حالات سے دُھواں اُٹھ رہا ہے اور عوام کے سینوں میں کھولنے والا آتش فشاں پھٹنا چاہتا ہے۔ ڈیڑھ سال میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ریاست کے معاملات معروف طریقے سے چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا ذہنی انتشار سے دوچار ہے۔ ماہ رمضان میں عام شہری جس دردناک عذاب سے دوچار ہیں‘ وہ پورے حکومتی ڈھانچے کی زبوں حالی پر ماتم کناں ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ شخصیتوں اور ان کے وزیروں اور عہدے داروں کی حرص و ہوس کی داستانیں زباں زدعام ہیں اور ’’مائنس ون (Minus One)‘‘ فارمولا قومی حلقوں میں گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور فروری ۲۰۰۸ئ کے انتخابات کے بعد جناب آصف زرداری ہماری سیاسی زندگی میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ انہوں نے محترمہ کی تجہیز و تکفین کے موقع پر ’’پاکستان کھپے‘‘ کا پوری قوت سے نعرہ بلند کر کے اپنے ماضی کے سارے داغ دھو ڈالے تھے اور اُنہیں چشم زدن میں قومی ہیرو کا مقام حاصل ہو گیا تھا۔ اس عظیم تبدیلی کی بدولت تمام سیاسی جماعتوں نے ہر مرحلے میں ان سے بھرپور تعاون کیا اور کامل اتفاق رائے سے قومی اسمبلی کی اسپیکر اور وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آیا جو ہماری پارلیمانی تاریخ کا پہلا منفرد واقعہ تھا۔ یہ بھی نیک شگون تھا کہ قومی مفاہمت کے تحت مخلوط حکومتیں کسی کش مکش کے بغیر قائم ہوئیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے منصب سنبھالتے ہی ان ساٹھ فاضل جج صاحبان کی رہائی کا حکم صادر کیا جنہیں جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کے غیرآئینی اقدام کے ذریعے ان کے منصب سے فارغ اور گھروں میں قید کر دیا تھا۔ اس اچھی ابتدا سے قوم کے اندر اُمید کی قندیل روشن ہوئی تھی کہ ’’عہدِ ستم‘‘ بیت چکا ہے اور ایک بہتر مستقبل کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔
مرکزی اہمیت حاصل کرنے کے بعد جناب آصف زرداری نے اس بصیرت‘ عملی فراست اور معاملہ فہمی کا ثبوت نہیں دیا جس کے نئے حالات متقاضی تھے۔ ان کے نزدیک تحریری معاہدے اور حکومت کے وقار اور آداب کی سرے سے کوئی وقعت نہیں تھی۔ ریاست کے حساس اور پیچ در پیچ امور سے عدم واقفیت‘ انتظامی ناتجربے کاری‘ سیاسی بے بصیرتی‘ مال و دولت کی لامحدود ہوس اور ’’دوستوں کے دوست‘‘ کی جاگیردارانہ ذہنیت نے چند ہی ماہ میں گُل کھلانا شروع کر دیے۔ انہیں حادثاتی طور پر ایک اعلیٰ ترین مقام تو مل گیا تھا‘ مگر وہ اس کے تقاضوں کے مطابق اپنی عادات‘ اپنے رویوں اور اپنی سرشت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ لا سکے۔ انہوں نے حکومت کے بلند مناصب پر وہ افراد لا بٹھائے جو ایام اسیری میں ان کے کام آتے رہے تھے اور کوئی قومی یا سیاسی پس منظر نہیں رکھتے تھے۔ اہلیت اور استحقاق کے بغیر ذاتی اور سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر اہم تقرریوں سے ان شبہات کو ہوا ملنے لگی کہ ’’ٹین پرسنٹ‘‘ کا پرانا سلسلہ ایک نئے انداز اور وسعت کے ساتھ شروع ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی اپنے ماضی کی محرومیوں کا مداوا بڑے پیمانے پر لوٹ مار سے کرنا چاہتی ہے۔ ذاتی مفادات کی سیاست میں ہر نوع کی کشمکش جنم لیتی ہے اور پورے نظم حکومت میں خلل ڈالنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ خلل آج کل ایک انتہا کو چھو رہا ہے۔ آزاد میڈیا جس کاوش‘ عرق ریزی اور جرأت مندی سے منصب داروں کے سیاہ کارنامے اور ہوشربا مالی گھپلے بے نقاب کر رہا ہے‘ اس نے عوام کے اندر یہ تاثر بہت راسخ کر دیا ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے نام پر جو منصوبے شروع ہوئے ہیں‘ وہ سیاسی لوگوں اور سرکاری اہلکاروں کی جیبیں بھرنے کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔ ہر محکمے اور ادارے میں دونوں ہاتھوں سے قومی وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور عوام زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس احساس نے ان کے اندر تبدیلی کی تڑپ شدید تر کر دی ہے اور یہ زبردست خواہش پیدا ہوئی ہے کہ اخلاص اور انصاف کی بنیاد پر گڈ گورننس کا نظام جلد بروئے کار آئے اور ہر کام شفاف طریقے سے انجام پانے لگے جس کا تسلسل حکمرانوں کی تقریروں میں بکثرت ملتا ہے اور وعدوں کے آئینے میں ’’تصویرِدوست‘‘ دکھائی جاتی ہے۔
٭٭
پاکستان کے معزز شہریوں کے ساتھ جو سلوک پچھلے عشروں میں ہوتا آیا ہے‘ اس بار رمضان المبارک میں اس کی ایک شرمناک انتہا دیکھنے کو ملی ہے اور وہ سارے خطرناک عوارض بھی اُبھر کر سامنے آ گئے ہیں جو ہمارے اجتماعی نظام کو لاحق چلے آ رہے اور سیاسی فیصلوں اور انتظامی کارکردگی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑا موذی مرض قومی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور طاقت ور طبقات کی ذرائع پیداوار پر اجارہ داری ہے۔ یہ طبقے اسی ﴿۸۰﴾ فی صد ملکی وسائل پر قابض ہیں اور انہی کے مفادات کی پشت پناہی اسمبلیاں‘ حکومتی ادارے اور کسی حد تک عدالتیں بھی کر رہی ہیں۔ آج ہمارے شہری چینی کے جس بحران میں گھرے ہوئے ہیں‘ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ پاکستان میں چوراسی کے لگ بھگ جو شوگر ملیں قائم ہیں‘ ان کے مالکان میں زیادہ تر بڑے بڑے سیاست دان اور ان کے رشتے دار شامل ہیں۔ یہ اس قدر طاقت ور مافیا بن گیا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز بھی ہوتا ہے اور چینی کی قیمتوں کا تعین اپنی خواہش کے مطابق کراتا ہے۔ ایک روز کے لیے جب چینی کی قیمت پچپن روپے فی کلو مقرر ہوئی‘ تو اس نے ایک دن میںساڑھے چودہ ارب منافع میں کمایا۔ ایک تجزیے کے مطابق کارخانے دار کو ایک کلو چینی پر تیس روپے کے لگ بھگ لاگت آتی ہے اور ۱۵/ روپے منافع کما کر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ منافع خوری کی اس لامحدود حرص نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ کسی منظم اور مہذب معاشرے میں اس قدر خوفناک ڈاکا زنی کی اجازت نہیںدی جا سکتی‘ مگر ہمارے ہاں تو اہلِ اقتدار بھی اس لوٹ کھسوٹ میں شامل ہیں۔
ہماری سیاسی اور انتظامی مشینری کی یہ ہولناک خرابی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ اس کے اندر اشیائے خورونوش کی قیمتیں قابو میں رکھنے اور پیشگی منصوبہ بندی کی وہ اہلیت نہیں جو اسلامی فلاحی ریاست کے عمال میں ہونی چاہیے۔اس انتظامی بدحالی کا ذمے دار مقامی حکومتوں کا وہ انتہائی ناقص اور الجھا ہوا نظام ہے جو جنرل پرویزمشرف نے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے طاقت کے بل بوتے پر نافذ کیا تھا۔ اس نے مجسٹریسی کاجما جمایا ڈھانچہ تہ وبالا کر ڈالا جو ضروری اشیا کی قیمتوں پر نگاہ رکھتا‘ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری اور بے لگام ارباب بست و کشاد کی روک تھام کرتا تھا۔ گزشتہ سات آٹھ برسوں میں ایک مصنوعی نظام کے باعث آٹے‘ چینی‘ بجلی اور پٹرول کے بحران آئے اور عوام کا خون نچوڑتے اور انہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرتے رہے۔ پریشان حال اور فلاکت زدہ شہری آٹے کے ایک تھیلے اور دوچار کلو چینی کے لیے رمضان بازاروں میں آتے ہیں‘ گھنٹوں قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور شدید حبس اور گرمی میں بھکاریوں کی طرح ذلیل و خوار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دردناک تماشا ہم آئے دن ٹی وی سکرین پر دیکھتے ہیں اور شرم و ندامت سے پانی پانی ہوتے رہتے ہیں۔ ہم نے قطار میں کھڑے مردوں اور عورتوں پر لاٹھی چارج کے دل گداز مناظر بھی دیکھے ہیں اور یہ بھی دیکھا ہے کہ بپھرے ہوئے عوام کی آنکھوں میں جو خون اُترتا آ رہا ہے‘ وہ ایک خونین انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
٭٭
تبدیلی غیرمعمولی رفتار سے قریب تر آتی جا رہی ہے۔ عوام اپنے بے حس حکمرانوں کے خلاف سخت مشتعل ہیں اور قانون ہاتھ میں لینے کی طرف گامزن ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی بے بسی اور بے کسی کے باعث بپھرے ہوئے لوگ ان گوداموں پر حملہ آور ہوں گے جہاں ذخیرہ اندوزوں نے کثیر اور ناجائز منافع کے لیے آٹے‘ چینی اور گھی کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں۔ اب وہ بڑے بڑے محلات اور کوٹھیاں عوامی غیظ و غضب کی زد میں آئیں گی جہاں سامان تعیش کی فراوانی ہے۔ اسی طرح جہازوں جیسی بڑی بڑی کاریں ایک روز عوامی تشدد کا نشانہ بنیں گی۔ ہو سکتا ہے وہ بڑے بڑے تعلیمی ادارے بھی غیرمحفوظ ہو جائیں جہاں صرف دولت مندوں اور مراعات یافتہ طبقوں کے شہزادے تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ جبکہ غریب خاندانوں کے بچے جہالت کی تاریکی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ غریبوں اور امیروں کے درمیان جو ایک گہری خلیج حائل ہو گئی ہے‘ وہ ایک خونریز بغاوت کو ہوا دے رہی ہے‘ کیونکہ حکمران طبقوں نے غریب عوام کا حال بھی تباہ کر ڈالا ہے اور مستقبل سے وابستہ اُمید کی تمام قندیلیں گُل کر دی ہیں‘ اب وہ ظالم‘ سفاک سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں اور ذخیرہ اندوزوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔ پندرہ کروڑ مصیبت زدہ اور بپھرے ہوئے عوام کے سامنے اسٹیبلشمنٹ کوئی بند نہیں باندھ سکے گی۔ بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ حکمرانوں کو سرے سے احساس ہی نہیں کہ نفرت کی آگ کس قدر قریب آن پہنچی ہے اور عوام کے جذبات میں کس قدر شدت ہے۔ یہ آتش بداماں حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی قیادت اجتماعی بگاڑ کی روک تھام کے لیے غیرمعمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور ایک ایسا قومی ایجنڈا ترتیب دے جس میں غریبوں‘ ناداروں اور بے سہارا خاندانوں کو مرکزی حیثیت دی جائے اور ان اخلاقی اور سیاسی اصولوں پر معاشرے کی صورت گری کا ایک مستقل نظام قائم کیا جائے جن کی قوت اور عظمت سے پاکستان وجود میں آیا تھا۔ ان اصولوں اور آدرشوں سے انحراف ہی نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے کہ ہمارا معاشرہ سفاک اور بے رحم بنتا جا رہا ہے اور ہمارے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں شدت اور انتہا پسندی در آئی ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر ہماری فوج دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے جبکہ ہماری سرزمین پر نیٹو اور امریکی افواج سات سے زائد فوجی اڈے قائم کر چکی ہیں اور تربیت یافتہ فوجی دستے ہمارے دارالحکومت اور دوسرے اہم شہروں میں عجب انداز کی قلعہ بندی کر رہے ہیں۔
یقینا یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب علامہ اقبال(رح) نے دیکھا تھا اور جسے حقیقت کا لباس قائداعظم(رح) نے پہنایا تھا۔ یہ ہماری کیسی بدقسمتی ہے کہ انسانی‘ قدرتی وسائل سے مالامال اور ایٹمی طاقت سے لیس ایک وسیع و عریض ملک دنیا میں جگ ہنسائی کا محور بنا ہوا ہے۔ دراصل گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان پر خودساختہ آزمائشوں کے عجب عجب دور آئے ہیں اور یہ عہد جنرل پرویز مشرف کی جمہوریت کش اور اسلام بیزار پالیسیوں کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے صدر مملکت میں کم و بیش وہی صفات پائی جاتی ہیں جو جنرل صاحب کی ذات میں ایک امتیازی شان سے جلوہ گر تھیں۔ فوجی سربراہ نے ٹی وی پر قوم سے وعدہ کیا کہ وہ دسمبر ۴۰۰۲ئ سے پہلے وردی اتار دیں گے‘ مگر بعد میں صاف مُکر گئے۔ کچھ ایسا ہی کارنامہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف زرداری نے اس وقت سرانجام دیا جب انہوں نے ۹/مارچ ۲۰۰۸ئ کو جناب نوازشریف سے تحریری معاہدہ کیا جس کا ٹی وی پر اعلان ہوا کہ وہ ایک ماہ کے اندر جج صاحبان کو بحال کر دیں گے‘ مگر بعد میں ارشاد فرمایا کہ سیاسی معاہدے قرآن و حدیث کی طرح مقدس نہیں ہوتے۔ دوسری قابل ذکر مماثلت یہ ہے کہ صدر پرویز مشرف سیاسی طور پر فروری کے انتخابات میں شکست کھانے کے باوجود منصب صدارت پر فائز رہنا چاہتے تھے‘ لیکن وہ اس وقت راہ راست پر آئے جب منتخب اسمبلیوں سے ان کے مواخذے کی قراردادیں منظور ہونے لگیں اور ٹی وی پر مرکزی وزیر اطلاعات محترمہ شیری رحمن کے یہ اعلانات نشر ہوتے رہے کہ صدر کے خلاف چارج شیٹ تیار کر لی گئی ہے۔ صدر آصف زرداری نے بھی ۵۱/مارچ کی رات آخرکار لانگ مارچ کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور تمام جج صاحبان ۲/نومبر کی پوزیشن پر بحال کر دیے جس کے بارے میں ان کا ارشاد تھا کہ یہ ’’کام‘‘ ان کی لاش سے گزر کر ہی کیا جا سکے گا۔ ان دونوں کے سیاسی مزاج میں یکسانیت کی ایک اور مثال امریکا سے غلامانہ نیازمندی کا قومی وقار کے منافی رویہ ہے۔ جناب نوازشریف کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد جنرل پرویز مشرف عالمی برادری میں اچھوت بن گئے تھے اور انہیں اپنی حکومت کی ساکھ پیدا کرنے کے لیے امریکی اشیرباد کی شدید ضرورت تھی‘ چنانچہ جونہی ستمبر۱۰۰۲ئ کے وسط میں امریکی وزیرخارجہ نے انہیں عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے کہا‘ تو وہ بے چون و چرا تیار ہو گئے اور پورے سات آٹھ سال سپرپاور کی ہر خدمت بجا لاتے اور ڈالر ہتھیاتے رہے جو ان کے شوقِ فضول‘ مچلتے ہوئے ارمانوں اور شاہانہ کروفر پر خرچ ہوتے رہے۔ جناب آصف زرداری بھی امریکا بہادر کی خدمت گزاری میں ہر حد پھلانگنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی عہدے دار ہمارے ملک میں اس طرح نازل ہو رہے ہیں جیسے یہ ان کی زرخرید کالونی ہو۔ جنرل پرویز مشرف کو یہ ’’شہرت‘‘ بھی حاصل تھی کہ وہ فوج کے پرانے دوستوں‘ ہم مشربوں اور مصاحبوں کو اعلیٰ عہدے اور حکومت کے کنٹریکٹ دیتے اور ان کے ذریعے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے تھے۔ یہی خوبی جناب آصف زرداری میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے ڈھانچے میں اپنے من پسند ٹولے کا ایک جال بچھا دیا ہے اور پیپلز پارٹی میں ’’غیرپسندیدہ‘‘ اشخاص سائیڈ لائن کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مشترک صفت یہ بھی ہے کہ جنرل صاحب اپنے اختیارات میں فوجی طاقت سے اضافہ کرتے اور سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے اور صدر آصف زرداری صدارتی اختیارات سے زیادہ اپنی طاقت پیپلز پارٹی کی سربراہی سے کشید کر رہے ہیں۔
٭٭
ان مماثلتوں کے سبب جو نحوست جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں پاکستان پر چھائی رہی‘ اسی کے سائے آج بھی لہرا رہے ہیں۔ فقط ڈیڑھ سال کے عرصے میں ایک ایسی اتھل پتھل ہوئی ہے جس کی نظیر پہلے کہیں نہیں ملتی۔ طالبان کا ہولناک ظہور اسی عہد میں ہوا جنہوں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کیے اور فوجی افسروں اور نوجوانوں کو ان پر قابو پانے کے لیے عظیم قربانیاں دینا پڑیں۔ اسی عہد میں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ جامع مذاکرات کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے اور بھارت پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ ممبئی میں ہونے والی تخریب کاری نے پاکستان کے اندر ایک ایسا ارتعاش پیدا کیا کہ ہمارے حکمرانوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو فوری طور پر دہلی بھیجنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اسی عہد میں آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کی تحویل میں دینے کا فیصلہ ہوا جسے عسکری قیادت کے دباؤ پر آدھی رات کے بعد تبدیل کرنا پڑا۔ اسی دور میں حکومت کی شہ پر غیرآئینی عدالت عظمی نے وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف کے انتخاب کو کالعدم اور ان کے برادرکبیر میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا اور کمال عجلت میں صدر مملکت نے پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا جس کے خلاف تحریک مزاحمت زور پکڑ گئی اور وہ ججوں کی بحالی پر منتج ہوئی۔ اسی عہد میں بجلی کا وہ بحران دیکھنے میں آیا جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی عہد میں اقتصادی نمو ﴿جی ڈی پی﴾ اپنی تاریخ کی سب سے نچلی سطح تک پہنچ گئی۔ اسی عہد میں بلوچستان ایک خطرناک صورت حال سے دوچار ہے اور وفاقی حکومت کی سہل انگاری‘ بے عملی اور قوت فیصلہ کے فقدان سے حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی دور میں مقامی حکومتوں کا نظام ختم کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کی صدارت میں ہوا جس کے خلاف شدید ردعمل کے پیش نظر صوبائی حکومتیں فوری طور پر ایڈمنسٹریٹرز مقرر نہیں کر سکیں اور پسپا ہو گئی ہیں۔ اسی دور میں گوجرہ جیسے وحشت ناک واقعات رونما ہوئے اور ابھی تک اصل مجرم گرفت میں نہیں لائے جا سکے۔ اسی عہد میں چینی کا اسکینڈل ہولناک تباہ کاریوں کے ساتھ سامنے آیا ہے اور عوام شدید عذاب کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔
اسی عہد میں بریگیڈیر امتیاز عجیب و غریب انکشافات کے ذریعے فوج اور سیاسی زعمائ کا امیج داغ دار کیے دے رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم کو ہوا دے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اسی عہدِ زریں میں ایک ایسا قانون بھی منظور کر لیا گیا ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کی نظر میں طلاقوں میں بہت بڑے اضافے اور معاشرتی افراتفری پیدا کرنے کا باعث ہو گا۔ اسی عہد میں پچیس تیس لاکھ شہری ایک مقام سے دوسرے مقام تک ہجرت کرنے پر مجبور کیے گئے اور بڑے پیمانے پر یہ شکایت پیدا ہوئی ہے کہ داخلی اور خارجی ذرائع سے دی جانے والی امداد ان تک بہت کم پہنچی ہے جبکہ ان کی مشکلات لامحدود اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ اسی عہد میں پاکستان کو خطرناک ترین ملک اور دہشت گردی کا مرکز قرار دیا گیا۔ اسی عہد میں ہماری اعلیٰ ملکی شخصیتوں نے لمبے لمبے اور زیادہ تر نمائشی بیرونی دورے کیے‘ جبکہ عوام زندگی کی نہایت بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ شرف بھی اسی ’’عہدذی وقار‘‘ کو حاصل ہوا ہے کہ بھارت پاکستان کے ایک معزز شہری اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید احمد کی گرفتاری کے وارنٹ انٹرپول سے جاری کرانے میں کامیاب ہو گیا ہے جن کے خلاف دہشت گردی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ یہ تحفہ بھی اسی عہد بابرکت میں اہل وطن کو ملا ہے کہ وہ ناقابلِ برداشت لوڈ شیڈنگ سے بلبلا اُٹھے ہیں‘ صنعتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں‘ کاروبار ٹھپ ہوتے جا رہے ہیں اور بجلی اس قدر مہنگی ہو گئی ہے کہ اس کا استعمال عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے۔ یہ عظیم کارنامہ بھی اسی عہد میں سرانجام پایا ہے کہ منافع خوروں نے آٹے‘ چینی‘ گھی‘ دالوں‘ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں اتنی بالا کر دی ہیں کہ آبادی کا بہت بڑا حصہ ان سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی پکڑ میں آئے ہوئے ہیں جو ہمارے حکمرانوں کی بداعمالیوں کے سبب لحظہ بہ لحظہ سخت سے سخت تر ہوتی جا رہی ہے۔
٭٭
آج قومی مفاہمتی آرڈیننس ﴿این آر او﴾ حکمران حلقوں میں ایک ہلچل پیدا کر رہا ہے جس کی بنیاد پر جناب صدر زرداری کا منصب صدارت ہے۔ ستمبر ۲۰۰۷ئ میں قومی مصالحت کا غلغلہ اس وقت بلند ہوا جب فوجی طاقت کے بل بوتے پر جنرل پرویز مشرف نے اگلے ٹرم کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے کا عارضی اجازت نامہ عدالت عظمیٰ سے حاصل کر لیا‘ مگر انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس انتخاب کا بائیکاٹ کر سکتی ہیں جس کے باعث اسے عالمی برادری میں قبولیت حاصل نہیں ہو گی۔ اس خدشے کے پیش نظر انہوں نے محترمہ بے نظیر کی طرف قومی مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا جو عام انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش مند تھیں۔ قومی مفاہمت آرڈیننس کو آخری شکل دینے میں امریکا‘ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نے اہم رول ادا کیا اور وہ صدارتی انتخاب کی تاریخ یعنی ۶/اکتوبر ۲۰۰۷ئ سے ایک شب قبل نافذ ہوا۔ اس میں کیا گیا تھا کہ جو مقدمات ۱۲/ اکتوبر ۱۹۹۹ئ سے پہلے مختلف الزامات کے تحت دائر کیے گئے اور ابھی تک عدالتوں میں زیرالتوا ہیں‘ وہ ختم کر دیے جائیں گے۔ اس کے پس منظر میں دو باتیں کارفرما تھیں۔ پہلی یہ کہ پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔ دوسری یہ کہ انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو وزیراعظم ہوں گی۔ محترمہ کو پاکستان میں آنے کے بعد جلد احساس ہو گیا کہ پاکستان میں این آر او اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے کے خلاف شدید رائے عامہ پائی جاتی ہے۔ وہ چند روز قیام کے بعد دبئی چلی گئیں جہاں انہیں خبر ملی کہ جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا نافذ کر دیا ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے ساٹھ جج برطرف اور قید کر دیے ہیں۔ وہ فوراً پاکستان آئیں اور غیرآئینی اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ بعد میں لانگ مارچ کے اعلان پر انہیں لاہور میں نظربند کر دیا گیا اور آٹھ روز بعد وہ لیاقت باغ راولپنڈی پر شہید کر دی گئیں جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خاں شہید کیے گئے تھے۔
ان کی شہادت کے بعد آصف زرداری کے خلاف سارے مقدمات این آر او کے تحت واپس لے لیے گئے جن میں وہ مقدمات بھی شامل تھے جن کا سوئس عدالتیں فیصلہ سنانے والی تھیں۔ ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکن رہا کر دیے گئے جن کے خلاف قتل‘ تشدد اور اغوا کے مقدمات چل رہے تھے۔ اس سے قبل این آر او عدالت عظمیٰ میں چیلنج ہو چکا تھا اور چیف جسٹس جناب افتخار چودھری کی سربراہی میں ایک بنچ نے اس کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اپنے آرڈر میں لکھا کہ مقدمے کا آخری فیصلہ ہونے تک اس آرڈیننس کے تحت کوئی رعایت نہ دی جائے‘ مگر جب انہیں منصب سے ہٹا دیا گیا تو اس آرڈر پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ بحالی کے بعد چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہم این آر او سے وابستہ جملہ معاملات کا جائزہ لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر آصف زرداری کی اہلیت کا مسئلہ کسی وقت بھی اُٹھ سکتا ہے اور ایک ناگہانی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
٭٭
پاکستان کی فکری‘ سیاسی اور سماجی قوتیں اس حق میں نہیں کہ بڑی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہونے والا جمہوری نظام پٹری سے اتر جائے اور فوج دوبارہ برسر اقتدار آ جائے۔ ماضی کے تلخ تجربات نے قومی رہنماؤں اور بڑی سیاسی جماعتوں میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور غیر جمہوری طریقوں سے حکومت کی تبدیلی کے نتائج ملک‘ جمہوریت اور سیاسی عمل کے حق میں بڑے خطرناک نکلے ہیں‘ چنانچہ مئی ۱۰۰۲ئ میں بے نظیر صاحبہ اور میاں نوازشریف نے اپنی جلاوطنی کے دوران میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور یہ اسی کا ثمر ہے کہ نوازشریف بعض قومی ایشوز پر واضح اختلاف کے باوجود باربار اعلان کر رہے ہیں کہ وہ موجودہ سیٹ اپ کا تسلسل اور حکومت کی تبدیلی انتخابات کے ذریعے چاہتے ہیں۔ ان کی اس حکیمانہ پالیسی کی بدولت وفاقی حکومت خاصی مستحکم ہے‘ یہ اور بات ہے کہ صدر اور وزیراعظم کے مابین آویزش کی خبریں اور افواہیں ایک غیر یقینی صورت حال کا تاثر دے رہی ہیں۔ یہ افواہیںعوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کے فقدان‘ ریاستی اداروں کے مابین اختیارات کے عدم توازن‘ فیصلوں میں غیرمعمولی تاخیر‘ مفادات کی بڑھتی ہوئی کش مکش اور ذمے دار مناصب پر نااہل‘ چاپلوس اور غیرسنجیدہ افراد کی تقرریوں اور اونچے ایوانوں میں دھڑے بندیوں سے جنم لے رہی ہیں جنہیں طالع آزما ہوا دے رہے ہیں۔
قدرت نے سیاسی قیادت کو آگے بڑھنے اور عوام کی حمایت سے جمہوری اداروں کی تعمیر کے جو عظیم الشان مواقع فراہم کیے تھے وہ ’’حادثاتی صدر‘‘ کی کم نگاہی سے ضائع ہوتے جا رہے ہیں۔ ذرا چشم تصور میں یہ منظر لے آئیے کہ اگر پیپلز پارٹی کی ہائی کمان جناب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اپنے منصب کا حلف اُٹھانے کے فوراً بعد اعلیٰ عدالتوں کے مقید ججوں کی رہائی کے ساتھ انہیں ۲/نومبر کی پوزیشن پر بحالی کے احکام صادر کرنے کی بھی اجازت دے دیتی‘ تو کتنے بحران ٹل جاتے اور کس قدر ناقابل فراموش کارنامے سرانجام پا جاتے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف زرداری کی طرف سے مری معاہدے کی خلاف ورزی اور عیارانہ چالوں نے مسلم لیگ ﴿ن﴾ کو حکومت سے باہر آنے پر مجبور کیاجس کے نتیجے میں حکومت کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی اور باہمی اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور جمہوری قوتوں میں رخنے پڑتے گئے۔ جناب وزیراعظم نے قوم کو اس خوفناک ’’حادثے‘‘ سے محفوظ رکھنے کی اپنی سی کوشش کی‘ مگر وہ اپنی ہائی کمان کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ اسی طرح وہ سترھویں ترمیم اور ۸۵۔۲ب کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتے تھے لیکن آصف زرداری صاحب کے چہیتے وزیرقانون جناب فاروق نائیک نے دستوری ترامیم کا ایک ایسا دفتر تیار کیا جو پانچ سال کی مدت میں بھی منظور نہیں ہو سکتی تھیں۔ ان ترامیم کے اندر یہ بھی تجویز کیا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے ۳/نومبر کے غیرآئینی اقدامات کو بھی آئینی تحفظ فراہم کر دیا جائے۔ اسی بدنیتی اور ہیراپھیری سے قیمتی وقت بھی ضائع ہوا‘ پیپلز پارٹی کا امیج بھی داغ دار ہوا اور جناب آصف زرداری قومی ہیرو کے بلند مقام سے ایک ناقابل اعتماد سیاست دان کی سطح پر اُتر آئے اور ملک میں بحران پر بحران پیدا کرتے گئے۔ لانگ مارچ کے ہاتھوں شکست کھا کر وہ عوام کی پُرجوش حمایت سے محروم ہو گئے ہیں اور محض بیرونی سہاروں پر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں جس کی بھاری قیمت پاکستان کو امریکا کی غلامی قبول کر کے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
٭٭
بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمیں آئینی معاملات میں الجھے رہنے کے بجائے غریب عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ یہی بات اس وقت بھی کہی گئی تھی جب صدر جنرل پرویز مشرف نے لیگل فریم ورک آرڈر ﴿ایل ایف او﴾ جاری کیا تھا اور اس پر قومی اسمبلی میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔ تب چودھری شجاعت حسین کی طرف سے یہ ارشاد ہوا تھا کہ ہمیں ایل ایف او کی دلدل میں پھنس جانے کے بجائے غریبوں کی حالت بدلنے پر توجہ دینی چاہیے۔ بدقسمتی سے ایم ایم اے نے فوجی سربراہ کے جھوٹے وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے سترہویں ترمیم کی منظوری میں بنیادی کردار ادا کیا جس نے دستور کا حلیہ ہی بدل ڈالا اور صدر کو وسیع و عریض اختیارات سے لیس کر دیا جو سیاسی اور سول اداروں کی تباہی کا باعث بنے اور وزیراعظم کی حیثیت ایک فرماںبردار ملازم اور پارلیمان کی محض ایک ربڑ اسٹمپ کی تھی۔ یہ اعلیٰ ترین ادارہ اور یہ اعلیٰ ترین منصب ان پالیسیوں پر عمل کرتے رہے جن کا بنیادی مقصد فرد واحد کے اقتدار کا استحکام اور معاشی خوش حالی کے مصنوعی اشاروں کی فن کارانہ نمائش تھا۔ بظاہر پریس بھی آزاد تھا‘ ایوان میں بحث مباحثے بھی ہوتے‘ اور سڑکوں پر کاروں کی ریل پیل بھی تھی‘ موبائل معاشی ترقی اور خوشحالی کی علامت قرار پائے تھے‘ لیکن یہ سب کچھ ایک سراب اور فریب تھا۔ امریکا کی جنگ پاکستان کے اندر لڑی جا رہی تھی جو آگے چل کر طالبان کی طاقت اور وحشت میں ہولناک اضافے کا باعث بنی۔ ہمارا اس وقت بھی یہی موقف تھا اور آج بھی یہی ہے کہ قانون کی عمل داری‘ میرٹ کی پابندی‘ اچھی حکمرانی اور عوام کو بنیادی ضرورتوں کی عمدہ ڈلیوری کے لیے ۳۷ کے آئین کی اصل صورت میں بحالی اور اس کے مطابق نظم مملکت کا انتظام و انصرام ازبس ضروری ہے۔ عوام یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ ریاست کی رٹ دستور کی طاقت ہی سے قائم رہ سکتی ہے اور اگر ہمیں کامیابی سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے‘ تو دستوری اداروں کے استحکام اور ان فوجی آمروں کے مؤثر اور کڑے احتساب کو اولیت دینا ہو گی جو آئین کو سبوتاژ کرتے اور عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے رہے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے ۳۱/جولائی کے فیصلے میں تین نومبر کے اقدامات کو غیرآئینی قرار دے دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وفاقی حکومت کو ہائی ٹریژن پنشمنٹ ایکٹ (High Treason Punishment act) کے تحت ایک نامزد افسر کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرانا چاہے۔ مسلم لیگ ﴿ن﴾ کا شروع ہی سے یہ مطالبہ رہا ہے جو قوم کی عظیم اکثریت کے مطالبے کی شکل اختیار کر گیا‘ مگر جناب وزیراعظم نے پچھلے دنوں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جنرل پرویز مشرف کو معاف کر دیا ہے حالانکہ انہوں نے مجھے پانچ سال جیل میں رکھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سوچ یہ تھی کہ بہترین انتقام جمہوریت ہے‘ چنانچہ ہم جمہوریت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر کے فوجی ڈکٹیٹر سے انتقام لیں گے۔ انہیں احساس ہونا چاہیے کہ جمہوریت کا تحفظ آمر کو عبرت ناک سزا دیے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ آج بلوچ قیادت کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ جنرل پرویز مشرف پر نواب اکبر بگٹی کے قتل اور آئین سے غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ ایک ایسا ہی مطالبہ دینی حلقے اور سیاسی حلقے لال مسجد میں آپریشن کے حوالے سے کر رہے ہیں جس میں فاسفورس بم استعمال کیے گئے تھے۔ آئین کے مطابق فوجی آمر کا مؤاخذہ کرنے سے آئندہ کے لیے معاملات بہتر ہو جائیں گے اور کسی طالع آزما کو عوامی حاکمیت پر شبخون مارنے کی جرأت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ افواج پاکستان اپنے ایک خودسر اور فرعون صفت سربراہ کو تحفظ فراہم نہیں کریں گی جس کی مہم جوئیوں سے ان کا امیج بہت خراب ہوا اور وہ عوام کی حمایت کھو بیٹھے اور پاکستان خانہ جنگی کے دہانے تک پہنچ گیا تھا۔ آج فوجی آمر کے حق میں آواز اُٹھانے اور اُسے قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے کوئی ملک آگے نہیں آئے گا‘ تاہم پاکستان کے اندر بعض نادیدہ قوتیں اس اہم ترین ایشو سے توجہ ہٹانے کے لیے یک لخت سرگرم ہو گئی ہیں جو سیاسی قائدین کی کردار کشی شروع کر رہی ہیں اور اٹھارہ سال پرانے مردے اُکھاڑنے لگی ہیں۔ بریگیڈئر ﴿ر﴾ امتیاز‘ لیفٹیننٹ جنرل ﴿ر﴾ اسد درانی اور جناب گوہر ایوب کے انکشافات میں جناب نوازشریف کی شخصیت پروار کیے گئے ہیں اور انہیں آئی ایس آئی کا ایجنٹ‘ ایک ظالم‘ بزدل اور انتہائی کمزور حکمران ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے‘ جبکہ ایم کیو ایم انتہائی مظلوم اور بے حد محب وطن جماعت کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔
٭٭
جنرل اسد درانی نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے آج سے سترہ سال پہلے جو حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا تھا‘ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے بتایا جاتا ہے۔ اس حلف نامے میں یہ کہا گیا کہ جناب نوازشریف نے آئی جے آئی کی تشکیل کے وقت تیس لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ جناب گوہر ایوب نے اس انکشاف کو دہرایا ہے کہ مئی ۱۹۹۸ئ میں جب ایٹمی تجربہ کرنے کے حوالے سے کابینہ کا اجلاس ہوا تو نوازشریف‘ سرتاج عزیز اور مشاہد حسین سید اور سیدہ عابدہ حسین اس کے مخالف تھے اور میری کوششوں سے ایٹمی طاقت کی آزمائش کا فیصلہ ہوا۔ بریگیڈئرامتیاز نے زور دے کر کہا ہے کہ ۹۲ئ میں ایم کیو ایم کے خلاف سیاسی قیادت کے بجائے فوج نے وزیراعظم نوازشریف کو اعتماد میں لیے بغیر آپریشن کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت کے کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر نے صورت حال کی صحیح تناظر میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آپریشن ایم کیو ایم کے بجائے قانون شکن عناصر کے خلاف تھا جنہوں نے اندرون سندھ اور کراچی میں شدید بدامنی پھیلا رکھی ہے۔ اس آپریشن کی منظوری صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف نے دی تھی۔ معلوم نہیں کہ ہمارے دوست جناب احسن اقبال اور ہمارے مخلص سیاسی دانش ور جناب صدیق الفاروق نادیدہ قوتوں کے بچھائے ہوئے جال میں کیوں پھنس گئے ہیں کہ انہوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف ۹۲ئ میں ہونے والے آپریشن سے بے خبر تھے اور یہ ان کی منظوری کے بغیر بالا ہی بالا شروع کر دیا گیا تھا۔ اس موقف کے اختیار کرنے سے جناب نوازشریف کا ایک انتہائی کمزور وزیراعظم کا امیج سامنے آتا ہے‘ اور ان کا یہی امیج کارگل کے وقت پیش کیا گیا تھا‘ یہ گھٹیا کام اس وقت اس لیے کیا جا رہا ہے کہ نوازشریف جو پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں اور انہوں نے ۵۱/مارچ کے لانگ مارچ میں اپنی زبردست عوامی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا ہے‘ ان کا قد کم کیا جائے اور عوام کے سامنے ان کا یہ امیج پیش کیا جائے کہ وہ آئی ایس آئی سے ماضی میں بڑی بڑی رقوم لیتے رہے ہیں اور آج بھی اسی کے اشارے پر ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ان کی بڑی عیاری کے ساتھ کردار کشی کا اولین مقصد انہیں اس لانگ مارچ سے باز رکھنا ہے جو جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے کے حق میں شروع ہو گی جس میں اس بار بلوچ عوام بہت بڑی تعداد میں شامل ہوں گے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو آخرکار گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے۔ اب سازشوں کے ذریعے عوامی طاقتوں میں پھوٹ ڈالی جا سکے گی نہ جمہوریت کے قافلے کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے گا اور اسٹیبلشمنٹ کی یہ تمام درپردہ کوششیں مکڑی کے جالے ثابت ہوں گی۔
جہاں تک ایم کیو ایم کی مظلومیت اور حب الوطنی کا تعلق ہے‘ اس کی پوری وضاحت لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر کے بیان سے ہو جاتی ہے کہ ۹۲ئ کا آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تھا جو اندرون سندھ میں بھی تھے اور بڑے شہروں میں بھی۔ اب اگر الطاف بھائی یہ واویلا مچا رہے ہیں کہ ان کے پندرہ ہزار کارکن مارے گئے‘ تو دراصل وہ اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کے اندر خاصی بڑی تعداد میں جرائم پیشہ لوگ داخل ہو گئے تھے جو بوریوں میں لاشیں بھیج رہے تھے۔ حالات کے عینی شاہد بتاتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے خلاف بڑا آپریشن پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کے زمانے میں ہوا جس میں سرگرم کارکن بے دردی سے اور چن چن کر موت کی نیند سلا دیے گئے تھے اور جماعت کی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ چودھری شجاعت حسین کے انکشاف کے مطابق ساٹھ لوگوں کی لاشیں اسلام آباد کے پہاڑوں میں بھی دفن کی گئی تھیں۔ بریگیڈئر امتیاز نے ۹۲ئ کے آپریشن کی جو تصویر کشی کی ہے‘ اس سے فوج کے امیج کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے اور یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے بجائے ایم کیو ایم کے خلاف ہوا تھا۔ ان کے انکشافات سے مسلم لیگ ﴿ن﴾ اور ایم کیو ایم کی قیادت کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور پیپلز پارٹی سے محاذ آرائی اچانک تیز ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب سیاسی قوتوں میں ہم آہنگی اور وحدت کی ضرورت سب سے زیادہ ہے تاکہ جمہوری نظام کی پوری پوری حفاظت کی جا سکے۔
جناح پور کے نقشوں کا معاملہ تو کراچی آپریشن کے دوسرے روز ہی طے ہو گیا تھا۔ دراصل ۹۱ئ سے ’’روزنامہ ہلال پاکستان‘‘ میں یہ مہم چل رہی تھی کہ ایم کیو ایم جناح پور کے نام سے ایک علیحدہ ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کے نقشے بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔ جی ایچ کیو سے بریگیڈئر آصف ہارون جو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے‘ وہ کراچی آئے اور انہوں نے انکشاف کیا کہ جناح پور کے نقشے بازیاب کر لیے گئے ہیں اور صحافیوں کو وہ ٹارچر سیل دکھائے جائیں گے جن میں انسانوں پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا تھا۔ صحافیوں نے بریگیڈئر صاحب سے جناح پور کے نقشے دکھانے کا مطالبہ کیا جسے وہ حیلے بہانوں سے ٹالتے رہے۔ انہوں نے دو تین ٹارچرسیل دکھائے‘ ان میں بھی کوئی خاص بات نہیں تھی‘ چنانچہ اخبار نویسیوں کی کڑی تنقید کے باعث فوج کی اعلیٰ کمان نے بریگیڈئر آصف ہارون کو واپس بلا لیا اور اس امر کا اعلان کیا کہ جناح پور کے نقشے کہیں سے برآمد نہیں ہوئے۔ اس حقیقت کی توثیق کراچی کے سابق کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر نے کی ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت کا یہ ارشاد کہ فوج کے دو اعلیٰ افسروں نے سترہ سال بعد ان کی حب الوطنی کی شہادت دی ہے‘ حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ مرحلہ اخبار نویسیوں نے جون ۹۲ئ ہی میں سر کر لیا تھا۔
٭٭
ایک بات یقینی ہے کہ تمام تر اختلافات اور مایوسیوں کے باوجود جمہوری طاقتیں تبدیلی کے عمل میں تشدد کا عنصر دیکھنا پسند نہیں کریں گی اور اس امر کے لیے کوشاں رہیں گی کہ اصلاحات کا عمل ایک تدریج کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور دستور کی بالادستی عوام کی حاکمیت‘ ایک منصفانہ اور عادلانہ معاشرے کی تعمیر اور وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہیں‘ انہیں سیاسی عمل کے ذریعے دور کیا جائے۔ آج ہم بحیثیت قوم ایک نازک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ بالغ نظری‘ وسیع النظری اور قوت برداشت سے کام لیتے ہوئے قومی سلامتی‘ خودانحصاری اور مہذب طرز زندگی کا راستہ اپنا کر ایک تابندہ مستقبل تک پہنچا جا سکتا ہے‘ جبکہ جھوٹی انا اور مکارانہ سیاست بازی سے کام لیتے ہوئے اتحاد کے رشتے پارہ پارہ کیے جا سکتے اور عوام کو خونین انقلاب کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ دوسرا راستہ یقینی طور پر تباہی کا راستہ ہے جسے بند کر دینے کے لیے ہماری سیاسی قیادت کو اخلاص‘ ایثار اور بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
انسانی تاریخ میں اس ایک عظیم الشان انقلاب کے سوا جو محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں آیا تھا‘ باقی تمام انقلاب خوں آشام ثابت ہوئے ہیں۔ اگر انقلاب کی پشت پر ایک فلسفۂ تحریک‘ ایک منظم تحریک اور خوف خدا موجود ہو‘ تو نتائج مثبت نکلتے ہیں‘ جبکہ انتقام کی آگ سب کچھ بھسم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ جب تبدیلی کی قوتوں کا راستہ روکنے کی بھونڈی کوششیں کی جاتی ہیں‘ تو وہ خونیں انقلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ۹۷۷۱ئ میں فرانس کا انقلاب روسو اور والٹیئر جیسے عظیم مفکرین کی تحریروں کے نتیجے میں آیا تھا جنہوں نے بادشاہٹ کے ظالمانہ اور جابرانہ نظام کے خلاف عوام کے اندر زبردست بیداری پیدا کی تھی‘ مگر اس گہرے شعور اور بیداری کو ایک منظم طاقت میں ڈھالنے والی کوئی سیاسی جماعت موجود نہیں تھی‘ اس لیے بہت خون بہا اور بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے‘ تاہم ہمیشہ کے لیے بادشاہت کاخاتمہ ہو گیا۔ ۱۷۷۶ئ میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف بغاوت ہوئی اور تیرہ امریکی ریاستوں نے بڑی بہادری سے جنگ آزادی لڑی اور غلامی کا قلاوا گردن سے اُتار کر پھینک دیا۔ وہاں قیادت بلند قامت شخصیتوں کے ہاتھ میں تھی‘ اس لیے زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور انسانی آزادی عظیم وسعتوں اور بلندیوں کے جلو میں سیاسی اُفق پر نمودار ہوئی۔ اسی طرح ۷۱۹۱ئ میں کمیونسٹ پارٹی کی زیرقیادت روس میں خونیں انقلاب آیا جس میں بادشاہت اور بوسیدہ اقتصادی نظام کا خاتمہ ہوا اور لاکھوں انسان ہلاک ہوئے۔ ہم پاکستان میں ایک پرامن انقلاب دیکھنا چاہتے ہیں جو نظام حکومت کے اندر پائے جانے والے خوفناک تضادات دور کرے‘ عوام کو امور مملکت میں بنیادی اہمیت دے اور سماجی انصاف اور معاشرتی تحفظ کی ضمانت فراہم کرے۔ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر تمام بالادست اور مراعات یافتہ طبقات کو اپنے وسائل میں سے عام آدمی کو بہت بڑا حصہ دینا‘ قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنا ہو گا اور شان و شوکت کی زندگی کو خیرباد کہنا ہو گا۔
٭٭
آج اہم ترین ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادتیں اور سیاسی جماعتیں اپنی ذمے داریوں کا بھرپور احساس کرتے ہوئے اپنا کردار مؤثر اور سائنٹیفک طریقے سے ادا کریں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوریت‘ جمہوری روایات اور جمہوری اداروں کی محافظ وہ خود ہیں اور ان کے اندر جمہوریت جس قدر مضبوط ہو گی‘ اسی قدر ملک میں اس کا بول بالا ہو گا۔ قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی یہ اولین کوشش ہونی چاہیے کہ ان کی تنظیم اور اثرورسوخ تمام صوبوں اور علاقوں کے اندر پایا جاتا ہو۔ سیاسی عمل اور جمہوری روایات سے ملک متحد رہتا ہے اور قومی وحدت کو فروغ ملتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر فطری ارتقائ کا عمل تیز کیا جانا چاہیے۔ ان کی قیادت اس لیے جمود کا شکار ہے کہ ممبرسازی کا عمل برسوں سے رکا ہوا ہے اور فیصلہ سازی میں سیاسی کارکنوں کا کوئی قابلِ ذکر کردار نہیں۔ جماعت اسلامی کے سوا کسی اور جماعت میں انتخابات کے ذریعے قیادت کی تبدیلی عمل میں نہیں آتی۔ عوام کے اندر اور ملک سے باہر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر سیاسی جماعتیں خاندانوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے قائد جناب نوازشریف اپنے ایثار‘ غیرمعمولی برداشت اور اصولوں کے ساتھ وابستگی کے باعث اہل وطن میں بے حد مقبول ہیں اور ان کی اس حکیمانہ پالیسی نے ان کی قدرومنزلت میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار سے زیادہ پاکستان کے سیاسی استحکام اور عوام کی خوشحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں‘ مگر طویل جلاوطنی اور فوجی آمریت کی چیرہ دستیوں کے باعث ان کا سیاسی ’’بیس‘‘ قدرے محدود ہو گیا ہے۔ انہیں سندھ‘ بلوچستان اور سرحد میں سیاسی تنظیم پر توجہ دینا ہو گی۔ ان کی طرف سے ممبرسازی کی مہم شروع کرنے کا خوش آیند اعلان سامنے آیا ہے۔ ہر برادری ہر قبیلے اور ہر علاقے کے لوگ ان کے فیصلہ ساز اداروں میں شامل ہونے چاہئیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے اندر تازہ روح پھونکنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کے کارکن اپنے آپ کو اس لیے یتیم سمجھ رہے ہیں کہ ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والے بہت کم ہیں‘ انہیں یہ بھی شدید احساس ہے کہ بالائی قیادت لوٹ مار میں شب وروز مصروف ہے اور ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آ رہا۔ ہر سطح پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ جماعت میں قائدانہ صلاحیت اور اہلیت کی شدید کمی ہے۔ اس کا سیاسی اور انتخابی بیس تو نسبتاً وسیع ہے‘ لیکن رطب و یاس زیادہ ہے اور داخلی کش مکش اس کے علاوہ ہے۔ بیشتر وفاقی وزرائے کرام فکری وحدت اور دانش سے محروم دکھائی دیتے ہیں اور ان کی نظر بھی ’’کک بیک‘‘ کمیشن اور مراعات پر ہے۔ ان میں سے بعض تو ایسے بھی ہیں جن کے چہرے دیکھتے ہی عام لوگ اشتعال میں آ جاتے اور ان کے زخم گہرے ہو جاتے ہیں۔
ان سیاسی جماعتوں کو عوام کے اندر کام کرنے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ اخباری بیانات جاری کرنے کے بجائے قیادت اور کارکنوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ شہریوں کی سیاسی تربیت کریں اور ان کے دکھ درد میں ہاتھ بٹائیں۔ اسمبلی کے ارکان اپنے اپنے حلقوں میں عام شہریوں تک پہنچیں اور ان کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھیں۔ ٹی وی چینلز پر بعض ’’فنکار‘‘ سیاسی جماعتوں کا امیج خراب کرنے میں شب و روز مصروف ہیں اور جمہوری نظام کی بقا کے لیے بہت بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کو آپس میں دست و گریبان ہونے کے بجائے ایک قومی ایجنڈے پر متحد ہو جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں امریکی مداخلت اور اس کا سیاسی اور فوجی اثرورسوخ جس تیزی سے پھیل رہا ہے‘ وہ بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس وقت اپوزیشن کی تمام جماعتوں پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں یکجا ہو کر امریکی مہم جوئی کے خلاف آواز بلند کرنا اور اس کی مؤثر روک تھام کرنی چاہیے۔ ہماری حکمران جماعتیں تو مُہربلب ہیں اور بے دام غلام بنی ہوئی ہیں‘ لیکن پارلیمنٹ کو تو وقتی مصلحتوں سے بلند ہو کر پوری صورت حال کا قومی نقطہ نگاہ سے جائزہ لینا اور نئی سامراجیت کے خلاف چٹان بن جانا چاہیے۔ ۲۰۰۹ئ کے آٹھ مہینوں میں اعلیٰ سطح کے امریکی عہدے دار جس بڑی تعداد میں اور جس رفتار سے ہمارے ہاں آئے ہیں‘ ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں امریکی عزائم کس قدر وسیع اور گہرے ہیں اور ہر گام پر اس کی موجودگی خطرے کا سگنل بھیج رہی ہے۔ امریکی میرینز کی رہائش کے لیے اسلام آباد میں ۲۰۰ کی تعداد میں انتہائی وسیع و عریض بنگلے حاصل کر لیے گئے ہیں جن کے کرائے بھاری بھر کم ڈالروں میں ادا کیے جا رہے ہیں۔ امریکی سفارت خانے کی توسیع اس کے علاوہ ہے۔ پشاور میں پی سی ہوٹل امریکی سفارت خانے نے خرید لیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے لیے سی آئی اے سے ہٹ کر ایک نئی انٹیلی جنس ایجنسی قائم کی گئی ہے جس میں اعلیٰ پائے کے ماہرین کو دس برسوں کے لیے ذمے داریاں دی جا رہی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے ایٹمی طاقت سے لیس مملکت خداداد کو امریکی کالونی بنا دیا ہے۔ امریکی عہدے دار ویزوں کے بغیر یہاں اس طرح چلے آ رہے ہیں جیسے یہ بھی ان کا ایک زرخرید صوبہ ہو۔ پریس میں یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ بلیک واٹر سکیورٹی ایجنسی نے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک لیہ اور بھکر تک قائم کر لیا ہے۔ یہ وہی بدنام زمانہ سکیورٹی ایجنسی ہے جس نے عراق میں لوگ بڑی بے دردی اور سفاکی سے قتل کیے تھے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو ان سنگین معاملات پر کڑی نگاہ رکھنا اور عوامی رائے عامہ منظم کرنا چاہیے‘ کیونکہ ہماری قومی آزادی سخت خطرے میں ہے۔ وہ اس مشکل اور کٹھن وقت میں بھی کامل غوروخوض کے بعد ایک ایسی پالیسی وضع کر سکتی ہیں کہ پاکستان امریکہ کی غلامی قبول کیے بغیر اس سے اسٹریٹجک مفادات حاصل کرتا رہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ قوم داخلی طور پر متحد ہو اور اس کے اہداف متعین اور قابلِ حصول ہوں۔
٭٭
تبدیلی کی قوتیں ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں اور قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں آسمان رنگ بدلنے والا ہے۔ پہلے کابینہ میں ردوبدل ہو گا اور اس کے بعد نظام حکومت میں تبدیلی آئے گی۔ ماحول کچھ ایسا بن رہا ہے جس میں عدلیہ بھی بہت بڑے چیلنج سے دوچار ہو سکتی ہے اور ایگزیکٹو بھی ایک آزمائشی دور سے گزرنے والی ہے۔ جس تواتر سے مالی اسکینڈل سامنے آ رہے ہیں اس کے اثرات پورے نظام حکومت پر مرتب ہو رہے ہیں اور درپردہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان تمام پریشان کن اشاروں کے باوجود جمہوری قوتوں کو ہوش مندی اور قوتِ ارادی سے کام لینا ہو گا۔ پاکستان کے پس ماندہ اور قومی دھارے سے کٹے ہوئے علاقوں میں اصلاحات کا جو عمل شروع ہوا ہے‘ اس سے ملکی یک جہتی کو فروغ ملے گا۔ فاٹا میں سیاسی جماعتوں کے وجود اور فعالیت سے عوامی رشتے مضبوط ہوں گے اور قومی اسمبلی کی منظوری سے گلگت بلتستان میں سیاسی خودمختاری پر مبنی نظام کے قیام سے اچھے نتائج مرتب ہوں گے۔ اسی طرح اگر چاروں صوبے اور وفاق ایک قومی مالیاتی ایوارڈ پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور بلوچستان کے وسائل میں خاطرخواہ اضافہ کر دیتے ہیں‘ تو آج کے حالات میں یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہو گی جس کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جائے گا۔ یہ مثبت اقدامات جمہوری عمل کو تقویت پہنچانے میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی حالات کو سدھارنے کی نہایت مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں‘ مگر وہ ماضی کا ملبہ اُٹھاتے اُٹھاتے بعض اوقات مضحمل دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں ایک ایسی مختصر کابینہ کا انتخاب کرنا ہو گا جو اچھی حکمرانی کا فریضہ ادا کر سکے۔ عوام کے سماجی اور اقتصادی مسائل کا حل تلاش کیے بغیر سیاسی استحکام کا تصور ناممکن ہے۔ انہیں حکومت کے ڈھانچے میں سے خائن‘ رشوت خور اور نااہل لوگ فارغ کر دینا اور شکر سازی کے مافیا کے جتھے کو فوری طور پر توڑنا اور کارخانوں کو قومی تحویل میں لینا اور اعلیٰ منتظمین کے ذریعے چلانا ہوگا۔ اس طرح شوگر ملوں کے وہ مالکان جو حکومت میں ہیں‘ ان کے ٹرسٹ قائم کیے جائیں جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ عمدہ انتظامی کارکردگی کے لیے بیورو کریسی کو آئینی تحفظ فراہم کرنا اور ایک مقام پر افسروں کے قیام کی ایک میعاد مقرر کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ اب تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں کی توجہ تو عوام کی فلاح و بہبود‘ ان کے سماجی استحکام اور ان کی صلاحیتوں کو نشوونما دینے پر ہونی چاہیے۔ صدر زرداری نے غریب خواتین کے لیے ’’بے نظیر بہن بستی‘‘ پروگرام شروع کر دیا ہے جس کے تحت انہیں مفت گھر فراہم کیے جائیں گے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غریبوں کے لیے کم لاگت کے گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کر کے سماجی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ تبدیلی پُرامن طریقے سے آئے اور صارفین کے حقوق کی تحریک منظم ہو کر لٹیروں‘ قزاقوں اور خون چوسنے والے اقتصادی وڈیروں کی ’’سلطنتوں‘‘ پر قابض ہو جائے اور آٹے‘ چینی‘ گھی‘ توانائی اور گرانی کے بحرانوں کی آمد ختم ہو جائے۔
|