۔۱۸/ستمبر کی شب انڈس ٹی وی پر نشر ہونے والا مدیر اعلیٰ اُردوڈائجسٹ الطاف حسن قریشی کا سیر حاصل انٹرویو۔ اکتوبر ۲۰۰۹ء
پروگرام ہاٹ ایشوز میں آپ کا میزبان اشرف عظیم حاضر خدمت ہے۔ آج میرے ساتھ جناب الطاف حسن قریشی‘ مدیراعلیٰ اُردوڈائجسٹ موجود ہیں۔ آپ سینئر صحافی‘ اور ماہر تجزیہ نگار ہیں۔ پاکستان کے سیاسی امور پر آپ کی گہری نظر ہے۔
اشرف عظیم: قریشی صاحب‘ آج ہماری قومی سطح پر جو صورت حال ہے اور سیاست کا جو رخ اس وقت چل رہا ہے‘ مشرف حکومت کا آٹھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب جبکہ جمہوریت کی بات ہونا شروع ہوئی تھی‘ سیاست دان یہ کہنے لگے تھے کہ ہمیں ماضی سے نکل کر آگے کو دیکھنا ہے اور دو بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت پر بھی اتفاق کیا تھا‘ لیکن اس کے باوجود لگتا یہ ہے کہ ہم آج بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں جو ۹۰/ کی دہائی میں تھی یعنی ہم ایک دوسرے کو قبول نہیں کر پا رہے۔ آپ اس تمام صورت حال کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟
الطاف حسن قریشی: بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ بات یہ ہے کہ ہم نے ۹۰/ کا جو زمانہ دیکھا اور اس میں سیاسی کشمکش کے جو نتائج ہمارے سامنے آئے تھے‘ میرا خیال ہے کہ اس میں فرق تو واقع ہوا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی تربیت کی کمی ہے اور سیاسی کردار جو بڑی طویل جدوجہد کے بعد تیار ہوتا ہے‘ اس کا بھی ہمارے ہاں فقدان ہے۔ دراصل سیاسی قیادت کی تشکیل بھی ایک دو روز میں نہیں ہوتی۔
اشرف عظیم: قریشی صاحب‘ لانگ مارچ کا سلسلہ تو آج بھی چل رہا ہے۔ آج بھی بی بی سی کی بات ہوتی ہے اور اسی کے ذریعے سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
الطاف حسن قریشی: دیکھیں جی بات یہ ہے کہ اگرچہ ایک جمہوری نظام میں لانگ مارچ کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے‘ مگر میرے خیال میں ایشوز کی سیاست میں اسے زیادہ فروغ ملے گا۔ اس بار لانگ مارچ ایک خاص ایشو پر ہوا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ لانگ مارچ تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ بے نظیر صاحبہ اور نواز شریف نے بھی ایک دوسرے کے خلاف لانگ مارچ کیے تھے‘ لیکن ان لانگ مارچوں میں قطعیت کے ساتھ ایشوز نہیں اُٹھائے گئے تھے اور سیاسی اُچھل کود زیادہ شامل تھی۔ اس بار ایسا ہوا ہے کہ ڈیڑھ دو سال ایک خاص ایشو پر وکلائ‘ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے رائے عامہ ہموار کی اور یہ سب لوگ اس ایشو پر بڑی استقامت کے ساتھ قائم رہے اگرچہ اس دوران یہ محسوس ہوتا رہا کہ شاید یہ ایشو بھی تحلیل ﴿Dilute﴾ ہو جائے گا اور عدلیہ دو نومبر کی پوزیشن پر کبھی بحال نہیں ہو سکے گی۔
اشرف عظیم: لیکن قریشی صاحب‘ یہ بھی تو دیکھیے کہ یہ معاملہ بالآخر فوج کی مداخلت ﴿Intervention﴾ ہی سے حل ہوا۔
الطاف حسن قریشی: دیکھیں فوج کی مداخلت اس وقت ہوئی جب عوام اُٹھ کھڑے ہوئے تھے‘ یعنی اصل کام عوام ہی نے کیا تھا۔ جب عوام کی طاقت اس طرح ظاہر ہو گئی کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو بہت افراتفری پھیلے گی‘ تب میں سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز کیانی صاحب نے جمہوری تصورات کے حق میں اپنا کردار ادا کیا جسے پوری قوم نے سراہا۔ دوسرے معنوں میں اس کے پیچھے ایک پوری سوچ‘ ایک عوامی جدوجہد اور سول سوسائٹی اور میڈیا کا بہت بڑا کردار تھا۔
اشرف عظیم: جب ہم جمہوریت اور پارلیمنٹ کے کردار کی بات کرتے ہیں‘ تو یقینا ہمارے پاس ایک پلیٹ فارم ایسا ہوتا ہے جہاں سیاست دان اپنی کوئی بات‘ اپنا بحث مباحثہ اور نقطہ نظر آگے لے جانے والی بات زیربحث لا سکتے ہیں۔ جب ہمارے پاس ایسا ایک پلیٹ فارم موجود ہے اور سیاست دان اپنے معاملات اس طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں‘ تو کیا آپ کا یہ خیال نہیں کہ لانگ مارچ جیسے اقدامات سے دوسری قوتوں کو مداخلت کا موقع ملتا ہے؟
الطاف حسن قریشی: یہ باتیں کی تو جا رہی ہیں کہ نادیدہ قوتیں ایک بار پھر سرگرم عمل ہو گئی ہیں جو اب کچھ زیادہ نادیدہ بھی نہیں رہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ میثاق جمہوریت سے جو سفر شروع ہوا تھا اور جو توقعات اس سے وابستہ کی جا رہی تھیں‘ وہ خاصی حد تک پوری نہیں ہوئیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر بے نظیر کی شہادت نہ ہوتی تو صورت حال میں بڑی حد تک استحکام پیدا ہو جاتا۔
اشرف عظیم: میں بھی یہی بات کر رہا ہوں‘ میثاق جمہوریت کے بارے میں نوازشریف صاحب کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ یہ تو ایک کاغذ کا پرزہ ہے۔ اب اگر ایک طرف یہ تصور ﴿Perception﴾ قائم ہو جائے کہ اس پر دستخط کرنے والا ایک لیڈر کہے کہ یہ ایک کاغذ کا پرزہ ہے اور دوسری طرف سے بھی اسے سنجیدگی سے نہ لیا جائے‘ تو پھر دو بڑی جماعتوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ میثاق جمہوریت چلتا نظر نہیں آتا۔ کیا اس سے آگے چلنے والی بات ہی ختم نہیں ہو جاتی؟
الطاف حسن قریشی: نوازشریف نے کاغذ کے ٹکڑے والی بات یوں نہیں کہی بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ حکمران جماعت نے میثاق جمہوریت کو کاغذ کا ایک ٹکڑا بنا دیا ہے‘ حالانکہ یہ ایک بہت بڑا معاہدہ تھا جس پر بے نظیر نے اور میں نے سوچ سمجھ کر دستخط کیے تھے‘ اور وہ تمام مسائل جو ہمیں ماضی میں پریشان کرتے رہے اور جن سے ہمارا مستقبل میں بھی سامنا ہو گا‘ ان کی روشنی میں ہم نے یہ سارا نقشہ تیار کیا تھا۔
میرے خیال میں بے نظیر کے درمیان سے نکل جانے سے اس عمل کو خاصا نقصان پہنچا ہے‘ کیونکہ وہ ایک خاص کمٹمنٹ کے ساتھ آئی تھیں‘ ان کی ایک سیاسی سوچ اور سیاسی تجربہ تھا۔ بدقسمتی سے ان کی شہادت ہو گئی اور آصف زرداری اس میراث کو اس طرح ساتھ لے کر نہیں چل سکے۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص سے مختلف وقت پر مختلف کام لیتا ہے۔ بے نظیر کی شہادت کے وقت سندھ میں جذبات کا جو طوفان اُٹھا تھا‘ اُسے ٹھنڈا کرنے میں آصف زرداری نے اہم کردار ادا کیا اور ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ اُس وقت لگایا جب نوجوان بپھرے ہوئے تھے اور پورے سندھ کے اندر جذبات میں ایک آگ سی لگی ہوئی تھی۔ اس وقت آصف زرداری نے بڑا کردار ادا کیا اور اسی کردار کی وجہ سے پوری قوم نے یہ سمجھا کہ آصف زرداری اب ایک نئی شکل اور ایک نئی روح کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور وہ ایک ایسا کردار ادا کریں گے جس کی یہ قوم توقع کر رہی ہے‘ لیکن لگتا یہ ہے کہ میثاق جمہوریت کا وہ شعور اور کمٹمنٹ جو بے نظیر میں تھی‘ وہ جذبہ آصف زرداری صاحب کے قلب و روح میں پوری طرح نہیں اُتر سکا۔
اشرف عظیم: اگر ایسا ہے تو کیا نوازشریف صاحب درست کہتے ہیں کہ حکومت کی ناکامی دراصل جمہوریت کی ناکامی بنتی جا رہی ہے؟
الطاف حسن قریشی: بظاہر باتیں ایسی ہی ہیں‘ مگر دو تین پہلو ایسے ہیں جو اُمید کی کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ میڈیا خود اس وقت بہت بیدار ہے اور اس نے عوام کو بھی بیدار کر دیا ہے۔ پہلے جو گھپلے اور بڑے بڑے اسکینڈل برسوں تک چلتے رہتے تھے اور حکمرانوں کے جانے کے بعد منظرعام پر آتے تھے‘ وہ اب ساتھ ساتھ بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں۔
اشرف عظیم: قریشی صاحب یہ تو بتائیے کہ میڈیا کو فیڈ کون کر رہا ہے؟
الطاف حسن قریشی: بھئی میڈیا کے لوگ تفتیش کر رہے ہیں اور جب آپ لوگ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ لوگ جو ان مرحلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں‘ وہ بھی آپ کی اس تحقیق میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اشرف عظیم: میرا اپنا یہ خیال ہے کہ میڈیا اس وقت فورفرنٹ پر ہے اور اس کا پھیلاؤ اس قدر ہے کہ آج کے زمانے میں اس قسم کا ایڈونچرزم نہیں ہو سکتا جیسا کبھی ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ نقدوتنقید اس وقت بالکل سامنے ہو رہی ہے اور قصہ زمیں برسرِ سرزمیں والی بات ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ پہلو تشویش ناک بھی ہیں‘ مثلاً یہ کہ مشرقی پاکستان کا جو سانحہ ہوا تھا‘ اس سے پہلے پریس نے کیا کردار ادا کیا اور کیا پریس نے ہمارے عوام کو آنے والے خطرات سے آگاہ کیا۔ دوسری مثال میں بجلی کے بحران کی دینا چاہتا ہوں جس کے بارے میں بھی ہمیں پیشگی خبردار نہیں کیا گیا۔ جب اچانک بحران پیدا ہو جاتا ہے تو اس وقت آپ سب یہ بات کر سکتے ہیں کہ بحران کا یہ نتیجہ نکلا ہے اور اس کے نتیجے میں فلاںفلاں لوگ اپ سیٹ ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ‘ مگر کیا اس بحران سے پہلے ہمارے ہاں یہ شعور تھا کہ جناب یہ بحران آنے والا ہے؟ کیا کسی نے کبھی اس طریقے سے انسویسٹی گیٹ کرنے کی کوشش کی ہے یا پھر جو قدغن حکومت پر لگائی جانی چاہیے کیا ہم اتنے بیدار ہیں؟ یہ تو من حیث القوم ہمارا ایک مزاج ہے مگر میڈیا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے یہ مثالیں اس لیے دی ہیں کہ میڈیا سیاست دانوں کے اطوار کو کور اپ بھی کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ بے نقاب بھی کرتا ہے۔ اس عمل میں میڈیا کو فیڈ کرنے والے لوگوں کا بھی خاصا کردار ہے۔ حال ہی میں بریگیڈئر امتیاز کا واقعہ ہوا ہے اور بیس سال کے بعد یہ سارے معاملات پھر دوبارہ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کیا ہماری قوم کو پہلے سے یہ سب کچھ معلوم نہیں کہ جس طریقے سے ہمارے سیاست دان‘ آئی ایس آئی وغیرہ اس معاملے میں ملوث رہے ہیں اور آئی جی آئی کس طریقے سے بنی ہے؟ کیا یہ تاریخ کو دہرانے والی بات ہے یا پھر آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی پشت پر کچھ اور عزائم بھی کارفرما ہیں؟
الطاف حسن قریشی: جیسا کہ آپ نے بتایا کہ بیس سال بعد ان باتوں کے دہرانے سے ان کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی ایسا مقصد کارفرما ہے جس کے ذریعے نظام کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔
اشرف عظیم: یہ عدم استحکام کون لوگ پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ اب جو لوگ سامنے آئے ہیں وہ تو یونیفارمڈ لوگ تھے‘ بریگیڈئر کا لفظ ان کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان لوگوں کا ایک پروٹوکول اور کوڈ ہوتا ہے اور سبکدوشی کے بعد بھی وہ ایک ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا تو یہ مطلب ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص انداز میں ہو رہا ہے۔
الطاف حسن قریشی: بات یہ ہے کہ بریگیڈئر ﴿ر﴾ امتیازصاحب کے جتنے انکشافات ہیں یا جنرل ﴿ر﴾ اسد درانی نے جو ایفی ڈیوٹ دیا ہے‘ میرے خیال میں اس کا سب سے بُرا اثر براہ راست فوج پر پڑا ہے‘ تمام تر کردارکشی فوجی قیادت‘ آئی ایس آئی اور آئی بی کی ہوئی ہے۔ یہ بات کہ سیاست دان کیا کردار ادا کرتے رہے ہیں‘ وہ تو پہلے بھی بحث میں آتا رہا ہے مگر یہ کہ آئی ایس آئی اور آئی بی نے کیا کردار ادا کیا اور قوم کی جو امانت قومی سلامتی پر خرچ کرنے کے لیے ان کے سپرد کی گئی تھی‘ تو اگر وہ رقوم سیاست دانوں کو خریدنے پر خرچ کی جا رہی تھیں‘ تو اس کے ذمے دار افراد یقینا اپنی حدود سے تجاوز کر رہے تھے۔ اور یہ جو کہا جا رہا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں ہی حکومتیں بناتی اور بگاڑتی ہیں‘ تو ان انکشافات سے آپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ماضی میں آپ یہی کچھ کرتے آئے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر سابق فوجی افسروں کی سنسنی خیز گفتگو سے فوج‘ آئی ایس آئی‘ آئی بی اور ایم آئی کا امیج سب سے زیادہ خراب ہوا ہے۔
اشرف عظیم: اس کے برعکس فوج کی تو یقینا یہ خواہش ہو گی کہ معاملات اس کے حق میں بہتر ہوں جیسا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ جنرل پرویز کیانی نے اپنے آپ کو سیاسی معاملات سے ایک فاصلے پر کر لیا ہے۔ اس کا بہت بڑا ثبوت انہوں نے الیکشن میں دیا ہے کہ فوج کو اس سے الگ تھلگ رکھا ورنہ یہی سمجھا جاتا رہا کہ فوج کا وہی اسٹیٹس ہو گا جیسا مشرف دور میں تھا۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کا یہ کردار ابھی تک موجود ہے یا اسی طریقے سے جاری رہے گا اور اس سے ہماری سیاست اور جمہوریت کس طرح مستحکم ہو گی؟
الطاف حسن قریشی: میرا خیال ہے کہ یہ جو باتیں ہمارے بعض سابق فوجی افسروں نے کی ہیں ان سے یہ شعور تو عوام کے اندر بہت زیادہ اجاگر ہوا ہے کہ فوجی قیادت اور خفیہ ایجنسیوں کو وہ کردار ادا نہیں کرنا چاہیے جو وہ ماضی میں ادا کرتی رہی ہیں۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ جنرل پرویز کیانی نے آغاز ہی میں اپنے آپ کو سمیٹا‘ خود کو سیاسی آلائشوں سے دور رکھنے کی کوشش کی اور اس بات کی بھی پوری کوشش کی کہ انتخابات میں فوج کو شامل نہ کیا جائے‘ چنانچہ انہوں نے غیرجانب داری قائم رکھنے کے لیے باقاعدہ احکام جاری کیے۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ انہوں نے یہ جائزہ بھی لیا ہے کہ پرویز مشرف کے تمام غلط کاموں کا سب سے زیادہ نقصان فوج کو پہنچا ہے۔ اس سے فوج اور عوام کے درمیان ایک دوری پیدا ہو گئی تھی اور پچھلے دنوں ایک ایسا وقت بھی آیا تھا کہ فوجی صاحبان وردی میں باہر نکلتے ہوئے خوف کھاتے تھے اور انہیں یہ احکام بھی دیے گئے تھے کہ آپ فوجی وردی پہن کر بازاروں اور شہروں میں نہ جائیں اور کنٹونمنٹ ہی میں رہیں۔ جب نفرت اس حد تک بڑھ گئی تو فوجی قیادت کو یہ احساس ہوا کہ ہمیں اس دلدل سے باہر نکلنا اور جس طرح ہم پہلے سیاست میں ملوث ہوتے رہے اب ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ جب فوج کو مالاکنڈ‘ سوات اور وزیرستان کا آپریشن کرنا پڑا‘ تو اسے اندازہ ہوا کہ عوام کی حمایت کے بغیر وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے ہی نہیں سکتی‘ چنانچہ فوجی قیادت نے اس امر کا بڑا اہتمام کیا اور لوگوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ ہم عوام کی حمایت کے بغیر قومی سلامتی کے مسائل حل کر سکیں گے نہ اپنے ملک کا دفاع کر سکیں
گے۔ اس تمام صورت حال نے فوجی قیادت کو یہ شدید احساس بھی دلا دیا ہے کہ ہمارا الگ تھلگ رہنا ہی ملک کے لیے بہتر ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ فوج ان حالات میں جو بظاہر اچھے حالات نہیں لگ رہے‘ دوبارہ اقتدار کی خواہش کرے گی‘ کیونکہ اس وقت اقتدار کی خواہش اپنی داخلی تباہی اور عوام کی شدید نفرت کو دعوت دینے کے مترادف ہو گی۔
اشرف عظیم: لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت جو دیدہ و نادیدہ قوتیں جو کچھ کر رہی ہیں‘ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ دکھائیں کہ سیاست دانوں کا ماضی یہ ہے جو کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔ پھر ان کے خلاف ریفرنسز موجود ہیں‘ این آر او بھی موجود ہے جس کے ذریعے سے انہیں بڑا ریلیف ملا ہے یا ان کے داغدار ماضی کی صفائی ہوئی ہے۔ وہ دیدہ و نادیدہ قوتیں یہ کہتی ہیں کہ ان تمام چیزوں کے نقاب ہونے کے بعد سیاست دانوں کی کیا اخلاقی ساکھ اور حیثیت باقی رہ جاتی ہے‘ اور سچ تو یہ ہے کہ وہ آج بھی ایسے ہی معاملات میں ملوث ہیں مثلاً چینی کا بہت بڑا اسکینڈل ہمارے سامنے چل رہا ہے اور اس میں بھی سیاست دان ملوث ہیں کیونکہ چینی کی ملیں انہی کے پاس ہیں اور انہوں نے اس موقع پر خوب ہاتھ رنگے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے عوام ان سیاست دانوں سے کسی قسم کی اُمید قائم کر سکتے ہیں؟
الطاف حسن قریشی: یہ صورت حال تو یقینا تشویش ناک ہے‘ مگر میرا خیال یہ ہے کہ جمہوری عمل کو پاکستان بننے کے بعد جو استحکام ملنا چاہیے تھا بدقسمتی سے وہ استحکام حاصل نہیں ہو سکا۔ آغاز سفر میں جو سیاسی قیادتیں سامنے آئیں‘ ان میں بے شمار خوبیوں کے باوجود چند بنیادی خرابیاں تھیں۔ ایک بات ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت کوئی وزیر یا حکومت کا سیکرٹری کرپشن کا تصور نہیں کر سکتا تھا یعنی کسی وزیر کے بارے میں یہ سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا کہ وہ پیسے لے کر کسی کی تقرری کرے گا یا کسی ڈیل کا حصہ بنے گا۔
اشرف عظیم: اور آج کسی وزیر کے بارے میں یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کرپشن نہیں کرے گا۔
الطاف حسن قریشی: جی یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ایوب خان کی حکومت آئی۔ ایوب خان کی حکومت سے پہلے اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ ان کی عوام کے اندر جڑیں نہیں تھیں‘ اس لیے انہوں نے لوگوں کو خریدنے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے وہ سارے کام کیے جو اخلاقی اور سیاسی اصولوں اور قدروں کے منافی تھے اور یوں ہماری سیاست میں یہ خطرناک ناسور پیدا کیے۔ ایوب خان نے ان لوگوں کو وزیر بنایا جو اپنے علاقے میں نہایت بری شہرت کے حامل تھے۔ آج ہماری سیاسی زندگی میں جنم لینے والی کرپشن دراصل ایوب خان کے مارشل لائ کا تحفہ ہے۔ ہماری سیاسی زندگی کی بہت سے لعنتیں جو آج ہمیں نظر آتی ہیں‘ وہ فوجی آمریتوں کے زمانے میں پروان چڑھی ہیں۔
اشرف عظیم: قریشی صاحب‘ یہ آپ نے درست فرمایا کہ آمریت سیاسی بدعنوانیوں کی پرورش کرتی رہی اور کوئی ایک نہیں بلکہ انہیں کرپٹ کرنے کے بے شمار طریقے ایجاد کیے‘ لیکن یہی سیاست دان ہمیں ورثے میں ملے ہیں‘ اب اہم سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں قوم کن کی طرف دیکھے اور کن سے رہنمائی حاصل کرے۔ اصل بات تو یہی ہے کہ ہمارے پاس کوئی رول ماڈل ہی نہیں اور یہی سیاست دان ہمارے سامنے ہیں جنہیں پہلے سے ایک بار نہیں متعدد بار آزمایا جا چکا ہے۔ اس طرح تو پاکستانی عوام کے سامنے کوئی راستہ نہیں بچتا۔
الطاف حسن قریشی: میں اس لیے پرامید ہوں کہ جمہوری عمل کے راستے پر چل کر ہی آپ سیاسی اصلاحات نافذ کر سکتے ہیں۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک انجکشن لگائیں اور یک دم سب کچھ ٹھیک ہو جائے یا اوپر سے دوچار مسیحا اُتر آئیں اور آپ کے سارے کام درست کر دیں۔ اگر کچھ ہو گا تو انہی لوگوں کے ذریعے اور انہی راستوں پر چل کر ہمیں اپنی منزل تلاش کرنا ہو گی۔ گزشتہ پانچ چھ ماہ میں آپ نے دیکھا کہ بعض ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اپنے غلط کردار کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا اور اپنی سیٹیں خالی کرنا پڑیں۔ ہمارے ہاں یہ کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل شروع ہو چکا ہے جس سے سیاست کی آلائشیں بتدریج صاف ہو سکتی ہیں۔
اشرف عظیم: لیکن قریشی صاحب‘ اس کے برعکس بھی تو مثالیں سامنے آئی ہیں جب بدعنوان لوگ بڑے بڑے عہدوں پر بٹھا دیے گئے۔ دراصل ہماری سیاسی قوتیں اپنے لوگوں کو بڑا تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ہاں البتہ جہاں ان کا ہاتھ نہیں پڑتا‘ وہاں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میڈیا اس وقت بیدار ہے اور اگر کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر سب کے سامنے آ جاتا ہے مگر اس کے بعد اسے کوراپ کرنے کے بھی بے شمار طریقے ہیں۔
الطاف حسن قریشی: اب چونکہ میڈیا اور عدلیہ دونوں آزاد ہیں اور عوام بیدار ہیں‘ اس لیے میرا حسن ظن یہ ہے کہ عوام کے پیہم دباؤ سے سیاسی قیادتیں مجبور ہوں گی کہ وہ اپنے اندر جمہوریت کو فروغ دیں اور نیا خون لائیں اور عوام کے ایشوز پر توجہ دیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے‘ تو ان کے اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جائے گا اور خیر اور شر پر مشتمل عناصر چھٹنے لگیں گے۔ پیپلز پارٹی کی مثال لے لیجیے کہ اس کے اندر بھی ایک شخصیت جناب آصف زرداری کی ہے اور دوسری وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی۔ ان دونوں کے اندر بھی آپ کو نمایاں فرق یہ نظر آ رہا ہے کہ وزیراعظم کسی قدر جمہوری مزاج رکھتے ہیں اورکوشش کر رہے ہیں کہ سترہویں ترمیم اور ۸۵۔۲ب ختم ہو‘ پارلیمان کو مکمل اقتدار ملے اور جمہوری نظام معروف روایات کے مطابق چلنے لگے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وزیراعظم صاحب فرشتے ہیں مگر وہ اپنے طور پر بہتری کی کوشش ضرور کر رہے ہیں اور انہیں تمام پارلیمانی جماعتوں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔
اشرف عظیم: آٹھ جولائی کو وزیراعظم نے تمام صوبوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں بلدیاتی نظام ختم کر دینے اور اسے اکتوبر میں صوبوں کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد صدارتی ترجمان اور اٹارنی جنرل نے یہ کہا کہ صدر نے اس فیصلے کی مدت ۱۳/ دسمبر تک بڑھا دی ہے اور اب صدارتی ترجمان نے کہا کہ نہیں اس مدت میں اضافہ تو نہیں کیا گیا لیکن یہ شیڈول سِکس میں شامل ہے۔ اب جب ان کی آپس کی کوآرڈینیشن کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم کچھ کہہ رہے ہیں اور صدر کی طرف سے کچھ اور بیان آ رہا ہے‘ تو لوگ ان سے کیا توقع کریں گے؟
الطاف حسن قریشی: یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی عمل کے اندر سے دو قوتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ ایک وہ طاقت ہے جو جمہوری اور عوامی مطالبات کو لے کر آگے چل رہی ہے‘ دوسری وہ قوت ہے جو ’’اسٹیٹس کو‘‘ قائم رکھنا چاہتی ہے۔ زرداری صاحب ’’اسٹیٹس کو‘‘ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے عوامی قوتوں کو ۱۵/مارچ کی شام لانگ مارچ جیسا اقدام کرنا پڑا۔ عوام یقینا یہ سب دیکھ رہے ہیں اور وہ ان لوگوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے بجائے اس ماحول میں ایک اچھی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
اشرف عظیم: قریشی صاحب‘ آپ نے ماحول کی تبدیلی کی بات کی۔ آج ہم جو یہ کہتے ہیں کہ آزادعدلیہ شاید وقوع پذیر ہو چکی ہے‘ آپ کی اس سے کتنی توقعات ہیں؟
الطاف حسن قریشی: دیکھیں جی بات یہ ہے کہ آزاد عدلیہ سے ہماری توقعات تو بہت زیادہ ہیں‘ لیکن یہ بات بھی ہے کہ عدلیہ ایک خاص عمل کے ذریعے ہی سے طاقت حاصل کرے گی جو اُسے آخرکار ملنی چاہیے۔ اب آپ ان کے ۳۱/ جولائی والے فیصلے کو ہی لے لیجیے جس کی رو سے بہت سے جج فارغ کر دیے گئے ہیں‘ مگر ۳۱/جولائی سے لے کر اب تک ان کی جگہ نئے جج صاحبان کا تقرر نہیں کیا جا سکا جس کے باعث لاہور ہائی کورٹ کے بہت سے بینچ خالی پڑے ہیں اور ایک علیحدہ کش مکش شروع ہو گئی ہے۔ یہ مسائل تو ہمارے سامنے آئیں گے اور ان سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جو صحیح قوتیں ہیں اور جو لوگ اس ملک و قوم کی بھلائی کے لیے کام کر رہے ہیں‘ ہم ان کا ساتھ دیں‘ ان کے ہاتھ مضبوط کریں اور لوگوں کو یہ یقین دلائیں کہ اگر آپ ان کا ساتھ دیں گے تو عدلیہ بھی بہتر انداز میں کام کرے گی اور پارلیمان بھی اس امر پر مجبور ہو گی کہ عوام کے مسائل حل کرنے کو اولین ترجیح دے۔
اشرف عظیم: ججوں کی تقرری کے سلسلے میں بھی بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ مختلف سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی پسند کے جج لانا چاہتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ججوں کے انتخاب میں وزیر اعلیٰ کا اختیار ضرور شامل ہونا چاہیے تو کوئی گورنر کے حق میں بات کرتا ہے۔ کچھ لوگ چیف جسٹس صاحب کے اختیار کی بات بھی کرتے ہیں۔ کیا اس کھینچا تانی میں آزاد عدلیہ والی بات ایک خواب معلوم نہیں ہوتی؟
الطاف حسن قریشی: ہم جس تدریجی عمل سے گزر رہے ہیں‘ اس میں اس طرح کے جھٹکے تو لگیں گے۔ ماضی میں عدلیہ نے جو کردار ادا کیا اور جس طریقے سے جج مقرر ہوتے رہے‘ وہ ہمارے ماضی کا ایک ایسا حصہ ہے جس کے اثرات ہمارے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ میثاق جمہوریت میں اس کے لیے ایک نیا نظام تجویز کیا گیا ہے کہ ایک کمیشن ہو‘ وہ مختلف نام دے‘ پھر پبلک ہیئرنگ ہو جس کی روشنی میں آخری فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے۔ اگر ایسا ہو تو اس میں وزیراعظم آتا ہے نہ صدر اور گورنر آتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس مسئلے پر بہت غوروخوض کے بعد تقرری کا یہ نظام میثاق جمہوریت میں شامل کیا گیا تھا۔ اس میں پیش رفت نہیں ہو رہی‘ لیکن میرا اندازہ ہے کہ حالات ان سب لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ میثاق جمہوریت کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔ اب آپ دیکھیں کہ چینی کا جو بحران پیدا ہوا ہے‘ اس سے لوگوں کو تکلیف تو بہت ہوئی‘ مگر ساتھ ساتھ ان حقائق سے بھی پردہ اُٹھ رہا ہے کہ Monoply کا نظام کیسے کام کر رہا ہے‘ وہ مسابقت کا آپ نے کمیشن قائم کیا ہے‘ وہ کیسے کام کر رہا ہے‘ صارفین کے حقوق پر کون کون ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ بہت سارے ایسے سوالات اُٹھ رہے ہیں جن کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ لوگوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے اور اب آگے چل کر جو بھی نقشہ بنے گا‘ اس میں انشااللہ پہلے سے بہتری آئے گی۔
اشرف عظیم: میں ملکی سلامتی کے حوالے سے یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان میں جو امریکی اثرونفوذ ہے اور جس طریقے سے امریکی اسلام آباد میں جڑیں پھیلا رہے ہیں‘ ساتھ ہی بلیک واٹر کی بات ہو رہی ہے اور بے شمار خطرات ہمارے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیٹو اس وقت افغانستان میں موجود ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہمیں یہ احساس نہ ہو کہ پاکستان کی سا لمیت پر سمجھوتا کیا جا رہا ہے۔ ڈرون حملے بھی اس عمل کا ایک حصہ ہیں۔ یہ اور ایسے بہت سے معاملات کی وجہ سے پاکستانی قوم بے حد تشویش میں مبتلا ہے۔ آپ ان معاملات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
الطاف حسن قریشی: مجھے بھی دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح اس بارے میں خاصی تشویش ہے۔ وہ جو ایک عہد پرویز مشرف کے زمانے سے شروع ہوا تھا جس میں ۲۰۰۱ئ کا نائن الیون کا واقعہ ہوا اور اس کے نتیجے میں مشرف صاحب نے جس طریقے سے پاکستان کو فرنٹ اسٹیٹ بنا دیا تھا‘ اس کے بعد جس طریقے سے وہ امریکہ کی ڈکٹیشن لیتے رہے۔ بدقسمتی سے وہی عمل مزید آگے بڑھا ہے جو کہ بڑے دکھ کی بات ہے۔
ہمارا خیال تھا کہ مشرف کے جانے کے بعد وہ عمل رک جائے گا‘ مگر مشرف صاحب جتنا کام یہاں کر گئے ہیں اور امریکہ جس طریقے سے یہاں داخل ہو چکا ہے‘ اس کا اثرورسوخ جتنا بڑھتا جا رہا ہے‘ ڈالر لے کر جس طرح سے وہ اپنے لوگوں کو امریکہ کے حوالے کرتے رہے ہیں‘ ان سے ہماری قومی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ کی جنگ جو یہاں سے بہت دور تھی‘ اسے ہم اپنے ملک کے اندر لے آئے جس کے نتیجے میں طالبان کا غیر معمولی واقعہ (Phenomenon) ظہور پذیر ہوا۔ اب ہم اس قابل ہی نہ رہے کہ امریکہ سے یہ کہہ سکیں کہ ہم آپ کی بات نہیں مان سکتے‘ کیونکہ یہ ہمارے قومی مفاد کے منافی ہے۔
بدقسمتی یہ ہوئی کہ بے نظیر جیسی منجھی ہوئی سیاسی شخصیت جن سے یہ توقع تھی کہ وہ معاملات بہتر انداز میں چلائیں گی‘ وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اب زرداری صاحب کا مسئلہ غالباً یہ ہے کہ جو بہت سے غلط کام ان سے منسوب کیے جاتے ہیں‘ اور ’’اسٹیٹس کو‘‘ قائم رکھنے کے لیے جو کام وہ کرتے آئے ہیں‘ ان کی وجہ سے عوام کے اندر ان کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہیں یہ بھی احساس ہو گیا کہ فوج بھی ان کے ساتھ نہیں۔ میری اطلاع کے مطابق ۱۵/ مارچ کی رات کو مسلح افواج کے سربراہ نے عوام کے حق میں جو مداخلت کی‘ اس سے زرداری صاحب بہت خوفزدہ ہیں اور ناراض بھی۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت پاک فوج کی کردار کشی کی جو مہم شروع ہوئی ہے‘ اس میں ان کی طرف سے یہ اشارہ شامل ہو سکتا ہے کہ فوج نے میری بڑی بے عزتی کی ہے اور جو موقف میں نے اختیار کیا تھا‘ اس سے مجھے پیچھے ہٹنا پڑا ہے‘ اس لیے وہ اب اس کردار کشی کی مہم کی پشت پر کام کرنے والا ’’نادیدہ ہاتھ‘‘ بن گئے ہیں۔ دوسری طرف انہیں یہ اندازہ بھی ہو چکا ہے کہ عوام بھی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان سے بے زار ہو چکے ہیں‘ اس لیے ان کا تمام تر انحصار امریکہ پر ہے اور وہ اس کی ہر بات من و عن مان رہے ہیں۔ امریکی اعلیٰ عہدیداران یہ بات برملا کہہ رہے ہیں کہ پرویز مشرف تو ناقابل اعتبار آدمی تھے‘ ہم سے کچھ کرتے تھے‘ اور پاکستان جا کر کچھ اور کہتے تھے لیکن یہ آصف زرداری صاحب بہت اچھے آدمی ہیں کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ اسی طرح اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس میں ایک اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ چلیں جی ہماری حکومت کی تو یہ مجبوری ہے کیونکہ اسے امریکہ سے ڈالر لے کر اپنی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا ہے مگر پچھلے دنوں نواز شریف صاحب نے خاصی دیر تک افطاری پر صحافیوں اور دانش وروں سے بات چیت کی اور مجھے اس وقت شدید حیرت ہوئی جب انہوں نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا جادو حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر پر بھی چل چکا ہے۔
اس کے برعکس‘ ہماری عوام کے اندر امریکہ کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا‘ تو اس مسئلے پر بہت سی سیاسی اور دینی جماعتیں جو امریکہ کے خلاف بڑی کامیاب ریلیاں نکال رہی ہیں اور جن میں جماعت اسلامی سب سے آگے آگے ہے اور عمران خان بھی شمشیر برہنہ بنے ہوئے ہیں‘ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کے علاوہ دوسری جماعتیں اور سول سوسائٹی جو اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے اور ہماری سرزمین میں کہاں کہاں قبضہ جماتا جا رہا ہے۔ ان میں شدید بے چینی پھیل رہی ہے۔ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ہمارا اقتدارِاعلیٰ امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ جو شعور میڈیا ہمیں دے رہا ہے اور بار بار ان چیزوں کو اجاگر کررہا ہے‘ عوام کے اندر جو بیداری پیدا ہو رہی ہے اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جو مایوس نہیں ہوتے‘ اس لیے مجھے کامل ایقان حاصل ہے کہ جوںجوں حالات عوام کے سامنے آ رہے ہیں‘ رائے عامہ جس طرح منظم ہو رہی ہے‘ بہت جلد انشائ اللہ حکمرانوں اور ان تمام لوگوں کو جو اس وقت امریکہ کے رویے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں‘ انہیں اپنا رویہ بدلنا پڑے گا اور عوام بالآخر اپنی خودمختاری واپس لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اشرف عظیم: آخر میں ذرا بھارت کے ساتھ چلنے والے ہمارے معاملات کی بات کر لی جائے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کسی بھی طریقے سے اس طرح استوار ہو سکتے ہیں جیسے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان ہوتے ہیں اور کیا اس خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے؟
الطاف حسن قریشی: دیکھیں جی بات یہ ہے کہ عوام کے اندر تو دونوں طرف سے یہ خواہش پہلے سے کہیں زیادہ اُبھر کر سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ساٹھ باسٹھ برسوں کی محاذ آرائی نے دونوں طرف بہت نقصان پہنچایا ہے اور پورے خطے کی ترقی میں حائل رہی ہے۔ جناب نوازشریف یہ بات بار بار کہہ رہے ہیں جبکہ آصف زرداری بھی یہی بات ایک دوسرے انداز سے کہہ رہے ہیں کہ بھارت سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ خوشگوار تعلقات اور مفاہمت کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں۔ باہمی تعاون سے ہماری معیشت بھی بہتر ہو گی اور اس سے تاریخ کا بوجھ بھی ہلکا ہو گا‘ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو مسئلہ پاکستان کی تخلیق کی بنیاد بنا‘ وہ یہ ہے کہ ہندو قوم بڑی تنگ نظر ہے اور اس کی قیادت کی تنگ نظری معاملات کو قدم قدم پر الجھا رہی ہے‘ تاہم عالمی حالات میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں ان سے مجھے یقین ہے کہ بھارتی قیادت بھی یہ محسوس کرے گی کہ اسی میں ہماری بھلائی ہے کہ ہم فراخ دِلی سے مل جل کر رہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ اگر اچھے ہمسائیوں کی طرح رہیں گے تو ہم دونوں ہی ترقی کریں گے بلکہ یہ پورا خطہ ترقی کرے گا اور امریکی بالادستی کا بھی ہم مل کر مقابلہ کر سکیں گے۔
|