آج کے انسانی المیے پر سیمینار
متاثرین مالاکنڈ اور اہلِ وطن کا اظہارِ یک جہتی
پائنا راؤنڈ ٹیبل میں در پردہ واقعات کی نقاب کشائی‘
محمداقبال قریشی
۔ جون ۲۰۰۹ء
تئیس مئی کی شام پائنا کانفرنس ہال جوہر ٹاؤن‘ لاہور میں ریٹائرڈ میجر جنرل خواجہ راحت لطیف کی صدارت میں راؤنڈ ٹیبل منعقد ہوئی جس میں سوات آپریشن کے بارے میں بنیادی سوالات زیربحث آئے اور ان موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی جن کا تعلق طالبان کے مذہبی عقائد ان کی فوجی پیش قدمی اور اس خطے میں ان کے مجموعی کردار سے ہے۔ راؤنڈ ٹیبل کی روداد سے اندازہ لگایا جا سکے گا
کہ اہل وطن کو اپنے گلشن کو تاراج ہونے سے بچانے کے لیے کیا کچھ کرنا ہو گا اور اربابِ قیادت پر کتنی بڑی ذمے داری آن پڑی ہے۔
جناب الطاف حسن قریشی
سیکرٹری جنرل پائنا جناب الطاف حسن قریشی نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتے پہلے جو راؤنڈ ٹیبل ہوئی تھی‘ اس میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر نے اپنافوجی موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی آپریشن عجلت میں شروع کیا گیا ہے اور پہلے دن ہی سے ہلاکتوں کی تعداد غیر معمولی ہے۔ بعض مقررین کی رائے میں یہ آپریشن امریکی دباؤ پر شروع کیا گیا ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر میں نے عرض کیا تھا کہ سوات آپریشن مشرقی پاکستان کے فوجی آپریشن سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ وہاں فوج ایک منتخب سیاسی قیادت اور عوام کی مقبول ترین سیاسی جماعت عوامی لیگ کے خلاف حرکت میں آئی تھی اور اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی تھی جبکہ سوات کے اندر فوجی طاقت ان عناصر کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے جو منتخب حکومت کے خلاف بغاوت پر تلے ہوئے ہیں اور طاقت کے ذریعے اپنے طرز کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے نام نہاد طالبان کا افغان طالبان سے فکروعمل کا تعلق بہت کم نظر آتا ہے۔ افغانستان میں جب طالبان کی قیادت کو اقتدار حاصل ہوا‘ تو اس نے خون میں لت پت افغانستان کو امن دیا‘ انصاف قائم کیا‘ پوست کی کاشت ختم کی اور سادگی کو فروغ دیا۔ غیر مسلم خواتین کے ساتھ ان کے حسن سلوک نے انہیں اسلام قبول کرنے کی طرف مائل کیا۔ ان کی ایک مرکزی قیادت تھی جس میں عالم دین بھی تھے۔ افغانی طالبان کے برعکس تحریک طالبان پاکستان کی قیادت مختلف دھڑوں میں تقسم ہے اور پاکستان میں بدامنی اور خونریزی پھیلانے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سوات آپریشن سے پہلے اور سوات آپریشن کے بعد ایک ایسی خون آشام صورتِ حال جنم لے رہی ہے جس کے باعث پورے پاکستان کے اندر ایک ذہنی زلزلہ طاری ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ہمارے پختون بھائی اپنے ہی وطن میں بے گھر ہو گئے ہیں‘ مگر ان کے حوصلے بلند ہیں اور اہل پاکستان مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی دستگیری کر رہے ہیں۔
اس اُبھرتے ہوئے انسانی المیے کا یہ پہلو بہت خوش آئند ہے کہ ہمارے پختون بھائیوں نے مہمان نوازی کی ایک عظیم روایت قائم کی ہے اور جس پُرجوش انداز میں اہل مدینہ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والوں کا خیر مقدم کیا تھا اور مؤاخات کا ایک بے مثال نظام قائم کیا تھا‘ مردان اور صوابی کے مکینوں نے اس کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اہل پنجاب بالخصوص حکومت پنجاب اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مصیبت میں گھرے اپنے پاکستانی بھائیوں کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے‘ اس کی تعریف و توصیف صوبہ سرحد کی قیادت کھلے دل سے کر رہی ہے۔ جناب اسفند یار ولی نے سرعام کہا ہے کہ حکومت پنجاب امداد فراہم کرنے میں سب پر سبقت لے گئی ہے اور اس نے متاثرین مالاکنڈ کے لیے اپنے وسائل کے منہ کھول دیے ہیں۔ کراچی اور دوسرے شہروں سے بھی مخیر حضرات بڑے سرگرم ہیں اور احساس ہوتا ہے کہ قوم کے اندر یک جہتی اور یک سوئی پائی جاتی ہے۔ دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ بیس پچیس لاکھ انسان بے گھر ہو گئے ہیں‘ مگر کسی جگہ کوئی ہنگامہ نہیں ہوا اور مصیبت زدہ لوگ صبر و استقامت کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کی خاطر بے شمار تکالیف برداشت کیے جا رہے ہیں۔ اس کیفیت سے قوم کی داخلی طاقت کا بے پناہ احساس ہوتا ہے اور اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ہم انشائ اللہ آزمائش کی اس گھڑی میں سرخرو ہوں گے۔
گزشتہ راؤنڈ ٹیبل میں اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ تازہ فوجی آپریشن کی کامیابی کے لیے عوام کو فوج کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے کہ وہ اس آن پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ بعض فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جنگ طویل ہو گی‘ لیکن میری ناقص رائے میں آپریشن محدود‘ تیزرفتار اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عسکریت پسندوں پر کاری ضرب لگانے کے بعد سول انتظامیہ کے ذریعے حالات معمول پر لائے جائیں اور متاثرین کی واپسی کے قابل اعتماد انتظامات کیے جائیں۔ اس مرحلے میں دماغی قوت اور انتظامی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے سے معاملات میں بہتری پیدا ہو گی اور دہشت گردی کے ہاتھوں جو اتنی بڑی آبادی بے گھر ہوئی ہے اور لاکھوں افراد کی متاع زندگی لٹ گئی ہے‘ اس کی باعزت بحالی اور مداوے کے امکانات پیدا ہوتے جائیں گے۔
صحیح حالات سے باخبر ہونے اور دکھوں کا مداوا تلاش کرنے کے لیے پائنا نے ان اصحاب کو راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کی دعوت دی ہے جو متاثرین کے لیے مختلف تنظیموں کی طرف سے امدادی کام کر رہے ہیں۔ جناب ڈاکٹر فاروق احمد خاں مردان سے تشریف لائے ہیں جو ایک علمی‘ سماجی اور سیاسی شخصیت ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ ان محرکات سے بخوبی واقف ہیں جو فوجی آپریشن پر منتج ہوئے ہیں۔ ہم ان سے تاریخی پس منظر میں پوری صورت حال کا ماجرا سن سکیں گے۔ الخدمت ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل جناب احسان اللہ وقاص بھی ہمارے درمیان موجود ہیں جو ایک ٹیم کے ساتھ بونیر کا دورہ کر کے آئے ہیں اور متاثرین کو ریلیف مہیا کرنے کا ایک نظم چلا رہے ہیں۔ جناب میاں عبداللہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین ہیں اور وہ بھی مردان اور صوابی سے حال ہی میں امدادی کام منظم کر کے لوٹے ہیں۔ ہم ان سے اپنے بھائیوں کا حال سنیں گے اور یہ بھی کہ ان کا مورال کیسا ہے اور انہیں کن کن دشواریوں کا سامنا ہے اور قومی سطح پر کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ میں سب سے پہلے ڈاکٹر فاروق احمد خان کو دعوتِ خطاب دوں گا جو ہمیں بتا سکیں گے کہ طالبان کی حیثیت کیا ہے‘ انہیں عوام کی حمایت کہاں تک حاصل ہے اور وہ فوج کی موجودگی میں اس قدر طاقت ور کیسے بن گئے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے لگے ہیں اور پاکستان کی سا لمیت کے لیے ایک خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
جناب ڈاکٹر فاروق احمد خان
میں مردان کا رہنے والا ہوں اور اپنی سوچ کے اعتبار سے ایک انسان‘ ایک مسلمان اور ایک پاکستانی ہوں۔ سوات کے حالات سے میرا تعلق ابتدا ہی سے ہے‘ لیکن پچھلے سوا برس سے یہ رشتہ خاصا گہرا ہو گیا ہے جب طالبان اور سرحد حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا‘ جس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ سوات میں اسلامی یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کی وائس چانسلر شپ اور بورڈ آف ڈائریکٹر شپ کے لیے میرا نام تجویز کیا گیا۔ یوں ہر ہفتے دو تین مرتبہ مجھے وہاں جانا پڑتا ہے اور میں اسی وقت سے حالات کا جائزہ لوں گا۔ مجھے گورنر اور وزیر اعلیٰ کی طرف سے جو کچھ بتایا اور دکھایا گیا اور نفاذ عدل کا جو قانون ہمارے سامنے آیا‘ اس کی بنیادی دستاویز میں چار باتیں نمایاں تھیں۔ ان میں امن کی بحالی‘ خواتین کو اسکولوں میں تعلیم کی اجازت‘ پولیو کے قطروں کی عدم مخالفت‘ خودکش حملوں کا خاتمہ شامل تھا۔ دوسری طرف یہ امر طے کیا گیا تھا کہ جب یہ سب کچھ ہو جائے گا‘ تو فوج آہستہ آہستہ اپنے مراکز تک محدود ہو جائے گی‘ ہر جگہ حکومت کی عملداری ہو گی اور اس کے ساتھ ہی نظام عدل رائج ہو گا۔ میں پوری دیانت داری سے کہتا ہوں کہ طالبان کی طرف سے وہ سب کچھ کیا گیا جو معاہدہ توڑنے کے مترادف تھا۔ انہوں نے فوج اور پولیس کے لوگ اغوا کیے اور سول انتظامیہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ ان کی سرگرمیاں حد سے بڑھتی
گئیں حتیٰ کہ انہوں نے عام شہریوں کو بھی اٹھانا شروع کر دیا۔ جگہ جگہ اپنی عدالتیں قائم کیں جن میں لوگوں کو سزائیں دینا شروع کر دیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مینگورہ‘ سیدوشریف اور مرغزار کے سوا باقی جو بھی علاقے ہیں‘ وہ طالبان کے پاس چلے گئے جس کے بعد فوری طور پر فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا‘ یوں فوجی آپریشن ’’راہِ راست‘‘ کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا۔
آپریشن ’’راہ راست‘‘ کے محرکات
میں اس آپریشن کے بارے میں اپنا جائزہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سے پہلے جو تین آپریشن ہوئے تھے وہ لیپاپوتی کے سوا کچھ نہیں تھے۔ صاف طور پر پتا چلتا تھا کہ ایک طرف فوج یہ چاہتی ہے کہ طالبان کو نقصان پہنچائے بغیر مصروف رکھا جائے‘ دوسری طرف لڑائی جاری رکھنا اور تیسری طرف طالبان سے صلح صفائی کرنا چاہتی ہے۔ فطری طور پر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوج ایسا کیوں چاہتی تھی۔ یہ ایک سیاسی سوال ہے جس کے ایک سے زائد جوابات دیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ امریکہ پر یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ہم طالبان سے نبردآزما ہو رہے ہیں یا یہ کہ وہ طالبان کو کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے اپنا اثاثہ سمجھتے تھے یا وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ صوبہ سرحد کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس سے پورے پاکستان اور اس پورے خطے کو بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جب طالبان میرے دائیں ہاتھ پر دس فٹ دور ہوں اور فوج میرے بائیں ہاتھ پر دس فٹ کے فاصلے سے گولہ پھینکے‘ تو آپ تصور میں تباہی کا نقشہ لا سکتے ہیں۔ ہماری پوری رات عذاب میں گزرتی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ جب ہم اگلی صبح اُٹھیں گے‘ تو سب کچھ تہ و بالا ہو چکا ہوگا‘ لیکن صبح جب ہم اُٹھتے‘ تو ایک چوزے کے مرنے کی بھی اطلاع نہیں آتی تھی۔ ہمیں بتایا جاتا کہ ایک پہاڑی سے دوسری اور دوسری سے تیسری پہاڑی پر فائرنگ ہوتی رہی اور کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔
مولانا صوفی محمد اور طالبان کا فہم اسلام
اس کے بعد ایک ایسا وقت آیا جب ہمیں اندازہ ہوا کہ فوج پسپائی اختیار کر رہی ہے اور اس نے کہہ دیا ہے کہ مزید کچھ نہیں کیا جا سکتا‘ تب سیاسی حکومت درمیان میں آئی اور اس نے کہا کہ چاہے یہاں فوج رہے نہ رہے‘ ہمیں اور طالبان کو یہاں رہنا ہے۔ ہمارے پاس بندوق نہیں جبکہ طالبان کے پاس بندوق ہے‘ لہٰذا ہمیں ان کے ساتھ امن معاہدہ کرنا اور سمجھوتے کے مطابق چلنا ہو گا۔ اس فیصلے کے مطابق صوبائی حکومت کی طرف سے ایک مذاکراتی ٹیم بنائی گئی اور طالبان سے مذاکرات کے لیے باقاعدہ درخواست کی گئی اور صوفی محمد صاحب کو جیل سے رہا کر کے اُن کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ان سے باقاعدہ مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں بنیادی طور پر دو معاہدے طے پائے‘ ایک خفیہ‘ دوسرا علانیہ۔ خفیہ معاہدے کے بارے میں آگے چل کر تفصیلات بیان کروں گا۔ اعلانیہ معاہدہ صوبائی حکومت اور صوفی محمد صاحب کے درمیان ہوا‘ اس کے مطابق مولانا صوفی محمد صاحب نے کہا کہ اگر اس معاہدے پر سرحد حکومت کی طرف سے عمل کیا گیا‘ تو میں طالبان کو اس پر آمادہ کروں گا۔ طالبان کی طرف سے بھی پبلک بیان آیا کہ جس چیز کو مولانا صوفی محمد صحیح سمجھتے ہیں‘ ہم بھی اسے صحیح سمجھتے ہیں۔ مولانا صوفی محمد اور طالبان کے درمیان جہاں جہاں فکری ہم آہنگی اور جہاں جہاں اختلاف اور فرق پایا جاتا ہے‘ اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان دونوں کا فہم اسلام بنیادی طور پر ایک جیسا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جمہوریت کفر اور شرک ہے اور حکومت کرنے کا حق صرف اور صرف علمائ کو حاصل ہے۔ ان کا فہم اسلام یہ ہے کہ کسی خاتون کے لیے حج یا ہلکی پھلکی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کے سوا تعلیم حاصل کرنا یا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں۔ ان کا فہم اسلام یہ بھی ہے کہ آپ اسلام بزور بازو نافذ کر سکتے ہیں‘ کسی خاتون کو خاص قسم کا برقع پہننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مرد سے کہا جا سکتا ہے کہ اسے ڈاڑھی اتنی لمبی رکھنی چاہیے اور اگر کوئی ڈاڑھی نہیں رکھے گا‘ تو ہم اسے سزا دیں گے۔ ان کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اگر کوئی تنظیم اس مقصد کے لیے طاقت حاصل کرے‘ تو اسے بھی نفاذ شرعت کے تمام اختیارات حاصل ہیں‘ تاہم صوفی محمد اور طالبان کے درمیان ایک بہت بڑا اختلاف بھی پایا جاتا ہے‘ وہ یہ کہ مولانا صوفی محمد صاحب کے خیال میں ان تمام مقاصد کے لیے جدوجہد پُرامن ہونی چاہیے اور عسکریت پسندی کسی طور جائز نہیں‘ جبکہ طالبان کا فلسفہ یہ ہے کہ ان مقاصد کے لیے جو بھی عسکری تنظیم کام کرے‘ تو وہ اپنا فہم اسلام طاقت کے ذریعے نافذ کر سکتی ہے۔ طالبان سے میری مراد تحریک طالبان کا سوات چیپٹر ہے جس کے سربراہ مولانا فضل اللہ ہیں۔
خفیہ معاہدے کی ہوشربا تفصیلات
خفیہ معاہدے کے متعلق مجھے اس وقت معلوم ہوا جب طالبان کے لیڈر سے میری ذاتی ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ معاہدہ طالبان سوات چیپٹر اور فوج کے درمیان طے پایا تھا جو مکمل طور پر فوج کی شکست سے عبارت تھا۔ میں جب کبھی طالبان کے رہنما سے ملنے جاتا‘ تو مینگورہ سے طالبان کی گاڑی میں بیٹھتا‘ میرا ڈرائیور طالبان کا کمانڈر ہوتا اور میں مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر ہوتا۔ میری نوے فیصد گفتگو پشتو میں ہوتی‘ اس لیے وہ لوگ مجھ پر اعتماد کرتے اور اکثر اس خواہش کا اظہار بھی کر دیتے کہ کاش میں بھی ان کی صفوں میں ہوتا‘ انہوں نے مجھے اس خفیہ معاہدے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ میں نے بعد میں فوج کے عہدیداران سے بھی تصدیق کی کہ فوج سے ان کا جو معاہدہ ہوا ہے اُس کے مطابق فوج کو سوات سے باہر جانے کی پوری اجازت ہو گی‘ لیکن فوج سوات کے اندر داخل نہیں ہو گی۔ اگر وہ سوات میں پانی پینے یا سبزی خریدنے کے لیے سڑک پر نکلے گی‘ تو اُسے پہلے طالبان سے اجازت لینا ہو گی نیز فوج کے ہمراہ طالبان کے ایک دو نمائندے بھی ہوں گے۔ فوج اگر اس شق پر عمل پیرا نہیں ہو گی‘ تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔
اس معاہدے کے بعد طالبان عملی طور پر تمام سوات پر قابض ہو گئے‘ اور مینگورہ اور سیدو شریف جو ان کے قبضے میں نہیں تھے‘ ان پر بھی انہوں نے قبضہ جما لیا۔ مینگورہ اور سیدوشریف ایک مہذب خطہ ہے جو کسی طور بھی قبائلی علاقہ نہیں۔ ایک سو مسلح افراد بھی وہاں داخل ہو جائیں‘ تو ان کے لیے علاقے کا کنٹرول سنبھالنا کچھ بھی دشوار نہیں ہو گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سوات میں نوے فیصد لوگ اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھتے جبکہ صوابی‘ جہاں میں رہتا ہوں وہاں ۹۹ فیصد لوگوں کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہوتا ہے۔ سوات کے لوگ اکثر اپنے بارے میں مذاقاً یہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں مرغی ذبح کرنے کے لیے کہہ دیا جائے‘ تو ہم یہ بھی نہیں کر سکیں گے۔
نظام عدل آرڈیننس کی اندرونی کہانی
نظام عدل آرڈیننس کے سلسلے میں اے این پی کی حکومت جہاں تک گئی‘ وہاں تک پاکستان کی ایک بھی مذہبی تنظیم نہیں جا سکتی تھی۔ مثال کے طور پر نظام عدل آرڈیننس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ قانون کا سرچشمہ قرآن‘ حدیث‘ اجماع اور قیاس ہے اور پاکستان کے آئین اور قانون میں جو چیز بھی اس کے خلاف ہو گی‘ وہ مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک غیر قانونی اور غیر مؤثر قرار پائے گی۔ دوسرے لفظوں میں وہاں کے ’’قاضی‘‘ کو مکمل طور پر اختیار دے دیا گیا کہ اگر وہ جمہوریت کو کفر قرار دے دے‘ تو وہاں مکمل طور پر جمہوریت کا نظام ختم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ طالبان کسی بھی چیز کو کفر و شرک قرار دے سکتے ہیں۔ ان کے لیے شرک اور کفر کے الفاظ استعمال کرنا یوں ہے جیسے عام طور پر ہم ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو تم نے بڑا غلط کام کیا ہے۔ مولانا صوفی محمد صاحب نے میرے سامنے افراسیاب خٹک اور میاں افتخار حسین صاحب جو وہاں کے وزیر ہیں اور کلین شیو ہیں‘ ان سے کہا کہ آپ دونوں کی ڈاڑھی نہیں‘ اس لیے آپ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پھر انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جن کی ڈاڑھیاں چھوٹی ہیں‘ وہ شرک کے مرتکب ہیں‘ کیونکہ وہ ڈاڑھی کا مذاق اُڑا رہے ہیں اور دین کا مذاق اُڑانے والا دراصل مشرک ہے۔ گویا انہوں نے مجھ جیسے لوگوں کو مکمل طور پر مشرک قرار دے دیا۔
میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جن صاحب سے حکومت کا معاہدہ ہوا تھا‘ ان کا اپنا فہم اسلام کیا ہے۔ اگر نظام عدل ریگولیشن میں ترامیم نہ کی گئیں‘ تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک قانون ثابت ہو گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سود کے سوا پاکستان کے تمام قوانین کم و بیش اسلام کے مطابق ہیں۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کو انصاف دیر سے ملتا ہے اور وکیل فیس بہت زیادہ لیتے ہیں‘ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عدالتوں میں رشوتیں چلتی ہیں‘ لیکن یہ سسٹم کی خرابی نہیں بلکہ افراد کی خرابی ہے اور یہ تو پورے ملک اور ہر جگہ کی خرابی ہے۔ سوات کی آبادی سولہ یا سترہ لاکھ ہے اور یہاں چھوٹے مقدمات دس ہزار اور بڑے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد تقریباً دو ڈھائی سو ہے اور انہیں بنیاد بنا کر اتنا بڑا طوفان اُٹھایا گیا۔
نظام عدل کا معاملہ سامنے آنے کے بعد یہ سوال اُٹھا کہ اب کس طریقے سے ججوں کا انتخاب کیا جائے۔ پہلے چھ جج منتخب کیے گئے جن کی منظوری مولانا صوفی محمد نے دے دی۔ یہ چھ جج وہ تھے جنہیں ۱۹۹۹ئ کے آرڈیننس کی رو سے مجسٹریٹ کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد سول ججوں اور سیشن ججوں اور مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک دارالقضا اور دارالدارالقضا‘ کے لیے جج تعینات کرنے کا مرحلہ آنے والا تھا اور ان کے لیے مولانا صوفی محمد کی منظوری ضروری تھی۔ منظوری حاصل کرنے کے لیے ارکان حکومت کے پاس نام جاتے‘ تو ان پر اس نوعیت کے اعتراضات کیے جاتے کہ فلاں آدمی کی ڈاڑھی نہیں یا اس کی ڈاڑھی ہمارے معیار سے کم ہے‘ یا فلاں آدمی کے گھر میں صحیح طریقے سے برقع استعمال نہیں ہو رہا۔ حکومت نے تنگ آ کر اپنی طرف سے دو جج مقرر کر دیے۔ اس پر طالبان کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا اور فوج کو حالات کی سنگینی کا پہلی بار احساس ہوا۔
حالات کا رُخ بدل دینے والا واقعہ
غالباً سوات کی حد تک فوج کو اس کی ذرا فکر نہیں تھی کہ اگر یہ علاقہ طالبان کے قبضے میں چلا گیا‘ تو کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے گا‘ کیونکہ وہ انہیں اپنا سمجھتی تھی‘ اس لیے ان سے لڑنا بھی نہیں چاہتی تھی یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فوجی قیادت نے مس مینجمنٹ کا ثبوت دیا جس کے باعث طالبان کو اس پورے علاقے میں اپنا قبضہ جمانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو چکے تھے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے اندر ہماری عمل داری ہے‘ اس لیے ہمیں آگے بڑھ کر بونیر‘ دیر‘ مالاکنڈ ایجنسی اور چترال پر بھی قبضہ کر لینا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے پہلے تین سو افراد پر مشتمل ایک لشکر مرغزار کی طرف سے بونیر بھیج دیا اور مالاکنڈ ایجنسی میں اپنا مرکز قائم کر لیا جہاں ان کے کچھ لوگ پہلے سے موجود تھے۔ اسی طرح وہ سوات کی طرف سے اپر دیر اور دیر میں پہنچ گئے۔ اس اچانک پیش رفت سے پورے پاکستان میں ایک شور مچ گیا۔ آپ جانتے ہیں کچھ ہی عرصہ پہلے بونیر میں ضمنی انتخابات ہوئے تھے جس میں جماعت اسلامی اور اے این پی کے اُمیدوار نے فرداًفرداً ۲۸/ ہزار اور دوسرے امیدواروں نے بھی کئی ہزار ووٹ حاصل کیے۔
ایک خودکش حملے کے سوا انتخابات بڑی حد تک پُرامن ہوئے اور انتخابی مہم کے اندر بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ جب طالبان بونیر‘ لوئر اور اپر دیر میں داخل ہو گئے‘ تو وہاں کی مضبوط سیاسی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا جس کے باعث پورے پاکستان میں ایک ہلچل بپا ہوئی اور حالات نے یکسر پلٹا کھایا۔ تب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ طالبان کی پیش قدمی کو فوری طور پر پوری قوت سے روکنا ہو گا ورنہ وہ اسلام آباد تک پہنچ جائیں گے۔ اس مقام پر فوجی قیادت کو ایک دوسرا فیصلہ کرنا پڑا اور اس نے ’’راہِ حق‘‘ آپریشن کے بجائے ’’راہِ راست‘‘ کا آپریشن شروع کیا۔ یعنی وہ جنہیں حق کے راستے پر چلاتے آ رہے تھے‘ اب انہیں راہِ راست پر لانا ضروری ہو گیا تھا۔
طالبان کا طریقِ واردات
میرا خیال ہے کہ ۲۰۰۵ئ اور ۲۰۰۶ئ کے درمیان طالبان کی عوامی مقبولیت عروج پر تھی۔ یہ وقت وہ تھا جب مولانا فضل اللہ امام ڈھیری کی مسجد سنبھالے ہوئے تھے اور وہ صرف خواتین کی تعلیم اور پولیو قطروں کے خلاف تھے۔ انہوں نے اپنا کوئی عسکری ایجنڈا پیش کیا نہ تحریک طالبان سے کوئی رشتہ قائم کیا‘ لیکن جب لال مسجد کا سانحہ پیش آیا‘ تو انہوں نے اعلان کیا کہ ہم بیت اللہ محسود کے ساتھ ہیں‘ سوات میں تحریک طالبان کا چیپٹر قائم کرتے ہیں اور اب آئندہ نفاذ شریعت کے لیے عسکری جدوجہد کریں گے۔ اس عسکری جدوجہد میں لوگوں نے تین چار ماہ ان کا ساتھ دیا‘ لیکن جب طالبان نے سپاہیوں کے سر قلم کرنا شروع کیے اور دس پندرہ سر بانسوں پر لٹکا کر کانجو سے مٹہ تک اور مٹہ سے پیوچار تک سرعام پھرتے رہے تاکہ لوگ دہشت زدہ ہو جائیں اور ان کے خلاف نکلنے کی ہمت نہ کر سکیں‘ تو عوام کے اندر خوف کے ساتھ ساتھ سخت ناپسندیدگی پیدا ہو گئی۔ ان غیر انسانی حرکات کے نتیجے میں طالبان کا گراف نیچے آنا شروع ہوا۔
مینگورہ‘ سیدوشریف اور مرغزار کا علاقہ کبھی طالبان کے پاس نہیں رہا اور ان میں رہنے والے نوے فیصد لوگ ہمیشہ سے ان کے خلاف تھے اور آج بھی ہیں۔ باقی علاقوں میں بھی صورت حال طالبان کے خلاف ہوتی چلی گئی خاص طور پر نظام عدل نافذ ہونے کے بعد ان کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو گیا۔ یہ قانون جب نافذ کیا گیا‘ تو سوات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کئی روز تک جشن کا ایک ایسا سماں رہا جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سب لوگ مٹھائیاں بانٹ رہے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔ ان بے چاروں کو یہ خبر نہیں تھی کہ اس چھوٹی سی وقتی خوشی کے پردے میں ان کے لیے کیسی قیامت چھپی ہوئی ہے۔ جب طالبان نے لشکر بنا کر سیدوشریف اور مینگورہ پر قبضہ کر لیا اور بونیر اور دیر پر بھی لشکرکشی شروع کر دی‘ تو عام شہری ان سے متنفر ہو گئے اور ان کا ساتھ چھوڑتے چلے گئے۔ وہاں کے عام آدمی سے اگر آپ گفتگو کریں‘ تو وہاں طالبان کا کوئی ہم نوا نہیں ملے گا۔ لوگ کہیں گے کہ جی بالکل ہم ان کے ہمنوا تھے اور ۲۰۰۵ئ اور ۲۰۰۶ئ میں ہماری خواتین نے انہیں اپنے زیورات دیے کہ یہ لوگ امن اور انصاف لائیں گے‘ لیکن اب ہم نے ان کا انصاف اور اسلام دیکھ لیا ہے اور مزید ہم ان کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ یہ تو ایک عام آدمی کا نظریہ ہے جبکہ مجھ جیسے آدمی کا تصور اس سے بڑا مختلف ہو گا۔ وہاں عام تاثر یہ ہے کہ یہ لوگ ایک ایسا اسلام اور ایک ایسی شریعت لے کر آئے ہیں جو ہمارے لیے بالکل اجنبی ہے اور شدت پسندی پر مبنی ہے۔
ناگزیر فوجی آپریشن
فوجی آپریشن کے طریق کار اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کے بارے میں میرے تجربات اور اندازے یہ کہتے ہیں کہ یقینا فوج اب اس نتیجے تک پہنچ گئی ہے کہ طالبان اب ہمارا اثاثہ نہیں رہے۔ چنانچہ اس وقت جو فوجی آپریشن ہو رہا ہے‘ اس کے متعلق میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پہلی بار صحیح معنوں میں ایک فوجی آپریشن ہے‘ لیکن میرے دل میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر آخر میں فوج یہ فیصلہ کرتی ہے کہ طالبان کا دس پندرہ فیصد حصہ محفوظ کر لیا جائے جسے کل کلاں کشمیر یاافغانستان میں استعمال کیا جا سکے‘ یا سیاسی حکومتوں کو اس کے ذریعے دبایا جا سکے‘ تو یہ خانہ جنگی کبھی ختم نہیں ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر فوج نے ایسا کوئی فیصلہ نہ کیا‘ تو اگلے ایک سے دو مہینوں میں وہاں امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ امن و امان بحال کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ طالبان مکمل طور پر نیست و نابود ہو جائیں گے۔ وہ پہاڑوں میں یا زیرزمین موجود رہیں گے‘ تاہم ان کی طاقت بڑی حد تک ٹوٹ جائے گی اور انہیں باہر سے مدد نہیں مل سکے گی۔
آپ سب جانتے ہیں کہ سوات کی کوئی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی۔ چونکہ میں خود طالبان کے پاس گیا ہوں اور ان کا اسلحہ اور سازوسامان اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں‘ چنانچہ اس ضمن میں دو تین چیزیں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ ان کے پاس اس وقت جس قدر اسلحہ‘ گاڑیاں اور وسائل موجود ہیں‘ ان کا لاہور میں بیٹھ کر آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میرے ذاتی مشاہدے اور تجربے کے مطابق ازبک‘ تاجک وہاں اتنی بڑی تعداد میںنہیں جتنا حکومت پاکستان پروپیگنڈا کرتی رہتی ہے۔ یہ حقیقت ہمیں مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہ تحریک ہماے گھر سے اُٹھی ہے اور مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھی سواتی ہیں۔
اُمڈتی ہوئی خوفناک طبقاتی جدوجہد
تحریک طالبان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ جدوجہد اب طبقاتی کشمکش میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت طالبان کی تحریک میں جتنے بھی لوگ ہیں‘ وہ پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سوات کے اڑتالیس بڑے بڑے جاگیردار قتل کیے جا چکے ہیں یا سوات سے فرار ہونے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ان کی زمینیں اور گھر طالبان نے اپنے قبضے میں لے کر اپنے لوگوں میں تقسیم کر دیے ہیں۔ ان کے باغات کاٹ کر ان کی لکڑی سستے داموں غریب لوگوں میں بیچ دی گئی۔ یوں انہوں نے عام لوگوں کو بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔ ان کے مقابلے میں تنہا لالہ افضل خان مزاحمت کرتا رہا ہے اور حکومت نے آپریشن شروع کرنے سے پہلے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے وہاں سے بحفاظت پشاور پہنچا دیا تھا۔
جہاں تک بھارتی مداخلت کا تعلق ہے‘ اس کے حوالے سے میں اپنی ایک آزادانہ رائے رکھتا ہوں۔
وہاں کسی بھارتی باشندے کے ملوث ہونے کی ہمیں کوئی مستند اطلاع نہیں ملی۔ بعض ہلاک ہونے والے افراد کے ختنے نہیں ہوئے تھے اور اس بنیاد پر لوگوں نے کہا کہ وہ بھارتی باشندے تھے‘ جبکہ دراصل شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ختنے کا رواج صرف دس پندرہ برس پہلے آیا ہے‘ لیکن میں وہاں بھارت کے ملوث ہونے سے انکار نہیں کرتا‘ وہ پاکستان کے ساتھ دشمنی نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔ گرم تندور میں ہر قوم اپنی روٹی پکانے کی کوشش کرتی ہے۔
تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے ایمان افروز واقعات
اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ اب تک جتنے لوگ بے گھر ہوئے ہیں‘ ان کی تعداد مختلف بتائی جا رہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ تعداد پچیس تیس لاکھ تک پہنچ جائے۔ یہ متاثرین بونیر اور سوات سے مردان اور صوابی کی طرف آ رہے ہیں‘ اور ان کی خاصی بڑی تعداد ان علاقوں سے بھی ذرا آگے چلی گئی ہے۔ میں اس سلسلے میں‘ چند حیرت انگیز واقعات کا انکشاف ضروری سمجھتا ہوں‘ عام لوگوں نے ان متاثرین کا جس والہانہ انداز میں استقبال کیا ہے‘ کم از کم میں اس کی توقع نہیں رکھتا تھا۔ سچ یہ ہے کہ مجھے اس امر کا اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان کے لوگوں میں اس وقت بھی محبت‘ ہمدردی اور بھائی چارے کا اس قدر عظیم اور غیر معمولی جذبہ موجود ہے۔ اس المیے میں پختون بھائیوں نے اپنے دل‘ گھروں اور حجروں کے دروازے کھول دیے ہیں اورآ نے والوں کو سینے سے لگا رہے ہیں اور ان کی خدمت اور اعانت کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھ رہے ہیں۔ تاریخ نے یہ منظر ہجرت مدینہ اور ۷۴ئ میں پاکستان کی طرف ہجرت کے بعد پہلی بار دیکھا ہے۔
جہاں تک سیاسی پارٹیوں کا تعلق ہے‘ میں ہر سیاسی پارٹی اور تنظیم کی تعریف کروں گا‘ جن میں جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام‘ اے این پی بڑی سرگرم ہیں اور ایک حد تک پی پی پی‘ مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے لوگ بھی وہاں خاصی تعداد میں متحرک ہیں۔ اسی طرح فلاح انسانیت اور الخدمت ٹرسٹ کے علاوہ مختلف فلاحی تنظیموں نے بھی گراںقدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس وقت جتنی بھی شکایات سامنے آ رہی ہیں‘ ان کا تعلق انسان کی نااہلی سے نہیں‘ اس امر سے ہے کہ نقل مکانی کا سانحہ بہت بڑا ہے۔ اس ناگہانی آفت کے سامنے انسان بے بس ہے‘ آپ جانتے ہیں وہاں بجلی اور پانی کا مسئلہ بڑا سنگین ہے‘ مردان کے اندر ٹریفک کی یہ صورت حال پیدا ہو گئی تھی کہ ایک گھنٹے میں نصف کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا محال تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں‘ فلاحی تنظیموں اور عام آدمی کے جذبوں نے اس میں جتنا بڑا کردار ادا کیا ہے‘ وہ قابل فخر اور ایمان افروز ہے۔ لاہور کے ایک دوست کے تعاون سے میں پچاس خاندانوں کی نگہداشت کر رہا ہوں اور ایک ہفتے کے اندراندر اس تعداد کو سو تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ شیخ ملتون ٹاؤن جہاں میری رہائش ہے‘ وہاں کی ہر مسجد کے اندر لوگ قیام پذیر ہیں‘ متاثرین کو ضرورت سے زائد کھانا مل جاتا ہے‘ لیکن بجلی‘ پانی کی کم یابی اور مچھروںکی بہتات آزمائش میں بہت بڑا اضافہ کر رہی ہیں اور لوگ شدید اذیت میں مبتلا ہیں اور کمال صبر و ضبط سے کام لے رہے ہیں۔
مستقبل کا مارشل پلان
مستقبل میں کیا ہو گا‘ اس ضمن میں میرا تجزیہ یہ ہے کہ اگر فوج نے طالبان کے دس پندرہ فیصد حصے کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ تو یہ ایک تباہ کن حکمت عملی ثابت ہو گی‘ لیکن اگر ایسا نہ ہوا‘ تو وہ ایک مہینے سے لے کر دو مہینے تک بہت بڑا علاقہ طالبان سے محفوظ کر سکتی ہے اور دو مہینے کے اندراندر متاثرین اپنے گھروں میں آباد ہو سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے واپس جانے کے بعد ایک اور بہت بڑا انسانی المیہ سامنے آئے گا‘ وہ یہ کہ یہ لوگ جو کھڑی فصلیں چھوڑ کر چلے آئے ہیں‘ وہ بالکل اُجڑ گئی ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر فوج کی بمباری یا طالبان کے حملوں سے ڈھیر ہو چکے ہوں گے۔ اسی طرح ان کے مال مویشی بھی آخرکار ختم ہو جائیں گے اور یوں ان کے روزگار کے دو بڑے ذرائع تباہی کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ پچیس یا تیس لاکھ افراد جب بونیر‘ سوات‘ باجوڑ اور دیگر علاقوں میں واپس جائیں گے‘ تو اگلے تین چار مہینوں کے لیے انہیں اپنی بقا کی جنگ بہرحال لڑنا ہو گی۔ اس مقصد کے لیے انہیں رقم بھی درکار ہو گی اور اس سے پہلے ان کی عزت نفس اور حوصلہ بحال رکھنا ہو گا اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کھلے دل سے مدد فراہم کرنا ہو گی۔ میں نے اس ضمن میں یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے بات کی‘ تو انہوں نے مجھے سوال و جواب کے نہایت دلچسپ سلسلے میں بتایا کہ پوسٹ وار فیز کے لیے کم از کم دس بلین روپے درکار ہوں گے۔
سلسلہ سوالات
ڈاکٹر فاروق احمد خاں کے کلیدی خطاب کے بعد سوال و جواب کا ایک انتہائی دلچسپ معلومات افزا سلسلہ شروع ہوا۔ معروف کالم نگار میاں یاسین وٹو نے پوچھا کہ طالبان کو فنڈز اور اسلحہ کہاں سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بلا تکلف جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہی سوال میں نے طالبان کے ترجمان مسلم خان صاحب سے براہ راست پوچھا تھا۔ انہوں نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ دیکھو یہ دورمار رائفل ہے اور اس پر لگی دوربین کی مدد سے آپ دو کلو میٹر کے فاصلے پر کسی چڑیا کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اتنا جدید اسلحہ آپ کے پاس کیسے پہنچا‘ تو ان کا جواب یہ تھا کہ یہ سب کچھ ہم نے پاکستانی فوج سے چھینا ہے‘ لیکن میرا اندازہ ہے کہ یہ تمام جدید ترین اسلحہ پاک فوج سے چھینا ہوا نہیں‘ بلکہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہوا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ روس اپنی شکست بھول چکا ہے اور کیا چین‘ ایران‘ ترکی اور سعودی عرب کے اس علاقے میں سٹریٹجک مفادات نہیں؟ سعودی عرب نے جہاد افغانستان میں اپنے مسلک کو آگے بڑھانے کے لیے جو کچھ کیا‘ ہم سب اس سے واقف ہیں۔ بھارت کی پاکستان سے مخاصمت سے کون واقف نہیں؟ اس کے علاوہ ایک اور بہت بڑا عامل اینٹی امریکی فیکٹر ہے‘ یعنی دنیا میں جتنے بھی سرکردہ مسلمان سرمایہ دار ہیں‘ ان کا پیسہ امریکہ مخالف جنگ میں لگ رہا ہے۔ جب آپ کے پاس وسائل وافر ہوں‘ تو پاکستان تو کیا دنیا کے کسی بھی کونے میں اسلحہ پہنچانا چاہیں‘ تو اسلحے کے ڈیلر آپ کے لیے وہاں اسلحہ پہنچا سکتے ہیں۔ دوسرا اہم سوال
سول سوسائٹی کی ایک متحرک خاتون محترمہ ناہید طاہر نے سوال کیا کہ آپ نے اس خطے میں امریکہ کا ذکر نہیں کیا جن کے اس خطے سے مفادات وابستہ ہیں‘ اس کا کیا سبب ہے۔ دوسرا یہ کہ طالبان ڈاڑھی کے بارے میں اس قدر حساس کیوں ہیں جبکہ اسلام میں ڈاڑھی تو ہے‘ مگر ڈاڑھی میں اسلام نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
میں اپنی گفتگو میں طالبان کا فہم اسلام پوری طرح واضح کر چکا ہوں‘ وہ اپنے عقائد اور خیالات سے بہت کمیٹڈ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا فہم اسلام تمام مسلمانوں کے تصورات سے یکسر مختلف ہے‘ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کا فہم اسلام وہی ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے خوارج کا تھا۔ خوارج کے بارے میں اس تاریخی حقیقت کا اعادہ ضروری ہے کہ وہ ’’جنگِ صفین‘‘ کے خاتمے پر ایک نئے عقیدے کے ساتھ نمودار ہوئے تھے۔ جنگ صفین حضرت علی(رض) اور امیر معاویہ(رض) کے درمیان جاری تھی۔ جب امیر معاویہ(رض) کی فوجوں کو شکست ہونے لگی‘ تو انہوں نے قرآن اپنے نیزوں پر بلند کیے اور قرآن پر تصفیہ کرنے کے لیے زور دیا۔ طے پایا کہ ایک ایک شخص دونوں کی طرف سے حَکم کے طور پر تعینات کر دیا جائے۔ خوارج نے کہا کہ اللہ کے بجائے کسی انسان کو حَکم تسلیم کرنا شرک ہے اور انہوں نے حَکم تعینات کرنے والے حضرت علی(رض) اور امیر معاویہ کو قتل کر دینے کے احکام بھی جاری کر دیے۔ اس فیصلے کے مطابق حضرت علی(رض) مسجد میں شہید کر دیے گئے تھے‘ لیکن امیر معاویہ(رض) ان کے شر سے محفوظ رہے۔ خوارج گناہ کبیرہ کو شرک سے تعبیر کرتے اور دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے تھے۔ طالبان کے فہم اسلام کے مطابق وہ طاقت کے ذریعے کسی چیز پر بھی قابض ہو سکتے ہیں۔ یہ ان کا سنجیدہ فہم اسلام ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تنظیم کو طاقت حاصل ہو جائے یا ہمارا ریاست پر قبضہ ہو جائے‘ تو ہم اپنی شریعت نافذ کر سکتے ہیں اور ایسا کرنا ہمارے دینی فرائض میں شامل ہے۔ میرے نزدیک وہ شدت پسند ہیں اور ایک ایسا فہم اسلام رکھتے ہیں جو میری نظر میں بالکل غلط ہے‘ لیکن ان کے اندر یہ احساس بے حد طاقت ور ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے ہاں سرخرو دیکھنا چاہتے ہیں اور جب قربانی دیتے ہیں‘ تو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہرگز بھارتی نہیں۔ میں یہاں یہ امر بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ امریکہ اس خطے میں بڑا سرگرم ہے اس کی فوجیں افغانستان میں آٹھ سال سے مقیم ہیں جو القاعدہ اور طالبان سے نبردآزما ہیں۔ اس کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے اندر اس کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور فاٹا اور ’’پاٹا‘‘ میں جو شورش برپا ہے‘ وہ امریکی عاقبت نااندیشوں کا نتیجہ ہے۔
تیسرا سوال
میڈیا کنسلٹنٹ جناب فاروق چوہان کی طرف سے پوچھا گیا کہ مولانا صوفی محمد کے تصورات سے ہمیں بھی شدید اختلاف ہے‘ مگر نظام عدل ریگولیشن پر اتفاق ہو جانے کے بعد فوجی آپریشن شروع کرنے کا کیا جواز تھا۔ اگر صبر و تحمل سے کام لیا جاتا اور اعتماد کی فضا کچھ دیر قائم رہتی‘ تو متنازع امور طے پا سکتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی دباؤپر انتہائی عجلت میں فوجی ایکشن شروع ہوا جس کے نتیجے میں تیس لاکھ کے لگ بھگ لوگ بے گھر اور ان کی کھڑی فصلیں اور آڑو کے باغات برباد ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق احمد خان نے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا۔
اس آپریشن کو امریکی آپریشن کا نام صرف لاہور میں بیٹھ کر ہی دیا جا سکتا ہے‘ کاش! کوئی شخص سیدوشریف اور مینگورہ میں بیٹھ کر ایسی بات کر رہا ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام عدل امریکی خواہشات کے علی الرغم اے این پی کی سیکولر حکومت نے منظور اور نافذ کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی کوئی بھی مذہبی جماعت اس قسم کے مطالبات ہرگز نہ مانتی جس طرح کے مطالبات ایک سیکولر حکومت نے تسلیم کر لیے تھے۔ بنیادی اہمیت کی بات یہ ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی مسلح گروہ آ جائے اور زبردستی تمام چیزوں پر قبضہ کر لے‘ تو پھر حکومت کا کیا کردار ہونا چاہیے‘ کیا حکومت اُسے ٹھنڈے پیٹے برداشت کر لے اور اپنے شہریوں کو سفاک دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے؟ میں پہلے تفصیل سے بتا چکا ہوں کہ نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے فوراً بعد طالبان نے سول انتظامیہ کی تمام علامتیں تہس نہس کر ڈالیں‘ سرکاری افسر دفتروں سے بے دخل کر دیے‘ سکول اور ہسپتال نذرآتش کر دیے اور بونیر اور لوئر دیر میں جارحانہ پیش قدمی شروع کر دی۔ پاکستان کے تحفظ کی خاطر پاک فوج کو پوری قوت سے حرکت میں آنا پڑا اور سول آبادی کو آپریشن کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے اپنی بستیوں سے نکل جانے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ بلاشبہ یہ ایک دردناک منظرنامہ ہے جسے ایک درخشندہ مستقبل میں تبدیل کرنے کے لیے پوری قوم کو یک جہتی اور بلند ہمتی سے کام لینا ہو گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ فوج ایک حد تک ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے اور گوریلا جنگ میں عوامی حمایت فیصلہ کن عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی اور دینی جماعتوں کے تعاون سے فوجی آپریشن محدود بھی رہ سکتا ہے اور نتیجہ خیز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
میں آپ کو ایک بات بتا دوںکہ نظام عدل آرڈیننس کی خلاف ورزی مکمل طور پر طالبان کی طرف سے ہوئی جبکہ حکومت کی جانب سے ایک فیصد خلاف ورزی بھی نہیں کی گئی۔ آپ نے بات کی کہ جماعت اسلامی اور طالبان کے مقاصد ایک ہیں‘ لیکن طریقہ کار میں اختلاف ہے۔ میرے خیال میں ان کا فہم اسلام جماعت اسلامی سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت عدالتیں اور اسمبلی سب کچھ شرک ہے اور وہ اپنا فہم اسلام بندوق کے زور پر نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ جماعت اسلامی جمہوریت‘ قانون اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ طالبان نے ان کے متعدد ارکان بھی شہید کر دیے ہیں۔
چوتھا سوال
جناب الطاف حسن قریشی نے یہ نقطہ اٹھایا کہ اگر فوجی آپریشن طوالت پکڑ جاتا ہے اور متاثرین کی واپسی میں تاخیر ہوتی جاتی ہے‘ تو کیا عوام کا جذبۂ ایثار اور ان کا جوش و خروش قائم رہے گا اور متاثرین غیرمعمولی مشکلات کو حوصلے سے برداشت کرتے رہیں گے۔
ڈاکٹر صاحب نے حقیقت پسندانہ لہجے میں کہا:
میرے خیال میں اگر یہی صورت حال دو ماہ سے زائد جاری رہی‘ تو معاملات میں بہت زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔ وہ میزبان جنہوں نے اپنی مقدور سے بڑھ کر مہمان ٹھہرائے ہیں‘ ان کے مکانات بہت زیادہ وسیع ہیں نہ خوراک کے ذخائر بہت وافر ہیں۔ ہمیں اگرچہ اُمید ہے کہ اخوت کا اسلامی جذبہ ان تمام جذبوں پر غالب رہے گا‘ مگر سماجی‘ نفسیاتی اور معاشی مسائل سر اُٹھائیں گے جن کی پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہو گی کہ فوجی آپریشن جلد سے جلد اختتام پذیر ہو اور فاٹا میں پاکستان کی سلامتی کے لیے جو جنگ لڑی جا رہی ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔
جناب احسان اللہ وقاص ﴿الخدمت فاؤنڈیشن﴾
میں یہاں سیاست کے بجائے صرف خدمت خلق کے حوالے سے بات کروں گا۔ آپ کو یاد ہو گا جب زلزلہ آیا‘ تو حکومت کی طرف سے تین دن تک مارگلہ ٹاور کا ذکر ہوتا رہا اور یہ کہا جاتا رہا کہ تین ہزار کے لگ بھگ افراد اس حادثے میں زخمی یا جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ ہماری حکومت عوام کے سامنے صحیح اعدادوشمار پیش نہیں کرتی۔ آج سانحہ مالاکنڈ کے سلسلے میں بھی حکومتی رویہ بالکل ویسا ہی ہے۔ ۷۲/ تاریخ کو فوجی آپریشن کا آغاز ہوا جس کے بعد سے لے کر اب تک پانچ ہزار گاڑیاں بونیر کے مختلف مقامات سے نکل کر قریب ترین علاقے صوابی وغیرہ میں داخل ہو چکی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے تمام داخلی مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ دو دو دن پیدل چل کر وہاں آ رہے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ بچے بھوک سے بلک رہے تھے۔ یکم تاریخ کو میں خود اس علاقے میں پہنچا اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لوگوں سے بات چیت کی۔ میری معلومات کے مطابق اس وقت تین لاکھ ستر ہزار متاثرین وہاں آ چکے ہیں اور یہی بات میں نے میڈیا کے سامنے بھی کہی جس پر ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک ذمے دار اہلکار نے مجھ سے شکوہ کیا کہ یہ آپ نے کیسے کہہ دیا جبکہ ہماری اطلاعات کے مطابق صرف دو ہزار لوگ آئے ہیں۔ اس پر میں نے انہیں اپنے ہر پوائنٹ سے گزرنے والی گاڑیوں کی اور پیدل چل کر آنے والوں کی تفصیلات مہیا کیں۔
وہاں سے متاثرین جس حال میں نکلے ہیں‘ اس کا آپ اور ہم یہاں بیٹھ کر تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اکثر یہ صورت حال پیش آتی رہی کہ لوگ گھروں سے نکلے‘ دس کلومیٹر کا سفر طے کیا اور پتا چلا کہ آگے کرفیو لگا ہے اور وہ بے چارے کھلے آسمان کے نیچے رُک گئے‘ کرفیو ختم ہونے پر انہوں نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا اور چند گھنٹوں کے بعد انہیں پھر اُسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں ان کے پاس کھانے پینے کا سامان تھا نہ موسمی تغیرات سے بچنے کے لیے چھت۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد وہ لوگ ہم تک پہنچتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق صاحب نے بالکل درست منظر ہمارے سامنے پیش کیا کہ وہاں کے مکینوں نے اپنے بھائیوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے ہیں‘ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک ایک حجرے میں دس دس خاندان بحالت مجبوری رہ رہے ہیں۔ چند روز پہلے مجھے ایک پختون ڈرائیور ملا جس نے بتایا کہ میں نے دس خاندانوں کو پناہ دے رکھی ہے اور میرے گھر میں خوراک کا ذخیرہ عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ اس کی یہ بات سننے کے بعد ہم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایسے خاندانوں تک رسائی حاصل کی جنہوں نے اپنے ہاں متاثرین کو پناہ دے رکھی ہے اور ان کے کھانے کا انتظام کیا تھا۔ ہم نے مختلف مقامات پر گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں جو متاثرین کو آنے میں آسانی فراہم کر رہی ہیں۔ تقریباً پچیس ہزار افراد کو روزانہ ہم مختلف پوائنٹس پر کھانا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے دس ہزار کے قریب ایسے لوگوں کی فہرست بھی مرتب کی ہے جن سے ہم نے گزارش کی ہے کہ ایک ایک متاثرہ خاندان کو اپنے ہاں پناہ دیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔
میں فاروق صاحب سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس سانحے کو جتنا وقت گزرتا جائے گا‘ مسائل میں اضافہ ہو گا۔ آخر وہ لوگ کب تک متاثرین کو اپنے گھروں میں پناہ دے سکتے ہیں؟ ہر گھر کے اپنے محدود وسائل ہیں‘ پھر پانی اور بیت الخلا کا مسئلہ ہے‘ ان کے ساتھ خواتین اور بچے بھی ہیں جن کے ساتھ ایسی صورت میں خاصی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پھر کسی بھی گھر میں ایسا باورچی خانہ نہیں ہو گا جہاں ایک وقت میں سو آدمیوں کے کھانے کا انتظام ہو سکے۔
ایک بڑا مسئلہ زخمیوں کا ہے۔ ہماری تیس ایمبولینسیں مختلف پوائنٹس پر زخمیوں کو لانے لے جانے کا کام کر رہی ہیں۔ ہماری دو ایمبولینسیں گولہ باری کے نتیجے میں تباہ بھی ہوئیں اور ہمارے رضاکار زخمی ہو گئے۔ ہم نے ایسے لوگوں کے لیے بھی ادویات کا انتظام کیا ہے جو سفر کے دوران گدلا پانی پینے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے تھے۔ مجھے اس موقع پر اس کا بہت افسوس ہے کہ جماعت الدعوۃ کا تعاون ہمیں حاصل نہیں رہا۔ ۲۰۰۵ئ کے زلزلے کے دوران انہوں نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا تھا‘ لیکن آج وہ اپنے مسائل کی وجہ سے ہماری مدد نہیں کر پا رہے۔ اس وقت ہمیں جس المیے کا سامنا ہے‘ اسے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر وہ ادارے جن پر پابندیاں لگی ہیں اور انہیں خدمت خلق کے کاموں سے بھی روک دیا گیا ہے‘ حکومت انہیں کام کرنے کاموقع فراہم کرے۔
اس پورے معاملے میں ناانصافی کی بدترین شکل سامنے آتی ہے۔ ایک وقت میں جھنگ میں تمام جاگیردار طبقہ شیعہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا‘ جب وہاں کا نچلا طبقہ ان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا‘ تو سپاہ صحابہ کی شکل میں ایک طویل عرصے تک طوفانِ بدتمیزی برپا رہا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف انصاف کی عدم دستیابی تھی۔ جب آپ عوام کو انصاف نہیں دیں گے‘ تو نچلا طبقہ اپنے حق کے لیے یہی کچھ کرے گا۔ طالبان کا سوات چیپٹر بھی سپاہ صحابہ کی جدید شکل ہے جو ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں وہاں انصاف نہیں ملا۔ اگر حکومت لوگوں کو انصاف مہیا کرے‘ تو ایسے المیے جنم لینا خودبخود بند ہو جائیں گے۔ الخدمت فاؤنڈیشن اس سلسلے میں ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے ڈیڑھ ہزار رضاکار متاثرین کو ملتان‘ منڈی بہاؤالدین‘ لاہور اور دوسرے شہروں میں لوگوں کے گھروں میں پہنچا رہے ہیں۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہماری کامیابی کے لیے دعا کریں۔
جناب میاں عبداللہ ﴿وائس چیئرمین فلاح انسانیت فاؤنڈیشن﴾:
متاثرہ علاقوں میں اس وقت بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں جن میں سے کچھ کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ شیرگڑھ سے پیچھے مالاکنڈ کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے جہاں سے لوگ مختلف علاقوں سے سفر کرتے ہوئے ہم تک آ رہے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے این جی اوز بہت کچھ کر رہی ہیں‘ مگر جو لوگ اپر اور لوئر دیر میں محصور ہیں ہمیں ان کے لیے بھی کچھ سوچنا ہو گا۔ آپریشن کا آغاز لوئر دیر کے علاقے میدان سے ہوا تھا۔ اس کے آس پاس جتنے بھی علاقہ جات ہیں‘ ان کے اندر پھنسے ہوئے لوگ ناقابل بیان مشکلات سے دوچار ہیں۔ جیسا کہ احسان اللہ وقاص صاحب نے نشان دہی کی کہ کرفیو کے دوران قافلے رک جاتے ہیں‘ ان کے لیے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے نہ این جی اوز کچھ کر سکتی ہیں۔
ہم نے سب سے پہلے ایسے لوگوں کو کھانا بہم پہنچایا جو وہاں محصور ہیں اور حکومت کو بھی ان کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مختلف پوائنٹس پر ہماری تنظیم روزانہ بیس ہزار لوگوں کو پکا پکایا کھانا فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری بائیس گاڑیاں متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو لانے لے جانے کا کام کر رہی ہیں۔ میں آپ کی توجہ ایک افسوس ناک پہلو کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے بہت سے واقعات دیکھے ہیں جب ناکے پر پولیس نے سامان سے لدے ہوئے پچاس ٹرک روکے‘ تو آدھ گھنٹے بعد ان میں سے سامان غائب ہونا شروع ہو گیا۔ یہ طریقہ درست نہیں‘ حکومتی حوالے سے کچھ لوگ اس طرح کے کام بھی کر رہے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری تنظیم بلاامتیاز فلاحی کاموں میں حصہ لے رہی ہے۔ مردان کینٹ کے اندر چرچ میں عیسائی اور کچھ ہندو اور سکھ ٹھہرے ہوئے ہیں‘ انہیں فلاح انسانیت ٹرسٹ نے غذا اور ادویات فراہم کی ہیں اس کے علاوہ ہم مختلف خاندانوں کو گیس سلنڈر‘ چولہے‘ چٹائیاں‘ خیمہ جات مہیا کر رہے ہیں۔
ہم نے ہر خاندان کے لیے ایک رقم مختص کی ہے تاکہ متاثرہ خاندان اپنے گھروں میں واپس جا کر تعمیر کا کام بھی کر سکیں۔ میں آج فورم کے توسط سے یہ بات اپنے بھائیوں تک پہنچانا چاہوں گا کہ حکومت کی طرف سے اسلامی این جی اوز کی اب تک حوصلہ شکنی ہوتی رہی ہے۔ یہ کارروائیاں امریکی یا دوسرے بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد ہے حالانکہ حکومت پاکستان کے پاس اس کی دہشت گردی کے حوالے سے ایک بھی ثبوت نہیں۔ یہ ایک دو دن کا نہیں‘ مہینوں چلنے والا کام ہے۔ آپریشن رکنے کے بعد جو مشکلات پیدا ہو چکی ہیں اور آئندہ پیش آنے والی ہیں‘ ان کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ ہم نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جس پر بار بار غشی کے دورے پڑ رہے تھے‘ جب ہم نے اس کے ساتھیوں سے وجہ پوچھی‘ تو انہوں نے بتایا کہ اس کا بیٹا راستے میں بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر جاں بحق ہو گیا اور اس بے چاری نے کوشش کی کہ اپنا لعاب اس کے منہ میں ڈال کر اس کی جان بچا لے‘ مگر کامیاب نہ ہو سکی۔ اب یہ اپنے حواس میں نہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔
ریٹائرڈ میجر جنرل خواجہ راحت لطیف
جہاں ایک تکلیف دہ صورت حال کے مختلف پہلو سامنے آئے ہیں۔ ہم اس وقت جس بھنور میں پھنس چکے ہیں‘ اس میں یکسوئی کے ساتھ فوج کی حمایت ضروری ہے‘ مگر میں اپنے تجربات کی بنیاد پر دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ ہم امریکی چالوں کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے اس خطے میں اسٹریٹجک مفادات ہیں اور وہ پاکستان کی جوہری اثاثوں سے محروم کر دینے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے اور ایسے حالات پیدا کرتا جا رہا ہے ہماری فوجی طاقت پر بھی کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔ وہ بھارت کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے جو پاکستان کے پانی پر قبضہ کر کے ہمارے سرسبز علاقوں کو صحرا میں تبدیل کر دینا چاہتا ہے۔ ہمیں ان تمام پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ایک قومی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔
میرے خیال میں جمہوریت اور قومی اداروں کو فروغ دینے سے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہماری قوم کے اندر ایثار کا جذبہ فراواں ہے جس کا مظاہرہ تیس لاکھ متاثرین کی بے مثال مہمان نوازی کی صورت میں ہماری فوجی قیادت کو بالغ نظری اور جرأت سے کام لینا ہو گا اور پاکستان کے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دینا ہو گی۔ امریکہ سے ہمارے تعلقات خوشگوار ہونے چاہئیں‘ مگر اس کی جنگ اپنے ملک میں لڑنا ایک خطرناک عمل ہے جس کے باعث قبائلی علاقوں کے علاوہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی بحران جنم لے رہے ہیں۔ ہمیں بلوچستان کی بہت فکر کرنی چاہیے کہ وہاں غیر ملکی طاقتیں سرگرم عمل ہیں اور بغاوت جیسے حالات پیدا کر رہی ہیں۔