 |
ایک قابلِ ستائش پیش کش ۔ ستمبر ۲۰۰۹ء
آج چار سو بدعنوانیوں اور ہوشربا مالی قزاقیوں کی خبریں بھنبھنا رہی ہیں جن کی زد میں ریاست کی اعلیٰ شخصیتیں آ رہی ہیں اور کرپشن کی سرانڈ سے دماغ پھٹے جا رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت کی غیر جمہوری تبدیلی سے پہلے اسی قسم کا ماحول وجود میں آ جاتا ہے اور حکمرانوں کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ افواہوں میں بہ جاتی ہے۔ جناب وزیراعظم‘ جن کے عزیزوں‘ جعلی رشتے داروں اور قریبی دوستوں کے بارے میں قصے کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں‘ انہوں نے جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ محاسبے کے لیے تیار ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی گزشتہ برسوں کے اکاؤنٹس آڈٹ کرنے کے بجائے وزیراعظم سکریٹریٹ کے معاملات کی چھان بین کو اوّلین اہمیت دے۔ یہ اعلان وہی شخص کر سکتا ہے جس کے اپنے ہاتھ اور اپنا دل صاف ہو اور جو حقیقی معنوں میں کرپشن کی روک تھام اور ایک مؤثر نظام احتساب قائم کرنے کا عزم رکھتا ہو۔ حد سے بڑھے ہوئے سیاسی حبس میں یہ اعلان تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گا اور جمہوری طاقتیں اس کا یقینا خیرمقدم کریں گی۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کرپشن ایک سیاسی کلچر کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جس نے سیاست کو جو ریاست کے معاملات چلانے کا سب سے عمدہ آرٹ ہے‘ ایک اخلاق باختہ کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ صحت مند سیاسی اداروں کے فروغ کے لیے اس تباہ کن کلچر کے آگے بند باندھنا وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ دراصل چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے اور زندگی کی آسائشوں کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی روش نے رشوت خوری‘ اقرباپروری‘ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی فضا تیار کی ہے۔ اسلام نیکیوں میں سبقت لے جانے کی تلقین کرتا ہے جبکہ شیطان برائیوں اور بداعمالیوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہم جناب وزیراعظم سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ خود بھی امانت‘ دیانت اور صداقت کا سبق یاد رکھیں گے اور ملک میں ایک ایسا نظام احتساب قائم کریں گے جس میں بدعنوان سیاست دانوں‘ سرکاری افسروں اور جرنیلوں کا بروقت محاسبہ ہوتا رہے۔ اخبارات میں نئے احتساب بل کا مسودہ شائع ہوا ہے‘ اس میں بڑے بڑے نقائص اور شگاف پائے جاتے ہیں۔ احتساب کا قانون بھی اسلام کے نظام عدل کے مطابق منظور کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کرنے والے افراد اچھی سیرت و کردار کے حامل ہونے چاہیں۔ یہی وزیراعظم کے اعلان کی عملی تعبیر ہو گی۔
|
|
|