ہوا ہے کہ میں نے چیتے کے ساتھ دوبدو کشتی لڑی۔ وجہ کچھ بھی رہی ہو میں اپنی زندگی سے مایوس ہو چکا ہوں اور اپنی یادداشتوں کی اشاعت تک شاید میں بقید حیات نہ رہوں۔
|
|
|