موت کا کھیل
تجسس سے بھرپور ایک تحیر خیز ناول کی مکمل تلخیص شہر کے پُر سکون ماحول سے دور‘ ایک جزیرے پر کھیلے جانے والے خونی ڈرامے کی روداد
ریمنڈ چینڈلر/محمد اقبال قریشی ۔ ستمبر ۲۰۰۹ء
ہوش میں آنے کے بعد پہلا احساس یہ ہوا کہ میں گہری تاریکی میں‘ نم اور سخت فرش پر پڑا ہوں۔ اگر چہ اس طرح کی صورت حال میرے لیے نئی نہیں تھی لیکن نجانے کیوں میرے وجود میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی۔ کسی نہ کسی طرح میں اٹھ بیٹھنے میں کامیاب ہو گیا ۔ میرے سر میں یوں دھمک ہو رہی تھی جیسے کوئی مسلسل ہتھوڑے برسا رہا ہو۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ چند ثانیے بعد میں نے اپنے ہاتھ پر کسی لیس دار شے کی چپچپاہٹ محسوس کی‘ مجھے یہ اندازہ لگانے میں دشواری نہ ہوئی کہ میرے بال خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔ میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر ذہن جسم کا ساتھ دینے کو تیار نہ تھا۔ میں سر پکڑ کردوبارہ ڈھیر ہو گیا اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کسی متحرک فلم کے مانند میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔

٭٭
میری زندگی میں یہ بھونچال اس وقت آیا جب مجھے سام بریڈلے کا ٹیلی گرام ملا۔ سام میرا اس زمانے کا دوست تھا جب میں فوج میں ملازم تھا۔ فوجی زندگی کو الوداع کہنے کے بعد ہمارے راستے الگ الگ ہوگئے البتہ ہمارا رابطہ قائم رہا۔ میں فوج میں چونکہ حساس نوعیت کے عہدوں پر رہا لہٰذا سبکدوشی کے بعد میں نے سراغ رسانی کا پیشہ ہی اختیار کیا ۔ کچھ عرصے بعد میں خود کو بطور کامیاب سراغ رساں منوانے میں کامیاب ہو گیا۔ سام کبھی ایک کاروبا رکرتا تو کبھی دوسرا۔ اس نے شادی بھی کر لی تھی۔ اُس کی بیوی ایلن بڑی سمجھ دار عورت تھی۔ میں جب بھی ان کے گھر جاتا وہ مجھے کسی نہ کسی کارآمد مشغلے میں مصروف نظر آتی۔ اس روز میں ایک پیچیدہ کیس حل کرنے کے بعد اپنے فلیٹ پر ایک طرح سے چھٹیاں گزار رہا تھا جب مجھے سام کا ٹیلی گرام ملا۔
اس نے لکھا تھا کہ میں فوراً اس کے گھر پہنچوں۔ اس کا یہ مختصر پیغام میرے دماغ کے کسی گمنام گوشے میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگا۔چند لمحے بعد ہی میں ٹیکسی میں بیٹھا اُس کی طرف جا رہا تھا۔ مکان کے دروازے پر پہنچ کر میں نے اطلاعی گھنٹی بجائی مگر کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ میں نے سوچا ایلن اس وقت شاید خریداری کے لیے گئی ہو گی جبکہ خود سام بھی کہیں مصروف ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر گھنٹی بجائی لیکن بے سود! میرے ذہن میں متعدد شبہات کلبلانے لگے دروازہ اگرچہ مقفل تھا لیکن اسے کھولنا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ ایک منٹ بعد ہی میں گھر میں داخل ہو گیا۔
اندر کوئی نہیںتھا ۔میں نے وہاں موجود اشیا کا تیزی سے جائزہ لیا۔ بستر کی حالت سے صاف ظاہر تھا کہ اس پر کسی نے رات نہیں گزاری تاہم ایک میز کی بالائی دراز دیکھ کر میں چونکے بغیر نہ رہ سکا۔ وہاں بہت سے رومال نفاست سے رکھے تھے۔ کسی نے چند رومال دوسروں سے علیحدہ کرکے ایک طرف رکھ دیے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے ان کے درمیان سے کوئی چیز نکالی گئی ہو۔ رومالوں کی نچلی تہ پر تیل کے ایک داغ کے علاوہ کسی وزنی چیز کا نشان بھی موجود تھا۔ گویا وہ چیز ہٹائے جانے سے قبل کچھ دیر وہاں رکھی رہی تھی۔ میں ریوالور کی موجودگی کا جائزہ لیے بغیر نہ رہ سکا جسے غالباً میرے پہنچنے سے قبل ہی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔ یکایک میں چونک اٹھا‘ کسی نے دروازے کے سوراخ میں چابی گھمائی تھی۔ اس کے فوراً بعد ہی ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔
میں نے ایک طویل سانس لے کر اس کے سراپا کا جائزہ لیا ۔ بلاشبہ وہ غیر معمولی حد تک حسین و جمیل تھی لیکن وہ ایلن نہیں تھی۔ اس کا چہرہ گھبراہٹ کے تاثرات سے یکسر عاری تھا۔ اس کے ہاتھ میں اعشاریہ دو تین کا پستول تھا جس کا رخ میری طرف تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا یا کہتا۔ اس نے سپاٹ لہجے میں سوال کیا’’تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’میں ایک سابق فوجی اور بریڈلے کا دوست ہوں۔‘‘ میرا ذہن بڑی تیزی سے کام کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے سختی کا اظہار ہو رہا تھا ۔ وہ میرے چہرے سے نگاہیں ہٹائے بغیر بولی’’گویا تم تسلیم کرتے ہو کہ تم ان ہی میں سے ایک ہو؟‘‘ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا‘ اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ’’میں ابھی پولیس کو بلاتی ہوں۔‘‘
س سے اچھا کوئی اور خیال نہیں ہو سکتا۔‘‘ میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔ ’’لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ تم پستول درمیان سے ہٹا دو تاکہ ہم اطمینان سے گفتگو کر سکیں‘ سام نے مجھے پیغام دیا تھا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے‘ اگر تم بھی اس کی دوست ہو ‘ تو ہم تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔‘‘ ’’بکواس بند کرو۔‘‘ اس کا لہجہ زہریلا تھا۔ ’’اور دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو جائو۔ اگر تمہیں ذرا سا بھی شبہ ہے کہ میں پستول استعمال کرتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کروں گی‘ تو اپنی جگہ سے حرکت کر کے اپنا یہ شبہ اسی وقت دور کر سکتے ہو۔‘‘ مجھے یقین تھا کہ اس کے الفاظ محض دھمکی نہیں تھے میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ بلاچون و چرا اس کی ہدایت پر عمل کرتا۔
اس نے چونگا اٹھایا اور نمبر ملانے لگی لیکن مجال ہے کہ اس کی توجہ ایک لمحے بھی میری طرف سے ہٹی ہو‘ وہ کہہ رہی تھی’’ہاں ہیری‘ میں سام کی رہائش گاہ پر موجود ہوں۔ وہ اور اس کی بیوی یہاں نہیں ہیں البتہ ایک اور شخص ضرور موجود ہے۔ ‘‘ چند لمحے تک وہ دوسری طرف سے کہے جانے والے الفاظ سنتی رہی پھر مجھے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی’’کافی دراز قامت شخص ہے۔ میرا خیال ہے چھ فٹ سے زیادہ ہی ہو گا۔ گہرے رنگ کا سوٹ اور قمیص پہنے ہوئے ہے۔ خاصا دلکش مگر بے وقوف نظر آتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ چابی کے بغیر گھر میں داخل ہوا ہے۔‘‘ تھوڑی دیر تک وہ دوسری طرف سے ابھرنے والی آواز سنتی رہی پھر بولی ’’بہت اچھا وہ یہاں سے کہیں نہیں جا سکتا۔‘‘ چونگا رکھ کر وہ ایک بار پھر مجھ سے سرد لہجے میں مخاطب ہوئی’’اب تم چاہو تو بیٹھ سکتے ہو وہ لوگ دس منٹ میں یہاں پہنچیں گے۔‘‘ خاموش ہو کر اس نے میرا اس طرح جائزہ لیا جیسے میں اس کے لیے کوئی انوکھی مخلوق تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا’’یہ ہیری کون ہے؟‘‘
’’میرا دوست ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا’’اور اس نے فون پر جو کچھ کہا ‘ اس کے مطابق میرا خیال ہے کہ وہ تمہیں جانتا ہے البتہ پسند یقینا نہیں کرتا۔‘‘ ’’تم میری پریشانی میں اضافہ کر رہی ہو ۔ مگر یہ تو بتائو کہ یہ سارا چکر کیا ہے؟ سام اور اُس کی بیوی کہاں ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ کس قسم کے واقعات پیش آئے؟‘‘ اُس نے مسکرا کر سر کو نفی میں جنبش دی اور پستول سے کھیلنے لگی۔ اُس کے اس انداز نے مجھے مزید الجھن میں مبتلا کر دیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس سارے معاملے نے مجھے بری طرح چکرا دیا تھا۔ سام بریڈلے یقینا کسی بہت بڑی مشکل سے دو چار تھا۔ وہ کس قسم کی مشکل تھی اس کا میرے پاس اب تک کوئی جواب نہیں تھا۔ لڑکی کا رویہ بھی باعثِ تشویش تھا مگر سام کے گھر کی چابی اس کے پاس کیسے پہنچی؟ ’’سنو!‘‘ میں نے ان خیالات سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی’’اگر تم سام کی دوست ہو ‘ تو میں ایک بار پھر کہوں گا کہ ہمیں تبادلۂ خیال کرنا چاہیے۔ یہاں سے جاتے وقت وہ پستول ساتھ لے گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ کسی مشکل سے دو چار اور پریشا ن ہے۔‘‘
یہ سن کر اس نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے۔ چند لمحے مجھے گھورتی رہی پھر بولی ’’تمہیں اس کا علم کس طرح ہوا؟‘‘ میں نے اس کے سامنے اپنے خیالات کی وضاحت کرنے کے بعد کہا ’’اب بتائو یہ چکر کیا ہے؟‘‘ لیکن اس سے پہلے کہ وہ میرے سوال کا جواب دیتی ‘ تیز تیز قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ الٹے پیروں دروازے کے قریب پہنچی اور اسے کھول دیا۔ کمرے میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد تین تھی۔ انہیں دیکھ کر میں اپنی ریڑھ کی ہڈی میںاٹھنے والی سردلہر محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔وہ تینوں شکل سے ہی جرائم کی دنیا کے باسی نظر آتے تھے۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ سام حقیقتاً کسی بہت بڑی مشکل میں گرفتار ہو چکا تھا۔
لڑکی کی آواز سُن کر میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا وہ کہہ رہی تھی ’’ہیری! یہی وہ شخص ہے جو خود کو سام کا دوست کہتا ہے۔‘‘ لڑکی بدستور پستول پکڑے کھڑی تھی۔ ہیری ایک قدم آگے بڑھ کر میرے اور اس کے درمیان آ گیا۔ اُس کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔ پھر اس کا دایاں ہاتھ بلند ہوا ہی تھا کہ میری الٹی ہتھیلی اس کے کندھے پر پڑی‘ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلنے کی کوشش کرتا میں اس کے پیٹ میں گھونسا رسید کر چکا تھا ۔ شدتِ کرب سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔ میں نے اسے گرنے کا موقع دیے بغیر دوسرے شخص کی طرف دھکیل دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت کرتا میں پستول اٹھا چکا تھا ۔دوسرا شخص بھی اتنی دیر میں پستول نکال چکا تھا۔
دوسرا شخص ہیری کے پیچھے چلا گیا جو فرش پر پڑا کراہ رہا تھا۔ ’’اسے قتل کر دو! گولی مار دو چارلی!‘‘ ہیری غضب ناک انداز میں چیخا۔ دوسرا شخص یقینا چارلی تھا۔ ’’ضرور گولی مارو!‘‘ میں سرد لہجے میں بولا ’’لیکن ہم ایک ساتھ مریں گے ۔ ویسے بھی میں تم سے زیادہ طاقت ور ہوں۔ اگر تم نے گولی چلانے میں پہل کی بھی ‘ تو میں مرنے سے پہلے تمہاری کھوپڑی کا نشانہ ضرور لے سکوں گا۔‘‘
’’میرا نام جارج ہومین ہے۔‘‘ تیسرا شخص یوں پھنکارا جیسے مجھے کچا چبا جانا چاہتا ہو۔ ’’مجھے سام سے ایک حساب چکتا کرنا ہے۔ تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ ’’سام میرا دوست ہے۔‘‘ میں مسکرایا۔’’میرا نام کپ مورگن ہے۔ اور تمہاری اطلاع کے لیے میرا شمار ان احمقوں میں ہوتا ہے جو کوئی بھی اقدام کرتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ اگر تم نے کسی طرح کی پھرتی یا چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو میں بے دریغ تمہیں گولی مار دوں گا۔ بہتر ہو گا کہ پستول نیچے گرا کر فوراً یہاں سے دفع ہو جائو۔‘‘ اس نے طویل سانس لے کر کہا۔’’بہت اچھا۔ ہم چلے جائیںگے۔ کیا تم سام کے بارے میں کسی طرح کا اظہار خیال کرنا پسند نہیں کرو گے؟‘‘ ’’سام بریڈلے ایک اچھا آدمی اور میرا دوست تھا‘ اور کچھ؟‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تم بہت اچھے آدمی ہو‘ لیکن بہتر ہو گا کہ اب سمجھ داری کا مظاہرہ کرو اور یہاں سے چلے جائو ۔ ویسے بھی اس معاملے میں تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔‘‘ ’’میں یہاں تمہارے مسخرے پن سے محظوظ ہونے نہیں آیا ۔ جب تک سام اور اس کی بیوی واپس نہیں آجاتے اور صورت حال واضح نہیں ہو جاتی ‘میں یہیں ٹھہروں گا۔‘‘ میرا لہجہ سخت اور فیصلہ کن تھا۔ ’’تم جانو اور تمہارا کام!‘‘ جارج نے لاپروائی سے کندھے اچکائے پھر ذرا رک کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا’’اگر میں تم سے کہوں کہ سام بریڈلے اور اس کی بیوی. دونوں مر چکے ہیں ‘ تو کیا تم یقین کر لو گے؟‘‘
اس کے الفاظ سن کر لڑکی کے ہونٹوں سے دھیمی آواز نکلی تھی۔ میں نے جارج کو گھورتے ہوئے جواب دیا۔’’ میں اس احمقانہ اطلاع پر اس وقت تک یقین نہیں کروں گا جب تک اپنی آنکھوں سے دونوں کی لاشیں نہ دیکھ لوں اور یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ اگر ایسا ہوا تو میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک تم تینوں کو گیس چیمبر میں نہیں لے جایا جاتا!‘‘ وہ میری بات کا جواب دینے کے بجائے چارلی کی طرف متوجہ ہو گیا ۔’’ہیری کو اٹھا کر کار تک لے جائو میں آ رہا ہوں۔ یہ جگہ کسی طرح بھی ایسا معاملہ طے کرنے کے لیے مناسب نہیں۔‘‘ چارلی ہیری کو اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ جارج مجھے پستول کی زد میں لیے ہوئے خود بھی دروازے کی طرف کھسکنے لگا تھا۔ میں نے لڑکی کو مخاطب کر کے کہا ’’تم بھی کھسکو ! فوراً نکلو یہاں سے!‘‘ مجھے ایسا لگا کہ جیسے وہ کسی قسم کا احتجاج کرنا چاہتی ہو مگر میں نے اسے موقع نہیں دیا۔ ’’جلدی کرو! کیا تم مجھے اتنا ہی احمق سمجھتی ہو کہ میں تمہیں اپنی پشت میں گولی اتارنے کا موقع دے دوں گا؟‘‘ میں جارج کی طرف متوجہ ہو گیا۔’’ تم بہت جلد مجھے اپنے سر پر مسلّط پائو گے۔‘‘
وہ سب باہر نکل گئے۔ مجھے یقین تھا کہ اُن کا تعلق کسی نہایت منظم گروہ سے تھا جو خواہ مخواہ جھگڑوں میں الجھنا پسند نہیں کرتے۔ لڑکی نے پلٹ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کے ساتھ اپنے روےّے پر مجھے افسوس تھا ۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بہت زیادہ خوبصورت تھی۔ بہرحال وہ کم از کم شکل سے جرائم پیشہ معلوم نہیں ہوتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد میں نے بھی باہر نکلنے کے بارے میں سوچا۔ سچ پوچھئے تو اب تک جو کچھ ہوا تھا ‘ میری سمجھ سے بالا تر تھا ۔ معاملے کے تمام تر پہلو مکمل تاریکی میں تھے۔ اب تک اس کا بھی اندازہ نہیں ہو سکا تھا کہ سام اور ایلن کہاں تھے؟
اس سے پہلے کہ میں کوئی اگلا اقدام کرتا‘ مجھے سام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھیں کہ اس کے روابط کس کس سے تھے؟ کمرے سے نکلنے سے قبل میں نے اس کا طائرانہ جائزہ لیا۔ میں ایک بار پھر کمروں کی تلاشی لے کر اپنی تسلی کر لینا چاہتا تھا۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد مجھے ایک دراز سے لفافوں کی ایک گڈی اور بہت سے ناموں کی ایک فہرست ملی۔ میں نے فہرست کھول کر اس کی عبارت پر نظر ڈالی۔ کچھ عجیب سی تحریر تھی۔
’’اچھے دن دوبارہ خوشحالی‘تاش کے خوبصورت کھیل اور دیگر دلچسپیاںہر خاص و عام کو دعوت دی جاتی ہے ۔آمدنی زخمی فوجیوںکو دی جائے گی۔ دس بارہ نام اس کے نیچے درج تھے۔‘‘ قریب پڑی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھ کر میں نے دوبارہ تحریر کا بغور جائزہ لیا ۔ اور اسی لمحے ایک نیا خیال میرے ذہن میں کلبلایا ۔ میرے خیال میں یہ جوئے کا کوئی چکر تھا جس میں جارج ہومین یقینا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ مجھے ان جواریوں کا خیال بھی آیا جو شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے لوگوں کو لوٹتے رہتے ہیں ۔
میں نے ایک بار پھر جارج ہومین کے بارے میں سوچا شاید وہ کوئی بہت بڑا ہاتھ مارنے کے چکر میں تھا یاہو سکتا ہے کہ کسی نے جوا کھلانے کے لیے اس کی خدمات حاصل کر لی ہوں اور سام بریڈلے کو اس کا علم ہو گیا ہو! اس مفروضے پر میں نے جتنا غور کیا ‘ وہ میرے ذہن میں حقیقت کا روپ دھارتا چلا گیا ۔ مجھے ایسا لگا جیسے مجھے اپنے سوال کا صحیح جواب مل گیا ہو۔ اب میرا کام اپنے مفروضے کو درست ثابت کرنے کے لیے ثبوت تلاش کرنا تھا۔ عقبی زینے سے اتر کر میں نے ایک بار پھر ناموں کی فہرست پر نظر ڈالی جو میں اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ اس میں سے ایک شخص نارمن کی قیام گاہ وہاں سے زیادہ دور نہیں تھی۔ میں نے کار اسٹارٹ کی اور اس کے گھر روانہ ہو گیا۔ اطلاعی کے جواب میں دروازہ کھولنے والا خود نارمن تھا‘ پستہ قد اور گٹھے ہوئے جسم کا مالک جس کے سر پر بہت کم بال تھے۔ میں نے اسے سرکلر دکھاتے ہوئے معلوم کیا کہ وہ اس بارے میں کیا جانتا ہے۔ ’’تم کون ہو مجھ سے پوچھنے والے؟‘‘ اس نے روکھے پن سے جواب دیا۔
’’میں ایک نجی سراغ رساں ہوں ۔‘‘ میں نے اسے اپنا شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے کہا۔’’مجھے اپنے دوست سام کی تلاش ہے۔ میں نے اس کے گھر ایک فہرست میں تمہارا نام دیکھا تو یہاں آگیا کہ شاید تم میری کچھ مدد کر سکو۔‘‘
وہ چند ثانیے شش و پنج کے عالم میں مجھے دیکھتا رہا۔ پھر مجھے لے کر اندر آگیا اور بیٹھنے کے بعد بولا۔ ’’ارل ریمسلے نامی ایک شخص نے دو ماہ قبل مجھ سمیت اس شہر کے چند بڑے جواریوں سے رابطہ کیا تھا ۔‘‘ وہ سگار سلگاتے ہوئے بولا۔’’ وہ جواریوں کا کوئی منظم گروہ تیار کرنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے سام نامی شخص اس کا نمایندہ بن کر میرے پاس آیا تھا اور میری رضامندی پر اس نے مجھے گروہ میں شامل بھی کر لیا مگر تب سے میرااس سے رابطہ نہیں ہو سکا ۔ اس کے علاوہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ’’دراصل سام اور اس کی بیوی دونوں کہیں غائب ہو چکے ہیں۔ جارج ہومین نامی ایک شخص کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دونوں قتل کیے جا چکے ہیں‘ لیکن میں اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں ۔ بہر حال کوئی ایسی بات ضرور ہے جس سے سام پریشانی میں مبتلا ہے۔‘‘
نارمن کھڑا ہو گیا ۔ منہ میں دبا ہوا سگار اس نے فرش پر پھینک دیا۔ کمرے کے اندرونی دروازے پر ایک نظر ڈال کہ وہ دوبارہ صوفے پر میرے برابر بیٹھ گیا۔
’’مجھے لگتا ہے میں کسی بہت بڑی گڑ بڑ میں پھنس گیا ہوں۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔’’میں قتل جیسے چکر میں پھنسنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر میری بیوی کو اس بارے میں پتا چل گیا تو وہ ہنگامہ کھڑا کر دے گی۔ ‘‘ اس کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر ترس آگیا۔ مجھے اس سے کوئی مزید معلومات اس لیے نہیں مل سکتی تھیں کہ وہ خود اندھیرے میں تھا بہرحال مجھے اتنا معلوم ہو گیا کہ وہ جوئے کا ہی کوئی چکر تھا۔ اب میرا وہاں مزید رکنا مناسب نہ تھا۔ سام کے بارے میں بھی میری تشویش بڑھ گئی۔
جس وقت میں وہاں سے روانہ ہوا رات کے ۹ بج چکے تھے۔ اس دوران میں اپنے ذہن میں ایک پروگرام ترتیب دے چکا تھا میرے خیال میں اب بہترین طریقہ یہی تھا کہ میں جلداز جلد پولیس سے رابطہ قائم کرتا۔ میرا ایک دوست مونی پولیس میں تھا اور مجھے اچھی طرح جانتا تھا اچانک مجھے خیال آیا اس وقت اس سے ملاقات مناسب نہیںہو گی۔ مونی سے ملنے سے قبل مجھے یقینا کچھ اور کام کر لینا چاہیے اور ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میری ذہنی رو کا رخ ارل ریمسے کی طرف ہو گیا ۔ یہی وہ شخص تھا جس نے سام کو جوئے کے کاروبار کی ترغیب کے لیے استعمال کیا تھا۔ اگر ریمسے کو کسی طرح کی معلومات اگلنے پر آمادہ کر لیا جائے ‘ تو آگے بڑھنے کے لیے راہ کا تعین یقینا آسان ہو جاتا۔میرے لیے یہ خیال ہی روح فرسا تھا کہ شہر کی ایک روشن اور مصروف سڑک پر جس پر بھاری ٹریفک چل رہا تھا اور جس کے دونوں طرف اونچی اونچی شاندار عمارتیں سر اٹھائے کھڑی تھیں ایک شخص اور اس کی بیوی موت سے مقابلہ کرنے میں مصروف تھے جبکہ میری بے بسی کا یہ عالم تھا کہ مجھے ان کے بارے میں کسی طرح کی معلومات نہیں تھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ امید کی ایک کرن اب بھی میرے ذہن میں موجود تھی۔
میں نے ایک بار پھرسام کے گھر سے ملنے والی فہرست پر نظر ڈالی اور اس میں مجھے ریمسے کانام جلد ہی نظر آ گیا۔ فہرست میں درج پتے کے مطابق اس کی رہائش گاہ بھی اس جگہ سے زیادہ دور نہیں تھی۔ کار کو ایک مناسب جگہ روک کر میں عمارت میں داخل ہوا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ عمارت کی عقبی سمت میں بنے کمروں میں سے ایک سے روشنی باہر آرہی تھی۔ میں نے اطلاعی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ ایک بار۔ دو بار۔ تین بار۔! لیکن کوئی جواب ملا اور نہ ہی دروازے کے دوسری طرف کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ مایوس ہو کر میں نے دروازے کا بغور جائزہ لیا۔ وہ پوری طرح بند نہیں تھا بلکہ کواڑ اور چوکھٹ کے درمیان خاصا خلا تھا۔
میں نے ایک بار پھر گھنٹی بجائی‘ لیکن بے سود۔ چند لمحے بعد میں اندر داخل ہو گیا۔ اُس روز یہ دوسرا موقع تھا جب میں اس طرح کسی کے گھرمیں داخل ہو رہا تھا۔ دروازہ کھول کر میں نے اندر کا جائزہ لیا مگر وہاں بھی تاریکی کا راج تھا۔ کمرے میں جھانکتے ہوئے میں نے آواز لگائی ’’ہیلو‘ ریمسے۔‘‘ لیکن میری آواز صدابہ صحرا ثابت ہوئی اور میرے کوئی معمولی سی آہٹ بھی نہ سن سکے۔ اضطراب اور بے چینی کے عالم میں ‘ میں نے ایک بار اپنے گردو پیش کا جائزہ لیا ۔ سڑک بدستور سنسان اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی اس پر یا تو میری گاڑی کھڑی تھی یا کچھ فاصلے پر ایک اور گاڑی کا سایہ نظر آرہا تھا ۔ پتا نہیں وہ کب سے وہاں کھڑی تھی‘ کم از کم عمارت میں داخل ہوتے وقت وہ مجھے نظر نہیں آئی تھی۔
ابھی میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ تاریکی میں اچانک کسی نے میرا بازو تھام لیا‘ گرفت خاصی مضبوط تھی۔ میں نے کسی انجانے خطرے کے پیشِ نظر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن گرفت کچھ اور مضبوط ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی کسی کی سرسراتی ہوئی آواز آئی ۔
’’اندر آ جائو! کیا تم ارل ریمسے سے ملنا نہیں چاہتے؟‘‘ وہ کسی بوڑھی عورت کی آواز تھی‘ لیکن اس آواز میں کوئی بات اور بھی تھی. کوئی ایسی بات جس کے احساس سے مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے محسوس ہوئے حالانکہ میں کمزور اعصاب کا مالک نہیں اور آسانی سے پریشان نہیں ہوتا۔
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔ ’’یقینا میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔ کیا وہ اندر ہے؟ ‘‘
’’وہ باورچی خانے میں ہے‘ کھانا کھانے گھر آیا تھا۔ غالبا ً تم بھی کچھ پینا پسند کرو گے ۔ کم از کم کافی کا ایک کپ ہی سہی.‘‘
فلیٹ کافی گرم تھا ‘ ہوا بند تھی اور کسی حد تک گھٹن کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ وہ میرے آگے آگے چل رہی تھی ۔
’’میرے پیچھے پیچھے چلے آئو !‘‘ میں نے ایک بار پھر بڑھیا کی سرسراتی ہوئی آواز سنی۔ ’’میں روشنی پسند نہیں کرتی البتہ ارل کی بات اور ہے‘ وہ روشنی پسند کرتا ہے۔‘‘
اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا میں باورچی خانے میں داخل ہوا ۔ بڑھیا نے ایک اور دروازے کو پیچھے کی طرف دھکیلا اور یہی وہ وقت تھا جب میری نظریں پہلی بار ارل ریمسے پر پڑیں ۔ وہ باورچی خانے میں ایک میز کے دوسری طرف بیٹھا تھا۔ اس کی ٹھوڑی اس کے ایک ہاتھ پر رکھی تھی۔ جب کہ دوسرا ہاتھ میز پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ایک کپ اور پلیٹ میں ایک سینڈوچ رکھا تھا۔ اس کی نگاہیں میرے چہرے پر مرکوز تھیں ۔ میں نے اندر داخل ہو کر پوچھا۔’’کیا تمہارا نام ہی ریمسے ہے؟‘‘
اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ پلک تک نہیں جھپکائی جیسے میرے الفاظ اس کے کانوں تک پہنچے ہی نہ ہوں ۔ میں بوڑھی عورت کے قریب سے گزر کر اس کے سامنے پہنچ گیا اور تب پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میری نگاہیں ایک مردہ شخص کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
خوف کی ایک سرد لہر میری ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ میں نے گھوم کر بڑھیا کو دیکھا جو خالی نظروں سے میز پر رکھے کپ اور پلیٹ کو دیکھ رہی تھی۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پاکر عجیب سے لہجے میں بولی’’تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ارل کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی مرضی کے بغیر کبھی نہیں بولتے۔‘‘
اس کی نگاہیں میرے چہرے پر مرکوز ہو گئیں۔ یہ نگاہیں ہر قسم کے تاثر سے یکسر عاری تھیں۔ میرے جسم میں عجیب سی سنسناہٹ دوڑ گئی۔ گرم کمرہ جس میں مسلسل گھٹن کا احساس ہورہا تھا وہاں اس بڑھیا کی موجودگی جو اپنی حرکات و سکنات سے فاتر العقل معلوم ہوتی تھی اور اس پر مستزاد وہ لاش۔ ارل ریمسے یقینا اس بڑھیا کا بیٹا تھا۔
دفعتہ میری نگاہیں اس چاقو پر مرکوز ہوئیں جو اس کی پشت میں بائیں جانب دستے تک پیوست تھا ۔ میں نے ریمسے کا ہاتھ پکڑ کر دیکھا وہ بالکل سرد تھا۔
بڑھیا ابھی تک میز پر رکھی اشیا کی طرف متوجہ تھی۔ جو کچھ ہو چکا تھا اس سے یکسر بے خبر اور لا تعلق! میں نے طویل سانس لے کر اس سے پوچھا۔’’کیا یہاں میں ٹیلی فون ہے؟‘‘
مگر اس نے میری طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ جیسے اپنے بیٹے کی طرح اس نے بھی میرے الفاظ نہ سنے ہوں۔ مجبوراً میں اس کے قریب سے گزر کر ہال میں داخل ہو گیا ۔ اب مجھے خود ہی ٹیلی فون تلاش کر نا تھا جو جلد ہی مجھے نظر آ گیا۔ چند لمحے بعد ہی میں مونی کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔
دوسری طرف ریسیور اسی نے اٹھایا تھا ۔ میں نے جلدی جلدی کہنا شروع کیا ۔’’سنو! میں مورگن بول رہا ہوں ۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا میں نے اسے ریمسے کے فلیٹ کا پتا بتاتے ہوئے کہا ۔’’کیا تم فوری طور پر یہاں پہنچ سکتے ہو؟ وہ مرچکا ہے. نہیں اب اس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ۔ وہ یقینی طور پر مر چکا ہے. ٹھیک ہے‘ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ ریسیور رکھ کر میں دوبارہ کچن میں داخل ہوا۔میری نظریں بڑی تیزی سے گردوپیش کا جائزہ لے رہی تھیں‘ لیکن کوشش کے باوجود میں وہاں سے ایسی کوئی چیز تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ‘ جسے سراغ کہا جا سکتا۔ تاہم ایک اور بات یقینی معلوم ہوئی۔ قاتل باورچی خانے کے اندرونی دروازے سے وہاں پہنچا تھا۔ ریمسے کو یقینا اس کی خبر نہیں ہو سکی اور اس نے اس کی بے خبری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چاقو کا پھل پھرتی سے اس کے جسم میں اتار دیا تھا۔ چاقو بے حد خطرناک اور یقینا زہرآلود تھا۔
ریمسے کی پشت پر دروازے کی دوسری طرف متعدد سیڑھیاں نظر آرہی تھیں ۔ میں ان سے گزر کر نیچے پہنچا۔ یہاں گہرا اندھیرا تھا جس کے باوجود میری نگاہیں وہاں موجود دروازے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئیں اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ دروازے کے لٹو پر پہنچ گیا۔ ٹھیک اسی وقت مجھے اندھیرے میں ہلکی سی سرگوشی سنائی دی تھی۔ میں نے پھرتی سے پلٹ کر اپنی پشت کی جانب دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے کہ مجھے کچھ نظر آتا کوئی چیز پوری قوت سے میری کھوپڑی سے ٹکرائی اور اس کے ساتھ ہی میں دوہرا ہو کر فرش کی طرف جھکتا چلا گیا۔ جیسے ہی میرا جسم فرش سے ٹکرایا کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر پوری قوت سے مروڑ دیا۔ پھر میری کنپٹی پر ایک زور دار گھونسا رسید کیا جس کے ساتھ ہی میرا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا تھاآخر میں بس ایسا ہی لگا تھا جیسے میں گہری تاریکی میں کسی گہرے کنویں میں گرتا جا رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی بے ہوش ہونے سے قبل جو آخری آواز میری سماعت سے ٹکرائی وہ کسی کپڑے کے پھٹنے اور بہت دور سے آتی ہوئی پولیس سائرن کی آواز تھی۔
٭٭
ہوش میں آنے کے بعد میں نے خود کو اس کوٹھڑی میں پایا ۔ میں اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکا کہ میں قطعی غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال سے دو چار ہو گیا تھا۔ ایک شخص قتل کر دیا گیا تھا اور. اور شاید سام بریڈلے بھی اب تک زندہ نہ رہا ہو!. مجھے اپنا سر تیزی سے چکراتا ہو ا محسوس ہوا۔
اچانک مجھے بغل میں لگے ہوئے ہولسٹر کا خیال آیا ہو لسٹر خالی تھا اور پستول غائب ! جس فرش پر میں گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا ‘ وہ ٹھوس اور سخت تھا۔ روشنی نام کی وہاں کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ یقینا کوٹھڑی یا تنگ و تاریک کمرا تھا جس میں ایک عجیب سی ناگوار بو بسی ہوئی تھی۔ میرے خیال میں وہ کسی جگہ قتل گاہ کا تہ خانہ ہو سکتی تھی۔ چند لمحے بعد مجھے ایک نئی بو کا احساس ہوا جو میرے لیے نئی نہیں تھی‘ یہ سمندر کی بو تھی۔ گویا مجھے اس مکان سے لا کر لب ساحل واقع کسی تہ خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔ مگر سوال یہ تھاکہ ایسا کیوں کیا گیا؟ کیا دشمنوں نے مجھے مردہ تصور کر لیا تھایااس کی ان کے پاس مجھے قتل کرنے کے لیے وقت نہیں تھا؟
میں نے ایک بار پھر کھڑے ہونے کی کوشش کی اور جیسے تیسے کامیاب بھی ہو گیا ۔ چند لمحے تک اپنی جگہ سے حرکت کیے بغیر جسم اور ذہن کو سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا پھر احتیاط کے ساتھ چند قدم آگے بڑھائے ‘ آگے دیوار تھی‘ لیکن اس سے ٹکرانے سے قبل ہی مجھے اس کی موجودگی کا احساس ہو گیا۔ کچھ سوچ کر میں نے دیوار کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیا اور مجھے اندھیرے کے باوجود پتھر سے بنی ہوئی سیڑھیاں نظرآگئیں ۔ ان کا رخ اوپر کی طرف تھا جبکہ ان کے اختتام پر ایک دروازہ نظر آرہا تھا۔ میں نے ہاتھوں سے ٹٹول کر دروازے کا لٹو یا کنڈی تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اس قسم کی کوئی چیز اس میں موجود نہیں تھی ۔ کوشش کے باوجود میں اس میں کوئی دراڑ تک تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ دروازے کو بڑی مضبوطی سے اور احتیاط کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔ اس طرف سے مایوس ہو کر میں نے دوبارہ دیوار کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کی اس طرح میںنے پورے کمرے کا چکر لگا لیا۔ میرے اندازے کے مطابق اس کی چوڑائی ۱۰/ فٹ اور لمبائی تقریباً ۲۰/ فٹ تھی۔ اس میں میرے علاوہ کسی اور چیز کی موجودگی کے آثارنہیں تھے۔ گویا پورا کمرا بالکل خالی تھا ۔ آخری سرے پر دیوار میں ایک اور دروازہ نما چیز تھی۔ دروازہ نما اس لیے کہ خالی جگہ میں کواڑ کے بجائے لوہے کی سلاخیں نصب تھیں ۔ جنگلہ تقریباً ۳ فٹ چوڑا تھا اور اس میں استعما ل ہونے والی سلاخیں زیادہ موٹی نہیں تھیں لیکن اتنی پتلی اور کمزور بھی نہیں تھیں کہ میں ان سے کسی طرح کا فائدہ اٹھا سکتا۔ خاص طور پر ایسی حالت میں جبکہ میرا خون آلود سردرد کی شدت سے پھٹا جا رہا تھا اور جسم میں توانائی نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی تھی۔
گھٹنوں کے بل جھک کر میں نے سلاخوں کی دوسری طرف دیکھنے کی کوشش کی۔ فرش کی سطح سے کچھ نیچے ‘ تھوڑی دور سرمئی رنگ کی ریت کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ سلاخوں سے باہر ہاتھ نکال کر میں نے زمین ٹٹولنے کی کوشش کی اور میری مٹھی میں نم ریت کی کچھ مقدار آگئی ۔ جنگلے کے چاروں طرف یہی ریت پھیلی ہوئی تھی۔
میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ماچس تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ نسبتاً بہتر طور پر گردوپیش کا جائزہ لے سکوں۔ مگر جیب میں موجود تمام چیزیں پہلے ہی نکالی جا چکی تھیں ۔ میرا ذہن ایک بار پھر بری طرح جھنجھلا گیا۔ کوٹ کی جیبیں ٹٹولی تو وہ بری طرح پھٹی ہوئی تھی۔ لباس پر لگے ہوئے درزی کے لیبل بھی نوچے جا چکے تھے۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا۔ وہ لوگ مجھے قتل کر نے کا فیصلہ کر چکے تھے اور لیبل نوچنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ کم از کم لباس کے ذریعے میری شناخت نا ممکن بنا دی جائے۔
خوف کی سرد لہر ایک بار پھر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ فرش کے قریب موجود سلاخوں کا جنگلہ ‘ کمرے میں آئی ہوئی سمندر کی بُو اور نم ریت پھر کچھ دور نظرآتا ہوا سرمئی رنگ جسے پہلے میں ریت کا طویل سلسلہ سمجھا تھا‘ یقینا وہ سمندر تھا اور اگر اس میں جوار بھاٹا آ جاتا تو اس کی اونچی اور بلند لہریں یقینا کمرے کے فرش پر پہنچ جاتیں ۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ پورے کمرے میں سمندر کا پانی بھر جاتا ایسی صورت میں نتیجہ صاف ظاہر تھا۔
خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں ‘ میں بند دروازے تک پہنچ گیا۔ ظاہر ہے میں ہر قیمت پر اسے کھولنا یا توڑ دینا چاہتا تھا مگر اس میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس پر میری انگلیاں گرفت قائم رکھ سکتیں۔ یوں بھی وہ اس قدر مضبوط تھا کہ اس میں جنبش پیدا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ! میں نے اس پر زورزور سے ہاتھ مارنا اور چیخنا شروع کر دیا۔ لیکن جواب میں کوئی آواز سنائی نہیں دی۔ میرے چہرے اور جسم سے پسینہ بہ رہا تھا اور سانسیں بے ترتیب تھیں ۔ میںسنّاٹے میں بخوبی ان کی آواز سن سکتا تھا۔
پتا نہیں میں کس مقام پر تھا ۔ کسی گاڑی تک کے گزرنے کی کوئی آواز اب تک نہیں سنائی دی تھی اور اس سنسان اور پر ہول مقام پر میں بالکل تنہا تھا جہاں کسی طرح کی مدد پہنچنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں وقت گزرتا رہا اور پھر اچانک پہلی بار مجھے ایک دھیمی سی آواز سنائی دی۔ یقینا یہ سمندر کی آواز تھی ۔ بلند لہریں اب قریب آتی جا رہی تھیں۔ جیسے انہیں میری تلاش ہو۔ وہ جانتی ہوں کہ میں ابھی زندہ تھا۔ کچھ دیر بعد ہی وہ جنگلے کے راستے کمرے میں داخل ہو جاتیں اورمیںڈوب کر مر جاتا۔ اس کے بعد دشمن میرے مردہ جسم کو بڑی آسانی سے سمندر میں بہا دیتے اور سرکاری طور میری موت کو خود کشی یا حادثاتی موت قرار دیا جاتا ۔ پتا نہیں اس مقام کو اس سے پہلے کتنی بار اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا چکا تھا؟
سوچتے سوچتے میرا ذہن ایک دفعہ پھر ارل ریمسے کے گھر کی طرف لوٹ گیا۔ یہ بات یقینی تھی کہ قاتل مجھ سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئے تھے۔ انہیں میری موجودگی کا بھی علم ہو گیا تھا۔ چنانچہ میں انجانے میں جیسے ہی ان کے ہتھے چڑھا انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ میری کھوپڑی کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد مجھے اس تہ خانے میں ڈال دیا۔
یکا یک مجھے مونا کا خیال آیا میں نے اسے فون کر کے فوراً ہی ریمسے کی رہائش گاہ پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اسے اسی جگہ ملوں گا۔ چنانچہ ریمسے کے گھر پہنچ کر جب مجھے اس نے وہاں نہیں پایا ہو گا تو ضرور سمجھ گئی ہو گی کہ میرے ساتھ کوئی گڑ بڑ ہوئی ہے۔ مگر! ایک بار پھر مایوسیاں میرے ذہن میں سمٹ آئیں۔ مونی کو کس طرح علم ہوسکتا ہے کہ مجھ پر کیا گزری اور میں اس وقت کہاں تھا سچ پوچھئے تو زندگی میں پہلی بار میں ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہو ا تھا جس سے نکلنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ سمندر کی بلند لہریں کسی وقت بھی کمرے کو پانی سے بھر سکتی تھیں۔ مگر اس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا نہ ہی مجھے خبر تھی کہ ساحل پر لہروں کی بلندی کتنی تھی۔ بہر حال یہ بات یقینی تھی کہ اگر پانی کمرے میں بھر گیا تو کم از کم اس دنیا کی کوئی طاقت مجھے ہولناک موت سے نہیں بچا سکتی تھی۔ ذہن سے بھیانک خیالات جھٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے میں ایک بار پھر وہاں سے نکلنے کے امکانات کا جائزہ لینے لگا۔ بظاہر راہِ فرار اختیار کرنے کے دو ہی راستے تھے۔ سیڑھیوں پر بنا ہوا مضبوط اور ناقابل شکست دروازہ یا لوہے کا جنگلہ‘ لیکن دونوں میں سے کسی کو استعما ل کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ میں دروازے کے نیچے سیڑھیوں پر مایوسی کے عالم میں موت کا انتظار کررہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد میں نے مایوسی اور اضطراب کے عالم میں ایک بار پھر جنگلے کے دوسری طرف دیکھنے کی کوشش کی۔ سرمئی رنگ کی ریت سے کچھ فاصلے پر سمندر کی اچھلتی کودتی اور آگے بڑھتی ہوئی لہریں اب پہلے سے زیادہ واضح طور پر نظر آرہی تھیں ۔ میں نے طویل سانس لے کر ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کی اور تب اچانک میری نظریں ایک ایسی چیز پر پہنچ کر رک گئیں ‘ جو میں اس پہلے نہیں دیکھ سکا تھا۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ اب سے پہلے میری نگاہیں اندھیرے سے اس حد تک مانوس نہیں ہو سکی تھیں۔ بہر حال وہ ایک زنجیر تھی جو ٹھیک میرے سر کے اوپر چھت کے ایک شہتیر سے بندھی لٹک رہی تھی۔ میں نے مضبوطی سے زنجیرپکڑ لی ۔ یہ دوہری زنجیر تھی جس کے کھینچنے سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز پیدا ہوئی تھی۔ میرا پریشان ذہن اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکا کہ یہ کمرا ماضی میں یقینا کشتیوں کے انجنوں کی مرمت یا ایسے ہی کسی کام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہو گا۔ زنجیر کو ٹٹولتے ہوئے اس کے سہارے میں نے اپنا ہاتھ بلند کیا۔ زنجیر کا اختتام ایک کنڈے پر ہوا۔ اس کا مطلب تھا کہ کمرا زیادہ اونچا نہیں تھا۔ میرے ذہن میں اُمید کی ایک نئی کرن روشن ہو گئی۔ اگرچہ اس طرح کامیابی کا زیادہ امکان نہیں تھا لیکن کوشش کر لینے میں کیا حرج تھا۔
زنجیر کو چھت میں نصب کنڈے سے نکال کرمیں نے جنگلے کی ایک سلاخ سے باندھ دیا اور زنجیر کو پوری قوت سے کھینچنا شروع کر دیا۔اس طرح اگرچہ جنگلے کو کمزور کرنا ایک مضحکہ خیز خیال تھا۔ پہلی بار ناکام ہونے کے بعد میں نے دوبارہ اور پھر سہ بارا کوشش جاری رکھی۔ میرا سارا جسم پسینے سے شرابور ہو چکاتھا۔ مگر ایک موہوم سی امید کے مدنظر میں اپنی کوشش ترک کرنے پر تیار نہیں تھا۔ میرے ذہن میں کسی دور افتادہ گوشے میں نہ جانے کس طرح یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ ہو سکتا ہے سمندر کی تند و تیز لہروں نے جنگلے یا اس کے چوکھٹے کو کمزور کر دیا ہو۔ لیکن مجھے اس مقصد میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ اور زنجیر چھوڑ کر میں کسی تھکے ہوئے بیل کی طرح ہانپنے لگا۔ سمندر کا پانی اب جنگلے کے قریب آ پہنچا تھا۔ میں نے ایک بار پھر زنجیر کھینچتے ہوئے جنگلے کو ہلانے کی کوشش کی پھر اسے چھوڑ کر ہانپنے لگا۔
کچھ وقت اسی طرح گزر گیا۔ اس کے بعد ایک دفعہ پھر ہمت کی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس چوکھٹ کا جائزہ لینے لگا جس میں دروازہ نصب تھا۔ بظاہر چوکھٹ بہت پرانی معلوم ہوتی تھی لیکن میرے لیے اسے دیوار سے علیحدہ کرنا تقریباً ناممکن تھا۔اچانک میری نظر ایک لمبی اور سیاہ چیز پر پڑی جو جنگلے کے دوسری طرف سمندر کی لہروں میں ہلکورے لے رہی تھی۔ اگرچہ وہ جنگلے سے کچھ فاصلے پر تھی لیکن لہروں کی ہر حرکت اسے اس سے قریب تر کر رہی تھی۔ ابتدا میں وہ مجھے کسی آدمی کی لاش معلوم ہوئی ‘ لیکن میں نے جلد ہی اسے پہچان لیا۔ یقینا وہ ایک بڑا شہتیر تھا۔ تقریباً ۱۲ فٹ لمبا اور مضبوط۔ چند منٹ بعد ہی شہتیر جنگلے سے آ لگا۔ میں نے زنجیر جنگلے سے گزار کر بڑی مشکل سے شہتیر کے گرد لیٹ کر پھنسا دی پھر زنجیر ہی کے ذریعے میں نے اسے کچھ پیچھے دھکیلا اس کے بعد ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیا۔اس کام میں‘ میں نے ایک بار پھر اپنی پوری قوت صرف کر دی۔ میرا خیال
تھاکہ اگر جنگلے پر باہر کی طرف سے حملہ کیا جائے تو اس کی امید افزا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ میری یہ کوشش رائیگاں نہیں گئی۔ شہتیر پوری قوت کے ساتھ جنگلے سے ٹکرایا اور اس کی ایک سلاخ کافی حد تک مڑ گئی۔ کوشش جاری رکھنا یقینا کوئی آسان کام نہیں تھا مگر میں کسی قیمت پر اس موقع کو ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ شہتیر ایک بار پھر جنگلے کی سلاخوں سے ٹکرایا اور اس کے ساتھ ہی میں نے ہاتھ باہر نکال کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا ۔ لیکن اس پر قابو پانے کے لیے میرے جسم میں اب بہت کم قوت رہ گئی تھی۔ جیسے ہی کمرے میں داخل ہونے والی لہریں واپس ہوئیں وہ میری گرفت سے آزاد ہو گیا۔اتنی دیر میں پانی میرے گھٹنوں تک پہنچ چکا تھا۔ مگر اب مجھ پر پہلے کی طرح مایوسی طاری نہیں تھی۔ شہتیر پر نظریں جمائے میں لہروں کے دوبارہ آگے بڑھنے کا انتظار کرنے لگا۔ پھر جیسے ہی لہریں ایک بار پھر کمرے کی طرف بڑھتی نظر آئیں میں نے تمام قوت کو ہاتھوں میں مجتمع کر کے زنجیر کو آخری بار جھٹکے کے ساتھ کھینچا۔ شہتیر پوری طاقت سے جنگلے سے ٹکرایا اور اس کے ساتھ ہی اس کی سلاخیں کچھ اور خم ہو گئیں مگر نہیں ! ایک سلاخ ٹوٹ کر جنگلے سے علیحدہ ہو گئی تھی۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہا ۔ تھوڑی سی کوشش سے میں نے جنگلے میں کم از کم اتنی جگہ ضرور بنا لی ہو گئی تھی کہ میرا جسم اس میں سے گزر سکتا۔میں جنگلے میں پیدا ہونے والے خلا کے ذریعے باہر نکل آیا یہاں پانی کمر تک تھا۔ میں نے تاریکی میں اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا ۔ خشکی اس جگہ سے زیادہ دور نہیں تھی۔ جسم کی ساری قوت ٹانگوں میں سمیٹ کر میں ہر ممکن تیزی کے ساتھ اس طرف بڑھنے لگا۔
میں کتنی دیر تک خشکی پر لیٹا رہا‘ اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے البتہ میرا خیال ہے کہ چند منٹ سے زیادہ نہیں لیٹا ہوں گاکہ کسی انجن کی آواز سن کر چونک اٹھا۔ آنے والی ہستی میرے لیے کسی نئی مصیبت کا پیش خیمہ بھی بن سکتی تھی۔ چند لمحے بعد ہی مجھے کسی زنانہ سینڈل کی آواز سنائی دی۔ اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ذہنی طور پر میں ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا۔ مگر اس لڑکی کو قریب دیکھ کر میں کھوپڑی ہلائے بغیر نہیں رہا۔ یہ وہی لڑکی تھی جس سے پہلی مڈبھیڑ سام کے اپارٹمنٹ میں ہو چکی تھی۔ وہ بہت تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی۔ بلکہ اسے چلنے کے بجائے دوڑتا کہا جائے تو زیادہ درست ہو گا۔
مجھے دیکھ کر اس کے تیزی سے اٹھتے ہوئے قدم اسی طرح رک گئے‘ جیسے کسی تیز رفتا رکار کی بریک اچانک لگا دیا جائے اسے شاید اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ چند لمحے تک حیرت اور بے یقینی کی حالت میں دیکھتی رہی۔ پھر بولی ’’تم زندہ اور محفوظ ہو! ‘‘
’’میرا خیال ہے تم نے غلط نہیں کہا ۔‘‘ میرے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’لیکن اگر میں زندہ اور محفوظ ہوں تو اس میں تمہارا یا تمہارے دوستوں کا کوئی کمال نہیں۔‘‘
’’وہ لوگ میرے دوست نہیں ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں حیرت کا عنصر بدستور موجود تھا پھر وہ ذرا رک کر بولی۔’’ابھی چند منٹ بیشتر ہی میں لانچ پر یہاں آئی ہوں۔مجھے اتنا تو علم تھا کہ ان لوگوں نے تمہیں کسی جگہ چھوڑ دیا ہے مگر اس کا اندازہ نہیں تھا کہ یہاں جزیرے پر چھوڑا ہو گا۔‘‘ گویامیں اُس وقت کسی جزیرے پر تھا۔
’’سام بریڈلے اور اس کی بیوی کا کیا ہوا؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہم اب تک انہیں تلاش نہیں کر سکے ہیں۔ شاید کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔‘‘
’’میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ تمہارا دوست ہیری یقینا سب کچھ جانتا ہو گا۔‘‘
اس کی آنکھوں میں الجھنوں کے سائے اتر آئے ۔ ذرا رک کر بولی۔’’ہو سکتا ہے. ہو سکتا ہے کہ وہ جانتا ہو۔ ‘‘
میرے پاس اس کی باتوں پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی نہ ہی میں اس کے لیے تیار تھا۔ مگر اس کے پاس لانچ تھی اور مجھے اس وقت اس کی سخت ضرورت تھی ۔ میں نے اسے مخاطب کر کے پُر خیال لہجے میں کہا۔’’اب ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے۔ مجھے نئے کپڑوں کی ضرورت ہے۔‘‘
اس نے ایک پستول میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’یہ لو ! یہ تمہارا ہی ہے۔ اسے ان کے قبضے سے حاصل کرنے کے لیے مجھے اسے چرانا پڑا تھا۔‘‘
اس کی باتیں میرے لیے ناقابل فہم تھیں ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اسے ان لوگوں کے ساتھ دیکھا تھا ۔ وہ مجھے پستول سے نشانہ بنائے رہی تھی۔ میں نے پستول اس کے ہاتھ سے لے کر اس کا چیمبر چیک کیا ۔ تمام گولیاں جوں کی توں موجود تھیں۔
میں نے طویل سانس لے کر کہا ’’سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہاری اس وقت کی آمد کا کیا مطلب لوں۔ مگر کیا تم یہی معلوم کرنے نہیں آئی تھیں کہ میں پانی میں ڈوب کر مر چکا یا ابھی زندہ ہوں؟‘‘ ’’احمقانہ باتیں مت کرو!‘‘ اس کا لہجہ خشک تھا ’’ہم دونوں ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔‘‘
میں جواب دینے کے بجائے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے بولی ۔’’میرا نام کیتھی ہے۔‘‘ اس کے لہجے سے خلوص اور سچائی کا اظہار ہو رہا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے کہا ۔’’سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے اس بات کا ذرا بھی یقین نہیںتھا کہ تم یہاں ہو گے لیکن پھر میں نے سوچا ‘ ممکن ہے تم مل ہی جائو ۔ مجھے معلوم ہے کہ میراگروہ اس مقام کو کسی خاص مقصد کے لیے استعما ل کر رہا ہے۔ بہر حال تمہاری تلاش میں آتے وقت مجھے ذرا اندازہ نہیں تھا کہ میں تمہیں کس طرح آزاد کرا سکوں گی۔ اس کے باوجود میں اپنے آپ کو یہاں آنے سے باز نہیں رکھ سکی اور پھر تم مجھے وہاں لیٹے نظر آ گئے۔‘‘
میرے پاس جواب میں کچھ کہنے کے لیے کوئی بات نہیں تھی اور وہ کہہ رہی تھی۔ ’’تم موت سے اس سے کہیں زیادہ قریب پہنچ گئے تھے۔ جتنا تم سمجھتے ہو۔ پولیس اس کار کے تعاقب میں تھی ۔ جس میں تمہیں لے جایا جا رہا تھا ۔ دو طرفہ فائرنگ بھی ہوئی تھی ۔ تمہاری کار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ لیکن پھر انہوں نے موقع ملتے ہی تمہیں دوسری کار میں منتقل کر دیا۔‘‘
’’اگر تم واقعی دوست ہو تو پھر کیوں نہیں بتا دیتیں کہ سام کہاں ہے؟‘‘ میں نے تھوڑی دیر بعد پوچھا۔
’’مجھے خود معلوم نہیں ۔‘‘ اس نے جواب دیا ۔ اس کا لہجہ بدستور پُر خلوص تھا ۔ وہ مجھے دیکھتی ہوئی التجا آمیز لہجے میں بولی۔’’پلیز! کل صبح کے واقعات کو بھول جائو۔‘‘
’’میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘ میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں کہا۔ وہ چند ثانیے خاموش رہی پھر بولی۔ ’’میرا مقصد انتقام ہے۔‘‘ اس کا لہجہ یہ کہتے ہوئے قطعی بدل گیا۔ ’’میرا انتقام اُس روز پورا ہو گا جبمیرانو بھی اُسی انجام سے دوچار ہو گا جس سے میرا اکلوتا بھائی دوچار ہوا تھا۔‘‘میں حیرت سے اس کا منہ تکتا رہا‘ میرانو میانی کا نامی گرامی غنڈہ تھا۔ وہ منشیات اور جوئے جیسے دھندوں میں ملوث تھا مگر کوئی ثبوت نہ ملنے کے باعث پولیس اب تک اس پر ہاتھ نہ ڈال سکی تھی۔
تھوڑی دیر تک سمندر کی لہروں کا شور گونجتا رہا‘ پھر اُس کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
’’میرے والدین بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ ہم بہن بھائی نے مختلف رشتہ داروں کے ہاں وقت گزار کر جوانی کی سرحدیں طے کیں۔ جیسے تیسے پڑھ لکھ بھی گئے۔ میں اپنے بھائی جیمز سے عمر میں چار سال بڑی تھی۔ میں نے ایک ہوٹل میں ویٹرس کی ملازمت کر لی جبکہ جیمس باکسر بننے کی سعی کرنے لگا۔ میں اس کے اس شوق کی شروع سے مخالف تھی۔ جب بھی وہ کسی مقابلے میں شرکت کے بعد زخموں سے چور چور گھر لوٹتا تو میرے دل پر جیسے ہزاروں چھُریاں چل جاتیں مگر میں اُسے روکتی ہی رہ جاتی۔ وہ میری باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا۔
ایک روز وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ شکاگو کے ایک غیر معروف کلب میں انعامی مقابلہ ہوا۔ جیمز تیسرے راؤنڈ سے آگے نہ جا سکا۔ اُس کے دوست اُسے اس حال میں گھر لائے کہ اس کی بیشتر پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں اور دانت تو جیسے تھے ہی نہیں۔ اپنے اکلوتے بھائی کو اس حال میں دیکھ کر میں ذہنی حالت کھو بیٹھی۔ خاصے عرصے تک میں اُس کی قبر سے لپٹی اُسے باکسنگ ترک کرنے کی تلقین کرتی رہتی۔ بالآخر جب میری ذہنی حالت اعتدال پر آئی تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ جیمز کو اس انجام سے دوچار کرنے والوں سے انتقام لوں گی۔ اس حالت میں میری ایک سہیلی نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ وہ ایک اخبار میں رپورٹر ہے۔ اُس نے مجھ پریہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ جیمز دراصل ایک منظم گروہ کا کارندہ تھا جو انسانی مقابلوں پر جوا کھیلتا تھا۔ ایسی لڑائیوں میں ہار جیت کا فیصلہ کسی ایک فریق کی موت پر ہوا کرتا تھا۔ زیر زمین دنیا کے باسی ایسے مقابلوں پر بھاری رقمیں لٹاتے تھے۔ یہ خصوصی اہتمام کیا جاتا کہ سرکاری حکام کو اُن مقابلوں کی ہوا بھی نہ لگنے پائے اس کام میں بعض پولیس افسر بھی ملوث تھے۔ یہ انکشاف خاصا لرزہ خیز تھا کہ میرا بھائی اب تک آٹھ مقابلے جیت چکا تھا یعنی آٹھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔
میں نے یہ معلومات ملنے کے بعد دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ اب اُس گروہ کی بیخ کنی کر کے ہی چھوڑوں گی۔ اس مقصد کے لیے میں میرانو کے گروہ میں شامل ہو گئی۔ میرانو کا تعلق اُس گروہ سے تھا جس کے ایک کارندے نے میرے بھائی کی جان لی تھی۔‘‘
میں گُم سُم اُس کی کہانی سُنتا رہا۔ اُس کی آپ بیتی نے اب تک میرے ذہن میں اُبھرنے والی نامکمل تصویر خاصی حد تک مکمل کر دی تھی۔ مگر ابھی بہت سے سوالوں کے جواب باقی تھے۔
ہماری گفتگو کے دوران صبح کے آثار نمودار ہونے لگے تھے۔ میرے ذہن میں طرح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے۔ ایک طرف مجھے اپنے دوست سام اور اس کی بیوی کی فکر تھی تو اب کیتھی کی صورت میں ایک نیا مسئلہ میرے سامنے تھا۔ بہرحال میرے لیے وہاں سے فرار ہو کر پولیس تک پہنچنا اور انہیں تمام حقائق سے آگاہ کرنا بے حد ضروری ہو گیا تھا کیونکہ اب تک ہونے والی گفتگو سے میں نے یہی اندازہ لگایا تھا کہ وہ کوئی بہت ہی منظم گروہ تھا جو بالکل اسی طرح دو انسانوں کی لڑائی پر شرط لگاتا تھا جیسے دنیا کے بعض خطوں میں جانوروں کی لڑائیوں پر شرطیں لگائی جاتی ہیں۔ اس گروہ کے مذموم کاروبار کو روکنا بے حد ضروری تھا۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ میرے دوست سام کو اس گروہ کے بارے میں یقینا کچھ ثبوت ہاتھ آئے ہوں گے جو وہ میرے حوالے کرنا چاہتا تھا مگر اس سے پہلے ہی گروہ کو اس کی خبر ہو گئی اور وہ اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہو گئے جس سے بچنے کے لیے اسے ایلن سمیت فرار ہونا پڑا۔ اگر وہ دونوں گروہ کے ہاتھ آ چکے ہوتے تو وہ لوگ اس کے فلیٹ کی نگرانی کرتے نہ اُسے تلاش کرتے۔ ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ لڑکی نے مجھے سوچوں میں گُم دیکھ کر پوچھا۔
’’یہی کہ مجھے یہاں قید کرنے کا کیا مقصد تھا اور سام کا کیا انجام ہو گا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’تم یہاں سمندر کے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو جاتے اور پھر تمہاری لاش ساحل پر پھینک دی جاتی جہاں یہ ثابت ہو جاتا کہ تم سمندر میں ڈوبنے سے ہلاک ہوئے ہو۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’میرانو اس طریقے سے کئی لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ وہ ایک عرصے سے یہ زندان استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جزیرہ بھی اسی کی ملکیت ہے اور وہ مہینے میں ایک دن بغرض تفریح یہاں ضرور آتا ہے۔‘‘ ’’ابھی ابھی تم نے میرانو سے انتقام لینے کی بات کی تھی۔‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’تم پولیس کو اطلاع کیوں نہیں کر دیتی‘ اس سلسلے میں میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔‘‘
’’تم میرانو کو نہیں جانتے۔‘‘ اس نے زہر بھرے لہجے میں جواب دیا۔ ’’وہ انسان کے روپ میں شیطان ہے پولیس اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ میرانو کا گروہ اتنا چھوٹا نہیں کہ مقامی پولیس اس کا کچھ بگاڑ سکے۔ اس کے ڈانڈے مافیا سے ملتے ہیں۔ وہ یہی ایک کاروبار نہیں کرتے بلکہ ہر اس مذموم کاروبار میں ملوث ہیں جو انسانیت کاقاتل ہے۔ میں اس کے پورے گروہ کو بعد میں ختم کروں گی۔ میرا پہلا انتقام میرانو کی موت کے بعد ہی پورا ہو گا اور وہ آج کے دن ہو گا۔‘‘
میں ہکابکا اس کی یہ بات سن رہا تھا ’’مگر کیسے میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔‘‘
’’میں نے میرانو کو اس حد تک شیشے میں اتار لیا ہے کہ وہ مجھے اپنی محبوبہ سمجھنے لگا ہے۔‘‘ اس نے چہرے پر آنے والے بال پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا ’’وہ اپنی تفریح کا ایک دن اس جزیرے پر میرے ساتھ تنہا گزارتا ہے۔ اس دوران اس کے محافظوں میں سے کسی کو بھی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کی تنہائی میں مخل ہو سکیں۔ یہی وہ وقت ہو گا جب میں اس کی کھوپڑی اڑا دوں گی اور اس کے آدمیوں سے یہ کہوں گی کہ اس نے خودکشی کر لی ہے۔‘‘
’’کیا اس طرح انہیں تم پر شک نہیں پڑے گا۔‘‘ میں نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’میں نے اس پہلو پر پہلے ہی سوچ لیا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’میں اس وقت گروہ میں میرانو کی سب سے قریبی ساتھی ہوں‘ میرانو ہی کیا گروہ کے تمام ارکان مجھ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں گروہ کے مفاد کے خلاف بھی کوئی قدم اٹھا سکتی ہوں۔‘‘
’’پھربھی یہ کام اس قدر آسان نہ ہو گا۔‘‘ میں نے اسے روکنا چاہا۔ ’’تمہیں پولیس سے مدد لینی چاہیے۔‘‘
اس سے قبل کہ وہ میری بات کاکوئی جواب دیتی یا میں کچھ اور کہتا وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کچھ سننے کی کوشش کر رہی ہے اس دوران اس کے چہرے پر ایک کے بعد دوسرا رنگ آتا اور گزر جاتا۔ اب وہ آواز مجھے بھی سنائی دے گئی جو دراصل کسی موٹر لانچ کے بھاری انجن کی آواز تھی۔
’’جلدی کرو کہیں چھپ جاؤ۔‘‘ اس نے مجھے ایک طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔ ’’ایسا نہ ہو تمہاری موجودگی میرا کام بگاڑ دے۔‘‘
میرے پاس اُس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ مقام چاروں طرف سے پانی میں گھرا ہوا تھا اور اس کی مدد کے بغیر وہاں سے فرار ہونے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا میں وہاں سے کچھ دور چٹانوں کی اوٹ میں جا چھپا۔ اس مقام سے مجھے سامنے کا تمام منظر بآسانی نظر آ رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ایک لانچ کنارے سے آ لگی اور میری حیرت میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب لڑکی کے بیان کے متضاد لانچ سے آٹھ ‘دس افراد اتر کر ساحل پر آ موجود ہوئے۔ ان کے وسط میں ایک دراز قد شخص منہ میں سگار دبائے یوں کھڑا تھا جیسے کوئی بادشاہ اپنے درباریوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔ تمام کے تمام افراد دور مار رائفلوں اور پستولوں سے مسلح تھے سگار والا یقینا میرانو تھا۔ سب سے آخر میں اترنے والے دو آدمیوں نے زخموں سے چور چور ایک شخص کو تھام رکھا تھا۔ اس کی حالت بہت ناگفتہ بہ تھی۔ بال الجھے ہوئے‘ ڈاڑھی بڑھی ہوئی اور آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اسے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ ساحل پر آتے ہی انہوں نے اس شخص کو میرانو کے قدموں میں جا پھینکا اور میرا دل جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا وہ بدنصیب شخص کوئی اور نہیں بلکہ میرا دوست سام تھا جس کی تلاش میں‘ میں موت کے اس قدر قریب آ گیا تھا۔
لڑکی یقینا میرانو کو اکیلا دیکھنے کی امید لیے بیٹھی تھی اور یہ سب اس کے لیے قطعی غیر متوقع تھا۔ میرا ذہن انہی سوچوں میں گُم تھا کہ میرانو نے سام کو بالوں سے پکڑ کر اٹھایااور گھونسا مار کر دور گرا دیا۔ ’’بدبخت انسان تو نے کیا سوچ کر میرانو کے ساتھ غداری کی تھی۔‘‘ یہ کہہ کر میرانو نے اسے ٹھڈوں پر رکھ لیا۔ میں اپنی جگہ بیٹھا پیچ و تاب کھاتا رہ گیا میرا دوست میری آنکھوں کے سامنے تشدد کا شکار ہو رہا تھا اور میں کچھ بھی نہ کر پا رہا تھا۔ محافظوں کے ہاتھوں میں تھمی ہوئی بندوقیں میری راہ میں حائل تھیں۔ میرے لیے یہی بہتر تھا کہ میں جزیرے سے فرار ہو کر پولیس کو اطلاع دیتا اور وہ لوگ یہاں آ کر میرانو کو اس کے آدمیوں سمیت گرفتار کر لیتے۔ میرا ذہن انہی سوچوں میں گم تھا کہ کوئی ٹھنڈی شے میری کنپٹی سے آ لگی ساتھ ہی ایک کرخت آواز سنائی دی ’’خبردار ہلنے کی کوشش مت کرنا ورنہ گولی سے اڑا دوں گا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ جو کوئی بھی تھا اس نے میرا پستول نکال کر اپنے قبضے میں کر لیاپھر اس نے مجھے کھڑے ہونے کا حکم دیا اور دھکا دے کر میرا رخ اپنی طرف کر لیا۔ وہ ایک کرخت صورت شخص تھا جو مجھے دیکھتے ہی بولا۔ ’’تم زندہ کیسے بچ گئے‘ تمہیں تو زندان میں ہونا چاہئے تھا۔‘‘ جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ میرانو کا ہی آدمی تھا۔ اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا وہ اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر بلا لایا اور وہ سب مجھے دھکیلتے ہوئے میرانو کے سامنے لے گئے۔
’’تو تم زندہ بچ گئے‘‘ میرانو کے منہ سے سرسراتی ہوئی آواز نکلی۔ ’’شاید تمہاری موت تمہارے دوست کے ساتھ ہی لکھی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرے منہ پر ایک زوردار گھونسا رسید کیا اور اپنے ساتھیوں کو مخصوص انداز میں اشارہ کرتے ہوئے لڑکی کو پہلو میں دبائے سگار کے لمبے لمبے کش لیتا ہوا وہاں سے روانہ ہو گیا۔ اس کے ساتھی مجھے اور سام کو بندوقوں کی زد پر لیے اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئے۔ اونچے نیچے راستوں پر سے ہوتے ہوئے ہم ایک ایسے مقام پر جا پہنچے جو شاید جزیرے کا آخری حصہ تھا۔ اس جگہ بڑے زور کی ہوا چل رہی تھی اور آبی پرندوں کے غول کے غول ہمارے سروں پر منڈلا رہے تھے تھوڑی دیر بعد ہم جس مقام پر پہنچے وہ ایک ایسے کنوئیں سے مشابہ تھا جس کی منڈیر نہ ہو بلکہ درحقیقت وہ ایک بہت بڑا مین ہول تھا جس کے دہانے پر جنگلا لگا تھا۔ میرانو کے اشارے پر اس کے ساتھیوں نے جنگلا ہٹا کر ایک طرف رکھ دیا۔ اب ہم اس کنوئیں کے کنارے پر کھڑے تھے۔ جیسے ہی میری نظر کنوئیں کے اندر گئی مجھے اپنی تکلیف دہ موت کا یقین ہو گیا۔ کنوئیں کی تہ میں بہت سے مگرمچھ توتھنیاں سطح پر نمودار کیے اوپر دیکھ رہے تھے یقینا جنگلا ہٹنے سے انہیں کسی کی آمد کا پتا چل چکا تھا۔
’’یہ میرے پالتو مگرمچھ ہیں جو اب تک میرے بہت سے دشمنوں کا گوشت ہضم کر چکے ہیں۔‘‘ میرانو نے زہریلے لہجے میں کہا ’’پولیس ڈھونڈتی رہ جاتی ہے اور میرے دشمن مگرمچھوں کے جسم کا حصہ بن کر اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ عنقریب تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا جس نے چشم واحد میں سام کو کنوئیں میں دھکیل دیا۔ جیسے ہی سام کی چیخ کی گونج ختم ہوئی ایک زور دار چھپاکے کی آواز سنائی دی اور نہ ختم ہونے والی چیخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مگرمچھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے سام کو دنیا کی ہر تکلیف سے آزاد کر دیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے شڑپ شڑپ کی آوازوں کے ساتھ نگلنے لگے۔ میں نے زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک خونین منظر دیکھے تھے مگر یہ منظر ان سب سے زیادہ دہشت ناک تھا۔ یوں لگتا تھا کہ میں جاگتی آنکھوں کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہوں۔ ’’ہو گئے نا حواس گم؟‘‘ میرانو کی سرسراتی ہوئی آواز مجھے ہوش و حواس کی دنیا میں واپس لے آئی۔ ’’عنقریب تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔ کیا تمہاری کوئی آخری خواہش ہے؟‘‘
’’ میری تو بس ایک ہی آخری خواہش ہے کہ جیسے تم نے میرے دوست کو ان مگرمچھوں کا نوالہ بنایا ہے اسی طرح تم بھی مگرمچھوں کا نوالہ بنو اور رہتی دنیا تک یہ حقیقت ثابت ہو جائے کہ برائی کا انجام برائی ہوتا ہے۔‘‘
’’افسوس کہ تمہاری زندگی میں یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی البتہ میں تمہیں اتنی رعایت ضرور دے سکتا ہوں کہ مگر مچھوں کے منہ میں صرف تمہاری لاش ہی جائے‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے ایک ساتھی کو اشارہ کیا جس نے ریوالور کی نال میرے منہ میں ٹھونس دی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ یوں بآسانی موت کو گلے لگا لینا میرے اصولوں کے منافی تھا۔ اگر مرنا ہی تھا تو کیوں نہ دو چار کو ساتھ لے کر مرا جائے‘ یہ خیال ذہن میں آتے ہی میں نے ایک جھٹکے سے ریوالور بردار کے پیٹ میں مکا رسید کر دیا اور ریوالور اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر اڑتا ہوا کنوئیں میں جا گرا۔ میرا یہ اقدام اُن کے لیے قطعی غیرمتوقع تھا۔ میں اچھل کر کنوئیں کے دہانے سے دور ہٹ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اُن سب کااسلحہ مجھ پر مرتکز تھا۔ قریب تھا کہ وہ مجھے گولیوں سے بھون ڈالتے کہ میرانو نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔
’’اسے میں اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے ایک کارندے سے رائفل لے کر مجز پر تان لی۔ اس کے اور میرے درمیان کافی فاصلہ تھا‘ میں نہ تو اس پر وار کر سکتا تھا نہ ہی خود کو بچانے کے لیے کچھ کر سکتا تھا۔
’’کیا تم اتنی آسان موت سے نوازو گے اس منحوس کو۔‘‘ کیتھی کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میں نے ایک نظر اس پر ڈالی اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہی اس کی چال سمجھ گیا۔
’’یہ ہیجڑہ مجھے ایسی ہی موت مار سکتا ہے۔‘‘ میں نے تھوک کر اسے مخاطب کیا۔ ’’ہتھیار کے بغیر دشمن کوزیر کرنے والے مرد آج کے زمانے میں پیدا ہی نہیں ہوتے۔‘‘
یہ سننا تھا کہ میرانو کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی۔ اس نے غصے سے رائفل ایک طرف پھینکی اور پھنکارا ’’سب ہٹ جائو۔ میں اس کمینے کو اپنے ہاتھوں سے کنوئیں میں پھینکوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک ہی جست میں میرے مقابل آ گیا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ ہم ایک دوسرے پر پل پڑنے کے لیے پر تولرہے تھے اور کچھ فاصلے پر مگر مچھوں سے بھرا کنواں ہم میں سے کسی ایک کے انتظار میں منہ کھولے ہوئے تھا۔ اب تک ہم آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو تول رہے تھے۔ اپنی اپنی دانست میں ہم بہتر زاویے کی تلاش میں تھے۔ اچانک اس نے مجھ پر زقند لگائی‘ میں بھی ہوشیار تھا‘ میں نے جھکائی دے کر اس کے کندھے پر کراٹے کا وار رسید کیا۔ وہ لڑکھڑا کر درندے کی طرح غرایا۔ اگلے ہی لمحے وہ کسی عفریت کی طرح مجھ پر جھپٹا اور قدرے احمقانہ انداز میں دونوں ہاتھوں سے میری گردن دبوچنے کی کوشش کی۔ میں نے خود کو اس کی گرفت میں جانے سے بچانے کے لیے اس کے چہرے پر گھونسا رسید کیا۔ اس کی گردن ایک لمحے کے لیے ٹیڑھی ہوئی مگر فوراً اس نے اپنا بن مانس کا سا بازو گھمایا۔ میں نے بھی بازو ہی پر اُس کا وار روکا۔ اس کا بازو کسی شہتیر کی طرح میرے بازو سے ٹکرایا۔ اسی لمحے میں نے اس کے پیٹ میں لات رسید کی۔ اس نے کمال مہارت سے میرا وار خالی کیا اور نہایت ہی غضب ناک انداز میں مجھ پر جھپٹا۔ میں نے اس بار اُس کی کنپٹی پر گھونسا رسید کیا تو وہ کراہ کر ڈھیر ہو گیا۔ میں نے اسے اٹھنے کی مہلت نہ دی اور رگیدتا ہوا کنوئیں کے دہانے تک لے گیا۔ خود کو بچانے کی کوشش میں اس نے ہاتھ پائوں چلائے اور میری کمرے کے گرد بازوئوں کا شکنجہ ڈال دیا۔ وہ محاورۃً نہیں واقعی آہنی شکنجہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے یوں لگا جیسے میرا جسم درمیان سے دو حصوں میں بٹ جائے گا۔ تکلیف کی شدت سے مجھے احساس ہی نہ ہوا میر اجسم ایسے زاویے پر اس کے وجود تلے دبا ہوا تھا کہ میرا چہرہ کنوئیں کے اندر اور باقی جسم کنارے پر تھا۔ کنوئیں کے اندر سے کائی اور مردہ گوشت کی ناقابل بیان سڑانداُٹھ رہی تھی۔ اب مجھے اپنی موت صاف دکھائی دینے لگی۔
چشم تصور سے میں اپنے جسم کو مگرمچھوں کا نوالہ بنتے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت میرانو کا چہرہ زمانہ غار کے کسی وحشی کا چہرہ تھا۔ اس کے بال مٹی میں لتھڑے ہوئے تھے اور منہ سے کف جاری تھا۔ میں نے آخری کوشش کے تحت کنوئیں کے کنارے پر ہاتھ مارے تو ایک نوکیلا پتھر میرے ہاتھ میں آ گیا۔ میں نے بمشکل ترچھے ہوتے ہوئے اس کی کھوپڑی پر بھرپور وار کیا۔ اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی میں نے بلاتوقف دوسری اور تیسری ضرب لگائی اور اسے خود پر سے الٹ کر کنوئیں میں جا پھینکا۔ ایک دلدوز چیخ کے ساتھ وہ اسی انجام سے دوچار ہو گیا۔ میرانو کے ساتھیوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ شاید انھیں ابھی تک یقین ہی نہ آیا تھا کہ ان کا سرغنہ اپنے ہی کھودے ہوئے کنوئیں میں گر چکا ہے۔
کیتھی خوابیدہ سی کیفیت میں میرے اور مسلح ساتھیوں کے درمیان حائل ہو گئی۔ اس نے قریب آ کر اپنی پستول میری کنپٹی سے لگا کر مجھے اٹھنے کا حکم دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ میں نے جھپٹ کر پستول چھینا اور اس کی گردن قابو کر کے کنپٹی سے لگ ادیا۔ اب اگر اس کے ساتھی گولی چلاتے تو پہلے اسے لگتی۔
’’خبردار ! ہتھیار پھینک دو ورنہ اس کی کھوپڑی اڑا دوں گا۔‘‘
’’جلدی کرو۔‘‘ کیتھی ہکلائی۔ ’’کہیں ایسا نہ ہو یہ مجھے بھی میرانو کی طرح مار دے۔‘‘
میں نے اُن سب کے ہتھیار کنوئیں میں پھنکوا دیے اور ریوالور کی زد پر لیے ہوئے ساحل تک لے آیا۔ خوش قسمتی سے ان کی لانچیں خالی تھیں۔ میں نے رسا نکلوا کر ایک شخص سے ان سب کے ہاتھ اور پائوں پشت پر بندھوائے اور پھر آخری شخص کے ہاتھ پائوں کیتھی سے بندھوا دیے۔ اب مجھے اُن سب کی طرف سے اطمینان تھا۔ دوسرے کیتھی بھی اُن کی نظروں سے مشکوک نہیں ہوئی۔ میں کیتھی سمیت لانچ میں وہاں سے سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچا جہاں کیتھی نے اپنا بیان قلمبند کرایا اور پولیس نے جزیرے پر جا کر میرانو کے ساتھی گرفتار کر لیے۔
سام کی موت کا مجھے ہمیشہ دکھ رہے گا۔
بعدازاں کیتھی کی زبانی سام کے متعلق مجھے جو کچھ معلوم ہوا وہ اسی کی زبانی سنیے:
’’اس کے قبضے میں ایک ویڈیو کیسٹ تھی جس میں ایک مقابلے کی شوٹنگ تھی اور اس مقابلے میں نہ صرف یہ کہ میرانو اور اس کے ساتھی بھی نظر آتے تھے۔ سام وہ ویڈیو میرانو کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا مگر جلد ہی اسے معلوم ہو گیا کہ میرانو کو بلیک میل کرنا اس کے بس کا روگ نہ تھا اس نے تمہیں اپنی مدد کے لیے بلایا مگر اس سے پہلے ہی اسے عجلت میں فرار ہو جانا پڑا وہ میرانو کے گروہ سے جگہ جگہ چھپتا پھر رہا تھا کہ اس کی بیوی نے اسے پولیس سے مدد لینے کا مشورہ دیا۔ اتفاق سے اس کی بیوی کا ایک پرانا شناسا ایف آئی اے میں تھا جس کی مدد سے وہ میرانو کے خلاف کارروائی کروانے میں کامیاب ہو گئے مگر بدقسمتی سے اس دوران سام میرانو کے ہتھے چڑھ گیا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔‘‘
سام مر چکا تھا‘ میرانو بھی اپنے انجام کو پہنچ ہی گیامگر میں ایک ایسے واقعے کا چشم دید گواہ بن گیا جو مرتے دم تک میرے ذہن میں نقش رہے گا۔ سام کے انجام کا مجھے دکھ ہے مگر اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں سام ایک عرصے تک بدی کے کاروبار میں شریک رہا تھا اور بدی انجام کار بدکار کو اپنی لپیٹ میں لے ہی لیتی ہے۔

  رابطہ کیجئے پتہ : ایوان اردو ڈائجسٹ 21/19 ایکٹر اسکیم ، سمن آباد ، لاہور، پاکستان اردو فونٹ