قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا سدِباب۔ نومبر ۲۰۰۹ء
قومی اہمیت کی راؤنڈ ٹیبل کی روداد
روداد کی تلخیص: الطاف حسن قریشی
وادیٔ سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں کامیاب فوجی آپریشن کے بعد عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں قدرے ٹھہراؤ محسوس ہوا تھا ، مگر اکتوبر کے شروع ہوتے ہی ان میں یک دم تیزی آ گئی۔ پشاور کے خیبر بازار میں درجنوں شہری خون میں نہا گئے ، جبکہ ۱۰/اکتوبر کی صبح حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس فوجی اسٹکیر کے ساتھ کیری وین میں سوار ہو کر جی ایچ کیو پر حملہ آور ہوئے ، دو اعلیٰ فوجی افسر اور پانچ جوان گولیوں کا نشانہ بنے اور دہشت گرد چھبیس افراد کو یرغمال بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی بازیابی کے لیے فوج کو اگلی صبح کمانڈو آپریشن کرنا پڑا اور چوبیس گھنٹوں کے اندر خونیں ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ، تاہم اس واقعے سے پورا ملک بری طرح لرز اُٹھا۔بعد ازاں لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت اور مناواں اور بیدیاں میں پولیس کی تربیت گاہوں میں ایک ہی روز دہشت گردی کی تین خونیں وارداتیں ہوئیں۔ ان میں حملہ آور بھی ہلاک ہوئے اور سیکورٹی جوان بڑی بہادری سے اپنی جانوں پر کھیل گئے جس کے باعث پاکستان کا دل بہت بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔ ۲۰/ اکتوبر کی دوپہر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں دو خود کش حملوں میں اساتذہ کے علاوہ طالبات بھی شہید ہوئیں اور پورے ملک میں ایک سراسیمگی پھیل گئی ، البتہ یونیورسٹی کی انتظامیہ ، وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر انوار حسین صدیقی اور طلبہ پُر تشدد انتہا پسندی کے خلاف پُر عزم دکھائی دیے جبکہ ہمارے وزیرِ داخلہ رحمن ملک سخت بوکھلائے ہوئے تھے۔
قومی سلامتی کی اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر ۲۲/اکتوبر کی سہ پہر پائنا راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت ممتاز پروفیسر ڈاکٹر محمد وسیم نے فرمائی۔ مقررین میں دفاعی اور خارجی امور کے ماہرین ، تجربے کار صحافی اور اہلِ قلم اور سول سوسائٹی کی معروف شخصیات شامل تھیں۔ جنہوں نے اپنے مشاہدے ، تجزیے اور طویل تجربے کے مطابق ملکی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر فکر انگیز گفتگو بھی کی اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی پیش کیں۔ ان کے افکار و خیالات کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔
سیکرٹری جنرل پائنا
الطاف حسن قریشی نے اپنے تعارفی کلمات میں معزز حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بحران کی سنگینی ہم سے بنیادی مسائل پر گہرے غوروخوض کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمارے لیے یہ امر باعثِ افتخار ہے کہ آج کی شام پروفیسر ڈاکٹر محمد وسیم راؤنڈ ٹیبل کی صدارت فرما رہے ہیں جو ہمارے عہد کے ایک مایہ ناز سوشل سائنسٹ ہیں۔ خوش قسمتی سے پروفیسر ڈاکٹر سید فاروق حسنات بھی ہمارے درمیان موجود ہیں جو آج کل امریکی یونیورسٹی مڈل ایسٹ میں علم السیاست کے پروفیسر ہیں۔ ہمارے ایک اور قومی دانش ور اور سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد احمد خان بھی راہنمائی کے لیے دستیاب ہیں جو سفارت کاری کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ فہم و فراست کے حامل دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل ﴿ر﴾ خواجہ راحت لطیف ، بریگیڈئیر ﴿ر﴾ ظفر اقبال چودھری اور بریگیڈئیر ﴿ر﴾ فاروق حمید خان بھی ہمارے پینل میں شامل ہیں۔ متعدد علمی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف اور سیاست کے مزاج آشنا جناب قیوم نظامی اور کہنہ مشق صحافی جناب ریاض احمد چودھری ، صاحبِ طرز کالم نگار جناب میاں سیف الرحمن اور جواں ہمت ایڈیٹر جواد فیضی ہماری دعوت پرآئے ہیں۔ حُسنِ اتفاق سے قاری احمد میاں تھانوی بھی اس نشست میں موجود ہیں۔ انجینئر جناب انور حسین مجاہد اور قومی شعور سے آراستہ محترمہ ناہید طاہر بھی اس اہم راؤنڈ ٹیبل میں شریک ہیں۔ ان کے علاوہ ہم ڈاکٹر محمد حفیظ اور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے افکارِ تازہ سے مستفید ہو سکیں گے جو پنجاب یونیورسٹی میں سوشیالوجی اور علومِ ابلاغ عامہ کے پروفیسر ہیں۔
سب سے پہلے ہمیں ان عناصر کا پوسٹ مارٹم کرنا ہو گا جو ہمارے ملکی ، علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس تجزیے کی روشنی میں اس امر کا تعین کیا جاسکے گا کہ یہ جو میدانِ کارزار سے وسیع تر افکار کی جنگ ہے ، اس میں کامیابی کے لیے کون کون سے عوامل کن کن طریقوں سے بروئے کار لائے جائیں۔ علومِ سیاسیات کے طالب علم کی حیثیت سے میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو پانچ گروپس میں تقسیم کرتا ہوں۔ غالباً ایک گروہ ان پُر جوش اور جنگجو افراد پر مشتمل ہے جو افغانستان پر امریکی غاصبانہ قبضے کے شدید مخالف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور فوج نے امریکی غلامی قبول کر لی ہے ، اس لیے ان کے خلاف ہتھیار اُٹھانا اور ان پر خود کش حملے کرنا عین تقاضائے جہاد ہے۔ ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس میں شریعت کا ایک محدود اور گمراہ کن تصور سرایت کر گیا ہے اور خوارج کی طرح اسلام کی ایک سخت گیر تشریح پر یقین رکھتا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے نافذ کرنا چاہتا ہے۔ تیسرا گروہ شاید حالات کے نشیب وفراز سے اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ جمہوری اور آئینی جدوجہد سے ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی ، اس لیے وہ تشدد کے راستے پر چل نکلا ہے۔ چوتھا گروہ امیر اور غریب کے درمیان آمدنیوں ، زندگی کی سہولتوں اور معاشرتی رویوں میں بڑھتے ہوئے فرق کو دہشت گردی کے ذریعے ختم کرنے میں سرگرم ہے۔ پانچواں گروہ ، جو بہت بڑی تعداد میں ہے ، ان جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل ہے جو دولت کے انبار سمیٹنے کی خاطر شہریوں کی گردنیں بھی کاٹتے ہیں اور بیرونی طاقتوں سے اسلحہ اور فنڈز بھی بٹورتے رہتے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق طالبان کا ایک بڑا حصہ پس ماندہ علاقوں میں معاشرتی ، اقتصادی اور سیاسی ترقی کا آرزو مند ہے اور مستقل بنیادوں پر قیام امن کے لیے ایک منصفانہ معاشرے کا طلب گار ہے۔
میرا یہ تجزیہ اگر درست ہے ، تو ہمیں علمائ کا تعاون حاصل کرنا ہو گا جو بیک زبان دہشت گردی اور خود کش حملوں کی مذمت کریں ، انہیں بنیادی اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیں جن میں ہر فرد کی جان ، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اور وہ بھٹکے ہوئے طالبان کو راہِ راست پر لانے کے لیے ایک حکیمانہ طرزِ عمل اپنائیں ۔ اس کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہو گا اور اسے اس بات پر قائل کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کے دل دہلا دینے والے مناظر دکھانے سے بچوں ، عورتوں اور نوجوانوں میں خوف پیدا ہوتا ہے ، ان کے حوصلے پست ہوتے ہیں جبکہ قوم کو اس نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا بے حد ضروری ہے۔ ہمیں سیاسی قیادتوں سے بھی کہنا چاہیے کہ وہ پس ماندہ اور احساسِ محرومی کے شکار علاقوں میں عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے دیانت داری اور تیز رفتاری سے کام کریں اور لوگوں کو معاشرتی انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ یہ راؤنڈ ٹیبل افواجِ پاکستان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ احساس بھی دلاسکتی ہے کہ آپریشن میں کامل احتیاط سے کام لینا ، طاقت کے استعمال کو محدود رکھنا ، قبائل کو اپنے ساتھ ملانے کی حکمتِ عملی اپنانا اور آپریشن کو نتیجہ خیز بنانا حقیقی کامیابی کی ضمانت ہو گا۔
پروفیسر ڈاکٹر سید فاروق حسنات
میں سب سے پہلے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اس خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے کہ دہشت گردی کا خاتمہ دو چار مہینوں میں ہو جائے گا۔ جب کسی ملک میں نیم بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ، تو وہ تین چار مراحل سے گزرتی ہے اور قومی قیادت کو غیر معمولی تدبر اور قوتِ برداشت سے کام لینا پڑتا ہے۔ سری لنکا میں عسکریت پسندی اور خونریزی بیس پچیس برسوں پر محیط رہی جس میں اس کے دو صدر اور دو وزیر اعظم ہلاک ہوئے۔ مجھے ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں وہاں جانا پڑا ، تو میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ تامل ٹائیگرز مذاکرات کے لیے کسی قیمت تیار نہیں۔ ہمارے ساتھ کچھ طلبہ ایسے بھی تھے جن کا ان سے ایک گہرا تعلق تھا۔ ہم نے ان کے ذریعے عسکریت پسندوں کو مذاکرات پر قائل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی ، مگر ان کی لغت میں بات چیت کی اصطلاح سرے سے موجود ہی نہیں تھی ، چنانچہ وہ مرحلہ گزر گیا اور آخری فیصلہ بندوق کی نوک پر ہوا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جنوبی وزیرستان میں جو انارکی پھیل چکی ہے ، اس پر طاقت کے ذریعے قابو پانے کے سوا غالباً اب اور کوئی چارہ نہیں رہا۔ یہ آپریشن سوات کے مقابلے میں انتہائی مشکل اور خطرات سے پُر ہے ، مگر پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ فوجی قیادت نے سول حکومت کی منظوری اور قومی اتفاقِ رائے سے اس علاقے میں پیش قدمی کی ہے اور اسے بڑی حد تک عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس اعتبار سے یہ آپریشن ماضی کے بلوچستان اور مشرقی پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن سے یکسر مختلف ہے جس کا مینڈیٹ ریاست کی عمل داری قائم کرنا اور منتخب حکومت کے لیے مذاکرات کے راستے کھول دینا ہے۔
ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ سرکشی اور شورش کی سرکوبی اور مکمل خاتمے کے عموماً تین مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں عسکریت پسندوں کو فوج کے ذریعے زیر کر لینا ، دوسرے میں اقتصادی ، معاشرتی اور سیاسی اصلاحات نافذ کرنا اور شدت پسندوں کو ان قبائل سے الگ تھلگ کر دینا جو پُر امن ہیں اور پاکستان کے وفادار ہیں۔ فاٹا کی آبادی تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس میں بیشتر قبائل پاکستان کے وفادار ہیں ، مگر معاشی اور معاشرتی بدحالی کا شکار ہیں۔ ہم بدقسمتی سے گزشتہ باسٹھ برسوں میں وہ علاقے قومی دھارے میں نہیں لا سکے جو ناقابلِ تسخیر خیال کیے جاتے تھے۔ انگریز ، روسی اور امریکی انہیں زیر نہیں کر سکے۔ آج اگر پاکستانی فوج نے انہیں زیر کر لیا ، تو ہماری ذمے داری کئی گنا بڑھ جائے گی اور حکومت کو فزیکل انفراسڑکچر فراہم کرنا اور ہسپتال ، ڈسپنسریاں ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیاں اور اقتصادی ترقی کے ادارے بڑے پیمانے پر تعمیر کرنا ہوں گے۔ میرے نزدیک سب سے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ ہماری موجودہ قیادت ان علاقوں میں اصلاحات کا جال بچھانے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے جہاں فوجی آپریشن ہو رہے ہیں۔ زخموں کو مندمل کرنا اور بگڑے ہوئے لوگوں کو راہِ راست پر لانا ایک انتہائی کڑے امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب تک یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ہر معاملے میں لیت و لعل اور تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے۔ سترہویں ترمیم کی تلوار ابھی تک لٹکی ہوئی ہے جس کے خاتمے کا ڈیڑھ سال پہلے اعلان ہوا تھا جس نے ہمارے پورے سیاسی نظام کو تضادات میں جکڑ ا ہوا ہے۔ بلوچستان کا پیکج جس کا شور ایک مدت سے سننے میں آ رہا ہے ، وہ ابھی تک غوروخوض کی سرجری سے گزر رہا ہے اور وہاں نیم بغاوت جیسی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ میرے خیال میں وقت کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ دستوری ، سیاسی ، اقتصادی اور معاشرتی اصلاحات کا نفاذ فوری طور پر کیا جائے کہ ہماری قومی بقا کا انحصار ایک عظیم سماجی تبدیلی پر ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ قومی زندگی میں ایک نظم و ضبط پیدا کرنے اور شہری ذمے داریوں کی بجا آوری کے لیے ہمیں معاشرتی علوم کا مضمون پہلی جماعت سے دسویں جماعت کے درجے تک پڑھانا چاہیے۔ ہم تو اپنے نوجوانوں کو صحیح طریقے سے گاڑی چلانے اور پیدل سڑک عبور کرنے کی تربیت نہیں دے سکے۔ ہم ایک بے ہنگم زندگی بسر کرنے کے خوگر ہیں اور محلے داری کا پورا سسٹم درہم برہم ہو چکا ہے۔ اب کسی کو نہیں معلوم کہ اس کے پڑوس میں کون رہتا ہے اور اس کے مشاغل کیا ہیں۔ مقامی کمیونٹی جو اجتماعیت کی سب سے مضبوط بنیاد ہے ، وہ غیر مؤثر ہوتی جا رہی ہے اور اسی لیے جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر سر اٹھا رہے ہیں اور دہشت گردی میں بے خوف و خطر حصہ لے رہے ہیں۔ اس نازک مرحلے میں کمیونٹی اور سول سوسائٹی کو عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو پورے عزم اور قوتِ ارادی کے ساتھ تیار کرنا ہو گا۔
میں یہاں اس امر کی صراحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے مقاصد میں کوئی مطابقت پائی جاتی ہے نہ ان کے مابین کوئی عسکری رشتہ قائم ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ۶۹۹۱ئ سے ۱۰۰۲ئ تک رہی۔ اس دوران ہمیں ان کا فاٹا کے قبائل کے ساتھ گہرے تعلق کا ثبوت نہیں ملتا۔ دراصل ہمارے قبائل کے عرب ممالک سے آنے والے القاعدہ کے ارکان سے تعلقات زیادہ اچھے تھے ، البتہ آگے چل کر پاکستان کے طالبان نے افغان طالبان کی آئیڈیالوجی سے اثر قبول کیا ۔ میرے خیال میں ان کا اسلام سے زیادہ پختون رسم و رواج کے ساتھ رشتہ گہرا ہے اور اسلامی یونیورسٹی پر ان کے خود کش حملوں سے میرے اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔ وہ ہمیں ظالم کی شکل میں دکھائی دے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پہلے بعض حلقوں میں انہیں جو محدود سی حمایت حاصل تھی ، وہ بڑی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ میں آخر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں امریکی آمد سے پہلے بھی ہمارے ملک میں اسلحے کی فراوانی تھی اور ہمارے نوجوانوں نے روسی غلبے کے خلاف لڑنے کے لیے فوجی تربیت حاصل کی تھی۔ اس جہاد میں غیر ملکی باشندے بھی شامل تھے جو روسی انخلائ کے بعد ہی فاٹا میں آباد ہو گئے تھے۔ اب تاریخ کی ستم ظریفی نے ہمیں ان کے مدِ مقابل لا کھڑا کیا ہے۔
میجر جنرل ﴿ر﴾ خواجہ راحت لطیف
قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی چاہتا ہے جس کے لیے اسے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی قوت پر کاری ضرب لگانا ضروری ہے ، چنانچہ ایک سہ پہر اچانک آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے تحت کر دینے کا نوٹیفیکیشن اس وقت جاری کر دیا گیا جب وزیر اعظم پہلی بار امریکہ جا رہے تھے۔ عسکری قیادت کے سخت ردعمل کے نتیجے میں اسے آدھی رات کے بعد منسوخ کیا گیا۔ اسی طرح فوجی طاقت کو منتشر کرنے لیے جنرل پرویز مشرف پر دوبار قاتلانہ حملے کرائے گئے۔ امریکیوں نے انہیں اپنی حفاظت کے لیے جو آپریٹس دیا تھا ، اس کی موجودگی میں کوئی بھی ریموٹ کنٹرول دو سو میٹر کی رینج میں کام نہیں کر سکتا تھا۔
اس کے باوجود پل کے نیچے خوفناک دھماکہ ہوا۔ چند روز بعد ایک اور قاتلانہ حملے میں جنرل مشرف بال بال بچے۔ امریکیوں نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ حملوں کا ماخذ فاٹا ہے ، چنانچہ اس کی تسخیر کے لیے ساڑھے سات ہزار فوج بھیج دی گئی اور اس کے بعد امریکی حکمت عملی کے مطابق وہاں پیش رفت ہوتی رہی اور پاکستان دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ فوج کی اچھی خاصی نفری اس علاقے میں منتقل ہو چکی ہے جسے ایک طویل المعیاد آپریشن میں کھینچ لینے (sucking) کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ ہماری فوج کامیاب ہو اور یہ جنگ جلد ختم ہو جائے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جن کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے ، وہ اپنے علاقے کے چپے چپے سے واقف ہیں اور بہت اچھے نشانہ باز ہیں۔
اس دوران ہماری مشرقی سرحد پر بھارت آنکھیں دکھا رہا ہے اور اس نے سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ کشمیر میں اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اس کا ذمے دار پاکستان ہو گا۔ بھارت کے آرمی چیف نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں فاٹا میں پاکستانی فوج کی موجودگی پر گہری تشویش ہے۔ اس کے علاوہ اس کا اثرو رسوخ افغانستان میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ امریکی عسکری قیادت کو بھی شدید پریشانی لاحق ہے ، جبکہ ہمارے سیاسی قائدین تسلسل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کے سترہ قونصلیٹ فاٹا اور بلوچستان کی انسر جنسی میں بڑے پیمانے پر ملوث ہیں۔
پاکستان میں جس رفتار سے خود کش حملے ہو رہے ہیں ، وہ ہمارے انٹیلی جنس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہمارے مخبروں کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ خود کش حملوں کی تربیت کہاں ہو رہی ہے اور نوجوان کہاں سے بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ اس انتہائی گھمبیر صورتِ حال میں ہماری اسمبلیوں کے اندر محض پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور الاؤنسوں میں اضافے پر بحث ہو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جناب صدر زرداری کو ، جو فوج کے سپریم کمانڈر ہیں ، انہیں آپریشن زدہ علاقے کا دورہ اور فوج کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہماری صورتِ حال روز بروز پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور جی ایچ کیو اور اسلام آباد میں بریگیڈئیر معین الدین اور اسلامی یونیورسٹی پر خود کش حملوں نے حکومت کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور عام آدمی کے حوصلے پست کر دیے ہیں جبکہ یہ وقت ظالموں کے سامنے پوری قوت اور عزم ڈٹ جانے کا ہے۔ عوام کے اندر یہ جذبہ ایک بالغ نظر ، مخلص اور کفایت شعارقومی قیادت ہی اُبھار سکتی ہے جس کا آج بڑا فقدان ہے۔
کالم نگار صحافی میاں سیف الرحمن
میں جناب ڈاکٹر فاروق حسنات کے اس بیانِ حقیقت سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں افغانستان پر روس کی فوج کشی سے پہلے بھی درہ آدم خیل میں اسلحہ تیار ہوتا اور پورے ملک میں سپلائی کیا جاتا تھا۔ ۸۰/کی دہائی میں افغانستان کے اندر امریکی حمایت سے جو جنگ لڑی گئی ، اس نے ہمارے ہاں کلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا اور فرقہ پرست جہادی تنظیموں نے اسلحے کے انبار لگا لیے۔ ڈیڑھ دو ماہ پہلے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف نے صحافیوں اور کالم نگاروں کو داخلی سلامتی کے بارے میں بریفنگ دی ، تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی ایجنسیاں کیا کام کر رہی ہیں ، کیونکہ ہم تو آتش فشاں پر بیٹھے ہیں جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ یہ شہر جسے ایک فولادی حصار سمجھا جاتا ہے ، اس میں لوگوں کے پاس اس قدر اسلحہ ہے کہ ذرا سا غدر مچنے پر لاکھوں کلاشنکوفیں اور تباہ کن راکٹ نکل آئیں گے اور بہت بڑی تباہی پھیل سکتی ہے۔
قومی سلامتی کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں غلط نظریات اور تصورات سرایت کر تے جا رہے ہیں۔ لال قلعے پر جھنڈا لہرا نے اور طاقت کے ذریعے شریعت نافذ کرنے کو جہاد قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اقبال کے اشعار کی بھی غلط تعبیرات ہوتی رہی ہیں۔ سالہا سال برین واشنگ کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات اتاری جا رہی ہے کہ خود کش حملہ آور سیدھا جنت میں داخل ہو گا۔ اس نوع کی تقریروں اور ترغیبات کے باعث پاکستان کے ہر علاقے میں خود کش حملہ آور تیار ہو رہے ہیںجن میں اب لڑکیاں بھی شامل ہونے لگی ہیں۔ اب یہ کام ہمارے علمائے کرام کا ہے کہ وہ ان گمراہ کن عقائد کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں اور عوام کی صحیح معنوں میں اخلاقی اور ذہنی تربیت کا دائرہ وسیع کریں۔ اس انتہائی سنگین مسئلے کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے تعلقی اور بے حسی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارے محلے کے ساتویں گھر میں خود کش جیکٹیں تیار ہیں ، مگر اس پر ہمیں کوئی تشویش لاحق نہیں۔ چشمِ زدن میں سینکڑوں انسانوں کو موت کی اذیت میں مبتلا کر دینے والے وحشی ہماری بستی میں بھی آ کر ٹھہرتے اور دہشت گردی کے منصوبے تیار کرتے ہیں ، لیکن کمیونٹی کے اندر ذرا بھی فکر مندی دیکھنے میں نہیں آتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نازک موقع پر حکومت اور فوج کے پہلو بہ پہلو سول سوسائٹی کو بھی اپنی ذمے داری ادا کرنی چاہیے۔اگر امن کمیٹیاں قائم کی جائیں اور دہشت گردوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور عوامی شعور پیدا کیا جائے اور غلط نظریات کی پوری قوت سے نفی ہوتی رہے ،تو انتہا پسندی پر جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار قیوم نظامی
میں سب سے پہلے پائنا کے سیکرٹری جنرل جناب الطاف حسن قریشی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی روایت کے عین مطابق انتہائی گھمبیر حالات میں ہمیں دعوتِ فکر دی ہے۔ صورتِ حال کی نزاکت کا اندازہ جی ایچ کیو پر ہونے والی دہشت گردی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی سر زمین پاسداران کی عسکری قیادت پر حملے کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ داخلی محاذ پر فاٹا میں فوجی آپریشن ہمارا آخری آپشن ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان بڑی طاقتوں کے بین الاقوامی کھیل کی آماجگاہ بن گیا ہے اور اس پر اپنی طاقت (capacity)سے زیادہ بوجھ پڑ تا جا رہا ہے یا ہم نے خود اُٹھا لیا ہے۔ اب ہمیں امریکہ سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے کہ آپ کی خاطر آٹھ سال تک بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے ہماری معیشت اور امن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے ، اس لیے خدارا اب ہماری گلو خلاصی کر دیجیے۔
ہمارا دوسرا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکی ایجنٹ ہماری فوج ، بیوروکریسی اورحکومت کے دورے اداروں میں نقب لگا چکے ہیں۔ جنرل آصف نواز مرحوم کے بھائی جناب شجاع نواز نے ’’کراس روڈ‘‘ کے نام سے ایک بڑی دلچسپ اور معلومات افزا کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ جب جنرل آصف نواز فوج کے سربراہ بنے تو اُن کے پاس چند امریکی اس پیش کش کے ساتھ آئے کہ ہم آپ کے بیٹے کو امریکہ میں مفت تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب نے سوال کیا میرا بیٹا یہاں اچھی تعلیم حاصل کر رہا ہے ، میں اسے امریکہ کس لیے بھیجوں۔ امریکیوں نے کہاکہ ہم ہر آرمی چیف کو ہی پیشکش کرتے آئے ہیں۔ یہ بھی ہمارے لیے ایک تشویش ناک بات ہے کہ ہمارے وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے سینیٹر کیری کے اسٹاف میں شامل تھے جب کیری لوگر بل مختلف مراحل طے کر رہا تھا۔ ہمیں اس امر کا اہتمام کرنا ہو گا کہ وہی لوگ آگے آئیں جو قومی مفادات کا گہرا شعور اور ادراک رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی پالیسی پر بھی نظر ثانی کی شدید ضرورت ہے۔
میں اس اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انتخابی قوانین میں بنیادی اصلاحات کے بغیر کسانوں ، مزدوروں ، اور درمیانے طبقے کو لوگ منتخب نہیں ہو سکتے۔ ہمیں اپنی قوم کو تباہی سے بچانے کے لیے جاگیر داروں ، سرمایہ داروں اور امریکہ کے کاسہ لیسوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ اس آن فوج جواں مردی سے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے ، چنانچہ پوری قوم کو اس کی پشت پر کھڑا رہنا چاہیے۔
دانش مند سفارت کار شمشاد احمد خان
دو تین دن پہلے مجھے ایک سیمینار میں جانے کا موقع ملا جس کا موضوع تھا ’’قوم کے بڑھتے ہوئے مسائل ، عوام کدھر جائیں؟‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ اس میز کے ارد گرد جتنے لوگ بیٹھے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی دوست اس اہم ترین سوال کا جواب دے سکتا ہے۔ جب میں اس سیمینار میں شرکت کے لیے گھر سے نکل رہا تھا تو میرے ایک دوست کو فون آ گیا۔ میں نے سیمینار کا موضوع بتانے کے بعد پوچھا کہ اتنے بڑے مسئلے کا تمہارے پاس کیا حل ہے۔ اس نے کہا کہ میرے جتنے بھی مسئلے ہوتے ہیں ، میں اسلام آباد جاتا ہوں اور وہ مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ وہاں مختلف مسئلوں کے نرخ مقرر ہیں۔ اب یہ کام آپ کا ہے کہ درست آدمی سے رابطہ کریں اور صحیح نرخ پر اپنا مسئلہ حل کرا لیں۔ میرے خیال میں ہمارے عوام اس راستے پر نہیں چل سکتے ، لیکن وہ ایک نہ ایک روز اسلام آباد جائیں گے اور اس بار شاہدرے سے پہلے ہی تبدیلی آ جائے گی۔
ہم یہاں لانگ ٹرم باتوں میں پڑے ہوئے ہیں جنہیں کوئی سننے والا نہیں۔ بظاہر ہماری قراردادوں اور بیانات کا کوئی فائدہ نہیں ، لیکن ہمیں سول سوسائٹی کے طور پر اپنا کام کرتے رہنا ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے جو مسئلہ چھیڑا ہے ، وہ قومی سلامتی کا ہے۔ اس ضمن میں پہلی اہم بات یہ ہے کہ ہم اندر سے ہی ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں جبکہ اوپر سے امریکی تقاضے اور مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں اور سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ امریکی کانگریس نے کیری لوگر بل اپنے مفاد میں بنایا ہے ، کیا ہم بھی کوئی قانون اپنے مفاد میں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم تو دوسروں کی آنکھ کا اشارہ دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔
کیری لوگر بل کا پہلے نقشہ کچھ اور تھا۔ ۸نومبر ۲۰۰۷ئ یعنی مشرف کی ۳نومبر کی غیر آئینی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ، سینیٹر جوبائرن نے اپنا ایک پیکج دیا ، جبکہ مارچ ۲۰۰۷ئ میں اس نے کہا تھا کہ پاکستان ہمارے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اگر ہم نے اس پر خصوصی توجہ نہ دی ، تو وہ دوسرا ایران بن جائے گا اور ہمیں اسے دوسرا ایران بننے سے بچانا ہے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ غلطی ہماری ہے کہ ہم نے ساٹھ برسوں میں پاکستان کے ساتھ محض ایک اُجرتی تعلق رکھا ہے یعنی ہم اسے مزدوری دیتے اور کام کرواتے ہیں ، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور معمول کے دو طرفہ تعلقات کی پائیدار بنیاد رکھی جائے ، چنانچہ انہوں نے چار نکاتی ویژن دیا۔ پہلا نکتہ یہ کہ ہم پاکستان کو جتنی بھی مدد دیتے آئے ہیں ، اس کا خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ عوام تک پہنچنے کے بجائے وہ حکمرانوں کی تجوریوں میں جاتی رہی ، چنانچہ اس دفعہ ہم عوام کو تین گنا امداد دیں گے یعنی بجائے پانچ سو ملین کے ڈیڑھ بلین سالانہ دیں گے اور وہ مکمل طور پر غیر مشروط ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ فوجی امداد کارکردگی کی بنیاد پر دی جائے گی اور اس کا حساب رکھا جائے گا ۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم ایک بلین ڈالر کی اضافی امداد دیں گے یعنی ڈھائی بلین ڈالر پاکستان جمہوری اداروں کے فروغ اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ملیں گے۔ چوتھا نکتہ یہ تھا کہ اب تک ساری توجہ حکمرانوں پر تھی ، لیکن اب ہمارا تعلق عوام کے ساتھ ہو گا۔
اس چار نکاتی پیکج کے مطابق اس نے اپنا بل پیش کیا۔ اس وقت وہ سینیٹر تھا اور بعد ازاں وہ وائس پریذیڈینٹ کے منصب پر فائز ہو گیا اور اس کی جگہ سینیٹر جان کیری آ گیا اور بل دوسرے ہاتھوں میں چلا گیا ، تاہم پیکج وہی رہا اور سینیٹ میں وہی پاس ہوا۔ اب امریکی کانگریس کے ایوانِ زیریں میں دو سو سے زائد ممبران بھارت کے حامی ہیں۔ انہوں نے اپنے سفارتی تعلقات استعمال کرتے ہوئے اس بل میں سے وہ شقیں نکلوا دیں اور وہ شامل کر دی گئیں جو ہمارے قومی وقار کے منافی تھیں۔ ایک بلین ڈالر جو بطورِ خاص فروغِ جمہوریت کے لیے مختص کیے گئے تھے ، وہ بھی کتر بیونت کی زد میں آ گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکیوں کا یہ سارا بل بے معنی تھا۔ ہماری طرف سے یہ پہلے دن ہی کہہ دینا چاہیے تھا کہ ہم آپ کے ممنون ہیں کہ ہمارے عوام کے لیے اچھے جذبات رکھتے ہیں مگر ہم اپنی جمہوریت کو فروغ اپنے طور پر دینا چاہیں گے اور آپ اس میں دخل اندازی نہ کریں۔ امریکہ بے شک بڑی طاقت ہے اور ہم اس سے لڑائی نہیں لڑ سکتے ، لیکن تعلقات پھر بھی بہتر رکھے جا سکتے ہیں۔ اس بل کے حوالے سے ہماری قومی اسمبلی کے برائے نام اجلاس ہوئے جس میں جذباتی تقریریں کر کے ہمارے حکمران راہِ فرار اختیار کر گئے۔ ہماری پارلیمنٹ اس وقت قانون سازی کرتی ہے جب معزز اراکین کے اپنے مفادات کی بات ہو۔ بی اے کی شرط چند منٹ میں ختم کر دی گئی ، کیونکہ اس میں ارکانِ پارلیمنٹ کا اپنا مفاد وابستہ تھا۔ آج پارلیمنٹ میں جو لوگ بیٹھے ہیں یہ کاٹ کے پتلے ہیں ، ان کی ڈوریاں پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ، جب وہ خفیہ لوگ ڈوریاں کھینچتے ہیں تو ان کے منہ کھلتے ہیں اور ان کے مطلب کی بات کرتے ہیں۔ اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ شوگر ملوں میں گنے کے بجائے عوام کرش کیے جا رہے ہیں اور کرش کرنے والے لوگ کوئی اورنہیں اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہمارے ہی منتخب کردہ نمائندے ہیں۔ تبدیلی اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک ہم ان لوگوں کو دوبارہ ایوانوں میں آنے سے نہیں روکیں گے۔ اس کے لیے عوام کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے اور جیسے میرے دوست نے یہاں بات کی کہ ہمیں اسلام آباد چلو کی تحریک پر غور کرنا ہو گا۔
جہاں تک پاکستان کی سلامتی کا تعلق ہے ، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ صرف حکمرانوں کو موردالزام ٹھہرانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ عوام کو بھی آئینہ دکھانا ہو گا کہ ان باسٹھ سالوں میں ہم نے کیا کچھ کیا ، بدقسمتی سے ہمیں تو ان باسٹھ برسوں میں گاڑی بھی ٹھیک طور پر چلانا نہیں آئی ، سڑک پر موٹر سائیکل کیسے چلانی ہے۔ ہمیں تو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا۔ بحثیت قوم ہم میں بے حسی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ملک میں چاہے کچھ بھی ہوتا رہے اس کا ذرا احساس نہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ لاطینی امریکہ یا افریقہ وغیرہ میں ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے قومی سلامتی کے مسائل اور دہشت گردی کے واقعات جنم لے رہے ہیں۔ یہ خود کش حملہ آور آسمانوں سے تو نہیں اُترے۔یہ ہمارے اندر ہی سے تیار ہو رہے ہیں۔
جہاں بھی غربت ہو گی ، تعلیم کا فقدان ہو گا ، محرومیاں ہوں گی ، وہاں تشدد ضرور جنم لے گا۔ آج ہم ان شدت پسندوں کا راکٹوں ، بموں اور گولیوں سے مار رہے ہیں مگر اس طریقے سے فقط چند ہزار افراد ہی مارے جا سکیں گے۔ اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ آپ جتنے لوگ ماریں گے ، اتنے ہی اور پیدا ہو جائیں گے۔ وہ لوگ جس ذہنیت کے شکار ہیں ، وہ گولی سے کبھی نہیں مرے گی ، بلکہ اس کا واحد حل بات چیت اور مذاکرات ہے۔ یہ ہمارے قبائلی علاقے صدیوں سے جن روایات کے پابند ہیں ، ان کا ہمیں بخوبی علم ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ ان سے روایتی طریقوں کے مطابق بیٹھ کر بات چیت کی جائے۔ ملک میں امن و امان قائم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم روٹھے ہوئے لوگوں کو واپس لائیں ، ان کے ذہن اور دل جیتنے کی کوشش کریں مگر امریکہ نے یہ آپشن ہمارے ہاتھ سے چھین لیا ہے۔ یہ خوفناک مسئلہ دراصل جنرل مشرف دور سے شروع ہوا اور یہ آٹھ برسوں کی پیداوار ہے۔ اس دوران ہمیں دنیا کی خطرناک ترین قوم اور غیر محفوظ ترین ملک قرار دیا جانے لگا۔
اس ضمن میں دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ہم جہادی کیسے بنے ، تو یہ افغان جنگ کا تحفہ ہے۔اس وقت بیرونی عناصر نے ہمیں اس جنگ میں استعمال کیا اور ہمارے بعض مدرسے جہادیوں کی تربیت کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔ آج ایک بار پھر یہی بیرونی عناصر ہمارے ہی بچوں کو ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ خود کش حملوں کا مسئلہ اسی وقت حل کیا جا سکے گا جب ہمیں ایک ایسی ذمے دار قیادت میسر آئے گی جو امریکہ سے ڈکٹیشن لینے کے بجائے اپنے فیصلے کرے گی۔ آپ مجھے بتائیں کہ جب ہم جیسا ایک گروپ بیٹھ کر اس مسئلے پر بات چیت کر سکتا ہے ، تو پارلیمنٹ کیوں نہیں کر سکتی؟ جب تک آپ میں سٹریٹجک پلاننگ کی صلاحیت نہیں ہو گی ، یہ مسائل یونہی بڑھتے رہیں گے۔ فوج تو اپنی ذمے داری پورا کر رہی ہے ، اسے جو مشن دیا گیا ہے اس نے اس کی تکمیل میں جاں فشانی اور شجاعت کا ثبوت دیا ہے۔ ہمیں اس کو سلام پیش کرنا چاہیے کہ آج فوج اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے۔
پروفیسر سوشیالوجی ڈاکٹر محمد حفیظ
میں ایک چیز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ہماری سیکورٹی ، فضا اور معاشرے دونوں سے جڑی ہوئی ہے اور وہ ہے دھوکہ (deception)۔ ہم ایک مصنوعی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ معاذ بن محمد کہتا ہے:
"I want to be optimistic in the 21st century but I can not because what Muslims regard their weakness is their strength and what they regard as their failure is their success".
وہ یہ بات اُجاگر کرنا چاہتا ہے کہ جس چیز کو ہم اپنی کمزوری سمجھتے ہیں ، وہ ہماری طاقت ہے اور جسے ہم اپنی طاقت سمجھتے ہیں وہ درحقیقت ہماری کمزوری ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ میں اس لیے نہیں آ رہی کہ ہمارا علم مغربی دنیا سے برآمد شدہ ہے۔ میں سوشل سائنسز کا مضمون پڑھاتا ہون جس کی ستاسی فیصد کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ یہ کتابیں یا تو امریکہ میں چھپتی ہیں یا پھر برطانیہ میں۔ ہماری لائبریری میں موجود نوے فیصد کتابیں بھی انگریزی میں ہیں۔ یہ امریکی اور برطانوی کتابیں پڑھ کر ہماری نفسیات اور کامن سینس پاکستانی سوچ سے زیادہ امریکی اور برطانوی سوچ کے مطابق ہو گی ہے۔ آپ نہر سے جیل روڈ کی طرف چلیں ، تو آپ دیکھیں گے کہ دونوں انڈر پاس اُلٹے بنے ہیں جبکہ باقی سارے انڈر پاس سیدھے بنے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے انجینئر فرانس بھیجے گئے ، وہاں انہوں نے تصویریں کھینچیں ، وہاں کی تعمیرات کا معائنہ کیا اور یہاں آ کر وہاں کے اصولوں کے مطابق اُلٹے انڈر پاس بنا دیے۔ اس کے بعد جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو باق کے سارے انڈر پاس سیدھے بنائے گئے۔ یہ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ہم سب فریب کا شکار ہیں۔ ہم اس ایک شعر کی تصویر بنے ہوئے ہیں ò
کیسے ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہلِ دانش نے بہت سوچ کے اُلجھائی ہے
بریگیڈئیر ﴿ر﴾ فاروق حمید خان
آج سے دس پہلے میں نے واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں شرکت کی تھی جس کا موضوع تھا Challenges for the US Security in 21st Century ﴿اکیسویں صدی میں امریکی سیکورٹی کے لیے چیلنجز ﴾۔ اس سیمینار میں شریک ایک انٹیلی جنس ادارے کے افسر نے بڑی اہم بات کہی کہ پاکستان ۵۱۰۲ئ تک طوائف الملوکی میں گھِر جائے گا ، اس لیے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس وقت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے ان کا کنٹرول حاصل کر لیں۔ یہ آج سے دس برس پہلے امریکیوں کی سوچ تھی اور میں اپنے سفارت خانے کی طرف سے واحد دفاعی نمائندہ تھا جو اس سیمینار میں شریک ہوا۔ اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ رابرٹ اوکلے تھے۔ میرا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ توقع کے بر عکس خاصی بڑی تعداد میں امریکی اس وقت پاکستان میں نظر آتے ہیں۔کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ ہماری حکومتی مشینری میں ان کے ایسے عناصر داخل ہو چکے ہیں جو ان کی یہاں موجودگی میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ اب جناب انصار عباسی کی حالیہ نیوز رپورٹ پڑھ لیں کہ گزشتہ چند ماہ سے پولیس ٹریننگ سکول سہالہ کے آس پاس اس قدر پُر اسرار سرگرمیاں ہو رہی ہیں کہ وہاں کے انچارج کو اپنے کمانڈنٹ کو خط لکھنا پڑا کہ خدارا ان چیزوں کا نوٹس لیجیے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان امریکیوں کو پچھلے چند ہفتوں یا مہینوں میں ہماری وزارتِ داخلہ نے اپنی نیشنل سیکورٹی ایجنسی سے کلیئرنس کرائے بغیر این او سیز جاری کیے ہیں۔ یہ این او سیز ممنوعہ بور کے بھاری ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے یو ٹیوب پر وہ پوری ڈاکو منٹری دیکھی ہے جو روات کے قریب واقع آٹو ورکشاپ کا منظر دکھاتی ہے۔ وہ ورکشاپ دراصل دو بڑے بڑے چار منزلہ شیڈ ہیں جس کی حفاظت کے بڑا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ وہاں نہایت حساس نوعیت کی سرگرمیاں جنم لے رہی ہیں۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ آخر امریکی اسلام آباد ہی میں کیوں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ، جبکہ چکوال ، روات اور سہالہ میں بھی ان کی موجودگی بڑی تشویش ناک ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میریٹ ہوٹل کی تباہی کے فوراً بعد کا منظر میرے لیے بے حد حیرت انگیز تھا کہ وہاں ایک یو ایس میرین اپنے تمام تر سازوسامان کے ساتھ مکمل وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے اسی وقت خود سے سوال کیا کہ یہ امریکی فوجی میریٹ ہوٹل میں کیا کر رہا ہے۔ جواب یہی ملا کہ امریکی ایک مکمل ایجنڈے کے ساتھ بڑے منظم انداز میں پاکستان آئے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی منظم انداز میں ایک نہ ایک دن ہمارے ایٹمی اثاثوں پر قابض ہو جائیں گے۔
قومی سلامتی کے حوالے سے میرا تجزیہ یہ ہے کہ ایک عرصے سے بڑے منظم طریقے سے فوج اور آئی ایس آئی کو ’’کٹ ٹو سائز‘‘ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ غالباً امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ فولاد کی طرح مضبوط ان دو اداروں کو ضعف پہنچا کر وہ پاکستان میں اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں چند ریٹائرڈ آرمی افسران کے ذریعے فوج کے بارے میں جو پروپیگنڈا کیا گیا ، اس کے پیچھے بھی یہی امریکی عزائم کار فرما ہیں۔ آپ ایک اور بات پر حیران ہوں گے کہ چیف آف آرمی سٹاف اور جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف کمیٹی فور سٹارز جنرل ہیں اور ہم دیکھتے آئے ہیں کہ ان کی ترقی صدر اور وزیر اعظم کی منظوری سے ہوتی ہے ، لیکن کیری لوگر بل میں یہ درج ہے کہ آرمی چیف اور چیف آف کمانڈ کی ترقی کا اختیار سول حکومت کے پاس ہونا چاہیے اور اس کی سرٹیفیکیشن کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سے امریکی افواجِ پاکستان کو اپنے کنٹرول میں لے آنا چاہتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرلوں کی پروموشن جو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف کرتا ہے ، اسے بھی پاکستان کی سویلین لیڈر شپ کے حوالے کر کے فوج کی سینئر لیڈر شپ کو ’’سیاست زدہ‘‘ کر دینا مقصود ہے۔ اس طرح فوج کی یونیٹی آف کمانڈ متاثر ہو گی اور چیف آف آرمی سٹاف کی اتھارٹی بہت کمزور پڑ جائے گی۔ دوسرے معنوں میں کیری لوگر بل نے بڑے خوبصورت انداز میں ہماری فوج کے مختلف شعبوں پر وار کیا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ میں کئی بلین ڈالر کی لابنگ انڈسٹری ہے اور وہاں ہر مہینے لاکھوں ڈالرز سفارت خانے میں لابنگ کی غرض سے تقسیم کیے جاتے ہیں کہ پاکستان کے مفادات کی حفاظت کی جا سکے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ لاکھوں ملین ڈالر پاکستان کے مفادات میں استعمال نہیں ہوئے اور بھارتی لابی اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کیری لوگر بل واشنگٹن کے بجائے دہلی میں ڈرافٹ کیا گیا ہے۔
جب کسی ملک میں غیر معمولی حالات جنم لیتے ہیں ، تو ایسے غیر معمولی فیصلے کیے جاتے ہیں ، چنانچہ آج ہمیں قومی حکومت کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔ آپ ان حالات کے ساتھ مزید آٹھ دس ماہ بھی نہیں چل سکتے۔ آپ کو ایک متحدہ محاذ کے ذریعے کم از کم دو سال کے لیے قومی حکومت کا قیام عمل میں لانا ہو گا جس کا مینڈیٹ یہ ہو کہ وہ ملک کی سیکورٹی اور معیشت بحال کرے ، فوجی آپریشن مکمل ہونے کے بعد جہاں جہاں مذاکرات کی ضرورت ہے ، وہ سرعت کے ساتھ کیے جائیں ، بلوچستان میں اتنے عرصے سے صوبائی خود مختاری کا جو مسئلہ اُلجھا ہوا ہے اسے حل کیا جائے اور جب پاکستان کے حالات میں استحکام پیدا ہو جائے ، تو انتخابات کرائے جائیں۔ جیسے شمشاد صاحب اور میرے دوسرے ساتھیوں نے فرمایا کہ ہمیں نظام بدلنا ہو گا ، چنانچہ قومی حکومت یہ فیصلہ بھی کرے گی کہ ہمیں پاکستان کو کس سمت میں لے کر جانا ہے۔
کینیڈا میں پاکستانی ایڈیٹر جواد فیضی
بلاشبہ حالات خاصے خراب ہیں اس کے باوجود ہمیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میرے تجزیے کے مطابق اب تک میڈیا کی ایک واضح سمت طے نہیں ہو سکی اور بم دھماکوں میں خون آلود شخص کو دکھا دینا اور بار بار دکھاتے رہنا صحافت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کینیڈا میں میڈیا پر خون دکھانے پر پابندی ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں دہشت نہ بیٹھ جائے۔
میرا احساس یہ ہے کہ ہم جس مقام پر کھڑے ہیں ، وہاں سے خاکمِ بد دہن اپنے ملک کو ٹوٹتا دیکھ رہے ہیں ، جبکہ ہمارے سیاست دان بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ، بلند آہنگ نعرے بھی لگاتے ہیں ، مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے۔ حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ خود محصور ہو کے رہ گئی ہے۔ میں کچھ عرصے ملک سے باہر تھا لیکن واپس آنے کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام سیاسی قائدین اسی ڈگر پر چل رہے ہیں جس پر وہ آج سے پہلے چل رہے تھے۔ جہاں تک یہاں فوج کی بات ہوئی ہے ، تو میں بتاتا چلوں کہ ابھی پچھلے دنوں ٹورنٹو میں پاکستان آرمڈ فورسز کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے یہ برملا کہا کہ جنرل کیانی نے واشنگٹن میں ان سے ملاقات کے دوران کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں تین بلین ڈالر پاکستان کو ملے ، مگر ہمیں سو ملین ہی مل سکے ہیں اور باقی رقم کو پتا ہی نہ چلا کہ وہ کہاں استعمال ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں جب تک بے لاگ جواب دہی نہیں ہو گی ، شفاف اور بے لاگ نظام قائم نہیں ہو گا ، ہمارے پیچیدہ مسائل حل نہیں ہوں گے ، قومی سلامتی کو سنگین چیلنجوں کا سامنا رہے گا اور عوام ظلم اور نا انصافی کی چکی میں پستے رہیں گے۔
انجینئر انور حسین مجاہد
میرے خیال میں یہ سارا مسئلہ افغانستان میں امریکی مداخلت کے بعد شروع ہوا ہے۔ میں نے سرحد کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں کام کیا ہے اور میں چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک گیا ہوں‘ اور جتنا میں نے ان علاقوں میں اپنے آپ کو محفوظ خیال کیا ہے‘ اتنا میں نے خود کو لاہور میں بھی محفوظ تصور نہیں کیا۔ مشرف نے فاٹا عوام کے خلاف امریکی ایما پر کام کیا اور اس وقت ہم تاریخ کے انتہائی غلط موڑ پر کھڑے ہیں۔ آج عوام پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان بہت خوب صورت اور وسائل سے مالامال ملک ہے مگر بدقسمتی سے وہ حکومتی بدنظمی کا شکار ہو گیا اور اب امریکہ کا محض کلائینٹ اسٹیٹ بن کے رہ گیا ہے‘ حالانکہ ہمیں اس کا ایک دوست ملک ہونا چاہیے تھا۔ ترکی نے عراق پر امریکی حملے کے وقت بیس بلین کی پیش کش ٹھکرا دی تھی اور اس کے باوجود وہ امریکہ کا دوست ہے۔ ہنری کسنجر نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ شاہ فیصل جنہوں نے ان کا تیل بند کر دیا تھا‘ وہ ان کی زندگی میں آنے والے سب سے عظیم آدمی ہیں۔ جب تک آپ خود اپنی عزت نہیں کریں گے اور اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے‘ کوئی بھی آپ کی عزت نہیں کرے گا۔ ہمارا نظام اور قیادت دونوں ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
ٹی وی پروڈیوسر قمر زمان
ہمارے بیشتر لوگ اس نتیجے پر تو پہنچ گئے ہیں کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے اور ہمیں اس حوالے سے اپنا قومی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے لیکن ہم نے اس بات پر قطعاً غور نہیں کیا کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے جو ہمارے بچوں‘ ہماری عورتوں اور اداروں پر خودکش حملے کر رہا ہے جن سے ہم لاتعداد مسائل کے شکار ہیں۔ جہاں صحیح معنوں میں قیادت موجود ہوتی ہے‘ وہاں کرائسس وقت کے حساب سے ہینڈل کیا جاتا ہے کہ کون سا کرائسس پہلے کون سا دوسرے نمبر پر اور کون سا تیسرے نمبر پر حل کرنا ہے۔ ہم نے اپنے طور پر یہ فرض کر لیا ہے کہ امریکہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے جو ہمیں مار رہا ہے‘ حالانکہ ہمارا اصل دشمن وہ دہشت گرد ہے جو ہمارا امن و امان تباہ کر رہا ہے چاہے اس کے پیچھے امریکہ ہو یا کوئی اور۔ اس کے بجائے کہ ہم امریکہ کے دیے ہوئے پانچ ارب ڈالروں سے اپنی قوم کی حالت بہتر بنائیں اور اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کی تدبیریں اختیار کریں‘ ہم اس امداد میں کیڑے نکال رہے ہیں۔
بریگیڈئر﴿ر﴾ ظفر اقبال چودھری:
ہمیں سب سے پہلے اپنے دشمن کا تعین کرنا چاہیے تاکہ خطرات کا ٹھیک طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ میری نظر میں ہمارا دشمن نمبر ایک جو بھارت اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کو غیرمستحکم کرنا اور اسے اپنے جوہری اثاثوں سے محروم کرنا ہے۔ ہم پاکستان کی سرزمین پر امریکی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں‘ ہمیں اپنے وسائل پر انحصار کرنا اور چین کے ساتھ روابط گہرے کرنا ہوں گے۔
کہنہ مشق صحافی ریاض احمد چودھری:
ہمیں سیاست دانوں کی کردار کشی کرنے کے بجائے جمہوری عمل کو تقویت پہنچانے اور فیصلہ سازی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں آج ہمیں حکومت کی طرف سے جس بے عملی اور بے تدبیری کا شکوہ ہے‘ اس کا اصل سبب ہمارا پارلیمانی نظام ہے جس میں فیصلے بہت دیر سے ہوتے ہیں اور مفادات کا ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے۔ اگر ہم صدارتی نظام اپنا لیتے ہیں‘ تو بہت سارا کنفوژن ختم ہو جائے گا اور کمانڈ میں وحدت اور قوت پیدا ہو گی۔
پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ:
ہمارے جو دوست کینیڈا سے آئے ہیں انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور کینیڈا میں میڈیا پر خون وغیرہ نہیں دکھایا جاتا۔ ہم سب کا تعلق کسی نہ کسی طور میڈیا سے ہے اور میں اس راؤنڈ ٹیبل کی توسط سے یہ بات سب تک پہنچانا چاہوں گا کہ اب تک جو واقعات ٹی وی پر دکھائے گئے اور خاص طور پر اسلامی یونیورسٹی کا واقعہ جس طریقے سے میڈیا نے کیمرے کی آنکھ سے دکھایا‘ وہ انتہائی شرم ناک ہے۔ آئی سی یو کے اندر کیمرہ مین کو جانے کی کیا ضرورت تھی جہاں ان بچیوں کی مرہم پٹی ہو رہی تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے کیمرہ مین کو رپورٹر کے ماتحت رکھیں اور رپورٹر اس حد تک تربیت یافتہ ہو کہ وہ کیمرہ مین کو درست مقامات کی عکس بندی کروائے۔ ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوا کیمرہ مین فوراً وہاں پہنچ جاتے ہیں اور لوگ جس حالت میں بھی پڑے ہوتے ہیں‘ وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ بھئی آپ نے کیا محسوس کیا‘ اب جو لوگ پہلے ہی پریشان اور کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں‘ وہ کیا تبصرہ کریں گے۔ صحافتی تنظیموں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں۔ جب زلزلہ اکتوبر کا واقعہ ہوا تو ایک چینل نے بوڑھی خاتون کو دکھایا جو مر رہی تھی‘ اس چینل نے اسے اپنا طرۂ امتیاز قرار دیا کہ ہم نے اس مقام سے وہ منظر دکھایا جہاں خوراک اور پانی نہیں پہنچ سکا مگر ہمارا کیمرہ پہنچ گیا۔ جب اس منظر کو نشرمقرر میں دکھایا گیا تو پروگرام کے میزبان نے کہا کہ ہم آپ کو ایک ایسا منظر دکھا رہے ہیں جو بچوں کے لیے مناسب نہیں برائے مہربانی آپ اپنے بچوں کو ٹی وی کی سکرین سے دور لے جائیں‘ جب وہ سین ختم ہوا تو میری چھوٹی بچی جو اس وقت پانچ برس کی تھی اس نے کہا کہ ابو میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ میں یہاں ایک اور نقطہ بھی رکھ دوں کہ کچھ عرصہ پہلے موٹروے پولیس میں کام کرنے والی ایک خاتون کو اس کے کچھ ساتھیوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اب ہمارے ٹی وی چینلز نے اس خاتون کو ایک نہایت بہادر خاتون کے طور پر لوگوں کے سامنے بارہا پیش کیا جس نے ٹی وی چینل پر یہ اعتراف کیا کہ اس کے مرد ساتھیوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ آخری بات میں یہ کہوں گا کہ ہمیں اپنے اصل دشمن کی شناخت جلد کر لینی چاہیے اور جب تک اصل دشمن کی شناخت نہیں ہو جاتی اپنے پروگراموں اور کالموں میں اس کا تجزیہ نہیں کرتے اس وقت تک یہ صورت حال گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان خودکش حملوں کے باعث پہلے جتنی نفرت امریکہ کے خلاف تھی‘ اب اتنی ہی نفرت اسلام کے خلاف پیدا ہو گئی ہے۔ یہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا تھا‘ شاید آج اسلام کے نام پر توڑا جا رہا ہے۔ جب ہمیں ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کے شریعہ بلاک میں خودکش حملے سے تباہی مچے‘ تو ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا اسلام یہی ہے؟
پروفیسرڈاکٹرمحمدوسیم:
میں نے آپ تمام لوگوں کی باتیں سنیں اور اس میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ یہ افتاد تو کسی قوم پر پہلی بار پڑی ہے اور نہ آخری بار۔ ایسی مشکلات آتی رہتی ہیں۔ آدمی کی بہت ساری مشکلات کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ ان سے فوراً نکلنا چاہتا ہے‘ لیکن یہ فطرت کے خلاف ہے۔ یہ ایک قدرتی نظام ہے جو اپنا وقت پورا کرے گا اس لیے آپ لوگوں کا یہ فرض ہے کہ جس طرح سٹالن گراڈ اور بیٹل آف بریٹن کے موقع پر لوگوں نے کیا‘ اسی طرح ہمیں بھی اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزارنے اور ملک کی تعمیر کے لیے اپنے اپنے حصے کا کام پوری مستعدی اور فرض شناسی سے کرتے رہنے کا ہنر سیکھنا ہو گا۔
میرے ذہن میں اس وقت کئی باتیں ہیں جن میں سے ایک تو پاکستان اور امریکہ تعلقات ہیں‘ دوسرا سول اور ملٹری کا آپس میں تعلق ہے اور تیسرا اس خطے میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ ان تین باتوں کی وجہ سے آج کل بحران کی کیفیت ہے جو ایک مدت سے چلی آ رہی ہے۔ امریکہ سے ہمارے عوام کا مزاج ۱۹۹۱ئ سے بگڑا ہے جب دس برس امریکہ سے بہت قریب رہنے اور اس کے ساتھ افغانستان میں جنگ لڑنے کے بعد ہم ایک خاص مقام پر آ گئے تھے۔ ہر چیز کو دیکھنے کے لیے اصل اہمیت زاویۂ نگاہ کی ہے۔ اگر آپ کسی چیز کو غلط نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں‘ تو آپ تکلیف اُٹھاتے ہیں اور اِس وقت ہم سب تکلیف اسی لیے اُٹھا رہے ہیں کہ ہمارا زاویۂ نظر درست نہیں۔ افغان جنگ ختم ہوتے ہی ہماری قوم کا نقطۂ نظر یہ تشکیل پایا کہ امریکہ نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا اور چلا گیا اور یہ ’’زخم‘‘ ابھی تازہ تھا کہ امریکہ نے ۱۹۹۱ئ میں کویت کے قبضے کے بعد عراق پر حملہ کر دیا۔ اس وقت تقریباً سبھی مسلم ممالک امریکہ کے خلاف ہو گئے جبکہ سعودی عرب‘ کویت اور کچھ ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے رہے۔ مسلم ممالک کی اکثریت میں عوامی رائے عامہ امریکہ کے خلاف ہو گئی اور نوے کی دہائی میں درجہ بدرجہ اس نفرت میں اضافہ ہوتا گیا۔ بوسنیا کے واقعے کے بعد مسلمانوں میں اہل مغرب کے خلاف نفرت میں خاصا اضافہ ہوا اور چونکہ امریکہ مغرب کا علمبردار ہے اس لیے یہ غصہ اس کی طرف منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد چیچنیا کا مسئلہ پیدا ہوا جو اگرچہ روس کے ساتھ تھا‘ لیکن پاکستان میں اسے مغربی دنیا کے حوالے سے دیکھا گیا اور اسے صلیبی جنگوں اور مسلم عیسائی کشمکش کے حوالے سے دیکھا گیا۔ اس کے بعد کوسووو کا جھگڑا ہو گیا۔ نائن الیون کے بعد افغانستان اور عراق پر دوسری جنگ مسلط کر دی گئی۔ ان تمام واقعات کے بعد امریکہ کے خلاف غم و غصے کی جو لہر مسلم دنیا میں دوڑ اُٹھی‘ وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آتی تھی۔
تیس چالیس برس ہم نے امریکہ کو اپنے دوست کے طور پر دیکھا‘ ہمیں وہاں سے اسلحہ ملتا رہا اور ہمارے فوجی وہاں سے تربیت لیتے رہے۔ ہمارے ہاں اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم ۱۹۸۴ئ میں امریکہ کا دل نہ جیتتے تو یہ جو اسلحہ اور فوجی سازوسامان ہمیں ملا‘ شاید یہ دستیاب نہ ہوتا اور ہم آج جہاں کھڑے ہیں‘ وہاں نہ کھڑے ہوتے۔ امریکہ یہاں بہت دور سے آیا ہے اور انقلاب ایران کے بعد اس خطے میں اس کا سب سے بڑا دوست اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ امریکہ کو اس خطے میں ایک نیا دوست چاہیے تھا اور ہم چونکہ اس کے دوست بننے پر رضامند تھے‘ اس لیے ہم نے اپنے حالات کے مطابق اس سے دوستی کر لی۔ ہماری فوج کے بارے میں واشنگٹن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بھارت کی سرحد سے لے کر اسرائیل تک جتنا بھی علاقہ ہے‘ اس میں سب سے مضبوط فوج پاکستان کی ہے‘ اس لیے اس خطے میں ہمیں اس ملک کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہمیں دنیا کے سب سے امیر اور طاقت ور ملک کے ساتھ دوستی کرنی چاہیے‘ کیونکہ ہمیں ہندوستان سے خطرہ ہے۔ یوں یہ ایسی دوستی بن گئی جس میں دونوں ممالک کے نصب العین ایک دوسرے سے مختلف مگر مفادات میں قدرے مطابقت پیدا ہو گئی تھی‘ لیکن نوے کی دہائی اور نائن الیون کے بعد سے ہمارے ہاں اینٹی امریکن ازم بہت زیادہ ہو گیا ہے۔
اس عجیب و غریب صورت حال کو مزید یوں واضح کیا جا سکتا ہے کہ ہر معاشرے میں واہمے ﴿Myths﴾ ہوتے ہیں جنہیں روکنا اور بدلنا بڑا مشکل ہے۔ بھارت میں بھی ان کی تکالیف اور تہذیب و ثقافت پر بیرونی حملوں کے باعث کچھ واہمے چلے آ رہے ہیں یعنی درہ خیبر سے حملہ آور آتے رہے اور انہوں نے ہماری ہندوستانی تہذیب کو تہ وبالا کر ڈالا اور وہ ہمارے بت اور مندر توڑتے اور گراتے رہے۔ انہی واہموں کی بنیاد پر ایک ہندو نیشنلسٹ پارٹی وجود میں آ گئی۔ اسی طرح پاکستان میں بھی کچھ واہمے ہیں‘ مثال کے طور پر علامہ اقبال(رح) نے اپنی شاعری میں فرمایا کہ ہنود و یہود کی سازشیں ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں‘ یہی چیز ساٹھ برسوں سے ہمارے ذہنوں میں پرورش پا رہی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری اپنی تاریخ سازشوں سے عبارت ہے۔ سراج الدولہ کو میر جعفر کی وجہ سے شکست ہوئی‘ ٹیپو سلطان کو میرصادق کی غداریوں کی وجہ سے شکست ہوئی۔ ۱۷۹۱ئ میں ہمارے ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا‘ وہ ایک عالمی سازش تھی۔ بدقسمتی سے ہمارا اپنا ذہن بھی سازشی ہے جس سے ایک عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہوتی چلی آئی ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ٹی وی پر کسی کو یہ کہتے سنا کہ اسلامی یونیورسٹی میں دھماکا امریکہ نے کرایا ہے۔ نوے کے عشرے اور نائن الیون کے بعد سے ہمارا ذہن ایک بند ڈبے کی صورت اختیار کر گیا ہے جس سے نکلنا کچھ سہل نہیں۔ ظاہر ہے چھ سال کی عمر سے لے کر سولہ سال کی عمر تک ہم جو نصاب پڑھتے ہیں اس میں ہمیں وہی غیرحقیقی تصورات پڑھائے جاتے ہیں جن کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں اور ان کی روشنی میں ہمیں اپنی ملک میں ہونے والی ہر منفی سرگرمی امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کی سازش معلوم ہوتی ہے۔
اس صورت حال کے جنم لینے سے پہلے کشمیر پر اہل مغرب ہمارے ساتھ تھے‘ مگر اپنے سازشی نقطہ نظر کی بدولت ہم نے انہیں بھی اپنے خلاف کر لیا ہے۔ دراصل ہمارے لیے یہ طے کرنا خاصا مشکل ہے کہ ہمارے خطے میں امریکہ یا اہل مغرب کا اصل کردار کیا ہے۔ میں نے بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں نو اندھے آدمیوں کا ذکر تھا۔ جن کا زندگی میں پہلی بار ہاتھی سے سامنا ہوا تو انہوں نے فرداًفرداً ہاتھی کے مختلف جسمانی اعضائ کو محسوس کر کے باری باری اس کے بارے میں اپنی رائے دی۔ ایک نے کہا کہ ہاتھی ستون ہے‘ دوسرے نے کہا یہ پنکھے ہیں‘ تیسرے نے کہا کہ ہاتھی ایک دیوار ہے۔ غرض ان میں سے جس نے بھی ہاتھی کے جس حصے کو ہاتھ لگایا‘ اسی کے مطابق اسے نام دے ڈالا۔ بالکل وہی صورت حال آج ہمیں درپیش ہے۔ بدقسمتی سے مغربی تہذیب و ثقافت کو سمجھنا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔ ہم میں سے جو سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ ہیں یا وہ لوگ جو تیس تیس چالیس چالیس سال سے مغرب میں رہ رہے ہیں اور جنہوں نے کبھی انگریز کی چوکھٹ پار نہیں کی‘ وہ بھی مغرب کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں کچھ نہیں جان سکے‘ کیونکہ وہ وہاں بھی ایک بند ڈبے کے اندر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں اپنا یہ طرزفکر بدلنا ہو گا اور یہ سمجھنا ہو گا کہ آج کی دنیا کے بنانے اور بگاڑنے والے ﴿میکرز اینڈ شیکرز﴾ کون لوگ ہیں۔ میں بتاتا چلوں کہ مغرب جب سویت یونین کے خلاف تھا‘ تو اس نے بڑے طریقے سے ہمارے پٹھانوں‘ قبائلیوں اور افغانیوں کو روس کے خلاف اسلام کے حوالے سے استعمال کیا۔ آج بھی امریکہ میں یہ بات ہوتی ہے کہ روس کے خلاف افغان جنگ ان کے لیے سب سے سستی جنگ ثابت ہوئی۔
ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ سول ملٹری تعلقات کا ہے۔ ہمارے ملک میں مڈل کلاس میں ہی سب سے زیادہ تعلیم ہے اور یہی مڈل کلاس فوج کی بھرتی کے موقع پر سب سے آگے ہوتی ہے اور بیوروکریسی بھی اسی سے تشکیل پاتی ہے‘ مگر ہماری مڈل کلاس جمہوریت مخالف ہے‘ کیونکہ ہمارے ملک کی ستر سے اسی فیصد آبادی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ جمہوریت کیا ہے۔ یہ شعور نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے تیس چالیس برسوں میں ہمارا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ بیسویں صدی تک جمہوریت کی یکے بعد دیگرے دنیا میں تین لہریں آ چکی ہیں۔ تیسری لہر کے بعد ۱۹۹۵ئ میں دوسرے ممالک مزید جمہوری ہوتے گئے‘ مگر ہم ہیں کہ ۲۰۰۹ئ میں بھی ہمارا مزاج جمہوری نہیں بن سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں الیکشن میں جاگیردار اوپر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔
موجودہ صدی میں باقی ممالک کے ساتھ قدم ملا کر نہ چلنا‘ ان کی جمہوری لہر کا ساتھ نہ دینا‘ اپنے آپ کو ان سے الگ رکھنا اور شعور استعمال نہ کرنا‘ ہمیں وہیں رکھے گا جہاں ہم آج کھڑے ہیں بلکہ اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو ہم اور بھی زیادہ نیچے چلے جائیں گے۔ مغربی دنیا میں آج ہمارے ملک کے لیے Bleeding House اور ٹیررازم جیسے القابات استعمال کیے جا رہے ہیں‘ کیونکہ یہاں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جا رہا۔ اگر ہم اس فکری تضاد سے چھٹکارا نہیں پائیں گے‘ تو ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہر فوجی آمر کے خلاف یہاں بغاوت ہوئی۔ کوئی بھی فوجی حکمران ذلیل ہوئے بغیر ملک سے نہیں نکلا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہم جان نہیں چھڑا سکتے۔ دوسری طرف بھارت کو دیکھ لیں‘ وہاں ایلیٹ طبقہ آئین سے نیچے ہے جبکہ ہمارا آئین ایلیٹ طبقے کے نیچے ہے۔ ہم نے اب تک آئین کا جو حشرنشر کیا ہے وہ بھی ہماری موجودہ حالتِ زار کا بڑی حد تک ذمے دار ہے۔ بھئی جمہوریت تو آئین کے حوالے سے آئے گی‘ انتخابات آئین کے حوالے سے ہوں گے‘ حکومت بھی آئین کے حوالے سے بنے گی اور پارلیمنٹ بھی آئین کے حوالے ہی سے کام کرے گی۔ ہمارے ہاں ایک بہت بڑا آئینی بحران ہے جس کی وجہ سے یہ سب مسائل جنم لے رہے ہیں۔ چند خلیجی ملکوں کے سوا دنیا کے تمام ممالک آئین کے ماتحت چلتے ہیں لہٰذا ہمیں اس طرف بھی دھیان دینا ہو گا۔
آخری بات میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کا جو رول بنتا جا رہا ہے‘ اسے دنیا بھر میں ناپسند کیا جا رہا ہے۔ دراصل ہم اپنے بند ذہن کے مطابق کام کر رہے ہیں اور ہمیں یہ ادراک ہی نہیں کہ ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کیسے چلنا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ جب ہندوستان میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے‘ تو شور مچتا ہے کہ پاکستان ہمارے ملک میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ افغانستان کے بھی ہمارے بارے میں یہی خیالات ہیں اور اب ایران بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ مغربی ممالک سے ہمارے جو دوست یہاں آتے ہیں‘ وہ سب سے پہلا سوال یہ کرتے ہیں کہ بھئی پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں تو فرانس امریکہ برطانیہ غرض ہر مغربی ملک میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے حوالے سے بات ہوتی ہے‘ پاکستان کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے اپنا یہ کردار نہیں بدلا تو اس خطے اور پوری دنیا میں ہمارے بارے میں جو تاثر قائم ہو چکا ہے‘ وہ یونہی قائم رہے گا۔ مگر میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ اس تاثر کو بدلنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ ہم جب تک اپنے فرضی قصے کہانیوں کی دیوار نہیں توڑیں گے‘ ہمارے مسئلے مسائل یونہی رہیں گے۔
|