 |
پاکستان کے استحکام کی صبرآزما جنگ ۔ جون ۲۰۰۹ء
ہمارے عوام کے اندر یہ گہرا شعور بیدار ہو چکا ہے کہ ہمارا ملک شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے اور ہماری فوج ان علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہے جو اپنی ایک جداگانہ تاریخی پہچان رکھتے ہیں۔ ہمارے افسروں اور جوانوں کو ایک ایسی طاقت کا سامنا ہے جو بظاہر دشمن کے زمرے میں نہیں آتی‘ لیکن اسے درپردہ متعدد غیرملکی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔ وہ خونخوار لوگ تحریک طالبان پاکستان کا لبادہ اُوڑھے ہوئے ہیں‘ مقامی آبادی میں اس لیے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے کہ ان کا ایجنڈا نظام عدل کا قیام تھا مگر بتدریج ان میں جرائم پیشہ عناصر اور غیر ملکی جتھے بھی شامل ہوتے گئے جنہوں نے شہریوں اور سرکاری افسروں کے اغوا کا خوفناک سلسلہ شروع کر دیا۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے اسکول راکٹوں سے مسمار کیے جانے لگے۔ مسلح جتھے ے پولیس تھانوں اور فوجی چوکیوں پر قابض ہوتے گئے اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ انسان سرِعام جانوروں کی طرح ذبح کیے جانے لگے۔ قبروں سے لاشیں نکال کر درختوں سے لٹکا دی گئیںکہ لوگ دہشت گزدہ ہو جائیں۔ ان کا اسلام ڈاڑھی کے اندر محدود ہو گیا اور ڈاڑھی نہ رکھنے والے اور ایک حد سے کم ڈاڑھی رکھنے والے مشرک اور کافر قرار پائے۔ ہماری سیکورٹی فورسز جو انہیں اپنا اثاثہ سمجھتی تھیں اور ان کے خلاف آپریشن کرنے سے گریزاں چلی آ رہی تھیں‘ ان پر تابڑ توڑ حملے ہونے لگے۔ سول انتظامیہ عملاً مفلوج ہو کے رہ گئی اور طاقت کے بل بوتے پر طالبان کے کمانڈروں نے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ ملکی سلامتی اور استحکام کی خاطر آئینی حکومت نے سیاسی لیڈروں اور عسکری قیادت کے مشورے سے فوج کو کارروائی کے احکام صادر کیے۔
آگے ۲۳/مئی کو منعقد ہونے والی پائنا راؤنڈ ٹیبل کی رُوداد شائع کی جا رہی ہے جس میں مالاکنڈ ڈویژن میں رونما ہونے والے ہوشربا واقعات اور ان کی مختلف تعبیرات وضاحت سے بیان ہوئی ہیں۔ ان سے اُلجھے ہوئے معاملات کے سمجھنے میں خاصی رہنمائی موجود ہے۔ اسی ماہ کے آخر میں اے پی این ایس کے وفد کے ساتھ ہمیں پشاور میں اعلیٰ سیاسی اور انتظامی شخصیات سے تبادلہ خیال کرنے‘ پشاور اور مردان کے پریس کلبوں اور متاثرین کے کیمپوں میں جانے کے مواقع میسر آئے ہیں۔ مردان شہر میں متاثرین کے دل دہلا دینے والے واقعات کے پہلو بہ پہلو پختون بھائیوں کی بے مثال میزبانی اور ایثارکیشی کے لازوال مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔ شدید گرمی کے باوجود کیمپوں کے مکین صبر و شکر کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ وہ اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے تھے اور انہیں اپنا مستقبل بھی غیر یقینی دکھائی دے رہا تھا‘ تاہم پاکستان کی فلاحی تنظیمیں اپنی بساط سے بڑھ کر سرگرم نظر آئیں اور پورے ملک سے خداترس اور مخیر حضرات کشاں کشاں چلے آ رہے تھے اور یہی لازوال جذبہ پاکستان کے استحکام کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
پاکستان سے کی جانے والی زیادتیوں کا ادراک اور احساس موجودہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو بڑی شدت سے ہوا ہے اور ہماری اشرافیہ کے بلند وبالا نمائندے بھی یہ اعتراف کرنے لگے ہیں کہ ہماری فوجی‘ سیاسی اور مذہبی قیادت کی بے تدبیری اور بے بصیرتی سے فاٹا اور پاٹا میں حالات انتہائی خطرناک موڑ کاٹ رہے ہیں اور امریکہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ باخبر حلقوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام آباد کے فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں اور امریکہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں لڑنا چاہتا ہے اور ہماری مسلح افواج اس کام کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ امریکی میڈیا میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ نان سٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھ لگ جائیں گے اور ان کی حفاظت کے لیے امریکہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مجبور ہو گا‘ اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر قابض ہونا چاہتا ہے اور اسی غرض سے سی ٹی بی ٹی کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔
آج ہمارا اہم ترین مسئلہ اپنے گھر کو درست رکھنا اور صحیح سمت میں مضبوط قدم اٹھانا ہے۔ ہماری اولین ترجیح پندرہ بیس ہزار ریاست دشمن عسکریت پسندوں کو الگ تھلگ کرنا‘ ان کا اصل چہرہ عوام کو دکھاتے رہنا‘ ان کی سرکوبی کے لیے فوج کی پشت پناہی کرنا اور اس کی کارکردگی پر مسلسل نگاہ رکھنا ہونی چاہیے۔ ہماری دوسری ترجیح کا محور متاثرین کی جنگی بنیادوں پر بحالی اور اچھی حکمرانی کے لیے ایک جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر قرار دیا جائے‘ تیسرا کرنے کا کام قومی کو بنیادی اصلاحات کے لیے تیار کرنا ہے۔ ایک وسیع تر تناظر میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ کامل غوروخوض کے بعد تعلیمی‘ عدالتی‘ سماجی اصلاحات نافذ کی جائیں اور جو محرکات انتہا پسندی اور طبقاتی کشمکش کو ہوا دے رہے ہیں‘ ان کا سائنسی انداز میں قلع قمع کیا جائے۔
خوش قسمتی سے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں فوجی قیادت نے مسلح افواج کا امیج بہتر بنانے اور انہیں سویلین حکومت کے تحت لانے کے سلسلے میں چند اچھے اقدامات کیے۔ جنرل پرویز اشفاق کیانی‘ جنرل پرویز مشرف کی حکمت عملی کے برعکس صراط مستقیم پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۰۸ئ کے انتخابات میں فوج کو الگ تھلگ رکھا اور ایک طویل دور کے بعد منتخب حکومت کے احکام بجا لانے کی پالیسی اختیار کی‘ تمام سول اداروں سے حاضر اور ریٹائرڈ فوجی افسر واپس بلا لیے۔ وہ اپنا سارا وقت فوجی اور سیکورٹی امور پر صرف کر رہے ہیں اور بے خطر اگلے مورچوں میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے نئے جی ایچ کیو کی تعمیر کا منصوبہ ختم کر کے ۲۰۰۸ئ کو جوانوں کا سال قرار دیا اور ان کی تنخواہوں میں قابل ذکر اضافہ کیا۔ ان کی سنجیدہ کوششوں سے فوج کا امیج بحال ہوا ہے اور جو افسر اور جوان آپریشن ’’راہ راست‘‘ میں جام شہادت نوش کر رہے ہیں‘ انہیں عوام قومی ہیروز کا درجہ دے رہے ہیں۔ ہماری افواج کا مورال آج اس لیے بلند ہے کہ انہیں مقصد کی صداقت پر کامل یقین ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف آپریشن میں انہیں عوام کی عظیم اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔
وہ بیشتر دینی جماعتیں جن کے وادیٔ سوات‘ بونیر اور باجوڑ میں اثرات ہیں‘ وہ فوجی آپریشن کے اس لیے خلاف ہیں کہ ماضی میں اس کے نتائج خطرناک نکلے ہیں اور مسئلہ حل ہونے کے بجائے ناقابل علاج ہو جاتا ہے۔ ان کی دلیل میں بڑا وزن ہے‘ مگر آپریشن راہِ راست فوجی اقتدار کے بجائے عوام کا مینڈیٹ کی عملداری کے لیے کیا جا رہا ہے‘ جسے مختصر‘ محدود‘ برق رفتار اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب فوج کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو اور اسے یہ بھی پختہ یقین ہو کہ وہ اپنے وطن کے تحفظ کی خاطر میدانِ جنگ میں اُتری ہے۔
بے کس تیس لاکھ متاثرین پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر عدم استحکام سے بھی دوچار کر سکتے ہیں اور اس پورے خطے کی کایا پلٹ بھی سکتے ہیں۔ پاکستان کے اندر اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اپنے دامن میں ان گنت خطرات لیے ہوئے ہے۔ ناگہانی طور پر لاکھوں انسانوں کا بے گھر اور بے آسرا ہو جانا اور ان کی دیکھ بھال پر کماحقہ توجہ نہ دینا‘ انہیں طالبان کی طرف مائل کر سکتا ہے جو غریبوں کے حق میں
آوازیں اُٹھاتے اور انہیں فائدے بھی پہنچاتے ہیں‘ چنانچہ ہمارے حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کو اس امر کا کامل ادراک ہونا چاہیے کہ ہمیںمصیبت زدہ لوگوں کے دل اور دماغ جیت لینے کا ایک اچھا موقع میسر آیا ہے‘ اور ہمیں عبادت سمجھ کر ان کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا اور حسن سلوک اور فراخ دلی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرنا ہوں گی۔ اگر ہم دریا دلی اور فیاضی کا سچا مظاہرہ کریں‘ تو یہ تیس لاکھ نفوس پاکستان کی بہترین سپاہ ثابت ہوں گے اور وہ خود منظم ہو کر نام نہاد طالبان کو اپنی بستیوں سے نکال باہر کریں گے۔ کیمپوں میں اس وقت بمشکل پندرہ بیس فیصد متاثرین قیام پذیر ہیں‘ انہیں صوبہ سرحد کے علاوہ پنجاب کے سکولوں اور کالجوں میں پناہ دینا‘ ان کے آرام کا پورا پورا خیال رکھنا‘ ان کے لیے سماجی اور تفریحی سرگرمیاں منظم کرنا اور ان کے علاقوں میں ایک عمدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر شروع کر دینا چاہیے۔ پاکستان کے مستقبل کا بہت بڑا انحصار ان متاثرین کے مستقبل پر ہے۔ وہ اچھی یادیں لے کر واپس جائیں گے‘ تو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ ان کی زندگی کی ساری متاع لٹ چکی ہے‘ ہمیں ان کی زندگی کے جملہ اسباب اچھے معیار کے ساتھ فراہم کرنا ہوں گے اور ان کی دینی تربیت کا نظام بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں خدشہ یہ ہے کہ حکومت کی مشینری جس طرح ۵۰۰۲ئ کے زلزلے میںنااہل ثابت ہوئی اور ایک دنیا کویہ پیغام چلا گیا تھا کہ ان کی امداد مستحقین تک نہیں پہنچ پائی تھی‘ کہیں اس بار بھی ایک ایسا ہی رسوا کن تاثر قائم نہ ہو جائے۔ ہم نے کیمپوں میں انٹرنیشنل کمیونٹی کو سرگرم نہیں دیکھا اور باہر سے امداد بھی بہت کم آ رہی ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور منتظمین کو اپنی دیانت‘ امانت اور صلاحیتِ کار کا ایک معیار قائم کرنا اور بدعنوانیوں پر سختی کے ساتھ قابو پانا ہو گا۔ اب تاثر یہ پھیلا ہوا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈالر حاصل کرنے کے لیے متاثرین کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے اور ہمارے مالیاتی امور کے منتظمین کشکول لیے پھر رہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے اور اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی انفراسٹرکچر مستحکم کرنے کے لیے پولیس کا معیار ہر پہلو سے بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ پشاور کے سی پی او جناب صفت غیور نے جس مردانگی اور بے جگری سے دہشت گردوںکا مقابلہ کیا‘ ان کی عظمت کردار سے ہماری تاریخ کے صفحات پر ایک سنہری نقش ثبت ہوا ہے۔ ان کی درخشندہ مثال سے یہ پیغام چلا گیا ہے کہ اگر پولیس فورس کو اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ تربیت اور مالی وسائل فراہم کر دیے جائیں تو وہ نیم بغاوت پر قابو پا سکتی ہے۔ اسی طرح سول انٹیلی جنس دوسری خفیہ ایجنسیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے‘ مگر اس کا نظام فوجی حکومتوں کے زمانے میں بہت کمزور پڑ چکا ہے۔ ہمارے خیال میں پیراملٹری فورسز کی جدیدخطوط پر صف بندی اور اسلحہ بندی سے ہر طرح کی شورش سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے۔ فوج تو اس وقت استعمال کی جانی چاہیے جب ریاست کے وجود کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہو۔
ہمیں اپنے رب کی عنایات پر کامل بھروسا ہے کہ دوچار ماہ میں حالات معمول پر آ جائیں گے‘ مگر انتہاپسندی کے بطن سے جو تلخ حقیقتیں نمودار ہوئی ہیں‘ وہ ایک وسیع تر قومی آپریشن کا تقاضا کرتی ہیں۔ نظام عدل کا مطالبہ جو مالاکنڈ ڈویژن سے اُٹھا ہے‘ وہ پورے پاکستان کا مطالبہ ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے فاضل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اس اہم ترین معاشرتی ضرورت پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے جس قومی عدالتی پالیسی کا اعلان کیا ہے‘ اس کی رو سے مقدمات کے فیصلے ایک معین مدت کے اندر کرنے کی پابندی ہوئی۔ ان کی طرف سے اس پختہ عزم کا بھی اظہار ہوا ہے کہ عدالتوں سے کرپشن ختم کر دی جائے گی۔ ان اصلاحات پر عمل درآمد سے یقینا اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور جیلوں کے حالات بھی قدرے بہتر ہوں گے‘ مگر ہمارے حد سے زیادہ بگڑے ہوئے حالات انقلابی تبدیلیوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان جو ہولناک فاصلے پیدا کیے گئے ہیں‘ وہ ہمارے وطن کو ایک خوفناک طبقاتی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اسلام کو بدنام کرنے والے نام نہاد طالبان تو شاید ایک مدت کے بعد قصۂ پارینہ بن جائیں‘ مگر پندرہ کروڑ عوام جو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور جن کی خون پسینے کی کمائی پر مراعات یافتہ طبقے شاندار محل تعمیر کر رہے ہیں اور ان کے حصے کی دولت سمیٹ کر پاکستان سے باہر بھیج رہے ہیں‘ وہ ہر صوبے میں عَلم بغاوت بلند کریں گے۔ مالاکنڈ میں جاگیردارانہ نظام طالبان نے ختم کر دیا ہے‘ اب یہی کام بپھرے ہوئے عوام بڑی خونخواری سے سرانجام دیں گے اور ظالموں‘ غاصبوں اور مافیاؤں کے سر قلم کر کے دم لیں گے‘ تاہم اب عدل اور مساوات کا نظام قائم کر کے خون خرابے کے بغیر ایک نرم انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنا اسلوب زندگی اور اپنا اسلوب حکمرانی یکسر تبدیل کرنا ہو گا۔ وفاقی حکومت کی شاہ خرچیوں کا یہ حال ہے کہ اس نے گیارہ سو ارب روپے کے داخلی اور نو ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ایک سال میں لیے ہیں جو ہمارے گزشتہ ایک عشرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ایک نظام تعلیم اور ایک نصاب تعلیم نافذ کر کے ہم طبقاتی کشمکش میں کمی لا سکتے ہیں اور عوام کو سماجی تحفظ فراہم کر کے انہیں بے روزگاری اور مہنگائی سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ دے سکتے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ دو برسوں میں اپنی کامیابی کے اہم سنگ میل ثبت کیے ہیں۔ عدلیہ آزاد ہو گئی ہے‘ میڈیا حقائق اور اسرار کے پردے چاک کیے دے رہا ہے۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں اور ان کے شعور کے آگے اب افسانے ٹھہر نہیں سکتے۔ فوج کو اپنے حدود میں رہنے کا سلیقہ آ گیا ہے اور دہشت گردی کے مقدر میں شکست لکھ دی گئی ہے۔ پاکستان ایک عظیم طاقت بن کے اُبھرتا جا رہا ہے اور سیاست دان پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے اجتماعی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی استحکام کی بھی زندہ علامتیں ہیں۔
آزمائش کی اس گھڑی میں ایمان افروز احساسات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ماضی میں صوبہ سرحد کو پنجاب سے طرح طرح کی شکایات رہتی تھیں۔ ہم پشاور اور مردان گئے تو ارباب حکومت اور عوام کو حکومت پنجاب اور وہاں کے عوام کی گراں قدر امداد کا مداح پایا۔ اسفندیارولی نے بیان دیا کہ امداد فراہم کرنے میں پنجاب سب پر سبقت لے گیا ہے۔ مردان کی معروف سیاسی شخصیت اور وزیراعلیٰ سرحد کے والد بزرگوار نے کہا کہ ہمارے پاس اہل پنجاب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے متاثرین کے لیے اپنے وسائل کے منہ کھول دیے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ حکومت کی طرف سے دس فیصد اور عوام کی طرف سے نوے فیصد امداد آ رہی ہے۔ ایک واقعہ سناتے ہوئے ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ایک صاحب کراچی سے آئے اور اپنا نام ظاہر کیے بغیر پانچ کروڑ کا چیک دے گئے۔
یہ واقعہ بھی پہلی بار پیش آیا ہے کہ کسی سیاست دان نے اپنی طرف سے پانچ کروڑ کا عطیہ دیا ہے اور یہ اعزاز جناب سینیٹر اسحاق ڈار کو حاصل ہوا ہے۔ لوگ توقع کر رہے ہیں کہ باوسائل سیاست دان‘ صنعت کار اور جاگیردار آگے آئیں گے اور جن کے اربوں ڈالر بیرونی ملکوں میں جمع ہیں‘ ان کا ایک حصہ پاکستان منتقل کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لیں گے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں یہ اُمید کی جا رہی ہے کہ سیاست دان قائدانہ کردار ادا کریں گے اور قوم کے اندر اپنے وطن عزیز کے تحفظ اور اس کے استحکام کے لیے ہر محاذ پر ڈٹ جانے کی روح پھونک دیں گے اور دشمنوں کو ہماری صفوں میں رخنہ اندازی کی اجازت نہیں دیں گے۔ وقت یقینا بہت کڑا ہے اور خدا کے فضل سے عوام کا عزم اور شعور بھی بے پایاں اور بے کراں ہے۔
|
|
|