اُردوذریعہ تعلیم میری کامیابی کی ضمانت بنا
سی ایس ایس امتحان میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والی ڈاکٹر نورالعین فاطمہ کا انٹرویو
صائمہ اقبال جون ۲۰۰۹ء

دس مئی کا دن ایک طرح سے یادگار رہا کہ اُس روز میری ملاقات سی ایس ایس ۲۰۰۸ئ کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ڈاکٹر نورالعین فاطمہ سے ہوئی۔ صبح دس بجے جب میں ڈیفنس میں واقع ان کے گھر پہنچی‘ تو مجھے ان کے گھریلو ماحول پر مشرقیت کی گہری چھاپ نظر آئی۔ ان کے والد محترم جناب محمد عطائ الرحمن بٹ حبیب بنک میں ریجنل منیجر آپریشنز ہیں جبکہ والدہ ڈاکٹر قرۃالعین کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں شعبہ تدریس سے منسلک ہیں۔ اُردوڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ڈاکٹر نورالعین فاطمہ کا انٹرویو پیش خدمت ہے۔
میں نے ان کے تعلیمی پس منظر کے بارے میں سوال کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا تو انہوں نے یوں جواب دیا۔
’’میں ۱۹۸۳ئ میں لاہور میں پیدا ہوئی۔ میری پیدائش کے وقت میری والدہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی طالبہ تھیں‘ یہی وجہ ہے کہ میری پرورش میں میری نانی امی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ وہی میری پہلی استاد بھی ہیں۔ انہی کی کوششوں سے میں نے ایک سال میں دو دو جماعتیں پاس کیں۔ انہیں چونکہ اُردوادب سے خاصا لگاؤ ہے اس لیے میرے اندر بھی اس سے لگاؤ پیدا ہونا قدرتی امر تھا۔ میں نے گورنمنٹ کمپری ہینسؤ سکول وحدت روڈ سے میٹرک کرنے کے بعد کنیئرڈ کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ بعدازاں اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ۲۰۰۵ئ میں ایم بی بی ایس مکمل کیا۔ ‘‘
اس دوران ایک گول مٹول پیارا سا بچہ کھیلتا ہوا ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ میں نے خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بچے کو پیار کیا اور اس سے اس کا نام پوچھا تو وہ شرما کر ڈاکٹر نورالعین فاطمہ کی آغوش میں جا چھپا۔ میری حیرت اور مسرت بھانپتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ گویا ہوئیں۔
’’یہ میرا بیٹا طہٰ ہے‘ طہٰ چند ماہ کا تھا جب میں نے سی ایس ایس کی تیاری شروع کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں شاندار کامیابی عطا فرمائی۔ میرے شوہر ڈی ایم جی میں افسر ہیں۔‘‘
سوال: گویا آپ سی ایس ایس میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی پہلی والدہ کہلائی جا سکتی ہیں؟
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: جی اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ انہوں نے مجھے کامیابی سے نوازا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر مجھے اپنے گھر والوں کا تعاون اور رہنمائی حاصل نہ ہوتی تو ایسی عظیم کامیابی کے بارے میں سوچنا بھی عبث تھا۔
سوال: آپ ہمیں اپنے مشاغل کے بارے میں کچھ بتانا پسند فرمائیں گی؟
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: ہمارے گھر کا ماحول شروع ہی سے مذہبی اور تعلیمی رہا ہے۔ ہم دو بہنیں ہیں اور ہمارا کوئی بھائی نہیں۔ والدین نے روز اول ہی سے ہماری تربیت اس انداز میں کی کہ ہمارا رجحان مذہب کی طرف ہو گیا۔ ہم دونوں بہنوں نے حج اور عمرے کی سعادت بھی حاصل کی۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ کہ ہماری والدہ نے کبھی بھی ہمیں فضول قسم کے ٹی وی پروگرام نہیں دیکھنے دیے۔ ہمارے گھر میں ہندوستانی ٹی وی چینل بھی نہیں دیکھے جاتے۔ والدین نے ہم بہنوں کو شروع ہی سے مطالعے کی عادت ڈال رکھی ہے۔ اب تک مجھے بے شمار موضوعات پر کتب پڑھنے کا موقع ملا ہے جن میں ادب‘ تاریخ‘ علم نجوم‘ علم الدویات اور حالات حاضرہ قابل ذکر ہیں۔ قرۃ العین حیدر‘ اشفاق احمد مرحوم‘ بانو قدسیہ‘ انتظار حسین‘ مستنصر حسین تارڑ‘ عبداللہ حسین اور نسیم حجازی میرے پسندیدہ مصنفین ہیں۔ انگریز مصنفین میں سے چارلس ڈکنز اور اگاتھا کرسٹی کے ناول مجھ پر بے حد اثر انداز ہوئے ہیں۔
سوال: آپ سی ایس ایس کے امتحان میں شرکت کے خواہش مند حضرات کو کیا مشورہ دینا پسند فرمائیں گی؟
ڈاکٹرنورالعین فاطمہ: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سی ایس ایس میں کامیابی کا تمام تر دارومدار آپ کے منتخب کردہ مضامین پر ہوتا ہے جبکہ میرے تجربے کے مطابق قطعاً ایسا نہیں۔ آپ کسی بھی مضمون میں اچھے نمبر حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کو اس پر مکمل عبور حاصل ہو اور اس میں دلچسپی بھی ہو۔ جب میں نے ہند و پاک کی تاریخ‘ اُردوادب اور صحافت جیسے مضامین کا انتخاب کیا تو اکثر دوستوں نے میری ہنسی اُڑائی کہ ان مضامین میں اچھے نمبر حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے‘ لیکن میری حددرجہ دلچسپی اور مختلف ذرائع سے متعلقہ مواد کے حصول نے میرے دوستوں کی توقعات غلط ثابت کر دیں۔ چند کتابوں پر انحصار کرنے کے بجائے میں نے خاصی بڑی تعداد میں غیرنصابی کتب‘ رسائل‘ اخبارات اور انٹرنیٹ سے بھی مدد لی۔

سوال: انٹرویو کی تیاری کے سلسلے میں آپ طلبا کو کیا مشورہ دیں گی؟
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: بعض طلبا انٹرویو کو تحریری امتحان کے مقابلے میں کم اہمیت دیتے ہیں‘ میرے خیال میں یہ درست نہیں۔ انٹرویو کی باقاعدہ تیاری بے حد ضروری ہے۔ طلبا کو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مختلف موضوعات پر بحث مباحثہ کرنا چاہیے۔ مقابلے کے امتحان کے انٹرویو میں کامیابی کے لیے انگریزی زبان پر عبور بھی بے حد ضروری ہے‘ اس کے علاوہ آپ جو بھی جواب دیں پورے اعتمادکے ساتھ دیں۔ سوال: آپ نے اپنے تعلیمی میدان میں جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے ان کے پیچھے کون کون سے بنیادی عوامل کارفرما ہیں؟
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: میرے خیال میں جس چیز نے میری کامیابی میں سب سے بنیادی کردار ادا کیا وہ مطالعے کی عادت ہے۔ یہ عادت مجھے میری نانی اماں اور والدین سے ورثے میں ملی۔ میرے والدین کو جہاں کہیں سے بھی کوئی اچھی کتاب ملتی وہ ہم بہنوں کے لیے خرید کر لے آتے۔ ہمارے گھر میں آپ کو ہر کمرا کتابوں کی الماری سے سجا نظر آئے گا۔ اس شوق کی تسکین کے لیے انہوں نے ہم دونوں بہنوں کو ڈیفنس کلب کا ممبر بھی بنوایا جہاں نہ صرف ہمیں مہنگے ترین رسائل پڑھنے کا موقع ملا بلکہ شمشاد احمد صاحب جیسے تھنک ٹینکس کے ساتھ گفت و شنید کا بھی موقع ملا۔
سوال: آپ کے خیال میں انگریزی ذریعہ تعلیم بہتر ہے یا اُردو ذریعہ تعلیم؟
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: میں تو اُردو ذریعہ تعلیم ہی کو ترجیح دوں گی کیونکہ میں نے خود بنیادی تعلیم اُردو ذریعہ تعلیم میں حاصل کی۔ میرے خیال میں بچے کو بنیادی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ سکول میں اپنی توجہ صرف حصول علم پر مرکوز رکھتا ہے جبکہ انگریزی ذریعہ تعلیم میں اُسے ایک طرف تو نیا علم حاصل کرنا پڑتا ہے جبکہ عین اسی وقت اسے انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اس کی شخصیت دباؤ میں آ جاتی ہے۔ انگریزی زبان کے طور پر ضرور پڑھائی جانی چاہیے مگر پڑھائی کی زبان کے طور پر نہیں۔
سوال: آج کل ڈاکٹروں اور انجینئروں کا سی ایس ایس کے امتحانات میں شمولیت اختیار کرنے کا رجحان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ اپنے پیشے سے غداری کے مترادف نہیں کیونکہ حکومت نے آپ کے لیے ایم بی بی ایس کی تعلیم پر خاصا خرچہ کیا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: یہ سوال اکثر سی ایس ایس کرنے والے ڈاکٹر حضرات سے کیا جاتا ہے لیکن حقائق کچھ اور ہیں۔ دیکھیے ہمارے ملک میں ڈاکٹر اور انجینئر بہت مشکل سے بنتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کے ساتھ بالکل بھی منصفانہ رویہ نہیں اپنایا جاتا‘ عام طور پر ڈاکٹر حضرات یا تو بے روزگار رہتے ہیں یا پھر معمولی تنخواہوں پر دوردراز دیہات میں بھیج دیے جاتے ہیں جہاں نہ تو مناسب عملہ ہوتا ہے اور نہ ہی طبی سہولیات نیز ادویات کا بھی فقدان ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک خاتون ڈاکٹر کو کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اس کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ دوسری طرف سی ایس ایس کا امتحان ایک بالکل علٰحدہ سلیبس ﴿نصاب﴾ رکھتا ہے جس کی تیاری کسی ڈاکٹر کے لیے ہی سب سے مشکل مرحلہ ہو سکتی ہے۔ اب دوسری طرف آئیے‘ میں نے اپنے لیے جس شعبے کا انتخاب کیا وہ صحت ہی کا شعبہ ہے جس کی باریکیوں سے میں بخوبی واقف ہوں یوں نہ تو میری تعلیم ضائع گئی اور نہ ہی ایم بی بی ایس کی میری تربیت۔
سوال: عام طور پر طلبا پہلی بار سی ایس ایس امتحان میں ناکام ہونے پر اپنے مضامین تبدیل کر لیتے ہیں‘ کیا یہ رجحان درست ہے؟
ڈاکٹر نورالعین فاطمہ: انہیں ایسا کرنے سے پہلے اپنی تیاری کے طریقہ کار کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ جو طالب علم ایک مضمون میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا‘ ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے مضمون میں شاندار کامیابی حاصل کر لے۔

گفتگو کے دوران ان کے والد صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وہ ایک نہایت ملنسار اور خوش طبع انسان ہیں جن سے مل کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میں حبیب بنک میں ریجنل منیجر آپریشنز ہوں اور میرا زیادہ تر وقت بسلسلہ روزگار گھر سے باہر گزرتا ہے۔ انہوں نے یہ بتا کر مجھے قدرے حیران کر دیا کہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی خاطر انہوں نے اپنی ملازمت میں ترقی کے بہتیرے مواقع ضائع کر دیے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو وقت دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور دنیا کی بہترین کتب ان کے مطالعے کے لیے دستیاب کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عام طور پر لوگ اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دعا مانگتے ہیں اور بیٹیوں کی پیدائش پر اس قدر مسرور نہیں ہوتے جبکہ میری کوئی اولاد نرینہ نہیں اور مجھے اپنی تمام خوشیاں بیٹیوں ہی سے ملیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بیٹیاں زیادہ نصیبوں والی ہوتی ہیں اور والدین کے لیے حقیقی مسرت کا باعث بھی بیٹیاں ہی بنتی ہیں۔
اس دوران ڈاکٹر قرۃ العین دوپہر کے کھانے کا اعلان کر کے وہاں سے تشریف لے جا چکی تھیں۔ میں نے اس محب وطن علم دوست گھرانے کے ساتھ پُرتکلف کھانا کھایا جس کی یادیں تادیر قائم رہیں گی۔ کھانے کے دوران ڈاکٹر نورالعین فاطمہ کی نانی اماں شیریں صاحبہ سے بھی ملاقات ہوئی جنہیں دیکھ کر صحیح معنوں میں صنف آہن کا تصور ذہن میں راسخ ہوا۔ اس امر کااعتراف ڈاکٹر قرۃ العین نے اپنی گفتگو کے دوران بارہا کیا کہ آج وہ جس مقام پر ہیں اس میں ان کی بیوہ ماں کا کردار سب سے اہم ہے جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود انہیں نہ صرف بہترین تعلیم دلائی بلکہ اس انداز سے تربیت کی کہ آگے چل کر وہ خود بھی ایک مثالی ماں کے مرتبے پر فائز ہوئیں۔
جب میں شام کے چار بجے اس علم دوست گھرانے کے ہاں سے رخصت ہوئی تو میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان اُمنڈ رہا تھا اور یہ خیال بار بار میرے ذہن میں کچوکے لگا رہا تھا کہ اگر والدین اپنی اولاد کی درست خطوط پر تعلیم و تربیت کریں تو وہ آگے چل کر ان کے لیے دینی اور دُنیوی دونوں اعتبار سے باعثِ راحت بن جاتے ہیں۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ