سوات کے متاثرہ طلبہ اور مہاجرین سے ملاقات کا احوال
خالد ارشاد/ عکاسی: محمدنیاز  جولائی ۲۰۰۹ء

دس جون کی شام ٹی وی پر معمول کی نشریات ایک بار پھر رک گئیں اور جونہی سکرین پر ’’لفظ تازہ ترین‘‘ ابھرا دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ اگلے ہی لمحے پشاور میں پرل کانٹیننٹل ہوٹل پر بم دھماکے کی خبر اور فلم چلنے لگی۔
پورے گھر پر اک سکتہ سا طاری ہوگیا‘ زبانیں چپ تھیں اور آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ چند برس قبل جب خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا آغاز ہوا تھا تو دہشت گردی کے ہر واقع پر دل کی دھڑکنیں سسکیوں‘ آنسوؤں اور دعاؤں کا روپ دھار لیتی تھیں لیکن اب یوں لگتا ہے جیسے سسکیاں دم توڑ چکی ہیں اور آنکھیں رو رو کر بنجر ہوگئی ہیں۔
نہ جانے کتنے ہی لمحے اس سکوت مرگ میں گزر گئے۔ اچانک میر ی سماعتوں سے والدہ کی آواز ٹکرائی ’’بیٹے تم پشاور کی مصروفیات منسوخ کردو‘ میں ان حالات میں تمہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دے سکتی‘‘ میں نے ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیتے ہوئے کہا ’’امی اگر مائیں اپنے بیٹوں کو ایسے حکم دینے لگیں اور بیٹے ان پر عمل کرنے لگے تو پھر دہشت گرد جیت جائیں گے کیا آپ چاہتی ہیں کہ دہشت گردوں کے ڈر سے میں اپنی ذمہ داریاں نبھانا چھوڑ دوں؟ میر ی پیاری ماں! میں نے تو محض چند دن کے لیے پشاور جانا ہے آپ نے کبھی ان بد نصیب ماؤں کا حوصلہ دیکھا ہے جن کے لخت جگر اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جن کے خون نا حق سے پورا ملک گلنار ہو چکا ہے۔
  
انیس جون کی صبح جب میں پشاور کے لیے روانہ ہوا تو والدہ کی آنکھوں میں وسوسے تیر رہے تھے۔ شریک حیات نے جان کی حفاظت کے لیے بے شمار نصیحتیں کیں اور آیت الکرسی پڑھ کر رخصت کیا۔
دہشت گردی کے خوف اور ڈر کی اس کیفیت میں پاکستان کا ہر شہری مبتلا ہو چکا ہے۔ کوئی شہر اور کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ لوگوں نے اہم مقامات اور خصوصاً صوبہ سرحد کے شہروں کا سفر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ دوسری طرف ناکردہ گناہوں کی سزا پانے والے اپنے ہی وطن میں مہاجر ہو جانے والے پچیس لاکھ بدنصیب جس کرب‘ خوف اور وحشت میں مبتلا ہیں ان کے احساسات کو پرکھنے والا کوئی آلہ ابھی ایجاد نہیں ہوا۔ ’نظام عدل‘ کے ’طالبان‘ اور ’حکومت رٹ بحال‘ کرنے والوں کی جنگ نے کتنے زندہ و جاوید جسموں کو چلتی پھرتی لاشیں بنا دیا ہے‘ کتنے گھروندوں کو آگ اور خون میں بہا دیا ہے۔ وہ جن کی متاع زیست چھن گئی ہے۔ وہ جو تپتے میدانوں میں خیمہ زن ہیں۔ ہر خیمے میں گنجائش سے کہیں بڑھ کر اپنا اپنا دکھ لیے مقید ہیں۔ اور اپنے جسم و روح پر لگے زخموں کا شمار کرتے رہتے ہیں۔
ہم پشاور میں داخل ہوئے تو شہر پر اک ویرانی سی چھائی تھی‘ جگہ جگہ پولیس کے جوان حفاظتی جیکٹ پہنے ناکے لگائے کھڑے تھے‘ شہر کا مشہور تفریحی پارک آرمی سٹیڈیم ویران پڑا تھا۔
ماہنامہ اردو ڈائجسٹ اور کاروان علم فاؤنڈیشن نے اقبال اکادمی پاکستان‘ انڈس فاؤنڈیشن اور سنٹر فار ہیومن ایکسیلنس کے اشتراک سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور انہیں جدید تدریسی طریقہ ہائے کار سے متعارف کروانے کے لیے قومی سطح پر بلا معاوضہ ’تربیتی سیمینار‘ کا منصوبہ تشکیل دیا ہے جسے تعلیمی حلقوں میں بے حد سراہا جارہا ہے۔ پشاور سے برینز کالج کے سربراہ ظفراللہ خان نے ہمیں اپنے ہاں سیمینار کی دعوت دی ان سے باہمی مشاورت کے بعد یہ سیمینار مورخہ 20جون کو پشاور کے ایک معروف ریسٹورنٹ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سیمینار میں پشاور اور قریبی شہروں کے پانچ سو سے زائد اساتذہ کو دعوت دی گئی تھی۔ پرل کانٹیننٹل دھماکے کے بعد ظفراللہ خان نے ہماری رائے پوچھی تو اس قومی خدمت کے کام سے منسلک تمام اداروں کے نمائندگان نے سیمینار کو حسب پروگرام منعقد کرنے کی رائے دی۔ ظفراللہ خان نے مصلحت کے تحت یہ تربیتی نشست اپنے کالج میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا یوں تعلیمی اداروں کے متوقع تعداد سے نصف سربراہان مستفید ہو سکے۔
سوات۔ متاثرہ طلبہ کے لیے کاروان علم فاؤنڈیشن کی کاوش
سوات‘ مالاکنڈ‘ بونیر اور دیر کے علاقوں سے ہجرت کرنے والے تقریباً 25لاکھ متاثرین کی بحالی کے لیے‘ صوبائی اور وفاقی سطح پر حکومتی اور بے شمار غیر حکومتی فلاحی ادارے (NGO'S) سرگرم ہوچکے ہیں‘ میڈیا بھی متاثرین کی بحالی میں بھر پور کردار ادا کررہا ہے لیکن ان ساری امدادی سرگرمیوں میں کسی بھی ادارے کی توجہ متاثرین کے ان بیٹے‘ بیٹیوں کی طرف نہیں گئی جو صوبہ سرحد اور ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اس وقت صوبہ سرحد ہی کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میڈیکل‘ انجینئرنگ‘ کامرس‘ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ مینجمنٹ اور سوشل سائنسز کے مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم سینکڑوں طلبہ کا تعلیمی کیریئر داؤ پر لگ گیا ہے۔
متوسط اور خوشحال طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کے لیے بھی تعلیم کو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا ہے خصوصاً میڈیکل‘ انجینئرنگ اور ماسٹر سطح کے طالب علم جو ہاسٹلوں میں رہائش پذیر ہیں تعلیمی اخراجات کے علاوہ کھانے پینے کے لیے بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ کاروان علم فاؤنڈیشن نے متاثرہ طلبہ کی دست گیری کا فیصلہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کو اس پوشیدہ پہلو سے آگاہی اس طرح ہوئی کہ اس ادارے کے تعاون سے اس وقت صوبہ سرحد کے تیس (30) کے قریب جامعات‘ میڈیکل کالجوں اور دیگر اداروں میں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں خیبر میڈیکل کالج پشاور‘ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور‘ گومل میڈیکل کالج ڈیرہ اسماعیل خان‘ پشاور یونیورسٹی پشاور‘ سیدو میڈیکل کالج سوات‘ زرعی یونیورسٹی پشاور‘ ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد‘ گورنمنٹ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان‘ بنوں میڈیکل کالج بنوں‘ فارابی ڈگری کالج پشاور‘ اسلامیہ کالج پشاور‘ انسانیت گرلز کالج مٹھا خیل کرک‘ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لکی مروت‘ دانش پبلک سکول اینڈ کالج چوکارہ کرک‘ گریثرن کیڈٹ کالج کوہاٹ‘ ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ‘ گومل یونیوسٹی ڈیرہ اسماعیل خان‘ گورنمنٹ ڈگری کالج تجوڑی لکی مروت‘ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی بنوں‘ انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی کوہاٹ‘ گورنمنٹ ڈگری کالج چترال‘ گورنمنٹ ڈگری کالج درگئی مالاکنڈ ایجنسی‘ وزڈم سائنس کالج چوکارہ کرک‘ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لکی مروت‘ یونیورسٹی وینسم ڈیرہ اسماعیل خان‘ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج منڈان بنوں‘ دانش پبلک سکول اینڈ کالج کرک اور گورنمنٹ گرلز ہائی سیکنڈری سکول نوشہرہ شامل ہیں۔
کاروان علم فاؤنڈیشن کی انتظامیہ نے صوبہ سرحد کے تعلیمی اداروں میں سوات و دیگر علاقوں کے متاثرہ طلبہ کی مشکلات سے آگاہی اور مالی مدد کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے فاؤنڈیشن کے ناظم اعلیٰ ﴿راقم﴾ نے ماہ مئی میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور‘ زرعی یونیورسٹی پشاور‘ یونیورسٹی آف پشاور‘ خیبر میڈیکل کالج پشاور‘ اسلامیہ کالج پشاور‘ فارابی ڈگری کالج پشاور‘ ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے تعلیمی اداروں کا دور ہ کیا اور متاثرہ طلبہ اور ان کے اساتذہ سے ملاقاتیں کیں۔ حکومت سرحد نے کالج سطح پر زیر تعلیم صرف سوات کے طلبہ کے سالانہ تعلیمی اخراجات معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ مالاکنڈ‘ دیر اور بونیر کے طلبہ کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔ حکومت سرحد کا یہ اقدام کئی لحاظ سے نامکمل ہے کیونکہ اس سے صرف کالجوں میں زیر تعلیم سوات کے طلبہ ہی استفادہ کرسکیں گے۔ جبکہ دیگر علاقوں کے طلبہ کو یہ سہولت حاصل نہیں۔ اس طرح مالاکنڈ‘ دیر اور بونیر کے علاقوں کے طلبہ خواہ وہ کالج میں زیر تعلیم ہیں یا یونیورسٹی میں انہیں کوئی رعایت حاصل نہیں۔ اس کے علاوہ ہاسٹلوں میں رہائش پذیر طلبہ کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی جس سے انجینئرنگ کے مختلف شعبہ جات‘ ایم بی بی ایس اور ایم اے کرنے والے طلبہ کو تعلیمی سفر جاری کرنے میں سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہجرت کے نتیجے میں گھر بار‘ مال و اسباب کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے مگر ان طلبہ کے یہ دن بہت قیمتی ہیں اگر کسی طالب علم کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا تو اس نقصان کا ازالہ کسی صورت بھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔
  
کاروان علم فاؤنڈیشن نے ابتدائی طور پر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے 50‘ خیبر میڈیکل کالج پشاور 50‘ ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد سے 50‘ زرعی یونیورسٹی پشاور ﴿ڈی وی ایم﴾ سے 50‘ یونیورسٹی آف پشاور سے 10‘ اسلامیہ کالج پشاور سے 20 اور فارابی ڈگری کالج پشاور سے 20 طلبہ سمیت کل اڑھائی سو (250) طلبہ کو تعلیمی اخراجات اور خرچ طعام کے لیے مالی اعانت جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سالانہ 7,725,000/- روپے درکار ہیں۔
پنجاب حکومت کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کروانے کے لیے کاروان علم فاؤنڈیشن کا وفد ادارے کے صدر سینٹر ایس۔ ایم۔ ظفر کی سربراہی میں‘ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی‘ الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمن شامی وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی متاثرہ طلبہ کی معاونت کی دعوت دے رہی ہے۔
پشاور میں میری دوسری مصروفیت انجینئرنگ یونیورسٹی اور خیبر میڈیکل کالج میں زیر تعلیم سوات‘ مالاکنڈ‘ بونیر و دیگر علاقوںکے متاثرہ طلبہ سے ملاقات کرنا تھی۔ طلبہ سے سوات کے حالات کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی دہشت پورے علاقے پر پھیلی ہوئی تھی‘ وہ ایف ایم ریڈیو کے زریعے لوگوں کو غلط کاموں سے باز رہنے کی تنبیہہ کرتے ﴿غلط اور صحیح کام کی تشریح ان کی اپنی وضع کردہ تھی﴾ لوگ ایف ایم ریڈیو صرف اس خوف سے سنتے تھے کہ کہیں ان کا نام تو نہیں پکارا جارہا طالبان نے جاسوسی کا ایسا نظام تشکیل دے رکھا تھا کہ ان کے خلاف کوئی اپنے گھر میں بھی بات کرتا تو انہیں خبر ہو جاتی تھی۔
بعض طلبہ نے بتایا کہ فوجی آپریشن اچانک شروع کردیا گیا۔ اِن کے والدین مسلسل کرفیو لگنے اور پھر علاقہ خالی کرنے کا اچانک حکم ملنے کی وجہ سے کوئی رقم وغیرہ کا انتظام نہ کر سکے۔ لوگوں نے اپنے بھرے گھر چھوڑ دیے‘ بعض طلبہ نے بتایا کہ وہ ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے اور آپریشن کے کئی ہفتوں بعد ان کا والدین سے رابطہ ممکن ہوسکا۔
مالی اعانت کے لیے انٹرویو دینے والوں میں بہت سے خوشحال گھرانوں کے نوجوان بھی تھے جن کے والدین عالی شان گھر اور امارت چھوڑ کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں‘ میڈیکل اور انجینئرنگ کے طلبہ کے چہروں پر تعلیمی سفر رک جانے کے حوالے سے اندیشوں کی دھول اڑی ہوئی تھی‘ راقم نے قوم کے ان باصلاحیت طلبہ کو یقین دلایا کہ کاروان علم فاؤنڈیشن ان کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں ہر ممکن مدد کرے گی اور ادارے کی انتظامیہ حصول عطیات کے لیے ہر دروازے پر دستک دے گی۔
الحمداللہ کاروان علم فاؤنڈیشن کی تحریک پر مخیر حضرات اور حلیف اداروں ’دیا پاکستان فاؤنڈیشن‘ اور پروفیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے متاثرہ طلبہ کی معاونت کے سلسلے میں بھر پور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ہاسٹل میں رہائش پذیر متاثرہ طلبہ کو مالی اعانت کا سلسلہ ماہ جولائی سے شروع ہو جائے گا۔
متاثرین کی حالت زار
21جون کی صبح میں متاثرین کے کیمپ جانے کے لیے روانہ ہوا تو فارابی ڈگری کالج پشاور کے پرنسپل محترم افتخار احمد بھی نمائندگی اور معاونت کے لیے شریک سفر ہوگئے کیونکہ متاثرین کی اکثریت ناخواندہ ہے اور وہ اردو میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔
ہم سب سے پہلے پشاور سے تقریباً پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ترناب گاؤں میں قائم ایک کیمپ میں پہنچے یہ کیمپ الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام قائم ہے یہاں ہماری ملاقات جماعت اسلامی کے محترم حمد اللہ خان نائب امیر ضلع پشاور اور ناظم یونین کونسل لالہ سیدعابد علی شاہ سے ہوئی۔ یہ مسلم سٹی کے نام سے ایک ہاؤسنگ سکیم ہے‘ ابھی چند پلاٹ باقی تھے لہذا یہاں متاثرین کی خیمہ بستی بنا دی گئی ہے۔ یہاں کے مکین اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کی جملہ ضروریات بطریق احسن پوری کی جارہی ہیں ہر خاندان کو باقاعدگی سے راشن‘ پنکھا‘ برتن اور دیگر اشیائ ضروریہ فراہم کی گئیں ہیں‘ خواتین کے لیے الگ غسل خانے اور بیت الخلائ بنادی گئیں ہیں جبکہ کپڑے دھونے کے لیے بھی ایک جگہ مختص کردی گئی ہے۔
یہاں مقیم گلی باغ تحصیل بہار باغ ﴿سوات﴾ کے رہائشی اختر گل نے اپنے پاؤں پر چھالوں کے نشان دکھاتے ہوئے بتایا ’’میری مینگورہ شہر میں تکہ کباب کی چھوٹی سی دکان تھی اچانک ہمیں شہر خالی کرنے کا حکم ملا میں گاؤں نہیں جا سکا اور دیگر لوگوں کے ہمراہ نکل آیا۔ گاؤں میں میر ی بیوی اور سات بچے تھے جو گاؤں کے سات سو لوگوں کے ساتھ چند روز بعد نکلے اور بشام سے ہوتے ہوئے تقریباً ایک ماہ کے تکلیف دہ سفر کے بعد مجھ تک پہنچے‘ میری بیوی اور بچوں کے پاؤں بھی مسلسل پیدل چل کر زخمی ہو چکے تھے۔ میں آپ کو اپنے کم سن بچوں کے پاؤں پر زخموں کے نشان دیکھا سکتا ہوں‘‘ اس کے ساتھ ہی اس پینتیس سالہ نوجوان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے وہ کچھ دیر بعد بھرائی ہوئی آواز میں بولا‘ ’’ہماری کیا قصور تھا ہمارا گاؤں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال تھا ہم امن اور سکون سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ ایک دن طالبان کی آمد کا پتہ چلا پھر فوج کے آنے کی اطلاع ملی‘ پھر کرفیو لگ گیا آخر میں لوگوں کو پھلوں سے لدے باغات اور گھر بار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑا۔
  
یہاں سے فارغ ہوکر ہم جلوزئی کیمپس کی طرف روانہ ہوئے جلوزئی پشاور کے جنوب مغرب میں تقریباً 35کلو میٹر پر واقع ہے۔ تقریباً پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد ہم منزل پر پہنچ گئے۔ اس وقت دن کا ایک بج رہا تھا‘ سورج سوا نیزے پر تھا۔ درجہ حرارت تقریباً 48 ڈگری پر پہنچا ہوا تھا۔ تاحد نظر اپنے ہی وطن میں مہاجر ہو جانے والوں کے خیموں کی قطاریں نظر آرہی تھیں۔
قیامت کی گرمی‘ تپتے میدان میں لگے خیمے اور ان خیموں میں پیاس‘ بیماری اور گرمی سے بلکتے بچے.
چند سال قبل تک اس مقام پر افغان مہاجرین کی بستی آباد تھی اور اب یہاں اپنے ہی وطن میں ہجرت کرنے والے خیمہ زن ہیں۔ شاید اس بنجر زمین کے مقدر میں مہاجرین کا مسکن بننا ہی لکھا ہے۔
اسی اثنائ میں الخدمت فاؤنڈیشن کے کیمپ سے نوجوان رضاکار محمد زبیر ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے آگے بڑھا اور اپنے خیمے میں لے گیا۔
چند لمحے سائباں میں گزارنے کے بعد حواس بحال ہوئے تو ہم نے کیمپ کے اندر جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب سے پہلے پاکستان میڈیکل انسٹی ٹیوشن اسلام آباد کے کیمپ ہسپتال میں گئے۔
مٹی کے ایک کھنڈر نما مکان کو ہسپتال کا درجہ دے دیا گیا تھا‘ ایک احاطے میں بستر لگے ہوئے تھے جبکہ کمروں کی دیواریں کاٹ کر انہیں کشادہ اور ہموار بنایا گیا تھا جہاں رضارکارنہ خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کررہے تھے۔ کیمپ کے انچارج ڈاکٹر ممتاز احمد سے ہماری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا ’’اس وقت ہسپتال میں بیس بستروں کا انتظام ہے۔ مریضوں کے علاج معالجے کے لیے روزانہ دوسینیئر ڈاکٹروں کے علاوہ پوسٹ گریجوایٹ سطح کے چھ ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں جن میں کم ازکم ایک خاتون ڈاکٹر بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چار افراد معاونت کے لیے موجود رہتے ہیں۔ ہم مریضوں کو علاج معالجے کی ہر ممکن سہولیات فراہم کررہے ہیں طبعی معائنے کے علاوہ ادویات بھی دے رہے ہیں۔ اس کیمپ میں مریضوں کی آسانی کے لیے پشتو بولنے والے ڈاکٹر بھی تعینات کے گئے ہیں۔
یہاں زیادہ تر معدے اور امراضِ جلد کے مریض آرہے ہیں۔ ہم روزانہ چھ سو سے آٹھ سو کے درمیان مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
نفسیاتی امراض اور شدید بیماریوں کے شکار مریض بھی آجاتے ہیں مگر ہمارے پاس ان کے علاج معالجے کے لیے ماہر ڈاکٹر اور مطلوبہ معاینے وغیرہ کی سہولیات نہیں ہیں‘ کل میرے پاس ایک دل کا مریض آیا وہ اپنے لباس اور گفتگو کے انداز سے امیر گھرانے کا فرد لگ رہا تھا۔ میں نے اس کو مرض کی نوعیت سے آگاہی کے لیے ایک ٹیسٹ ’’ایکو‘‘ کروانے کا کہا تو وہ خاموش ہوگیا۔
کچھ دیر بعد اس نے روندھی ہوئی آواز میں کہا ’’میری جیب میں تو اس وقت صرف پانچ روپے ہیں‘‘ مجھے یہاں دکھی لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے کتنے روز گزر گئے ہیں اور ہم کس حد تک اس طرح کے حالات سننے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اس نوجوان کے جواب نے مجھے بھی رنجیدہ کر دیا میں نے حسب استطاعت اس کی مالی مدد کی اور اسے پشاور ٹیسٹ کے لیے روانہ کر دیا۔‘‘
اس کے بعد زبیر ہمیں الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت قائم گوشۂِ اطفال میں لے گیا جہاں دس سال تک کے بچوں کو سکول اور دینی تعلیم دی جارہی ہے۔ اس وقت چودہ رضا کار خواتین اساتذہ بچوں کو پڑھانے پر معمور ہیں بچوں کو سکو ل دورانیے میں کھانا بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ کھلونے اور دیگر تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔
اس کے بعد کچھ متاثرین سے گفتگو ہوئی۔ ایک بائیس سالہ نوجوان نے بتایا کہ کئی دن سے بجلی نہیں تھی تین دن سے بجلی فراہم کردی گئی مگر سینکڑوں لوگوں کو ابھی تک بجلی کے پنکھے فراہم نہیں کیے گئے۔ ہم پنکھے لینے کے لیے جاتے ہیں تو متعلقہ اہلکار کاغذ پر دستخط کر والیتا ہے مگر پنکھا نہیں دیتا۔ اس موقع پر دیگر خیموں سے بھی لوگ باہر نکل آئے اور انہوں نے پانی کی عدم دستیابی‘ ناقص خوراک اور علاج معالجے کی نامناسب سہولیات کی شکایت کی۔ اکثر کا کہنا تھا کہ فوج کی بمباری سے ان کے گھر تباہ ہوگئے اور ہمیں یہاں ضروریات زندگی قطار میں کھڑے کر کے بھیک کی طرح لینا پڑ رہی ہے۔
متاثرین کے لبوں پر صرف یہ سوال تھا کہ آخر انہیں کس جرم کی سزا دی گئی ہے کہ وہ پہلے طالبان کے ہاتھوں حراساں تھے اور پھر فوج کے آپریشن پر انہیں گھر اور مال اسباب چھوڑنا پڑا‘ ہم ابھی متاثرین سوات کے ہجوم کے جذبات سن رہے تھے کہ ایک شخص میرا ہاتھ پکڑ کے اپنے خیمے میں لے گیا اس نے ہمارے لیے ٹھنڈا پانی منگوایا‘ خیمے میں پنکھا نہیں تھا اس پر اس نے معذرت کی اور مزید کسی مشروب چائے وغیرہ سے تواضع نہ کرنے پر بھی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا حال دل یوں بیان کیا۔
میرا نام شاہ زمین ہے اور میرا تعلق مینگورہ سے ہے۔ میرے ساتھ میرا یہ چھوٹا بھائی بیٹھا ہے یہ فالج کا مریض ہے اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ ہم اپنے گھر میں تھے تو اس کی دیکھ بھال کر لیا کرتے تھے مگر اب یہا ں ہم اس کی دیکھ بھال کریں یا قطار میں لگ کر اپنے اور اس کے لیے خوراک حاصل کریں۔ کیمپ میں موجود معذوروں اور زہنی مریضوں کی دیکھ بھال کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ایک خاتون اور اس کی بیٹی سے ملاقات ہوئی اس کا گھر مارٹر گولہ گرنے سے تباہ ہوگیاتھا گھر میں موجود مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے۔ اس وقت اس کا شوہر حصول روزگار کے لیے گیا ہوا تھا انہیں ہنگامی طور پر گھر چھوڑنا پڑا اور ایک ماہ سے زائد عرصے گزرنے کے باوجود اس کا شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا اور وہ دونوں خواتین بے یارو مدد گار خیمے میں مقیم تھیں۔ میں نے ان کے خیمے کے اندر جھانکا تو ایک پرانی دری اور چند برتنوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جبکہ اس خاندان کو بھی پنکھا فراہم نہیں کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ایک اور متاثرہ خاندان سے ملاقات ہوئی گھر کے سربراہ نے خیمے میں بیٹھی اپنی معذور بھانجی اور ایک معذور بھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ’’مجھے اپنے دیگر اہل خانہ کے علاوہ ان دونوں معذوروں کے ساتھ ہجرت کرنا پڑی۔ میں نے بھانجی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر ساٹھ کلومیٹر کا پیدل سفر طے کیا پھر ہمیں سواری ملی اور ہم اس کیمپ تک پہنچے۔ میں چند کلومیٹر سفر طے کرتا پھر کچھ دیر آرام کرکے چل پڑا اس طرح میں اذیت ناک مراحل سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہوں مگر اس کیمپ میں بھی ہمارا کوئی پرسانِ حال نہیں میں اپنی معذور بھانجی کو کچھ دیر کے لیے باہر بھی نہیں نکال سکتا کیونکہ ہمارے ہاں پردے کا بہت سختی سے اہتمام کیا جاتا ہے لہٰذا وہ سارا دن شدید گرمی میں خیمے میں پڑی رہتی ہے۔
  
جلوزئی متاثرین کی حالت زار
اس وقت حکومتی اعدادو شمار کے برعکس جلوزئی کیمپ میں تقریباً ایک لاکھ متاثرین آباد ہیں‘ خیمہ بستی کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’’یو این ایچ سی آر‘‘ نے متاثرین کو خیموں کے علاوہ پانی کی ٹینکیاں اور رفع حاجت کے لیے لیٹرین بنا کردی ہیں۔ مگر کیمپ کے تمام مکینوں کو پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہورہا‘ لیٹرین بہت چھوٹی ہیں کیونکہ نکاسی آب کا انتظام نہیں لہٰذا بدبو بھی پھیل رہی ہے‘ خواتین کے لیے الگ لیٹرین نہیں بنائی گئی یوں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک خیمے میں اوسطً 6سے 10افراد مقیم ہیں۔ اکثر خیموں میں بجلی کی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔ حاملہ خواتین کے علاج معالجے کی خاطر خواہ سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ خوراک کا معیار بھی بہت ناقص ہے جس کو کھانے سے اکثر لوگ پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں اس کے علاوہ جلدی امراض بھی پھیل رہے ہیں۔ کیمپ میں خواتین کی تفریح اور تعلیم و تربیت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا لہٰذا روایتی پردے کی پاسداری کرتے ہوئے خواتین سارا وقت خیموں کے اندر حبس اور گرمی میں بیٹھی رہتی ہیں۔ نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے نیو ٹیک نے کام کا آغاز کردیا ہے مگر کم تعلیم یافتہ افراد کو بھی کسی باصلاحیت مصروفیت میں مشغول رکھنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
متاثرین کے کیمپوں کی مجموعی صورت حال
ایک محتاط اندازے کے بعد اس وقت پچیس لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ یہ افراداپنے عزیز و اقارب اور حکومتی و نجی سطح پر قائم کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ بحالی کے کام میں مصروف عمل حکومت سرحد کے ادارے پروفیشنل ریلیف کمشنریٹ ایمرجنسی رسپونس یونٹ کے اعدادو شمار کے مطابق متاثرین کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔
کل افراد کل خاندان کیمپ کا نام
8,850 1,514 کچا گھڑی ۱
5,466 924 کچا گھڑی ۲
57,103 10,094 جلوزئی
2,869 427 پلوسا
7,239 1,198 جلالہ
8,153 1,372 شیخ شہزاد
10,226 1,074 شیخ یسٰین
5,129 809 رنگ مالا
1,592 198 پلائی
12,389 1,984 شاہ منصور
274,968 5,608 یار حسین﴿چھوٹا لاہور﴾
4,840 801 مزدور آباد
2,550 400 بے نظیر رسالپور
874 151 سکھ کوٹ
2,708 375 جی ڈی سی تیمار گر
3,361 545 صدبار کالے
3,865 518 ثمر باغ
4,934 969 لاراما
3,753 704 سلیم شوگر ملز
2,857 426 کامرس کالج کیمپ تیمار گرہ
1,951 273 ٹیکنیکل کالج تیمار گرہ
5,120 795 کند نیشنل پارک
430,797 31,159 کل
حکومتی مالی امداد:
حکومت نے 10جون سے مالاکنڈ ڈویژن‘ باجوڑ اور مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ہر متاثرہ گھرانے کو پچیس ہزار روپے دینے کا آغاز کر دیا ہے اور اب تک فراہم کردہ مالی اعانت کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ حبیب بنک لمیٹڈ کے ذریعے 25جون تک 38657خاندانوں کو 25ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے اے ٹی ایم کارڈ ﴿کیش کارڈ﴾ جاری کیے گئے۔ ان میں سے 30759خاندان مبلغ 384156085/- روپے نکال چکے ہیں۔
غیر سرکاری و فلاحی اداروں کی کارکردگی:
اکتوبر 2005ئ کے زلزلے کے موقع پر ملک کے طول وعرض سے جس طرح فلاحی اداروں نے متحرک ہو کر بحالی میں فعال کرادار ادا کیا اسی جذبے سے متاثرین کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ اس وقت درجنوں اداروں اور انفرادی سطح پر بے شمار شخصیات نے اس عظیم مقصد کے لیے خطیر رقم فراہم کی ہے۔ ہم یہاں دو فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کا مختصر احوال پیش کر رہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن
الخدمت فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل احسان اللہ وقاص نے بتایا‘ الحمداللہ ہم نے متاثرین کی بحالی کے لیے زرائع آمدروفت‘ طبی سہولیات‘ رہائش اور ضروریات زندگی کی فراہمی اور تعلیم و تربیت کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر خدمات سرانجام دی ہیں اور یہ سلسلے متاثرین کے اپنے گھروں کو لوٹنے تک جاری رہے گا۔
فاؤنڈیشن نے متاثرین کے لیے 18 استقبالیہ کیمپ لگائے جہاں سے 1284984افراد مستفید ہوئے۔ ادارے کے زیراہتمام 19 مقامات پر رہائشی کیمپ لگائے ہوئے ہیں جہاں 5540گھرانوں کے 37831 افراد مستفید ہورہے ہیں۔
فاؤنڈیشن حکومتی انتظام کے تحت 20اضلاع میں قائم 20کیمپوں میں 1923گھرانوں کے 204377افراد کی خدمت میں مامور ہے۔
بارہ اضلاع میں 24ایمرجنسی میڈیکل سنٹر قائم کیے ہیں جہاں 20ایمبولینس اور دیگر عملے کی سہولیات دستیاب ہیں۔ جبکہ حکومتی و نجی سطح پر قائم کیمپوں میں 58میڈیکل سنٹر قائم کیے گئے جہاں سے 120625مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
الخدمت فاؤنڈیشن بحالی متاثرین کے سلسلے میں اب تک ﴿27جون﴾تقریباً 25کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کر چکی ہے۔
ہمت ٹرسٹ
ہمت ٹرسٹ کے روح رواں محمد ندیم شفیق نے بتایاکہ ہمت ٹرسٹ پاکستان کو یہ اعزاز ہے کہ اس نے ہمیشہ قدرتی آفات اور عمومی حادثات کے شکار ہم وطنوں کی دادرسی کے لیے خدمات سرانجام دی ہیں۔ ہمت ٹرسٹ پاکستان نے پہلے مرحلے پر متاثرین کی فوری ضروریات زندگی کے بارے آگاہی کے لیے سینئر اراکین پر مشتمل سروے ٹیم تشکیل دی‘ جس نے کاٹلنگ ﴿مردان﴾کے معززین‘ صوبائی و ضلعی حکومتوں کے عہدیداران‘ علمائ کرام‘ متاثرین اور ان کے میز بانوںسے فرداً فرداً ملاقاتیں کیں اور ان کی ضروریات پر مشتمل امدادی سامان کی فہرست ترتیب دی۔ اس کے بعد دوسری ٹیم تشکیل دی گئی جس نے سروے فارم کے ذریعے متاثرین کے اندراج کا عمل شروع کیا۔
ہم نے شمالی لاہور کے علاقے شادباغ میں محمدی آئی کیئر سنٹر﴿میک﴾ کے اشتراک سے مرکزی ریلیف کیمپ قائم کیا جہاں امدادی اشیائ‘ عطیات اور دیگر سامان جمع کیا گیا۔ زندہ دلان لاہور نے نقد رقوم اور بچوں نے اپنے جمع شدہ جیب خرچ ہمت ریلیف کیمپ کے امدادی فنڈ میں جمع کروایا۔
سوات اور بونیر سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کا پہلا پڑاؤ کاٹلنگ﴿مردان﴾ میں ہوتا ہے‘ جہاں حکومت کی جانب سے ہر فرد کی باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد اسے کسی اور علاقے میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف نجی اداروں کے کسی بھی کارکن یا رضاکار کو کاٹلنگ سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی‘ چناچہ ضلعی حکومت کی اجازت سے کاٹلنگ کے ایک زیر تعمیر سرکاری سکول میں دفتر‘ مہمان خانہ اور سٹور پر مشتمل پہلا ’ہمت بیس کیمپ‘ قائم کیا گیا۔
مرکزی ریلیف کیمپ میں جمع شدہ امدادی اشیائ‘ عطیات اور دیگر ضروری سامان کو دو مراحل میں انتہائی محفوظ طریقے سے لاہور سے کاٹلنگ میں قائم ’’ہمت بیس کیمپ‘‘ منتقل کیا گیا۔
کاٹلنگ اور مردان کے مقامی افراد کے تعاون سے مختلف رضاکارانہ ٹیمیں تشکیل دیں‘ جنہوں نے دوردراز دیہاتوں‘ اونچے پہاڑوں اور کھلے میدانوں میں واقع علاقوں پاتوڑک‘ دوڑیال کلے‘ موٹی پایاں‘ موٹی بانڈہ‘ غالہ‘ ہرانہ ستہ‘ حاجی آباد‘ چمن آباد‘ کٹی گھڑی وغیرہ میں متاثرین کے ایک ایک فرد کا اندراج کرنے کے بعد درکار ضروری اشیائ کی ترجیحات کے بارے فہرست ترتیب دی۔
دس سے پندرہ افراد پر مشتمل ایک خاندان کو پتیلا سیٹ‘ توا‘ پرات‘ واٹر کولر‘ کیتلی‘ ڈونگا‘ چنگیر‘ مچھردانی‘ چٹائی‘ چادریں‘ دیسی صابن‘ دستی پنکھے‘ جوتے ﴿زنانہ‘ مردانہ‘ بچگانہ﴾‘ بالٹی‘ پریکلی ہیٹ پاؤڈر‘ ٹینٹ‘ چمچ ﴿پکائی کے لیے﴾‘ واٹر سیٹ﴿جگ گلاس﴾پر مشتمل سامان فراہم کیا گیااس کے علاوہ بچوں کے لیے بطور خاص کھیل کا سامان فریزبی‘ کرکٹ بیٹ‘ ٹینس بال‘ فٹ بال اور باسکٹ بال دیے گئے جب کہ خواتین اور بچیوں کے لیے کروشیا‘ فریم‘ مختلف دھاگے اور دیگر دستکاری سامان فراہم کیا گیا۔
متاثرین کے لیے امدادی اشیائ کی خریداری کے دوران لاہور‘ گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے صنعت کاروں‘ کارخانوں کے مالکان اور تاجران نے ہمت ٹرسٹ کے ساتھ بے مثال تعاون کا مظاہرہ کیا۔ بعض نیک دل اور انسان دوست صاحبان نے کمال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے خرید کردہ اشیائ کی قیمت وصول کرنے سے ان کار کر دیا اور اسے اپنی طرف سے ’’ہمت ٹرسٹ ریلیف فنڈ‘‘ میں بطور عطیہ پیش کردیا۔ جبکہ بعض افراد نے نصف سامان کی قیمت عطیہ کی‘ دیگر احباب نے منافع لینے سے انکار کرتے ہوئے صرف اصل قیمتِ خرید وصول کی۔
٭٭
ہم جلوزئی کیمپ میں سارا دن گزارنے کے بعد لوٹ رہے تھے تو جسم گرمی کی شدت سے نڈھال تھے اور روح متاثرین کی حالت زار دیکھ کر روحیں گھائل ہو چکی تھیں۔ میں نے جلوزئی کیمپ کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر ساتھیوں سے کہا آؤ اس پیارے وطن کے لیے دعا کریں۔
’’اے وطن تو سلامت رہے!‘‘
ساتھیوں نے باآواز بلند کہا آمین!


  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ