ہمیں پورا منظرنامہ بدلنا ہوگا ۔ اکتوبر ۲۰۰۹ء

ہم اس وقت شکوک و شبہات اور بے یقینی کی گہری دھند میں سفر کر رہے ہیں اور نت نئے بحرانوں سے عوام ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ اعتماد کا بحران جو سب سے زیادہ خوفناک ہے ، اس کے ہاتھوں ہمارے داخلی اور خارجی مسائل چیلنجوں کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ ہمارے حکمران عوام پر اور ہمارے عوام حکمرانوں پر اعتبار نہیں کر رہے اور یہی کیفیت پاکستان اور اس کے بیرونی دوستوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ امریکہ ہمیں امداد بھی فراہم کر رہا ہے اور کیری لوگر بل میں ایسی کڑی شرائط عائد کرنے لگا ہے جو بیشتر سیاسی قائدین کے نزدیک بڑی ذلت آمیز اور غلامی کے پھندے اور خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دینے کے مترادف ہیں۔ ایک طرف امریکی اور مغربی قیادت پاکستان کو ان عظیم کارناموں پر مبارک باد پیش کر رہی ہے جو اس نے وادیٔ سوات میں طالبان کی طاقت پر کاری ضرب لگا کر اور تین ماہ کے اندر تیس لاکھ مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کی صورت میں سرانجام دیے ہیں ، دوسری طرف پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں اس بے اعتمادی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ درپردہ طالبان اور القاعدہ کی سر پرستی کر رہی ہیں۔ بھارت جسے ہم ایک زمانے میں برابر کی ٹکر سمجھتے تھے ، وہ آج سیدھے منہ بات کرنے کو تیار نہیں اور آبی جارحیت پر تلا ہوا ہے‘ جبکہ ہم اس کے آگے سرنگوں ہوئے جا رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ طویل فوجی آمریتوں نے ہمارا داخلی نظام یکسر تلپٹ کر دیا ہے۔ آئین اور قانون کی حرمت باقی نہیں رہی اور اداروں کے ذریعے قومی امور سر انجام دینے کا معروف طریقہ متروک ہوتا جا رہا ہے۔ صدر آصف زرداری اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف عوام کی خاطر اپنی استطاعت سے بڑھ کر مصروفِ عمل ہیں ، مگر سسٹم کا بگاڑ اور اداروں کی ناتوانی عوام کی ذلت و خواری اور قوم کی بے کسی اور بے وقعتی میں اضافے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کی جو بے اصولی ، بد عہدی اور خواتین ارکانِ اسمبلی کی جو اخلاقی گراوٹ سامنے آئی ہے ، ان سے عام آدمی کے اُمید بھرے خواب چکناچور ہوتے جا رہے ہیں‘ تاہم وطن سے محبت اور خدائے لم یزل پر کامل یقین عوام کے اندر امید کی جوت جگائے رکھتا ہے اور انہیں یہ شعور حاصل ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک بہت بڑی طاقت ہے جس پر عالمی امن کا انحصار ہے اور وہ اپنے حالات اور اپنی تقدیر کو بدل دینے پر قدرت رکھتے ہیں۔
مختلف اسباب سے پاکستانی قوم کے اندر امریکہ سے نفرت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، مگر اس کے اندر یہ احساس بھی پیدا ہوا ہے کہ بحرانوں سے نجات پانے کے لیے امریکی حمایت اور امداد کی ضرورت ہے۔ ’’احباب پاکستان‘‘ کے سربراہ اجلاس نے پاکستان کے لیے زبردست عالمی حمایت فراہم کی ہے جس کی بنیاد پر مستحکم فیصلے اور اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ بعض معتبر اخباری رپورٹوں کے مطابق صدر زرداری اپنے چھ روزہ امریکی دورے میں اہم شخصیتوں سے ملے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے ہیں۔ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے مستقل بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی۔ ہم اس ضمن میں چند عملی تجاویز پیش کی جاتی ہیں:

۔۱۔ ’’احبابِ پاکستان‘‘ کے اجلاس میں چین اور سعودی عرب نے حصہ نہیں لیا جو کئی پہلوؤں سے بڑی تشویش ناک بات ہے۔ اس حساس مسئلے پر فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جائے اور معروف سیاسی اور دینی شخصیتوں پر مشتمل وفود بھیجے جائیں جو وہاں کی قیادتوں تک عوام کے حقیقی جذبات پہنچائیں اور ان کا نقطۂ نظر معلوم کریں۔ یہ دونوں ملک ہماری خارجہ پالیسی میں بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمیں آزمودہ دوستی میں گرم جوشی پیدا کرنے کی بہت سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
۔۲۔ ہمیں غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے قومی خود انحصاری کی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ اس مقصد کے لیے سادگی اور کفایت شعاری کا چلن عام کرنا اور پیٹ پر پتھر باندھ لینا ہوگا۔ شاہانہ زندگی سے کنارہ کشی کے ذریعے ہم طبقاتی نفرتوں کی وہ آگ بھی بجھا سکتے ہیں جسے طالبان ہوا دے رہے ہیں۔ ایک قابلِ اعتماد احتسابی نظام کرپشن پر قابو پانے اور قومی وسائل کے صحیح استعمال کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
۔۳۔ قومی سطح پر یہ امر طے کر لیا جائے کہ تمام ریاستی ادارے آئینی حدود میں کام کریں گے جنہیں اونچی سے اونچی سیاسی‘ عسکری اور عدالتی شخصیتوں پر فوقیت حاصل ہو گی۔ بیوروکریسی کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے اور بائیس گریڈ میں ترقی فیڈرل بورڈ کے ذریعے عمل میں لائی جائے جس کی سربراہی فیڈرل پبلک سروس کے چیئرمین کو سونپی جائے۔
۔۴۔ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ منصوبہ بندی اور عوام کی حمایت سے ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جوپاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و نفوذ کو پوری قوت سے روکنے میں کارگر ثابت ہو اور پاکستان کی قومی خودمختاری اور آزادی کا پرچم سرنگوں نہ ہونے پائے‘ جمہوریت کو استحکام بخشنے اور نظام کو اخلاقی بنیادیں فراہم اور عوامی قوت فراہم کرنے کے لیے پارلیمان کو بنیادی اور مرکزی اہمیت دی جائے اور بنیادی مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
۔۵۔ عوام اور فوج کے درمیان دل گرفتہ منظرنامے کی جگہ ایک پائیدار مطابقت پیدا کی جائے۔
۔۶۔ فوجی قیادت کے لیے سیاسی مہم جوئی کا راستہ بند کرنے کے لیے مشرف کا ٹرائل کیا جائے۔
ان چند معروضات پر عمل پیرا ہو کر کربناک مناظر کو تبدیل کر کے ہم ایک خوش آئند منظرنامہ ترتیب دے سکتے ہیں۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ