ہم سر نہ جھکائیں گے۔ نومبر ۲۰۰۹ء
ہمارے حالات بلاشبہ مخدوش ہیں‘ مگر ان میں بے سمتی‘ بے ہمتی اور بے یقینی سے بہتری نہیں لائی جاسکتی۔ پشاور میں پے در پے خیبر اور مینابازار میں ہولناک دھماکے ہوئے ہیں اور دو سو کے لگ بھگ عورتیں‘ بچے اور شہری شہید ہوئے اور زخمیوں کی تعداد چار سو کے قریب جا پہنچی ہے۔ تین دن گزرنے کے باوجود تباہ شدہ عمارت کا ملبہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ فضا سوگوار ہے‘ آنکھیں اشکبار ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت اور مغفرت کے لیے بے اختیار دستِ دعا اُٹھ رہے ہیں۔ بے انتہا تشدد اور اور خونریزیوں کے اس گھپ اندھیرے میں روشنی کا مینار وہ فولادی عزم ہے جو قوم کے اندر دہشت گردی کے سامنے ڈٹ جانے کا جذبہ بیدار کرتا جا رہا ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم سے قسم لے لو ہم ظالموں کے آگے سر نہ جھکائیں گے اور اپنے وطن کی داخلی سلامتی کا پوری طاقت سے دفاع کریں گے۔ صوبہ سرحد کے عوام اور اس کی قیادت نے جس بے مثال ایثار اور قربانی کا ثبوت دیا ہے اُس پر ہم انہیں سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اس اندوہناک ماحول میں ہماری بہادر اور دنیا کی بہترین فوج کا قومی کردار بڑا تابناک اور بہت عظیم ہے۔ اس بار اسے اندر سے اُبھرنے والی دہشت گردی کا سامنا ہے جو انتہائی کٹھن اور صبرآزما مرحلہ ہے۔ داخلی دشمن کا سراغ لگانا‘ اس کی شناخت کرنا اور اسے نشانہ بنانا سب سے مشکل اور سب سے خطرناک محاذِجنگ ہے جِسے سر کرنے کے لیے عوام کی حمایت اور سول حکومت کے حکم پر شیردل افسر اور جوان مردانہ وار نکلے ہیں اور دفاعِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ بری اور فضائی فوج کی قیادت اس مصمم ارادے کا باربار اعادہ کر رہی ہے کہ انتہاپسندوں اور انسانیت کے دشمنوں کے خلاف آپریشن قومی اہداف حاصل کرنے تک جاری رہے گا اور ہم ہر قیمت پر اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کریں گے۔ مسلح افواج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے شورش زدہ علاقوں کا دورہ کرتے اور یہ پیغام دیتے آئے ہیں کہ ہم بدی کی قوتوں کے آگے سر نہ جھکائیں گے۔ قوم اپنی فوج کی عظمت اور عزیمت کو سلام پیش کرتی ہے۔
سر اُٹھا کر چلنے اور جینے کا شعور ہمارے قلب و روح میں سرایت کر گیا ہے اور عوام نے کیری لوگر بل کے خلاف اپنے بے پایاں جذبات کا اظہار کر کے امریکی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ ہم اس کے فرعون صفت مزاج اور حکمت عملی کے سامنے سر نہ جھکائیں گے اور قومی خودمختاری کا تحفظ کریں گے۔ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان آئیں‘ تو انہیں بے باک اور گستاخ سوالات کا سامنا اور اپنی حکومت کی بعض غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا جبکہ صدر زرداری محترمہ کی قیادت سے توقعات کا اظہار کرتے رہے۔ لوگوں میں یہ جذبہ اور حوصلہ طاقت پکڑتا جا رہا ہے کہ امریکہ سے دوستانہ روابط ضرور قائم رکھے جائیں‘ مگر اس کی آقائی تسلیم نہ کی جائے اور ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قومی خودانحصاری کا راستہ اپنایا جائے اور اپنے ادارے مضبوط کیے جائیں۔ ہم اس عظیم اور بے کراں عوامی جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قوم کے اندر فکری‘ مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کے خلاف بھی ایک مستحکم ردعمل تشکیل پا رہا ہے۔ لوگ رواداری‘ میانہ روی اور مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں اور وہ ان کٹر مذہبی گروہوں سے بے حد بدظن ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاڑھی میں اسلام ہے اور طاقت کے ذریعے ان کی سخت گیر شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے اور ان طاقتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ’’لبرل ازم‘‘ کے نام پر اسلامی شعار کا مذاق اُڑانا اور اخلاقی آوارگی پھیلانا چاہتے ہیں۔ قرارداد مقاصد میں ریاست کے مقاصد کا تعین ہو چکا ہے جو عصرِحاضر کے جدید تقاضوں اور جمہوری روح کے عین مطابق ہیں۔ عوام ان دونوں انتہا پسند گروہوں کے آگے سر جھکانے پر ہرگز تیار نہیں۔ وہ ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جو ہر فرد کی جان‘ مال‘ آبرو اور آزادی کی ضمانت دیتا اور ملتِ آدمیت کا آفاقی تصور پیش کرتا ہے اور تمام ادیان کے پیغمبروں کا احترام کرتا ہے۔ دین کے ساتھ محبت اور عقیدت ہر مسلمان کے دل میں جا گزیں ہے اور اسے نکالنے کی جس قدر کوشش کی جائے گی‘ مذہبی دہشت گردی کو ہوا ملے گی۔ وہ ارباب حکومت جو تبدیلی کے دروازے بند کر دیتے ہیں‘ وہ غیر جمہوری طاقتوں کو آگے آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ بھٹو مرحوم نے آئین میں ایک شق یہ رکھی تھی کہ نئے وزیراعظم کے آنے تک موجودہ وزیراعظم برسراقتدار رہے گا۔ یہی شق ۷۷ئ کے بحران میں سیاسی حکومت کے خاتمے کا باعث بنی۔ آج ہمارے صدر زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے فطری اور جمہوری ارتقائ کا راستہ روکنا چاہتے ہیں‘ مگر یہ کوشش آج کی غیرمعمولی صورت حال میں کسی انہونے واقعے کی بنیاد بن سکتی ہے اور عوام ان کی خواہش کے آگے سر نہ جھکائیں گے۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ