آرٹس کونسل کراچی میں ایک شام ۔ جون ۲۰۰۹ء
ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کی قومی اور صحافتی اور علمی خدمات کے حوالے سے
ہر مکتبہ فکر کے ادیبوں‘ شاعروں‘نقادوں اور سماجی شخصیتوں
کے وسیع مشاہدات اور سچے محسوسات کا ایک حسین گلدستہ
مرتبہ:حسن امام صدیقی
پچھلے دنوں اپریل کے اوائل میں اُردوڈائجسٹ کے مدیر الطاف حسن قریشی کراچی آئے‘ تو آرٹس کونسل کے منتظمین نے ان کے ساتھ شام کی نشست کا اہتمام کیا۔ ان دنوں آرٹس کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب احمد شاہ ہیں جو ایک ممتاز کاروباری شخصیت ہونے کے علاوہ ادب اور آرٹ کے بڑے دلدادہ ہیں۔ اس تقریب میں ادب سے گہری دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات خاصی بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور یہ محفل رات دیر تک جمی رہی۔ خواتین بھی دُور دُور کی بستیوں سے آئی ہوئی تھیں اور ماحول بڑا پُرسکون تھا۔
جن اہل فکر و نظر نے اُردوڈائجسٹ کی صحافتی‘ ادبی اور قومی خدمات کے حوالے سے اظہار خیال فرمایا‘ ان میں جناب پروفیسر سحر انصاری‘ ڈاکٹر سجاد حسین‘ جناب عظیم سرور‘ جناب پروفیسر علی حیدر ملک‘ جناب احمد شاہ‘ محترمہ بلقیس اسلام‘ جناب حیدر علی حیدر شامل تھے۔ جناب حیدر علی حیدر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ان میں علم و ادب سے گہرا شغف ہونے کے علاوہ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا جذبہ روزافزوں ہے۔ وہ آج کل ایک فلاحی تنظیم ’’سائبان‘‘ سے وابستہ ہیں جو بے گھر افراد کو سائبان فراہم کرتا ہے۔ اس تنظیم کے چیئرمین ایک سینئر بیوروکریٹ اور بڑے عمدہ شاعر جناب حق نواز اختر ہیں جو ایک زمانے میں پاک سٹیل مل کے چیئرمین رہ چکے ہیں اور اپنی غیرمعمولی ذہنی اور انتظامی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے رہے ہیں۔
پروفیسر سحر انصاری ایک معروف شاعر اور ایک بلند پایہ نقاد ہیں۔ ان کا ادبی حلقوں میں احترام پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سجاد حسین علوم ابلاغیات میں پی ایچ ڈی ہیں اور ان کی ادبی تحریریں معروف ادبی جریدوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

جناب عظیم سرور نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ ریڈیو پاکستان میں گزارا ہے اور اپنی انفرادیت کا ایک نقش قائم کیا ہے۔ وہ اسلامی ادب کی تحریک میں پیش پیش ہیں اور صحت مند افکار کی ترویج کرتے رہتے ہیں۔ وہ ان دنوں ایک معروف کالم نویس کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ پروفیسر علی حیدر ملک اُردو کے پروفیسر اور کھلنا ﴿مشرقی پاکستان﴾ میں ہفت روزہ ’’قوم‘‘ کے ایڈیٹر تھے اور ان کی تحریریں بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ محترمہ بلقیس اسلام ایک ماہر تعلیم اور مشرق ویلفیئر ایسوسی ایشن کی صدر ہیں۔ حاضرین میں ڈیلی نیوز کے ادبی ایڈیشن کے انچارج جناب خورشید احمر کے علاوہ مختلف مزدور تنظیموں کے رہنما اور ادبی حلقوں کے سرگرم اشخاص شامل تھے۔
اس محفل میں گفتگو مختصر اور پُرمغز ہوئی جس کا محور ماہنامہ اُردوڈائجسٹ تھا۔ میرا اس ماہنامے سے تعلق اس وقت قائم ہوا جب میں مشرقی پاکستان کے ایک شمالی قصبے ایشرڈی میں طالب علم تھا۔ میرے والد محمد اسلام صدیقی جو ریلوے میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھے‘ وہ اُردوڈائجسٹ کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے اور ہمیں بھی اس کی طرف راغب کرتے رہتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ماہنامہ ہماری زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا‘ ہم اس کے ذریعے اپنی زبان کی اصلاح کرتے اور اپنے قومی شعور کو فروغ دیتے۔ روزنامہ جنگ کے بعد اُردوڈائجسٹ ہماری ذہنی تربیت اور معلومات میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
میں اس موقع پر اس امر کا اعتراف اور انکشاف ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب الطاف حسن قریشی وہ تنہا صحافی ہیں جو مشرقی پاکستان کے دوردراز علاقوں تک گئے اور حقائق کی تلاش میں عجب عجب خطرات سے بھی گزرتے رہے۔ انہوں نے ڈھاکہ‘ کھلنا‘ پاربتی پور اور ایشرڈی کے مشاعروں میں حصہ لیا اور نوجوانوں کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھا۔ ان دنوں جب مشرقی پاکستان کے حالات بڑی خوفناک شکل اختیار کر گئے تھے‘ وہ سرحدی علاقے میں وہاں بھی گئے جہاں بھارتی توپ خانے نے گولہ باری شروع کر دی تھی۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ میں قریشی صاحب کے ہمراہ ۵/ اکتوبر ۱۹۷۱ئ کی فلائٹ سے کراچی اور اس کے چند روز بعد ہی مشرقی پاکستان سے فضائی رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ وہ ہمارے قصبے ایشرڈی بھی آئے تھے اور ہمارے ساتھ قیام کیا تھا۔ آرٹس کونسل کراچی نے یادوں کے اس عظیم سرمائے کو محفوظ کرنے کی ایک اچھی کوشش کی ہے۔
احمد شاہ صاحب جنرل سیکرٹری الحمرا آرٹس کونسل کراچی:
الطاف حسن قریشی صاحب‘ محترم پروفیسر سحر انصاری صاحب‘ ڈاکٹر ساجد حسین صاحب‘ محترم پروفیسر علی حیدر ملک‘ محترم عظیم سرور‘ محترم حسن امام‘ محترمہ بلقیس صاحبہ‘ جناب اقبال خان‘ محمد ایوب‘ جناب مجید ابدانی‘ علاؤالدین شاہ صاحب اور معزز خواتین و حضرات! یہ ہمارے لیے بے حد خوشی کا موقع ہے کہ پروفیسر الطاف حسن قریشی آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔ الطاف حسن قریشی جو اپنے نام کے ساتھ پروفیسر نہیں لکھتے لیکن وہ تمام خصوصیات جو کسی شخص کو پروفیسر بناتی ہیں‘ ان کی ذات میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ میں اگست ۲۰۰۹ئ میں پچاس برس کا ہو جاؤں گا اور جب پانچ چھ سال کا تھا‘ تو گھر میں اُردوڈائجسٹ کے ساتھ ایک رشتہ قائم ہو گیا۔ والد صاحب گھر ادبی رسالے منگواتے تھے‘ ان میں یہ ماہنامہ سرفہرست تھا۔ میرے والد کٹر مذہبی آدمی تھے اور اپنے گھر میں کوئی بھی ایسی چیز داخل نہیں ہونے دیتے تھے جو اسلام سے مطابقت نہ رکھتی ہو اور جسے گھر کی خواتین نہ پڑھ سکتی ہوں۔ اُردوڈائجسٹ ایک ایسا رسالہ تھا جس میں ایسے مضامین بھی پڑھنے کو ملتے تھے جن کو مشعل راہ بنایا جا سکتا تھا۔ اس حوالے سے معاشرے میں صحت مند خیالات و افکار کو ترویج دینے میں اس ماہنامے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بعدازاں الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے ’’زندگی‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ بھی نکالا جو خالصتاً سیاسی اور جماعت اسلامی کے نظریات کا علم بردار تھا۔
میری الطاف صاحب سے آج پہلی ملاقات ہے لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ قریشی برادران نے کبھی اپنے بنیادی اصولوں سے روگردانی نہیں کی۔
ہم اپنے تمام ساتھیوں کی طرف سے اُنہیں یہاں خوش آمدید کہتے ہیں اور ان سے درخواست کریں گے کہ وہ آیندہ بھی یہاں تشریف لاتے رہیں۔ کراچی آرٹس کونسل میں سحرانصاری صاحب کی قیادت میں لٹریچر کے حوالے سے خاصا کام ہو رہا ہے۔ ایک عرصے تک ہمارے ہاں یہ بحث بھی چلتی رہی کہ صحافت الگ چیز ہے اور ادب الگ صنف‘ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر ادب کے ساتھ صحافت کی جائے تو آپ اس صحافت کو بھی ادب کے زمرے میں لا سکتے ہیں۔
پروفیسر سحرانصاری صاحب:
میں پہلے بھی کئی ایسی محفلوں میں شریک رہ چکا ہوں جہاں الطاف حسن قریشی صاحب جاتے رہے ہیں‘ جیسے ہمارے مشفق خواجہ صاحب کے ہاں یا پھر مرحوم منظرعلی خاں صاحب کے گھر پر جو بہت اچھے مزاح نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بینکار بھی تھے۔ جب کبھی ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور لوگ شش و پنج کا شکار ہونے لگتے ہیں‘ تو الطاف حسن قریشی کا قلم تجزیاتی انداز میں لوگوں کو سمجھاتا ہے کہ اصل صورت حال کیا ہے اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ مارشل لائ کا نفاذ ہو یا لسانی فسادات یا دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ‘ اُن کا قلم حالات کی درست منظرکشی کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی بھی برابر اس رسالے کی ترقی میں کوشاں رہے اور انہوں نے اس کا معیار اس قدر بلند کر دیا ہے کہ اس کے مقابلے کا کوئی اور رسالہ سامنے نہیں آیا۔ ریڈرڈائجسٹ اس معاملے میں ایک مثالی رسالہ تھا جس میں مختلف النوع چھوٹی چھوٹی چیزیں پیش کی جاتی تھیں جن سے انسان ادب‘ زبان‘ سیاحت‘ طب‘ مزاح‘ دین‘ سیاست اور بہت سے دوسروں شعبوں سے واقفیت حاصل کر لیتا تھا‘ اُردو زبان میں ریڈر ڈائجسٹ کی طرز پر جو پہلی مثال قریشی برادران نے قائم کی‘ وہ اُردوڈائجسٹ کی شکل میں آج ہمارے سامنے ہے۔ مختلف مضامین کی طباعت میں جو معیار اس وقت تھا‘ وہ آج بھی قائم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صحافیانہ نگارش جس میں زبان کی چاشنی بھی ہو‘ فکرانگیزی بھی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ مطالعے میں ایک لطف بھی محسوس ہوتا‘ تو وہ حسن ہمیں الطاف حسن قریشی صاحب کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ ایسی چیزیں ہمیں ابوالکلام آزاد یا مولانا ظفرعلی خان‘ شورش کاشمیری کی تحریروں میں ایک شان کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ ایسے صاحب اسلوب صحافی بہت کم ہوئے ہیں جن کی تحریر ہم پڑھیں تو محسوس ہو کہ ادب و ثقافت اور ہماری تہذیب یہ سب پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں اور ساتھ ساتھ آگہی اور فکر بھی ہمارے ذہنوں کو منور کر رہی ہے۔ منور سے یاد آیا کہ ہمارے بہت ہی عزیز دوست سید منور حسن جو چار سال تک ہمارے ہم جماعت بھی رہے‘ حال ہی میں وہ امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے ہیں اور قائدانہ صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔ جیسا کہ پچھلے دنوں کسی نے کالم لکھا ’’سید سے سید تک‘‘ تو سید مودودی(رح) کے بعد سید منور حسن اس قیادت میں آئے ہیں اور الطاف حسن قریشی صاحب کا بھی جماعت اسلامی سے خاصا گہرا تعلق ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے یہ ایک نیک فال ہے کہ ایسے قائدین اور ایسے صاحب فکر حضرات سامنے آئیں۔
الطاف حسن قریشی صاحب کی تو نصف صدی سے زیادہ کی خدمات ہیں اور ان کے تربیت یافتہ شاگرد اب اس روشنی کو اور آگے بڑھا رہے ہیں۔ مجھے ادبی کمیٹی کی طرف سے الطاف حسن قریشی صاحب کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالااور یہاں تشریف لائے۔ ان کے انٹرویوز پر مشتمل کتابیں مثلاً ’’ملاقاتیں‘‘ پڑھ کر بھی انسان خاصا کچھ حاصل کرتا ہے۔ اصل بات انٹرویو لینے والے میں ہوتی ہے جو اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو کرید کرید کر اس کی شخصیت کے مختلف پہلو قاری کے سامنے لے کر آتا ہے۔ وہ دراصل گفتگو میں ایسے پہلو نکال لیتے ہیں جو آدمی عام حالات میں بیان نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بڑی بڑی شخصیتوں کے خیالات صفحہ قرطاس کی زینت بنائے‘ اس لحاظ سے وہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں اور ہمارے معاشرے کے لیے ان کی موجودگی ایک نیک فال ہے۔ میری دعا ہے کہ قریشی برادران اپنے قلم سے اسی طرح افکار کی روشنی عام کرتے رہیں!

محترمہ بلقیس اسلام:
یہ تقریب خصوصی طور پر الطاف حسن قریشی صاحب کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے جن کا مشرقی پاکستان سے گہرا لگاؤ رہا ہے۔ وہ تقریباً پچاس سال سے صحافت سے منسلک چلے آ رہے ہیں۔ میں ایک عرصے سے ان کا اُردوڈائجسٹ پڑھتی آئی ہوں۔ میری زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ مجھے اُردوڈائجسٹ پڑھنے کا ایک جنون ہو گیا تھا‘ اس حوالے سے مجھے کئی دفعہ اپنے والد صاحب سے ڈانٹ بھی سننا پڑی۔ ڈائجسٹ پڑھتے وقت اکثر میرے ذہن میں یہ خیال آتا کہ اس قدر اچھا لکھنے والا خود کتنا اچھا ہو گا‘ اس لیے میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان سے ملوں اور آج یہ خوبصورت شخصیت میرے سامنے ہے۔ یوں میری برسوں کی دیرینہ خواہش آج پوری ہوئی ہے۔ میرا تعلق کورنگی ٹاؤن سے ہے۔
جناب پروفیسر علی حیدر ملک:
صحافت کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ہماری صحافت مختلف ادوار سے گزری ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بہت سے اچھے اخبارات اور رسائل سامنے آئے اور الطاف حسن قریشی صاحب نے ایک نئی راہ نکالی اور اب اسے پچاس سال ہونے کو آ رہے ہیں۔ دراصل اُردوڈائجسٹ کا اجرائ ایک نئی قسم کے رسالے کا اجرائ تھا۔ قریشی برادران اقرار کرتے ہیں کہ اس کا نمونہ وہی تھا جو دنیا کے مقبول ترین رسالے ریڈرڈائجسٹ کا ہے۔ اچھی تقلید میں کوئی قباحت نہیں۔ سرسید احمد خان(رح) نے جب تہذیب الاخلاق نکالا تو سپیکٹیٹر کی کاپیاں ان کے لیے مثال بنیں۔ اُردوڈائجسٹ کو بڑی پذیرائی ملی‘ کیونکہ اس میں متنوع مضامین کے ساتھ فکشن اور شعر و ادب کو بھی جگہ دی گئی تھی۔ سیاسی تجزیے الطاف صاحب آج تک تحریر فرما رہے ہیں جنہوں نے اس رسالے کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ ہماری زندگی میں اُردوڈائجسٹ کا کردار کیا ہے‘ تو وہ یہ ہے کہ اس نے مختلف علوم اور شعبہ ہائے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر طبع زاد اور ترجمہ شدہ مضامین شائع کیے جن سے ہماری صحافت اور ادب میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ اس نے لوگوں میں مطالعے کا شوق پیدا کیا اور صحافت میں اعلیٰ قیادت کو فروغ حاصل ہوا۔
جناب الطاف حسن قریشی نے ایم اے سیاسیات میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور سیاست پر ان کی خاصی گہری نظر ہے۔ اس پہلو سے ان کا ایک حوالہ مشرقی پاکستان ہے۔ وہ اس وقت بھی بہت پُرامید تھے اور آج بھی بے حد پُرامید ہیں۔ انہوں نے دس مارچ کی شام فاران کلب کراچی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وکلائ کی تحریک اور عوام کی بیداری ضرور رنگ لائے گی اور چیف جسٹس بحال ہو کے رہیں گے۔۱۶/ مارچ کی صبح اُن کی بات سچ ثابت ہو گئی۔ ہمیں سبق یہ ملا ہے کہ اگر رائے عامہ بیدار ہو اور میڈیا اس کا صحیح اور موثر انداز میں اظہار کرتا رہے تو کوئی سیاسی قیادت یا سیاسی پارٹی پاکستان کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔
جناب عظیم سرور:
الطاف حسن قریشی صاحب سے میری باقاعدہ ملاقات ۱۹۷۰ئ میں ہوئی تھی۔ وہ ایک پُر آشوب دور تھا۔ مشرقی پاکستان میں مختلف لہریں چل رہی تھیں۔ ملک میں انتخابات ہونے والے تھے۔ مارشل لائ کی چھتری تھی اور مشرقی پاکستان کی لیڈر شپ مغربی پاکستان کی قیادت کی بے اعتنائی کو خوب اُچھال رہی تھی۔ ۵۶۹۱ئ کی جنگ کے موقع پر مشرقی پاکستان کے عوام کو شدت سے اس بات کا احساس کہ اُن کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس احساس کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمن نے چھ نکات پیش کیے جن سے بنگالیوں کے اندر ایک جذباتی فضا پروان چڑھنے لگی۔ اُسی زمانے میں الطاف صاحب نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور اس دورے کے تاثرات اور مشاہدات پر اپنا مشہور سلسلہ مضمون ’’محبت کا زم زم بہ رہا ہے‘‘ تحریر کیا جو جولائی ۱۹۶۶ئ سے دسمبر ۶۶ئ تک شائع ہوتا رہا۔ ان کا یہ مضمون مشرقی پاکستان کی روح کی آواز تھا لیکن مغربی پاکستان میں ایسے بہت سے سیاسی لوگ‘ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ والے مسلسل اس زم زم میں زہر گھول رہے تھے۔ ’’محبت کا زم زم بہ رہا ہے‘‘ نے الطاف صاحب کو پاکستان سے محبت کرنے والوں میں مقبول اور محبوب بنا دیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۷۰ئ میں ان کی زیرِ ادارت کراچی اورملتان سے روزنامہ ’’جسارت‘‘ کا اجرائ ہوا تو اس کی افتتاحی تقریب انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں منعقد ہوئی اور یہاں میں نے الطاف صاحب کو پہلی بار تقریر کرتے سنا تھا۔
وہ بڑی دلسوزی کے ساتھ تقریر کر رہے تھے۔ یوں تھا کہ ایک ندی رواں ہے اور اِ س ندی میں زم زم کا پانی ہے جو اسے سچا اور شفاف بنا ہے۔ ہماری تاریخ میں وہ ادیب اور شاعر جنہوں نے صحافت کے ذریعے لوگوں میں شعور پیدا اور بیدار کیا‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا حسرت موہانی‘ مولانا ظفر علی خاں ایسی ہی بے چین روحیں تھیں جنہوں نے لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا تھا۔ الطاف حسن قریشی ہر چند کہ مولانا نہیں‘ لیکن یہ بھی انہی مولانائوں کے قبیلے سے ہیں‘ اس لیے میں ان کو مولانا الطاف حسن قریشی کہتا ہوں۔
٭٭
اُردو ڈائجسٹ نومبر ۱۹۶۰ئ میں منظرِ عام پر آیا۔ یہ اُردو کا پہلا ڈائجسٹ تھا جس نے اُردو صحافت کو بین الاقوامی ٹچ دیا۔ ایوب خان کا ڈنکا بجانے والوں میں محترم قدرت اللہ شہاب‘ جناب الطاف گوہر‘ جناب جمیل الدین عالی‘ جناب ایس ایم ظفر اور جسیم الدین جیسے دانش ور شامل تھے۔ ایوب خان رائٹرز گلڈ کی تقریب میں بھی تقریر فرماتے جس پہ کسی نے کہا تھا۔ ò
کیا لکھاتا ہے‘ کیا پڑھاتا ہے
قدرت اللہ شہاب کیا کہنے

ایوب خان ملک پر پوری طرح چھا گیا تھا اور نواب آف کالا باغ نے اچھے اچھوں کے اعصاب توڑ دیے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی جا چکی تھی اور مشرقی پاکستان کی ہر آواز کو ’سیٹ‘ کرایا گیا تھا۔ پھر ہوتے ہوتے ۱۹۶۸ئ آگیا اور ملک میں انقلاب کا دس سالہ جشن منایا جانے لگا۔ اس جشن کو Decade of Reforms کا نام دیا گیا۔ الطاف صاحب کے ساتھ میری یادیں اسی ’’عشرہ انقلاب‘‘ کے جشن کے موقع پر شائع ہونے والے ڈائجسٹ کے ۲ صفحات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان دو صفحات میں انہوں نے اس عشرۂ انقلاب کا جائزہ لیا تھا۔ یہ دو صفحات اندھیرے کو چیر کر آنے والی ایک ننھی سی کرن کے مانند تھے۔ ایک صفحے پر تعریف ہی تعریف ۔ وہ تمام باتیں جن کا ڈنکا ۱۰ سال سے پیٹا جا رہا تھا۔ ایک ایک سطر میں ایک ایک کارنامہ بیان کیا گیا تھا۔ پھر اس کے سامنے والے صفحے پر الطاف صاحب نے لکھا: ’’لیکن اس کے برعکس لوگ یہ بھی کہتے ہیں۔‘‘ لوگ کیا کہتے ہیں‘ وہ الطاف صاحب لکھتے گئے۔ اس صفحے کی ایک ایک سطرحشر برپا کرنے والی تھی۔
٭٭
میں نے حمید کاشمیری کے کھوکھے سے یہ ڈائجسٹ خریدا۔ رات اُس ایک صفحے کو بار بار پڑھا۔ اس دوران جب بھی کھڑکی سے باہر کی طرف تاریک آسمان کو دیکھتا‘ تو اُس پر روشنی کی ایک کرن نظر آتی۔ میں صبح وہ ڈائجسٹ ریڈیو اسٹیشن لے کر گیا۔ کئی لوگوں کو وہ ایک صفحہ پڑھوایا۔ اس دن مشہور ڈرامہ نگار خواجہ حسین الدین ریڈیو اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے وہ رسالہ لے لیا۔ میں نے سوچا کہ صدر سے دوسرا ڈائجسٹ لے لوں گا‘ لیکن ریگل کے سٹاپ پر ایک سٹال سے پرچہ اُٹھایا اور یونہی کھول کر دیکھا تو وہ صفحہ جو اُجالوں کا سفیر تھا‘ غائب تھا۔ پھر ایک کے بعد دوسرا ڈائجسٹ تیسرا‘ چوتھا‘ ہر کاپی سے وہ صفحہ غائب۔ دوسرے سٹال پر بھی اُردو ڈائجسٹ کا یہی حال تھا۔ سٹال والے سے پوچھا‘ تو اُس نے بتایا کہ تھانے سے لوگ آئے تھے اور وہ ہر سٹال پر جا کر ڈائجسٹ کا یہ صفحہ پھاڑ کر لے گئے۔ سٹال والا حیرت زدہ تھا۔ ’’پتا نہیں جی اُس میںکیا لکھا تھا؟‘‘ میں اُس شام اُداس گھر گیا‘ لیکن بہت سوچنے کے بعد میرے دل نے تسلی دی کہ جو ڈکٹیٹر ایک صفحے سے ڈرنے اور چند سطروں سے خوف کھانے لگے‘ وہ زیادہ دن حکومت نہیں کرسکتا۔
٭٭
پھر اس کے بعد ایسا ہی ہوا۔ الطاف صاحب نے اُس ایک صفحے میں جو لکھا تھا کہ ’’کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں‘‘ تو وہ سب لوگ اپنے اپنے کہے کے ساتھ منظرِعام پر آنے اور اُن کے الفاظ سنّاٹے میں گونجنے لگے۔ آوازیں بھی توانا ہونے لگیں۔ لوگ سڑکوں پر آتے گئے اور پھر ایک دن وہ آمر رخصت تو ہوگیا‘ لیکن جاتے جاتے ایک وار کر گیا اور وہ ملک کو اپنے سے بھی بُرے ایک آمر کے حوالے کرگیا جس کی نشے میں ڈوبی ہوئی آواز نے کہا:
’’میرے عزیز ہم وطنو.!‘‘ یہ ۱۹۶۹ئ کی بات ہے۔
٭٭
اُردو ڈائجسٹ میں الطاف صاحب نے تحریروں اور تجزیوں کے ساتھ ساتھ ملک کی نامور شخصیات سے ملکی مسائل پر انٹرویو کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے ذریعے ملک کے لیے فکر کرنے والوں کو ایک فورم مہیا کر دیا۔
۱۹۷۰ئ کے انتخابات ہو چکے اوراس کے بعد ۱۹۷۱ئ کا پُرآشوب زمانہ آیا۔ مجھے یاد ہے مشرقی پاکستان سے مولوی فرید احمد کراچی آتے تھے۔ جو ایوب خان کی قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی ایک توانا آواز تھے۔ انہوں نے ہوٹل ’’جبیس‘‘ میں عصر کی نماز کے بعد مصلّے پر بیٹھ کر پریس کانفرنس کی وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے کہ ملک کو بچالو۔ مشرقی پاکستان الگ نہیں ہونا چاہتا‘ لیکن مغربی پاکستان
میں کچھ لوگ اسے الگ کر کے پھینکنا چاہتے ہیں۔ مولوی فرید احمد کی یہ پریس کانفرنس الطاف صاحب کی اس رپورٹ کی تصدیق کر رہی تھی جو انہوں نے محبت کا زم زم بہ رہا ہے کی صورت میں پیش کی تھی۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے حالات کا مشاہدہ کرکے‘ سیاسی صورتِ حال کا مطالعہ کرکے‘ نگری نگری گھوم کر لوگوں کے دلوں میں اُتر کر اور عوام کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تھا اور اس پورے تاثر کو باطل قرار دیا تھا کہ اگر مشرقی پاکستان الگ کرایا جائے‘ تو پاکستان بہت خوشحال ہو جائے گا۔ مجھے ظہور الحسن بھوپالی شہید نے بتایا تھا کہ جنگ کے زمانے میں ایم ایم احمد جو جنرل یحییٰ کا پرسنل سیکرٹری تھا‘ اعداد و شمار کا پلندہ لے کر آیا تھا اور مشرقی پاکستان الگ ہونے کی صورت میں پاکستان کی خوشحالی کے فسانے سنا رہا تھا۔ اس کے بعد کی صورتِ حال ہمارے سامنے ہے۔ جو آٹا اس زمانے میں ایک روپے کا سِیر ہوا کرتا تھا اب ۲۴ روپے سیر تک پہنچ گیا ہے۔ لوڈشیڈنگ جس سے لوگ ناواقف تھے‘ آج روزانہ ۱۰ گھنٹے کے لیے اندھیرے ہمارے مقدر ہو چکے ہیں۔
٭٭
مشرقی پاکستان الگ ہوا‘ تو بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔ مغربی پاکستان کا نام پاکستان ہوا اور یہاں جمہوری بلکہ عوامی حکومت قائم ہوگئی۔ میں اُس زمانے میں ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں باقاعدگی سے کالم لکھ رہا تھا۔ ایک بار لاہور گیا تو الطاف صاحب سے نیاز حاصل کرنے اُن کے دفتر گیا۔ ڈاکٹر اعجاز صاحب اور شامی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد دفتر سے نکلا تو ایک سرکاری گاڑی وہاں آکر رُکی۔ یہ پولیس کی گاڑی تھی۔ میں نے سوچا کوئی افسر ملاقات کے لیے آئے ہوں گے‘ لیکن جب صبح اخبار اُٹھایا‘ تو اُس کی سُرخی الطاف حسن قریشی کی گرفتاری کی خبر سنا رہی تھی۔ ڈاکٹر اعجاز‘ مجیب الرحمن شامی‘ پنجاب پنچ کے ایڈیٹر حسین تقی اور اُن کے پبلشر سمیت ۵ صحافی عوامی حکومت نے گرفتار کرلیے تھے۔ دوپہر کو میں ان سے ملنے تھانے پہنچا۔ غالباً یہ سول لائنز تھانہ تھا جو اسمبلی بلڈنگ کے سامنے مال روڈ کے کنارے واقع ہے۔
الطاف صاحب کو جمہوری حکومت کے پہلے اسیر صحافی کا اعزاز ملا۔ ملاقات ہوئی تو مطمئن تھے۔ شامی صاحب ہنس رہے تھے۔ ڈاکٹر اعجاز مسکراتے نظر آئے۔ حسین تقی بھی مطمئن تھے البتہ اُن کا پبلشر جو ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ تھا‘ ایک طرف بیزار سا بیٹھا تھا۔
٭٭
پانچ صحافی ایک کمرے میں قید تھے۔ اس پر کسی نے کہا تھا۔
’’جب بھٹو صاحب نے اسلامی سوشلزم کی اصطلاح پیش کی تو ہماری سمجھ ہی میں یہ اصطلاح نہ آتی تھی لیکن پانچ قیدیوں کو ایک حوالات میں بند دیکھا تو اسلامی سوشلزم کی بات سمجھ میں آگئی۔ حوالات کے ایک کمرے میں جیل کی سلاخوں کے ساتھ ’اسلام‘ کو پایا اور دیوار سے ٹیک لگائے ’سوشلزم‘ بیٹھا تھا۔‘‘
الطاف صاحب بھٹو حکومت میں نہ صرف خود قید ہوئے بلکہ ’’اُردوڈائجسٹ اور زندگی‘‘ کئی بار بند کیے گئے۔ زندگی کا ڈکلیریشن بھی منسوخ کرایا گیا‘ لیکن وہ ہر ہفتے کسی رسالے کے پرانے ڈکلیریشن کی بنیاد پر ایک نئے نام سے شائع ہو جاتا تھا۔
٭٭
انہوں نے کامریڈ کی قید کا مزہ بھی چکھا اور ’’امیر المومنین‘‘کی بند جیل کی ہوا بھی کھائی۔ جب جنرل ضیائ الحق نے ناراض ہو کر انہیں جیل بھجوادیا تھا۔ ویسے اُنہیں جنرل ضیائ الحق کے مارشل لائ کے بعد اُن کا پہلا انٹرویو لینے اور شائع کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
٭٭
الطاف صاحب نے پاکستان کی سیاسی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور پھر اسے اپنے قارئین کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ اُن میں سیاسی شعور بیدار ہو۔ اُن کے مزاج میں صبر اور ضبط بلا کا ہے۔اُن کو میں نے مشرقی پاکستان کے بحران کے وقت بہت فکر مند دیکھا۔ وہ جس سے ملتے‘ اُس کے قلب اور روح میں اُتر کر اس پوری صورتِ حال کی تصویر حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ پر ۸۰ کی دہائی پاکستان کے لیے ایک اور آزمائش لائی۔ غالباً یہ ۱۹۸۰ئ کے اوائل کی بات ہے کہ ایک شام الطاف صاحب میرے گھر تشریف لائے۔ وہ کراچی آئے تھے اور لوگوں سے افغانستان میں روس کی آمد کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کر رہے تھے۔ کمرے میں بیٹھتے ہی انہوں نے کہا:
’’پاکستان سخت خطرے میں ہے۔ روس افغانستان میں آگیا ہے اور اب اُس کا اگلا قدم پاکستان میں ہوگا‘ اس لیے لوگ ابھی سے سُرخ سویرے کی آمد کی باتیں کرنے لگے ہیں۔‘‘
میں نے اُس شام اُن کی خدمت میں روسیوں کی نام نہاد بہادری اور افغانستان کی تاریخِ آزادی
کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کیں اور بتایا کہ وہ یہاں سے واپس چلا جائے گا اور بعد میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ روس کی تا ریخ تو یہ ہے کہ وہ جہاں گیا‘ وہاں سے واپس نہیں ہوا۔
میں نے عرض کیا: ’’افغانستان کی بھی تاریخ ہے کہ انہوں نے کسی حملہ آور کو اپنے ملک میں ٹکنے نہیں دیا‘ چنانچہ اب تاریخ سے تاریخ لڑے گی اور مجھے یقین ہے فتح افغانستان کی ہوگی۔‘‘
الطاف صاحب کے چہرے پر شادابی آگئی تو میں نے اسی طرح کی مزید خوش کُن باتیں شروع کردیں۔ ایک دم انہوں نے کہا:
’’آپ میرے ساتھ اسی وقت جناب سلیم احمد کے گھر چل سکتے ہیں؟‘‘
میں نے کہا’’جی چلیے۔‘‘
الطاف صاحب نے سلیم بھائی کے کمرے میں قدم رکھتے ہی کہا:
’’یہ عظیم سرور تو ایک اور تھیوری پیش کررہے ہیں۔‘‘
سلیم بھائی نے سگریٹ کا کش لگایا اور پوچھا:
’’ہاں بھئی سرور! کیا ہے تمہاری تھیوری؟‘‘
میں نے وہ تھیوری جس سے الطاف صاحب کے چہرے پر شادابی آئی تھی‘ سلیم بھائی کی خدمت میں پیش کر دی۔ انہوں نے غور سے سننے کے بعد اس تھیوری کو قبول کرتے ہوئے ایک جملہ کہا:
’’ہاں یار! نپولین اور ہٹلر کو روسیوں کے ہاتھوں نہیں جنرل فروری اور جنرل مارچ کی برف باری سے شکست ہوئی تھی۔‘‘
اس کے بعد ہم سب اُٹھ کر یوسف پلازہ کے ریستوران میں کھانا کھانے چلے گئے۔ واپسی پر مجھے گھر چھوڑتے وقت الطاف صاحب نے کہا۔
’’آپ کا کیا خیال ہے سوویت یونین کو ٹوٹنے میں کتنا عرصہ لگ جائے گا؟‘‘
میرے منہ سے نکلا:
’’دس سال۔‘‘
الطاف صاحب نے پوچھا ’’اس کے بعد کیا ہوگا؟‘‘
میں نے کہا ’’پھرہندوستان ٹوٹے گا اور اس کے بعد امریکا۔‘‘
٭٭
۱۹۸۰ئ میں بہت کم لوگ کہتے ہوں گے کہ روس ٹوٹ جائے گا اور افغانستان روسیوں کو بھگا دے گا‘ لیکن وہ شام جب الطاف صاحب پاکستان کے لیے بہت اُداس تھے‘ ایک وجدان والی شام تھی۔ بعد میں ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ اُس شام کی ساری بات چیت تحریر کر ڈالیں تاکہ یہ شائع ہو کر تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن جائے۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور یہ تمام روداد اُردو ڈائجسٹ میں شائع ہوئی۔
٭٭
فاران کلب میں کئی سال بعد الطاف صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ملاقاتوں میں طویل تعطل کا گلہ کیا۔ وہ دوسرے موضوعات پر بات کر رہے تھے اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ مجھ سے پوچھیں کہ یہ بتائیے امریکا کو افغانستان سے جانے اور ٹوٹنے میں کتنا عرصہ لگے گا۔‘‘ ویسے اب تو مشہور روسی دانش ور نے بھی کہہ دیا ہے کہ امریکا ۱۱۰۲ میں ٹوٹ جائے گا۔ اوبامہ امریکا کا گوربا چوف ثابت ہوگا اور امریکا سے ۶ ملک برآمد ہوں گے۔ پھر CIA کے امریکی مشیر نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا میں بیروزگاری اور مہنگائی وہ طوفان لانے والی ہے کہ وہاں مارشل لائ لگانا اور اتنے بڑے ملک میں مارشل لائ کے لیے بیرونِ ملک تعینات ساری امریکی فوج کو واپس بلانا پڑے گا۔
٭٭
ہم کراچی والے مہمان نواز لوگ ہیں۔ ۱۹۸۰ئ میں ہم نے الطاف صاحب کو سوویت یونین کے ٹکڑوں کا تحفہ دیا تھا۔ اس بار امریکا کے ٹوٹوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
گر قبول افتد زہے عزّوشرف۔
الطاف حسن قریشی:
دوست احباب نے مشرقی پاکستان کا بھی ذکر کیا ہے اور پاکستان کے بحرانوں کا بھی۔ ہم کسی نہ کسی بحران میں گھرے رہتے ہیں۔ میں آپ کے سامنے چند باتیں رکھنا چاہتا ہوں جو مستقبل میں کام کرنے کا ایک راستہ سجھا سکتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ ہمارا ملک ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے ہمیں عطا کی ہے۔ پاکستان کے قیام سے پورے عالم اسلام کی تقدیر بدلی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے بعد یکے بعد دیگرے پوری دنیا میں مسلمانوں کے محکوم علاقوں میں آزادی کی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں جن کا رول ماڈل پاکستان تھا‘ جو جمہوری اور آئینی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا‘ یہ ملک وجود میں نہ آتا‘ تو کروڑوں مسلمان جانوروں کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے۔ جس علاقے سے میں ہجرت کر کے آیا ہوں‘ اس کا نام سرسہ ﴿ضلع حصار﴾ ہے۔ اس شہر میں مسلمانوں کی اقلیت اور ہندوؤں کی بھاری اکثریت تھی جبکہ تحصیل میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل تھی۔ غیرمسلم سیاسی اور معاشی اعتبار سے بڑے منظم تھے اور ان کے اندر مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت بھڑک اُٹھی تھی۔ وہ ہندو اور سکھ طلبہ جن کے ساتھ ہم پہلی جماعت سے پڑھتے آ رہے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کا دم بھرتے تھے‘ قرارداد لاہور کے بعد ان کے رویے بدلتے چلے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہمارے کیمپوں پر بھی حملہ آور ہونے کی سازشیں بھی کرتے رہے۔ ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا اور ہندوستان میں غیرمسلموں اور مسلمانوں کا ایک ساتھ رہنا قریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ ہماری وہاں حیثیت شودروں سے بھی کم تھی۔ اگر پاکستان وجود میں نہ آتا‘ تو میں کسی دفتر کا چپراسی یا محلے کا خاکروب ہوتا۔ آج اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی بدولت کیا ترقی عطا کی ہے‘ کیا انعامات دیے ہیں اور لوگوں کے چہروں پر میں جو شادابی دیکھتا ہوں اور دولت کی جو ریل پیل نظر آتی ہے‘ اور نوجوانوں کے سینے بلند عزائم سے پُر ہیں‘ یہ سب اس لیے ہے کہ آج ہم ایک آزاد قوم ہیں اور ہمیں ایک جان دار قیادت بھی میسر آ سکتی ہے۔ ہمیںسب سے پہلے یہ حقیقت اپنے پورے وجود کے اندر جذب کر لینی چاہیے کہ ہمیں ہر قیمت پر اپنی آزادی‘ اپنے اداروں اور اپنے عوام کی حفاظت کرنی ہے اور اپنے وطن کو عظیم تر بنانے کے لیے نظم و ضبط‘ ایثار اور عزمِ راسخ سے کام لینا ہے۔
دوسری بات یہ کہ پاکستان میں آج تک جتنے بحران اور حوادث آئے ہیں‘ ان کی بنیادی وجہ آئین اور قانون سے انحراف اور اقتدار کی لامحدود خواہش ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ۷/ اکتوبر کو۵۸ئ پہلا مارشل لائ لگا‘ تو میں اُس وقت ایم اے پولیٹیکل سائنس کا طالب علم تھا۔ اعلان ہوا کہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان اگلے روز قوم سے خطاب کریں گے۔ ان دنوں ہمارے
محلے میں غالباً ایک ہی ریڈیو تھا‘ تقریر سننے کے لیے اہل محلہ ایک بیٹھک میں جمع ہوئے۔ اپنے ملک پر قابض ہو جانے والے فوجی سپہ سالار نے کہا کہ سیاست دانوں نے ملک تباہ کر دیا ہے‘ نظم و ضبط یکسر ختم ہو گیا ہے‘ اور کرپشن کا زہر ہماری رگ و پے میں اُتر چکا ہے‘ اب میں آ گیا ہوں‘ اور سارا گند صاف کر کے دم لوں گا‘ صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام ہو گا اور قومی زندگی میں انقلابی اصلاحات کی جائیں گی۔ اہل محلہ نے جنرل ایوب خان کی تقریر کا والہانہ خیرمقدم کیا اور مسرت بھرے لہجے میں کہا کہ اب پاکستان کی تقدیر یکسر بدل جائے گی۔ میں اس وقت بے حد پریشان اور سخت رنجیدہ تھا اس لیے میں نے غم زدہ لہجے میں اپنے محلے والوں سے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عمل شروع ہو گیا ہے‘ کیونکہ وہ دستور جو مشرقی پاکستان‘ مغربی پاکستان کے درمیان ایک عمرانی معاہدے کی حیثیت رکھتا تھا‘ اس کے ختم ہو جانے سے آئینی اور سیاسی وحدت کا پل ٹوٹ گیا ہے۔ بدقسمتی سے بارہ تیرہ سال بعد میرے خدشات درست ثابت ہوئے۔
اس اندوہناک تجربے کی بنیاد پر میرے اس یقین میں کئی گنا اضافہ ہو گیا کہ ہمارے معاملات میں بہتری کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم دستور سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہیں اور اس کے اندر مختلف ریاستی اداروں کا جو دائرہ کار طے پایا ہے‘ اس کے مطابق کام کرتے رہیں تو انشائ اللہ بحرانی کیفیت بھی ختم ہو جائے گی اور ایک تابناک مستقبل بھی تعمیر کیا جا سکے گا۔
میں تیسری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ معاشرے میں جو ایک افراتفری سی ہے‘ اس کابڑا سبب معاشرتی‘ معاشی اور سیاسی انصاف کا فقدان ہے۔ قومی قیادت پر یہ لازم آتا ہے کہ انصاف کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل کرے اور جس کا جو حق بنتا ہے وہ اسے پہنچایا جائے۔ اس ضمن میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے مل جل کر کام کریں اور سیاسی جماعتیں اور تمام ادارے اس امر کے پابند کیے جائیں کہ وہ عوام‘ صوبوں اور مختلف طبقات کے ساتھ عدل سے کام لیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسا کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے‘ کیونکہ ہمارے عوام کے اندر اپنے حقوق اور اپنے فرائض کا شعور بیدار ہو چکا ہے۔
ایک اور اہم اور بنیادی بات میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنی زندگی میں سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنی چاہیے۔ ہمارا قومی شعار یہ ہو کہ ہم اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کی پالیسی نے ایک منفی اور تباہ کن کردار ادا کیا ہے۔ بھائی چارے کا اسلامی تصور اسی لیے ختم ہو رہا ہے کہ ہمارے اندر مساوات کا رنگ قائم ہی نہیں ہو سکا اور معاشرے میں مافیاؤں کی عملداری نظر آتی ہے جو ریاست کے وجود کو چیلنج کر رہے ہیں اور دولت کی غیرمصنفانہ تقسیم کے سبب صدیوں کے اندر باغیانہ جذبات پرورش پا رہے ہیں اور محکوم طبقے سرکشی پر اُتر آئے ہیں۔
ہماری بقا اور ہماری زندگی کے ارتقا کا دارومدار سیاسی عمل پر ہے جو قیادت بھی فراہم کرتا ہے اور شہریوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رکھتا ہے۔ یہ عمل بار بار کی فوجی مداخلت کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا ہے‘ مگر سیاسی لیڈروں اور سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کے نتیجے میں اس کی کوئی نہ کوئی صورت باقی رہی ہے۔ اس کار عظیم پر ہمیں سیاسی قوتوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ بلاشبہ بعض تاریخی اور سماجی عوامل کے باعث ہمارے ہاں اعلیٰ درجے کی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں فروغ نہ پا سکیں‘ لیکن اس عظیم حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آمریت کے خلاف جدوجہد کی جو عظیم الشان مثالیں پاکستان میں قائم ہوئی ہیں‘ وہ اپنی نظیر آپ ہیں ہمارے شاعر‘ ہمارے قلم کار زیادہ تر سیاست دانوں کا مذاق اُڑاتے آئے ہیں اور دین دار طبقوں پر ملا کی پھبتی کستے آئے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل بعض صورتوں میں اصلاح کا محرک بنتا ہے‘ مگر قوم کے ہی خوابوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ دو رکعت کے امام کس کام کے ہیں‘ مگر یہی تو وہ لوگ ہیں جو ہمارے دینی ورثے کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ اب دیکھیے کہ جس ملک میں ساٹھ اور باسٹھ سالہ زندگی میں تیس برس سے زائد فوجی حکومتیں ’’سایہ فگن‘‘ رہی ہوں اور بندوق کی نوک سے حکمرانی کی جاتی ہو‘ وہاں سیاست دانوں کا اپنے قدموں پر کھڑے رہنا‘ سیاسی کارکنوں کا اپنا وجود قائم رکھنا ایک بہت بڑا تاریخی معجزہ ہے۔ بعض سیاسی خامیوں کے باوجود ہمیں پوری قوت کے ساتھ یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم ہر حال میں سیاسی عمل کا تسلسل چاہتے ہیں اور کسی صورت فوج کو اقتدار میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہاں اہلِ علم بیٹھے ہیں ان کے ساتھ دل کی باتیں کی جائیں۔ عزت افزائی کا بہت شکریہ‘ اور اس امر کا بھی کہ آپ نے غیر معمولی نظم و ضبط اور چاہت کا اظہار کیا۔ پاکستان زندہ باد
|